20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 20:99–113

كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ مَا قَدْ سَبَقَ١ۚ وَ قَدْ اٰتَیْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًاۖۚ Open ayah 20:99 in the Quran reader

اس طرح ہم آپ پر وہ حالات بیان کرتے ہیں جو گزر چکے ہیں۔ اور ہم نے اپنے پاس سے آپ کو نصیحت کی کتاب عطا فرمائی ہے۔

مَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ فَاِنَّهٗ یَحْمِلُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وِزْرًاۙ Open ayah 20:100 in the Quran reader

جو شخص اس سے منہ پھیرے گا وہ قیامت کے دن گناہ کا بوجھ اٹھائے گا۔

خٰلِدِیْنَ فِیْهِ١ؕ وَ سَآءَ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ حِمْلًاۙ Open ayah 20:101 in the Quran reader

ایسے لوگ ہمیشہ عذاب میں مبتلا رہیں گے اور یہ بوجھ قیامت کے روز ان کے لیے برا ہوگا۔

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ وَ نَحْشُرُ الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ زُرْقًاۚۖ Open ayah 20:102 in the Quran reader

جس روز صور پھونکا جائے گا اور ہم گنہگاروں کو اکٹھا کریں گے اور ان کی آنکھیں نیلی نیلی ہوں گی۔

یَّتَخَافَتُوْنَ بَیْنَهُمْ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا عَشْرًا Open ayah 20:103 in the Quran reader

تو وہ آپس میں آہستہ آہستہ کہیں گے کہ تم دنیا میں صرف دس ہی دن رہے ہو۔

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اِذْ یَقُوْلُ اَمْثَلُهُمْ طَرِیْقَةً اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا یَوْمًا۠ Open ayah 20:104 in the Quran reader

جو باتیں یہ کریں گے ہم خوب جانتے ہیں اس وقت ان میں سے اچھی راہ والا ( یعنی عقل مند اور) کہے گا کہ نہیں بلکہ صرف ایک ہی روز ٹھہرے ہو۔

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًاۙ Open ayah 20:105 in the Quran reader

اور تم سے پہاڑوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، فرمادیں کہ اللہ ان کو اڑا کر بکھیر دے گا۔

فَیَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًاۙ Open ayah 20:106 in the Quran reader

اور زمین کو ہموار اور میدان کر دے گا۔

لَّا تَرٰى فِیْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًاؕ Open ayah 20:107 in the Quran reader

جس میں تم نہ نشیب دیکھو گے نہ ٹیلا۔

یَوْمَئِذٍ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَهٗ١ۚ وَ خَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ اِلَّا هَمْسًا Open ayah 20:108 in the Quran reader

اس روز لوگ ایک پکارنے والے کے پیچھے چلیں گے اور اس کی پیروی سے انحراف نہ کرسکیں گے اور اللہ کے سامنے آوازیں پست ہوجائیں گی (اللہ کے ڈر سے) اور سوائے ہلکی آہٹ کے کچھ سنائی نہ دے گا۔

یَوْمَئِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَهٗ قَوْلًا Open ayah 20:109 in the Quran reader

اس روز کسی کی سفارش کچھ فائدہ نہ دے گی مگر اس شخص کی جسے اللہ اجازت دے اور اس کی بات کو پسند فرمائے۔

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا Open ayah 20:110 in the Quran reader

جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے وہ اس کو جانتا ہے اور وہ اپنے علم سے اللہ کے علم پر احاطہ نہیں کرسکتے۔

وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِ١ؕ وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا Open ayah 20:111 in the Quran reader

اور اس زندہ و قائم کے سامنے چہرے جھک جائیں گے اور جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا وہ نامراد رہا۔

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا Open ayah 20:112 in the Quran reader

اور جو نیک کام کرے گا اور مومن بھی ہوگا تو اس کو نہ ظلم کا خوف ہوگا اور نہ نقصان کا۔

