6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 6:114–117

اَفَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِیْ حَكَمًا وَّ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ اِلَیْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًا١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ Open ayah 6:114 in the Quran reader

کہو کیا میں اللہ کے سوا اور منصف تلاش کروں ؟ حالانکہ اس نے تمہاری طرف واضح آیات والی کتاب بھیجی ہے، اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب ( تورات اور انجیل) دی ہے وہ جانتے ہیں کہ وہ آپ کے رب کی طرف سے برحق نازل ہوئی ہے۔ تو آپ ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا۔

وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّ عَدْلًا١ؕ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:115 in the Quran reader

اور آپ کے رب کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہیں، اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور وہ سنتا، جانتا ہے۔

وَ اِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:116 in the Quran reader

اکثر لوگ جو زمین پر آباد ہیں گمراہ ہیں، اگر آپ ان کا کہنا مان لو گے تو وہ آپ کو اللہ کا راستہ بھلا دیں گے۔ یہ صرف خیال کے پیچھے چلتے اور اٹکل کے تیر چلاتے ہیں۔

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ مَنْ یَّضِلُّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:117 in the Quran reader

آپ کا رب ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو اس کے رستے سے بھٹکے ہوئے ہیں اور ان سے بھی خوب واقف ہے جو رستے پر چل رہے ہیں۔

شریعت اللہ کی تکمیل، اکثریت کی حیثیت تشریح : پچھلی آیات میں کفار و مشرکین کی فطرت اور بدعملی کا ذکر کیا گیا ہے تو ان آیات میں اللہ رب العزت حضرت محمد ﷺ کو فرما رہے ہیں کہ آپ صاف طور اور دو ٹوک الفاظ میں ان لوگوں کو بتا دیں کہ عقل سے کام لو تو کچھ مشکل نہیں کیونکہ اللہ سے بڑا اور کون گواہ ہوسکتا ہے جس نے انسانوں کی ہدایت کے لئے حکمت اور ہدایت سے بھری ہوئی کتاب (قرآن مجید) نازل فرمائی اور اس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں اور پھر اس کتاب کے بارے میں اہل کتاب کو تورات اور انجیل میں صاف صاف بتا دیا گیا ہے کہ آخری نبی محمد رسول اللہ ﷺ ان نشانیوں کے ساتھ آئیں گے جو سب نشانیاں ان میں موجود ہیں اور آخری کتاب قرآن پاک کی تصدیق بھی پوری طرح ہوچکی ہے، پھر کیا مشکل ہے کہ ادھر ادھر بھٹکتے پھریں۔ اور پھر سچائی، عدل و انصاف اور حکمت و راست بازی پر مبنی اصول اس انداز سے بتا دیئے گئے ہیں کہ اب اور کسی بات کی کوئی گنجائش ہی باقی نہیں رہی۔ اللہ رب العزت سب کچھ جانتا ہے اور ہر بات سنتا ہے اس نے کلام مجید کی حفاظت کا وعدہ کر رکھا ہے۔ ہر مسلمان پر فرض کردیا گیا ہے کہ اس کے احکامات پر نہ صرف خود عمل کرے بلکہ دنیا کے ہر شخص کو عمل کرنے کی تلقین کرے کیونکہ جتنے بھی پیغمبر آئے جو شریعت لائے وہ کسی خاص قوم، علاقہ اور وقت کے لئے آئے، جیسے ہی وہ دنیا سے رخصت ہوئے ان کی قوم نے تمام احکامات میں تحریف کردی اور نئی نئی راہیں اختیار کرلیں جیسا کہ تورات، انجیل اور زبور کا حال ہوا مگر نبی کریم ﷺ اور ان پر نازل ہونے والی کتاب قرآن پاک پوری دنیا کے لئے ہدایت کا ذریعہ بن کر آئی ہے، اس میں کوئی بات، کوئی اصول، کوئی عمل ایسا نہیں کہ جو انسان کی فطرت کے خلاف ہو یا جس پر عمل کرنے سے انسان کو مشکل پڑے یا کوئی نقصان ہو۔ یوں تو باقی سب آسمانی کتابوں میں بھی نیکی کی ہدایات ہی کی گئی ہیں مگر وہ ایک وقت تک کے لیے تھیں اور ویسے بھی لوگوں نے ان میں تحریف کردی، قرآن کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود لے رکھا ہے اس کی وجہ سے عربی ادب اور عربی زبان کی بھی حفاظت ہوگئی، ورنہ زبان میں تبدیلی آتی رہتی ہے مگر عربی زبان میں تبدیلی نہ آئی اور نہ آئندہ آئے گی۔ کیونکہ اس کی حفاظت کا ذمہ ایک ایسی ہستی نے لیا ہے جو قادر مطلق، علیم وخبیر ہے، نہ سوتا ہے، نہ تھکتا ہے اور نہ ہی کسی بات سے وہ غافل ہے۔ پوری کائنات اور اس کی ہر چیز اور ہر بشر، ہر وقت اس کی نظر میں ہے۔ جو بھی انسان شیطان صفت لوگوں کے بہکاوے میں آکر غلط راستہ اپنا لے گا وہ اپنا نقصان کرے گا اس لئے بار بار تاکید کی جا رہی ہے کہ اللہ کی نظر سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں۔ سیدھا راستہ اختیار کرو دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل ہوگی نفس کے دھوکہ میں آکر غلط راستہ اختیار نہ کرو۔ قرآن مجید نے بتایا ہے کہ اس دنیا میں اکثریت گمراہ لوگوں کی ہے۔ اگر تاریخ کو دیکھیں یا اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو اس فرمان کی سچائی ظاہر ہوجاتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کو دیکھیں تو بظاہر علم میں بڑی ترقی کرچکے ہیں بڑی بڑی ایجادات ان کی شان و شوکت کا اظہار کرتی ہیں۔ یہ ترقی اگر صرف سائنسی ترقی ہوتی تو قابل قبول تھا مگر یہاں انسانیت کو بری طرح کچلا جا رہا ہے۔ انسان کی اخلاقی حیثیت جانوروں کی روش میں تبدیل ہوچکی ہے۔ میاں بیوی کی حیثیت تقریباً ختم ہوچکی ہے۔ جانوروں کی طرح انسان کی نسل وجود میں آرہی ہے۔ پیسے کی حرص نے ان کو انتہائی پست کردار بنا دیا ہے۔ خاندانی سسٹم تقریباً ختم ہوچکا ہے، جبکہ خاندانی اقدار و اصول انسان کو بےراہ روی، بےسکونی اور بدکرداری سے محفوظ و مامون رکھتے ہیں۔ انسان کی حیثیت صرف مشین کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لینا چاہتے ہیں۔ مادی ترقی کے اس پہلو پر اگر غور کریں تو کہہ سکتے ہیں کہ آدمیت، انسانیت، ان قوموں میں ختم ہوچکی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سائنسی اور علمی ترقی کے ساتھ ساتھ اخلاقی ترقی میں بلند رتبہ حاصل کرکے انسان واقعی خلیفۃ اللہ بن جاتا۔ مگر ان قوموں نے انسان کی اخلاقی اقدار کو بالکل روند ڈالا ہے۔ ایسی ہی قوموں اور ایسے ہی لوگوں سے ہوشیار رہنے کی تلقین اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ ان بگڑے ہوئے ترقی یافتہ لوگوں کی تعریف علامہ اقبال ان الفاظ میں کر رہے ہیں ملاحظہ ہو۔ جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا زندگی کی شب تاریک کی سحر کر نہ سکا مومنوں کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ صاف صاف بتا رہے ہیں کہ اللہ کی رسی مضبوطی سے پکڑو، ایمان کو مضبوط رکھو، اللہ کا راستہ اختیار کرو، رسول کی شریعت پر چلو، علم و عرفان حاصل کرو تو پھر ترقی، کامیابی، سکون اور نجات تمہارے لئے ہے۔ تمہاری ان خوبیوں میں اتنی طاقت ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت تمہارا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ تاریخ گواہ ہے جب مسلمان سچے مسلمان تھے تو انہوں نے کفر و بےسکونی، ظلم و استبداد کو کس طرح ملیامیٹ کردیا اور اس وقت کی بڑی بڑی سلطنتوں کو اپنے زیر کرکے تمام مخلوق کو امن و سکون عطا کیا۔ دنیاوی علوم میں اتنی ترقی کی کہ آج کی ہر ایجاد کی بنیاد مسلمانوں کی رکھی ہوئی ہے۔ یہ سب کچھ ایمان ہی کی برکت سے ہوا۔ مگر جیسے جیسے مسلمان کا ایمان کمزور ہوتا گیا، قرآن و سنت سے دور ہوتا گیا مسلمان کی ترقی تنزل کی طرف بڑھنے لگی۔ اور یوں مسلمانوں نے نور ایمانی سے دوری اختیار کرکے خود کو ذلیل و خوار کرلیا۔ اللہ رب العزت ہماری اس خطا کو معاف کر دے اور ہمیں نور ایمانی سے منور کرکے ان لوگوں کی پیروی سے بچا لے۔ ہمیں سچے پکے اور بہترین مسلمان بنا دے تاکہ ہم اپنے کھوئے ہوئے وقار کو بحال کرسکیں، بدی کو مٹا سکیں اور پوری دنیا کو اپنے حسن کردار حسن اخلاق اور اللہ کے نور، دین اسلام کی روشنی سے منور کرسکیں۔ اللہ ہماری مدد کرے اور ہم اس طرح فطری، مدلل اور مکمل دین کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچا سکیں۔ اس ذلیل و خوار ہوتی انسانیت کو اور ڈگمگاتی معیشت کو اور بھٹکتی پھرتی روحوں کو اللہ کے دیئے ہوئے اصولوں سے دوبارہ سہارا دے کر بلندیوں، کامیابیوں، ترقیوں اور سکون کی طرف لے جاسکیں۔ ہر مسلمان کا یہ فرض ہے اور رسول اللہ ﷺ کا حکم ہے کہ اگر میری طرف سے تمہیں ایک آیت ( اور قرآن و سنت کا ایک لفظ) بھی معلوم ہے تو اس کو دنیا کے ہر فرد تک پہنچانے کی پوری کوشش کرو۔ (صحیح بخاری) اور پھر زندگی کا کونسا ایسا رخ ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہترین اصول نہیں بتا دیئے جیسا کہ شراب اور جوا کی حرمت اور ان کے بارے میں تفصیلا بیان ہوچکا ہے۔ مختصر یہ کہ شراب جسمانی صحت کو خراب کرتی ہے جبکہ جوا روحانی صحت کو تباہ کردیتا ہے۔ کائنات کی ہر چیز ہمارے سامنے کھول کر رکھ دی ہے اور کہا کہ غور کرو اور نئی نئی چیزیں دریافت کرو۔ کام کاج سے منع نہیں کیا بلکہ حکم دیا کہ محنت اور دیانتداری سے روزی کمائو مگر ہر وقت حدود اللہ، اخلاقی پابندیوں اور سنت رسول کا خیال رکھو۔ اللہ رب العزت نے ایک مسلمان کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے۔ ” وہ لوگ جنہیں خریدو فروخت اور تجارت اللہ کی یاد سے غافل نہیں کرتی۔ “ (النور آیت : 37) بھلا ہم بہترین لیڈر اور بہترین عوام کیوں پیدا نہیں کرسکتے۔ ہر شخص، عورت مرد، بوڑھا بچہ اور جوان جس شعبہ میں بھی کام کر رہا ہو اللہ کی حدود اور اللہ کے اصول زندگی کا لائحہ عمل بنا لے ایک ذرہ برابر بھی ان سے انحراف نہ ہو تو یہ دنیا جنت کا نمونہ بن سکتی ہے۔ اللہ ہماری مدد کرے۔ آمین۔
Ayahs 6:118–121

فَكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ بِاٰیٰتِهٖ مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:118 in the Quran reader

تو جس چیز پر ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا جائے اگر تم اس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو تو اسے کھالیا کرو۔

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تَاْكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ قَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا لَّیُضِلُّوْنَ بِاَهْوَآئِهِمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 6:119 in the Quran reader

اور کیا سبب ہے کہ جس چیز پر اللہ کا نام لیاجائے تم اسے نہ کھائو، حالانکہ جو چیزیں اس نے تمہارے لئے حرام ٹھہر ادی ہیں وہ ایک ایک کرکے بیان کردی ہیں۔ (بیشک ان کو نہیں کھانا چاہیے۔ مگر اس صورت میں کہ انتہائی مجبوری کی حالت ہوجائے۔ اور بہت سے لوگ بغیر سمجھے بوجھے اپنے نفس کی خواہشوں سے لوگوں کو بہکا رہے ہیں بیشک تیرا رب حد سے بڑھ جانے والوں کو خوب جانتا ہے

وَ ذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْمِ وَ بَاطِنَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْسِبُوْنَ الْاِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوْا یَقْتَرِفُوْنَ Open ayah 6:120 in the Quran reader

ظاہری اور پوشیدہ ہر طرح کا گناہ چھوڑ دو ۔ جو لوگ گناہ کرتے ہیں وہ عنقریب اس کی سزا پائیں گے

وَ لَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ اِنَّهٗ لَفِسْقٌ١ؕ وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِهِمْ لِیُجَادِلُوْكُمْ١ۚ وَ اِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:121 in the Quran reader

اور جس چیز پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اسے مت کھائو کہ وہ ( اس کا کھانا) گناہ ہے اور شیطان لوگ اپنے دوستوں کے دلوں میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم لوگ ان کے کہے پر چلے تو بیشک تم بھی مشرک ہو گے۔

جانور کو حلال کرنے کی شرط، گمراہوں کی پیروی کا رد تشریح : حلال حرام کے بارے میں بڑی تفصیل سے پہلے بیان کیا جا چکا ہے۔ کفار کے جواب میں پھر اس مسئلہ کی وضاحت کردی گئی ہے۔ کفار نے اعتراض کیا کہ لو دیکھو اللہ کے مارے ہوئے کو تو نہیں کھاتے جس کو خود ماریں اسے کھالیتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس جانور کو ذبح کرتے ہوئے اللہ کا نام لیا جائے وہ حلال ہے، لیکن جس پر اللہ کے سوا کسی کا نام لیکر ذبح کیا جائے وہ مسلمان کو کھانا منع ہے۔ ہاں ! اگر جان کو خطرہ ہو، یعنی انتہائی مجبوری پیش آجائے تو پھر کھا سکتے ہیں اور یہ مجبوری اللہ خوب جانتا ہے۔ کبھی بھی اللہ سے چھپا کر یا ظاہر طور پر گناہ نہ کرو۔ خیال رکھو یہ کفار تمہیں بدراہ کرنے کے لئے ہر وقت کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ خبردار ان کے فریب میں آکر کبھی گناہ نہ کر بیٹھنا۔ کیونکہ گناہ گار ضرور سزا پائے گا۔ ان سے بچ کر رہنا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ” اللہ تعالیٰ نے تم پر حرام کیا ہے مردار کو، خون کو اور خنزیر کے گوشت کو اور ایسی چیز کو جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو۔ لیکن جو شخص مجبوری کی حالت میں ہو ( اور وہ ان میں سے کوئی چیز کھالے) بشرطیکہ وہ نافرمان نہ ہو اور ضرورت کی حد سے نکل جانے والا نہ ہو تو اس پر کوئی گناہ نہیں، بیشک اللہ بڑا بخشنے والا اور بڑا رحم کرنے والا ہے۔ “ (البقرہ آیت : 173 ) قرآن میں کوئی بھی ایسا حکم نہیں دیا گیا جو انسان کے فائدہ میں نہ ہو۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ طبی لحاظ سے بھی مردار، خون اور خنزیر کا گوشت انسانی صحت کو برباد کرتا ہے، جبکہ ذبح کرنے سے خون گوشت میں سے خوب اچھی طرح نچڑ جاتا ہے اور یوں گوشت خوش ذائقہ اور صحت کے لئے مفید ہوجاتا ہے اور ذبح کرتے ہوئے اللہ کا نام لینے سے ایمان مضبوط ہوتا ہے، برکت کا باعث ہوتا ہے اور سب سے بڑی بات کہ حکم الٰہی کی تابعداری ہوتی ہے، اس لیے اللہ رب العزت کے بتائے ہوئے احکامات پر عمل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ورنہ مسلمان اور مشرک میں کوئی فرق باقی نہ رہے گا۔ ہر وقت شیطان اور شیطان فطرت لوگوں سے ہوشیار رہنا چاہیے۔ کیونکہ اللہ تو ہر چیز کو دیکھ رہا ہے اور سزا و جزا ضرور بندے کو ملے گی، لہٰذا ہر وقت شیطان سے اللہ کی پناہ مانگتے رہنا چاہیے۔
Ayah 6:122

