Ayah 8:41اس پارے کے پہلے چھ رکوع سورة الانفال کے ہیں باقی گیارہ رکوع سورة توبہ کے ہیں۔ اس سورت کا آغاز مال غنیمت کے ذکر سے ہوا تھا۔ یہاں یوم بدر کی تفصیلات بتائی گئی ہیں۔ دوسرے رکوع میں منافقین کا ذکر ہے۔ تیسرے رکوع میں جہاد کی برکات کا ذکر ہے۔ اس سورت کے آخر میں مہاجرین وانصار کے فضائل اور اللہ کی قدرت کا ملہ بیان کی گئی ہے۔ ساتویں رکوع سے سورة توبہ شروع ہوتی ہے۔ یہ سورت بسم اللہ کے بغیر شروع ہوتی ہے۔ نویں رکوع میں تمام نیکیوں پر جہاد کی فضیلت واضح کی گئی ہے۔ دسویں رکوع میں مسلمانوں کو صرف اللہ پر بھروسہ کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ گیارہویں رکوع میں عیسائیوں کا رد کیا گیا ہے۔ بارہویں رکوع میں غزوئہ تبوک کا ذکر ہے۔ تیرہویں رکوع میں منافقوں سے ہوشیار رہنے اور ان کے لئے سخت عذاب کا بیان ہے۔ چودہویں رکوع میں منافقین کی شرارتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ پندرہویں رکوع میں عاد وثمود کے حالات بتائے گئے ہیں۔ سولہویں رکوع میں توبہ اور نیکی کا راستہ بتایا گیا ہے۔ سترہویں رکوع میں منافقوں سے قطع تعلق کا حکم دیا گیا ہے۔ دسویں پارے میں سورت انفال کے آخری حصے اور سورة توبہ کے بیشتر حصے میں اسلامی طرز سیاست اور دوسرے امور سے واقفیت دلائی گئی ہے۔
مال غنیمت میں حصوں کی تقسیم
تشریح : اس آیت میں بڑے اہم موضوعات پر بحث کی گئی ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ احکامات الٰہی بتائے گئے ہیں۔ جیسا کہ شروع سورت میں وضاحت کی گئی تھی کہ انفال کا مطلب ہے غنیمت۔ اور غنیمت کا مطلب ہے وہ مال جو کفار سے جنگ کے سلسلے میں مسلمانوں کے ہاتھ لگے۔ تو اس کی تقسیم کا طریقہ رب العزت نے بڑی وضاحت سے بتا دیا ہے۔ حکم ہوا کہ پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہوگا اور وہ اس کو اس طرح خرچ کریں گے۔ -1 اپنی ذات پر۔ -2 اپنے قرابت داروں، یعنی بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب پر کیونکہ انہوں نے آپ کی مدد ہر اس وقت کی جب انسانی ہمدردی کرنے والا اور کوئی نہ تھا۔ آپ تو پیدا ہی یتیم ہوئے تھے اور پھر والدہ بھی فوت ہوگئیں جبکہ آپ کی عمر اس وقت صرف 6 سال تھی۔ پہلے دادا نے اور پھر چچا نے آپ کی پرورش کی اور زندگی کے ہر مشکل وقت میں آپ کی بھرپور مدد کی۔ -3 تیسرا درجہ یتیموں کا ہے۔ -4 محتاجوں کا۔ -5 مسافروں کا درجہ آتا ہے۔
باقی چار حصے لشکر میں تقسیم کئے جائیں۔ وہ اس صورت سے کہ سوار کو دو حصے اور پیدل کو ایک حصہ۔
ڈاکٹر غلام مرتضی صاحب اپنی کتاب انوار القرآن میں صفحہ 218 پر لکھتے ہیں کہ ” غنیمت کی دوسری صورت یہ ہے کہ بغیر جنگ کے غیرمسلمین کے اموال، املاک اور اوقاف مسلمانوں کے قبضہ میں آجائیں جیسا کہ مدینہ منورہ میں یہودی قبائل بنو نضیر، بنو قینقاع اور بنو قریظہ وغیرہ کے لوگ مدینہ چھوڑ کر خیبر میں آباد ہوگئے تھے۔ ان کی تمام املاک مسلمانوں کے پاس آگئیں اس کی وضاحت سورة الحشر میں کی گئی ہے۔ اموال فئے مسلمانوں کا اور اسلامی ریاست کا حق ہے۔ اگر غیرمسلم اس کو چھوڑ کر چلے جائیں تو اس پر ان کا کوئی حق نہیں رہتا۔ “
ان احکامات سے سابقہ قانون ختم کردیا گیا کہ پہلی امتوں میں یہ مال غنیمت حلال نہ تھا مگر اس حکم کے بعد ایک تو اس کو حلال قرر دیا گیا اور دوسرے اس کی ٹھیک ٹھیک تقسیم بتا دی گئی کہ امت میں مال کی وجہ سے رنجش اور بدامنی پیدا نہ ہوجائے۔ پھر اس تقسیم پر ایمانداری سے عمل کرنے کے لیے مجاہدین کو یاد کروا دیا کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہو تو تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ کے بتائے ہوئے قانون پر عمل کرنا کس قدر ضروری ہے، یعنی مال غنیمت میں سے ایک ذرہ برابر بھی کوئی چیز تم اپنی مرضی سے اپنے پاس رکھنے کے حق دار نہیں۔ کیونکہ یہ خیانت ہوگی۔ پھر غزوہ بدر کو یوم الفرقان، یعنی فرق کرنے کا دن کہا گیا۔ کیونکہ بعثت سے لیکر ہجرت اور پھر مدینہ میں اسلامی ریاست کا قیام یہ تمام عرصہ کفر و اسلام کی زبردست کشمکش میں گزرا تھا۔
رسول اللہ ﷺ اور ان کے ساتھیوں نے اللہ کی مدد کے سہارے بڑے مشکل مرحلے گزارے مگر کامل یقین اور اللہ کے بھروسہ پر انہوں نے کبھی ہمت نہ ہاری۔ اس قدر جاہل اور بد اخلاق قوم کو راہ راست پر لانا کوئی آسان کام نہ تھا۔ بلکہ اس کو بھی ایک معجزہ ہی کہہ سکتے ہیں کہ یہی بگڑی ہوئی قوم دنیا کی بہترین قوم بن گئی۔ اور عہد رسالت ﷺ میں دس سال کی مدت میں معمولی جانی نقصان پر عرب جیسا بڑا ملک مسلمانوں کے قبضہ میں آگیا۔ ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں رسول پاک ﷺ کی رہنمائی میں ایک انتہائی پرامن اور صحت مند نیامعاشرہ وجود میں آرہا تھا۔ اسی پاکیزہ تبدیلی کی پہلی سیڑھی غزوئہ بدر تھا۔
