10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 10:75–92

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى وَ هٰرُوْنَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ بِاٰیٰتِنَا فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 10:75 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ گنہگار لوگ تھے۔

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْۤا اِنَّ هٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:76 in the Quran reader

تو جب ان کے پاس ہمارے ہاں سے حق آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو صاف جادو ہے۔

قَالَ مُوْسٰۤى اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمْ١ؕ اَسِحْرٌ هٰذَا١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ Open ayah 10:77 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کیا تم حق کے بارے میں جب وہ تمہارے پاس آیا یہ کہتے ہو کہ یہ جادو ہے۔ حالانکہ جادو گر فلاح نہیں پاسکتے۔

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا وَ تَكُوْنَ لَكُمَا الْكِبْرِیَآءُ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:78 in the Quran reader

وہ بولے کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ جس راہ پر ہم اپنے باپ دادا کو پاتے رہے ہیں اس سے ہمیں پھیر دو ۔ اور اس ملک میں تم دونوں کی ہی سرداری ہوجائے ؟ اور ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِیْ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 10:79 in the Quran reader

اور فرعون نے حکم دیا کہ سب کامل جادو گروں کو ہمارے پاس لے آئو۔

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 10:80 in the Quran reader

جب جادو گر آئے تو موسیٰ نے ان سے کہا تم کو جو ڈالنا ہو ڈالو۔

فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ بِهِ١ۙ السِّحْرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَیُبْطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:81 in the Quran reader

جب انہوں نے اپنی رسیوں اور لاٹھیوں کو ڈالا، تو موسیٰ نے کہا ” جو چیزیں تم بنا کر لائے ہو، جادو ہے۔ اللہ اس کو ابھی نیست و نابود کر دے گا۔ اللہ شریروں کا کام سنوارا نہیں کرتا۔

وَ یُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 10:82 in the Quran reader

اور اللہ اپنے حکم سے سچ کو سچ ہی کر دے گا، اگرچہ گنہگار برا ہی مانیں۔

فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوْسٰۤى اِلَّا ذُرِّیَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ عَلٰى خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهِمْ اَنْ یَّفْتِنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 10:83 in the Quran reader

تو موسیٰ پر کوئی ایمان نہ لایا، مگر اس کی قوم میں سے چند لڑکے اور وہ بھی فرعون اور اس کے اہل دربار سے ڈرتے ڈرتے، کہ کہیں وہ ان کو آفت میں نہ پھنسا دے، اور فرعون ملک میں متکبر (متغلب) حد سے بڑھا ہوا تھا۔

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ فَعَلَیْهِ تَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ Open ayah 10:84 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا کہ ” اے قوم ! اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو اور اگر دل سے فرمانبردار ہو ؟ تو اسی پر بھروسہ رکھو۔

فَقَالُوْا عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 10:85 in the Quran reader

تو وہ بولے کہ ہم اللہ ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ اے ہمارے رب ہم کو ظالم لوگوں کے ہاتھ سے آزمائش میں نہ ڈال۔

وَ نَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 10:86 in the Quran reader

اور اپنی رحمت سے کفار کی قوم سے نجات بخش۔

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى وَ اَخِیْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا وَّ اجْعَلُوْا بُیُوْتَكُمْ قِبْلَةً وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:87 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی قوم کے لیے مصر میں گھر بنائو اور اپنے گھروں کو قبلہ یعنی مسجدیں ٹھہرائو، نماز پڑھو اور مؤمنوں کو خوشخبری سنا دو ۔

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاَهٗ زِیْنَةً وَّ اَمْوَالًا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِكَ١ۚ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:88 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب ! تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں بہت سا سازو برگ اور مال و زر دے رکھا ہے، اے اللہ ! ان کا کام یہ ہے کہ تیرے رستہ سے گمراہ کردیں، اے ہمارے رب ! ان کے مال کو برباد کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے کہ ایمان نہ لائیں جب تک درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں۔

قَالَ قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِیْمَا وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِیْلَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:89 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا کہ تمہاری دعا قبول کرلی گئی تو تم ثابت قدم رہنا اور بےعقلوں کے راستے پر نہ چلنا۔

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَ جُنُوْدُهٗ بَغْیًا وَّ عَدْوًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ١ۙ قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِیْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِیْلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:90 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کردیا، تو فرعون اور اس کے لشکر نے سرکشی اور دشمنی سے ان کا پیچھا کیا۔ یہاں تک کہ جب وہ غرق ہونے کے عذاب میں مبتلا ہوا تو کہنے لگا میں ایمان لایا کہ جس اللہ پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں، اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں فرمانبرداروں میں ہوں۔