اَوَ مَنْ كَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰهُ وَ جَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِهٖ فِی النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْكٰفِرِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:122 in the Quran reader

بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اسکو زندہ کیا اور اس کیلئے روشنی کردی جس کے ذریعے سے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے۔ اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جو اندھیرے میں پڑا ہوا ہو اور اس سے نکل ہی نہ سکے ؟ اسی طرح کافر جو عمل کررہے ہیں وہ انہیں اچھے اور خوبصورت بنادیے گئے ہیں۔

ایماندار اور کافر کی مثال تشریح : اس آیت میں روشنی اور اندھیرے کا ذکر ہے اور مردہ و زندہ کا ذکر ہے۔ روشنی اور زندگی کو ایمان، علم اور رضائے الٰہی کہا گیا ہے جبکہ اندھیرے اور مردہ کو کفر و شرک، بےدینی اور لاعلمی سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو کفر کے اندھیرے میں بھٹک رہے تھے ہم نے ان کو نور ہدایت عطا کیا، یعنی ان کو ایمان کی روشنی عطا کی اور اب وہ اس روشنی سے نہ صرف خود برائیوں سے بچ رہے ہیں بلکہ ان کی روشنی سے بہت سے اور لوگ بھی فائدہ اٹھا کر سیدھے راستے پر چل رہے ہیں۔ وہ بھی ایمان کی روشنی میں گناہ اور ثواب کا فرق دیکھ سکتے ہیں۔ مگر کفر کے اندھیرے میں رہنے والا انسان گمراہی کو پسند کرتا ہے اسے برائی ہی اچھی لگتی ہے۔ روشنی اس کو اچھی نہیں لگتی اندھیرے کا وہ اتنا عادی ہوجاتا ہے کہ وہ ہر برا کام خوشی اور آسانی سے کرتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ اس کی انہی راہوں کو اس کے لیے آسان کردیتا ہے اور اسے ڈھیل دیتا ہے اور یوں وہ اپنا تمام وقت تاریکی میں رہ کر برباد کردیتا ہے۔ یہ دنیا کی زندگی تو عمل کرنے کا میدان ہے۔ جس نے ایمان کی روشنی حاصل کرلی اور نیک راہوں پر چلنے لگا اس نے جنت کا سامان کرلیا مگر جو کفر کے اندھیرے میں گم ہو کر بدی کی راہوں پر چلتا رہا اس نے آخرت میں جہنم کا سامان کرلیا۔ ہر وقت اللہ کے فضل کی ہی دعا کرنی چاہیے تاکہ وہ فضل کے راستے کھول دے ورنہ حال یہ ہوگا جیسا کہ اگلی آیات میں بیان کیا گیا ہے۔
Ayahs 6:123–125

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ اَكٰبِرَ مُجْرِمِیْهَا لِیَمْكُرُوْا فِیْهَا١ؕ وَ مَا یَمْكُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِهِمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:123 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں بڑے بڑے مجرم پیدا کئے کہ مکاریاں کرتے رہیں اور جو مکاریاں یہ کرتے ہیں۔ ان کا نقصان انہی کو ہے اور وہ اس سے بیخبر ہیں۔

وَ اِذَا جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰى نُؤْتٰى مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰهِ١ؔۘؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا كَانُوْا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 6:124 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس کوئی نشانی آتی ہے تو کہتے ہیں کہ جس طرح (کی رسالت) اللہ کے پیغمبروں کو ملی ہے جب تک اس طرح (کی رسالت) ہم کو نہ ملے ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کا کام کس سے لے۔ لوگ جرم کرتے ہیں ان کو اللہ کے پاس جلد ہی ذلت اور شدید عذاب ہوگا اس لیے کہ مکاریاں کرتے تھے۔

فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یَّهْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّهٗ یَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَیِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآءِ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْعَلُ اللّٰهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:125 in the Quran reader

تو جس کو اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے کہ گمراہ کرے اس کا سینہ تنگ اور گھٹا ہوا کردیتا ہے، گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے۔ اس طرح اللہ ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے عذاب بھیجتا ہے۔

کفار کے مکر، رسالت کی تعریف اور انشراح صدر تشریح : جو لوگ دنیا میں کھو جاتے ہیں وہ نہ صرف یہ کہ خود ہی غلط راستوں پر چلتے ہیں بلکہ اپنے رعب داب اور مال و دولت کے زور پر دوسروں کو بھی گناہ کی طرف مائل کرتے ہیں اور اس طرح کے لوگ ہرگز یہ نہیں سوچتے کہ یہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں خود اپنے لیے ہی وبال اکٹھا کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بندے کو اختیار تو دیا ہے مگر ہدایت کے لیے پیغمبر ان کے پاس بھیجے جاتے ہیں تو وہ بجائے ہدایت پر غور کرنے کے الٹا حجت بازی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم تو کچھ نہیں مانتے اور نہ مانیں گے جب تک خود ہمیں رسالت نہ دی جائے۔ یہ ناسمجھ لوگ اتنا بھی نہیں سوچتے کہ رسالت کے لیے تو اللہ رب العزت صرف انہی لوگوں کو چنتا ہے جو انسانوں میں سب سے زیادہ برگزیدہ، نیک اور متقی ہوں نیز یہ نبوت و رسالت کوئی کسبی چیز نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے وہبی ہے اور یہ نور ہدایت بچپن سے انکے دل و دماغ میں موجود ہوتا ہے، رسالت کا مرتبہ اتنا بڑا اور مشکل ترین رتبہ ہے کہ جس کو نبھانا اور اس پر قائم رہنا کوئی معمولی بات نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ پیغمبروں کی زندگیاں کس قدر آزمائشوں، سختیوں اور تگ و دو سے بھری ہوئی تھیں، خود نبی کریم ﷺ پر کس قدر ظلم و ستم ان کی قوم نے ان پر ڈھائے یہاں تک کہ وہ اپنا پیارا شہر مکہ چھوڑ کر مدینہ ہجرت کر گئے۔ تو یہ بری ذہنیت کے لوگ پیغمبری کا درجہ کیسے حاصل کرسکتے ہیں۔ جب کہ ان کے دل و دماغ تو گناہ اور مکاریوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ تو جو لوگ گناہوں کی دلدل میں پھنس چکے ہیں اور وہاں سے نکلنا بھی نہیں چاہتے تو پھر اللہ ان کو عذاب کے طور پر اور بھی زیادہ دھکیل دیتا ہے سینہ کھول دینے سے مراد یہ ہے کہ اللہ انہیں اسلام قبول کرنے کی توفیق دیتا ہے اور سینہ تنگ ہونے سے مرادوہ ایمان کے نور سے خالی اور کفر کی ظلمت سے بھرا ہواتنگ ہوجاتا ہے یہ تو دنیا کا عذاب ہے کہ نور ایمان سے محروم رہ جاتے ہیں آخرت میں اس سے بھی زبردست عذاب ان کو ملے گا۔ جو لوگ ہدایت ملنے پر بھی ہدایت کی راہ اختیار نہ کریں ان کو اللہ زبردستی ہدایت نہیں دیا کرتا۔ جیسا کہ علامہ اقبال نے وضاحت کی ہے، فرماتے ہیں۔ خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت کے بدلنے کا
Ayahs 6:126–129

وَ هٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِیْمًا١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 6:126 in the Quran reader

اور یہی آپ کے رب کا سیدھا راستہ ہے جو لوگ نصیحت حاصل کرنے والے ہیں، ہم نے ان کے لیے نشانیاں واضح کرکے بیان کردی ہیں۔

