12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 12:22–57

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗۤ اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:22 in the Quran reader

اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچے تو ہم نے ان کو دانائی اور علم بخشا اور نیکو کاروں کو ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں۔

وَ رَاوَدَتْهُ الَّتِیْ هُوَ فِیْ بَیْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَ غَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَ قَالَتْ هَیْتَ لَكَ١ؕ قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّیْۤ اَحْسَنَ مَثْوَایَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 12:23 in the Quran reader

تو جس عورت کے گھر میں وہ رہتے تھے ان کو اس نے اپنی طرف مائل کرنا چاہا اور دروازے بند کر کے کہنے لگی یوسف جلدی آئو، انہوں نے کہا کہ اللہ پناہ میں رکھے میرے رب نے مجھے بہت اچھا ٹھکانا دیا ہے، ( میں ایسا ظلم نہیں کرسکتا) بیشک ظالم لوگ فلاح نہیں پائیں گے۔

وَ لَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ١ۚ وَ هَمَّ بِهَا لَوْ لَاۤ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ١ؕ كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْٓءَ وَ الْفَحْشَآءَ١ؕ اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 12:24 in the Quran reader

اور اس عورت نے ان کا قصد کیا اور یوسف اس کا قصد کرتے اگر وہ اپنے رب کی دلیل نہ دیکھتے۔ یوں اس لیے کیا گیا کہ ہم ان سے برائی اور بےحیائی کو روک دیں بیشک وہ ہمارے خالص بندوں میں سے تھے۔

وَ اسْتَبَقَا الْبَابَ وَ قَدَّتْ قَمِیْصَهٗ مِنْ دُبُرٍ وَّ اَلْفَیَا سَیِّدَهَا لَدَا الْبَابِ١ؕ قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ اَرَادَ بِاَهْلِكَ سُوْٓءًا اِلَّاۤ اَنْ یُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 12:25 in the Quran reader

اور دونوں دروازے کی طرف بھاگے ( آگے یوسف پیچھے زلیخا) اور عورت نے ان کا کرتہ پیچھے سے پکڑ کر جو کھینچا تو پھاڑ ڈالا اور دونوں کو دروازے کے پاس عورت کا خاوند مل گیا تو عورت بولی کہ جو شخص تمہاری بیوی کے ساتھ برا ارادہ کرے اس کی اس کے سوا کیا سزا ہے کہ یا تو قید کیا جائے یا دکھ کا عذاب دیا جائے۔

قَالَ هِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّفْسِیْ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَ هُوَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 12:26 in the Quran reader

( یوسف نے) کہا اسی نے مجھ کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا، اس کے قبیلے میں سے ایک گواہی دینے والے نے یہ گواہی دی کہ اگر اس کا کرتہ آگے سے پھٹا ہو تو یہ سچی ہے اور ( یوسف) جھوٹا۔ (

وَ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَ هُوَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:27 in the Quran reader

اور اگر کرتا پیچھے سے پھٹا ہو تو یہ جھوٹی اور وہ سچا ہے۔

فَلَمَّا رَاٰ قَمِیْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنْ كَیْدِكُنَّ١ؕ اِنَّ كَیْدَكُنَّ عَظِیْمٌ Open ayah 12:28 in the Quran reader

جب اس کا کرتا دیکھا تو پیچھے سے پھٹا تھا تب اس نے ( زلیخا سے) کہا کہ یہ تمہارا ہی فریب ہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ تم عورتوں کے فریب بڑے بھاری ہوتے ہیں۔

یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ٚ وَ اسْتَغْفِرِیْ لِذَنْۢبِكِ١ۖۚ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِئِیْنَ۠ Open ayah 12:29 in the Quran reader

یوسف ! اس بات کا خیال نہ کر اور زلیخا ! تو اپنے گناہوں کی بخشش مانگ، بیشک خطا تیری ہے۔

