15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 15:51–84

وَ نَبِّئْهُمْ عَنْ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 15:51 in the Quran reader

اور ان کو ابراہیم کے مہمانوں کا حال سنا دو ۔

اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ اِنَّا مِنْكُمْ وَ جِلُوْنَ Open ayah 15:52 in the Quran reader

جب وہ (فرشتے) ابراہیم کے پاس آئے تو سلام کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم کو تو تم سے ڈر لگتا ہے۔

قَالُوْا لَا تَوْجَلْ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 15:53 in the Quran reader

انہوں نے کہا ڈریں نہیں ! ہم آپ کو ایک دانش مند لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں۔

قَالَ اَبَشَّرْتُمُوْنِیْ عَلٰۤى اَنْ مَّسَّنِیَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُوْنَ Open ayah 15:54 in the Quran reader

وہ بولے جب میں بوڑھا ہوچکا تو تم مجھے خوشخبری دیتے ہو۔

قَالُوْا بَشَّرْنٰكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْقٰنِطِیْنَ Open ayah 15:55 in the Quran reader

وہ بولے ہم آپ کو سچی خوشخبری دیتے ہیں آپ مایوس نہ ہوں۔

قَالَ وَ مَنْ یَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوْنَ Open ayah 15:56 in the Quran reader

(ابراہیم نے) کہا اللہ کی رحمت سے میں مایوس کیوں ہونے لگا اس سے مایوس ہونا گمراہوں کا کام ہے۔

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 15:57 in the Quran reader

پھر کہنے لگے فرشتو ! تمہیں اور کیا کام ہے ؟

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ Open ayah 15:58 in the Quran reader

انہوں نے کہا ہم ایک گنہگار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں کہ اس کو عذاب دیں۔

اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ اِنَّا لَمُنَجُّوْهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:59 in the Quran reader

مگر لوط کے گھر والے کہ ان سب کو ہم بچا لیں گے۔

اِلَّا امْرَاَتَهٗ قَدَّرْنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الْغٰبِرِیْنَ۠ Open ayah 15:60 in the Quran reader

البتہ ان کی بیوی کہ اس کے لیے ہم نے ٹھہرا دیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جائے گی۔

فَلَمَّا جَآءَ اٰلَ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلُوْنَۙ Open ayah 15:61 in the Quran reader

پھر جب فرشتے لوط کے گھر گئے۔

قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ Open ayah 15:62 in the Quran reader

تو لوط نے کہا تم تو ناآشنا (غیر) سے لوگ ہو۔

قَالُوْا بَلْ جِئْنٰكَ بِمَا كَانُوْا فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ Open ayah 15:63 in the Quran reader

وہ بولے نہیں بلکہ ہم آپ کے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں لوگ شک کرتے تھے۔

وَ اَتَیْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 15:64 in the Quran reader

اور ہم آپ کے پاس یقینی بات لے کر آئے ہیں اور ہم سچ کہتے ہیں۔

فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ اتَّبِعْ اَدْبَارَهُمْ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ وَّ امْضُوْا حَیْثُ تُؤْمَرُوْنَ Open ayah 15:65 in the Quran reader

تو آپ کچھ رات رہے سے (پچھلی رات) اپنے گھر والوں کو لے نکلیں اور خود ان کے پیچھے چلیں اور آپ میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے اور جہاں آپ کو حکم ہو وہاں چلے جائیں۔

وَ قَضَیْنَاۤ اِلَیْهِ ذٰلِكَ الْاَمْرَ اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِیْنَ Open ayah 15:66 in the Quran reader

اور ہم نے لوط کی طرف وحی بھیجی کہ ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہوتے کاٹ دی جائے گی۔

وَ جَآءَ اَهْلُ الْمَدِیْنَةِ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 15:67 in the Quran reader

اور اہل شہر لوط کے پاس خوش خوش دوڑتے ہوئے آئے۔

قَالَ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَیْفِیْ فَلَا تَفْضَحُوْنِۙ Open ayah 15:68 in the Quran reader

لوط نے کہا یہ میرے مہمان ہیں کہیں ان کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرنا۔

وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ Open ayah 15:69 in the Quran reader

اللہ سے ڈرو اور میری بےآبروئی نہ کرنا۔

قَالُوْۤا اَوَ لَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 15:70 in the Quran reader

