21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 21:36–47

وَ اِذَا رَاٰكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ یَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ١ۚ وَ هُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 21:36 in the Quran reader

اور جب کافر تم کو دیکھتے ہیں تو تم سے ہنسی مذاق کرتے ہیں کہ کیا یہی شخص ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر (برائی سے) کیا کرتا ہے ؟ حالانکہ وہ خود رحمن کے نام سے منکر ہیں۔

خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ١ؕ سَاُورِیْكُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ Open ayah 21:37 in the Quran reader

(انسان کچھ ایسا جلد باز ہے) گویا انسان جلد بازی ہی سے بنایا گیا ہے۔ میں عنقریب تمہیں اپنی نشانیاں دکھائوں گا تو تم جلدی نہ کرو۔

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 21:38 in the Quran reader

اور کہتے ہیں اگر تم سچے ہو تو جس عذاب کا آپ کہتے ہیں وہ کب آئے گا ؟۔

لَوْ یَعْلَمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا حِیْنَ لَا یَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَ لَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 21:39 in the Quran reader

اگر یہ منکر لوگ اس وقت کو جان لیں جب وہ نہ اپنے منہ کے سامنے سے آگ کو روک سکیں گے نہ اپنی پیٹھ کے پیچھے سے اور نہ کوئی ان کا مددگار ہوگا۔

بَلْ تَاْتِیْهِمْ بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ رَدَّهَا وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 21:40 in the Quran reader

بلکہ قیامت اچانک ان پر آوارد ہوگی اور ان کے ہوش کھو دے گی پھر نہ وہ اسے روک سکیں گے اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 21:41 in the Quran reader

اور تم سے پہلے بھی رسولوں کے ساتھ ٹھٹھے ہوچکے ہیں۔ تو جو لوگ ان میں سے تمسخر کیا کرتے تھے ان کو اسی عذاب نے جس کی ہنسی اڑاتے تھے آگھیرا۔

قُلْ مَنْ یَّكْلَؤُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِ١ؕ بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:42 in the Quran reader

کہو کہ رات اور دن میں (اللہ کے غضب) سے تمہیں کون بچاتا ہے ؟ اصل میں وہ اپنے رب کے ذکر سے منہ پھیرتے ہیں۔

اَمْ لَهُمْ اٰلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِّنْ دُوْنِنَا١ؕ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَ اَنْفُسِهِمْ وَ لَا هُمْ مِّنَّا یُصْحَبُوْنَ Open ayah 21:43 in the Quran reader

کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں جو ان کو مصائب سے بچا سکیں وہ تو اپنی مدد بھی نہیں کرسکتے اور نہ ہم سے بچانے کے لیے کوئی ان کی مدد کرسکے گا۔

بَلْ مَتَّعْنَا هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى طَالَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ؕ اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ اَفَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 21:44 in the Quran reader

بلکہ ہم نے انہیں اور ان کے باپ دادئوں کو عیش دیا یہاں تک کہ اسی حالت میں ان کی عمریں بسر ہوگئیں۔ کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آرہے ہیں۔ تو کیا یہ لوگ غلبہ پانے والے ہیں۔

قُلْ اِنَّمَاۤ اُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْیِ١ۖ٘ وَ لَا یَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ اِذَا مَا یُنْذَرُوْنَ Open ayah 21:45 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تم کو حکم الٰہی کے مطابق نصیحت کرتا ہوں اور بہروں کو جب نصیحت کی جائے تو وہ پکار کو سنتے ہی نہیں۔

وَ لَئِنْ مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:46 in the Quran reader

اگر ان کو تمہارے رب کا تھوڑا سا عذاب بھی پہنچے تو کہنے لگیں کہ ہائے کمبختی ہم بیشک گنہگار تھے۔

وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِهَا١ؕ وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِیْنَ Open ayah 21:47 in the Quran reader