آٰلْئٰنَ وَ قَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَ كُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:91 in the Quran reader

(جو اب ملا کہ) اب ایمان لاتا ہے ؟ حالانکہ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا اور مفسد بنا رہا۔

فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰیَةً١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ۠ Open ayah 10:92 in the Quran reader

تو آج ہم تیرے بدن کو بچا لیں گے تاکہ تو پچھلوں کے لیے عبرت ہو، اور بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے بیخبر ہیں۔

سیدنا موسیٰ کی تعلیم، قوم کی گمراہی، تباہی اور عبرت کا سامان تشریح : ان آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور قوم فرعون کا ذکر اس لحاظ سے کیا گیا ہے کہ کفار کو عبرت دلائی جائے۔ اس سے پہلے قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود بھی نافرمانی کی وجہ سے مختلف عذابوں کا نشانہ بن چکی ہیں۔ ان آیات میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) ان کی قوم اور فرعون کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی توحید کا سبق دینے پر مامور کیا گیا تھا۔ آپ کی امت زیادہ تھی۔ آپ جہاد پر مامور ہوئے آپ کو حسن تدبر میں کمال حاصل تھا حضرت ہارون (علیہ السلام) آپ کے مددگار بنائے گئے۔ آپ نے فرعون کے محل میں ہی پرورش پائی کیونکہ آپ کی والدہ نے آپ کو صندوق میں بند کر کے دریا میں ڈال دیا تھا اور وہ صندوق فرعون کی بیوی کے ہاتھ لگ گیا اس نے آپ کو بیٹے کی طرح پرورش کیا۔ آپ کو کلیم اللہ کا لقب ملا کیونکہ اللہ نے آپ سے کلام بھی کیا۔ بنی اسرائیل کے پیغمبر تھے۔ فرعون ان پر بہت ظلم کرتا تھا تو اس سے قوم کو انہوں نے نجات دلائی اور فرعون ایمان نہ لانے اور تکبر و غرور کی وجہ سے دریا میں غرق کردیا گیا۔ مرتے وقت اس نے توبہ کی اور ایمان لے آیا مگر اس وقت کی توبہ قبول نہیں ہوئی۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آج ہم تیرے بدن کو نکال لیں گے تاکہ پچھلوں کے لیے عبرت ہو۔ تو اللہ کی شان دیکھئے کہ فرعون کی لاش تین ہزار پانچ سو سال گزر جانے کے بعد بھی برٹش میوزیم میں محفوظ پڑی ہے اور دنیا کے لیے عبرت کی کہانی پیش کر رہی ہے۔ ایک ایسے انسان کی لاش جو اپنی زندگی میں فخرو غرور، ظلم وستم کا بادشاہ اپنے آپ کو رب کہلواتا اور سجدہ کرواتا تھا۔ یہ کفر و شرک کا مجسمہ کس بےبسی اور اذیت کے مراحل طے کر رہا ہے۔ یہ بہت بڑی نشانی ہے اللہ کے وجود اور اس کی کبریائی وقدرت کی۔ اس کی پکڑ میں کوئی آتا ہے تو کس طرح آتا ہے کیا وہ مردوں کو زندہ نہ کرسکے گا ؟ کیا وہ حساب کتاب کر کے عذاب اور جزا نہ دے سکے گا ؟ ضرور، یہ سب کچھ ہو کر رہے گا۔ اسکی قدرت کا اندازہ تھوڑا سا فرعون کی اس محفوظ پڑی ہوئی لاش سے بھی کیا جاسکتا ہے۔ ان آیات میں بڑی نصیحت آموز باتیں ملتی ہیں۔ معجزے اور جادو کا فرق یہ سورة الاعراف میں بیان ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ہجرت کرنا، ایمان پر قائم ہونا، نماز قائم کرنا یہ سب عمل ایک قوم میں اتحاد، یقین اور ثابت قدمی پیدا کرتے ہیں۔ پھر اپنی مشکلات کے لیے اللہ سے دعا، مدد مانگنے اور استغفار کا موقع مل جاتا ہے۔ غرض ان آیات میں حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام، فرعون اور اس کی ذہنیت، معجزے، جادو، بددعا، فرعون کی تباہی اور اس کا باعث عبرت بننا، بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے اور یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے کہ عین موت کے وقت یا موت کے آثار دیکھ کر توبہ کرنا قابل قبول نہیں۔ فرعون کی لاش کا دنیا میں یوں موجود ہونا اللہ کی قدرت کی ایک بہت بڑی نشانی ہے۔ 1907 ء میں یہ لاش مل گئی کچھ عرصہ مصر میں رہی پھر برٹش میوزیم میں بھجوا دی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان بندہ ہے اللہ الہ العلمین رب ہے۔ اسی کے سامنے جھکنے میں عظمت ہے اور نجات بھی۔ ہر وقت اس کے بتائے ہوئے احکامات کی پابندی اور استغفار کرتے رہنا چاہیے۔ اگلی آیات میں بنی اسرائیل کا ذکر کیا گیا ہے۔
Ayah 10:93