یہ اصل میں کفر اور اسلام میں فرق ظاہر کرنے کا بہت بڑا ذریعہ تھا، لہٰذا اس معرکہ کے دن کو یوم الفرقان (فرق کرنے کا دن) کہا گیا ہے۔ پھر آخر میں مسلمانوں کو فخر و غرور سے بچانے کے لیے یاد کرا دیا کہ یہ سب کچھ صرف اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں سے ہوا ہے کیونکہ وہی تو ہے جو ہر چیز پر قادر ہے۔ فتح و شکست، عزت و ذلت کسی انسان کے بس میں نہیں بلکہ سب کچھ اللہ کی قدرت کاملہ کا ہی نتیجہ ہے۔ اگر اللہ چاہتا تو ویسے ہی اپنی قدرت سے سب کو مسلمان بنا دیتا مگر یہ تو فرشتوں کی صفت ہے کہ وہ ہر وقت اللہ کی فرمانبرداری اور عبادت اور تسبیح و تہلیل میں مصروف رہتے ہیں اور اس کی نافرمانی نہیں کرتے۔ مگر انسان کی انسانیت تو اعتقاد، ایمان اور حب الٰہی کی مضبوطی سے ہی ظاہر ہوتی ہے۔ کامل انسان تو وہی ہوتا ہے جو دکھ اور خوشی میں اللہ کو نہ بھولے اور شکر ادا کرتا رہے۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی غزوئہ بدر بھی ہے۔ جیسا کہ اللہ فرماتا ہے۔
Ayahs 8:42–44جنگ بدر کی وجہ سے مسلمانوں کی آزمائش اور اللہ کی مدد
تشریح : ان آیات میں یہی بتایا گیا ہے کہ جنگ صرف اللہ کی مرضی اور پروگرام کے تحت ہوئی اور اسی کی مرضی اور پروگرام کے تحت جنگ کا نقشہ اور مسلمانوں کی فتح اور کفار کی شکست ہوئی۔ یہ خالصتاً اللہ ہی کی مرضی تھی ویسے تو اللہ ہی سب کچھ کرتا ہے کیونکہ وہی سب سے زیادہ طاقت والا اور قدرت والا ہے۔ اور اس جنگ کے بظاہر کوئی آثار نہ تھے اور مقابلہ بھی برابر کا نہ تھا مگر کیونکہ اللہ نے اپنی قدرت سے حق کی حمایت اور کفر کی جڑ کاٹنا تھی اس لیے اس نے ایسے حالات پیدا کیے مثلاً دونوں جماعتیں ہی باقاعدہ معاہدہ، یعنی جنگی حالات کا اعلان کیے بغیر آمنے سامنے آگئیں مسلمانوں کا پڑائو انتہائی نامناسب جگہ پر تھا اور تعداد بھی بہت کم تھی جبکہ دشمن بہت زیادہ اور پڑائو بھی اچھی جگہ پر تھا۔ کچھ ایسے حالات تھے کہ جنگ ٹل بھی سکتی تھی کیونکہ تجارتی قافلہ بچ کر جا چکا تھا مگر بظاہر یہ سب کچھ اتفاقاً ہو رہا تھا اللہ تعالیٰ نے واضح کیا کہ ہر بات اور ہر کام چاہے اتفاقاً ہو یا اراداتاً ہو سب اللہ کے طے شدہ پروگرام کے مطابق ہوتا ہے۔ اس نے چاہا تو چھوٹی سی فوج کو بڑی طاقت پر اس لیے برتری عطا کردی کہ اللہ کی مدد غیبی طور پر اور حق کی حمایت ظاہری طور پر دکھانا مقصود تھا، لہٰذا مسلمانوں کو کفار کی فوج کم کرکے دکھا دی تاکہ انسان ہونے کی وجہ سے کم ہمت نہ ہوجائیں، پھر بارش برسا کر زمین سخت کردی اور پانی کا بندوبست بھی کردیا۔ یہ سب حالات بیان کیے جا چکے ہیں۔ یہاں صرف بتانا مقصود یہ ہے کہ جو کچھ بھی ہوتا ہے اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے۔ بندہ تو صرف اس کا بندہ (غلام) ہے جو اس پر جتنا بھروسہ کرے گا اتنا ہی کامیاب اور پرسکون ہوگا اور جو اللہ سے دور کفر کی ظلمت میں بھٹکتا پھرے گا اتنا ہی بےسکون اور نامراد ہوگا۔ اس جہان میں بھی اور دوسرے جہان میں بھی۔ غزوئہ بدر کی زندہ مثال ہے۔
مدینہ ایک ایسی اسلامی ریاست یا شہری مملکت کہلا سکتی تھی جس کی بنیاد ایک ایسے سیاسی نظام پر مشتمل تھی جس میں مدینہ کے مسلمان، یہودی اور مشرک شامل تھے۔ اس ریاست کا قائم ہونا ترقی کرنا اور اسلام کا مضبوط قلعہ بننا اور اسلام کا دنیا کے کونے کونے میں پھیلنا۔ اس سب کی بنیاد غزوئہ بدر میں مسلمانوں کی فتح پر ہی تھی اور یہ سب اللہ کے بنائے ہوئے پروگرام سے ہی ہو رہا تھا۔ جب بندہ اللہ پر پورا بھروسہ کرکے نکلتا ہے یا کوئی نیک راستہ اختیار کرتا ہے تو اللہ رب العزت اس کے لیے سہولتوں، آسانیوں اور کامیابیوں کے ایسے ایسے راستے کھول دیتا ہے جو بندے کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتے۔ ایمان اور نیک عمل ہی انسان کو اللہ کے قریب کرتے ہیں اور جو اللہ کے قریب ہوگیا اس نے سب کچھ پا لیا۔
Ayahs 8:45–47جہاد میں کامیابی کے اصول
تشریح : جیسا کہ باقی زندگی گزارنے کے لیے اللہ جل شانہ ‘ نے مسلمانوں کو بہترین اصول بتائے ہیں اسی طرح جنگ کے اصول بھی بتائے ہیں۔
-1 پہلا اصول ثابت قدم رہو۔ ثابت قدمی تو زندگی کے ہر مرحلہ میں ضروری ہے۔ کیونکہ جہاں انسان کا ارادہ کمزور ہوا وہاں ناکامی ہوگئی، اس لیے اللہ کا ذکر کرتے ہوئے اس پر بھروسہ کرتے ہوئے میدان جنگ میں اترو۔ کفار کی طرح نہیں کہ فوجیوں کو جوش و جذبہ دلانے کے لیے بینڈ باجے بجائے جاتے ہیں۔ مسلمان کو جذبہ جہاد کو ابھارنے اور ثابت قدم رکھنے کے لیے اللہ کا ذکر بہترین ذریعہ ہے۔ اسی جذبہ کے تحت جب مسلمان نعرہ تکبیر لگاتا ہے تو مشرکوں کے دل پر رعب طاری ہوجاتا ہے۔ اس نعرہ تکبیر میں کچھ ایسا رعب، دبدبہ اور تاثیر ہے کہ کفار اس سے بہت زیادہ گھبراتے ہیں (یہ حقیقت ہے) آدھی جنگ اس حکم کی تعمیل سے ہی جیتی جاسکتی ہے۔
-2 دوسرا اصول فوج کی یکجہتی اور اتحاد ہے۔ یکجہتی اور اتحاد اس قدر طاقت اور اہمیت رکھتا ہے کہ بڑے سے بڑا طوفان بڑی سے بڑی طاقت اس کے سامنے جھک سکتی ہے۔ جیسا کہ جنگ بدر میں پہلے کچھ نااتفاقی پیدا ہوئی مگر جب رسول اللہ ﷺ نے سب سے مشورہ کرکے ایک مکمل تجویز سب کے سامنے رکھ دی تو سب نے مل کر مقابلہ کرنے کی ٹھان لی۔ یکجہتی اور اتحاد قوم کی کامیابی کا بہترین ہتھیار ہے۔ کسی بھی جماعت کو شکست دینے کا بہت بڑا ہتھیار یہ ہے کہ جماعت میں کسی بھی صورت سے انتشار، نااتفاقی اور جھگڑا ڈالوا دیا جائے ایسی جماعت بلاشبہ کمزور ہو کر ختم ہوجاتی ہے۔
