21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 21:1–29

اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَۚ Open ayah 21:1 in the Quran reader

ترجمہ : لوگوں کے حساب کا وقت ان کے قریب آگیا ہے اور وہ غفلت میں پڑے اس سے منہ پھیر رہے ہیں۔

مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ وَ هُمْ یَلْعَبُوْنَۙ Open ayah 21:2 in the Quran reader

ان کے پاس کوئی نئی نصیحت ان کے رب کی طرف سے نہیں آتی مگر وہ اسے کھیلتے ہوئے سنتے ہیں۔

لَاهِیَةً قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّجْوَى١ۖۗ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ هَلْ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۚ اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 21:3 in the Quran reader

ن کے دل غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور ظالم لوگ آپس میں چپکے چپکے باتیں کرتے ہیں کہ ” یہ شخص کچھ بھی نہیں مگر تمہارے جیسا آدمی ہے تو تم آنکھوں دیکھتے جادو کی لپیٹ میں کیوں آتے ہو۔

قٰلَ رَبِّیْ یَعْلَمُ الْقَوْلَ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 21:4 in the Quran reader

پیغمبر نے کہا کہ ” جو بات آسمانوں اور زمین میں کہی جاتی ہے میرا رب اسے جانتا ہے اور وہ سننے والا جاننے والا ہے۔

بَلْ قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۭ بَلِ افْتَرٰىهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ١ۖۚ فَلْیَاْتِنَا بِاٰیَةٍ كَمَاۤ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 21:5 in the Quran reader

بلکہ وہ کہنے لگے کہ یہ ( قرآن) پریشان خواب ہیں نہیں بلکہ اس نے ان کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے نہیں ‘ بلکہ وہ شاعر ہے تو جیسے پہلے پیغمبر نشانیاں دے کر بھیجے گئے تھے اسی طرح یہ بھی ہمارے پاس کوئی نشانی لائے۔

مَاۤ اٰمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا١ۚ اَفَهُمْ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:6 in the Quran reader

ان سے پہلے جن بستیوں کو ہم نے ہلاک کیا ‘ وہ ایمان نہیں لاتی تھیں تو کیا یہ ایمان لے آئیں گے۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 21:7 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی پیغمبر بنا کر بھیجے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔ اگر تم نہیں جانتے تو جو یاد رکھتے ہیں ان سے پوچھ لو۔

وَ مَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا لَّا یَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ مَا كَانُوْا خٰلِدِیْنَ Open ayah 21:8 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے ایسے جسم نہیں بنائے تھے کہ کھانا نہ کھائیں اور نہ وہ ہمیشہ رہنے والے تھے۔

ثُمَّ صَدَقْنٰهُمُ الْوَعْدَ فَاَنْجَیْنٰهُمْ وَ مَنْ نَّشَآءُ وَ اَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 21:9 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کے بارے میں اپنا وعدہ سچا کردیا۔ تو ان کو اور جس کو چاہا نجات دی اور حد سے نکل جانے والوں کو ہلاک کردیا۔

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ كِتٰبًا فِیْهِ ذِكْرُكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 21:10 in the Quran reader

ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا تذکرہ ہے کیا تم نہیں سمجھتے ؟۔

وَ كَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْیَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَّ اَنْشَاْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 21:11 in the Quran reader

اور ہم نے بہت سی بستیوں کو جو گمراہ (ستم گار) تھیں ہلاک کردیا ان کے بعد اور لوگ پیدا کردیے۔

فَلَمَّاۤ اَحَسُّوْا بَاْسَنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَرْكُضُوْنَؕ Open ayah 21:12 in the Quran reader

جب انہوں نے ہمارے عذاب کے آثار دیکھے تو لگے بھاگنے۔

لَا تَرْكُضُوْا وَ ارْجِعُوْۤا اِلٰى مَاۤ اُتْرِفْتُمْ فِیْهِ وَ مَسٰكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:13 in the Quran reader

مت بھاگو اور جن نعمتوں میں تم عیش و آرام کرتے تھے ان کی اور اپنے گھروں کی طرف لوٹ جاؤ شاید تم سے اس بارے میں دریافت کیا جائے۔

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:14 in the Quran reader

کہنے لگے ” ہائے شامت بیشک ہم ظالم تھے۔

فَمَا زَالَتْ تِّلْكَ دَعْوٰىهُمْ حَتّٰى جَعَلْنٰهُمْ حَصِیْدًا خٰمِدِیْنَ Open ayah 21:15 in the Quran reader