وَ لَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:93 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو رہنے کے لیے عمدہ جگہ دی، اور کھانے کو پاکیزہ چیزیں دیں۔ لیکن وہ باوجود علم ہونے کے اختلاف کرتے رہے، بیشک جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے رہے تمہارا رب قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کر دے گا

بنی اسرائیل کا امتحان تشریح : فرعون کی ہلاکت کے بعد بنی اسرائیل کو مکمل آزادی مل گئی مصر، اردن اور فلسطین ان کو مل گیا۔ غرض دنیا کی بہترین نعمتوں سے ان کو مالا مال کردیا گیا۔ انتہائی سرسبز و شاداب زمین ان کو دی گئی۔ مگر ان میں سے بہت سے لوگوں نے نعمتوں کی ناقدری کی اور اطاعت سے پھرگئے۔ ” علم “ سے مراد میرے خیال میں اور معارف القرآن کی مدد سے یہی سمجھ آتا ہے کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں جو اطلاع تورات میں دی گئی تھی اس کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ پہلے تو یہ لوگ دعائیں کرتے تھے کہ آخری نبی جلدی آئیں، مگر جب علم ہوا کہ آپ تشریف لے آئے ہیں تو پھر ان سے انکار کرنے لگے مگر کچھ لوگ اقرار بھی کرتے تھے جو بہت تھوڑے تھے۔ تو یہاں انہی لوگوں کی سزا و جزا کا ذکر ہے کہ قیامت کے دن ان کا فیصلہ بھی کردیا جائے گا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ تورات میں کی گئی پیشگوئی کے مطابق بنی اسرائیل نبی اکرم ﷺ پر فوراً ایمان لے آتے مگر ہوا یہ کہ یہ لوگ اکثر ان کی تصدیق کرنے سے انکار کرنے لگے اور یہ بات ناقابل معافی ہے، لہٰذا ایسے لوگوں کو قیامت کے دن اس اختلاف کرنے کی سزا تو ضرور ملے گی۔ ہر وقت رب العلمین سے بخشش، مدد اور رحمت کی دعا کرنی چاہیے۔ نبی اکرم ﷺ یوں دعا کیا کرتے تھے۔ ” یا اللہ سب کاموں میں ہمارا انجام بخیر فرما اور ہمیں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھ۔ “ (طبرانی)
Ayahs 10:94–98

فَاِنْ كُنْتَ فِیْ شَكٍّ مِّمَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ فَسْئَلِ الَّذِیْنَ یَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَقَدْ جَآءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَۙ Open ayah 10:94 in the Quran reader

اگر تمہیں اس کتاب کے بارے میں جو ہم نے تم پر نازل کی ہے کچھ شک ہو تو جو لوگ تم سے پہلے اتری ہوئی کتابیں پڑھتے ہیں، ان سے پوچھ لو۔ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس حق آچکا ہے تو آپ ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہوں۔

وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَتَكُوْنَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 10:95 in the Quran reader

اور نہ ان لوگوں میں ہونا جو اللہ کی آیتوں کو جھٹلاتے ہیں، ورنہ نقصان اٹھائو گے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ حَقَّتْ عَلَیْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 10:96 in the Quran reader

جن لوگوں کے بارے میں اللہ کے عذاب کا حکم قرار پا چکا ہے وہ ایمان نہیں لانیوالے۔

وَ لَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ اٰیَةٍ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:97 in the Quran reader

جب تک کہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں خواہ انکے پاس ہر طرح کی نشانی آجائے۔

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 10:98 in the Quran reader

تو کوئی بستی ایسی کیوں نہ ہوئی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان اسے نفع دیتا۔ ہاں ! یونس کی قوم کہ جب ایمان لائی تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے ذلت کا عذاب دور کردیا اور ایک مدت تک ان کو دنیاوی فائدے دیے رکھے۔