لَهُمْ دَارُ السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ هُوَ وَلِیُّهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:127 in the Quran reader

ان کے لیے ان کے اعمال کے بدلے میں اللہ کے گھر سلامتی کا ٹھکانا ہے اور وہی ان کا مددگار ہے۔

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا١ۚ یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ١ۚ وَ قَالَ اَوْلِیٰٓؤُهُمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّ بَلَغْنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِیْۤ اَجَّلْتَ لَنَا١ؕ قَالَ النَّارُ مَثْوٰىكُمْ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:128 in the Quran reader

اور جس دن وہ سب جن و انس کو جمع کرے گا اور فرمائے گا کہ اے گروہ جنات تم نے انسانوں سے بہت فائدے حاصل کئے تو جو انسانوں میں ان کے خیرخواہ ہوں گے وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہم ایک دوسرے سے فائدہ حاصل کرتے رہے اور آخر اس وقت کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا۔ اللہ فرمائے گا اب تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے ہمیشہ اس میں جلتے رہو گے مگر جو اللہ چاہے۔ بیشک آپ کا رب دانا اور خبردار ہے۔

وَ كَذٰلِكَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 6:129 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم ظالموں کو ان کے اعمال کی وجہ سے ایک دوسرے سے ملا دیں گے

سلامتی کی راہ تشریح : ان دو آیات میں نیک لوگوں کے لیے دنیا و آخرت کی تمام نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ جل شانہ فرماتا ہے اے رسول ﷺ ! جو کچھ آپ انہیں سکھا رہے ہیں یہی آپ کے رب کی مقرر کی ہوئی سیدھی راہ ہے۔ جو لوگ اس راہ پر چلیں گے وہ ایسی منزل پر پہنچ جائیں گے جہاں ان کے لیے سکون اور آرام کا بندوبست ہوگا۔ جنہوں نے دنیا کے غلط عیش و آرام کو ٹھکرا کر صرف اپنے رب کی فرمانبرداری کی ان سے وعدہ کیا گیا ہے کہ ان کو مرنے کے بعد آخرت میں جنت کی تمام نعمتیں ملیں گی اور اللہ رب العزت ان کا بہترین مددگار ہوگا۔
Ayah 6:130

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا شَهِدْنَا عَلٰۤى اَنْفُسِنَا وَ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 6:130 in the Quran reader

اے جنوں اور انسانوں کی جماعت ! کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے پیغمبر نہیں آتے رہے جو میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سناتے اور اس دن کے پیش آنے سے ڈراتے تھے ؟ وہ کہیں گے کہ اے رب العزت ! ہم اپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہیں، ان لوگوں کو دنیا کی زندگی نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا اور اب خود ہی اپنے لیے گواہی دی کہ وہ کفر کرتے تھے۔

میدان حشر میں حاضری تشریح : ہر مسلمان کا ایمان ہے کہ قیامت کا دن آئے گا۔ اللہ کے سامنے اکٹھے کئے جائیں گے اور اعمال کا حساب کتاب ضرور ہوگا۔ اور اللہ جن و انس کا حساب ضرور کرے گا، جس کی وضاحت ان آیات میں بیان ہوچکی ہے۔
Ayahs 6:131–132

ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ یَكُنْ رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا غٰفِلُوْنَ Open ayah 6:131 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ! یہ جو پیغمبر آتے رہے اور کتابیں نازل ہوتی رہیں) یہ اس لیے کہ آپ کا رب ایسا نہیں کہ بستیوں کو ظلم سے ہلاک کر دے اور وہاں رہنے والوں کو کچھ بھی خبر نہ ہو۔

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:132 in the Quran reader

اور سب لوگوں کے اعمال کے مطابق درجات مقرر ہیں اور جو کام یہ لوگ کرتے ہیں آپ کا رب ان سے بیخبر نہیں۔

اللہ تعالیٰ بےانصافی نہیں کرتا تشریح : اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا اور اس نے اپنے نفس پر ظلم کو حرام قرار دیا ہے اس نے اپنی توحید کا پرچار کرنے کے لیے انبیائے کرام کو مبعوث فرمایا پھر بھی جو برے کاموں سے باز نہ آئے ان پر دنیا میں عذاب آئے جیسا کہ حضر (علیہ السلام) ت نوح (علیہ السلام) کی قوم، سیدنا لوط کی قوم یہ سب عبرت دلانے کے لیے کافی ہیں اور پھر اللہ کا انصاف اس قدر ٹھیک ہے کہ ہر شخص کو قیامت کے دن اپنے اعمال کے مطابق درجات ملیں گے۔ کسی کو جنت کا نچلا درجہ، کسی کو درمیانہ اور کسی کو جنت الفردوس میں جگہ ملے گی، اسی طرح دوزخ میں بھی درجات ہیں اور عذابوں کے بھی درجات ہیں۔ یہ سب بالکل سچ اور اٹل ہے۔ اس میں کوئی شک و شبہ کی بات نہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” اس وقت جس کا نامہ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا۔ لو دیکھو میرا نامہ اعمال پڑھ لو۔ میرا تو یہ عقیدہ تھا کہ مجھے میرا حساب ضرور ملے گا۔ تو وہ شخص اپنی مرضی کے عیش میں ہوگا۔ اونچے درجہ کی جنت میں جس میں پھلوں کے گچھے جھکے پڑے ہوں گے۔ (ان سے کہا جائے گا) کھائو اور پیو مزے کے ساتھ یہ صلہ ہے ان اعمال کا جو تم گزرے ہوئے دنوں میں کرچکے ہو۔ “ (سورۃ الحاقہ آیات : 19 تا 24)
Ayahs 6:133–135

وَ رَبُّكَ الْغَنِیُّ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَسْتَخْلِفْ مِنْۢ بَعْدِكُمْ مَّا یَشَآءُ كَمَاۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ ذُرِّیَّةِ قَوْمٍ اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 6:133 in the Quran reader

اور آپ کا رب بےپروا اور رحمتوں والا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تمہیں ختم کر دے اور تمہاری جگہ جن کو مرضی ہو لے آئے جیسا کہ تمہیں بھی اوروں کی اولاد سے پیدا کیا ہے۔

اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ١ۙ وَّ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 6:134 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ جو وعدہ تم سے کیا جاتا ہے وہ (قیامت) آنے ہی والا ہے اور تم اللہ پر غلبہ حاصل نہیں کرسکتے۔

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:135 in the Quran reader

کہہ دو کہ لوگو تم اپنی جگہ عمل کئے جاؤ میں اپنی جگہ عمل کئے جاتا ہوں، عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ انجام کار کس کا بہتر ہے، کوئی شک نہیں کہ ظالم نجات پانے والے نہیں۔

اللہ کی بےنیازی اور ظالموں کا انجام تشریح : ان آیات میں رب العالمین کی طاقت اور قدرت کا ذکر ہے اور پھر اس کے نظم و نسق کا بھی ذکر ہے۔ وہ تو انسانوں کے کسی بھی عمل سے بےنیاز ہے اس کو نہ ہمارے نیک اعمال سے کوئی فائدہ ہوتا ہے نہ برے اعمال سے کوئی نقصان پہنچتا ہے۔ یہ سب تو خود انسان اپنی بھلائی یا نقصان کے لیے کرتا ہے۔ اللہ کی مرضی سے دنیا کا نظام چل رہا ہے ایک قوم آتی ہے ختم ہوجاتی ہے تو اس کی جگہ دوسری قوم پیدا کردی جاتی ہے۔ جس قوم نے نیک راہیں اختیار کیں دنیا میں ترقی حاصل کرلی اور جس نے نافرمانی، بدکرداری کی اور حد سے بڑھ گئی تو اس کو سزا کے طور پر اللہ نے نیست و نابود کردیا۔ اسی طرح تم سے جو عدہ کیا گیا ہے سزا و جزا کا وہ جلد ہی پورا ہوجائے گا پھر نہ تو تم اس سے بچ سکو گے اور نہ چھپ سکو گے۔ دنیا اور آخرت میں عذاب یہ اللہ کا وعدہ ہی جو ضرور پورا ہوگا۔ اللہ فرماتا ہے ان سے صاف صاف کہہ دو کہ میرا فرض تھا احکام الٰہی تمہیں پہنچانا وہ میں پہنچا رہا ہوں اور تمہارا کام ہے ان پر عمل کرنا سوچا ہو تو کرو نہ چاہو تو نہ کرو۔ بدلہ تمہارے اعمال کا تمہیں ضرور مل جائے گا دنیا میں ذلت کی صورت میں اور آخرت میں جہنم کی صورت میں۔
Ayah 6:136