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا وَّ صَرَّفْنَا فِیْهِ مِنَ الْوَعِیْدِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ اَوْ یُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا Open ayah 20:113 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو اسی طرح کا قرآن عربی نازل کیا ہے اور اس میں طرح طرح کے ڈر اوے بیان کردیے ہیں تاکہ لوگ پرہیزگار بنیں یا اللہ ان کے لیے نصیحت پیدا کر دے۔

قصص بیان کرنے کا مقصد، قیامت کے دن کا منظر تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ یہاں ختم ہوتا ہے اور اب اس سورت کے آغاز کی طرف اشارہ کرنے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ کیوں بیان کیا گیا۔ شروع سورت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا قرآن تم پر اس لیے نازل نہیں کیا کہ تم مشقت میں پڑجاؤ۔ (سورۃ طہٰ آیت :2) بلکہ یہ تو نصیحت کی ایک کتاب آپ کو دی گئی ہے اس کو پھیلانا سمجھانا آپ کا کام ہے جو کہ مشکل ہے کیونکہ آپ سے پہلے جتنے نبی آئے انہوں نے یہی سبق دیا اور اسی طرح نیکی کی ہدایت کی اور ان کو بھی اس کام میں بڑی ہمت، استقلال اور جرأت سے کام لینا پڑا تھا جیسا کہ یہاں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا پورا واقعہ اختصار اور جامعیت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ جو خاص خاص باتیں اس میں بیان کی گئی ہیں وہ سب توحید، نماز، آخرت اور یقین کے گرد ہی گھومتی ہیں یہی سبق بار بار قرآن پاک میں دہرا گیا ہے اور انسان کے لیے دو ہی راستے ہیں۔ قبول کر کے ان پر قائم ہوجائے یا قبول نہ کرے۔ دونوں صورتیں اس کے اختیار میں ہیں۔ اس حقیقت کو قرآن بار بار دہراتا ہے کہ جو نصیحت نہیں مانے گا اس کو عذاب آخرت ضرور ہوگا جو مان کر پھر اس پر عمل نہ کرے گا اس پر اور بھی سخت عذاب ہوگا۔ جبکہ ایک سچے اور پکے مسلمان کے لیے دنیا میں سکون اور آخرت میں ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ہوں گی۔ یہاں آخرت کا راز بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ جو کہ غیر مسلم کے لیے ناقابل یقین ہے۔ مگر اب ماہرین اس کی تحقیقات میں لگے ہوئے ہیں۔ جیسا کہ مولانا وحیدالدین صاحب لکھتے ہیں : ” سائی کی کل تحقیقات (Phychied Research) کے نتائج جو سامنے آئے ہیں وہ بھی خالص تجرباتی اور مشاہداتی سطح پر موت کے بعد زندگی کے وجود کو ثابت کرتے ہیں۔ “ (از مذہب اور جدید چیلنج) جدید نفسیات بھی اب اس بات کی طرف آرہی ہے کہ روح قائم رہتی ہے اور دنیا فنا ضرور ہوگی۔ اس حقیقت کو اللہ تعالیٰ نے آیات 99 سے 113 میں کس قدر خوفناک نقشہ کے ساتھ بیان کیا ہے۔ جب ایک مسلمان ان آیات کو پڑھتا ہے تو پھر کس طرح وہ قرآنی احکامات سے ہٹ کر زندگی گزار سکتا ہے۔ اللہ کا خوف ایسی زنجیر ہے جو نفس کو سرکشی سے روکتی ہے اور قوانین کی پابندی پر مجبور کرتی ہے اگر کسی وقت نفس اپنی اصل سے ادھر ادھر ہونے لگتا ہے تو تقویٰ ہی اس کو خبردار کرتا ہے۔ عقیدہ توحید ہی مومن کا سب کچھ ہے۔ جب ایک مومن آخرت کا تصور کرتا ہے جو کہ قرآن میں بیان کیا گیا ہے اور پھر میدان محشر اور اللہ کے سامنے حاضری کے تصور سے اس کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ عقیدہ آخرت کی دعوت تمام انبیائے کرام نے دی ہے۔ کیونکہ امتحان کا ڈر ہی انسان کو سیدھا رکھتا ہے۔ جب ہم قرآن اور حدیث کے پیغام کو پوری توجہ سے پڑھتے اور سنتے ہیں تو ہمارے لیے ایمان بالغیب کافی ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ تو ہے ہی اَلْحَیُّ الْقَیُّومُ اس نے جو کتاب قرآن دیا تو اس میں تمام نصیحت، ڈر، خوف اور خوشخبریاں بڑے آسان الفاظ میں سمجھا دی گئی ہیں اور پھر کتاب جس پر نازل کی گئی اور جس کو سمجھانے کے لیے بھیجا گیا وہ بھی کوئی عام انسان نہیں۔ انسان تو ہے مگر خاص الخاص اور پھر اس کی تبلیغ میں زور پیدا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی قدرت اور طاقت اور غیب کی گئی باتیں آنکھوں سے دکھا دیں۔ جیسا کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو موت کے بعد زندگی کا مظاہرہ چار جانوروں کو ذبح کرنے اور پھر ان کو اکٹھا کر کے زندہ کرنے سے کروا دیا۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ کو معراج کے دوران حالات آخرت، جزاو سزا، دوزخ اور جنت یعنی غیب کی وہ باتیں اس زندگی میں ہی دکھا دیں اور ایک بہت بڑا راز یہ بھی ان کو بتا دیا کہ زمان و مکان کی قید جو اس دنیا میں رکھی گئی ہے اگلی دنیا میں اس کا حساب کتاب کچھ اور ہی انداز میں ہوگا۔ جیسا کہ آپ اتنا طویل سفر معراج کر کے واپس بھی آگئے جبکہ اس دنیا کی رات کا ایک بہت ہی معمولی وقت گزرا تھا۔ قرآن پاک سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ موت کے بعد کی زندگی میں انسانی شعور جاری رہے گا۔ کیونکہ وہ اپنے اعمال کے مطابق بڑے انصاف سے اپنے انعامات یا سزائیں حاصل کریں گے۔ ان کو اپنے کیے گئے اعمال بالکل یاد ہوں گے۔ اصل میں قرآن انسانی رہنمائی کے لیے ہی نہیں بھیجا گیا بلکہ اس میں سدا بہار تروتازہ علوم کا خزانہ بھی موجود ہے جیسا کہ آیت 103 اور 104 میں لوگوں کی آپس کی کھسر پھسر کچھ یوں بتائی گئی ہے۔ ” تم دنیا میں صرف دس ہی دن رہے ہو۔ ، ، تو ہوشمند، عقل مند شخص کہے گا۔ ” نہیں صرف ایک ہی روز ٹھہرے ہو۔ “ ( سورة طہٰ ) یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ کرہ ارض پر وقت کی رفتار بےحد سست ہے۔ یہاں علم طبیعیات کے ایک نئے قانون کی طرف اشارہ ملتا ہے اس موضوع پر ان شاء اللہ سورة سجدہ اور المعارج میں مکمل بحث کی جائے گی۔ فی الحال اتنا ہی سمجھ لینا کافی ہے کہ مادی چیزوں کی رفتار نسبتاً بہت سست ہوتی ہے جبکہ غیر مادی، مثلاً روحیں اور فرشتے بےحد تیز رفتاری سے سفر کرتے ہیں۔ پھر لوگوں کی ہیبت ناک خاموشی کہ اتنے زبردست ہجوم میں صرف پائوں کے چلنے کی آواز آئے گی۔ چہروں کا جھکا ہوا ہونا اور آنکھوں کا نیلا ہوجانا یہ سب اللہ سبحانہ تعالیٰ کے رعب داب اور شان و شوکت کی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے پھر انہی آیات میں آگے چل کر ان مومنین و صالح لوگوں کا ذکر یوں کیا گیا ہے ” اور جو نیک کام کرے گا اور مومن بھی ہوگا تو اس کو نہ ظلم کا خوف ہوگا اور نہ نقصان کا۔ “ (آیت 112 سورة طہٰ ) آخر میں اللہ کی اس نعمت، قرآن پاک کا ذکر کیا گیا ہے۔ کیونکہ اللہ اپنے بندوں پر ہر صورت مہربان ہے اسی لیے اس نے ہدایت کے لیے اور آخرت میں عذاب سے بچانے کے لیے قرآن نازل فرما دیا اور فرمایا ” تاکہ لوگ پرہیزگار بنیں یا اللہ ان کے لیے نصیحت پیدا کر دے۔ “ (طہٰ : 113 ) ” اے ہمارے رب ! جب تو ہمیں ہدایت کرچکا تو ہمارے دلوں کو نہ پھیر اور اپنے ہاں سے ہمیں رحمت عطا فرما، بیشک تو بہت زیادہ دینے والا ہے۔ “ آمین۔ ( سورة آل عمران : 8 )
Ayahs 20:114–129