اور ہم قیامت کے دن انصاف کا ترازو رکھیں گے تو کسی شخص کی ذرا بھی حق تلفی نہ کی جائے گی اور اگر رائی کے دانے کے برابر بھی کسی کا عمل ہوگا تو ہم اس کو سامنے لائیں گے اور ہم حساب کرنے کو کافی ہیں۔

حضور ﷺ سے کفار کی بدتمیزی اور ان کے لیے عذاب کی خبر تشریح : مندرجہ بالا آیات میں شروع میں ہی اللہ رحمن و رحیم اپنے آخری رسول ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ کو ان لوگوں کی حرکتوں ‘ بدتمیزیوں سے ہرگز پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ کافر شخص یہی کرسکتا ہے کہ رسول کا مذاق اڑائے کیونکہ رسول ہمیشہ کفر اور برائی سے منع کرتا ہے۔ اسی لیے وہ رسول کے مخالف ہوجاتے ہیں اور ہر صورت رسول کو تنگ کرتے ہیں کیونکہ وہ کفر و شرک میں اس قدر پھنس چکے ہوتے ہیں کہ وہ اللہ کے ذکر سے ہی دور بھاگتے ہیں اور پھر اسی لیے ہر وقت اس عذاب کے مطالبہ کرتے رہتے ہیں جس سے آپ انہیں ڈراتے ہیں۔ اس سے ایک تو ان کی حق سے نفرت کا اظہار ہوتا ہے اور دوسرے انسان کی اس فطرت کا اظہار ہوتا ہے کہ جو اللہ نے انسان کو دے رکھی ہے باقی بہت سی فطری عادات کے ساتھ ایک جلد بازی کی صفت بھی اللہ نے انسان کی عادات میں ڈال رکھی ہے۔ اسی لیے اللہ نے اس عذاب کے جلد نہ آنے کے بارے میں کئی بار فرمایا ہے کہ وہ اللہ کے پاس مقرر کیے گئے وقت پر ضرور آجائے گا اور پھر یہ بھی آچکا ہے کہ آخری نبی قیامت کے قریب آئیں گے۔ اور پھر فرمایا کہ وہ وقت ِ عذاب اس قدر سخت اور دردناک ہے کہ اگر ان لوگوں کو اس کے بارے میں ذرا سا نقشہ بھی دکھا دیا جائے تو یہ لوگ ہرگز اس کے لیے جلدی نہ مچائیں جیسا کہ آیات 39 اور 40 میں بڑی تفصیل سے عذاب کا بیان کیا گیا ہے۔ پھر فرمایا کہ قیامت اس قدر اچانک آنے والا حادثہ ہے کہ انسان اس کے بارے میں تصور بھی نہیں کرسکتا مگر اللہ تعالیٰ نے یہ تمام واقعات جو کہ غیب سے تعلق رکھتے ہیں نبیوں ‘ پیغمبروں اور رسولوں کے ذریعے لوگوں کو بتا دیے ہیں مگر ہر زمانے میں جھٹلانے والوں کا یہی طریقہ رہا ہے کہ وہ نبیوں کا مذاق اڑاتے رہے اس لیے رسول کریم ﷺ کو یہی تاکید کی جارہی ہے کہ آپ ان لوگوں کی ہرگز پرواہ نہ کریں اور ہر صورت نیکی راست بازی اور توحید کا سبق برابر ان کو دیتے رہیں۔ اور اللہ کی طاقت اور قدرت کا سبق ان کو دیتے رہیں۔ جیسا کہ اللہ کی رحمتوں ‘ برکتوں اور احسانات کا ذکر آیات 30 سے 33 تک میں بڑی وضاحت سے کیا جا چکا ہے۔ اسی طرح آیت 44 میں ایک بہت بڑی حقیقت کا اشارہ موجود ہے جس کو آج کی سائنس بھی ماننے کو تیا رہو چکی ہے۔ کیا یہ قرآن کے آسمانی کتاب ہونے اور اللہ کے قادر مطلق ہونے کی ایک مضبوط دلیل نہیں ہے۔ فرمایا ” ہم زمین کو اس کے کناروں سے سکیڑ رہے ہیں۔ “ آیت 44 زمین کی تخلیق پھر اس کا پھیلنا اور پھر سکڑ کر ختم ہوجانا۔ سکڑ نے کا پیغام اس آیت سے صاف طور پر مل رہا ہے۔ ڈاکٹر دلدار احمد صاحب اس کو یوں بیان کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں : ” انتہائی طاقتور جدید ترین آلات اور وسیع تحقیقات نے سائنسدانوں کو اس نتیجے پر پہنچایا ہے کہ ستاروں کو بھی پیدائش ‘ نشوونما ‘ زوال اور موت کے لازمی مراحل سے گزرنا ہوتا ہے۔ ستاروں کے اندر مرکزائی تعاملات (Nuclear Reaction) ہوتے ہیں جن میں ہائیڈروجن ‘ ہیلیم تبدیل ہوتی ہے۔ ہر ستارے کی زندگی میں ایک مقام ایسا آتا ہے جب اس کی ساری ہائیڈروجن ختم ہوجاتی ہے اور یوں ستارہ ختم ہوجاتا ہے۔ کسی ستارے کا وجود دو چیزوں کے توازن پر مبنی ہوتا ہے۔ ایک کشش ثقل جو ستارے کے حجم کو کم سے کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور دوسری گیسوں کے ذرات کی حرکت جو کشش ثقل کے خلاف عمل کرتی ہے اور ستارے کی جسامت کو بڑا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ جب ستارے کا ایندھن یعنی ہائیڈروجن ختم ہوجاتا ہے۔ تو وہ ٹھنڈا ہونے لگتا ہے۔ چناچہ کشش ثقل حر کی توانائی پر غالب آجاتی ہے اور ستارہ سکڑنے لگتا ہے اور بالاخر موت سے ہم کنار ہوجاتا ہے۔ “ از (کائنات قرآن اور سائنس) یہ تمام سائنسی کمالات چودہ سو سال پہلے قرآن میں بیان کردیے گئے جب کہ اس وقت علوم فلکیات ‘ فلسفہ ‘ سائنس اور طب کے میدان میں لوگ بالکل لا علم تھے۔ بعد میں قرآن پاک میں سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر علوم وفنون کی بنیادی اصطلاحات نکالی گئیں اور ان پر تحقیقات کر کے بیشمار بڑی بڑی ایجادات کی گئیں۔ کیا یہ سب قرآن کے کتاب الٰہی ہونے اور رسول اللہ ﷺ کی رسول خدا ہونے کی بہت بڑی دلیل نہیں ؟ بیشک اللہ کے پیدا کیے ہوئے بندوں کو ہوش میں آکر اللہ ہی کی بندگی کرنی چاہیے اور عیش و عشرت کی زندگی میں کھو کر اللہ جل شانہ ‘ کو بھلا نہیں دینا چاہیے بلکہ اس کا شکر ادا کرنے کے لیے صرف اسی کے سامنے جھکنا چاہیے۔ پھر بار بار اللہ تعالیٰ اپنے پیارے رسول کو یہی کہتے ہیں کہ آپ میرے پیغام ان لوگوں تک پہنچا دیں۔ ” الہ ایک ہے میں اس کا بھیجا ہوا رسول ہوں اور یہ قرآن اللہ کا بھیجا ہوا پیغام ہے خبردار ہوجاؤ۔ ان کو بتائو کہ تم جو نیکی کے پیغام کی طرف سے اندھے اور بہرے بنے ہوئے ہوا ‘ اگر تمہیں اس سزا کی ایک جھلک بھی دکھا دی جائے تو تم چلانے لگو ” ہائے کم بختی ہم بیشک گنہگار تھے “ اور پھر آخری آیت میں اعلان کردیا گیا۔ ” اور ہم قیامت کے دن انصاف کا ترازو رکھیں گے تو کسی شخص کی ذرا بھی حق تلفی نہ کی جائے گی اور اگر رائی کے دانے کے برابر بھی کسی کا عمل ہوگا تو ہم اس کو لا موجود کریں گے اور ہم حساب کرنے کو کافی ہیں۔ “ (آیت 47) اب تو سائنس نے بھی اس حقیقت کو مان لیا ہے کہ ہمارے اعمال کی ویڈیو تیار ہو رہی ہے۔ ہر شخص اس قدرتی نظام میں جکڑا ہوا ہے۔ کوئی شخص اس نظام الٰہی سے بچ نہیں سکتا۔ جب ہم دل سے اس حقیقت کو مان لیں تو پھر کون ہے جو غلط کام کرنے کا سوچ بھی سکے۔ اللہ ہمیں ایمان و یقین کی دولت عطا کرے۔ آمین۔
Ayahs 21:48–50