تو وہ ہمیشہ اسی طرح پکارتے رہے یہاں تک کہ ہم نے ان کو کھیتی کی طرح کاٹ کر اور آگ کی طرح بجھا کر ڈھیر کردیا۔

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ Open ayah 21:16 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو مخلوقات ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کھیل تماشہ کے لیے پیدا نہیں کیا۔

لَوْ اَرَدْنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّاۤ١ۖۗ اِنْ كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:17 in the Quran reader

اگر ہم چاہتے کہ کھیل کی چیزیں (یعنی عورت اور فرزند) بنائیں اور اگر ہم کو کرنا ہی ہوتا تو ہم اپنے پاس سے بنا لیتے۔

بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ١ؕ وَ لَكُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ Open ayah 21:18 in the Quran reader

نہیں ‘ بلکہ ہم حق کو باطل پر کھینچ مارتے ہیں تو وہ اس کا سر توڑ دیتا ہے اور جھوٹ اسی وقت مٹ جاتا ہے اور جو باتیں تم بناتے ہو ان سے تمہاری ہی خرابی ہے۔

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَنْ عِنْدَهٗ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ لَا یَسْتَحْسِرُوْنَۚ Open ayah 21:19 in the Quran reader

اور جو لوگ آسمانوں میں اور زمین میں ہیں سب اسی کی ملکیت اور اسی کا مال ہیں اور جو فرشتے اس کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے نہ تھکتے ہیں نہ اکتاتے ہیں۔

یُسَبِّحُوْنَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لَا یَفْتُرُوْنَ Open ayah 21:20 in the Quran reader

رات دن اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں نہ تھکتے ہیں نہ تھمتے ہیں۔

اَمِ اتَّخَذُوْۤا اٰلِهَةً مِّنَ الْاَرْضِ هُمْ یُنْشِرُوْنَ Open ayah 21:21 in the Quran reader

بھلا لوگوں نے جو زمین کی چیزوں سے بعض کو معبود بنا لیا ہے تو کیا وہ ان کو مرنے کے بعد اٹھا کھڑا کریں گے ؟۔

لَوْ كَانَ فِیْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا١ۚ فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ Open ayah 21:22 in the Quran reader

اگر آسمان اور زمین میں اللہ کے سوا اور معبود ہوتے تو زمین و آسمان درہم برہم ہوجاتے پس اللہ تعالیٰ عرش کا رب اس سے پاک ہے جو وہ بیان کرتے ہیں۔

لَا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ هُمْ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:23 in the Quran reader

وہ جو کام کرتا ہے اس کی اس سے پوچھ نہیں ہوگی اور جو کام یہ لوگ کرتے ہیں اس کی ان سے پرسش ہوگی۔

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ١ۚ هٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِیَ وَ ذِكْرُ مَنْ قَبْلِیْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ١ۙ الْحَقَّ فَهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:24 in the Quran reader

کیا لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اور معبود بنا لیے ہیں کہہ دو کہ اس بات پر اپنی دلیل پیش کرو۔ یہ ذکر (قرآن) ان کے لیے نصیحت ہے جو میرے ساتھ ہیں اور یہ ذکر (تورات وانجیل وغیرہ) ان کے لیے بھی جو مجھ سے پہلے تھے بلکہ بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر حق بات کو نہیں جانتے اور اس لیے اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْۤ اِلَیْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:25 in the Quran reader

اور جو پیغمبر ہم نے تم سے پہلے بھیجے تھے ان کی طرف یہی وحی بھیجی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری ہی عبادت کرو۔

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَۙ Open ayah 21:26 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اللہ بیٹا رکھتا ہے۔ وہ پاک ہے (اس کے نہ بیٹا ہے نہ بیٹی) بلکہ (جن کو یہ لوگ اس کے بیٹے بیٹیاں سمجھتے ہیں) وہ اس کے عزت والے بندے ہیں

لَا یَسْبِقُوْنَهٗ بِالْقَوْلِ وَ هُمْ بِاَمْرِهٖ یَعْمَلُوْنَ Open ayah 21:27 in the Quran reader

وہ اس کے سامنے بڑھ کر بول نہیں سکتے اور اس کے حکم پر عمل کرتے ہیں۔

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یَشْفَعُوْنَ١ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَ هُمْ مِّنْ خَشْیَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:28 in the Quran reader