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰۤى اِلَیْكَ وَحْیُهٗ١٘ وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا Open ayah 20:114 in the Quran reader

تو اللہ جو سچا بادشاہ ہے عالی قدر ہے اور قرآن کی وحی جو تمہاری طرف بھیجی جاتی ہے اس کے پورا ہونے سے پہلے قرآن کے پڑھنے کے لیے جلدی نہ کیا کرو اور دعا کرو کہ میرے رب ! مجھے اور زیادہ علم دے۔

وَ لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا۠ Open ayah 20:115 in the Quran reader

اور ہم نے پہلے آدم سے عہد لیا تھا مگر وہ اسے بھول گئے اور ہم نے ان میں صبر وثبات نہ دیکھا۔

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى Open ayah 20:116 in the Quran reader

اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ ” آدم کے آگے سجدہ کرو، ، تو سب سجدے میں گر پڑے مگر ابلیس نے انکار کیا۔

فَقُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ فَلَا یُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰى Open ayah 20:117 in the Quran reader

ہم نے کہا کہ آدم یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے تو یہ تم دونوں کو کہیں بہشت سے نکلوا نہ دے، پھر تم تکلیف میں پڑجاؤ۔

اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِیْهَا وَ لَا تَعْرٰىۙ Open ayah 20:118 in the Quran reader

یہاں تمہیں یہ آسائش ہے کہ نہ بھوکے رہو نہ ننگے۔

وَ اَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِیْهَا وَ لَا تَضْحٰى Open ayah 20:119 in the Quran reader

اور یہ کہ نہ پیاسے رہو اور نہ دھوپ کھائو۔

فَوَسْوَسَ اِلَیْهِ الشَّیْطٰنُ قَالَ یٰۤاٰدَمُ هَلْ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَ مُلْكٍ لَّا یَبْلٰى Open ayah 20:120 in the Quran reader

تو شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا اور کہا کہ آدم بھلا میں تم کو ایسا درخت بتائوں جو ہمیشہ کی زندگی کا ثمرہ دے اور ایسی بادشاہت کہ کبھی زائل نہ ہو۔

فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١٘ وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۪ۖ Open ayah 20:121 in the Quran reader

تو دونوں نے اس درخت کا پھل کھالیا تو ان پر ان کی شرمگاہیں ظاہر ہوگئیں اور وہ اپنے بدنوں پر پتے چپکانے لگے اور آدم نے اپنے رب کے حکم کے خلاف کیا تو وہ اپنے مطلوب سے بہک گیا۔

ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَیْهِ وَ هَدٰى Open ayah 20:122 in the Quran reader

پھر ان کے رب نے ان کو نوازا تو ان پر مہربانی سے تو جہ فرمائی اور سیدھی راہ بتائی۔

قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِیْعًۢا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى١ۙ۬ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَ لَا یَشْقٰى Open ayah 20:123 in the Quran reader

فرمایا کہ تم دونوں یہاں سے اتر جاؤ تم میں بعض بعض کے دشمن ہوں گے پھر اگر میری طرف سے تمہارے پاس ہدایت آئے تو جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا، وہ نہ گمراہ ہوگا اور نہ تکلیف میں پڑے گا۔

وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِیْشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَعْمٰى Open ayah 20:124 in the Quran reader

اور جو میری نصیحت سے منہ پھیرے گا اس کی زندگی تنگ ہوجائے گی اور قیامت کو ہم اسے اندھا کر کے اٹھائیں گے۔

قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْۤ اَعْمٰى وَ قَدْ كُنْتُ بَصِیْرًا Open ayah 20:125 in the Quran reader

وہ کہے گا میرے رب تو نے مجھے اندھا کر کے کیوں اٹھایا میں تو دیکھتا بھالتا تھا ؟۔

قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیْتَهَا١ۚ وَ كَذٰلِكَ الْیَوْمَ تُنْسٰى Open ayah 20:126 in the Quran reader

اللہ فرمائے گا کہ ایسا ہی چاہیے تھا تیرے پاس میری آیتیں آئیں تو تو نے ان کو بھلا دیا اسی طرح آج ہم تم کو بھلا دیں گے۔

وَ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ اَسْرَفَ وَ لَمْ یُؤْمِنْۢ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَدُّ وَ اَبْقٰى Open ayah 20:127 in the Quran reader

اور جو شخص حد سے نکل جائے اور اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ لائے ہم اس کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں اور آخرت کا عذاب بڑا سخت اور بہت دیر رہنے والا ہے۔

اَفَلَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:128 in the Quran reader

کیا یہ بات ان لوگوں کے لیے ہدایت کا موجب نہ ہوئی کہ ہم ان سے پہلے بہت سے فرقوں کو ہلاک کرچکے ہیں، جن کے رہنے کے مقامات پر یہ چلتے پھرتے ہیں ؟ عقل والوں کے لیے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔

وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَّ اَجَلٌ مُّسَمًّىؕ Open ayah 20:129 in the Quran reader

اور اگر ایک بات تمہارے رب کی طرف سے پہلے صادر اور جزائے اعمال کے لیے ایک میعاد مقرر نہ ہوچکی ہوتی تو عذاب کا نازل ہونا لازم ہوجاتا۔

