13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 13:31–32

وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى١ؕ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا١ؕ اَفَلَمْ یَایْئَسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا تُصِیْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى یَاْتِیَ وَعْدُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 13:31 in the Quran reader

اور اگر کوئی قرآن ایسا ہوتا کہ اس کے اثر سے پہاڑ چل پڑتے یا زمین پھٹ جاتی یا مردوں سے کلام کرسکتے تو (پھر بھی وہ ایمان نہ لاتے۔ ) بات یہ ہے کہ سب کام اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ تو کیا مومنین کو اس بات سے اطمینان نہیں ہوا کہ اگر اللہ چاہتا تو سب کو ہدایت کے راستے پر چلا دیتا، اور کفار پر ہمیشہ ان کے اعمال کے بدلے بلا آتی رہے گی۔ یا ان کے مکانات کے قریب نازل ہوتی رہے گی۔ یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آپہنچے، بیشک اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَیْتُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 13:32 in the Quran reader

اور آپ سے پہلے بھی رسولوں کے ساتھ ہنسی مذاق ہوتے رہے ہیں۔ تو میں نے کافروں کو مہلت دی، پھر پکڑ لیا سو دیکھ لو کہ (ہمارا) عذاب کیسا تھا۔

معجزات اور انبیاء کا مذاق اڑانے والوں کا انجام تشریح : ان آیات میں ان کفار کا جواب دیا گیا ہے جنہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر محمد ﷺ معجزانہ طریقے سے پہاڑ کو جگہ سے ہلا دیں، یا زمین کو پھاڑ کر چشمے بہا دیں، مردوں کو زندہ کردیں کہ وہ بولنے لگیں تو پھر ہم ان پر ایمان لے آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ تو صرف ان کی حجت بازی ہے یہ لوگ معجزات دیکھ کر بھی ایمان لانے والے نہیں۔ کیونکہ جو لوگ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزوں پر غوروفکر کر کے اللہ پر ایمان نہیں لاتے تو بھلا معجزات سے وہ ایمان کہاں لائیں گے۔ یہ سب کام جن کا یہ لوگ مطالبہ کر رہے ہیں اللہ کے لیے ہرگز کوئی مشکل نہیں۔ اس کے لیے تو یہ بھی کوئی مشکل کام نہیں کہ سب کو ہی مسلمان بنا دے۔ مگر اللہ کسی کو بھی زبردستی مسلمان نہیں بنانا چاہتا کیونکہ اس نے انسان کو عقل اور ارادہ دیا ہے۔ ہدایت کی راہ دکھانے کے لیے رسول بھیج دیا اللہ کی وحدانیت بتانے کے لیے قرآن نازل فرمادیاغور وفکر اور خالق کی پہچان کے لیے کائنات بنادی یہ سب کیا ہے ؟ ایک ابدی (ہمیشہ رہنے والا) معجزہ ہے۔ قرآن پاک میں کائنات کے ایسے ایسے راز بتائے گئے ہیں جو ایک امی چودہ سو سال پہلے اپنی قدرت سے نہ جان سکتا تھا نہ بیان کرسکتا تھا۔ یہی فرق ہے آخری رسول اور پچھلے گزرے ہوئے پیغمبروں کے معجزات میں۔ اس وقت لوگ بالکل ہی کم عقل تھے تو ان کو خلاف فطرت معجزات دکھا دیے گئے مثلاً : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر آگ نے کوئی اثر نہ کیا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عصا کے اژدھا بننے کا معجزہ عطا کیا، ان کے ہاتھ کا چمک اٹھنا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ میں ہر مرض کی شفاء کا پیدا ہونا۔ یہ سب اس وقت کے لوگوں کے لیے موزوں تھا مگر قرآن میں بتایا گیا ہے کہ وہ معجزے دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے تھے۔ اور دوسری بات یہ کہ یہ تمام معجزات متعلقہ انبیاء کے ساتھ ہی ختم بھی ہوگئے۔ نبی اکرم ﷺ کے زمانے تک انسان میں کچھ زیادہ سوجھ بوجھ آچکی تھی۔ اس لیے ان لوگوں کو قرآن کا جیتا جاگتا معجزہ دیا گیا۔ جس میں اللہ کو پہنچاننے کے لیے کھلے ہوئے ثبوت موجود ہیں۔ یہ تمام کائنات کے انکشافات جن سے بعد میں بیشمار سائنسی انکشافات ہوئے اور ہوتے رہیں گے۔ بلکہ یوں کہنا درست ہوگا کہ جوں جوں انسان علم حاصل کر رہا ہے اللہ کی قدرتوں کا زیادہ قائل ہوتا جا رہا ہے وہ علیحدہ بات ہے کہ کچھ اس پر ایمان لا رہے ہیں اور کچھ لوگ تمام حقائق کو جانتے بوجھتے ہوئے بھی اللہ، رسول اور قرآن پر ایمان نہیں لاتے تو ایسے ہی لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان کو حقیقی سکون کبھی نہیں ملے گا۔ ان پر برابرمصیبتیں آتی رہیں گی اور کبھی ان کو عبرت دلانے کے لیے آس پاس عذاب بھیجے جائیں گے تاکہ سبق حاصل کریں یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ان کو مہلت دینے اور سمجھانے کے لیے کرتا ہے اور بالآخر پھر قیامت آئے گی یہ اللہ کا وعدہ ہے جو بالکل سچ ہے اور پکا وعدہ ہے۔ پھر حضرت محمد ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے اللہ فرماتا ہے کہ آپ سے پہلے بیشمار نبی آئے اور ان کی امتوں نے ان کو تنگ کیا، ہنسی مذاق اڑایا یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی مصلحتیں تھیں کہ وہ لوگوں کو آزماتا ہے، مہلت بھی دیتا ہے تاکہ نافرمان لوگوں کو سخت عذاب دے کر نیست و نابود کر دے۔
Ayahs 13:33–34