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ الْفُرْقَانَ وَ ضِیَآءً وَّ ذِكْرًا لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 21:48 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ اور ہارون کو ہدایت اور گمراہی میں فرق کردینے والی روشنی اور نصیحت کی کتاب عطا کی پرہیزگاروں کیلئے۔

الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ هُمْ مِّنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:49 in the Quran reader

جو بغیر دیکھے ہوئے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور قیامت سے خوف کھاتے ہیں۔

وَ هٰذَا ذِكْرٌ مُّبٰرَكٌ اَنْزَلْنٰهُ١ؕ اَفَاَنْتُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ۠ Open ayah 21:50 in the Quran reader

یہ مبارک نصیحت ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے تو کیا تم اس سے انکار کرتے ہو۔ ؟

تورات کی صفات اور قرآن مجید کا بابرکت ہونا تشریح : جیسا کہ کئی دفعہ بیان ہوچکا ہے کہ اللہ نے انسان کو پیدا کیا پھر برے بھلے کی تمیز دی، یعنی عقل سمجھ اور علم عطا کیا۔ مگر کیونکہ انسان کی فطرت میں ہے کہ وہ بھول جاتا ہے غلطی کر بیٹھتا ہے تو اس کو خبردار کرنے کے لیے اللہ کی خاص رحمت اس پر یہ بھی نازل کی گئی کہ وقتاً فوقتاً اس کی ہدایت کے لیے انبیاء بھیجے گئے اللہ ان انبیاء پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے کیونکہ انہوں نے اولادآدم کو سیدھی راہ پر چلانے اور برائیوں سے بچا کر تقویٰ کی روشنی کی طرف بلانے کے لیے بےحد تکالیف ‘ پریشانیاں اور مصائب برداشت کیے اسی لیے یہ برگزیدہ لوگ اللہ کے مقبول ترین لوگ ہیں ان کی تعلیمات ہمیشہ ایک ہی رہی ہیں۔ یعنی توحید اور تقویٰ ۔ تقویٰ کے اندر سیرت و کردار کی تمام خوبیاں آجاتی ہیں۔ اب یہاں سے انبیاء کا ذکر شروع ہو رہا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ رشد و ہدایت کی تعلیم دینے کے لیے کن کن مشکلات اور آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ سب سے پہلے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر ہے۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات دی گئی جو کہ رشد و ہدایت کی باتوں سے بھری ہوئی ہے۔ ان کی قوم بنی اسرائیل مصر سے آزاد ہو کر جزیرہ نمائے سینا میں آباد ہوئی۔ آپ کو اللہ سے کلام کرنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ سیدنا ہارون (علیہ السلام) کو نبوت دے کر آپ کا معاون بنایا گیا۔ آپ کی امت بہت زیادہ تھی۔ آپ کو جہاد کا حکم ہوا۔ آپ کو معجزات دیے گئے۔ آپ کی تعلیم و تربیت اور پرورش فرعون کے محل میں ہوئی۔ کیونکہ آپ کی والدہ نے فرعون کے حکم سے ڈرتے ہوئے آپ کو تابوت میں بند کر کے دریا میں ڈال دیا تھا جو فرعون کے ہاتھ لگ گیا اور اس نے ان کو خود ہی پرورش کیا۔ اس کی تفصیلات گزری چکی ہیں۔ بہرحال آپ کی قوم بڑی عجیب قوم تھی اپنی ہٹ دھرمی ‘ نافرمانی اور بےراہروی کی وجہ سے اللہ کے غضب کا شکار ہوگئی اور نبوت بھی ان سے منتقل ہو کر قریش کے قبیلے میں آنحضرت ﷺ کو مل گئی۔ آپ پر قرآن پاک نازل ہوا۔ جو رشد و ہدایت ‘ اور جامعیت کا خزانہ ہے اس میں ان تمام کتابوں پر ایمان لانے کو کہا گیا ہے جو اس سے پہلے نازل ہوچکی ہیں۔ ” تو کیا تم اس سے انکار کرتے ہو ”؟ آیت 50 یعنی قرآن مجید تمام پہلی کتابوں کا نچوڑ ہے۔ اس لیے اس پر ایمان لانا نہ صرف اچھا ہے بلکہ دنیا و آخرت میں کامیابیاں حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔ ان کے بعد جد الانبیاء سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر کیا گیا ہے۔
Ayahs 21:51–73