-3 تیسرا اصول یہ ہے کہ کبھی بھی بےصبری کا اظہار نہ کرو چاہے وہ کسی شکل میں ہو اپنے کسی ساتھی سے زیادتی ہوجائے یا جنگ کے حالات شدت اختیار کر جائیں۔ بھوک، پیاس برداشت کرنی پڑے یا تھکن بڑھ جائے یا زخمی ہوجائے۔ ہر حال میں مسلمان کا کام ہے صبر سے کام لے۔ کیونکہ صبر ہر مشکل آسان کردیتا ہے جبکہ بےصبری سے دکھ، تکلیف اور پریشانی اور بڑھ جاتا ہے۔
-4 چوتھا اصول یہ ہے کہ کبھی بھی اتراتے ہوئے اور دکھاوے کے لیے جنگ کے لیے نہ نکلو۔ بلکہ صاف نیت اور بلند مقصد، حق و صداقت کی جیت کے لیے ایمان کے جذبہ کے ساتھ جنگ کے لیے نکلو۔ کیونکہ دکھاوا غرور اور بےجا شان و شوکت سے تو صرف کفار ہی جنگ کے لیے نکلتے ہیں۔ جیسا کہ ابوجہل جنگ بدر کے لیے بدمست ہو کر لشکر لے کر نکلا تھا اور پھر اس کا مقصد بھی بڑا ہی برا تھا، یعنی ان لوگوں سے لڑنے جا رہا تھا جو اللہ کے سپاہی تھے اور امن و سکون کی خاطر جنگ کے لیے نکلے تھے۔ بھلا ابوجہل اور رسول اللہ ﷺ کا کیا مقابلہ ہوسکتا تھا۔ اللہ تو سب کے اعمال، نیتوں اور ارادوں سے خوب اچھی طرح واقف ہے۔
جنگ لڑنے کے لیے ایمان، یقین، اتحاد، صبر، سکون اور اللہ کے کلمے کی بلندی کے لیے جنگ کرنا، یہ سب صفات مسلمان مجاہد کے پاس ہوتی ہیں اسی لیے تو کہا جاتا ہے کہ ایک مجاہد کئی کفار پر بھاری ہوتا ہے۔ جس کا ثبوت جنگ بدر میں بھی مل گیا کہ کس طرح 313 مسلمانوں نے ایک ہزار کے لشکر سے مقابلہ کرکے فتح حاصل کی۔
مجاہد کی تعریف بیان سے باہر ہے۔ مجاہد کا درجہ اللہ تعالیٰ نے بہت بلند رکھا ہوا ہے۔ ارشاد نبوی ﷺ ہے :
” اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے میری خواہش ہے کہ میں اللہ کی راہ میں لڑوں اور مارا جاؤں، پھر لڑوں اور مارا جاؤں، پھر لڑوں اور مارا جاؤں۔ “ (صحیح البخاری کتاب الجہاد )
اب میں ایک ایسے مجاہد کا ذکر کر رہی ہوں جس سے ذاتی طور پر میری بات چیت ہوئی۔ یہ 1965 ء کی جنگ کا زمانہ تھا پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ تھی فلائٹ لیفٹیننٹ محمد جاوید اسلم اس جنگ میں برائے نیویگیٹر شریک تھے۔ جب دوران جنگ بیس پر میری ملاقات ان سے ہوئی تو میں نے ان سے پوچھا جب آپ حملہ کے لیے جاتے ہیں تو آپ کے کیا تاثرات ہوتے ہیں ؟ ڈر نہیں لگتا ؟ گھر والے یاد نہیں آتے ؟ وہ مسکرائے اور بولے ” باجی کیسی باتیں کرتی ہیں۔ ہمارا حال تو یہ ہوتا ہے کہ ہم وردی میں ملبوس اپنے نام کے پکارے جانے کے انتظار میں بےقرار ہوتے ہیں۔ نام سنتے ہی ہم یوں بدمست ہو کر جہاز کی طرف بھاگتے ہیں کہ جیسے کوئی بہت بڑی فضیلت ہمیں ملنے لگی ہے۔ سوائے اللہ اور سوائے جذبہ جہاد کے کوئی چیز ہمارے ذہن میں اس وقت نہیں ہوتی۔ ہمیں اپنے مشن کے سامنے یہ پروا ہرگز نہیں ہوتی کہ شاید ہم مرجائیں گے اور واپس نہ آئیں گے۔ اس جذبہ اور جوش و خروش کو میں ہرگز لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا، اس وقت سوائے نعرہ تکبیر کے کوئی آواز نہ کان میں پڑتی ہے نہ منہ سے نکلتی ہے اور نہ دل میں اترتی ہے ہمارے چہرے خوشی، اعتماد اور شوق شہادت سے دمک رہے ہوتے ہیں۔ “ یہ سب سن کر میرے آنسو نکل آئے۔
جب ایک بندہ اس حدتک رب کی رضا میں گم ہوجائے تو بھلا وہ رب تعالیٰ کی قربت اور پسندیدگی کے حلقہ میں کیوں نہ آئے گا۔ یہ ایک جیتی جاگتی تصویر پیش کی گئی ہے ایک ایسے مجاہد کی جس میں مذکورہ آیات میں بتائی گئی تمام صفات موجود ہیں جو ایک سپاہی میں ہونی چاہئیں۔ الحمدللہ کہ ہم بھی امت محمدی ﷺ کے افراد کہلانے کے قابل ہیں۔
Ayahs 8:48–49غزوہ بدر میں شیطان کی کفار کے لشکر کو ہمت افزائی اور شکست
تشریح : قرآن کا ایک خاص طریقہ ہے کہ ہر حکم کو حکمت اور دلیل کے ساتھ پیش کرتا ہے تاکہ سننے اور پڑھنے والے کو اللہ کے حکم کی فضیلت اور فائدہ اچھی طرح سمجھ آجائے۔ یہاں بھی شیطان کی چالوں کا ذکر کیا گیا ہے کہ اس سے ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہیے وہ کسی بھی صورت سے مسلمان کو راہ راست سے بھٹکانے کا سوچتا رہتا ہے۔ اس کو اللہ کی طرف سے یہ صلاحیت بھی دی گئی ہے کہ بعض اوقات وہ انسان کی شکل جانور کی شکل یا کسی بھی دوسری چیز یا مخلوق کی شکل اختیار کرسکتا ہے غرض یہ ہوتی ہے کہ مومن اور اچھے لوگوں کو ایمان اور نیکی سے بھٹکایا جاسکے ہاں بھی شیطان کا وہ کردار بیان کیا گیا ہے کہ جب ابو جہل اپنی فوج کو لے کر مسلمانوں کے خلاف لڑنے کے لیے نکلا۔ جب یہ فوج نکلنے کے لیے تیار ہو رہی تھی تو بہت سے لوگ کچھ اس سوچ بچار میں پریشان ہو رہے تھے کہ ایسا نہ ہو ہمارے جانے کے بعد ہمارا دشمن قبیلہ بنی بکر بن کنانہ ہمارے شہر پر حملہ کر دے تو ان کی ہمت بندھانے کے لیے شیطان نے اس قبیلہ کے سردار سراقہ بن مالک کا روپ (شکل) اختیار کرلیا اور ابوجہل کے پاس آکر کہنے لگا کہ بھئی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں بےفکر ہو کر مسلمانوں کے خلاف جنگ کے لیے چل پڑو میں اور میرا قبیلہ تمہارے ساتھ ہیں ہم بھی مقابلہ میں تمہارا ساتھ دیں گے۔ اور ساتھ ہی شیطانی ارادہ کے ساتھ چل بھی پڑا۔ لیکن جب موقع پر پہنچا تو اس نے رب العالمین کی فرشتوں کی فوج کو دیکھا تو بھاگ کھڑا ہوا کیونکہ اس کو امداد الٰہی نظر آگئی تھی اور یہ سمجھ بھی آگئی تھی کہ اب خیر نہیں۔ اللہ کی طاقت اور فرشتوں کا کون مقابلہ کرسکتا ہے، لہٰذا الٹے پاؤں واپس چل پڑا۔ کیونکہ وہ اللہ کی مدد کو سمجھ چکا تھا کہ یہاں کفار کی فتح ممکن نہیں۔ اس نے خیریت اسی میں سمجھی کہ یہاں سے بھاگ جانا ہی مصلحت ہے، سو یہ بھی اللہ رب العزت کا فیصلہ اور پروگرام ہی تھا کہ اس طرح بھی کفار کے ارادہ، یقین اور طاقت کو کمزور کیا جائے۔ ادھر مدینے میں بھی کچھ یہودی اور کچھ منافق موجود تھے جو مسلسل اس بات پر تنقید کر رہے تھے اور خوف و ہراس پیدا کر رہے تھے کہ دیکھو ! ان مسلمانوں کا دماغ خراب ہوگیا ہے نہ طاقت ہے، نہ تعداد، نہ اسلحہ اور چلے ہیں مکہ کے طاقتور، امیر اور بہادر لوگوں سے مقابلہ کرنے تو اس وقت اللہ جل شانہٗ نے اپنی مدد اور طاقت کا ذکر کیا کہ اللہ کی طاقت اور مدد اس قدر مضبوط اور ناقابل شکست ہے کہ اس کے سامنے دنیا کی کوئی طاقت ٹھہر نہیں سکتی جو لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں اللہ پر پورا پورا بھروسہ کرتے ہیں وہ کبھی ناکام و نامراد نہیں ہوتے ان کو ایسی ہی ناقابل یقین مدد اور فتح حاصل ہوتی ہے جیسی کہ غزوئہ بدر میں 313 مجاہدین کو ایک ہزار بہادر فوج پر فتح حاصل ہوئی۔ ڈاکٹر علامہ اقبال نے ان مجاہدین کا نقشہ یوں کھینچا ہے۔
یقین محکم عمل پہیم محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں یہ ہیں مردوں کی شمشیریں
شاعر نے ان تین خصوصیات کو بیان کیا ہے، جو انسان کو زندگی میں آنے والے ہر مسئلہ سے نمٹنے کی طاقت عطا کرتی ہیں تو یہاں یہی تین صلاحیتیں اس کے کام آتی ہیں اور وہ یہ ہیں۔ پہلا : خالق کائنات پر پختہ ایمان اور یقین دوسرا : مسلسل محنت اور کوشش، تیسرا : محبت، شفقت اور رحم و کرم کا ایسا میٹھا اور مناسب رویہ کہ جو دشمن کو بھی دوست بنا دے۔ اخلاق و کردار کی یہ تینوں نعمتیں جس کو مل جائیں اس کی کامیابی دنیا و آخرت میں بالکل یقینی ہوجاتی ہے۔ اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا کرے۔ آمین !
Ayahs 8:50–55موت کے وقت کفار کی حالت
تشریح : یہاں کفار کے اعمال باطل کے وجہ سے ان کے انجام کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ میدان جنگ، یعنی غزوہ بدر میں کفار کی تکلیف دہ موت کا ذکر اللہ رب العزت نے واضح الفاظ میں کیا ہے اور بتایا ہے کہ فرشتے کس قدر تکلیف کے ساتھ کفار کی جان نکال رہے تھے اور ساتھ ہی ان کو یہ بھی بتا رہے تھے کہ یہ تو صرف دنیا کی ذلت و خواری اور ہلاکت تم دیکھ رہے ہو۔ اس عذاب کا تمہیں علم ہی نہیں جو موت کے بعد شدید آگ کا عذاب تمہیں دیا جائے گا اور یہ سب کچھ تمہیں اپنے ہی کیے ہوئے کاموں کے بدلہ میں ملے گا۔ ویسے اس کا حکم عام بھی ہے کہ کفار کی موت کیسے واقع ہوتی ہے کیونکہ اللہ ارحم الراحمین ہے وہ کبھی بھی کسی کو بغیر وجہ عذاب نہیں دیتا۔ وہ تو ہر بندے پر رحمتیں نازل کرتا ہے چاہے وہ کافر، مشرک ہو یا مومن ہو۔ اسی لیے تو ہر زمانہ میں آسمانی کتابوں، رسولوں اور انبیاء کے ذریعہ انسانوں کی ہدایت کا بندوبست کیا گیا ہے۔ جو لوگ عقل سے کام لیتے ہیں سیدھی، صاف اور ایمان کی راہوں کو اختیار کرتے ہیں فلاح پاتے ہیں مگر جو ضد، کفر اور نافرمانی کو ہی اختیار کیے رہتے ہیں تو وہ پھر عذاب اور سزا ضرور پاتے ہیں دنیا میں بھی آخرت میں بھی جیسا کہ ان کفار مکہ کا حال ہوا۔ ان کا حال بھی ایسا ہی ہوا جیسا کہ فرعون اور ان سے پہلی قوموں کا ہوچکا ہے۔
سیدنا نوح (علیہ السلام) کی قوم پر پانی کا عذاب، عاد پر آندھی کا عذاب، ثمود کو زلزلہ کا عذاب اور فرعونیوں کو سمندر میں غرق کردیا گیا۔ یہ سب کچھ ان قوموں کی سرکشی، غرور، کفر، شرک اور نافرمانی کی وجہ سے ان پر مسلط کیا گیا اسی طرح مکہ کے کفار کو شکست کی ذلت اور ہلاکت کا منہ دیکھنا پڑا۔ ثابت ہوگیا کہ اللہ رحیم ہے کریم ہے اور سب کچھ دیکھنے اور نیتوں کو جاننے والا ہے۔ وہ ہر اس قوم کو موقع دیتا ہے جو اس دنیا میں وجود پاتی ہے کہ وہ نعمتوں اور برکتوں سے فائدہ اٹھا کر ترقی کرے مگر جن کی نیتیں خراب اور اعمال خراب ہوجاتے ہیں تو پھر انکو اس خباثت کا عذاب ضرور بھگتنا پڑتا ہے۔ شکرگزاری، نیک نیتی اور اعتقاد علی اللہ ہی قوموں کی ترقی، سرفرازی اور کامیابی کا ذریعہ ہیں اور بدترین قومیں وہ ہیں جو ان تمام صفات سے دور ہوں۔ ایسے لوگ اتنے زیادہ بھٹک جاتے ہیں کہ پھر ایمان کی روشنی کبھی بھی ان کو نہیں ملتی۔ ایمان کی سلامتی اور اللہ کے فضل و کرم کی دعا ہر وقت کرتے رہنا اور اس راستے میں ثابت قدم رہنا چاہیے۔
Ayahs 8:56–58عہد توڑنے والوں کی سزا، اسلامی سیاست کا آغاز