سیدنا آدم (علیہ السلام) کا قصہ اور نافرمانوں کا انجام تشریح : پچھلی آیات میں اللہ کی قدرت کا بیان بڑی تفصیل سے دیا گیا ہے اور پھر یہ بتایا گیا کہ اللہ تمام بادشاہوں کا ایسا بادشاہ جو ہر طرح مکمل اور لافانی ہے۔ یہاں سب سے پہلے تو آنحضرت ﷺ کو نصیحت کی گئی ہے کہ آپ وحی کے نزول کے وقت الفاظ کو دہرایا نہ کریں بلکہ آرام سے توجہ سے سنتے رہا کریں۔ یاد کروانا اور دل و دماغ میں جما دینا ہمارا (اللہ کا) کام ہے۔ علم میں زیادتی کی دعا کیا کریں۔ اس کے بعد سیدنا آدم (علیہ السلام) کے قصے کا وہ حصہ جس کی یہاں مثال دینے کی ضرورت ہے بیان کیا گیا ہے جیسا کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ حسب ضرورت بیان کیا گیا۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) کا مکمل قصہ سورة بقرہ، سورة اعراف، سورة حجر اور سورة کہف میں گزر چکا ہے اور حسب ضرورت آئندہ سورة ص میں بیان کیا جائے گا۔ یہاں انسانی فطرت، اس کی کمزوریاں اور اس کی اچھائیاں اور کامیابیاں نیز سیدنا آدم (علیہ السلام) کی پیدائش اور ان کا جنت میں قیام، پھر غلطی کی وجہ سے زمین پر اترنا ذکر کیا گیا ہے تاکہ آنحضرت ﷺ اپنی تبلیغ کے دوران انسانی فطرت کا خیال رکھیں اور پریشان نہ ہوں اور تمام انسانوں کو بھی خوب اچھی طرح سمجھانا مقصود ہے کہ انسان کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا دشمن شیطان ہے۔ مگر انسان کی پہلی کمزوری یہ ہے کہ وہ بھول جاتا ہے اور شیطان کے بہکاوے میں آکر غلطی کر بیٹھتا ہے۔ جیسا کہ سیدنا آدم (علیہ السلام) نے غلطی کی۔ دوسری کمزوری : انسان کی یہ ہے کہ وہ صبر و استقامت میں کمزور ہے۔ انسان کو اپنے اوپر پورا کنٹرول ہونا چاہیے۔ نفس امارہ کو ہر صورت اپنے زیر رکھنا ضروری ہے۔ تیسری کمزوری : دنیاوی خواہشات، عیش، لالچ، مال و اولاد کی طمع اور عارضی خوشیاں۔ جو ان تمام چیزوں کی رغبت میں ڈوب جائے وہ اللہ سے دور اور شیطان کے قریب ہوجاتا ہے۔ جیسے سیدنا آدم (علیہ السلام) نے ممنوعہ درخت کا پھل کھا کر اللہ کی نافرمانی کی۔ اور یہ نافرمانی شیطان کے بہلانے پھسلانے سے کی۔ چوتھی کمزوری : مغرور اور ناشکرا انسان بجائے معانی مانگنے کے اکڑ جاتا ہے جیسا کہ ابلیس اور فرعون نے کیا۔ ابلیس نے سیدنا آدم (علیہ السلام) کو اللہ کے حکم سے سجدہ نہ کرنے سے کیا اور پھر پوری زندگی کے لیے اس پر لعنت بھیج دی گئی اور برے کاموں کا سردار بنا دیا گیا۔ پھر اسی قصہ آدم (علیہ السلام) سے اللہ کی مہربانی جو انسان پر کی جاتی رہی ہے اس کا ذکر ہے۔ (1) جو اس سے بھول چوک ہوجانے پر معافی مانگے، سچی معافی۔ اللہ اس کو نہ صرف یہ کہ معاف کردیتا ہے بلکہ اس کے لیے نیک ہدایت اور نیک راہیں بھی کھول دیتا ہے۔ جیسا کہ سیدنا آدم (علیہ السلام) نے فوراً اپنے گناہ پر معافی مانگ لی تو اللہ نے ان کو معاف کردیا اور ان کو جنت سے تو نکال دیا مگر زمین پر رہنے کے لیے اور کائنات کی تمام چیزیں کھانے پینے اور پہننے کے لیے عطا کردیں۔ (2) اللہ نے رہنمائی دی۔ عقل، ارادہ، سمجھ اور مدد کی نعمت دی۔ (3) زندگی گزارنے کی چار نعمتیں انسان کو مفت فراہم کی ہیں، یعنی کھانا، پینا، لباس اور ٹھکانا۔ (4) شوہر کو بیوی پر فوقیت دی کیونکہ بیوی کے نان نفقہ کا ذمہ دار شوہر ہی بنایا گیا ہے۔ آخر میں سیدنا آدم (علیہ السلام) کے واقعے کو بیان کرکے انسان کو تنبیہ کی جا رہی ہے کہ دشمن یعنی شیطان کے چکر میں آکر جو بھی گمراہی اختیار کرے گا وہ دنیا میں تو بےسکونی اور بےآرامی کی صورت میں عذاب اٹھائے گا ہی مگر آخرت میں بھی اس کو شدید مشکلات اور عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جیسا کہ آیات 123 سے 127 تک وضاحت سے اللہ تعالیٰ نے مجرموں کے انجام کا ذکر کیا ہے۔ اور پھر آنحضرت ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے لوگوں کو مخاطب کیا ہے کہ گزری ہوئی تمام قومیں اور ان کے اجڑے ہوئے شہر، بستیاں ان اہل عرب اور تمام انسانوں کو دکھائی نہیں دیتیں کہ اللہ کا عذاب نافرمانوں کو کس طرح نیست و نابود کردیتا ہے۔ پھر اہل مکہ اور تمام انسانوں کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ اعلان کرتا ہے کہ ” اگر ایک بات تمہارے رب کی طرف سے پہلے صادر اور جزائے اعمال کے لیے ایک معیاد مقرر نہ ہوچکی ہوتی تو عذاب کا نازل ہونا لازمی ہوجاتا۔ “ ( سورة طہٰ آیت :129 )
Ayahs 20:130–135

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِهَا١ۚ وَ مِنْ اٰنَآئِ الَّیْلِ فَسَبِّحْ وَ اَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضٰى Open ayah 20:130 in the Quran reader