وَ قَالَ نِسْوَةٌ فِی الْمَدِیْنَةِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنْ نَّفْسِهٖ١ۚ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا١ؕ اِنَّا لَنَرٰىهَا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 12:30 in the Quran reader

اور شہر میں عورتیں چہ میگوئیاں کرنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے غلام کو اپنی طرف مائل کرنا چاہتی ہے اور اس کی محبت اس کے دل میں گھر کرگئی ہے، ہم دیکھتی ہیں کہ وہ صریح گمراہی میں ہے۔

فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَیْهِنَّ وَ اَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَاً وَّ اٰتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّیْنًا وَّ قَالَتِ اخْرُجْ عَلَیْهِنَّ١ۚ فَلَمَّا رَاَیْنَهٗۤ اَكْبَرْنَهٗ وَ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ وَ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًا١ؕ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا مَلَكٌ كَرِیْمٌ Open ayah 12:31 in the Quran reader

جب اس (زلیخا) نے ان عورتوں کی (مکارانہ) گفتگو (جو اصل میں دیدار یوسف کے لیے ایک چال تھی) سنی تو ان کے پاس دعوت کا پیغام بھیجا اور ان کے لیے ایک محفل مرتب کی اور پھل کاٹنے کے لیے ہر ایک کو ایک چھری دی اور یوسف سے کہا کہ ان کے سامنے باہر آئو۔ جب عورتوں نے ان کو دیکھا تو انہیں (حُسن میں) بہت عظیم سمجھا اور اپنے ہاتھ کاٹ (کرزخمی کر) لیے۔ اور بےساختہ بول اٹھیں کہ سبحان اللہ یہ آدمی نہیں، کوئی بزرگ فرشتہ ہے۔

قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِیْ لُمْتُنَّنِیْ فِیْهِ١ؕ وَ لَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَ١ؕ وَ لَئِنْ لَّمْ یَفْعَلْ مَاۤ اٰمُرُهٗ لَیُسْجَنَنَّ وَ لَیَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِیْنَ Open ayah 12:32 in the Quran reader

تب زلیخا نے کہا یہ وہی ہے جس کے بارے میں تم مجھے طعنے دیتی تھیں اور بیشک میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا مگر یہ بچا رہا اور اگر یہ وہ کام نہ کرے گا جو میں اسے کہتی ہوں تو قید کردیا جائے گا اور ذلیل ہوگا۔

قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ١ۚ وَ اِلَّا تَصْرِفْ عَنِّیْ كَیْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَیْهِنَّ وَ اَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 12:33 in the Quran reader

یوسف نے دعا کی کہ پروردگار ! جس کام کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اس کی بجائے مجھے قید پسند ہے اور اگر تو مجھ سے ان کے فریب کو نہ ہٹائے گا تو میں ان کی طرف مائل ہوجاؤں گا اور نادانوں میں شمار ہوجاؤں گا۔

فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَیْدَهُنَّ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 12:34 in the Quran reader

تو اللہ نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان سے عورتوں کا مکر دفع کردیا، بیشک وہ سننے والا جاننے والا ہے۔

ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰیٰتِ لَیَسْجُنُنَّهٗ حَتّٰى حِیْنٍ۠ Open ayah 12:35 in the Quran reader

پھر باوجود اس کے کہ وہ لوگ نشان دیکھ چکے تھے، ان کی رائے یہی ٹھہری کہ کچھ عرصہ کے لیے ان کو قید ہی کردیں۔

وَ دَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَیٰنِ١ؕ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَعْصِرُ خَمْرًا١ۚ وَ قَالَ الْاٰخَرُ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِیْ خُبْزًا تَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْهُ١ؕ نَبِّئْنَا بِتَاْوِیْلِهٖ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:36 in the Quran reader

