12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 12:58–101

وَ جَآءَ اِخْوَةُ یُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَیْهِ فَعَرَفَهُمْ وَ هُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ Open ayah 12:58 in the Quran reader

اور یوسف کے بھائی (کنعان سے مصر میں غلہ خریدنے کے لیے) آئے تو یوسف (علیہ السلام) کے پاس گئے تو یوسف (علیہ السلام) نے ان کو پہچان لیا اور وہ ان کو نہ پہچان سکے۔

وَ لَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِیْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِیْكُمْ١ۚ اَلَا تَرَوْنَ اَنِّیْۤ اُوْفِی الْكَیْلَ وَ اَنَا خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 12:59 in the Quran reader

جب یوسف نے ان کے لیے ان کا سامان تیار کردیا تو کہا کہ پھر آنا تو جو باپ کی طرف سے تمہارا ایک اور بھائی ہے اسے بھی میرے پاس لیتے آنا۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں ماپ بھی پورا دیتا ہوں اور مہمان داری بھی خوب کرتا ہوں۔

فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِیْ بِهٖ فَلَا كَیْلَ لَكُمْ عِنْدِیْ وَ لَا تَقْرَبُوْنِ Open ayah 12:60 in the Quran reader

اگر تم اسے میرے پاس نہ لائو گے تو نہ تمہیں میرے ہاں سے غلہ ملے گا اور نہ تم میرے پاس ہی آسکو گے۔

قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اَبَاهُ وَ اِنَّا لَفٰعِلُوْنَ Open ayah 12:61 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ہم اس کے بارے میں اس کے والد سے تذکرہ کریں گے اور ہم یہ کام کر کے رہیں گے۔

وَ قَالَ لِفِتْیٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِیْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَعْرِفُوْنَهَاۤ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 12:62 in the Quran reader

اور یوسف نے اپنے خدام سے کہا کہ ان کا سرمایہ (غلے کی قیمت) ان کے شلیتوں میں رکھ دو عجب نہیں کہ جب یہ اپنے اہل و عیال میں جائیں تو اسے پہچان لیں اور عجب نہیں کہ پھر یہاں آئیں۔

فَلَمَّا رَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْهِمْ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَیْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكْتَلْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:63 in the Quran reader

جب وہ اپنے باپ کے پاس واپس گئے تو کہنے لگے کہ ابا جان ! ( جب تک ہم بنیا میں کو ساتھ نہ لے جائیں) ہمارے لیے غلے کی بندش کردی گئی ہے تو ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دیجیے تاکہ ہم پھر غلہ لائیں اور ہم اس کے نگہبان ہیں۔

قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَیْهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنْتُكُمْ عَلٰۤى اَخِیْهِ مِنْ قَبْلُ١ؕ فَاللّٰهُ خَیْرٌ حٰفِظًا١۪ وَّ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:64 in the Quran reader

(یعقوب نے کہا) کیا میں اس کے بارے میں تم پر اعتبار کروں جیسا پہلے اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا ؟ سو اللہ ہی بہتر نگہبان ہے اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔

وَ لَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَیْهِمْ١ؕ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا نَبْغِیْ١ؕ هٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیْنَا١ۚ وَ نَمِیْرُ اَهْلَنَا وَ نَحْفَظُ اَخَانَا وَ نَزْدَادُ كَیْلَ بَعِیْرٍ١ؕ ذٰلِكَ كَیْلٌ یَّسِیْرٌ Open ayah 12:65 in the Quran reader

اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا، دیکھا کہ ان کا سرمایہ واپس کردیا گیا ہے کہنے لگے، ابا ہمیں اور کیا چاہے دیکھیے یہ ہمارا سرمایہ بھی ہمیں واپس کردیا گیا ہے۔ اب ہم اپنے اہل و عیال کے لیے پھر غلہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی نگہبانی کریں گے اور ایک بار شتر زیادہ لائیں گے کہ یہ غلہ جو ہم لائے ہیں تھوڑا ہے۔

قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِیْ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّحَاطَ بِكُمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ Open ayah 12:66 in the Quran reader