پس جو کچھ یہ کہتے ہیں اس پر صبر کرو اور سورج نکلنے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی تسبیح و تمحید کیا کرو۔ اور رات کے پہلے پہر میں اس کی تسبیح کیا کرو اور دن کی اطراف (یعنی دوپہر کے قریب ظہر کے وقت بھی) تاکہ تم خوش ہوجاؤ۔

وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ۬ لِنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:131 in the Quran reader

اور کئی طرح کے لوگوں کو جو ہم نے دنیا کی زندگی میں آرائش کی چیزوں سے مالا مال کیا ہے تاکہ ان کی آزمائش کریں، ان پر نگاہ نہ کرنا اور تمہارے رب کی عطا کی ہوئی روزی بہت بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔

وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْهَا١ؕ لَا نَسْئَلُكَ رِزْقًا١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكَ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى Open ayah 20:132 in the Quran reader

اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کرو اور اس پر قائم رہو ہم تم سے روزی کے خواستگار نہیں بلکہ تمہیں روزی دیتے ہیں۔ اور نیک انجام اہل تقویٰ کا ہے۔

وَ قَالُوْا لَوْ لَا یَاْتِیْنَا بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اَوَ لَمْ تَاْتِهِمْ بَیِّنَةُ مَا فِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:133 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ” یہ پیغمبر اپنے رب کی طرف سے ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں لاتے “ ؟ کیا ان کے پاس پہلی کتابوں کی نشانی نہیں آئی ؟

وَ لَوْ اَنَّاۤ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَ نَخْزٰى Open ayah 20:134 in the Quran reader

اور اگر ہم ان کو پیغمبر بھیجنے سے پیشتر کسی عذاب سے ہلاک کردیتے تو وہ کہتے، ” اے ہمارے رب تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا ؟ کہ ہم ذلیل و رسوا ہونے سے پہلے تیرے کلام و احکام کی پیروی کرتے۔

قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوْا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ اَصْحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِیِّ وَ مَنِ اهْتَدٰى۠ Open ayah 20:135 in the Quran reader

کہہ دو کہ سب نتائج اعمال کے منتظر ہیں سو تم بھی انتظار کرو۔ عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ دین کے سیدھے رستے پر چلنے والے کون ہیں۔