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا بِهٖ عٰلِمِیْنَۚ Open ayah 21:51 in the Quran reader

ترجمہ : اور ہم نے ابراہیم کو پہلے ہی سے ہدایت دی تھی اور ہم ان کے حال سے واقف تھے۔

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا هٰذِهِ التَّمَاثِیْلُ الَّتِیْۤ اَنْتُمْ لَهَا عٰكِفُوْنَ Open ayah 21:52 in the Quran reader

جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا یہ کیسی مورتیں ہیں جن پر تم بندگی کے لیے جمے بیٹھے ہو۔

قَالُوْا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا لَهَا عٰبِدِیْنَ Open ayah 21:53 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی پوجا کرتے دیکھا ہے۔

قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 21:54 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا کہ تم بھی گمراہ اور تمہارے باپ دادا بھی کھلی گمراہی میں پڑے رہے۔

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ اَمْ اَنْتَ مِنَ اللّٰعِبِیْنَ Open ayah 21:55 in the Quran reader

وہ بولے کیا تم ہمارے پاس واقعی حق لائے ہو ؟ یا ہم سے کھیل کی باتیں کرتے ہو ؟

قَالَ بَلْ رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الَّذِیْ فَطَرَهُنَّ١ۖ٘ وَ اَنَا عَلٰى ذٰلِكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 21:56 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا ” نہیں بلکہ تمہارا رب آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے ‘ جس نے ان کو پیدا کیا ‘ میں اس بات کا گواہ ہوں۔

وَ تَاللّٰهِ لَاَكِیْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 21:57 in the Quran reader

اور اللہ کی قسم جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے تو میں تمہارے بتوں کا علاج کروں گا۔

فَجَعَلَهُمْ جُذٰذًا اِلَّا كَبِیْرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ اِلَیْهِ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:58 in the Quran reader

پھر ان کو توڑ کر ریزہ ریزہ کردیا مگر ایک بڑے بت کو نہ توڑا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔

قَالُوْا مَنْ فَعَلَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 21:59 in the Quran reader

کہنے لگے ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا ؟ وہ تو ظالم ہے۔

قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًى یَّذْكُرُهُمْ یُقَالُ لَهٗۤ اِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:60 in the Quran reader

لوگوں نے کہا ہم نے ایک جوان کو ان کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے اسے ابراہیم کہتے ہیں۔