تشریح : ان آیات میں بنو قریظہ اور بنو نضیر کی بدعہدی اور ان کے ساتھ سلوک کا ذکر کیا گیا ہے پھر اسلامی سیاست کی بنیاد کا ذکر کیا گیا ہے۔ بنو قریظہ یہودی قبیلہ تھا جو مصیبت کے وقت رسول اللہ ﷺ سے دوستی کا وعدہ کرلیتے مگر حقیقت میں کفار مکہ کے ساتھ ملے رہتے، پھر عہد کرتے، پھر توڑ ڈالتے یہ لوگ ہرگز اعتبار کرنے کے قابل نہ تھے۔ یہود کا سردار کعب بن اشرف تھا جیسا کہ کفار مکہ کا سردار ابوجہل تھا۔ تو ایسے بدعہد لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ایسے لوگ غداری کے ثابت ہوجانے پر بڑی سخت سزا کے مستحق ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کو کبھی معاف نہیں کرنا چاہیے بلکہ ایسی سخت ترین سزادینی چاہیے کہ جو دوسروں کے لیے عبرت کا باعث بنے اور اگر یہ شبہ ہوجائے کہ وہ خیانت کرنے والے ہیں تو ان کو پہلے سے ہی خوب اچھی طرح سمجھا دو کہ تمہاری خیانت تمہارے لیے وبال جان ثابت ہوگی، یعنی خیانت پر شدید ترین سزا ملے گی۔ اس طرح وہ خیانت کرنے سے باز آجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا، اس لیے ہر مومن کو اس بدترین عادت سے اپنے آپکو بچا کر رکھنا چاہیے۔ مدینہ منورہ کیونکہ اسلامی ریاست بن چکا تھا، اس لیے اب سیاسی معاملات کی طرف توجہ دینا ضروری تھا۔ جس میں سب سے پہلا کام رسول اللہ ﷺ نے یہ کیا کہ مہاجرین (مکہ سے آئے ہوئے لوگ) اور انصار (مددگار مدینہ کے رہنے والے مقامی لوگ) کا آپس میں رشتہ مضبوط اور مخلص بنانے کے لیے ان کو آپس میں بھائی بھائی بنا دیا۔ اللہ نے مدد کی اور یوں انصار کے آپس کے پرانے جھگڑے بھی ختم ہوگئے اور ان کا آپس میں اور مہاجرین کے ساتھ بھائی چارے کا رشتہ مضبوط ہوگیا۔ یوں مسلمانوں کو باہمی محبت، خیرسگالی اور امن و سکون سے مل جل کر رہنے کا ایک بہت بڑا سبق اور اصول دیا گیا۔
-2 دوسرا کام نبی کریم ﷺ نے سیاسی نظریہ سے یہ کیا کہ اطراف مدینہ کے یہود کے ساتھ ایک معاہدہ کرلیا۔ یہ معاہدہ باقاعدہ لکھ کر کیا گیا اور اس پر پابندی تمام انصار و مہاجرین اور اطراف مدینہ کے تمام یہودی قبائل پر عائد تھی۔ اور وہ معاہدہ ابن کثیر میں اس طرح موجود ہے۔ پہلا حصہ یوں بتایا گیا ہے کہ ” باہمی اختلاف کے وقت رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ سب تسلیم کریں گے، دوسرا حصہ یہ کہ ” یہود مدینہ کسی بھی دشمن کا ساتھ ہرگز نہ دیں گے نہ ظاہری طور پر اور نہ ہی پوشیدہ طور پر۔ “ مگر یہود نے عہد شکنی کرتے ہوئے جنگ بدر میں مشرکین کی اسلحہ سے مدد کی۔ جب مسلمانوں کو فتح ہوگئی تو پھر یہود معافی مانگنے رسول ﷺ کے پاس آگئے۔ ریاست کے انتظام میں نبی اکرم ﷺ کی سیاسی لحاظ سے سوجھ بوجھ کی داد دینا پڑتی ہے کیونکہ انہوں نے اندرونی انتظام مہاجرین و انصار کی مواخات، یعنی بھائی بھائی بنانے میں کردیا لوگوں کے دلوں میں محبت اور سکون پیدا ہوگیا۔ تاریخ عالم میں یہ پہلی برادری تھی جس کی بنیاد بجائے خون کے مذہب پر تھی اور یہ بہترین اور انوکھی مگر کامیاب روایت نبی اکرم ﷺ نے قائم کی تھی اس طرح اندرونی مضبوطی مسلمانوں میں جڑ پکڑ گئی۔ اور بیرونی مضبوطی میثاق مدینہ سے پیدا ہوگئی۔ اس کی اہم شرائط چھ تھیں۔ جس میں آخری شرط کہ ” کسی قسم کا جھگڑا ہوا تو فیصلہ رسول اللہ ﷺ کریں گے۔ اس سے مسلمانوں کو سیاسی طور پر بڑی مضبوطی اور حاکمیت حاصل ہوگئی جس کے بہترین اثرات بعد تک ظاہر ہوتے رہے۔ یہودی قبائل بنو قینقاع بنو نضیر اور بنو قریظہ کا وہ اقتدار نہ رہا تھا جو رسول اللہ ﷺ کی ہجرت سے پہلے تھا۔ آپ سیاسی اعتبار سے واقعی اللہ کے نائب ثابت ہوئے۔ ان آیات میں آپ ﷺ کو حکم دیا گیا ہے بلکہ تمام مسلمانوں کے لیے قانون بنا دیا گیا ہے کہ منافق اور وعدہ خلافی کرنے والے، یعنی بدعہد کو بڑی سخت سزا دینی چاہیے عہد کو منسوخ کرنا پڑے تو منسوخ کر دو اور خوب اچھی طرح ان سے نمٹو بالکل لحاظ مت کرو۔ یاد رکھو کہ دغاباز، بدعہد اور منافق بندوں سے اللہ نہ تو خوش ہوتا ہے اور نہ ہی اللہ ایسے لوگوں کی حمایت کرتا ہے اس لیے ایسے لوگوں کو خوب اچھی طرح سزا دو جب وہ وعدہ خلافی کریں تو عہد کے منسوخ کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دو تاکہ تمہاری طرف سے بدعہدی کا خیال پیدا نہ ہو۔
Ayahs 8:59–64جہاد کی تیاری کا حکم اور اللہ کی قدرت کا کرشمہ
تشریح : پہلی آیت میں تو کفار کو یہ بتایا گیا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی مصیبت اور پریشانی سے نجات پا جائے اور اپنے گناہ سے بجائے توبہ کرنے کے اس پر اور بھی ڈٹا رہے تو اس کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ تو صرف اس کو ڈھیل دی گئی ہے یہ اس کی کامیابی نہیں کیونکہ جب اللہ چاہے اس کو اپنی گرفت میں لے سکتا ہے۔ اس کو اس بات کا علم ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے خلاف کوئی چال چلنا ہرگز ممکن نہیں۔ جیسا کہ پہلے بھی جنگ کے کچھ اصول مسلمانوں کو بتائے گئے ہیں اسی طرح امن کے زمانے میں بھی دشمنوں سے غافل ہونے سے منع کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ امن کے زمانے میں ملک کی سرحدوں اور دشمن کی چالوں سے ہر وقت ہوشیار رہنا چاہیے۔ مذہب اسلام دنیا میں امن و سکون اور انسان کی آزادی کے لیے آیا ہے۔ جنگ و جدل اور قتل و غارت گری مسلمان کا نہ شیوہ ہے نہ مقصد۔ لڑائی کی اجازت صرف اس وقت دی گئی ہے جب انسان انسان پر ظلم کرے۔ بےحیائی، کفر اور شرک، اخلاقی برائیاں اور کردار کی گراوٹ پیدا ہوجائے تو اس کے خلاف مسلمانوں کو ہر وقت زمانہ کے مطابق اپنی طاقت، اسلحہ اور اتحاد و اتفاق کو بالکل معیار کے مطابق رکھنا چاہیے، یعنی علوم و فنون میں کسی طرح بھی کسی سے پیچھے نہ رہنا چاہیے یہ اس لیے کہ اپنے دشمن، اللہ کے دشمن اور پوشیدہ دشمن سب پر تمہارا رعب داب ہو تمہاری طرف بڑھنے سے پہلے سوچ لے کہ تم نہ تو اس سے کم تر ہو اور نہ ہی کمزور اور پھر یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ اتنی تیاری کرو جتنی تم کرسکو۔ مطلب یہ ہے کہ سب کچھ چھوڑ کر صرف سامان حرب پر ہی خرچ نہ کرنے لگو۔ دوسرا اگر کوئی صلح کی طرف راغب ہو تو تم بھی صلح کی طرف ضرور قدم بڑھائو۔ ساتھ ہی یہ بھی یقین رکھو کہ تم جو بھی کر رہے ہو صرف اللہ کے لیے کر رہے ہو۔ اللہ پر پورا بھروسہ رکھو۔ اگر وہ دھوکہ دہی کے لیے صلح کر رہے ہیں تو پھر بھی تم بالکل پریشان نہ ہو کیونکہ تم نے جس پر بھروسہ کر رکھا ہے وہ اللہ بزرگ و برتر سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ وہ تمہارے ان دشمنوں کو بھی جانتا ہے جو بظاہر تمہیں دکھائی نہیں دیتے۔ اگر تمہارے دشمن تم سے دھوکہ کرنا چاہیں تو تم یاد رکھو تمہارا مددگار رب العالمین ہے۔ اس نے ہمیشہ تمہاری مدد کی ہے۔ مثال کے طور پر اہل مدینہ کا آپ کے ساتھ محبت کرنا اور پھر آپس میں مسلمانوں کا اتحاد یہ دونوں باتیں کسی بھی انسان کے اختیار میں نہ تھیں۔ چاہے اس کوشش میں آپ ﷺ دنیا کا تمام خزانہ خرچ کردیتے، یعنی اہل عرب جیسے اجڈ، بھٹکے ہوئے، ضدی، خون خوار اور مشرک بت پرست قوم کو یوں بدل کر بہترین قوم کی شکل میں ڈھال دینا یہ ہرگز ممکن نہ تھا یہ تو اللہ رب العزت کی خاص رحمت آپ ﷺ پر تھی کہ اس نے اس مشن میں آپ ﷺ کی بھرپور مدد کی۔ یہ صرف اس زبردست اور حکیم وخبیر اللہ واحد کا ہی کام ہے کہ اس نے یہ سب بہتریاں کردیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” اے نبی ﷺ ! تم بےدھڑک ہو کر پورے توکل، نیک نیتی، محنت اور خلوص سے اپنے کام میں لگے رہو۔ بالکل سوچ و بچار میں نہ پڑو کیونکہ تمہارا مددگار ” اللہ “ ہے۔ جو سب سے بڑا، طاقتور اور بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔
Ayahs 8:65–66میدان جنگ میں مجاہدین کا رعب
تشریح : ان آیات میں صبر و استقامت کی طاقت اور ضرورت کا بیان ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے نبی ﷺ ! مسلمانوں کو حق اور سلامتی کے حصول کے لیے لڑنے کی ترغیب دیں اور ان کو بتا دو کہ مرنا تو ہر ایک نے ہی ہے لیکن جو اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے اور ایک بہترین مقصد کے حصول کے لیے میدان جنگ کا رخ کرتا ہے تو ایسے شخص کی مدد اللہ ہر صورت کرتا ہے۔ اور پھر اگر وہ مرگیا تو شہید کا رتبہ ملے گا اگر بچ گیا تو غازی کا مرتبہ ملے گا۔ کیونکہ مسلمان کا مقصد نیک اور بلند ہوتا ہے پھر اللہ رب العزت پر پورا بھروسہ رکھتا ہے صبر و استقامت اس کا ہتھیار ہوتے ہیں اس لیے ایک کی طاقت دس جوانوں کے برابر ہوتی ہے۔ ، یعنی ایک مجاہد دس کے برابر ہوتا ہے۔ اس کی وجہ مسلمان کے مقصد کی سچائی اور کافر کے مقصد کی کمزوری ہے۔ جنگ بدر میں تو اس کا مظاہرہ ہوا مگر پھر مسلمانوں کو بتایا گیا کہ اب تم لوگوں میں تھوڑی کمزوری آگئی ہے اس لیے اگر مقابل تم سے دگنا ہو تو گھبرائو مت پھر بھی تمہاری طاقت ان سے زیادہ ہوگی کیونکہ تم حق کے لیے صبر و استقامت سے لڑتے ہو جبکہ وہ دنیاوی فائدہ اور باطل کے لیے لڑتے ہیں۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ صبر و استقامت رکھنے والوں کا ساتھ دیتا ہے۔ جنگ بدر کے علاوہ تاریخ میں بیشمار ایسی مثالیں ملتی ہیں جو اس خوشخبری کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ مثلاً : 2 ہجری میں غزوئہ بدر، 3 ہجری میں، غزوئہ احد، 5 ہجری میں غزوئہ خندق، غزوئہ خیبر، 8 ہجری میں فتح مکہ اور غزوئہ حنین، 9 ہجری میں غزوہ تبوک اس کے بعد بیشمار جنگیں مسلمانوں کی صبر و استقامت، بہادری اور اللہ کی خاص مدد کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔ مسلمانوں کی کامیابیوں کا معیار ان کے جذبہ کی سچائی پر ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ عصر حاضر کے مسلمانوں کو ایسا ہی جذبہ عطا کر دے۔
عزائم کو سینوں میں بیدار کر دے
نگاہ مسلمان کو تلوار کر دے
(ڈاکٹر علامہ اقبال)
Ayahs 8:67–71قیدیوں کے متعلق سیاسی مصلحت، مغفرت کا وعدہ
تشریح : ان آیات کی وضاحت میں دو رائے پائی جاتی ہیں پہلی رائے یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے قیدیوں کے بارے میں رسول کریم ﷺ نے جب صحابہ کرام سے مشورہ لیا تو ابوبکر صدیق و دیگر صحابہ کی رائے تھی کہ قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے اور سیدنا عمر ؓ کی رائے تھی کہ ان قیدیوں کو قتل کردیا جائے۔ رسول اکرم ﷺ نے سیدنا ابوبکر ؓ کی رائے کے مطابق قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا۔ سیدنا عمر فاروق ؓ کہتے ہیں دوسرے دن صبح میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ اور ابوبکر ؓ دونوں رو رہے ہیں۔ رونے کی وجہ پوچھنے پر آپ ﷺ نے فرمایا میں اس وجہ سے رو رہا ہوں جو تمہارے ساتھیوں نے قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑنے کے سلسلے میں مجھ سے کہی تھی میرے سامنے ان کا عذاب پیش کیا گیا جو اس درخت سے بھی زیادہ قریب تھا چناچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ (صحیح مسلم کتاب الجہاد )