صبر، نماز قائم کرنے اور گھر والوں کو اس کا حکم دینے کا حکم تشریح : اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں اور یہ خطاب تمام مؤمنوں اور مسلمانوں کے لیے بھی ہے۔ کہ دنیا میں ہر شخص کا کوئی نہ کوئی چھوٹا بڑا دشمن مختلف صورتوں اور حالات میں ضرور ہوتا ہے۔ تو اس کی تکلیف دہ باتوں ایذا رسانیوں، چالبازیوں، شرارتوں خباثتوں اور نفرتوں سے بچنے کا بہترین طریقہ ہے صبر اور صلوٰۃ، یعنی اپنے نفس پر قابو رکھتے ہوئے انتقام کے چکر میں نہ پڑنا اور اللہ تعالیٰ کی یاد اور عبادت میں مشغول ہوجانا۔ جیسا کہ سورة یوسف میں سیدنا یوسف (علیہ السلام) کا مصیبت میں پر سکون رہنا سیدنا یعقوب (علیہ السلام) کا اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے بیٹوں کو معاف کردینا۔ صبر و شکر عفو و درگزر، اللہ کی حکمت اور اسباب پر بھروسہ کرنا ہی بندگی اور سکون و چین کا باعث ہوتا ہے۔ اس کے بعد اللہ کی یاد تسبیح و تقدیس کا طریقہ بتایا گیا ہے جو کہ فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشا کا تعین کیا گیا ہے۔ ویسے تو ہر وقت ہی اللہ کی یاد کو دل میں بسائے رکھنا چاہیے مگر خاص طور سے روحانی، جسمانی اور اخلاقی طور پر اللہ کا ذکر نماز کے ذریعہ سے ہی کیا جاسکتا ہے۔ اور یہ ذریعہ انسان کے لیے واقعی نعمت سے کم نہیں۔ اس کے بعد لالچ، حسد، بغض اور طمع سے منع کیا گیا ہے۔ قناعت بہت بڑی تونگری (امارت) ہے کیونکہ اس سے انسان اپنے رزق مال و دولت سے اتنا زیادہ مطمئن اور راضی ہوجاتا ہے کہ اس کو دوسروں کے عیش مال و دولت ہرگز مرعوب نہیں کرتے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ نے جس قدر روزی رزق اس کے لیے مناسب سمجھا تھا اس کو دے دیا ہے۔ الحمدللہ۔ وہ دوسروں سے نہ جلتا ہے نہ بےسکون ہوتا ہے۔ اس کو معلوم ہوتا ہے کہ مال و دولت اور اولاد اللہ کی طرف سے بہت بڑی آزمائش ہیں کیونکہ ان کے نشے، ان کے سمیٹنے اور ان کی حفاظت میں وہ اس قدر مشغول ہوجاتے ہیں کہ نیکی، بدی، صوم و صلوٰۃ اور اللہ کی قربت یاد سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ آخرت کو بھی بھول جاتے ہیں۔ یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ یہ زندگی مال، آل اولاد اور جائیداد سب عارضی اور ساتھ نہ دینے والی چیزیں ہیں۔ اگر کوئی ساتھ جانے والی اور نیک انجام تک پہچانے والی چیز ہے تو وہ صرف نیک اعمال اور تقویٰ ہے، اس لیے حکم الٰہی ہے کہ خود نماز قائم کرو اور گھر والوں کو بھی اس کی تاکید کرو۔ اس سے نہ تو اللہ کو کوئی فائدہ ہوگا نہ پیغمبر کو ہوگا بلکہ اس کا فائدہ صرف اور صرف انسان کو خود ہوگا۔ پھر اللہ رب العزت ان خود سرکفار اور مشرکوں کا ذکر کرتے ہیں کہ یہ تو کسی صورت بھی ایمان لانے والے نہیں۔ معجزہ دیکھیں یا پچھلی آسمانی کتابیں دیکھیں۔ یا گزری ہوئی امتوں کی تباہی کے آثار۔ ایمان لانے والے نہیں۔ قرآن پاک بذات خود ایک بہت بڑا معجزہ ہے۔ یہ تو صرف حیل و حجت کرنے والے لوگ ہیں۔ ان کو سمجھ لینا چاہیے کہ بہت جلد قیامت آنے والی ہے اور پھر یہ اپنی آنکھوں سے اپنا انجام اور نیک لوگوں کا انجام دیکھ لیں گے۔ مگر اس وقت کچھ نہ ہو سکے گا۔ جیسا کہ آخری آیت 135 میں سارے معاملے کو چند الفاظ میں یوں سمیٹ دیا گیا ہے۔ فرمان الٰہی ہے۔ ” کہہ دو کہ سب نتائج اعمال کے منتظر ہیں سو تم بھی انتظار کرو۔ عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ دین کے سیدھے رستے پر چلنے والے کون ہیں ؟ (سورۃ طہٰ آیت 135) الحمدللہ سورت کا اختتام ہوا۔ اس سورت میں بیشمار اخلاقی، روحانی اور عملی زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے نصیحتیں مثالوں کے ساتھ بتائی گئی ہیں مثلاً : (1) دنیا کے مال و دولت اور عزت پر مغرور ہوجانا منع ہے کیونکہ غرور کی وجہ سے شیطان پر لعنت ہوئی اور یہی غرور انسان کو خوار کرتا ہے۔ (2) انسان کو عاجزی انکساری کے ساتھ آخری کتاب قرآن پاک پر ایمان لانا اور اس پر سختی سے عمل کرنا نجات دلا سکے گا۔ (3) نماز پر پابندی سے قائم رہنا شکر و دعا کا بہترین ذریعہ ہے۔ (4) مسلمانوں کے لیے دنیا و آخرت میں بہترین انعامات اور کامیابیوں کا وعدہ اور خوشخبری ہے۔ (5) آخرت، حساب کتاب اور سزا و جزا کا اعلان سچ ہے اور اس پر ایمان لانا بھی نجات کا ذریعہ ہے۔ الحمد للہ 16 سولہواں پارہ مکمل ہوا۔