12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 12:102–111

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ۚ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ وَ هُمْ یَمْكُرُوْنَ Open ayah 12:102 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ ! ) یہ خبریں غیب میں سے ہیں جو ہم آپ کی طرف بھیجتے ہیں اور جب یوسف کے بھائیوں نے اپنی بات پر اتفاق کیا تھا اور وہ فریب کر رہے تھے تو آپ ان کے پاس تو نہ تھے۔

وَ مَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 12:103 in the Quran reader

اور بہت سے لوگ چاہے آپ کتنی ہی خواہش کرو ایمان لانے والے نہیں ہیں۔

وَ مَا تَسْئَلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 12:104 in the Quran reader

اور آپ ان سے اس (خیر خواہی) کا کوئی بدلہ بھی تو نہیں مانگتے۔ یہ قرآن اور کچھ نہیں مگر تمام عالم کے لیے نصیحت ہے۔

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 12:105 in the Quran reader

اور آسمان اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر یہ گزرتے ہیں اور ان سے اعراض کرتے ہیں۔

وَ مَا یُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَ هُمْ مُّشْرِكُوْنَ Open ayah 12:106 in the Quran reader

اور ان میں سے اکثر اللہ پر ایمان نہیں رکھتے مگر اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ (

اَفَاَمِنُوْۤا اَنْ تَاْتِیَهُمْ غَاشِیَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ اَوْ تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:107 in the Quran reader

کیا یہ اس بات سے بےخوف ہیں کہ ان پر اللہ کا عذاب نازل ہو کر ان کو ڈھانپ لے یا ان پر اچانک قیامت آجائے اور انہیں خبر بھی نہ ہو۔

قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؔ۫ عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 12:108 in the Quran reader

فرما دیں میرا رستہ تو یہ ہے میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں پورے یقین، اعتماد اور سوچ سمجھ کر، میں بھی لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتا ہوں اور میرے پیرو بھی، اور اللہ پاک ہے اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى١ؕ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:109 in the Quran reader

اور ہم نے آپ سے پہلے بستیوں کے رہنے والوں میں سے مرد ہی بھیجے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے کیا ان لوگوں نے ملک میں سیرو سیاحت نہیں کی کہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا ؟ اور متقیوں کے لیے آخرت کا گھر بہت اچھا ہے کیا تم نہیں سمجھتے ؟

حَتّٰۤى اِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّیَ مَنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 12:110 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب پیغمبر ناامیدہو گئے اور انہوں نے خیال کیا کہ اپنی فتح کے بارے میں جو بات انہوں نے کہی تھی اس میں وہ سچے نہیں نکلے تو ان کے پاس ہماری مدد آپہنچی۔ پھر جسے ہم نے چاہا بچا دیا اور ہمارا عذاب اتر کر گنہگار لوگوں سے پھرا نہیں کرتا۔

لَقَدْ كَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ١ؕ مَا كَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰى وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 12:111 in the Quran reader

ان کے قصہ میں عقل مندوں کے لیے عبرت ہے۔ یہ قرآن ایسی بات نہیں ہے جو جھوٹ موٹ بنائی گئی ہو بلکہ جو کتابیں اس سے پہلے نازل ہوئی ہیں ان کی تصدیق کرنے والا ہے۔ ہر چیز کی تفصیل کرنے والا مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔

