10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 10:41–44

وَ اِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّیْ عَمَلِیْ وَ لَكُمْ عَمَلُكُمْ١ۚ اَنْتُمْ بَرِیْٓئُوْنَ مِمَّاۤ اَعْمَلُ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:41 in the Quran reader

اور اگر یہ تمہاری تکذیب کریں تو کہہ دو کہ میرے لیے میرا عمل اور تمہارے لیے تمہارا عمل، تم اس سے بری الذمہ ہو جو میں کرتا ہوں اور میں اس سے جو تم کرتے ہو۔

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:42 in the Quran reader

اور ان میں بعض ایسے ہیں کہ تمہاری طرف کان لگاتے ہیں تو کیا تم بہروں کو سنائو گے اگرچہ کچھ بھی سنتے نہ ہوں ؟

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْظُرُ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 10:43 in the Quran reader

اور بعض تمہاری طرف دیکھتے ہیں تو کیا تم اندھوں کو راستہ دکھائو گے اگرچہ کچھ بھی دیکھتے بھالتے نہ ہوں ؟

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا وَّ لٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 10:44 in the Quran reader

اللہ تو لوگوں پر کچھ ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ ہی اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔

ہر کوئی اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے تشریح : ان آیات میں رب اعلیٰ اپنے پیارے نبی ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے تسلی دیتے ہیں کہ آپ تو بیشک بہت محنت کر رہے ہیں تو ان کی ہٹ دھرمی اور نافرمانی سے آپ بالکل پریشان نہ ہوں آپ ان کو بتا دیں کہ وہ جو کریں گے اس کا اجر پالیں گے کیونکہ اللہ سے کوئی بات اور کسی کا بھی کوئی عمل چھپا ہوا نہیں وہ بڑے انصاف سے سب کو اجر میں سزا اور جزا ضرور دے گا اور وہ ظلم نہیں کرتا جس کو سزا ملے گی اس کو صرف اپنے کیے گئے اعمال کی ہی سزا ملے گی۔ حدیث میں آتا ہے حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ” لوگ قیامت کے دن صرف اپنی نیتوں پر اٹھائے جائیں گے۔ “ (الترغیب للمنذری بحوالہ ابن ماجہ)
Ayahs 10:45–54

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ كَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ یَتَعَارَفُوْنَ بَیْنَهُمْ١ؕ قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ Open ayah 10:45 in the Quran reader

اور جس دن اللہ ان کو جمع کرے گا تو وہ دنیا کی نسبت یوں سوچیں گے کہ گویا وہاں گھڑی بھر دن ہی رہے ہوں اور آپس میں ایک دوسرے کو پہچان بھی لیں گے۔ جن لوگوں نے اللہ کے سامنے پیش ہونے کو جھٹلایا بیشک وہ خسارے میں پڑے اور وہ راہ پر نہ آئے

وَ اِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ اللّٰهُ شَهِیْدٌ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:46 in the Quran reader

اور اگر ہم کوئی عذاب جس کا ان لوگوں سے وعدہ کرتے ہیں آپ کی آنکھوں کے سامنے نازل کریں یا اس وقت جب آپ کی زندگی کی مدت پوری کردیں۔ تو ان کو ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے۔ پھر جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ رَسُوْلُهُمْ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:47 in the Quran reader

اور ہر ایک امت کی طرف پیغمبر بھیجا گیا جب ان کا پیغمبر آتا ہے تو ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جاتا ہے اور ان پر کچھ ظلم نہیں کیا جاتا۔

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:48 in the Quran reader

اور یہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو جس عذاب کا یہ وعدہ ہے کب آئے گا

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ؕ اِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَلَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 10:49 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں اپنے نقصان اور فائدے کا بھی کچھ اختیار نہیں رکھتا مگر جو اللہ چاہے ہر ایک امت کے لیے موت کا ایک وقت مقرر ہے، جب وہ وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی بھی دیر نہیں کرسکتے اور نہ جلدی کرسکتے ہیں۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُهٗ بَیَاتًا اَوْ نَهَارًا مَّا ذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:50 in the Quran reader

کہہ دو کہ بھلا دیکھو تو اگر اس کا عذاب تم پر اچانک آجائے رات کو یا دن کو تو پھر گنہگار کس بات کی جلدی کریں گے۔

اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ١ؕ آٰلْئٰنَ وَ قَدْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 10:51 in the Quran reader