نبی کو خطاب اور قوم یونس کی برأت تشریح : ان آیات میں رب العلمین اپنے پیارے رسول ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر تمہیں کبھی انسان ہونے کے ناطے کتاب (قرآن) پر کوئی شک یا وسوسہ پیدا ہو تو اس کو دور کرنے کے لیے اول تو کلام پاک خود ہی بہت بڑی دلیل محکم ہے اور بہترین ہے ہر پہلو سے مگر انسانی تسلی اور دلیل کے لیے بڑی ہی صاف راہ ایک یہ بھی ہے کہ اس کتاب کے بارے میں تمام اہل کتاب جن میں سب سے بڑی دو قومیں ہیں یہودی اور عیسائی۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے آسمانی کتابیں دی ہیں، یعنی تورات اور انجیل۔ ان کتابوں میں ہر قسم کے قوانین اصول لکھے ہوئے موجود ہیں اور نبی اکرم ﷺ کے بارے میں بڑی ہی وضاحت سے بتایا گیا ہے کہ آخری نبی حضرت محمد ﷺ آئیں گے۔ ان کے بارے میں اتنا واضح بتایا گیا ہے کہ ایک دفعہ جب آپ چھوٹے ہی تھے۔ شام کے سفر میں گئے ہوئے تھے کہ بحیرہ راہب اور نسطورا راہب نے آپ کو خوشخبری سنا دی تھی کہ انجیل میں جس آخری نبی کی اطلاع دی گئی ہے وہ آپ ہی ہیں۔ اسی طرح جب ہم پہلی وحی کا واقعہ پڑھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ بڑے ہی متقی اور پرہیزگار بہترین انسان تھے اللہ کے مقبول ترین بندے تھے۔ مگر تھے تو انسان ہی۔ جب پہلی وحی نازل ہوئی تو جلال ربانی اور کلام الٰہی کے نزول سے اللہ کی عظمت و بڑائی سے جو رعب الٰہی آپ پر طاری ہوا وہ کئی دنوں تک رہا۔ اور فوری طور پر غار حرا سے واپس گھر تشریف لائے ” اس وقت آپ کا دل دھڑک رہا تھا۔ جسم پر لرزہ طاری تھا امانت الٰہی کا نور آپ کے سینہ مبارک میں چمک رہا تھا، اللہ کے جلال و عظمت سے رئواں رئواں کانپ رہا تھا، جلال ربانی آپ کے اوپر طاری تھا، جبریل (علیہ السلام) کی آواز آپ کے کانوں میں گونج رہی تھی۔ “ (نبی کریم ﷺ مصنف سلیم یزدانی صفحہ 100 ) یہ ایک بڑی ہی سچی حقیقت ہے کہ آپ ﷺ اللہ کے نبی ہیں اور آپ پر قرآن نازل ہوا۔ اس کی تصدیق تورات اور انجیل میں بھی موجود ہے۔ جیسا کہ حضرت خدیجہ ﷺ آپ کو لے کر اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں۔ کیونکہ وہ عبرانی زبان کے عالم، عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔ جب ان کو وحی کے نزول کا بتایا گیا تو وہ بےساختہ بول اٹھے ” یہ تو وہی ناموس اعظم تھا جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ پر اتارا تھا۔ کاش ! میں اس وقت تک زندہ ہوتا جب آپ کی قوم آپ کو نکالے گی۔ “ یہ ہجرت مدینہ کی طرف اشارہ ہے، یعنی آپ کی سیرت و کردار اور بعثت کے پہلے اور بعد کے حالات کافی وضاحت سے پچھلی کتابوں میں بتائے جا چکے تھے۔ اسی لیے تو اللہ رب العزت نے فرمایا کہ بالکل پکی بات ہے بغیر کسی شک و شبہ کے یہ تصدیق ہوچکا ہے کہ آپ ہی آخری نبی ہیں اور کلام پاک اللہ کی کتاب ہے۔ اور پھر اللہ کا حکم پوری انسانی برادری کو ہوتا ہے کہ کوئی بھی اس میں شک و شبہ کا شکار نہ ہو۔ کیونکہ اس کو نہ مان کر سوائے نقصان کے اور کچھ حاصل نہ ہوگا۔ اور پھر ان ہٹ دھرم ضدی اور نافرمان لوگوں کا ذکر ہے کہ ایسے لوگ تو سب کچھ جانتے ہوئے بھی ایمان لانے والے نہیں۔ یہاں تک کہ اللہ نے ان کو عذاب دے کر نیست ونابود کردیا۔ سوائے ایک قوم کے وہ لوگ عذاب آنے سے پہلے ایمان لے آئے وہ حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم ہے کہ جنہوں نے عذاب آنے سے پہلے توبہ کرلی اور ایمان لے آئے اور اللہ نے ان کی توبہ قبول کرلی اور پھر وہ کافی عرصہ تک اللہ کے فضل و کرم اور مہربانی سے آباد و شاد زندگی گزارتے رہے۔ دنیا میں نیکی و بدی، کفر و ایمان، امن و فساد اور عذاب و رحمت کا سلسلہ ہمیشہ سے چلتا آیا ہے۔ انسان کو سمجھانے کے لیے امن و سکون کو قائم کرنے کے لیے ہر زمانہ اور ہر قوم کے پاس انبیاء و رسل بھیجے گئے کچھ قومیں ایسی ضدی اور نافرمان تھیں کہ باوجود وعظ و نصیحت اور مہلت کے ایمان نہ لائیں اور دنیاوی عذاب کا شکار ہو کر تباہ ہوگئیں مگر ایک قوم ایسی گزری ہے کہ جس نے مثال قائم کی کہ انہوں نے عذاب سے پہلے ہی معافی مانگ لی۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم کو ان کی نافرمانی کی سزا میں عذاب کی اطلاع دی گئی مگر حضرت یونس (علیہ السلام) خود وہاں سے نکل گئے اور کہا کہ ایک معینہ مدت کے بارے کہا تم پر عذاب الٰہی نازل ہوگا۔ (بعض روایات میں تین دن اور بعض میں چالیس دن کا ذکر آیا ہے) عذاب کے آثار ظاہر ہوئے تو لوگ ڈر گئے جنگلوں کو نکل گئے توبہ و استغفار کیا اور پوری طرح ایمان لے آئے۔ تو اللہ نے ان سے عذاب کو ٹال دیا۔ یہ واحد قوم ہے جس نے سچی توبہ کر کے اپنے آپ کو اللہ کے عذاب سے بچا لیا۔ تو یہ انسان کے لیے بڑی اچھی مثال ہے۔ اللہ کی طرف رجوع کرے اللہ اس کی نجات، ایمان اور کامیانی کے راستے ضرور کھول دیتا ہے اور زندگی کا یہی اصول دنیا و آخرت میں کامیابی کا پکا اصول ہے۔ جیسا کہ اگلی آیات میں بتایا جا رہا ہے کہ ایمان میں زبردستی نہیں۔
Ayahs 10:99–109