وہ بولے ہم نے تم کو سارے جہان کی حمایت سے منع نہیں کیا۔

قَالَ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِیْۤ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَؕ Open ayah 15:71 in the Quran reader

انہوں نے کہا اگر تمہیں کرنا ہی ہے تو یہ میری قوم کی لڑکیاں ہیں ان سے شادی کرلو۔

لَعَمْرُكَ اِنَّهُمْ لَفِیْ سَكْرَتِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 15:72 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ! ) آپ کی جان کی قسم وہ اپنی مستی میں مدہوش ہو رہے تھے۔

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ مُشْرِقِیْنَۙ Open ayah 15:73 in the Quran reader

سو ان کو سورج نکلتے نکلتے چنگھاڑ نے آپکڑا۔

فَجَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍؕ Open ayah 15:74 in the Quran reader

اور ہم نے اس شہر کو الٹ کر نیچے اوپر کردیا اور ان پر کھنگر کی پتھریاں برسائیں۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِیْنَ Open ayah 15:75 in the Quran reader

بیشک اس قصے میں اہل فراست (عقلمندوں) کے لیے نشانیاں ہیں۔

وَ اِنَّهَا لَبِسَبِیْلٍ مُّقِیْمٍ Open ayah 15:76 in the Quran reader

اور وہ شہر اب تک سیدھے رستے پر موجود ہے۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 15:77 in the Quran reader

بیشک اس میں ایمان لانے والوں کے لیے نشانی ہے۔

وَ اِنْ كَانَ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ لَظٰلِمِیْنَۙ Open ayah 15:78 in the Quran reader

اور بن کے رہنے والے، یعنی قوم شعیب کے لوگ بھی ظالم تھے۔

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ١ۘ وَ اِنَّهُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِیْنٍؕ۠ Open ayah 15:79 in the Quran reader

گو ہم نے ان سے بھی بدلہ لیا اور یہ دونوں شہر کھلے رستے پر موجود ہیں۔

وَ لَقَدْ كَذَّبَ اَصْحٰبُ الْحِجْرِ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 15:80 in the Quran reader

اور وادیٔ حجر کے رہنے والوں نے بھی پیغمبروں کی تکذیب کی (جھٹلایا۔ )

وَ اٰتَیْنٰهُمْ اٰیٰتِنَا فَكَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَۙ Open ayah 15:81 in the Quran reader

ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دیں اور وہ ان سے منہ پھیرتے رہے۔

وَ كَانُوْا یَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا اٰمِنِیْنَ Open ayah 15:82 in the Quran reader

اور وہ پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے کہ امن و سکون سے رہیں گے۔

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 15:83 in the Quran reader

تو چیخ نے صبح ہوتے ہوتے ان کو آپکڑا۔

فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَؕ Open ayah 15:84 in the Quran reader