اللہ، رسول اور قرآن کی سچائی کا ثبوت تشریح : سورة یوسف کا قصہ پچھلے گیارہ رکوعوں میں ختم ہوگیا ہے۔ اس سورت کا شان نزول یہی تھا کہ اہل قریش جو آپ پر ایمان نہ لانا چاہتے تھے انہوں نے آپ کو آزمانے کے لیے کہا کہ اچھا اگر آپ رسول ہو تو بتائو کہ بنی اسرائیل کس طرح مصر میں آباد ہوئے ؟ اللہ تعالیٰ نے اسی وقت وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کا پورا قصہ بتا دیا جس میں بیشمار نصیحت کی باتیں ہیں اور اس کا ثبوت اور وجوہات بھی بڑی تفصیل سے بتا دی گئی ہیں کہ بنی اسرائیل کس طرح اور کب مصر میں پہنچے۔ یہ سوال اہل قریش نے اس لیے نہیں کیا تھا کہ معقول جواب ملنے پر وہ سب ایمان لے آئیں گے بلکہ اللہ تعالیٰ نبی اکرم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ کا خیال ہے اب یہ ایمان لے آئیں گے ؟ ہرگز نہیں یہ تو ہیں ہی ہٹ دھرم اور بےوقوف۔ انہوں نے اگر ایمان لانا ہوتا تو چاروں طرف پھیلی ہوئی قدرت کی نشانیاں کیا ان کے لیے کم ہیں جن کو دیکھ کر غور کر کے یہ خالق کو پہچان سکتے ہیں اور پھر یہ لوگ خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ بستیوں میں سے کسی نہ کسی صالح انسان کو چن کر پیغمبر بناتے رہے ہیں، مثلاً حضرت نوح، ابراہیم، ہود، صالح، عیسیٰ اور موسیٰ علیہم السلام، پھر ان کو کتابیں دی گئیں اور جب ان کی قوموں نے راہ ہدایت چھوڑ کر شیطانی راہیں اور طور طریقے اپنا لیے تو کچھ مہلت دینے کے بعد ان کو عذاب دے کر نیست و نابود کردیا گیا۔ عبرت کے لیے ان کے کھنڈرات موجود ہیں۔ مگر یہ لوگ نہ عبرت حاصل کرنے والے ہیں اور نہ ہی غورو فکر کرنے والے ہیں ہدایت صرف وہ لوگ حاصل کرتے ہیں جن کو اللہ ہدایت دے اور جو ہدایت حاصل کرنا چاہیں۔ اللہ تعالیٰ حضرت محمد ﷺ کو تسلی دیتے ہیں کہ آپ بالکل نہ گھبرائیں۔ سکون سے اپنا کام کیے جائیں اور ان کو بتا دیں کہ میرا اور میرے ماننے والوں کا رب صرف ایک ہے نہ اس کا کوئی شریک ہے اور نہ وہ کسی کا محتاج ہے وہ ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا اور اسی نے مجھے انسانوں کی اصلاح کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے قرآن پاک جیسی بہترین، جامع اور مکمل کتاب دی ہے۔ اب جو لوگ آخرت کی فکر کریں گے ان کو اس قصہ یوسف سے سبق حاصل کرنا چاہیے کہ ایک ہی رسول کے گھر میں دو فطرت کے انسانوں نے پرورش پائی۔ برادران یوسف صرف اور صرف دنیوی فائدوں کے پیچھے بھاگتے رہے اور ان کو حاصل کرنے کے لیے انہوں نے دھوکہ، فریب، بددیانتی، جھوٹ اور بھائی کو کنویں میں پھینکنے جیسے بھیانک جرم کیے۔ جبکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اور آپ کے بھائی بنیامین اور یعقوب (علیہ السلام) نیک فطرت، مضبوط کردار، سچے اور پکے مسلمان اللہ پر پورا پورا بھروسا رکھنے والے، تو دونوں گروہوں کا انجام ہمارے سامنے ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) ، ان کے والد اور بھائی کو اللہ رب العزت نے کیسے عروج عطا کیا جبکہ باقی بھائیوں کو کس قدر ذلت و خواری ملی۔ یہ تو صرف دنیا کا حساب کتاب تھا آخرت میں تو ان کو جہنم کا عذاب یا جو بھی عذاب اللہ ان کے لیے ان کے اعمال کے مطابق تجویز کرے گا ضرور ملے گا جبکہ نیک، صالح اور متقی یوسف (علیہ السلام) کو آخرت میں بھی بہترین انعامات ملیں گے۔ قرآن پاک میں جو کچھ بتایا جا رہا ہے یہ سب سچ اور حق ہے۔ جتنی آسمانی کتابیں اتر چکی ہیں قرآن پاک ان سب کی تصدیق کرتا ہے۔ اس سورت میں یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ اسلام عالمگیر مذہب ہے کیونکہ اس میں بتائے گئے اصول، دستور اور قوانین انسانی زندگی کے لیے پیدائش سے لے کر موت تک کے لیے وضع کیے گئے ہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے انہی اصولوں کو اپنا کر عزت، دولت، شہرت، علم، فیاضی، فراست، صبر اور سکون حاصل کیا جبکہ بڑے بھائیوں نے دین سے دور ہو کر ذلت، خواری، نحوست، حسد، بغض، تنگ دلی، گھبراہٹ، خود غرضی اور بےسکونی حاصل کی۔ بس یہی فرق ہے اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے اور نہ کرنے کا۔ اور آخرت میں جزا اور سزا کا دارومدار بھی اسی دنیا میں کیے گئے اعمال کے اوپر ہوگا۔ عقلمندوں کے لیے یہ تمام نشانیاں کافی ہیں۔ شیخ ابو منصور نے فرمایا ” کہ پوری سورت یوسف کے بیان سے رسول اللہ ﷺ کو تسلی دنیا مقصود ہے کہ آپ کو جو کچھ ایذائیں اپنی قوم کے ہاتھوں پہنچ رہی ہیں پچھلے انبیاء کو بھی پہنچتی رہیں، مگر انجام کار اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کو غالب فرمایا۔ آپ کا معاملہ بھی ایسا ہی ہونے والا ہے۔ “ ( معارف القرآن مفتی محمد شفیع (رح) تعالیٰ ) بفضل الہ العلمین آج سورت یوسف تمام ہوئی۔ الحمدللہ۔