قَالُوْا فَاْتُوْا بِهٖ عَلٰۤى اَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَشْهَدُوْنَ Open ayah 21:61 in the Quran reader

وہ بولے کہ اسے لوگوں کے سامنے لائو تاکہ گواہ رہیں۔

قَالُوْۤا ءَاَنْتَ فَعَلْتَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَا یٰۤاِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:62 in the Quran reader

جب ابراہیم آئے تو انہوں (بت پرستوں) نے کہا کہ اے ابراہیم ! بھلا ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام تم نے کیا ہے ؟

قَالَ بَلْ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِیْرُهُمْ هٰذَا فَسْئَلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:63 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا بلکہ یہ تو ان کے اس بڑے بت نے کیا ہوگا ‘ اگر یہ بولتے ہیں تو ان سے پوچھ لو ؟

فَرَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَنْفُسِهِمْ فَقَالُوْۤا اِنَّكُمْ اَنْتُمُ الظّٰلِمُوْنَۙ Open ayah 21:64 in the Quran reader

پھر اپنے دل میں سوچنے لگے اور پھر بولے لوگو ! تم ہی بےانصاف ہو۔

ثُمَّ نُكِسُوْا عَلٰى رُءُوْسِهِمْ١ۚ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:65 in the Quran reader

پھر شرمندہ ہو کر سر جھکا لیے اور پھر بولے تو تو جانتا ہے یہ بولتے نہیں۔

قَالَ اَفَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكُمْ شَیْئًا وَّ لَا یَضُرُّكُمْؕ Open ayah 21:66 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا کہ پھر تم اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہو جو تمہیں نہ کچھ فائدہ دے سکتی ہیں اور نہ نقصان پہنچا سکتی ہیں ؟۔

اُفٍّ لَّكُمْ وَ لِمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 21:67 in the Quran reader

تف ہے تم پر اور ان پر جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو کیا تم عقل نہیں رکھتے ؟۔

قَالُوْا حَرِّقُوْهُ وَ انْصُرُوْۤا اٰلِهَتَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:68 in the Quran reader

تب وہ کہنے لگے کہ اگر تمہیں اس سے اپنے معبودوں کا بدلہ لینا ہے تو اس کو جلا ڈالو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو۔

قُلْنَا یٰنَارُ كُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَۙ Open ayah 21:69 in the Quran reader

کہا ہم نے اے آگ ! ٹھنڈی اور آرام دہ ہوجا ابراہیم کے لیے۔

وَ اَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَخْسَرِیْنَۚ Open ayah 21:70 in the Quran reader

ان لوگوں نے برا تو ان کا چاہا تھا مگر ہم نے انہی کو نقصان میں ڈال دیا۔

وَ نَجَّیْنٰهُ وَ لُوْطًا اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا لِلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:71 in the Quran reader

ابراہیم اور لوط کو اس سر زمین کی طرف بچا نکالا جس میں ہم نے اہل عالم کے لیے برکت رکھی تھی۔

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ١ؕ وَ یَعْقُوْبَ نَافِلَةً١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِیْنَ Open ayah 21:72 in the Quran reader

اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق عطا کیے اور یعقوب انعام میں اور سب کو نیک کیا۔

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِمْ فِعْلَ الْخَیْرٰتِ وَ اِقَامَ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءَ الزَّكٰوةِ١ۚ وَ كَانُوْا لَنَا عٰبِدِیْنَۚۙ Open ayah 21:73 in the Quran reader

اور ان کو پیشوا بنایا کہ ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے ‘ ان کو نیک کام کرنے نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم بھیجا اور وہ ہماری عبادت کیا کرتے تھے۔