کیا جب وہ آ واقع ہوگا تب اس پر ایمان لائو گے ؟ اس وقت کہا جائے گا کہ اب ایمان لائے ؟ اسی لیے تو تم جلدی مچایا کرتے تھے۔

ثُمَّ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ١ۚ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:52 in the Quran reader

پھر ان ظالم لوگوں کو کہا جائے گا کہ ہمیشہ کے عذاب کا مزہ چکھو اب تم انہی اعمال کا بدلہ پائو گے جو دنیا میں کرتے رہے۔

وَ یَسْتَنْۢبِئُوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ١ؔؕ قُلْ اِیْ وَ رَبِّیْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ١ؔؕۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ۠ Open ayah 10:53 in the Quran reader

اور آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ سچ ہے ؟ کہہ دو ہاں ! اللہ کی قسم سچ ہے تو تم بھاگ کر اللہ کو عاجز نہیں کرسکو گے۔

وَ لَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِی الْاَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهٖ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:54 in the Quran reader

اور اگر ہر ایک نافرمان شخص کے پاس زمین کی تمام چیزیں ہوں تو عذاب سے بچنے کے لیے سب دے ڈالے اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو پچھتائیں گے اور ندامت کو چھپائیں گے اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا۔ اور ان پر کسی طرح کا ظلم نہیں ہوگا۔

قیامت ضرور آئے گی اور سزا بھی ملے گی تشریح : یہ تمام آیات کفار مکہ اور عام کفار کے لیے بیان کی گئی ہیں۔ یہ لوگ قیامت کے دن پر اور سزا ور جزا پر بالکل یقین نہیں کرتے تھے بلکہ اکثر و بیشتر نبی اکرم ﷺ سے یہی پوچھتے رہتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو عذاب کب آئے گا، یعنی ہنسی مذاق کرتے تو اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا کہ ان کو عذاب کے بارے میں پھر اچھی طرح بتا دو ۔ بڑا سخت دن ہوگا۔ حشر کے میدان میں تم اس طرح اکٹھے ہو گے کہ ایک دوسرے کو پہچان بھی نہ سکو گے مگر وہ دن اتنا ہولناک اور سخت دن ہوگا کہ تم سوچ بھی نہیں سکتے۔ تم نے آخر اس دن کے لیے کیا بندوبست کر رکھا ہے ؟ یہ اللہ کا کام ہے اور وہی تم سے پورا پورا حساب کتاب بغیر کسی غلطی کے لے کر تمہیں پوری سزا ضرور دے گا۔ اس لیے ابھی توبہ کرلو۔ مرتے وقت یا میدان حشر میں نہ توبہ قبول ہوگی نہ سفارش نہ مال و دولت۔ صرف دنیا میں کیے گئے اعمال کے مطابق اجر ملے گا۔ اس میں کوئی شک اور شبہ نہیں ہے اور قیامت کا وقت اور حساب کتاب کا وقت اللہ جانتا ہے۔
Ayahs 10:55–66

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:55 in the Quran reader

سن رکھو ! جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے اور یہ بھی سن رکھو کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 10:56 in the Quran reader

وہی زندگی بخشتا اور وہی موت دیتا ہے اور تم لوگ اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے۔

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ١ۙ۬ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:57 in the Quran reader

لوگو ! تمہارے پاس رب کی طرف سے نصیحت اور دلوں کی بیماریوں کی شفا اور مؤمنوں کے لیے ہدایت اور رحمت آپہنچی ہے۔

قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْا١ؕ هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 10:58 in the Quran reader

کہہ دو کہ یہ کتاب اللہ کے فضل اور اسکی مہربانی سے نازل ہوئی ہے تو چاہیے کہ لوگ اس سے خوش ہوں یہ اس سے کہیں بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًا١ؕ قُلْ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَى اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 10:59 in the Quran reader

کہو کہ بھلا دیکھو تو اللہ نے تمہارے لیے جو رزق نازل فرمایا تو تم نے اس میں سے بعض کو حرام ٹھہرایا اور بعض کو حلال۔ ان سے پوچھو کیا اللہ نے تمہیں اس کا حکم دیا ہے یا تم اللہ پر افترا کرتے ہو۔