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِیْعًا١ؕ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:99 in the Quran reader

اگر آپ کا رب چاہتا تو جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کے سب ایمان لے آتے تو کیا تم لوگوں پر زبردستی کرنا چاہتے ہو۔ کہ وہ مومن ہوجائیں۔

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:100 in the Quran reader

حالانکہ کسی کو قدرت نہیں ہے کہ اللہ کے حکم کے بغیر ایمان لائے اور جو لوگ بےعقل ہیں ان پر وہ کفر و ذلت کی نجاست ڈالتا ہے۔

قُلِ انْظُرُوْا مَا ذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا تُغْنِی الْاٰیٰتُ وَ النُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:101 in the Quran reader

ان کفار سے کہو کہ دیکھو تو آسمان اور زمین میں کیا کیا کچھ ہے ؟ مگر جو لوگ ایمان نہیں رکھتے ان کے لیے نہ ڈراوے کام آتے ہیں اور نہ ہی نشانیاں کام آتی ہیں۔

فَهَلْ یَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَیَّامِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ قُلْ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 10:102 in the Quran reader

سو جیسے (برے) دن ان سے پہلے لوگوں پر گزر چکے ہیں اسی طرح کے دنوں کے یہ منتظر ہیں کہہ دو کہ تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔

ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كَذٰلِكَ١ۚ حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 10:103 in the Quran reader

اور ہم اپنے پیغمبروں اور مؤمنوں کو نجات دیتے رہے ہیں اسی طرح ہمارا ذمہ ہے کہ مسلمانوں کو نجات دیں

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ دِیْنِیْ فَلَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ اَعْبُدُ اللّٰهَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۖۚ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 10:104 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ ! ) کہہ دو لوگو ! اگر تمہیں میرے دین میں کسی طرح کا شک ہو تو سن لو کہ جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا۔ بلکہ میں اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تمہاری روحیں قبض کرلیتا ہے، اور مجھے یہی حکم ہوا ہے کہ ایمان لانے والوں میں ہوں۔

وَ اَنْ اَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ۚ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 10:105 in the Quran reader