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات اور لوگوں کا رد عمل تشریح : جیسا کہ سیدنا موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کا ذکر ہوچکا اسی طرح اب آگے کچھ اور انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر مختصراً بیان کیا جائے گا۔ اصل میں اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کو انبیاء کی سیرت اور اللہ کے راستے میں آنے والے مصائب اور تکالیف پوری طرح واضح کردیے جائیں اور ان مقاصد سے آگاہ کردیا جائے۔ مقاصد یہ ہیں۔ پہلا : یہ کہ رسول بھی انسان ہی ہوتا ہے اور یہ سلسلہ انسانیت کی ابتدا کے ساتھ ہی شروع کردیا گیا تھا۔ دوسرا : یہ کہ تمام انبیاء اسی تعلیم اور اسی مشن کے لیے بھیجے گئے ہیں جس کے لیے سیدنا محمد ﷺ بھیجے گئے تھے۔ تیسرا : یہ کہ انبیاء (علیہم السلام) کا ہر قدم صرف اور صرف اللہ کی فرمانبرداری ‘ رضا اور خوشی حاصل کرنے کے لیے اٹھتا ہے اس لیے اللہ بھی ان کی خاص طور پر خاص ذریعوں سے مدد کرتا رہتا ہے۔ ان کی دعائیں ضرورقبول کرتا ہے اور ان کو کامیابیاں بھی ضرور عطا کرتا ہے۔ اور یوں دنیا و آخرت میں اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کے مستحق بن جاتے ہیں۔ چوتھا : یہ کہ انسان ہونے کے ناطے جب بھی ان سے کوئی لغزش لا علمی میں ہوجاتی تھی تو اللہ کی طرف سے فوراً ان کو تنبیہہ کردی جاتی تھی۔ غرض یہ کہ پیغمبر ‘ رسول یا نبی ہونا کوئی آسان کام نہیں۔ بڑا مشکل اور صبر آزما کام ہے۔ مگر اس کا انعام بھی بہت بڑا ہے۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی سیرت و کردار اور نبوت کے بارے میں تفصیلات مندرجہ ذیل سورتوں میں گزر چکی ہیں۔ سورة بقرہ آیات 124 سے 141 تک۔ 258 سے 260 تک الانعام ‘ آیات 74 تا 81 ۔ التوبہ آیات 114 ۔ ہود آیات 69 تا 76 ۔ ابراہیم آیات 35 تا 141 الحجر 51 تا 60 ۔ النحل آیات 120 تا 123 ۔ قریش مکہ خانہ کعبہ کے متولی تھے قریش کیونکہ سیدنا ابراہیم کی اولاد میں سے تھے خانہ کعبہ کیونکہ آپ نے تعمیر کیا تھا، لہٰذا وہ اپنے آپ کو بڑا برتر سمجھتے تھے۔ مگر آپ کی اصل تعلیمات کو بھلا کر دوبارہ بت پرستی اور گناہوں کی دلدل میں جا گرے تھے۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی سیرت طیبہ کا ذکر اللہ تعالیٰ بیان فرما رہے ہیں۔ آپ ملک عراق سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہاں اس وقت بت پرستی اور ستارہ پرستی ہوتی تھی آپ کو خلیل اللہ کا لقب دیا گیا۔ آپ کی شان بڑی بلند تھی وہ نرم مزاج اور معقول انسان تھے۔ پیغمبر فطرت ‘ معمار کعبہ اور حج کے بہت سے ارکان ان کی یاد گار ہیں۔ محمد ﷺ کے جد امجد ہونے کی فضیلت بھی آپ کو حاصل ہے۔ آپ نے یہ درجات بڑی سخت آزمائشوں میں پورا اترنے کے بعد حاصل کیے۔ جہاں اور بہت سی دعائیں آپ کی قبول ہوئیں وہاں ایک بہت بڑی دعا صالح بیٹے کی صورت میں بھی قبول ہوئی۔ آپ نہ صرف عابد و زاہد ہی تھے بلکہ فراست اور شجاعت کے بھی مالک تھے۔ آپ کی سیرت سے یہ بات نمایاں ہوتی ہے تبلیغ کے لیے دلائل، خود اعتمادی اور یقین محکم بہت ضروری ہے۔ جب آپ نے بڑے بت سے ماجرا پوچھنے کو کہا تو کفار نے خود اپنی زبان سے اپنے معبودوں کی تذلیل کردی کہ ” یہ تو بول نہیں سکتے۔ “ وہ ان کی حقیقت کو سمجھ چکے تھے مگر صرف ہٹ دھرمی اور آبائو اجداد کی پکی رسموں کو توڑ نہ سکتے تھے۔ اور یہی انسانی کمزوری ہے۔ اسی کمزوی کو دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ انسانوں پر رحمت کی اور ہدایت کے لیے رسول و پیغمبر بھیجتا رہا۔ ان کی سخت ترین آزمائشوں میں مدد بھی کرتا رہا۔ جیسا کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا تو اللہ نے اپنے حکم سے آگ کو اس کے عمل کے خلاف جلانے کی بجائے راحت کا سبب بننے کو کہا اور پھر فرمایا : ” ہم نے اس کو اور لوط کو اس سرزمین کی طرف بچا نکالا جس میں ہم نے جہان کے لیے برکت رکھی۔ (71) اور ہم نے اسے اسحاق بخشا اور یعقوب انعام میں اور سب کو نیک بخت کیا۔ (72) اور ہم نے انہیں پیشیوا بنایا کہ ہمارے حکم سے راہ بتاتے ہیں اور ہم نے انہیں نیکیاں کرنے ‘ نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا اور وہ ہماری بندگی میں لگے ہوئے تھے۔ “ (73) یہی تعلیم، راستہ توحید اور اس کی تبلیغ کا تمام انبیاء کو حکم دیا گیا اور پھر وہی ذمہ داری آخری نبی سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ پر بھی ڈالی گئی۔ اب سیدنا لوط (علیہ السلام) کی زندگی کا بیان جاری ہے۔
Ayahs 21:74–75