جو کچھ ان کے آگے ہوچکا اور جو کچھ پیچھے ہوگا وہ سب سے واقف ہے اور وہ اس کے پاس کسی کی سفارش نہیں کرسکتے مگر اس شخص کی جس سے اللہ خوش ہو اور وہ اس کی ہیبت سے ڈرتے رہتے ہیں۔

وَ مَنْ یَّقُلْ مِنْهُمْ اِنِّیْۤ اِلٰهٌ مِّنْ دُوْنِهٖ فَذٰلِكَ نَجْزِیْهِ جَهَنَّمَ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 21:29 in the Quran reader

اور جو شخص ان میں سے یہ کہے کہ اللہ کے سوا میں معبود ہوں تو اسے ہم دوزخ کی سزا دیں گے اور ظالموں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں۔

غافل لوگ، عقیدہ آخرت اور انبیاء کا رد کرنیوالوں کا انجام تشریح : ان آیات میں ان عربی بدوئوں کے اعتقادات ‘ اعتراضات ‘ ہٹ دھرمی اور دین سے نفرت کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) کو نبوت دی گئی اور اس کے بعد تمام انبیاء نے لوگوں کو توحید کا سبق دیا اور سب سے آخر میں سیدنا محمد ﷺ تشریف لائے۔ انہوں نے بھی توحید کا ہی سبق دیا۔ جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا تھا کہ جب بھی کوئی نبی اور رسول کسی قوم کی طرف بھیجا جاتا تو لوگوں میں تین گروہ پیدا ہوجاتے یعنی مومن کافر اور منافق۔ منافقین دونوں طرف گھومتے رہتے کفار اعتراضات اور مخالفت رسول میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے جیسا کہ کفار مکہ نے آپ کو اس لیے رسول ماننے سے انکار کیا کہ آپ عام لوگوں کی طرح انسان ہیں۔ قرآن مجید پر یوں اعتراض کرتے کہ یہ تو شائد خیالی اور جنونی باتیں ہیں یا پھر اشعار ہیں جو آپ سناتے رہتے ہیں۔ حالانکہ قرآن پاک دنیا کی سب سے بہترین کتاب اور رشدو ہدایت کا مجموعہ ہے کیونکہ جن وانس کی پیدائش کا مقصد ہی اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے۔ اور روحانی اور اخلاقی تربیت دینے کے لیے نبی بھیجے اور یہی علم و معفرفت ہی تو ہے جس نے انسان کو تمام مخلوقات بلکہ فرشتوں پر بھی برتری دلائی۔ تسبیح و تقدیس تو فرشتے بےحد کرتے رہتے ہیں۔ انسان کو پیدا کرنے کا مقصد بہت بڑا ہے یونہی کھیل تماشہ کے لیے دنیا نہیں بنائی گئی۔ انسان کو حق و باطل ‘ نیکی و بدی اور عمل و بےعملی کے میدان میں آزمانے کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ اور ہمیں باخبر کردیا گیا ہے جیسا کہ سیدنا آدم (علیہ السلام) کو شیطان سے ہوشیار رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ کی آیات پر عمل کرنا ہر بندے کی اپنی ہی بہتری کے لیے ہے ایک جاہل سے جاہل آدمی بھی یہ سوچ سکتا ہے کہ یہ اتنی بڑی کائنات اور اس کا اتنا بڑا انتظام جو بغیر کسی انجینئر مستری اور دکھائی دینے والے کاریگر کے چل رہا ہے یہ صرف کسی ایک ہی طاقت کا کام ہے اور وہ طاقت ہے اللہ وحدہ ‘ لا شریک لہ ایک معمولی گھر دو سربراہوں کے کنٹرول میں نہیں چل سکتا تو یہ اتنا بڑا نظام دو ہستیاں یا زیادہ کیسے چلا سکتی ہیں۔ توحید کے ثبوت کے لیے یہ ایک عمدہ مثال ہے کہ اللہ واحد ہے، پھر جب وہی ایک ہے جس نے ہمیں پیدا کیا اور یہ زمین و آسمان اور ان کے درمیان والی ساری چیزیں پیدا کیں تو پھر ضروری ہے کہ صرف اسی کا ہی شکر ادا کیا جائے۔ شکر ادا اسی طرح ہوسکتا ہے کہ اسی کو مدد کے لیے پکارا جائے مددمانگی جائے اپنی تمام ضرورتوں ‘ کامیابیوں اور صحت و تندرستی کے لیے صرف اللہ کو پکارا جائے۔ پکارنے اور مدد مانگنے کے طریقے قرآن مجید میں بیان کیے گئے ہیں اب جو خوش نصیب ہیں اس پر ایمان لاتے ہیں۔ ان کو تو غیب کی باتیں بھی معلوم کروائی جاتی ہیں کہ اس زندگی کے بعد تم دوبارہ ضرور زندہ کیے جاؤ گے اس لیے یہ عارضی زندگی بڑی ہی احتیاط سے گزارو۔ کیونکہ یہاں گزارے ہوئے ہر لمحہ کا حساب لے کر آخرت میں ٹھکانا ملے گا۔ اچھے کاموں کا اچھا بدلہ۔ اور برے کاموں کا برا بدلہ۔ قرآن کو غور سے پڑھو ‘ کائنات کے ذرے ذرے پر اور خود اپنے آپ پر غور کرو تمہیں اللہ اپنی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب نظر آئے گا۔ انسانی تاریخ اور خاص طور سے قرآن نے جو گزری ہوئی قوموں کا ذکر کیا ہے وہ صاف طور پر یہی خبر دی گئی ہے کہ وہی قومیں پھلتی پھولتی ہیں جو اللہ کی نشانیوں پر غورو فکر کر کے ان سے نئی نئی ایجادات کرتی ہیں اور اللہ کے سامنے سجدہ شکر ادا کرتی ہیں۔ اور جو قومیں غفلت ‘ بدکرداری ‘ نفرت ‘ حسد اور بغض میں بےترتیب زندگیاں گزارتی ہیں تو ان کی انہی بدفعلیوں کی وجہ سے ان کو عذاب کے طور پر نیست و نابود کردیا جاتا ہے اور ان کی جگہ دوسری قوموں کو آباد کردیا جاتا ہے۔ آج کل تو سائنسی ترقی کا زمانہ ہے اور سائنسی ترقی کی تو بنیاد ہی قرآن ہے۔ آج کا سائنسدان آخرت کو ماننے پر تیار ہو رہا ہے جب وہ ویڈیو فلم بنا کر اس کو دیکھتا ہے تو اسے یقین ہونے لگتا ہے کہ واقعی ہماری تمام زندگی فلم کی شکل میں ہمارے سامنے ضرور چلائی جاسکتی ہے۔ یہ تو ایک مثال ہے اب تو قدم قدم پر نت نئی ایجادات دکھائی دیتی ہیں۔ جن کی خبر چودہ سو سال پہلے قرآن پاک میں دی جا چکی ہے۔ کچھ ملحد تو ان کی وجہ سے ایمان کی روشنی سے فیض یاب ہوچکے ہیں اور کچھ سوچ میں پڑے ہوئے ہیں۔ جیسا کہ یہ خبر ملی ہے کہ مئی 1969 ء میں امریکی محکمہ ڈاک نے اپالوہشتم کی خلائی پرواز کی یاد میں ڈاک ٹکٹ جاری کیا ان پر چاند کے مدار سے لی گئی زمین کی تصویر دکھائی گئی تھی اور ان پر یہ عبارت بھی درج تھی ” خدائے عظیم جس نے زمین و آسمان پیدا کیے۔ “ یہ سائنسدان اللہ کو مان گئے اس کی عظمت کو مان گئے اور اس کی خلاقی (پیدا کرنے کی طاقت) کو بھی مان گئے مگر دل سے ایمان لانے والے ان میں کتنے ہوئے ! یہ معلوم نہیں۔ غرض سب کچھ اللہ نے ہر شخص کو دے رکھا ہے۔ اس کے دیے ہوئے اختیارات کو بندہ اگر صحیح طور پر استعمال کرتا ہے تو اچھے نتائج نکلتے ہیں۔ اگر غلط سمت میں استعمال کرتا ہے تو ظاہر ہے اس کے برے نتائج نکلتے ہیں۔ مگر ہر کام میں اخلاص اور صراط مستقیم پر چلنے سے ہی اللہ راضی ہوتا ہے۔ برکت دیتا ہے ورنہ کفر کو ظلم کہا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” اور جو شخص ان میں سے یہ کہے کہ اللہ کے سوا میں معبود ہوں تو اسے ہم دوزخ کی سزا دیں گے اور ظالموں کو ہم ایسی ہی سز ادیا کرتے ہیں۔ “ (سورۃ الانبیاء آیت 29 )
Ayahs 21:30–35