اور یہ کہ (اے محمد ﷺ سب سے یکسو ہو کر دین اسلام کی پیروی کیے جاؤ اور مشرکوں میں ہرگز نہ ہونا۔

وَ لَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكَ وَ لَا یَضُرُّكَ١ۚ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:106 in the Quran reader

اور اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کو نہ پکارناجو نہ تمہارا بھلا کرسکے اور نہ کچھ بگاڑ سکے اگر ایسا کرو گے تو ظالموں میں ہوجاؤ گے۔

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اِنْ یُّرِدْكَ بِخَیْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهٖ١ؕ یُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 10:107 in the Quran reader

اور اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو اللہ کے سوا اس کو دور کرنے والا اور کوئی نہیں اور اگر وہ تم سے بھلائی کرنا چاہے تو اس کے فضل کو روکنے والا کوئی نہیں وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے فائدہ پہنچاتا ہے اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 10:108 in the Quran reader

کہہ دو کہ لوگو ! تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس حق آچکا ہے تو جو کوئی ہدایت حاصل کرتا ہے تو ہدایت سے اپنے ہی حق میں بھلائی کرتا ہے، اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے، تو گمراہی سے اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ اور میں تمہارا وکیل نہیں ہوں۔

وَ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ اصْبِرْ حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ١ۖۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ۠ Open ayah 10:109 in the Quran reader

(اور اے پیغمبر ﷺ ! ) آپ کو جو حکم بھیجا جاتا ہے اس کی پیروی کیے جاؤ اور (تکلیفوں پر) صبر کرو۔ یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کر دے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