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَ الْاَنْعَامِ نَصِیْبًا فَقَالُوْا هٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَ هٰذَا لِشُرَكَآئِنَا١ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلَا یَصِلُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ مَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ یَصِلُ اِلٰى شُرَكَآئِهِمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 6:136 in the Quran reader

اور یہ لوگ اللہ ہی کی پیدا کی ہوئی چیزوں، یعنی کھیتی اور مویشی میں اللہ کا ایک حصہ مقرر کرتے ہیں۔ پھر اپنے ہی خیال سے کہتے ہیں کہ یہ حصہ تو اللہ کا اور یہ حصہ ہمارے شریکوں کا ہے تو جو حصہ ان کے شریکوں کے لیے ہوتا ہے وہ تو اللہ کی طرف نہیں جاسکتا اور جو حصہ اللہ کا ہوتا ہے وہ ان کے شریکوں کی طرف جاسکتا ہے۔ یہ کیسا برا انصاف ہے۔

اللہ کے ساتھ بےادبی تشریح : اس آیت میں کفار کی اس بےادبی کا ذکر کیا گیا ہے جو وہ خیرات کے وقت کرتے تھے۔ ان کی خیرات اللہ کو نہ پہنچتی تھی نہ اللہ کو اس کی ضرورت تھی یہ تو صرف شکرانہ ادا کرنے کا ایک طریقہ تھا۔ وہ اس میں بھی اپنی بدخصلت کا اظہار کرنے سے باز نہ آتے تھے۔ بات یہ تھی کہ عرب لوگ اپنے مال مویشی میں سے کچھ حصہ اللہ کے نام کا نکال دیتے کچھ اپنے بتوں کے نام کا نکال دیتے حالانکہ جو بھی ان کو ملتا تھا سب اللہ کی رحمت اور عنایت سے ملتا تھا مگر چونکہ وہ مشرک تھے اس لیے سوچتے تھے کہ بتوں کی عبادت کریں کیونکہ وہی ان کا اچھا برا کرنے والے ہیں۔ بیوقوف لوگ جو اللہ کے لیے نکالتے وہ غریبوں میں تقسیم کردیتے اور جو بتوں کے لیے نکالتے وہ بت خانوں اور بتوں کی سجاوٹ بناوٹ کے لیے خرچ کرتے۔ پھر یہ ایک اور خباثت کرتے کہ اگر کوئی اچھی چیز اللہ والے حصہ میں چلی جاتی تو اس کو نکال کر بتوں کے حصہ میں ڈال دیتے اور کبھی ایسے کرتے کہ اللہ والے حصہ میں سے نکال کر بتوں کے حصہ کو بڑھا دیتے یہ کہتے ہوئے کہ اللہ تو بےنیاز ہے اس کو تو کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ اللہ تو واقعی بےنیاز ہے وہ جانتے بھی تھے پھر بھی اس کو چھوڑ کر بتوں سے مدد مانگتے تھے۔ اور پھر یہ اپنے مال مویشی کی تقسیم سے اپنی اس حماقت کا اور بھی کھل کر اظہار کرتے تھے کہ وہ بتوں کی زیادہ عزت و احترام اور قدر کرتے ہیں۔ بنسبت اللہ کے۔ اور یہ خیال اللہ کا کچھ نہ بگاڑ سکتا تھا نہ سنوار سکتا تھا، مگر ان کے اس خیال نے ان کے لیے ان کے اعمال میں سزا کا اضافہ ضرور کردیا۔ یقیناً جو بےادبی انہوں نے اللہ کے ساتھ کی اس کی سزا تو ان کو ضرور مل کر رہے گی۔ آیت میں لفظ شرکاء استعمال ہوا ہے جو صرف بتوں کو شامل نہیں بلکہ کوئی بھی شریک جو اللہ کے لیے مقرر کردیا جائے وہ اس میں شامل ہوگا۔
Ayah 6:137

وَ كَذٰلِكَ زَیَّنَ لِكَثِیْرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ قَتْلَ اَوْلَادِهِمْ شُرَكَآؤُهُمْ لِیُرْدُوْهُمْ وَ لِیَلْبِسُوْا عَلَیْهِمْ دِیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:137 in the Quran reader

اسی طرح بہت سے مشرکوں کو ان کے شریکوں نے بچوں کو جان سے مار ڈالنا اچھا کر دکھایا تاکہ انہیں ہلاکت میں ڈال دیں اور انکے دین کو ان پر، خلط ملط کردیں اور اگر اللہ چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو چھوڑ دو وہ جانیں اور ان کا جھوٹ۔

ایک اور بڑی حماقت تشریح : جیسا کہ پچھلی آیت میں کفار کے صدقہ خیرات کرنے کے غلط طریقہ کا ذکر کیا گیا ہے اس آیت میں ان کی ایک اور بےمعنی اور فضول عادت کا ذکر کیا گیا ہے۔ کیونکہ وہ شیطان کے شاگرد تھے جو شیطان انکو کہتا وہ کرتے اپنی عقل سے تو وہ بالکل کام ہی نہ لیتے تھے جیسا کہ ان کے اس عقیدہ سے پتہ چلتا ہے کہ بےجان بتوں کی پوجا کرتے، کوئی درخت کو، کوئی آگ کو، کوئی سورج، چاند، ستاروں کو پوجتا تھا۔ ان کے آگے سر جھکاتے ان کی عبادت کرتے اور ان سے منتیں مانگتے۔ اسی طرح ان لوگوں نے یہ بھی اصول بنا رکھے تھے کہ بعض اوقات جانور بتوں کے نام پر قربان کرتے، کبھی جانور کھلا چھوڑ دیتے کہ یہ بت کے نام آزاد ہے اس پر نہ کوئی سواری کرے نہ اس سے کسی قسم کی خدمت لے اور پھر بعض اوقات تو اپنے بچوں تک کو بتوں کے لیے ذبح کردیتے، یہ انتہا تھی ان کی بےوقوفی کی، پھر بڑی بیوقوفی یہ کرتے، کہتے کہ ” یہ سب کچھ تو ہمیں اللہ نے کہا ہے۔ ہم تو اللہ کے حکم سے یہ کرتے ہیں۔ “ حالانکہ اللہ کے دیے ہوئے احکامات کو نہ وہ سنتے نہ مانتے تھے عمل کیسے کرسکتے تھے۔ ایک غلط کام کرتے، پھر اس کو اللہ سے منسوب کرتے، یعنی باری تعالیٰ پر جھوٹا الزام لگاتے تھے۔ اللہ کے نام سے ذبح کرنا ان کے خیال میں گناہ تھا۔ ان کی یہ تمام غلط رسمیں خود اپنی بنائی ہوئی تھیں جو شیطان کی ہدایات پر انہوں نے بنا رکھی تھیں۔ ان تمام غلط کاموں کا بدلہ ان کو یقینا بھگتنا پڑے گا۔ اللہ رب العزت کا فرمان ہے اور وعدہ بھی ہے کہ کفار کو ان کے جھوٹ، بدعات اور غلط کاموں کا انجام ضرور دیکھنا پڑے گا ان کو بتایا گیا کہ یہ سب غلط ہے وہ نہ مانے تو پھر بھلا سزا سے کیسے بچ سکتے ہیں۔ ان کو ضرور سزا ملے گی۔
Ayahs 6:138–140

وَ قَالُوْا هٰذِهٖۤ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ١ۖۗ لَّا یَطْعَمُهَاۤ اِلَّا مَنْ نَّشَآءُ بِزَعْمِهِمْ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا وَ اَنْعَامٌ لَّا یَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا افْتِرَآءً عَلَیْهِ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ بِمَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:138 in the Quran reader