مگر میری رائے مولانا مودودی صاحب کی رائے سے ملتی جلتی ہے۔ مطلب زیادہ واضح یہی ہو رہا ہے۔ کیونکہ غزوئہ بدر کفر و اسلام کی خوب واضح طور پر آمنے سامنے پہلی جنگ تھی۔ اس لیے مال غنیمت کے بارے میں کچھ شبہات موجود تھے۔ اس سے پہلے جتنے بھی انبیاء گزرے ہیں ان کی شریعت کی رو سے مال غنیمت فاتح قوم کے لیے حلال نہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ پہلے نبی ہیں کہ جن کو مال غنیمت حلال قرار دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ مال غنیمت اصل میں چار قسم کا ہوتا ہے۔
-1 مرد قیدی، -2 عورتیں اور بچے، -3 زمین اور -4 مال و دولت۔
مال و دولت کے بارے میں اس سورت کے شروع میں وضاحت ہوچکی ہے۔ مرد قیدیوں کے بارے میں یہاں آیت 67 میں بیان کیا جا رہا ہے۔ غزوئہ بدر میں ستر قیدی مسلمانوں نے پکڑے، پھر ان کے فیصلے کے بارے میں صلاح مشورہ ہونے لگا۔ کافی بحث و مباحثہ کے بعد یہ طے پایا کہ فدیہ لیکر ان کو چھوڑ دیا جائے۔ اس فیصلہ پر اللہ رب العزت نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ تم دنیاوی مال و دولت کو پسند کرتے ہو جبکہ تمہارا مقصد اور زندگی کا نصب العین آخرت میں بھلائی حاصل کرنا ہونا چاہیے۔ ہوا اس طرح کہ مجاہدین بدر نے فتح حاصل کرنے کے بعد مال غنیمت اکٹھا کرنا اور قیدیوں کو باندھنا شروع کردیا جبکہ رضائے الٰہی یہ تھی کہ اس وقت بھاگتے ہوئے دشمن کو اتنی بری طرح ختم کیا جاتا اور ان کا اس وقت تک پیچھا کیا جاتا جب تک کہ ان کا نام و نشان ہی مٹ جاتا۔ وقت اور حالات کا تقاضا یہ تھا کہ کفار کے ان بڑے بڑے سرداروں کا پیچھا کرکے وہیں ان کو ختم کردیا جاتا تو یوں کفر پر بڑی کاری ضرب پڑتی اور پھر ان کو سر اٹھانے کی ہرگز مہلت ہی نہ ملتی سردار باقی ہی نہ رہتے۔ مگر غلطی یہ ہوگئی کہ ان کو قیدی بنا لیا گیا شاید یہی سوچ کر کہ فدیہ حاصل ہوجائے گا۔
قیدیوں کو قتل کرنا تو اسلام کی روح کے خلاف ہے یہ امن و سکون اور رحم و کرم کا سبق دینے والا پیارا مذہب ہے۔ میدان جنگ میں کفار قتل ہوجاتے یا بھاگتے ہوئے مارے جاتے تو بات دوسری تھی۔ کیونکہ فدیہ لینے کا حکم پہلے آچکا تھا اس لیے اللہ فرماتا ہے کہ ان کی فدیہ لیکر قیدی چھوڑ دینے کی غلطی معاف کی جا رہی ہے ورنہ یہ فیصلہ باعث عذاب بھی بن سکتا تھا۔ بہرحال اللہ غالب ہے حکمت والا ہے اور گناہوں کو معاف کرنے والا ہے۔ اب ہوچکا سو چکا جو مال غنیمت تمہیں ملا ہے اسے کھائو کیونکہ یہ تمہارے لیے حلال ہے مگر اللہ سے ڈرتے رہو اور آئندہ دنیاوی فائدہ کو کبھی ترجیح نہ دینا کیونکہ یہ بات مسلمان کی شان اور اس کے فائدے کے بالکل خلاف ہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرکے اللہ جل شانہ ‘ فرماتے ہیں کہ اے نبی ﷺ ! ان قیدی کفار کو اچھی طرح بتا دو کہ اگر تم نیکی اختیار کرلو، یعنی تمہارا دل اسلام کی طرف راغب ہوجائے اور تم مومن بن جاؤ تو اللہ رب العزت تمہیں اس مال سے، یعنی فدیہ کی رقم سے کہیں زیادہ مال و دولت عطا کرے گا اور تمہارے جو گناہ ہوچکے ان کو بھی معاف کر دے گا کیونکہ وہ بڑا ہی غفور رحیم ہے۔ معاف کردینا اور فضل و کرم کرنا اللہ کو بےحد پسند ہے۔ پھر فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! اگر یہ لوگ اوپر سے اسلام قبول کرلیں جان چھڑانے کے لیے اور حقیقت میں کفر و شرک کو ہی اپنائے رکھیں تو اس دھوکہ بازی کی تمہیں بالکل فکر نہیں کرنا چاہیے کیونکہ عہد کو توڑنا اور دھوکہ دینا ان کی پرانی عادت ہے۔ کیونکہ یہ مجھ سے توحید کا وعدہ کرچکے تھے مگر انہوں نے کفر کو اپنا لیا۔ یہ وعدہ وہ ہے جو عالم ارواح میں اللہ نے سب سے لیا تھا۔ ” عہد ربوبیت “ اگر اب پھر یہ تم سے وعدہ کرکے پھرجائیں تو کوئی پریشانی کی بات نہیں اللہ بڑا زبردست دانا اور حکمت والا ہے۔ جیسے پہلے وعدہ خلافی کی سزا کے طور پر یہ تمہارے قیدی بنا دیئے گئے ہیں۔ اسی طرح پھر وعدہ خلافی کرنے پر ان کو سزا مل جائیگی۔ جو بھی وعدہ خلافی کرتا ہے سزا ضرور پاتا ہے۔ چاہے اس دنیا میں چاہے اگلی دنیا میں مگر یہ اخلاقی گناہ ہرگز معاف نہیں ہوسکتا۔
Ayahs 8:72–75مہاجرین وانصار کے فضائل
تشریح : یوں تو پورا قرآن پاک ہی ہدایات کا مجموعہ ہے یہ آیات اس لیے بےحد اہم اور غور کے قابل ہیں کیونکہ ان میں مسلمانوں کو ایک اہم دفعہ دستوری قانون کی بتائی جا رہی ہے۔ سب سے پہلے تو انصار، یعنی مدینہ کے مقامی لوگ اور مہاجر، یعنی مکہ سے آنے والے یا کہیں سے بھی آنے والے مسلمان ان لوگوں کو بھائی بھائی بنانے کا حکم دیا گیا ان کی تعریف کی گئی اور ان کے ایمان کی گواہی دی گئی۔ کیونکہ جو لوگ اسلام کی خاطر اپنے عزیز و اقارب، مال و دولت اور گھربار چھوڑ کر وطن سے نکل آئے وہ بھی تعریف کے قابل ہیں اللہ کے ہاں مقبول ہیں اور وہ بھی قابل تعریف ہیں جنہوں نے خوش دلی سے ان کو اپنے پاس جگہ دی نہ صرف جگہ ہی دی بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق اپنے بھائی کی طرح پوری پوری مدد دی اور اب ان کو وراثت میں بھی حصہ دار نہیں بنایا گیا لیکن وہ مسلمان جو کفر کے ملک کے رہنے والے ہوں ان کے اور اسلامی حکومت کے رہنے والے مسلمانوں کے درمیان صرف دینی اور اسلامی رشتہ ہوگا۔ ان کی حفاظت اور مدد کی ذمہ داری اسلامی حکومت کی اس طرح نہیں ہوگی جس طرح اسلامی حکومت کی رعایا کی ہوتی ہے۔ ہاں ! البتہ اگر ان کی شخصی آزادی یا اسلام کی توہین پر ان کو مجبور کیا جائے اور اس کافر حکومت کے ساتھ اسلامی مملکت کا کوئی معاہدہ نہ ہوچکا ہو تو پھر مسلمانوں کا فرض ہے کہ اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کریں۔ لیکن اگر کافر حکومت سے لڑائی نہ کرنے کا معاہدہ ہوچکا ہو تو پھر اس معاہدہ کا احترام ضروری ہے۔ لیکن تمام اہل اسلام پر فرض ہے کہ وہ اپنے ان مسلمان بھائیوں کی مدد ضرور کریں جو بےبس، مظلوم اور قیدی ہونے کی شکل میں کافر ملک میں زندگی گزار رہے ہوں۔ ان کی طرف سے بےغرض ہو کر آنکھیں بند کرلینا ہرگز جائز نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسانی معاشرہ کو صرف دو صورتوں میں تقسیم کیا ہے، یعنی مومن اور کافر۔ ورنہ مومن صرف مومن ہے چاہے وہ کسی ملک کسی معاشرے یا کسی نسل سے تعلق رکھتا ہو اگر اسلام میں شامل ہوگیا تو وہ مومن بھائی بن گیا اور کافر ہر صورت میں کافر ہے چاہے وہ اسلامی ملک کا رہنے والا ہو۔ مسلم حکومت کی طرف سے ایسے شخص کو پوری آزادی ہوگی مذہبی اور شخصی آزادی کا تحفظ اس کو ضرور ملے گا۔ مگر وہ مسلمان نہیں ہوسکتا کیونکہ اس کا الگ عقیدہ ہے۔ یہاں دو قومی نظریے بتائے گئے ہیں۔ یہ سب بیان کرنے کے بعد اللہ رب العزت ان تمام احکامات کی افادیت بتاتے ہوئے فرماتے ہیں۔ کہ یہ تمام احکامات جو تمہیں بتائے گئے ہیں یہ اس قدر ضروری ہیں کہ اگر تم مسلمان ان پر پوری طرح عمل نہ کرو گے تو تم ایک باعزت، پروقار اور پرامن زندگی نہ گزار سکو گے بلکہ اپنی دنیا اور اپنی آخرت دونوں خراب کرلو گے۔ اور ملک میں سوائے بدامنی قتل و غارت گری اور شر و فساد کے کچھ بھی باقی نہ رہ جائے گا۔ یہ ایک بہت بڑی داخلی اور خارجی شق بیان کی گئی ہے۔ پھر ان صحابہ کرام کی تعریف میں اللہ جل شانہ ‘ نے ان کو ” مُؤْمِنُوْنَ حَقًّا “ (سچے مومن) کہا ہے۔ یہ بہت بڑا اعزاز اللہ کی طرف سے ان کو دیا گیا ہے۔ اور ان کو دنیا و آخرت میں فتح و کامیابی کی خوشخبری دی گئی ہے۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے اپنا تن، من، دھن اللہ کی محبت اور رسول ﷺ کی فرمانبرداری میں لگا دیا۔ اسی کا انعام ان کو مغفرت اور بہترین رزق، آرام، آسائش کی صورت میں دیا جائے گا۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے ان سے جو کہ بہترین فتوحات کی صورت میں دنیا میں دیا گیا اور آخرت میں تو ان کے لیے انعامات ہی انعامات کی خوشخبری دی گئی ہے۔ اور پھر فرمایا کہ جو لوگ صلح حدیبیہ کے بعد ہجرت کرکے آئے اور اپنا گھر بار جان و مال اور آل اولاد کو اللہ و رسول پر قربان کردیا ان کا درجہ بھی کچھ کم نہ ہوگا۔ ان کو بھی تمام انعامات باقاعدہ دیئے جائیں گے اور ان کو بھی پہلے ہجرت کرکے آنے والوں کے بالکل برابر حقوق دیے جائیں گے لیکن یہاں ایک اور حکم دیا گیا ہے کہ پہلے تو مہاجر و انصار کو وراثت میں بھی شامل کیا گیا تھا مگر اب جیسے جیسے مسلمانوں کے عزیز رشتہ دار مدینہ میں مسلمان ہونے کی حیثیت سے جمع ہوتے گئے تو ان کو وراثت میں باقاعدہ حصہ دار بنا دیا گیا۔ اور یوں وراثت کو قریبی رشتہ داروں کے لیے خاص کردیا گیا۔ ان آیات میں خارجی (ملک سے باہر) اور داخلی (اندرون ملک) معاملات پر بحث کی گئی ہے اور مسلمانوں کو دستوری قانون دیا گیا ہے۔ اور عائلی مسائل کی وضاحت کی گئی ہے۔ یہی وہ قوانین ہیں جو مسلمانوں کو کفار پر برتری دلاتے ہیں۔ بیشک اسلام کے قوانین تمام مذاہب سے برتر، بہترین اور مفید ہیں۔ کیونکہ اسلام انسانی فطرت کے مطابق ہر حکم دیتا ہے۔ اللہ کے فضل و کرم اور مدد سے سورة الانفال مکمل ہوئی خلاصہ سورة انفال
سورة انفال کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلام انسانیت کے بہترین اصول اور آپس میں مل جل کر رہنے کے بہترین طریقے سکھاتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ انتہائی شریف اور صاحب اخلاق انسان تھے۔ ان کا برتائو ہی اسلام کے اصول اور قوانین کا ثبوت ہے۔ مثلاً دھوکہ، فریب، ظلم، ناانصافی، غودغرضی، نفرت، غرور اور بےغیرتی یہی وہ تمام صفات ہیں جو حیوانات میں پائی جاتی ہیں۔ انسان کامل فطرتاً ان تمام باتوں سے دور رہتا ہے اور یہی سب باتیں اس سورت میں بیان کی گئی ہیں۔ ایک اسلامی ریاست کو چلانے کے لیے اور امن وامان برقرار رکھنے کے لیے بہترین قانون بتائے گئے ہیں اور دوسرے ممالک سے میل جول رکھنے کے طریقے، یعنی سیاسی معاملات بھی بتائے گئے ہیں پھر جنگی قوانین کو بھی واضح کیا گیا ہے اور مال غنیمت اور وراثت کے قوانین کی حدود بھی متعین کی گئی ہیں۔ غرض زندگی کے ہر پہلو کو واضح قوانین سے مزین کردیا گیا ہے اور پھر ان پر عمل کرنے کے فائدے اور انعامات بھی بتا دیے گئے ہیں۔ اسی تنظیم کے مطابق مدینہ کی سوسائٹی قائم ہوئی جب مکہ فتح ہوگیا تو پھر مسلمانوں کو مضبوط مرکز بنانے کی ضرورت پیش آئی، اگلی سورت انہی ضروریات کی وضاحت کرتی ہے۔ جو کچھ اصول و قوانین بیان ہوچکے ہوں یا جو بیان کیے جائیں گے یہ سب تمام مسلمان حاکموں، رعایا اور ملکوں کے لیے پکے اصول اور قوانین ہیں۔ سب اس کے ہمیشہ کے لیے پابند ہیں۔ اللہ پوری دنیا کے مسلمانوں کو ان پر پابند رہنے کی توفیق عطا کرے۔ آمین۔