اور جو وہ (پتھر کے مکان وغیرہ) بنایا کرتے تھے ان کے کچھ بھی کام نہ آئے۔

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری، قوم لوط کا ذکر بد، ثمودیوں پر عذاب تشریح : ان تمام آیات کا مقصد صرف یہ ہے کہ انسان کو اللہ کی عنایت کی گئی صفات کو اعتدال، راست بازی اور خلوص و ایمان کے ساتھ اپنی روز مرہ زندگی میں کام میں لانا چاہیے۔ کیونکہ انسان کی زندگی جانوروں جیسی نہیں بلکہ انسان کی زندگی کا عظیم مقصد ہے۔ اخلاقی فضائل کو ہم چار شعبوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ پہلا حکمت، دوسرا شجاعت، تیسرا عفت چوتھا عدالت۔ جو قومیں اللہ کی دی ہوئی ان تمام قوتوں کو صحیح اور مناسب طریقہ سے استعمال میں لاتی ہیں وہی کامیاب و کامران اور اللہ کے مزید انعامات اور رضا کی حق دار ہوتی ہیں۔ اس میں چاہے ایک فرد ہو یا پوری قوم ہو۔ یہی اصول سب پر لاگو ہوتا ہے۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے غور و فکر کر کے دین حنیف کو قبول کیا اور پھر اس کی اشاعت کی جب کہ وہ بھی ایک بت پرست باپ کے گھر اور بت پرست ماحول میں پیدا ہوئے تھے۔ غور و فکر، حکمت، شجاعت، عفت اور عدالت پر قائم رہتے ہوئے مقبول خدا ہوئے اور ان کو بڑھاپے میں نیک اولاد حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی پیدائش کی خوشخبری دی گئی۔ سورة ہود رکوع 7 میں آپ کے بارے میں تفصیلاً بیان کیا جا چکا ہے۔ جن فرشتوں نے آپ کو خوشخبری دی انھی نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب لانے کی خبر بھی سنائی۔ یہ قوم اخلاقی پستیوں میں ڈوب چکی تھی، یعنی مرد مردوں سے بےحیائی کا کام کرتے، جبکہ یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ سخت ظالم، دھوکہ باز اور بد معاملہ تھے۔ شعیب (علیہ السلام) کی قوم اور لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیوں کے کھنڈرات حجاز سے شام اور عراق سے مصر جاتے ہوئے راستے میں ہیں۔ ان کے بارے میں سورة ھود رکوع 7 سورة اعراف رکوع 10 میں بڑی تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے۔ قوم لوط کی نافرمانیوں اور اخلاقی پستیوں کی وجہ سے ان کو تباہ و برباد کردیا گیا اور اوپر سے سخت نوکیلے پتھروں کی بارش کی گئی۔ شعیب (علیہ السلام) کو اہل مدین کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا، مدین ان کا مرکزی شہر تھا۔ ایکہ یہ تبوک کا قدیم نام ہے فلسطین سے شام جاتے ہوئے راستے میں ہے۔ یہ قوم ثمود کا مرکزی شہر تھا۔ مدینہ سے شمال کی طرف حجر نامی بستی تھی جہاں قوم ثمود رہتی تھی۔ حضرت صالح (علیہ السلام) ان کے پاس رسول بنا کر بھیجے گئے۔ اپنی قوم کو راہ راست پر لانا بڑا مشکل کام ہے۔ یہ لوگ بھی گناہوں کی پستیوں میں گر کر عذاب کے مستحق ہوئے ان پر ہیبت ناک عذاب آیا خوف ناک چنگھاڑ اور شدید زلزلہ کی صورت میں ان کے زبردست محلات جو پہاڑوں کو کاٹ کر بنائے گئے تھے۔ کھنڈرات کی صورت میں فلسطین سے شام جاتے ہوئے راستے میں موجود ہیں۔ یہ سب کچھ عقلمندلوگوں کے لیے عبرت کا نمونہ ہیں۔ سورة اعراف میں تفصیلات ہو چکیں۔ یہ سب کچھ دوبارہ صرف اس لیے بیان کیا گیا ہے تاکہ انسان اپنی قدر و منزلت پہچان کر اپنی زندگی کو بہترین توازن میں رکھ کر شیطان سے اپنا بچائو کرتے ہوئے اللہ کی پناہ میں رہتے ہوئے بہترین، پرسکون، کامیاب اور شادمان زندگی گزار کر آخرت میں بھی اعمال نیک کا بہترین انعام حاصل کرسکے۔ وہ انعام ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہوگا جب کہ یہ زندگی تو ضرور ہی ختم ہوجانے والی ہے۔ حکمت، شجاعت، عفت اور عدالت۔ ان چار قوتوں کا مجموعہ بہترین انسان کہلاتا ہے کیونکہ جو بھی اپنی زندگی میں ان صلاحیتوں کو اجاگر رکھتا ہے وہی اعمال صالحہ اور اخلاق حسنہ کا مالک ہوسکتا ہے جسے فضائل اخلاق کہتے ہیں اور اسی کا نام سعادت ہے اور یہی عظیم انسان کی زندگی کا مقصد ہے۔ جو ان تمام اصولوں سے ہٹ گیا وہی مارا گیا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” آپ سے پہلے ہم نے مختلف بستی والوں میں سے جو پیغمبر بھیجے تھے وہ سب بھی انسان ہی تھے اور انہی کی طرف ہم وحی بھیجتے رہے ہیں، پھر کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ؟ ورنہ دیکھ لیتے ان قوموں کا کیسا انجام ہوا جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں، بیشک آخرت کا گھر ان لوگوں کے لیے اور زیادہ بہتر ہے جنہوں نے تقویٰ کی روش اختیار کی کیا اب بھی تم لوگ نہ سمجھو گے۔ “ ( سورة یوسف آیت :109 ۔ ) حدیث میں آتا ہے ” ایمان کی انتہا پرہیزگاری ہے۔ “ (مسند احمد)
Ayahs 15:85–86