اور اپنے خیال سے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ چارپائے اور کھیتی منع ہے اس شخص کے سوا جسے ہم چاہیں کوئی دوسرا نہ کھائے اور بعض جانوروں کی سواری منع کردی گئی اور بعض کو ذبح کرتے وقت اللہ کا نام نہ لیتے یہ سب اللہ پر جھوٹا الزام ہے۔ وہ عنقریب ان کو ان کے جھوٹ کا بدلہ ضرور دے گا۔

وَ قَالُوْا مَا فِیْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوْرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزْوَاجِنَا١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مَّیْتَةً فَهُمْ فِیْهِ شُرَكَآءُ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ وَصْفَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:139 in the Quran reader

اور یہ بھی کہتے کہ جو بچہ ان جانوروں کے پیٹ میں ہے وہ خاص ہمارے مردوں کے لیے ہے۔ اور اگر وہ بچہ مردہ پیدا ہوا تو پھر مرد عورتیں سب کھاسکیں گے۔ عنقریب اللہ ان کو ان کے عقیدوں کی سزا دے گا۔ بیشک وہ حکمت والا خبردار ہے۔

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُوْۤا اَوْلَادَهُمْ سَفَهًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ حَرَّمُوْا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ افْتِرَآءً عَلَى اللّٰهِ١ؕ قَدْ ضَلُّوْا وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ۠ Open ayah 6:140 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنی اولاد کو بےوقوفی، بےسمجھی سے قتل کیا اور اللہ پر بہتان لگا کر اس کی دی ہوئی روزی کو حرام ٹھہرایا انہوں نے نقصان اٹھایا۔ بیشک وہ گمراہ ہیں اور ہدایت پانے والے نہیں ہیں۔

مشرکوں کی غلط رسمیں تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں ان کی بےہودہ رسموں کا ذکر کیا گیا ہے ان آیات میں ان کو دہرایا گیا ہے۔ ایک بہت بری رسم جاہل عربوں میں یہ بھی تھی کہ اگر ان کے گھر لڑکی پیدا ہوتی تو اس کو زندہ دفن کردیتے۔ یہ سوچتے ہوئے کہ جب اس کی شادی ہوگی یہ کسی کی بیوی بن جائے گی تو ہماری عزت اور غیرت ختم ہوجائے گی اور کبھی غربت کے ڈر سے مار دیتے کہ اس کو کیسے پالیں گے۔ یہ گناہ عظیم وہ کرتے اور اللہ کی دی ہوئی حلال چیزوں کو خود ہی حرام ٹھہراتے اور حرام کو حلال بنا دیتے اور پھر کہتے کہ یہ سب کچھ ہم اللہ کے حکم سے کرتے ہیں۔ ایک تو گناہ کرتے اور پھر اللہ پر جھوٹا بہتان بھی لگاتے۔ کیونکہ اللہ نے تو ہر اس چیز کو حلال کہا جو انسان کی صحت کے لیے مفید ہو اور ہر اس چیز کو حرام ٹھہرایا جو انسان کی جسمانی اور روحانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے اور پھر اسی طرح لڑکیوں کی پیدائش پر ناخوش ہونا کافروں کی عادت قراردیا، ان کی پرورش کو عبادت وثواب کا درجہ دیا اور یہ عمل باعث جنت قرار دیا۔ اللہ کے دیے ہوئے احکامات تو اتنے فائدہ مند اور مفید ہیں کہ ہر حکم بندے کے لیے رحمتوں، برکتوں اور خوشیوں کا پیغام دیتا ہے۔ بھلا اللہ تعالیٰ ایسے بیہودہ احکامات کیسے دے سکتا ہے جو کسی عام بندے کو بھی دکھائی دیں کہ سراسر نقصان دہ ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ گمراہ ہوچکے ہیں۔ شیطانی کام کرتے ہیں۔ یہ برے رسم و رواج خود ہی بنا رکھے ہیں اور ان پر سختی سے پابند ہیں ایسے بگڑے ہوئے لوگ کبھی نیکی اور ہدایت کی طرف نہیں آسکتے۔ ان کو اپنی گمراہیوں کی سزا ضرور ملے گی۔ اللہ کو تو سب کچھ معلوم ہے اور وہ بڑا حکمت والا ہے۔
Ayahs 6:141–144

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّ غَیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ وَّ النَّخْلَ وَ الزَّرْعَ مُخْتَلِفًا اُكُلُهٗ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ كُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ اٰتُوْا حَقَّهٗ یَوْمَ حَصَادِهٖ١ۖ٘ وَ لَا تُسْرِفُوْا١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَۙ Open ayah 6:141 in the Quran reader

اور اللہ ہی تو ہے جس نے باغ پیدا کئے، چھتریوں پر چڑھائے ہوئے بھی اور زمین پر پھیلے ہوئے بھی اور کھجور اور کھیتی جن سے طرح طرح کے پھل ہوتے ہیں۔ (نیز) زیتون اور انار (بھی) پیدا کیے جو بعض لحاظ سے آپس میں ملتے جلتے ہیں اور بعض لحاظ سے نہیں ملتے۔ جب یہ درخت پھل دیں تو ان کے پھل کھائو اور جس دن پھل توڑو اور کھیتی کاٹو تو اللہ کا حق اس میں سے ادا کرو۔ بےجا نہ اڑانا کہ فضول خرچ لوگوں کو اللہ دوست نہیں رکھتا۔

وَ مِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَةً وَّ فَرْشًا١ؕ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 6:142 in the Quran reader

اور چوپایوں میں بوجھ اٹھانے والے، یعنی بڑے بڑے بھی پیدا کئے اور زمین سے لگے ہوئے چھوٹے چھوٹے بھی۔ پس اللہ کا دیا ہوا رزق کھائو اور شیطان کے راستے پر نہ چلو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ۚ مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ نَبِّئُوْنِیْ بِعِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَۙ Open ayah 6:143 in the Quran reader

یہ بڑے چھوٹے چارپائے آٹھ قسم کے ہیں۔ دو دو بھیڑوں میں سے اور دو دو بکریوں میں سے یعنی ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ ( اے پیغمبر ! ) ان سے پوچھو کہ اللہ نے دونوں کے نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں کی ماداؤں کو یا جو بچہ ماداؤں کے پیٹ میں لپٹ رہا ہو۔ اگر سچے ہو تو مجھے سند سے بتائو۔

وَ مِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ وَصّٰىكُمُ اللّٰهُ بِهٰذَا١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 6:144 in the Quran reader

اور دو دو اونٹوں میں سے اور دو دو گایوں میں سے ان کے بارے میں بھی ان سے پوچھو کہ اللہ نے دونوں کے نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں کی ماداؤں کو یا اس بچے کو جو ماداؤں کے پیٹ میں لپٹ رہا ہو ؟ بھلا جس وقت اللہ نے تم کو حکم دیا تھا اس وقت تم موجود تھے ؟ تو اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہے جو اللہ پر جھوٹا بہتان لگائے اور گمراہی کے خیال سے لوگوں کو گمراہ کرے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