وَ مَا ظَنُّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 10:60 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ پر افترا کرتے ہیں وہ قیامت کے دن کے بارے میں کیا خیال رکھتے ہیں ؟ بیشک اللہ لوگوں پر مہربان ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔

وَ مَا تَكُوْنُ فِیْ شَاْنٍ وَّ مَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّ لَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَیْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ وَ مَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ وَ لَاۤ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرَ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 10:61 in the Quran reader

اور تم جس حال میں ہوتے ہو یا قرآن سے کچھ پڑھتے ہو یا تم لوگ کوئی اور کام کرتے ہو جب اس میں مصروف ہوتے ہو ہم تمہارے سامنے ہوتے ہیں اور تمہارے رب سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں نہ زمین میں اور نہ آسمان میں اور نہ کوئی چیز اس سے چھوٹی ہے یا بڑی مگر کتاب روشن میں لکھی گئی ہے۔

اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ Open ayah 10:62 in the Quran reader

سن لو ! کہ جو اللہ کے دوست ہیں ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے۔

الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ Open ayah 10:63 in the Quran reader

جو ایمان لائے اور پرہیزگار رہے

لَهُمُ الْبُشْرٰى فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُؕ Open ayah 10:64 in the Quran reader

ان کے لیے دنیا کی زندگی میں بھی بشارت ہے اور آخرت میں بھی، اللہ کی باتیں بدلتی نہیں یہی تو بڑی کامیابی ہے۔

وَ لَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ؕ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 10:65 in the Quran reader

اور ( اے پیغمبر ﷺ ! ) ان لوگوں کی باتیں آپ کو غمزدہ نہ کریں کیونکہ عزت سب اللہ ہی کی ہے وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا یَتَّبِعُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 10:66 in the Quran reader

سن رکھو کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے سب اللہ ہی کے لیے ہے، اور یہ جو اللہ کے سوا اپنے بنائے ہوئے شریکوں کو پکارتے ہیں وہ کسی اور چیز کے پیچھے نہیں صرف اپنے ظن کے پیچھے چلتے ہیں۔ اور صرف اٹکلیں دوڑا رہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ اور اس کی رحمتیں تشریح : ان آیات میں اللہ کی بڑائی، قدرت اور انسان پر رحمتوں برکتوں اور فضل کا ذکر خاص طور سے کیا گیا ہے۔ قرآن پاک کی ان تین فضیلتوں کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ قرآن پاک انسانوں کے لیے نصیحت، شفا اور رحمت کا پیغام ہے۔ اس لیے اس پر پوری طرح عمل کریں خود پڑھیں دوسروں کو پڑھائیں اللہ کے باقی بیشمار فضل و کرم میں ایک بہت بڑا فضل قرآن پاک ہے۔ اس کی بتائی ہوئی حدود میں رہ کر زندگی گزارنے والے اللہ کے دوست ہیں اور ان لوگوں پر اللہ کی خاص مہربانی یہ ہوتی ہے کہ یہ اللہ و رسول کے احکامات کے مطابق شریعت میں اس قدر گم ہو کر زندگی گزارتے ہیں کہ ان کو نہ دنیا میں کسی چیز کی فکر ہوتی ہے نہ آخرت میں ان کو کوئی فکر ہوگی۔ مگر جو لوگ ان حدود سے نکل کر زندگی گزارتے ہیں تو ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے ان کا کوئی عمل ظاہر ہو یا مخفی وہ پوشیدہ نہیں وہ ہر غائب اور حاضر کو جانتا ہے۔ وہ کسی بھی چیز انسان اور کسی بھی مخلوقات سے غافل نہیں۔ جو کچھ آسمان و زمین میں موجود ہے سب کا حساب کتاب اس نے اپنے پاس مکمل طور پر لکھ کر رکھا ہوا ہے۔ جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر ادھر ادھر بھٹک رہے ہیں وہ دنیا و آخرت میں نقصان اٹھانے والے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر تلاش حق کی نیت سے پوری توجہ اور غوروفکر سے قرآن کو پڑھا اور سمجھا جائے تو قدرت کے ایسے ایسے شاہکار اس کے سامنے آموجود ہوتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو ہوائوں میں اڑتا محسوس کرتا ہے، یعنی اس کے دل کی صفائی ہوجاتی ہے اور روحانیات کی بلند ترین منزلوں میں اپنے آپ کو پاتا ہے۔ اور یوں نور ایمانی سے روح اور دل جگمگانے لگتے ہیں کوئی مسئلہ، مسئلہ نہیں رہتا اور کوئی دکھ، دکھ نہیں رہتا۔ وہ جنس نہیں ایمان جسے لے آئیں دکان فلسفہ سے ڈھونڈے سے ملے گی قاری کو یہ قرآن کے سپاروں میں (مولانا ظفر علی مرحوم)
Ayah 10:67