یعقوب نے کہا کہ جب تک تم اللہ کا عہد نہ دو کہ اس کو میرے پاس صحیح وسالم لے آئو گے میں اسے ہرگز تمہارے ساتھ نہیں بھیجنے کا مگر یہ کہ تم گھیر لیے جاؤ (بےبس ہوجاؤ تو مجبوری ہے) جب انہوں نے ان سے عہد کرلیا تو (یعقوب (علیہ السلام) نے) کہا کہ جو قول وقرار ہم کر رہے ہیں اس کا اللہ ضامن ہے۔

وَ قَالَ یٰبَنِیَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ١ؕ وَ مَاۤ اُغْنِیْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۚ وَ عَلَیْهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 12:67 in the Quran reader

اور ہدایت کی کہ میرے بچو ! ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ جدا جدا دروازوں سے داخل ہونا اور میں اللہ کی تقدیر تو تم سے نہیں روک سکتا۔ بیشک حکم اسی کا ہے، میں اسی پر بھروسا رکھتا ہوں اور اہل توکل کو اسی پر بھروسا رکھنا چاہیے۔

وَ لَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَیْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْ١ؕ مَا كَانَ یُغْنِیْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِیْ نَفْسِ یَعْقُوْبَ قَضٰىهَا١ؕ وَ اِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 12:68 in the Quran reader

اور جب وہ ان دروازوں سے داخل ہوئے جہاں سے داخل ہونے کے لیے ان کے والد نے کہا تھا تو وہ تدبیر اللہ کے حکم کو ذرا بھی ٹال نہ سکتی تھی۔ ہاں یعقوب کے دل کی خواہش تھی جو انہوں نے پوری کی تھی اور بیشک وہ صاحب علم تھے، کیونکہ ہم نے ان کو علم سکھایا تھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:69 in the Quran reader

اور جب وہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے (حقیقی) بھائی کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا میں تمہارا بھائی ہوں تو جو سلوک (یہ ہمارے ساتھ) کرتے رہے اس پر افسوس نہ کرنا۔

فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُهَا الْعِیْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ Open ayah 12:70 in the Quran reader

جب ان کا اسباب تیار کردیا تو اپنے بھائی کے شیلتے میں پیالہ رکھ دیا، (پھر جب وہ آبادی سے باہر نکل گئے) تو ایک پکارنے والے نے آواز دی کہ قافلے والو ! تم تو چور ہو۔

قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا عَلَیْهِمْ مَّا ذَا تَفْقِدُوْنَ Open ayah 12:71 in the Quran reader

وہ ان کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے کہ تمہاری کیا چیز کھو گئی ہے ؟

قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَ لِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّ اَنَا بِهٖ زَعِیْمٌ Open ayah 12:72 in the Quran reader

وہ بولے کہ بادشاہ کا (پانی پینے) کا پیالہ کھو گیا ہے اور جو شخص اس کو لے آئے اس کے لیے ایک بار شتر انعام اور میں اس کا ضامن ہوں۔

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كُنَّا سٰرِقِیْنَ Open ayah 12:73 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ اللہ کی قسم تم کو معلوم ہے کہ ہم اس ملک میں اس لیے نہیں آئے کہ خرابی کریں اور نہ ہم چوری کیا کرتے ہیں۔

قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 12:74 in the Quran reader

بولے کہ اگر تم جھوٹے نکلے (چوری ثابت ہوگئی) تو اس کی سزا کیا ہے ؟

قَالُوْا جَزَآؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَآؤُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 12:75 in the Quran reader

انہوں نے کہا اس کی سزا یہ کہ جس کے شیلتے میں وہ دستیاب ہو وہی اس کا بدل قرار دیا جائے۔ ہم ظالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں۔

فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْهِ١ؕ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَ١ؕ مَا كَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ Open ayah 12:76 in the Quran reader

پھر یوسف نے اپنے بھائی کے شیلتے سے پہلے ان کے شیلتوں کو دیکھنا شروع کیا، پھر اپنے بھائی کے شیلتے میں سے اس کو نکال لیا اس طرح ہم نے یوسف کے لیے تدبیر کی ورنہ بادشاہ کے قانون کے مطابق وہ مشیت الٰہی کے سوا اس کو لے نہیں سکتے تھے۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجے بلند کرتے ہیں اور ہر علم والے سے دوسرا علم والا بڑھ کر ہے۔