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِیْلَ Open ayah 15:85 in the Quran reader

اور ہم نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے نہیں پیدا کیا مگر حق کے ساتھ (تدبیر سے پیدا کیا ہے) اور بیشک قیامت تو آنے ہی والی ہے، پس آپ ان کے ساتھ عمدگی سے درگز کریں۔

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ Open ayah 15:86 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ تمہارا رب سب کچھ پیدا کرنے والا اور جاننے والا ہے۔

تخلیق ِکائنات کا مقصد تشریح : جیسا کہ اس سورت میں جگہ جگہ حکمت اور توازن کا ذکر کیا گیا ہے کہ یہ آسمان، زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزیں حق کے ساتھ پیدا کی گئی ہیں، یعنی یہ تمام کائنات ایک انتہائی موزوں اور بہترین کاریگری کا نمونہ ہے، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اللہ نے یہ سب کچھ کیوں پیدا کیا ؟ یہ سوچنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ اللہ اپنی مرضی کا مالک ہے۔ وہ ہمارا رب ہے اور ہم اس کے بندے۔ ہمیں تو بس یہ سوچنا چاہیے کہ اس کو کس طرح خوش کریں کہ ہماری دنیا و آخرت سنور جائے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ بندے کو اپنے رب سے پیار ہونا چاہیے۔ جب ہم اس سے پیار کریں گے تو اس کے احکامات کو دل و جان سے مانیں گے جب اس کے احکامات کو مانیں گے تو وہ ہم سے خوش ہوگا اور جب وہ ہم سے خوش ہوگا تو ہم اس کی رحمتوں، برکتوں، فضل و کرم اور سعادتوں کے پہلے سے زیادہ مستحق ہوجائیں گے اور یوں ہمارے اندر ایک پاکیزہ روح، پاکیزہ ضمیر اور توکل علی اللہ پیدا ہوجائے گا۔ اور اس طرح ہم دنیا کی تمام پریشانیوں کو، شیطان کے بہکاوے کو بڑی بہادری سے اپنے اوپر طاری ہونے سے یقینا روک سکیں گے۔ اس کے لیے اصول بھی اللہ تعالیٰ نے خود بتا دیا ہے، فرمان رب العالمین ہے : اے نبی ﷺ فرما دیں اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور اللہ بخشنے والا، بہت مہربان ہے۔ (اٰل عمران :31) اطاعت رسول کرنے سے حق اور سچ ہماری رگ رگ میں سما جائے گا اور ہم اعتماد، توکل، صبر، استقامت، بہادری اور سکون کی ایک ایسی مضبوط چٹان بن جائیں گے کہ جسے موت بھی ڈرا نہ سکے۔ بلکہ موت کے وقت ہمارے لبوں پر مسکراہٹ ہوگی کہ سرخرو ہو کر اپنے پیارے رب سے ملنے جا رہے ہیں۔ علامہ اقبال نے بہت خوبصورت منظر کشی کی ہے مرد مومن کی۔ اپنے شعر میں فرماتے ہیں نشان مرد مومن باتو گویم چوں مرگ آید تبسم برلب اوست مطلب کہ مرد مومن موت کو مسکراہٹ سے قبول کرتا ہے۔ ایک مرد مومن کامیاب انسان ہوتا ہے نہ تو وہ تکالیف میں پریشان ہوتا ہے اور نہ ہی نعمتوں اور برکتوں پر خوشی سے بےقابو ہوجاتا ہے بلکہ ہر وقت اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور یوں وہ کامیاب انسان خوف اور غم سے بالکل آزاد ہو کر راہ مستقیم (سیدھے راستے) پر دوڑتا چلا جاتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ” نہ تو ان پر خوف ہے اور نہ ہی وہ غمگین ہوتے ہیں۔ “ پھر فرمایا : ” اے نفس مطمئن ! واپس چل اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی، پس شامل ہوجا میرے بندوں میں اور داخل ہوجا میری جنت میں۔ (سورۃ الفجر آیات : 30 - 27 ) اللہ جل شانہٗ اپنے پیارے نبی محمد ﷺ سے مخاطب ہوتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ تو اپنے کام میں مرد کامل کی طرح لگے رہیں کفار اور شیاطین کی چالوں سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں یہ تو ہماری مصلحت ہے کہ نیکی کے ساتھ بدی اور فرشتے کے ساتھ شیطان کو بھی انسان کے ساتھ لگا رکھا ہے۔ جیت تو حق کی ہی ہوگی۔ اور دنیا نے تو ختم ہی ہوجانا ہے اور میدان حشر میں نیکی و بدی حق و باطل کا پورا پورا فرق سب کے سامنے آجانا ہے۔ یہ سب انتظام اور یہ سب تخلیقات اس عظیم و کبیر رب العلمین کی ہیں اور وہ ” سب کچھ پیدا کرنے والا اور جاننے والا ہے۔ “ (آیت :86 ) دعا یہ ہے،” اے میرے رب ! مجھے خوبی کے ساتھ پہنچا دے اور خوبی کے ساتھ نکال لے اور مجھے اپنی طرف سے ایسا غلبہ عطا کر جس کے ساتھ نصرت (فتح) ہو۔ (بنی اسرائیل، آیت 80)
Ayahs 15:87–88