اور ان کے ساتھ دو اور جوان بھی جیل میں داخل ہوئے۔ ایک نے ان میں سے کہا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ شراب کے لیے انگور نچوڑ رہا ہوں۔ دوسرے نے کہا کہ میں نے بھی خواب دیکھا ہے کہ میں اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اور جانور ان میں سے کھا رہے ہیں تو آپ ہمیں ان کی تعبیر بتا دیجئے کہ ہم تمہیں نیکو کار دیکھتے ہیں۔

قَالَ لَا یَاْتِیْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِیْلِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّاْتِیَكُمَا١ؕ ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ١ؕ اِنِّیْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 12:37 in the Quran reader

یوسف نے کہا کہ جو کھانا تمہیں ملنے والا ہے وہ آنے نہیں پائے گا کہ میں اس سے پہلے تم کو اس کی تعبیر بتا دوں گا۔ یہ ان باتوں میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے سکھائی ہیں، جو لوگ اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور روز آخرت سے انکار کرتے ہیں میں ان کا مذہب چھوڑے ہوئے ہوں۔

وَ اتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نُّشْرِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَیْنَا وَ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 12:38 in the Quran reader

اور اپنے باپ دادا ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کے مذہب پر چلتا ہوں ہمیں شایاں نہیں ہے کہ کسی چیز کو اللہ کے ساتھ شریک بنائیں۔ یہ اللہ کا فضل ہے ہم پر بھی اور لوگوں پر بھی لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُؕ Open ayah 12:39 in the Quran reader

) میرے جیل کے رفیقو ! بھلا کئی جدا جدا آقا اچھے یا ایک اللہ واحد اور غالب ؟

مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسْمَآءً سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:40 in the Quran reader

جن چیزوں کی تم اللہ کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں۔ جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں، اللہ نے ان کی کوئی سند نازل نہیں کی، سن لو کہ اللہ کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہے، اس نے فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَیَسْقِیْ رَبَّهٗ خَمْرًا١ۚ وَ اَمَّا الْاٰخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْ رَّاْسِهٖ١ؕ قُضِیَ الْاَمْرُ الَّذِیْ فِیْهِ تَسْتَفْتِیٰنِؕ Open ayah 12:41 in the Quran reader

میرے جیل کے ساتھیو ! تم میں سے ایک جو پہلے خواب بیان کرنے والا ہے وہ تو اپنے آقا کو شراب پلایا کرے گا اور جو دوسرا ہے وہ سولی دیا جائے گا اور جانور اس کا سر نوچ نوچ کھائیں گے جو کچھ تم مجھ سے پوچھتے وہ فیصل ہوچکا ہے۔

وَ قَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّكَ١٘ فَاَنْسٰىهُ الشَّیْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَؕ۠ Open ayah 12:42 in the Quran reader

اور دونوں بندوں میں سے جس کی نسبت یوسف نے خیال کیا کہ وہ رہائی پا جائے گا، اس سے کہا کہ اپنے آقا سے میرا ذکر بھی کرنا، لیکن شیطان نے ان کا اپنے آقا سے ذکر کرنا بھلا دیا، اور یوسف کئی برس جیل میں ہی رہے۔

وَ قَالَ الْمَلِكُ اِنِّیْۤ اَرٰى سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِیْ فِیْ رُءْیَایَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْیَا تَعْبُرُوْنَ Open ayah 12:43 in the Quran reader

پھر بادشاہ نے کہا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں، سات خوشے سبز ہیں اور سات خشک۔ اے سردارو ! اگر تم خوابوں کی تعبیر دے سکتے ہو تو مجھے میرے خواب کی تعبیر بتائو۔

قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ١ۚ وَ مَا نَحْنُ بِتَاْوِیْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِیْنَ Open ayah 12:44 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ یہ تو پریشان خواب ہیں ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں آتی۔

وَ قَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْهُمَا وَ ادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِیْلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ Open ayah 12:45 in the Quran reader