اَوَ لَمْ یَرَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا١ؕ وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ١ؕ اَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:30 in the Quran reader

کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے۔

وَ جَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِهِمْ١۪ وَ جَعَلْنَا فِیْهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 21:31 in the Quran reader

اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے تاکہ وہ لوگوں کے بوجھ سے ہلنے اور جھکنے نہ لگے اور اس میں کشادہ رستے بنائے تاکہ لوگ ان پر چلیں۔

وَ جَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا١ۖۚ وَّ هُمْ عَنْ اٰیٰتِهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 21:32 in the Quran reader

اور آسمان کو محفوظ چھت بنایا اس پر بھی وہ ہماری نشانیوں سے منہ پھیر رہے ہیں۔

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 21:33 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن ‘ سورج اور چاند کو بنایا یہ سب (اپنے اپنے) مدار میں تیر رہے ہیں۔

وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ١ؕ اَفَاۡئِنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ Open ayah 21:34 in the Quran reader

اور اے پیغمبر ہم نے تم سے پہلے کسی آدمی کو ہمیشہ زندہ نہیں رکھا۔ بھلا اگر تم مرجاؤ تو کیا یہ لوگ ہمیشہ رہیں گے۔

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ نَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَةً١ؕ وَ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 21:35 in the Quran reader

ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور ہم تم لوگوں کو سختی اور آسائش میں آزمائش کے طور پر مبتلا کرتے ہیں اور تم ہماری طرف ہی لوٹ کر آئو گے۔