وَ لَقَدْ اٰتَیْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ Open ayah 15:87 in the Quran reader

ہم نے آپ کو سات ایسی آیتیں دے رکھی ہیں جو بار بار دہرائی جانے کے لائق ہیں اور آپ کو قرآن عظیم عطا کیا ہے۔

لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 15:88 in the Quran reader

آپ اس متاع دنیا کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھیں جو ہم نے ان میں سے مختلف لوگوں کو دے رکھا ہے اور نہ ان کے حال پر غمزدہ ہوں اور (انہیں چھوڑ کر) ایمان لانے والوں کے لیے تواضع سے پیش آئیں۔

اللہ کا بہترین انعام تشریح : اکثر مفسرین اور علمائے کرام سات آیتوں سے مراد سورة فاتحہ لیتے ہیں۔ یہاں اس کا ذکر آنا بذات خود اس کی فضیلت کی نشانی ہے۔ یہ سورت بہترین دعا اور شفاء ہے اسی لیے اس کو امّ القرآن کا درجہ ملا ہوا ہے۔ کیونکہ یہ مجموعہ ہے حمدو ثنا، اقرار ربوبیت، اقرار حاکمیت، اقرار توحید اور دعا کا اس سورت کی بیشمار فضیلتیں ہیں اسی لیے نماز پنجگانہ میں چالیس دفعہ پڑھی جاتی ہے اور فرمان رسول بھی ہے جو اپنی نماز میں سورة فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی۔ (صحیح بخاری) حتی کہ اگر امام کے پیچھے بھی نہ پڑھے تو بھی نماز نہیں ہوتی۔ ( جزء القرأۃ للبہقی) اللہ تعالیٰ اپنے پیارے نبی کو تسلی دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ کو تو دنیا و آخرت کا خزانہ دے دیا گیا ہے۔ سورة فاتحہ، اور پورے قرآن کی صورت میں آپ کو سرداران قریش کفار مکہ کی شان و شوکت کی ہرگز پرواہ نہیں ہونی چاہیے اور نہ ہی ان کی ضد، ہٹ دھرمی اور کفر وعناد پر افسوس کرنا چاہیے کیونکہ آپ کا مددگار احکم الحاکمین ہے اور وہی ان کا فیصلہ کرنے والا ہے۔ آپ تو بس بےفکر اور مستعد ہو کر اللہ کی دی ہوئی اس نعمت، یعنی قرآن پر شکر کریں اور زیادہ سے زیادہ اسلام کی تبلیغ کریں اور مسلمانوں کی جمعیت سے خوش ہو کر ان کو ساتھ لے کر چلیں۔ یہی آپ کا منصب ہے اور یہی آپ کی شان اور یہی اللہ کا حکم ہے۔ اللہ فرماتا ہے : ” جو حکم آپ کو رب کی طرف سے ملا ہے، یہ سب کو سنا دو ۔ “ (سورۃ الحجر آیت 94 )