رسول کا کام صرف سمجھانا ہے تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے تو نبی اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ اس بات سے آگاہ کرتا ہے کہ آپ ﷺ کی یہ خواہش کہ سب لوگ ہی ایمان لے آئیں یہ پوری نہیں ہوسکتی۔ اللہ تعالیٰ اگر چاہتے تو یہ کر بھی سکتے تھے مگر یہ بات اللہ کی مشیت کے خلاف ہے۔ آپ ﷺ اللہ کے سچے، اتنہائی مخلص اور فرمانبردار بندے تھے مگر تھے تو انسان ہی۔ انہوں نے اپنے کام کو جو اللہ نے ان کے سپرد کیا تھا، یعنی نبوت اور تبلیغ کا تو اس کام میں انہوں نے اتنی مصیبتیں، دکھ، پریشانیاں اور مشقتیں برداشت کیں کہ انسان حیران ہوجاتا ہے مگر آپ ﷺ کو اپنے رب سے اور اس کے دیے ہوئے کام (نبوت) سے اس قدر پیار اور محبت تھی کہ وہ ہر مصیبت جھیلنے کو تیار رہتے تھے پھر بھی پریشانی کے عالم میں اللہ سے دعا کرتے کہ یا اللہ سب کو مسلمان کر دے۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ” سب کو ہی مسلمان بنا دیا جاتا میرے لیے کوئی مشکل کام نہیں۔ “ واقعی اللہ جو اتنی بڑی کائنات کا مالک و خالق ہے اس کے لیے یہ کام تو ہرگز مشکل نہ تھا، مگر اس میں بھی اللہ کی حکمت اور مصلحت ہے کہ اس نے فرشتوں کو کام دیا مگر اختیار نہیں دیا پرند چرند غرض تمام مخلوقات کو ایک بنا بنایا پروگرام دے دیا وہ اس میں لگے رہتے ہیں یہ مثال سے سمجھ سکتے ہیں مثلاً پرندہ بڑا خوبصورت گھونسلہ بناتا ہے مگر شروع دن سے ایسا ہی گھونسلا بناتا آرہا ہے اپنی مرضی یا علم و عقل سے اس نے اپنے گھونسلے میں کوئی تبدیلی نہیں کی اس کو اس بات کا اختیار اللہ کی طرف سے نہیں دیا گیا جبکہ انسان نے غاروں کی رہائش چھوڑ کر اپنے علم عقل اور اختیار سے بڑے بڑے محلات تعمیر کیے اور اپنی سہولتوں میں اضافہ کرنے کے لیے نئی نئی ایجادات کیں کوئی پکا اور سچا مسلمان ہے کوئی کافر ہے کوئی مشرک ہے۔ جب کہ پوری کائنات اور خود انسان خالق کل کی نشانیاں ہیں جو سب کے سامنے ایک ہی جیسی موجود ہیں کوئی تو اس کی نشانیوں کو دیکھ کر اسی کی عبادت کرتا ہے اور کوئی اس کی نشانیوں کو ہی پوجنا شروع کردیتا ہے۔ رسول اور پیغمبر اس کو لاکھ سمجھاتے ہیں بتاتے ہیں مگر وہ اپنی ہی ضد پر قائم رہتے ہوئے خالق کائنات کو پہچاننے کی کوشش ہی نہیں کرتا تو ایسے ہی لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے وہ اتنے ڈھیٹ اور بیوقوف ہیں کہ نیکی اور کامیابی کی طرف آنے کا سوچتے ہی نہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے لیے ان کی برائی کے راستے ہی آسان کردیتے ہیں۔ جب کہ اللہ کی سچائی کو سمجھنے کی کوشش کرنے والے کے لیے اللہ سچائی کے راستوں کو ہی آسان کردیتا ہے۔ اس ساری گفتگو میں یہی سمجھ میں آتا ہے کہ خالق نے جن وانس کو ہدایت، عقل، علم اور اختیار دے کر یہ دیکھنا ہے کہ کون عقل، علم اور اختیار کو ٹھیک استعمال کر کے ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے اور کون عقل علم اور اختیار کو غلط استعمال کر کے گمراہی کی راہ اختیار کرتا ہے۔ پھر جیسے ایک ماں کی اولاد اچھی اور بری ہوتی ہے۔ اور وہ کہتی ہے کہ مجھے تو اس بچہ کے بارے میں معلوم ہی تھا کہ یہ نیک ہے جبکہ دوسرے کے لیے کہتی ہے مجھے تو پہلے ہی پتہ تھا کہ یہ برا انسان بنے گا میں نے تو بڑی کوشش کی اس کو سدھارنے کی مگر اس کی تو سمجھ میں ہی کچھ نہیں آتا۔ اچھا تو پھر جائے جہنم میں۔ خالق کا اپنے بندوں کے بارے میں یہ کہہ دینا کہ یہ تو برا ہی ہونا تھا۔ یہ اس کے علم کی بات ہے۔ بیشک اس نے انسان کے سامنے سب کچھ کھول کر رکھ دیا ہوا ہے۔ پیغمبر بھیجے، ہدایات کے لیے کتابیں نازل کیں، مگر ہر شخص کو اس کی مرضی پر چھوڑ دیا کیونکہ وہ کہتا ہے کہ ” دین میں زبردستی نہیں “ جو اس کو اختیار کرے گا دنیا و آخرت میں خوش رہے گا جو اختیار نہیں کرے گا دنیا میں بھی بےسکون رہے گا اور آخرت میں تو سزا ملنی ہی ہے۔ اسلام امن و سکون کا مذہب ہے جیسا کہ کئی مرتبہ بتایا جا چکا ہے کہ اس کے اصول، قوانین باقی تمام مذاہب سے بہترین، فائدہ مند اور آسان ہیں ان پر عمل کر کے انسان کو دلی سکون ملتا ہے اور ایسا ہی بندہ اللہ کا مقبول بندہ ہوتا ہے۔ ورنہ عزت، دولت، شہرت اور صحت و تندرستی تو وہ سب کو ہی دیتا ہے جیسا کہ فرعون، نمرود، قوم نوح، عاد اور ثمود وغیرہ بیشمار قومیں گزری ہیں کہ جنہوں نے اللہ کی دی ہوئی تمام نعمتوں کو غلط طریقہ سے استعمال کیا۔ کفر اور شرک کو اختیار کیا۔ آخر وقت تک توبہ نہ کی یا اس وقت توبہ کی جب موت سامنے آکھڑی ہوئی تو ایسے وقت کی توبہ قبول نہیں ہوتی اور بالآخر یہ قومیں اللہ کے غضب کا شکار ہوگئیں ان کا نام و نشان مٹا دیا گیا۔ ہاں ! ایک قوم ایسی ہے یعنی حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم کہ اس نے وقت پر توبہ و استغفار کرلی تو اللہ نے ان پر سے عذاب کو ٹال دیا اور یوں اللہ کی رحمت اور فضل و کرم کے وہ مستحق ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو بتاتا ہے کہ جو لوگ ہدایت کی راہ اختیار کرتے ہیں تو وہ اپنے ہی حق میں اچھا کرتے ہیں جو گمراہی کی راہ اختیار کرتے ہیں وہ اپنے ہی حق میں برا کرتے ہیں۔ آپ کا کام ہے ان کو ہدایت کا راستہ واضح کرنا اور تبلیغ کرنا، سو آپ صبر اور سکون سے ان کو تبلیغ کرتے رہیں اور اللہ کے فرمانبردار پیغمبر ہوتے ہوئے اس کے احکامات کی پیروی پورے خلوص اور محنت سے کیے جائیں۔ ان کی فکر بالکل نہ کریں کیونکہ اللہ بہترین انصاف کرنے والا اور سب کچھ جاننے والا اور بڑا ہی حکمت والا ہے۔ اس نے اچھے برے سب لوگوں کا حساب کتاب اتنے زبردست نظام کے تحت رکھا ہوا ہے کہ کوئی بھی اپنے کیے کی سزا اور جزا پائے بغیر نہ رہ سکے گا۔ وہ رحیم بھی ہے تو جبار بھی ہے۔ اسکی نظر سے کچھ بھی چھپا ہوا نہیں اللہ فرماتا ہے۔ ” اور ہم نے بنایا انسان کو اور ہم جانتے ہیں جو باتیں آتی رہتی ہیں اس کے جی میں، اور ہم اس کے رگ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں۔ “ ( ازمعارف القرآن سورة ق آیت 16) اب موجودہ ایجادات اور سائنس کی تحقیقات نے اس آیت کی سچائی کو بہت زیادہ واضح کردیا ہے۔ مثلاً یہ کہ ہماری آوازیں ریکارڈ ہو رہی ہیں اس کی جیتی جاگتی مثال ریڈیو ہے۔ دنیا میں سینکڑوں ریڈیو سٹیشن ہیں ان کے نشریاتی پروگرام ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے ہر وقت ہمارے آس پاس سے گزرتے رہتے ہیں مگر آپس میں گڈمڈ نہیں ہوتے کیونکہ ان کا بندوبست انسان نے یوں کیا ہے کہ مختلف نشرگاہوں سے نکلی ہوئی آوازیں مختلف طول کی موجوں کے اندر پھیلتی ہیں۔ جس میٹر بینڈ پر جو آواز نشر کی جاتی ہے اسی بینڈ پر ریڈیو سیٹ کی سوئی سیٹ کر کے خاص وہاں کی ہی آواز صاف طور پر سن سکتے ہیں۔ کیا اللہ تعالیٰ کا نظام اس سے کئی گنا زیادہ بہترین اور صحیح نہیں ہوسکتا ؟ کیوں نہیں ہوسکتا۔ ہمارے دل میں آیا ہوا خیال، ہمارے اعضاء کا کیا ہوا عمل، ہر چیز، ہر وقت، اندھیرا ہو یا اجالا، باقاعدہ ریکارڈ ہو رہا ہے۔ اور یہی ریکارڈ ہمارے سامنے پیش کردیا جائے گا۔ اب سائنس نے اس تمام عمل کو ثابت کردیا ہے یہ کوئی اندھا اعتقاد نہیں رہ گیا اس کی دلیل انسان خود مہیا کر رہا ہے۔ پھر بھی اگر انسان حیات بعد الموت اور حساب کتاب پر یقین نہ کرے غفلت اور کفر شرک اور گناہوں میں ڈوبا رہے تو کیا یہ اس کی اپنی بےعقلی نہیں ؟ اور آخرت میں ملنے والے عذاب کا وہ خود ذمہ دار نہیں ؟ بالکل وہ خود ہی اپنے اعمال اور اجر وثواب کا ذمہ دار ہے۔ اللہ نے تو اس کو حق پر ہی پیدا کیا ہے۔ اب دنیا کی مصروفیات میں گم ہو کر اللہ کے سامنے حاضر ہونے کو بھول جائے تو یہ اس کی اپنی مرضی ہے۔ شاعر مشرق علامہ محمد اقبال یوں وضاحت کرتے ہیں۔ عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری یہ سورت چونکہ مکی زندگی کے آخری دور میں نازل ہوئی جبکہ کفار مسلمانوں پر بہت سے ظلم ڈھاچکے تھے اور جہاد کی اجازت نہیں تھی اس لیے اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ مسلمانوں کو صبر کے ساتھ سب کچھ برداشت کرنے اور وحی کی اتباع کا حکم دیا ہے اور ساتھ ہی انہیں اچھے دنوں کی آمد کی خوشخبری بھی دی جارہی ہے۔ اللہ کے فضل و کرم اور مہربانی سے آج ہم سورة یونس ختم کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں اللہ تعالیٰ میرے اس کام کو قبول کرے اور میری مدد فرمائے کہ میں اس کے بھیجے ہوئے پیغام کی تشریح اسی کامیاب طریقہ سے کرسکوں جس کی مجھے تمنا ہے۔ اور جو ہماری نئی نسل کے لیے بہتری اور ہدایت کا بہترین ذریعہ بن سکے۔ آمین ثم آمین۔