اَفَمَنْ هُوَ قَآئِمٌ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ۚ وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ قُلْ سَمُّوْهُمْ١ؕ اَمْ تُنَبِّئُوْنَهٗ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی الْاَرْضِ اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ١ؕ بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ وَ صُدُّوْا عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 13:33 in the Quran reader

تو کیا اللہ جو ہر متنفس کے اعمال کا نگران اور نگہبان ہے، (وہ بتوں کی طرح بےعمل اور بیخبر ہوسکتا ہے ؟ ) اور ان لوگوں نے اللہ کے شریک بنا رکھے ہیں، ان سے کہو کہ ذرا ان کے نام تو بولو۔ کیا تم اس کو ایسی چیزیں بتاتے ہو جس کو وہ زمین میں کہیں بھی نہیں پاتا، صرف ظاہری اور جھوٹی بات کی تقلید کرتے ہو، اصل یہ ہے کہ کافروں کو ان کے فریب خوبصورت معلوم ہوتے ہیں۔ اور وہ ہدایت کے راستے سے روک لیے گئے ہیں۔ اور جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں۔

لَهُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَقُّ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 13:34 in the Quran reader

ان کو دنیا کی زندگی میں بھی عذاب ہے اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی سخت ہے۔ اور ان کو اللہ کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں۔

شرک کرنے والوں کا انجام تشریح : قرآن پاک میں بار بار مشرکین اور ان کے انجام کا ذکر کیا گیا ہے۔
Ayahs 13:35–43

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اُكُلُهَا دَآئِمٌ وَّ ظِلُّهَا١ؕ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ۖۗ وَّ عُقْبَى الْكٰفِرِیْنَ النَّارُ Open ayah 13:35 in the Quran reader

جس باغ کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے۔ اس کی صفات یہ ہیں کہ اس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، اس کے پھل ہمیشہ قائم رہنے والے ہیں اور اس کے سائے بھی، یہ ان لوگوں کا انجام ہے جو متقی ہیں اور کافروں کا انجام دوزخ ہے۔

وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ یُّنْكِرُ بَعْضَهٗ١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَ لَاۤ اُشْرِكَ بِهٖ١ؕ اِلَیْهِ اَدْعُوْا وَ اِلَیْهِ مَاٰبِ Open ayah 13:36 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اس کتاب سے جو آپ پر نازل ہوئی ہے خوش ہوتے ہیں اور بعض فرقے اس کی بعض باتیں نہیں بھی مانتے، کہہ دو کہ مجھ کو یہی حکم ہوا ہے کہ اللہ ہی کی عبادت کروں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائوں، میں اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے لوٹنا ہے۔