وَ لُوْطًا اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا وَّ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ تَّعْمَلُ الْخَبٰٓئِثَ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فٰسِقِیْنَۙ Open ayah 21:74 in the Quran reader

اور لوط (کا قصہ یاد کرو جب ان) کو ہم نے حکمت اور علم عطا فرمایا اور اس کو اس بستی سے بچا نکالا جو گندے کام کرتی تھی اور وہ لوگ برے اور نافرمان تھے۔

وَ اَدْخَلْنٰهُ فِیْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ۠ Open ayah 21:75 in the Quran reader

اور ہم نے اسے اپنی رحمت میں لے لیا وہ نیک بختوں میں سے ہے۔

سیدنا لوط (علیہ السلام) کی نبوت اور نجات کا تذکرہ تشریح : سیدنا لوط (علیہ السلام) کا ذکر الاعراف آیات 80 تا 84 ھود ‘ آیات 69 تا 83 ۔ الحجر ‘ آیات 57 تا 76 میں تفصیلاً ہوچکا ہے۔ آپ کو علم و حکمت اور دانائی دی گئی تھی آپ کو بھی عراق سے نکال کر شام و فلسطین کی سرزمین میں پناہ دی گئی۔ یہ سرزمین دینی و دنیاوی دونوں لحاظ سے مبارک اور بابرکت ہے۔ کیونکہ یہ انتہائی زرخیز علاقہ اور روحانی لحاظ سے یوں کہ 2 ہزار برس تک یہ علاقہ انبیاء (علیہم السلام) کا مسکن رہا۔ سیدنا لوط (علیہ السلام) کو گندی قوم سے نکالا اس قوم پر عذاب الٰہی آیا۔ اور ان کے لیے فرمایا ” اور اسے ہم نے اپنی رحمت میں لے لیا ‘ وہ نیک بختوں میں سے ہے۔ “ (75)