قَالُوْۤا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْ١ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا١ۚ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:77 in the Quran reader

(یوسف کے بھائیوں نے) کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہے تو کچھ عجب نہیں کہ اس کے ایک بھائی نے بھی پہلے چوری کی تھی۔ یوسف نے اس بات کو اپنے دل میں چھپائے رکھا اور ان پر ظاہر نہ ہونے دیا اور کہا کہ تم بڑے برے لوگ ہو اور جو تم بیان کرتے ہو اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔

قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:78 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ عزیز ! اس کے والد بہت بوڑھے ہیں ( اور اس سے بہت محبت رکھتے ہیں) تو اس کو چھوڑ دیجیے اور اس کی بجائے ہم میں سے کسی کو رکھ لیجیے ہم دیکھتے ہیں کہ آپ احسان کرنے والے ہیں۔

قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 12:79 in the Quran reader

یوسف نے کہا کہ اللہ پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سوا کسی اور کو پکڑ لیں، ایسا کریں تو ہم بڑے بےانصاف ہیں۔

فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِیًّا١ؕ قَالَ كَبِیْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَیْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَ مِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِیْ یُوْسُفَ١ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى یَاْذَنَ لِیْۤ اَبِیْۤ اَوْ یَحْكُمَ اللّٰهُ لِیْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 12:80 in the Quran reader

جب وہ اس سے ناامید ہوگئے تو الگ ہو کر صلاح کرنے لگے، سب سے بڑے نے کہا کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے والد نے تم سے اللہ کا عہد لیا ہے اور اس سے پہلے بھی تم یوسف کے بارے میں قصور کرچکے ہو تو جب تک والد صاحب مجھے حکم نہ دیں، میں تو اس جگہ سے ہلنے کا نہیں، یا اللہ میرے لیے کوئی اور تدبیر کرے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْكُمْ فَقُوْلُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ١ۚ وَ مَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَ مَا كُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ Open ayah 12:81 in the Quran reader

تم سب والد کے پاس واپس جاؤ اور کہو کہ ابا جان ! آپ کے بیٹے نے وہاں جا کر چوری کی ہے اور ہم نے تو اپنی دانست کے مطابق آپ سے اس کے لے آنے کا عہد کیا تھا۔ مگر ہم غیب کی باتوں کے جاننے والے اور یاد رکھنے والے تو نہیں تھے۔

وَ سْئَلِ الْقَرْیَةَ الَّتِیْ كُنَّا فِیْهَا وَ الْعِیْرَ الَّتِیْۤ اَقْبَلْنَا فِیْهَا١ؕ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 12:82 in the Quran reader

اور جس بستی میں ہم ٹھہرے تھے وہاں سے (اہل مصر سے) اور جس قافلے میں ہم آئے ہیں ان سے پوچھ لیجیے اور ہم اس بیان میں بالکل سچے ہیں۔

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِهِمْ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:83 in the Quran reader

جب انہوں نے یہ بات یعقوب سے آکر کہی تو انہوں نے کہا حقیقت یوں نہیں ہے بلکہ یہ بات تم نے اپنے دل سے بنا لی ہے تو صبر ہی بہتر ہے۔ عجب نہیں کہ اللہ ان سب کو میرے پاس لے آئے بیشک وہ دانا اور حکمت والا ہے۔

وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰى عَلٰى یُوْسُفَ وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 12:84 in the Quran reader

پھر ان سے منہ پھیرلیا اور کہنے لگے کہ ” ہائے افسوس “ یوسف اور (رنج و غم میں) ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں اور ان کا دل غم سے بھر رہا تھا۔

قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ یُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِیْنَ Open ayah 12:85 in the Quran reader

بیٹے کہنے لگے کہ واللہ ! اگر آپ اسی طرح یوسف کو یاد ہی کرتے رہیں گے تو یا بیمار ہوجائیں گے یا جان سے ہی چلے جائیں گے۔

قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:86 in the Quran reader

انہوں نے کہا میں تو اپنے دکھ درد کا اظہار اللہ سے کرتا ہوں اور اللہ کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

یٰبَنِیَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَ اَخِیْهِ وَ لَا تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 12:87 in the Quran reader

اے میرے بیٹو ! یوں کرو کہ ایک دفعہ پھر جاؤ یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو، اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو کہ اللہ کی رحمت سے کافرناامید ہوا کرتے ہیں۔

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ Open ayah 12:88 in the Quran reader

جب وہ یوسف کے پاس گئے تو کہنے لگے کہ عزیز ہمیں اور ہمارے اہل و عیال سخت تکلیف میں ہیں اور ہم تھوڑا سا سرمایہ لائے ہیں اور آپ ہمیں اس کے بدلے پورا غلہ دیجیے اور خیرات کیجیے کہ اللہ خیرات کرنے والوں کو ثواب دیتا ہے۔

قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَ اَخِیْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ Open ayah 12:89 in the Quran reader

یوسف نے کہا تمہیں معلوم ہے کہ جب تم نادانی میں پھنسے ہوئے تھے تو تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا ؟

قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ یُوْسُفُ١ؕ قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَ هٰذَاۤ اَخِیْ١٘ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:90 in the Quran reader

وہ بولے کیا تم ہی یوسف ہو ؟ انہوں نے کہا ہاں ! میں ہی یوسف ہوں اور (بنیامین کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگے) یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے۔ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اور صبر کرتا ہے تو اللہ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ (

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ اِنْ كُنَّا لَخٰطِئِیْنَ Open ayah 12:91 in the Quran reader

وہ بولے ” اللہ کی قسم اللہ نے تم کو ہم پر بڑی فضیلت بخشی ہے اور بیشک ہم خطاکار ہیں۔

قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ١ؕ یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ١٘ وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:92 in the Quran reader

یوسف نے کہا کہ آج کے دن سے تم پر کچھ عتاب اور ملامت نہیں ہے۔ اللہ تم کو معاف کرے اور وہ بہت رحم کرنے والا ہے۔

اِذْهَبُوْا بِقَمِیْصِیْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا١ۚ وَ اْتُوْنِیْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 12:93 in the Quran reader

یہ میرا کرتہ لے جاؤ اسے والد صاحب کے منہ پر ڈال دو وہ بینا ہوجائیں گے اور اپنے تمام اہل و عیال کو میرے پاس لے آئو۔ (

وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ Open ayah 12:94 in the Quran reader

اور جب قافلہ مصر سے روانہ ہوا تو ان کے والد کہنے لگے کہ اگر مجھ کو یہ نہ کہو کہ (بوڑھا) بہک گیا ہے تو مجھے تو یوسف کی بو آرہی ہے۔

قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِیْ ضَلٰلِكَ الْقَدِیْمِ Open ayah 12:95 in the Quran reader

وہ بولے کہ واللہ آپ اسی پرانی غلطی میں مبتلا ہیں۔ )

فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا١ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ١ۙۚ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:96 in the Quran reader

( جب خوشخبری دینے والا آپہنچا تو کرتہ یعقوب کے منہ پر ڈال دیا اور وہ بینا ہوگئے اور (بیٹوں سے) کہنے لگے کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں اللہ کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ؟

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِئِیْنَ Open ayah 12:97 in the Quran reader

(بیٹوں نے) کہا ابا ہمارے لیے گناہ کی مغفرت مانگیے بیشک ہم خطاکار تھے۔

قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 12:98 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ میں اپنے رب سے تمہارے لیے بخشش مانگوں گا، بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَؕ Open ayah 12:99 in the Quran reader

جب یہ سب لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے والدین کو اپنے پاس بٹھایا اور کہا مصر میں داخل ہوجائیے اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو امن میں رہیں گے۔

وَ رَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا١ۚ وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْیَایَ مِنْ قَبْلُ١٘ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّیْ حَقًّا١ؕ وَ قَدْ اَحْسَنَ بِیْۤ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اِخْوَتِیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:100 in the Quran reader