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِیًّا١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا وَاقٍ۠ Open ayah 13:37 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا ہے، اور اگر آپ عقل و دانش آنے کے بعد ان لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے چلیں گے تو اللہ کے سامنے نہ تو کوئی آپ کا مددگار ہوگا اور نہ کوئی بچانے والا۔

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّ ذُرِّیَّةً١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ Open ayah 13:38 in the Quran reader

( اے نبی ﷺ ہم نے آپ سے پہلے بھی پیغمبر بھیجے تھے اور ان کی بیبیاں اور اولاد بھی تھی، اور کسی پیغمبر کے اختیار کی بات نہ تھی کہ اللہ کے حکم کے بغیر کوئی نشانی لائے، ہر حکم لوح محفوظ میں درج ہے۔

یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ١ۖۚ وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ Open ayah 13:39 in the Quran reader

اللہ جس کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے قائم رکھتا ہے، اور اسی کے پاس اصل کتاب ہے۔

وَ اِنْ مَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ وَ عَلَیْنَا الْحِسَابُ Open ayah 13:40 in the Quran reader

اور اگر ہم کوئی عذاب، جس کا ان لوگوں سے وعدہ کرتے ہیں، آپ کو دکھائیں (تمہارے سامنے ان پر نازل کریں) یا آپ کی زندگی پوری ہونے کے بعد عذاب بھیجیں تو آپ کا کام احکام پہنچا دینا ہے اور ہمارا کام حساب لینا ہے۔

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ وَ اللّٰهُ یَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهٖ١ؕ وَ هُوَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 13:41 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آئے ہیں، اور اللہ جیسا چاہتا ہے حکم کرتا ہے، کوئی اس کے حکم کو ٹالنے والا نہیں۔ وہ جلد حساب لینے والا ہے۔

وَ قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلِلّٰهِ الْمَكْرُ جَمِیْعًا١ؕ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ١ؕ وَ سَیَعْلَمُ الْكُفّٰرُ لِمَنْ عُقْبَى الدَّارِ Open ayah 13:42 in the Quran reader

جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی بہتیری چالیں چلتے رہے ہیں، سو سب تدبیر اللہ کے ہی ہاتھ میں ہے۔ ہر شخص جو کچھ کر رہا ہے وہ اسے جانتا ہے اور کافر جلد معلوم کرلیں گے کہ عابقت کا گھر کس کا ہے۔

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا١ؕ قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ۙ وَ مَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ۠ Open ayah 13:43 in the Quran reader

اور کافر لوگ کہتے ہیں، کہ آپ اللہ کے رسول نہیں ہیں، کہہ دیں کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ اور وہ شخص جس کے پاس آسمانی کتاب کا علم ہے گواہ کافی ہے۔