اللہ کی نعمتیں اور آٹھ مویشیوں کی حلت کا بیان تشریح : ان آیات میں رب تعالیٰ کی کچھ نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے، کچھ حکمتیں بتائی گئی ہیں، مثلاً پھلوں اور باغات کا ذکر اس انداز سے کیا گیا ہے کہ اکثر پھلوں کی خاصیتیں اور مٹی کے کمالات کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ ایک ہی جیسی زمین، ہوا اور پانی مل کر انسان کے لیے اللہ کے حکم سے کیسی کیسی مختلف تاثیر اور مزہ کی چیزیں پیدا کرتے ہیں، مثلاً کچھ بیلیں ایسی ہیں کہ اگر ان کو بلندی پر چھا جانے کا موقعہ نہ ملے تو اس میں پھل نہیں آتا اگر آجائے تو پھل تیار ہونے سے پہلے ضائع ہوجاتا ہے۔ مثلاً انگور کی بیل کو اگر ٹھیک جگہ ٹھکانا نہ ملے تو پھل نہیں آتا، اسی طرح کچھ بیلوں کی فطرت زمین پر پھیل کر پھل دینے کی ہے مثلاً خربوزہ، تربوز وغیرہ اسی طرح کچھ تنائور درخت پھل دیتے ہیں، مثلاً انار، زیتون وغیرہ پھر ان کے بارے میں مزید بتایا گیا ہے کہ یہ پھل اپنی قسم میں کئی طرح کے ہوتے ہیں۔ کچھ رنگ ذائقہ میں ایک جیسے ہوتے ہیں کچھ مختلف ہوتے ہیں۔ پھر حکم دیا کہ جب یہ پھل اور فصل تیار ہوجائے۔ تم پھل اتارو اور فصل کاٹو تو اللہ کے نام کا کچھ حصہ غریبوں میں بانٹو۔ یہاں مسلمانوں کو معاشی اصول اور اسلامی طریقہ کا سبق دیا گیا ہے۔ جس میں عدل، احسان، اخوت، مساوات اور تقو ٰی کا سبق ملتا ہے۔ زکوٰۃ و عشر کا باقاعدہ اعلان یہاں نہیں کیا گیا۔ پھر جانوروں کا ذکر اس انداز سے کیا گیا ہے کہ وہ بھی انسان کی بقا کے لیے ضروری ہیں ایک تو ان سے گوشت حاصل ہوتا ہے ایک بار برداری (سامان اٹھانا) کے کام آتے ہیں۔ پھر کچھ ایسے جانور ہیں جو زمین اور فضا کی صفائی کا کام دیتے ہیں۔ جانور یہاں صرف چوپائے ہی بیان کئے گئے ہیں۔ ورنہ جانور تو اتنے زیادہ ہیں کہ انسان کی سوچ سمجھ ان کا احاطہ نہیں کرسکتی۔ ان آیات میں صرف آٹھ قسم کے چھوٹے بڑے جانوروں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں بھیڑ، بکری، اونٹ اور گائے چار نر اور چار مادہ یعنی کل آٹھ ہوگئے۔ یہ آٹھوں جانور انسان کو دودھ، گوشت اور بار برداری کا فائدہ پہنچاتے ہیں۔ اللہ نے ان کو انسانوں کے لیے حلال قرار دیا ہے۔ شرط یہ ہے کہ جب بھی ان کو ذبح کرو اللہ کا نام لے کر ذبح کرو۔ ورنہ یہ حرام ہیں یہاں حلال و حرام کے بارے میں بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے اس کے علاوہ تمام رسم و رواج بالکل غلط ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ سب کچھ جو کفار و مشرکین کہتے ہیں بالکل غلط اور ان کے اپنے بنائے ہوئے اصول ہیں۔ اگر یہ سچے ہیں تو بتائیں کس نبی نے ان کو یہ اصول بتائے ہیں۔ یہ لوگ گمراہ ہیں۔ شیطان کے نقش قدم پر چلنے والے ہیں۔ خود بھی بھٹکے ہوئے ہیں اور دوسروں کو بھی بھٹکانے والے ہیں یہ اتنے ضدی اور ہٹ دھرم ہیں کہ ان کو گمراہی سے بچانا کسی کے بس میں نہیں۔ اللہ تعالیٰ تو ایسے لوگوں کی طرف ہرگز نظر عنایت نہیں کرتا اور نہ ہی ایسے بدخصلت لوگوں کو اللہ ہدایت ہی دیتا ہے۔ یہ سزا ہے ان کی کہ اپنے گناہوں اور کفر و شرک کے اندھیروں میں ہمیشہ بھٹکتے رہیں اور پھر آخرت میں بھی عذاب پائیں۔ یہ تمام آیات اللہ کی نعمتوں، حلال و حرام اور قرآن و سنت کی تعلیمات سے مزین ہیں۔ ان کے علاوہ جو بھی زندگی گزارنے کا غلط طریقہ اختیار کرے گا وہ کفر و شرک اور گمراہی کے اندھیروں میں بھٹک کر اپنا بڑا نقصان کرے گا۔ اللہ تو انسانوں کے اچھے برے اعمال سے بےنیاز ہے۔
Ayah 6:145

قُلْ لَّاۤ اَجِدُ فِیْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ یَّطْعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّكُوْنَ مَیْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّهٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:145 in the Quran reader

کہو کہ جو احکام مجھ پر نازل ہوئے ہیں میں ان میں کوئی چیز جسے کھانے والا کھائے، حرام نہیں پاتا سوائے اس کے کہ وہ مرا ہوا جانور ہو یا بہتا خون یا سؤر کا گوشت کہ یہ سب ناپاک ہیں۔ یا ناجائز جانور جو اللہ کے علاوہ کسی اور کے نام پر مشہور کیا گیا ہو اور اگر کوئی مجبور ہوجائے لیکن نہ تو (اللہ کے قانون کا) باغی ہو اور نہ ہی حد سے باہر نکل جائے تو آپ کا رب بخشنے والا مہربان ہے۔

حرام چیزیں تشریح : اللہ سبحانہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر رہے ہیں فرماتے ہیں اے رسول ﷺ ! آپ کہہ دیجیے کہ یہ چاروں چیزیں حرام ہیں۔ بہتا ہوا خون، مردار، خنزیر کا گوشت اور وہ جانور جو غیر اللہ کے نام پر مشہور کردیا جائے یا جس پر ذبح کرتے ہوئے اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ سوائے مجبوری کی حالت میں جو کہ واقعی مجبوری ہو، نافرمانی کی وجہ نہ ہو۔ تو پھر اللہ مہربان ہے مجبوری کے عمل کو وہ معاف کردیتا ہے۔ اسی طرح کا مضمون سورة المائدہ کے پہلے رکوع میں بڑی تفصیل سے گزر چکا ہے۔
Ayah 6:146

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ١ۚ وَ مِنَ الْبَقَرِ وَ الْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ شُحُوْمَهُمَاۤ اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُوْرُهُمَاۤ اَوِ الْحَوَایَاۤ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ١ؕ ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِبَغْیِهِمْ١ۖ٘ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 6:146 in the Quran reader

اور یہودیوں پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کردیے تھے گائے اور بکری کی چربی ان پر حرام کردی تھی۔ سوائے پیٹھ والی چربی کے یا آنتوں یا جو ہڈی سے ملی ہو۔ یہ سزا ہم نے ان کو ان کی شرارت کی وجہ سے دی تھی اور ہم سچ کہنے والے ہیں۔

یہود پر حلال چیزوں کے حرام ہونے کی وجہ تشریح : اس سے متعلقہ مضمون چوتھے پارے میں وضاحت سے گزر چکا ہے۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ اللہ رب العزت نے سزا کے طور پر کچھ حلال چیزیں یہود پر حرام کردی تھیں جو کہ مسلمانوں کے لیے حلال قرار دی گئیں یہ فرمان اس رب ذوالجلال کا ہے جو ہر طرح سے حق ہی حق ہے۔
Ayah 6:147

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ رَّبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ١ۚ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُهٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 6:147 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ آپ کی تکذیب کریں تو کہہ دو کہ تمہارے رب کی رحمت بڑی وسیع مگر اس کا عذاب گناہ گاروں سے ہرگز ٹلے گا نہیں۔

مجرم سزا ضرور پائیں گے تشریح : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نبی اکرم ﷺ کو تسلی دے رہے ہیں کہ اگر کافر آپ کو جھوٹا کہیں، اس وجہ سے کہ ان پر عذاب کیوں نہیں آیا، آپ ایسے ہی دھمکیاں دے رہے ہیں تو ان کو اچھی طرح خبر کردیں کہ اللہ بڑا رحم کرنے والا ہے وہ بار بار تنبیہ کرتا ہے کہ گناہ سے باز آجاؤ تاکہ عذاب سے بچ سکو، اسی لیے وہ تمہیں مہلت دیتا ہے کہ شاید توبہ کرلو اور نیکی کی راہ اختیار کرلو تو تمہیں بخش دیا جائے گا ورنہ تو عذاب کا ملنا بالکل ضروری ہے یہ تو اس کی رحمت کی ہی وجہ ہے کہ برے لوگوں کو فوراً عذاب نہیں دیا جاتا بلکہ ان کو سوچنے کی مہلت دی جاتی ہے۔ بس یہی وجہ ہے ورنہ گناہ گاروں کو عذاب ضرور ملے گا۔
Ayahs 6:148–153

سَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكْنَا وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ حَتّٰى ذَاقُوْا بَاْسَنَا١ؕ قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْهُ لَنَا١ؕ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:148 in the Quran reader