کائنات اور انسان کی پیدائش کے راز تشریح : یہ آیات سائنسی نکات اور بڑے بڑے رازوں کو ظاہر کرتی ہیں۔ جبکہ بظاہر تخلیق کائنات، تخلیق حیوانات، جمادات، نباتات اور تمام اجرام فلکیات کا ذکر ہے کہ یہ سب اللہ نے بنائے ہیں۔ انسان کی آزمائش کے لیے اس کو نعمتیں دیں اور پھر بتایا کہ زندگی ختم ہونے والی چیز ہے۔ اور پھر آخرت کا بھی بتا دیا کہ مرنے کے بعد تم کہاں جاؤ گے اور اس نے ذرے سے لے کر آسمان تک ہر چیز کا حساب کتاب بڑی وضاحت سے اپنے پاس لکھ رکھا ہے۔ آیت 30 میں بہت بڑا انکشاف ہے۔ کہ زمین آسمان جڑے ہوئے تھے تو ان کو ہم نے علیحدہ کردیا۔ علم فلکیات نے جب تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ واقعی زمین و آسمان جڑے ہوئے تھے۔ ہوا ایسے کہ سورج کے پاس سے کوئی سیارہ اسقدر زبردست طاقت سے گزرا کہ اس نے سورج کے کچھ حصہ کو اڑا دیا وہ تمام ذرات جو سورج سے علیحدہ ہوئے زمین اور بیشمار سیاروں میں تبدیل ہوگئے اور سورج کے گرد چکر لگانے لگے۔ کیونکہ یہ آگ کے گولے تھے اس لیے ان کا اوپر کا حصہ آہستہ آہستہ ٹھنڈا ہونے لگا اور اس حصہ کو قرش الارض زمین کا چھلکا (اوپری تہہ) کہتے ہیں۔ آیت میں فتق کا لفظ اور رتق کا لفظ یہ بیان کر رہا ہے کہ دو جڑی ہوئی چیزیں علیحدہ علیحدہ کردینا۔ یعنی زمین و آسمان کا جڑا ہوا ہونا اور پھر بعد میں تخلیقی کارروائی سے ان کو جدا جدا کرنا۔ تخلیقی کارروائی مختصراً اوپر بیان کردی گئی ہے۔ آج کے تمام سائنس دان اب تک صرف یہی جان سکے ہیں کہ زمین کی ابتدا ہوئی جیسا کہ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا ” آج کے Cosomolodists یہ کہتے ہیں کہ زمین کا وجود آج سے تقریباً دس سے بیس ارب سال پہلے ایک دھماکے سے وجود میں آیا۔ اس دھماکے کے بعد ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصہ سے قبل کائنات بلند توانائی کی روشنی پر مشتمل تھی۔ اس کا درجہ حرارت 1012 کیلون سے زیادہ اور کثافت (Denstiy) ×103 5 گرام فی مکعب سینٹی میٹر تھی۔ یہ روشنی بہت چھوٹی طول موج کی گا ما شعاعوں پر مبنی خیال کی جاتی ہے جس کی توانائی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ ہم اس قلیل ترین لمحہ وقت سے جب کائنات کا آغاز ہوا شروع نہیں کرسکتے۔ بلند توانائی کی روشنی (گاما شعاعوں) کے ذرات فوٹانوں کے باہمی تصادموں سے مادہ اور ضد مادہ کے ذرات وجود میں آئے یعنی پروٹان اور اینٹی پروٹان اور نیوٹران اور اینٹی نیوٹران ‘ مگر ایک ذرہ جب اپنی ضد ذرہ سے ٹکراتا ہے تو دونوں ختم ہو کر روشنی (گاما شعاعوں) کے فوٹان بنا دیتے ہیں۔ اس ادنیٰ درجہ حرارت (گاما شعاعوں) نے الیکٹرانز اور مخالف ذرات پازیٹرانز پیدا کیے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس گیسی آمیزے کا درجہ حرارت گرتا گیا اور بگ بینگ کے کوئی ایک ارب سال کے اندر مادے نے کہکشائوں کی شکل میں آنا شروع کیا اور ستارے تشکیل دیے۔ “ (از کتاب کائنات قرآن اور سائنس) اس آیت کے درمیانی حصہ میں پانی کی افادیت بڑے ہی خوبصورت جامع اور معنی خیز انداز میں بیان کی گئی ہے۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب اس کی وضاحت بڑے پیارے انداز سے کرتے ہیں ملاحظہ ہو : ” یہ معلوم ہوچکا کہ حیات کی بنیادی اکائی یعنی اس کا نمائندہ ایک سالمیہ ہے جسے (DNA) کہتے ہیں۔ قوت حیات صرف اس سالمیے میں ہوتی ہے ‘ اگر یہ سالمیہ صرف پانی ہی کے سالمیے سے پیدا ہوتا تو یہ آیت اس طرح سے ہوتی۔ ” ہم نے تمام زندہ چیزوں کو پانی سے پیدا کیا “ جبکہ قوت حیات ایک نئے اور ایک ہی جیسے سالمیے کی بناوٹ ہے جس نے نامیاتی کیمیا Chemicals) اصلی یا ابتدائی سالمیے سے حاصل کیے ہوتے ہیں۔ جدید علم حیاتیات نے یہ ثابت کردیا کہ پانی کے سالمیوں کے H+ اور OH- آئن (ION) (یارواں برقی پاروں کے جواہر) کے ذریعے پیدا ہوسکتے ہیں۔ خاص طور پر (N- P+) جو فاسفورس ‘ امینوایسڈ اور شکر کا مرکب ہوتا ہے کی آمیزش کے عمل میں h+ آئن ہی استعمال ہوتا ہے ‘ تابکار ہائیڈروجن (Tritum) کے ساتھ تجربات نے یہ ثابت کیا ہے کہ (D N O) سالمیے ہائیڈروجن (ION) صرف پانی ہی سے حاصل کرتے ہیں۔ اسی تجربے نے یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ ہائیڈروجن آئن جسے ” حرکت پذیر ہائیڈروجن “ کہتے ہیں رائبوز (Ribose) شکر اور امینوایسڈ نکلائیڈ کے درمیان ایک مسلسل برقی میدان پیدا کرتا ہے۔ اس طرح وہ بنیاد تیار ہوتی ہے جس پر قوت حیات برقرار رہتی ہے۔ یہ اصول تمام قسم کے جسیموں (Organisums) کے متعلق بھی اسی طرح ہے۔ یعنی خلیے (Cells) صرف ہائیڈروجن کی مدد سے ہی اپنی مصروفیات یا حرکت جاری رکھ سکتے ہیں۔ خلیوں کی کیمسٹری پر تحقیق نے یہ ظاہر کیا ہے کہ تمام برقی سلسلے خلیے میں لائسو سوم (Lysosome) اور پانی کے برقی چارج (IONS) کی مدد سے قائم رہتے ہیں۔ مزید یہ تمام کیمیائی سلسلے ‘ خلیاتی لیبارٹری جسے ہم مٹو کو نڈیا (Mitochondria) کہتے ہیں ‘ پانی کے آئن (IONS) کی وساطت سے ہی کارگر ہوتے ہیں۔ یہ ثابت ہوا ہے کہ پانی کا سالمہ جسم میں سات سے چودہ دن تک رہتا ہے پھر خارج ہوجاتا ہے۔ اور پانی کے نئے آئن (IONS) اس کی جگہ لے لیتے ہیں اس طرح پانی نئی اور تازہ قوت حیات مہیا کرنے کا باعث ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جسیمے پانی کے ختم ہوجانے (شدید پیاس) کو برداشت نہیں کرسکتے۔ چناچہ پانی زندگی کی جیب (Genesis) اور قوت حیات کی بنیاد ہے۔ پھر اس کے بعد آیت اس اعلان پر ختم ہوتی ہے کہ ” پھر وہ کیوں نہیں مانتے ؟ “ یہ بات خاص طور سے ہمارے موجودہ دور کے کفار کے لیے ہے اس لیے کہ ابھی صرف تیس پینتیس سال قبل ہی قوت حیات کے لیے پانی کے ناگزیر ہونے کی حقیقت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ “ مختصر یہ ہے ” درحقیقت ہر جسیمہ اپنی مختصر سی لیبارٹری میں پانی کو نقدی کی طرح خرچ کرتا ہے۔ اسی وجہ سے ہمارے جسم میں گلینڈز میں خاص قسم کے ہارمون پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ جو خلیوں کے اپنے اندر اور ایک دوسرے کے درمیان پانی کا تبادلہ کرتے رہتے ہیں۔ جسم میں موجود بہت سے مراکز بدن کی رطوبت کو جدا کرنے والے گلینڈز سے ایک کمپیوٹر جیسے نظام کے ذریعے منسلک ہیں۔ مثلاً بخار سے پہلے فالتو پانی نکل جاتا ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ جسم اس قسم کی مدافعتی جنگ میں مصروف ہے جس میں بیکٹیریا کی موجودگی یا حملہ مشکل ہوجائے۔ ہمارے جسم نقصان دہ جراثیم کو زندہ رہنے کی مہلت نہیں دیتے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ عمل اس آیت کریمہ کے راز کے احساس کے تحت ہی وقوع پذیر ہے۔ چناچہ یہ عظیم معنی ہیں جو اللہ کے اس کلام میں پوشیدہ ہیں کہ ” ہم نے تمام زندہ چیزوں کو پانی کے توسط سے پیدا کیا۔ “ (از قرآنی آیات اور سائنسی حقائق ) اگلی آیت میں پہاڑوں کا ذکر ہے۔ پہاڑوں کے بیشمار فائدے ہیں جن میں سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ اقعی زمین پر میخوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کیونکہ زمین کی اوپری تہہ صرف 40 میل ہے جو کہ گرم ترین لاوہ سے بھری ہوئی ہے۔ پہاڑ زمین کے اندر تک بہت گہرائی تک پہنچے ہوئے ہوتے ہیں جو زمین کو توازن اور مضبوطی دے کر محفوظ رکھتے ہیں۔ ورنہ تو لاوے کا زور مسلسل زلزلے پیدا کرتا رہتا۔ پھر انسان کی سہولت کے لیے پہاڑوں کے درمیان میں بڑے بڑے راستے (درے) بنا دیے کہ انسان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے میں پورا پہاڑ پھاند کر عبور نہ کرنا پڑے اور آسانی سے سفر ہو سکے اسی طرح اگلی آیت 32 میں بیشمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت آسمان کا ذکر کیا گیا ہے۔ آسمان بیشمار حفاظتوں کے لیے بنایا گیا ہے اسی لیے اس کو چھت کہا گیا ہے۔ جس طرح چھت انسان کو آندھی طوفان سردی گرمی اور بارش سے محفوظ رکھتی ہے اسی طرح آسمان بھی کچھ ایسی حکمت اور حفاظت کے لحاظ سے بنایا گیا ہے کہ اس نے زمین کو ہر طرف سے پوری طرح لپیٹ رکھا ہے۔ اور یوں فضا سے سورج سے نقصان دہ اور گرم ترین شعاعوں اور مسلسل شہاب ثاقب کی بارش سے زمین کو محفوظ کردیا گیا ہے۔ یہ تو بڑی ہی معمولی سمجھ بوجھ رکھنے والا انسان بھی سمجھ سکتا ہے۔ مگر کفار پھر بھی نہ دھیان کرتے ہیں اور نہ سوچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی طرح اگلی آیت 33 میں اللہ کی بہترین تخلیق کا ذکر کیا گیا ہے۔ یعنی دن رات اور ان سے متعلقہ سورج اور چاند انسان کے لیے بنا دیے تاکہ اس بہترین سسٹم سے انسان کو آرام اور کام کی زبردست سہولت مل سکے۔ اور اس میں بھی کئی سائنسی نکات بیان کردیے گئے ہیں۔ مثلاً چاند سورج ‘ ستارے اور زمین کا آپس میں ربط کے ساتھ چکر لگانا جو ان کی آپس میں کشش کو ظاہر کرتے ہیں اور یہ کشش اس قدر مناسب اور ٹھیک طریقہ سے بنائی گئی ہے کہ ان کی گردش سے لوگ وقت ‘ دن ‘ ہفتے ‘ مہینے اور سال کی گنتی کرتے ہیں اور پھر راستے یعنی سمت بھی انہی سے معلوم کرتے ہیں۔ اس کام میں ہمارے مسلمان سائنس دانوں نے بڑے بڑے کام کیے ہیں مثلاً ” ابو الفتح عمر بن ابراہیم خیام۔ عالی دماغ فلسفی ‘ شاعر ‘ علم فلکیات اور ہیئت کا زبردست عالم ‘ ماہر ریاضی دان ‘ شمسی اور قمری تاریخوں کی تحقیق کر کے ان میں مفید اصلاحات کرنے والا۔ دونوں قسم کی تاریخوں میں مطابقت پیدا کرنے والا ‘ ماہر موسمیات ‘ شمسی مہینوں کو درست کر کے دینی کاموں کے لیے قمری سال اور سرکاری دفاتر میں شمسی سال کو حکومت کے ذریعے رائج کرنے والا لیپ سال کا موجد۔ ایک عام انسان تھا مگر اس نے اللہ کے حکم کو مانتے ہوئے کائنات کی ہر چیز پر غور وفکر کر کے یہ کمال حاصل کیا کہ دنیا کو قرآن کی روشنی میں علم کے خزانے اور علم کی چکاچوند روشنی عطا کی۔ تو کیا یہ کفار اتنی سی سمجھ بھی نہیں رکھتے کہ اس دن رات اور چاند سورج ستاروں کے بنانے والے کو ہی پہچان سکیں اور ہدایت دینے والے کی نصیحت پر غور کر کے نیکی کی راہ اختیار کرسکیں۔ قرآن پاک میں 750 آیات میں کائناتی مظاہر پر غور وفکر کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ کیا یہ لوگ اتنے ہی بےعقل ہیں کہ اللہ کی ذات کو کسی صورت بھی پہچان نہیں سکتے۔ جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ جہاں بھی اللہ کی مخلوقات جس شکل میں بھی ہوں اور سب ہی اللہ کے حکم کے مطابق ایک خاص مضبوط نظام کے تحت اپنی اپنی جگہ کام میں مصروف ہیں۔ جس کو جب اللہ چاہتا ہے اپنی طرف بلا لیتا ہے کسی کو بھی طاقت حاصل نہیں کہ اس کے حکم کے مطابق نہ چلے اور ہمیشہ اس دنیا میں باقی رہ سکے۔ آیت 34 اور 35 میں یہی حقیقت واضح کی گئی ہے کہ زندہ ہونا ‘ مرجانا اور پھر زندہ ہونا یہ اصول ہر مخلوق کے لیے ضروری ہے اور اٹل ہے۔ یہاں اس دنیا میں برائی اور بھلائی ‘ نیکی اور بدی ‘ صحت و بیماری ‘ عزت و دولت ‘ امیری اور غریبی۔ غرض ہر قدم پر انسان کو آزمایا گیا ہے۔ کہ صبر و شکر سے کام لیتا ہے یا کہ سرکشی اور غفلت میں پڑ کر زندگی گزارتا ہے ؟ اور یہی زندگی کا مقصد ہے کیونکہ جب آخر میں اللہ کے حضور حاضری ہوگی تو اسی گزرے ہوئے وقت کے مطابق ہمیشہ والی زندگی دی جائے گی۔ اچھی یا بری۔ یہ سب کچھ رب ذوالجلال اپنے پیارے رسول کی ہمت بندھانے کے لیے بار بار فرما رہا ہے۔ کہ بد فطرت انسان کو راہ راست پر لانا بہت مشکل کام ہے۔ اس لیے آپ ان سے پریشان نہ ہوں۔