کفرو ایمان، جنت و جہنم اور اللہ کی گواہی تشریح : جنت کی بشارت صالح اور نیک لوگوں کو دی گئی ہے۔ جنت کے بارے میں فرمان نبوی ہے کسی آنکھ نے جنت دیکھی نہیں کسی کان نے سنا نہیں اور کسی دل پر اس کا خیال نہیں گزرا۔ متقی لوگ قرآن کو دنیا کی بہترین نعمت سمجھ کر خوش ہو کر پڑھتے، سمجھتے اور عمل کرتے ہیں اسی بات کا حکم بار بار دیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ کتاب ہر قسم کے علوم اور خاص طور سے رشدوہدایت کا مجموعہ ہے۔ زندگی، کائنات غرض ازل سے ابد تک اور پھر آخرت کے تمام راز بتا دیے گئے ہیں۔ عربی میں قرآن نازل کیا گیا کیونکہ آپ ﷺ کی زبان اور اہل عرب کی زبان عربی تھی۔ ان کی ہی زبان اختیار کی گئی تاکہ تمام رموز، باریکیاں اور احکامات پوری وضاحت سے سمجھا دیے جائیں۔ اور پھر نبی اکرم ﷺ کو انہیں میں سے چن کر نبی بنایا گیا تاکہ وہ ان کی معاشرت کو سمجھ کر ان کو اچھی طرح ہدایت دے سکیں۔ وہ بھی پہلے پیغمبروں کی طرح انسان ہی تھے مگر ان کو ان کے کردار اخلاق حسنہ اور نیک طینت ہونے کی وجہ سے نبوت کے لیے چن لیا گیا۔ اور آپ نے توحید کی دعوت دی اور قرآن پاک کا بہترین معجزہ آپ کو اللہ نے عطا کیا جو ہمیشہ سلامت رہے گا۔ ہر کام اللہ کی مرضی، حکمت اور طے شدہ فیصلے کے مطابق ہوتا ہے۔ اس نے لوح محفوظ پر جس کو ہم بہترین عظیم ترین کمپیوٹر کہہ سکتے ہیں جو اللہ کی تحویل میں ہے اور اس میں تمام کائنات کے ہر قسم کے عمل کو درج کردیا گیا ہے۔ یعنی تقدیر لکھ دی گئی ہے۔ جو صرف دعا، محنت اور اللہ کی مرضی سے بدل سکتی ہے۔ ورنہ اس میں کوئی دخل اندازی نہیں کرسکتا۔ انسان کا کام ہے نیکی کی راہ اختیار کرلے۔ چاروں طرف پھیلی ہوئی کائنات کو غور سے دیکھیں۔ کائنات کی ہر چیز اور خود انسان کا وجود اللہ کے وجود کی گواہی دے رہا ہے۔ اس لیے اس کے بھیجے ہوئے رسول پر ایمان لائیں اور اس کی لائی ہوئی کتاب قرآن پر ایمان لائیں غور و فکر کریں۔ اگر غور و فکر کریں تو اس کو اس میں ایسے ایسے سائنسی نکات ملیں گے کہ انسان حیران رہ جائے۔ مثال کے طور پر زمینی ساخت کا بڑا واضح اشارہ دیا کہ ” زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے جس کی وضاحت ایک بہت بڑے سائنسدان یوں کرتے ہیں ” موجودہ صدی کے آخری بیس، تیس سالوں میں جو ترقی ہوئی ہے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ابتدا میں کرہ ارض اپنے موجودہ حجم سے کم ازکم سو گنا بڑا تھا، اور زمین موجودہ صورت میں پچھلے پانچ بلین سالوں کے سکڑنے کے رفتہ رفتہ عمل کی وجہ سے پہنچی ہے۔ زمین کے سکڑنے کی کئی وجوہات ہیں جس میں کشش ثقل کی طاقت نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ دوسرا زمین کی تخلیق کے وقت سے ہی زمین کے کچھ اجزا خلا کی طرف ضائع ہوتے رہتے ہیں جس کا ایک سبب تو شمسی کشش ہے اور دوسرا تابکاری حرارت ہے جو زمین کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ اس سے بھی زمین کا حجم گھٹتا گیا ہے۔ تیسرا زمین کے دھیرے دھیرے ٹھنڈا ہونے کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ زمین کا کریسٹ (چھلکا یا پرت) موٹاپا اختیار کرتا جاتا ہے۔ اور ابتدا میں جب گیس ٹھنڈی ہو کر مائع بنی تو حجم میں یکدم بہت فرق پڑگیا اس وقت سے اندرونی پگھلا ہوا حصہ (Core) بھی باہر کی طرف سے ٹھنڈا ہو کر بالترتیب گھٹ رہا ہے۔ بہرحال اس عجیب و غریب صورت حال کی کوئی بھی وجہ ہو، یہ حقیقت اپنی جگہ پر قائم ہے کہ کرہ ارض اپنے حجم میں گھٹ رہا ہے۔ “ (قیامت اور حیات بعد الموت مصنف سلطان بشیر محمود) یہ اتنی بڑی سائنسی حقیقت چودہ سو سال پہلے ایک امی کیونکر بیان کرسکتا ہے یہ بہت بڑا ثبوت ہے قرآن کے آسمانی کتاب ہونے کا۔ یہ اور اس طرح کے کئی حقائق ہیں جو اللہ نے رسول ﷺ کے ذریعے قرآن میں بتائے ہیں اور یہی سب سے بڑے ثبوت ہیں رسول کے حق ہونے کے۔ اسی لیے اللہ جل شانہٗ نے فرمایا ” کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ اور وہ شخص جس کے پاس آسمانی کتاب کا علم ہے، گواہ کافی ہے۔ “ ( سورة رعد آیت 43 ) اللہ کے فضل و رحمت کے ساتھ یہ سورت اختتام کو پہنچتی ہے۔ الحمد للہ۔