اور اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور سب یوسف کے آگے سجدے میں گر پڑے تو اس وقت یوسف نے کہا یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے بچپن میں دیکھا تھا میرے رب نے اسے سچ کردیا اور اس نے مجھ پر بہت سے احسان کیے ہیں کہ مجھ کو جیل خانے سے نکالا اور آپ کو گائوں سے یہاں لایا حالانکہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں فساد ڈال دیا تھا، بیشک میرا رب جو چاہتا ہے تدبیر سے کرتا ہے وہ دانا اور حکمت والا ہے۔ )

رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْكِ وَ عَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۫ اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ Open ayah 12:101 in the Quran reader

(جب یہ سب باتیں ہو چکیں تو) یوسف نے اللہ سے دعا کی کہ اے میرے رب ! تو نے حکومت سے مجھے بہرہ مند کیا اور خوابوں کی تعبیر کا علم بخشا، اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے ! تو ہی دنیا و آخرت میں میرا کارساز ہے، تو مجھے دنیا سے اپنی اطاعت کی حالت میں اٹھائیو اور آخرت میں اپنے نیک بندوں میں داخل کرنا

یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد، والدین سے ملاقات اور آپکی تدبیریں تشریح : مندرجہ بالا آیات کا ترجمہ بعد میں تسلسل سے لکھا جائے گا پہلے ان آیات کی تشریح اور وہ تمام نکات بیان کیے جاتے ہیں جو ہمیں اس داستان یوسف (علیہ السلام) سے ملتے ہیں۔ آپ کی زندگی چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ، بھائیوں کا ظلم و استبداد، دوسرے والدین سے لمبی جدائی تیسرے الزام اور قید خانے کی صعوبتیں۔ اور چوتھا دور عزت و آسائش اور انعام و اکرام کا دور ہے۔ ان آیات میں آخری دور کا ذکر ہے۔ 1 سب سے پہلے تو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ملک پر اقتصادی پریشانی آجائے جیسا کہ مصر قحط کا شکار ہوا تو ایسی صورت میں نظم و نسق کو بحال رکھنے اور لوگوں کو پریشانی سے بچانے کے لیے ضرری ہے کہ حکومت تمام کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے کر غلہ کی قیمت مقرر کر دے اور غلہ خود تقسیم کرے، ایسے موقع پر جو شخص اسکا اہل ہو کہ وہ حالت پر قابو پاسکتا ہے اسے خود لوگوں کی خیر خواہی کے لیے اپنے آپ کو پیش کرنا چاہیے اور حکومت کو اسے موقع دینا چاہیے۔ 2 اللہ مسبب الاسباب ہے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا بڑا سخت امتحان ہوا جس میں وہ پورے اترے اور اللہ سے شکایت نہ کی۔ 3 اولاد سے اگر کوئی غلطی ہوجائے تو معافی مانگنے اور تنبیہ کرنے کے بعد ان کو معاف کردینا والدین کا فرض ہے۔ 4 ہر کام اور ذمہ داری کسی کے سپرد کرتے ہوئے بجائے انسان کے اللہ پر بھروسا کرنا زیادہ بہترین ہے۔ 5 حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں کی رقم جان بوجھ کر ان کے غلہ میں ڈال کر واپس کردی ایسی رقم خرچ کرلینا جائز ہے۔ 6 کسی سے بھی عہد لیتے ہوئے یہ شرط رکھنی چاہیے کہ جتنا اس کی قدرت میں ہو۔ 7 نظر بد برحق ہے، اس کو دور کرنے کے لیے دم کروانا جائز ہے تعویذ کی شریعت نے اجازت نہیں دی اس سے گریز کرنا چاہیے اور جو بھی مناسب تدبیر ہو کرنا چاہیے۔ جیسا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹوں کو مختلف دروازوں سے داخل ہونے کی تاکید کی، کسی بھی اچھی چیز کو دیکھ کر ” بَارَکَ اللّٰہُ “ یا ” مَاشَائَ اللّٰہُ “ ضرور کہنا چاہیے، غیر مسنون دم کروانا اور نجومیوں وغیرہ کے پاس جانا حرام ہے۔ 