اب وہ شخص جو دونوں قیدیوں میں سے رہائی پا گیا تھا اور جسے مدت کے بعد وہ بات یاد آگئی، بول اٹھا کہ میں اس کی تعبیر لا بتاتا ہوں مجھے (جیل خانے) جانے کی اجازت دیجئے۔

یُوْسُفُ اَیُّهَا الصِّدِّیْقُ اَفْتِنَا فِیْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ۙ لَّعَلِّیْۤ اَرْجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:46 in the Quran reader

(غرض وہ یوسف کے پاس آیا اور کہنے لگا) اے بڑے سچے یوسف ! ہمیں اس خواب کی تعبیر بتائیے کہ سات موٹی گائیوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں، سات خوشے سبز ہیں اور سات سوکھے، تاکہ میں لوگوں کے پاس جا کر تعبیربتائوں، عجب نہیں کہ وہ ( تمہاری قدر) جانیں۔

قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًا١ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِیْ سُنْۢبُلِهٖۤ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 12:47 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ تم لوگ سات سال متواتر کھیتی باڑی کرتے رہو گے تو جو غلہ کاٹو تو تھوڑے سے غلے کے سوا جو کھانے میں آئے اسے خوشوں میں ہی رہنے دو ۔

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ Open ayah 12:48 in the Quran reader

پھر اس کے بعد خشک سالی کے ساتھ سات سال آئیں گے کہ جو غلہ تم نے جمع کر رکھا ہوگا وہ اس سب کو کھا جائیں گے صرف وہی تھوڑا سا رہ جائے گا جو تم احتیاط سے رکھ چھوڑو گے۔

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِیْهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیْهِ یَعْصِرُوْنَ۠ Open ayah 12:49 in the Quran reader

پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا کہ خوب بارش ہوگی اور لوگ اس میں رس نچوڑیں گے۔

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ فَسْئَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِكَیْدِهِنَّ عَلِیْمٌ Open ayah 12:50 in the Quran reader

(یہ تعبیر سن کر) بادشاہ نے حکم دیا کہ یوسف کو میرے پاس لے آئو۔ جب قاصد ان کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے، بیشک میرا پروردگار ان کے مکروں سے خوب واقف ہے۔

قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْئٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ١٘ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:51 in the Quran reader

بادشاہ نے عورتوں سے پوچھا کہ بھلا اس وقت کیا ہوا تھا جب تم نے یوسف کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا ؟ سب بول اٹھیں کہ حاشالِلّٰہِ ہم نے اس میں کوئی برائی معلوم نہیں کی۔ عزیز کی عورت نے کہا، اب سچی بات تو ظاہر ہو ہی گئی ہے، اصل یہ ہے کہ میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا اور وہ بیشک سچا ہے۔

ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآئِنِیْنَ Open ayah 12:52 in the Quran reader

یوسف نے کہا کہ میں نے یہ بات اس لیے پوچھی ہے کہ عزیز کو یقین ہوجائے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس کی امانت میں خیانت نہیں کی اور اللہ خیانت کرنے والوں کے مکروں کو چلنے نہیں دیتا۔

وَ مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْ١ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 12:53 in the Quran reader

اور میں اپنے آپ کو پاک صاف نہیں کہتا کیونکہ نفس امارہ انسان کو برائی ہی سکھاتا رہتا ہے۔ مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے بیشک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖۤ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِیْ١ۚ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَكِیْنٌ اَمِیْنٌ Open ayah 12:54 in the Quran reader

بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لائو میں اسے اپنا مصاحب خاص بنائوں گا، پھر جب ان سے گفتگو کی تو کہا، کہ آج سے تم ہمارے ہاں صاحب منزلت اور صاحب اعتبار ہو۔

قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰى خَزَآئِنِ الْاَرْضِ١ۚ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ Open ayah 12:55 in the Quran reader

(یوسف نے) کہا مجھے اس ملک کے خزانوں پر مقرر کردیجیے کیونکہ میں حفاطت بھی کرسکتا ہوں اور اس کام سے واقف ہوں۔

وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١ۚ یَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَآءُ١ؕ نُصِیْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُ وَ لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:56 in the Quran reader

اس طرح ہم نے یوسف کو مصر کے ملک میں جگہ دی اور وہ اس ملک میں جہاں چاہتے تھے رہتے تھے۔ ہم اپنی رحمت جس پر چاہتے ہیں کرتے ہیں اور نیکوکاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے۔

وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 12:57 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے رہے ان کے لیے آخرت کا اجر بہت بہتر ہے۔

انسانی کردار کی مضبوطی، اللہ کی قدرت فیصلہ اور اسباب ان تمام آیات کا خلاصہ، مقصد اور خاص، خاص حکمتیں تشریح کی صورت میں خلاف معمول ترجمہ سے پہلے لکھی جا رہی ہیں تاکہ آیات کے ترجمہ کے درمیان تسلسل میں فرق نہ پڑے اور مقصد سمجھ میں آتا چلا جائے۔ تشریح : والدین سے جدائی، کنویں کی قید اور پھر غلام بن کر بک جانا۔ یہ سب تو آزمائشیں تھیں جو آپ پر پڑیں اور اب عزیز مصر یعنی رئیس اعظم کے گھر آپ کو مکمل آرام و آسائش کی زندگی ملی اور اب آپ سن بلوغت کو پہنچ گئے تو پھر ایک آزمائش آپ کے اوپر آپڑی۔ آپ انتہائی خوب صورت اور خوب سیرت انسان تھے۔ عزیز مصر کی بیوی آپ پر فریفتہ ہوگئی جب آپ نے اس کی گناہ کرنے کی دعوت قبول نہ کی تو اس نے آپ پر تہمت لگائی۔ اور یوں آپ کو قید میں ڈال دیا گیا۔ یہاں سب سے پہلے تو یہ نکتہ ملتا ہے کہ مرد و عورت کا آزادانہ میل جول گناہ، بدکاری اور معاشرہ کی خرابی کا باعث بنتا ہے اسلام کا اصول کہ مرد و زن آنکھیں نیچی رکھیں اور درمیان میں پردہ رکھیں بڑا معقول اصول ہے۔ اس پر پابندی ہونی چاہیے۔ گناہ، بدکاری، بددیانتی اور خوف الٰہی سے بچنے کے لیے انسان کی تربیت بچپن سے ہونی چاہیے۔ والدین کا فرض ہے وہ بچوں کو خوب اچھی طرح سمجھا دیں کہ انسان کے اندر تین طاقیں ہوتی ہیں۔ جن کو ہم نفس کا نام دیتے ہیں۔ 1 نفسِ ” امارہ “ یہ وہ نفس ہے جس پر شیطان چھا جاتا ہے اور انسان کو ہر بری راہ پرچلانے کی ترغیب دیتا ہے۔ اور پریشانی کا باعث ہوتا ہے۔ 2 ” نفس لوامہ “ یہ وہ طاقت ہے جو انسان کو گناہ سے روکنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔ اگر برائی سے نہ رکے تو پھر بھی توبہ کرنے کی ترغیب دیتا ہے اور انسان کو ہر وقت خبردار کرتا ہے۔ یعنی نیکی و بدی کی لڑائی۔ 3 ” نفس مطمئنہ “ یہ اپنی روح کی بات مانتا ہے۔ شیطان سے یعنی برائی سے نفرت کرتا ہے اور ہمیشہ نیکی کی راہ پر چلاتا ہے اور اللہ کی خوشنودی ہی اس کا مقصد حیات ہوتا ہے۔ ایسے لوگ خوش قسمت ہوتے ہیں اپنے رب سے راضی اور مطمئن رہتے ہیں۔ اور اللہ ان سے راضی رہتا ہے اور جنت کے حق دار ہوتے ہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے زلیخا کی طرف سے گناہ کی دعوت کو قبول نہ کر کے ثابت کردیا کہ وہ بڑے دیانت دار، احسان کا پاس رکھنے والے، مضبوط کردار کے مالک، خوف الٰہی رکھنے والے متقی اور انتہائی پاکباز صالح انسان تھے۔ وہ برائی سے بچنے کے لیے دعا میں یہ مانگ بیٹھے کہ اس سے تو اچھا ہے اللہ تو مجھے قید میں ڈال دے۔ تو یہاں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ سے عافیت کی دعا کرنی چاہیے صبر کی نہیں۔ اس سے عافیت مانگو تو وہ عافیت دیتا ہے۔ یوسف (علیہ السلام) نے قید مانگ لی تو قید مل گئی۔ آپ نے قید کا زمانہ انتہائی پاکیزگی، عبادت، ریاضت اور خشوع و خضوع سے گزارا۔ آپ کو رسالت تو مل ہی چکی تھی۔ آپ کو اللہ کی طرف سے علم و عقل تدبر اور خواب کی تعبیر کا ملکہ مل چکا تھا۔ آپ نے دو نئے قیدیوں کو خواب کی تعبیر بتانے سے پہلے توحید کا سبق بڑی وضاحت سے دیا اور بتایا کہ یہی سبق میرے باپ یعقوب دادا اسحاق اور پردادا ابراہیم (علیہم السلام) نے دیا ہے۔ آپ تقریباً سات سال قید میں رہے جب اللہ نے چاہا تو ان کی رہائی کے اسباب پیدا کردیے۔ بادشاہ وقت ریان بن الولید نے خواب کی تعبیر سن کر اندازہ لگا لیا کہ یہ بڑا علم و فضل رکھنے والا شخص ہے لہٰذا اس نے ان کی رہائی کا حکم دے دیا۔ پھر یہاں ایک سبق ملتا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے رہائی قبول کرنے پر شرط لگائی کہ پہلے میری سزا کی وجہ اور میری بےگناہی کو سر عام لایا جائے پھر میں آزاد ہونا منظور کروں گا۔ یہ بھی ان کی خود داری، ثابت قدمی اور اللہ کی ذات پر توکل کی ایک نشانی تھی۔ یہ اصول ہر انسان کو اپنی زندگی میں اپنانا چاہیے جب آپ قید سے رہا ہوئے تو آپ خوشی سے بےقابو نہیں ہوئے بلکہ اللہ کی تعریف کی اور ہر بھلائی، ہر کامیابی اور ہر عزت و عافیت کو اللہ ہی کی خاص عنایت قرار دیا۔ حقیقت میں عزت دینے والا، ذلت دینے والا اللہ ہی تو ہے۔ اس نے ایسے اسباب پیدا کیے کہ بادشاہ نے یوسف (علیہ السلام) کو اپنے خاص الخاص بندوں میں شامل کرلیا۔ اور یوں آپ کو وزارت مال و خزانہ سونپ دی گئی اور آپ قید سے نکل کر ملک کے بہترین عہدے پر فائز کردیے گئے۔ کس قدر بہترین اصول ہیں اسلام کے اگر ان پر عمل کریں تو اللہ تعالیٰ انسان کو بیشمار دنیوی غلاظتوں سے بچا کر خوبصورت مطمئن اور پرسکون زندگی دیتا ہے اور اسی طرح آخرت میں بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بھلائیاں، خوشیاں، راحتیں، کامیابیاں اور سکون ملے گا۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اب ہم ان تمام آیات کا ترجمہ دیکھتے ہیں۔ یہاں پارہ نمبر 12 ختم ہوگیا ہے لہٰذا آیت نمبر 53 سے آیت نمبر 111 تک پارہ نمبر 13 میں سورة یوسف بیان کی گئی ہے مذکورہ سورت کا بقیہ حصہ اگلے پارہ نمبر 13 میں ملاحظہ فرمائیں۔