مشرک لوگ کہیں گے کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے اور نہ ہی ہمارے باپ دادا ہی شرک کرتے اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے اسی طرح ان سے پہلے لوگوں نے بھی تکذیب کی تھی یہاں تک کہ ہمارے عذاب کا مزہ چکھ کر رہے، کہہ دو کیا تمہارے پاس کوئی سند ہے ؟ اگر ہے تو ہمیں دکھائو تم صرف خیالی باتیں کرتے ہو اور اٹکل پر چلتے ہو۔

قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ١ۚ فَلَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 6:149 in the Quran reader

کہہ دو بس اللہ کی حجت کامل ہے۔ اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا۔

قُلْ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ الَّذِیْنَ یَشْهَدُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ هٰذَا١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ هُمْ بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 6:150 in the Quran reader

کہو کہ اپنے گواہوں کو لائو جو بتائیں کہ اللہ نے یہ سب چیزیں حرام کی ہیں۔ پھر اگر وہ گواہی دیں تو تم ان کے ساتھ گواہی نہ دینا اور نہ ہی ان کی خواہشوں کی پیروی کرنا جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ہماری آیتوں پر ایمان نہیں لاتے اور دوسروں کو اپنے رب کے برابر ٹھہراتے ہیں۔

قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَیْكُمْ اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَ اِیَّاهُمْ١ۚ وَ لَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:151 in the Quran reader

( لوگو) آئو میں تمہیں وہ چیزیں پڑھ کر سنائوں جو تمہارے رب نے تم پر حرام کردی ہیں ( ان کے لیے اللہ نے اس طرح ارشاد فرمایا ہے) کہ کسی چیز کو اللہ کا شریک نہ بنانا، ماں باپ سے برا سلوک نہ کرنا، مفلسی کے ڈر سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرنا کیونکہ تمہیں اور ان کو ہم ہی رزق دیتے ہیں۔ ظاہر یا چھپا کر بےحیائی کے کام نہ کرنا اور کسی ایسے شخص کو جس کو قتل کرنا حرام ہے ہرگز قتل نہ کرنا۔ مگر جس کا شریعت حکم دے۔ ان باتوں کی وہ تمہیں تاکید کرتا ہے تاکہ تم سمجھو۔

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١ۚ وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ١ۚ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ وَ اِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۚ وَ بِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَۙ Open ayah 6:152 in the Quran reader

اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ جانا مگر اس طرح کہ بہتر ہو۔ یہاں تک وہ جوانی کو پہنچ جائے، اور ماپ تول پورا پورا انصاف سے کیا کرو۔ ہم کسی کو تکلیف نہیں دیتے مگر اس کی طاقت کے مطابق۔ اور جب کسی کے لیے کوئی بات کہو تو انصاف سے کہو چاہے وہ تمہارا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔ اور اللہ کے عہد کو پورا کرو۔ ان باتوں کا اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تاکہ تم نصیحت قبول کرو۔

وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْهُ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 6:153 in the Quran reader

اور یہ کہ میرا سیدھا راستہ یہی ہے تو تم اسی پر چلنا اور دوسرے راستوں پر نہ چلنا کہ وہ تمہیں اللہ کے راستے سے الگ کردیں گے۔ ان سب باتوں کا اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تاکہ تم پرہیزگار بنو۔

کفار کے اعتراض اور صراط مستقیم کے اصول تشریح : ان آیات میں شروع میں تو مشرکوں کو اپنے برے اعمال کو ٹھیک ثابت کرنے کے لیے گواہ لانے کو کہا گیا ہے جو کہ وہ ہرگز نہیں لاسکتے، پھر مسلمانوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ جو لوگ مشرک ہیں ان کی کسی بھی چال میں پھنس کر ان جیسے بےدین، گمراہ اور مشرک نہ ہوجانا۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کو اچھی طرح سمجھا دیں اللہ نے کیا حرام کیا ہے اور کیا حلال کیا ہے۔ بس صرف اسی پر ہی عمل کرنے کی تاکید کی گئی ہے اپنے پاس سے احکامات بنانے یا ان پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ نے سختی سے منع کیا ہے۔ اللہ کے بتائے ہوئے اصول اور قانون اس قدر جامع، مفید اور واضح ہیں کہ جو بھی ان کو اپنائے گا ان پر عمل کرے گا دنیا میں پرسکون، کامیاب اور مطمئن رہے گا اور آخرت میں نجات حاصل کرے گا۔ اسلامی طریقہ سے زندگی بسر کرنے کے وہ تمام اصول جو مسلمان کو دنیا کی دوسری تمام قوموں سے ممتاز کرتے ہیں وہ بڑی وضاحت سے قرآن مجید میں کئی مرتبہ بیان کئے جاچکے ہیں یہاں ایک مرتبہ پھر ان تمام قوانین کو ترتیب سے بیان کردیا گیا ہے۔ -1 اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائو۔ وہ اکیلا ہے (عقیدہ) -2 ماں باپ سے نیک سلوک کرو۔ (اخلاقی سبق) -3 اولاد کو کسی بھی وجہ سے قتل نہ کرو۔ (توکل اور اخلاقی سبق) -4 فحش اور بےحیائی کے کام مت کرو (معاشرتی اور اخلاق سبق) -5 کسی کو قتل نہ کرو۔ (انسانیت کا سبق) -6 یتیموں کا مال مت کھائو، ناجائر طریقہ سے۔ (انصاف کا سبق) -7 ماپ تول میں کمی مت کرو۔ ( انصاف اور اخلاقی سبق) -8 سب مل کر دین کو قائم کرو۔ (اتحاد اور تبلیغ کا سبق) -9 آپس میں تفرقہ ڈالنے سے بچو۔ ( ملی مضبوطی، قومی ترقی، ملکی سا لمیت کا سبق) جب ہم ان تمام اصولوں کو بغور دیکھتے اور پڑھتے ہیں اور انکی گہرائی میں جاتے ہیں تو ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں پیدا کیا، صحت و تندرستی عطا کی، دنیا جہاں کی نعمتیں عطا کیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمیں اسلامی ملک اور مسلمان گھرانے میں پیدا کیا۔ اور پھر بہترین زندگی گزارنے کے لیے بہترین طریقے بتا دیئے۔ جو اتنے بہترین ہیں کہ جن کا بنانے والا وحدہ لا شریک اللہ تبارک تعالیٰ ہی ہوسکتا ہے۔ کسی بندے کے بنائے ہوئے اصول نہ تو اس قدر مکمل ہوسکتے ہیں نہ ہی اس قدر آسان اور فائدہ مند، انفرادی یا اجتماعی زندگی سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی ایسا اصول نہیں جس میں کوئی نقص ہو بندوں کے حقوق اور اللہ کے حقوق، سب ہی قرآن کی ان آیات میں بتا دیے گئے ہیں۔ اللہ چاہتا تو سب کو ہی پکے مسلمان بنا دیتا مگر یہ تو اس کے فیصلے، مرضی اور قانون کے خلاف ہے کیونکہ اس نے انسان کو پیدا کیا۔ تمام نعمتیں دیں ہدایت کے لیے انبیاء اور رسول بھیجے اور انسان کو عقل، شعور، ارادہ اور اختیار دیا کہ خود اپنی مرضی سے ایمان کا راستہ اختیار کرکے دنیا و آخرت میں کامیاب ہوجائے یا کفر کا راستہ اختیار کر کے دنیا و آخرت میں عذاب حاصل کرلے۔ یہ علم، ارادہ اور اختیار ہی تو انسان کو فرشتوں سے علیحدہ اور ممتاز (برتر) کرتا ہے۔ مگر جنت و جہنم میں جانا اس کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ ہدایت کا راستہ دکھانے کے لیے جب سے دنیا وجود میں آئی ہے اللہ تعالیٰ پیغمبر بھیجتا رہا ہے۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر دنیا میں بھیجے گئے ہیں جن میں سے چند ایک کا ذکر قرآن مجید میں بھی کیا گیا ہے اور کچھ انبیاء اور رسولوں کی کتب کا ذکر بھی کیا گیا ہے جیسا کہ اگلی آیت میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیا جا رہا ہے۔