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 10:67 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات کو بنایا کہ اس میں چین حاصل کرو اور دن کو روشن بنادیا، بیشک اس میں ان لوگوں کے لیے جو سنتے ہیں نشانیاں ہیں۔

اللہ کی نشانیاں تشریح : اس آیت میں بہت سی نشانیوں میں سے ایک نشانی لیل ونہار یعنی دن اور رات کی نشانی کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ کس چیز کی نشانی ؟ اللہ کے وحدہٗ لا شریک، علیم وخبیر، حکیم و عظیم اور قادر مطلق ہونے کی دلیل، شہادت اور محکم ثبوت ملتا ہے۔ دن اور رات کے جہاں اور بہت سے فائدے ہوتے ہیں ان میں سے ایک بہت بڑا فائدہ اس دن رات کے ادل بدل کا یہ بتایا جا رہا ہے کہ دن کو روشن کردیا گیا کہ آسانی اور سہولت سے کاروبار حیات انجام دیے جاسکیں اور رات کو روشنی بجھا دی کہ انسان مکمل طور پر آرام کر کے جسم کی مطلوبہ خوراک نیند، کو اچھی طرح پورا کرسکے۔ کیونکہ نیند بھی انسانی جسم کے لیے اتنی ہی ضروری ہے جتنی کہ خوراک جسم کے لیے ضروری ہے۔ یہ نشانیاں اور ثبوت ان لوگوں کے ایمان لانے کے لیے کافی ہیں جو انبیاء قرآن پاک اور علماء و حکماء کی باتیں غور سے سنتے ہیں ورنہ سائنس دان اور بڑے بڑے مفکر اور ملحد سب کچھ دیکھ کر بھی اللہ کی ذات سے انکار کرتے ہیں، کیونکہ ان کا علم صرف عقلی اور استدلالی حد تک رہتا ہے جب کہ قرآن اور اسلام کا علم عقلی، استدلالی، روحانی، یعنی وجدانی حدود تک انسان کو پہنچا دیتا ہے۔ ایک سائنسدان یہ تو مانتا ہے کہ چاند، سورج اور زمین مسلسل گردش کر رہے ہیں جن کی وجہ سے دن اور رات وجود میں آتے ہیں مگر وہ ساتھ میں یہ بھی کہتا ہے کہ یہ سارا نظام خود بخود چل رہا ہے اس کو چلانے والا کوئی نہیں۔ جبکہ مسلمان یہ کہتا ہے کہ یہ سب کچھ چلانے والا رب العلمین ہے۔ کیونکہ اسی نے یہ سب کچھ بنایا ہے۔ مسلمان کے لیے یہ اللہ کے موجود ہونے کی گواہی ہے جبکہ سائنسدان تحقیق کے چکر میں ہی پھنس کر رہ گیا ہے۔ اس کی تحقیقات اکثر و پیشتر تبدیل ہوتی رہتی ہیں جب کہ قرآنی اطلاعات وہی ہیں جو چودہ سو سال پہلے دی گئی تھیں مثلاً ۔ پہلے یہ تحقیق ہوئی تھی کہ سورج کھڑا ہے، یعنی حرکت نہیں کر رہا اور دوسرے سیارے اس کے گرد گھوم رہے ہیں۔ اب نئی تحقیق کے مطابق سورج بھی حرکت کر رہا ہے۔ اسی طرح آئے دن سائنسی تجربات سے ان کی تحقیقات اور اصول بدلتے رہتے ہیں جبکہ قرآن پاک کے بتائے ہوئے قوانین کائنات، انسان اور تمام مخلوقات کے بارے میں بالکل نہیں بدلے۔ قرآن نے شروع سے ہی کہہ دیا تھا کہ سورج برابر اپنے مستقر کی طرف بڑھ رہا ہے۔ جو کچھ عرصہ پہلے انسان نے مانا ہے۔ اسی طرح یہ سانئس دان بھی گھوم پھر کر آخر اسی قادر مطلق کے سامنے آجھکیں گے جس کا آج وہ انکار کر رہے ہیں۔
Ayahs 10:68–70

قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ الْغَنِیُّ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍۭ بِهٰذَا١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:68 in the Quran reader

بعض لوگ کہتے ہیں کہ اللہ نے بیٹا بنا لیا ہے۔ اس کی ذات اولاد سے پاک ہے، اور وہ بےنیاز ہے۔ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے، سب اسی کا ہے۔ تمہارے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں۔ تم اللہ کے بارے میں ایسی بات کیوں کہتے ہو جو جانتے نہیں۔

قُلْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 10:69 in the Quran reader

کہہ دو کہ جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں فلاح نہیں پائیں گے۔

مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِیْقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِیْدَ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 10:70 in the Quran reader

(ان کے لیے جو) فائدے ہیں دنیا میں ہیں، پھر ان کو ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے اس وقت ہم ان کو عذاب شدید کے مزے چکھائیں گے۔ کیونکہ وہ کفر کی باتیں کیا کرتے تھے۔

منکرین الٰہی اور ان کا انجام تشریح : ایسے ہی منکرین کے لیے ان آیات میں بتایا گیا ہے جو رب کے انکاری ہیں یا اپنی کم علمی کی وجہ سے اللہ کے بارے میں الٹی سیدھی باتیں کرتے ہیں مثلاً کہتے ہیں کہ (نعوذ باللہ) اللہ کا کوئی بیٹا بھی ہے، حالانکہ یہ انسانی صفت ہے کہ وہ اپنے نام کو قائم رکھنے کے لیے یا بڑھاپے کے سہارے کے لیے اولاد کا یا بیٹے کا محتاج ہوتا ہے جبکہ اللہ کو تو ان تمام ضرورتوں کی بالکل پرواہ نہیں کیونکہ وہ تو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ وہ اس قدر طاقت ور اعلیٰ وارفع قادر مطلق ہے کہ اس نے کسی کی مدد کے بغیر اس قدر وسیع و عریض کائنات بنائی اور اتنی بہترین، مستحکم اور پائیدار بنائی کہ آج تک اس میں ایک ذرہ برابر بھی کوئی نقص کوئی فرق یا کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوئی۔ یہ سب کچھ ان منکرین حق کے سامنے موجود ہے تو اے پیغمبر ﷺ ! ان سے پوچھیں کہ پھر بھی ان کی عقل کیوں ماری گئی ہے کہ یہ اللہ کے بارے میں الٹی سیدھی، جھوٹی سچی باتیں بناتے رہتے ہیں۔ اصل میں یہ تمام دنیا کے منکرین کے لیے کہا جا رہا ہے۔ کہ یہ غافل اور بےکار لوگ ہیں یہ دنیا میں عیش کرلیں آخر تو مر کر ہمارے ہی پاس آئیں گے۔ کیونکہ یہاں کی ہر مخلوق موت کا مزہ ضرور چکھے گی اور مرنے کے بعد یقینا ہمارے (اللہ) ہی پاس آئے گی اور غلط کار لوگوں کو ان کے غلط اعمال کی سزا ضرور دی جائے گی۔ شرک اتنا بڑا گناہ ہے کہ اللہ اسے معاف نہیں کرے گا تو ایسے لوگوں کو قرآن پاک بار بار خبردار کر رہا ہے۔ اگلی آیات میں ایسے ہی لوگوں کو نصیحت کرنے کے لیے قوم نوح کا قصہ سنایا جا رہا ہے۔ ملاحظہ ہو :
Ayahs 10:71–74

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍ١ۘ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكُمْ مَّقَامِیْ وَ تَذْكِیْرِیْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَعَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ فَاَجْمِعُوْۤا اَمْرَكُمْ وَ شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ لَا یَكُنْ اَمْرُكُمْ عَلَیْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوْۤا اِلَیَّ وَ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 10:71 in the Quran reader

اور ان کو نوح کا قصہ پڑھ کر سنا دیں جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اے قوم ! اگر تم کو میرا تم میں رہنا اور اللہ کی آیات کے ساتھ نصیحت کرنا ناگوار ہو تو میں اللہ پر بھروسہ رکھتا ہوں تم اپنے شریکوں کے ساتھ مل کر ایک کام جو میرے بارے میں کرنا چاہو مقرر کرلو اور وہ تمہاری پوری جماعت کو معلوم ہوجائے اور کسی سے پوشیدہ نہ رہے پھر وہ کام میرے حق میں کر گزرو اور مجھے مہلت نہ دو ۔

فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَمَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۙ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:72 in the Quran reader

اور اگر تم نے منہ پھیرلیا تو تم جانتے ہو کہ میں نے تم سے کچھ معاوضہ نہیں مانگا، میرا معاوضہ تو اللہ کے ذمہ ہے اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں رہوں۔

فَكَذَّبُوْهُ فَنَجَّیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ جَعَلْنٰهُمْ خَلٰٓئِفَ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 10:73 in the Quran reader

لیکن ان لوگوں نے ان کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو اور جو لوگ کشتی میں ان کے ساتھ سوار تھے سب کو (طوفان سے) بچا لیا۔ اور انہیں زمین میں خلیفہ بنا دیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کو غرق کردیا، تو دیکھ لو جو لوگ ڈرائے گئے تھے ان کا کیسا انجام ہوا ؟

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 10:74 in the Quran reader

پھر نوح کے بعد اور پیغمبر ہم نے ان کی اپنی قوم کی طرف بھیجے، تو وہ ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے مگر وہ لوگ ایسے نہ تھے کہ جس بات کو پہلے جھٹلا چکے تھے اس پر ایمان لے آتے، اسی طرح ہم زیادتی کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں۔

سیدنا نوح (علیہ السلام) کا پیغام، قوم کی ضد اور اس کا انجام تشریح : ان آیات میں نبی اکرم ﷺ کے زمانے کے کفار و مشرکین اور ہر زمانے کے منکرین الٰہی کے لیے بڑی زبردست مثال دی گئی ہے کہ جو لوگ پیغمبر کے پیغام، وعظ اور نصیحت سے سبق نہیں سیکھتے اور اللہ پر ایمان نہیں لاتے، برائیوں کو چھوڑ کر نیکیوں کو اختیار نہیں کرتے وہ صرف اپنا ہی نقصان کرتے ہیں کیونکہ بالآخر ان کو تباہ و برباد کردیا جاتا ہے اور آخرت میں بھی وہ ذلیل و خوار ہی کیے جائیں گے۔ جیسا کہ حضرت ادریس (علیہ السلام) اور پھر حضرت نوح (علیہ السلام) کو گمراہ لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ مولانا عبدالرحمن کیلانی مرحوم اپنی تصنیف ” مترادفات القرآن “ میں لکھتے ہیں کہ حضرت نوح (علیہ السلام) 7000 قبل مسیح مقام عرافات میں (عراق میں دریائے دجلہ و فرات کا درمیانی علاقہ) پیغمبر بنا کر بھیجے گئے۔” ان کی قوم بڑی ضدی، ہٹ دھرم اور اللہ کا انکار کرنے والی تھی۔ آپ (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو اللہ پر ایمان لانے اور برائیوں کو چھوڑنے کی ترغیب دی مگر اتنی طویل مدت میں صرف چالیس لوگ ایمان لائے۔ تب آپ نے تنگ آکر دعا کی، تو اللہ نے اس قوم پر طوفان بادو باران نازل فرمایا سب لوگ نیست و نابود ہوگئے سوائے ان لوگوں کے جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار ہوگئے تھے، پھر ان سے دوبارہ نسل انسانی بڑھنے لگی اسی لیے نوح (علیہ السلام) کو آدم ثانی کہا گیا ہے۔ طوفان کے بعد تین سو پچاس سال نوح (علیہ السلام) زندہ رہے۔ “ مگر بگڑی ہوئی قوم کو راہ راست پر لانا بڑا ہی مشکل کام ہوتا ہے کیونکہ ایسے لوگ گمراہی، بداخلاقی اور کفر و شرک میں اس قدر ڈوب جاتے ہیں کہ پھر وہاں سے نکلنا ان کے لیے ممکن نہیں رہتا سوائے چند لوگوں کے۔ اسی لیے اللہ رب العزت ایسے لوگوں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ تو ایسے ہوجاتے ہیں جیسے ان کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے یہ نیکی اختیار کرنا نہ چاہتے ہیں نہ کرسکتے ہیں۔ حضرت نوح کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر بیان کیا جا رہا ہے یہ بھی مثال دے کر سمجھانے کے لیے۔ ملاحظہ ہو :