8 ہر وقت اور ہر صورت اللہ پر بھروسا کرنا چاہیے مگر کام کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے تمام ممکن تدابیر کرنا فرض ہے۔ 9 فرائض سے بچنے کے لیے حیلہ، بہانہ یا مصنوعی عذر پیدا کرنا گناہ ہے۔ 10 نابینا کی شہادت بھی جائز ہے اگر وہ کسی معتبر شخص یا واقعہ کا حوالہ دے۔ 11 ہر مصیبت اور تکلیف حتی کہ جان و مال کا نقصان بھی ہو تو صبر اور شکر سے برداشت کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ جیسا کہ حضرت یعقوب اور حضرت یوسف (علیہما السلام) نے کیا۔ یہی بہترین علاج ہے۔ 12 جب تک مظلوم معاف نہ کرے مغفرت نہیں ہوتی۔ 13 حسد اور بغض کا انجام حاسد اور بغض کرنے والے کے حق میں ہی نقصان دہ ہوتا ہے۔ برادران یوسف کے حالات ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں۔ 14 کسی پر بھی ظلم و زیادتی ہونے پر یا تو اس کا ازالہ کردیا جائے یا پھر معافی مانگ لی جائے۔ 15 یوسف (علیہ السلام) کا شکر ادا کرنے کا انداز بڑا پیارا ہے۔ آپ نے فرمایا۔ ” اللہ تعالیٰ نے مجھ پر احسان کیا، مجھے قید خانے سے نکال دیا، اور آپ کو (والدین اور بھائیوں) باہر سے یہاں لے آیا۔ حالانکہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈالوا دیا تھا، یہاں پر بھی بھائیوں کا راز افشاں نہیں کیا یہ ان کے اعلیٰ اخلاق کی دلیل ہے۔ 16 خواب کی تعبیر بعض اوقات مدت طویل کے بعد پوری ہوتی ہے جیسا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی تعبیر طویل عرصہ بعد ظاہر ہوئی۔ 17 اللہ تعالیٰ جس کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کیلئے ایسے وسیلے اور اسباب بنا دیتا ہے کہ جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتے۔ 18 مصیبت اور پریشانی میں موت کی دعا کرنا منع ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ” کوئی شخص کسی مصیبت کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے، اگر کہنا ہی ہے تو یوں کہے کہ یا اللہ جب تک میرے لیے زندگی بہتر ہے اس وقت تک زندہ رکھ اور جب موت بہتر ہو تو مجھے موت دے دے۔ (بخاری، مسلم) اب ہم ان آیات کا ترجمہ پڑھتے ہیں تاکہ پورا قصہ قرآن کی زبانی معلوم ہو سکے۔ ترجمہ آیات اس حصہ کا مفہوم یہ ہے کہ کمال فراخ دلی سے یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کو معاف کردیا اور فرمایا : آج تم پر کچھ الزام نہیں اللہ تم کو بخشے اور وہ سب مہربانوں سے مہربان ہے۔ (یوسف آیت 92) یہی جملہ نبی اکرم ﷺ نے اہل مکہ کو کہا جب آپ نے مکہ فتح کیا۔ جس قدر تکلیفیں یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے ان کو دی تھیں اسی طرح اہل مکہ نے حضرت محمد ﷺ کو تکلیفیں پہنچائی تھیں۔ یوسف (علیہ السلام) کو بھی برتری عزت اور فتح و کامیابی حاصل ہوئی مگر وہ مغرور نہیں ہوئے بلکہ بڑی فراخدلی، خلوص اور محبت سے سب کو معاف کردیا بالکل اسی طرح آپ ﷺ کو جب اہل مکہ پر پوری طرح برتری اور فتح و کامرانی ملی تو آپ نے بھی وہی طریقہ اختیار کیا جو یوسف (علیہ السلام) نے کیا تھا۔ بلند کرداری، حسن سلوک اور مہرو محبت کی بہترین مثال ان دونوں نے قائم کی اور یہی مسلم کی شان ہے۔ اور پھر ہر صورت میں اللہ کا شکر اور آخرت کی فکر ایمان والوں کو رہتی ہے۔ انبیا (علیہم السلام) بھی اللہ سے دعا میں آخرت کی بھلائیاں اور ایمان کی سلامتی ہی مانگتے رہتے ہیں۔