21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 21:76–77

وَ نُوْحًا اِذْ نَادٰى مِنْ قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 21:76 in the Quran reader

اور نوح نے ان سے پہلے ہمیں پکارا تو ہم نے اسکی دعا قبول کرلی ‘ ان کو اور ان کے ساتھیوں کو بڑی گھبراہٹ سے نجات دی۔

وَ نَصَرْنٰهُ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 21:77 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے درحقیقت وہ برے لوگ تھے سو ہم نے ان سب کو غرق کردیا۔

سیدنا نوح (علیہ السلام) کی نجات تشریح : سیدنا نوح (علیہ السلام) بڑے عالی مرتبہ پیغمبر گزرے ہیں ان کے بارے میں سورة الاعراف میں آیات 59 تا 64 میں بیان ہوچکا ہے یہاں ذکر ان کی دعا کا ہے۔ کہ جب قوم سے ناامید ہوگئے تو تھک ہار کر اللہ سے دعا کی ” پروردگار میں مغلوب ہوگیا ہوں ‘ اب میری مدد کو پہنچ۔ “ (القمر آیت 10) اور دعا کی ” پروردگار زمین پر ایک کافر باشندہ بھی نہ چھوڑ۔ “ (نوح آیت 26 ) تو اللہ نے ان کی دعا قبول کی۔ ان کو اور نیک بندوں کو کشتی میں سوار کر کے بچا لیا اور باقی تمام لوگوں کو طوفان نوح میں غرق کردیا۔ اور یوں آپ نے آدم ثانی کا لقب پایا۔ مطلب یہ ہے کہ رسالت کا فریضہ سخت مشکل ہے مگر اللہ ہر وقت انبیاء کے ساتھ ہوتا ہے۔ ان کی دعائیں زیادہ قبول کرتا ہے اور ان کو مشکلات سے نجات بھی اپنی حکمت سے ضرور دلاتا ہے۔ جب کوئی قوم حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہے تو پھر اللہ نبی کو نکال لیتا ہے اور قوم کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیتا ہے۔ اسی طرح اب سیدنا دائود و سلیمان کا ذکر ہوتا ہے۔
Ayahs 21:78–82

وَ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ اِذْ یَحْكُمٰنِ فِی الْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ فِیْهِ غَنَمُ الْقَوْمِ١ۚ وَ كُنَّا لِحُكْمِهِمْ شٰهِدِیْنَۗۙ Open ayah 21:78 in the Quran reader

اور دائود و سلیمان۔ (کا حال بھی سن لو کہ) جب وہ ایک کھیتی کے مقدمہ کا فیصلہ کرنے لگے جس میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کو چر گئیں اور اسے روند گئی تھیں اور ہم ان کے فیصلہ کے وقت موجود تھے۔

فَفَهَّمْنٰهَا سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ كُلًّا اٰتَیْنَا حُكْمًا وَّ عِلْمًا١٘ وَّ سَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ یُسَبِّحْنَ وَ الطَّیْرَ١ؕ وَ كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:79 in the Quran reader

تو ہم نے فیصلہ کرنے کا طریقہ سلیمان کو سمجھا دیا اور ہم نے دونوں کو حکمت ونبوت اور علم بخشا تھا اور ہم نے پہاڑوں کو دائود کا تابع کردیا تھا کہ ان کے ساتھ تسبیح کرتے تھے اور پرندوں کو بھی مسخر کردیا تھا اور ہم ہی ایسا کرنیوالے تھے۔

وَ عَلَّمْنٰهُ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُمْ مِّنْۢ بَاْسِكُمْ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ شٰكِرُوْنَ Open ayah 21:80 in the Quran reader

اور ہم نے اسے تمہارے لیے ایک طرح کی زرہ بنانی بھی سکھا دی تاکہ تم کو لڑائی کے ضرر سے بچائے پس تم کو شکر گزار ہونا چاہیے۔

وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ عَاصِفَةً تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖۤ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ كُنَّا بِكُلِّ شَیْءٍ عٰلِمِیْنَ Open ayah 21:81 in the Quran reader

ور ہم نے تیز ہوا سلیمان کے تابع کردی تھی جو ان کے حکم سے اس ملک میں چلتی تھی جس میں ہم نے برکت دی تھی (یعنی شام) اور ہم ہر چیز سے خبردار ہیں۔

وَ مِنَ الشَّیٰطِیْنِ مَنْ یَّغُوْصُوْنَ لَهٗ وَ یَعْمَلُوْنَ عَمَلًا دُوْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ كُنَّا لَهُمْ حٰفِظِیْنَۙ Open ayah 21:82 in the Quran reader

اور شیطانوں کی جماعت کو بھی انکے تابع کردیا تھا کہ ان میں سے بعض ان کے لیے غوطے مارتے تھے اسکے سوا اور کام بھی کرتے تھے اور ہم انکے نگہبان تھے۔

سیدنا دائود اور سلیمان (علیہ السلام) کے کارنامے تشریح : سیدنا دائود اور سیدنا سلیمان (علیہما السلام) دونوں باپ بیٹا تھے اور نبی ہونے کے ساتھ ساتھ آپ حکمران بھی تھے۔ باقی نبیوں کی طرح آپ کو بھی کتاب آسمانی دی گئی جو زبور کے نام سے مشہور ہے اور آپ بنی اسرائیل کے حکمران تھے۔ فہم و فراست اور حکمت و دانائی اللہ کی طرف سے آپ کو ملی ہوئی تھی۔ مگر یہاں کچھ اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا سلیمان (علیہ السلام) اپنے والد سیدنا دائود سے زیادہ معاملہ فہم تھے جیسا کہ اس مقدمہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ کہ بکریوں نے کھیت اجاڑ دیا تو سیدنا دائود نے فیصلہ دیا کہ بکریاں کھیت والے کو دے دی جائیں۔ اللہ نے سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کو وحی سے بتایا تو آپ نے فیصلہ اس طرح کیا کہ بکریاں کھیت والے کو اتنی دیر کے لیے دی جائیں جتنی دیر بکریوں والا کھیت کو کاشت کر کے اسی حالت میں لے آئے جس میں بکریوں نے اس کو اجاڑا تھا۔ یہ فیصلہ باپ نے اور دونوں مقدمہ کرنے والوں نے بخوشی منظور کرلیا۔ ظاہر یہ ہوا کہ اگر ایک قاضی سے دوسرا قاضی زیادہ بہتر فیصلہ کرے تو فیصلہ بدلنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آنی چاہیے۔ یہ تو صرف ایک مثال کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ فیصلہ کرنے والا نیک نیت ہو تو ہلکی پھلکی غلطی گناہ میں شامل نہ ہوگی۔ فہم و فراست اور تقویٰ کے علاوہ اللہ نے آپ دونوں کو کچھ خاص کمالات عطا کر رکھے تھے۔ مثلاً سیدنا دائود (علیہ السلام) کو اللہ نے خوش آواز اس حد تک بنایا تھا کہ جب آپ اپنی کتاب زبور کی آیات کو وجد و سرور سے بلند آواز میں جو کہ سریلی ‘ موثر اور دل میں اتر جانے والی ہوتی تھی ‘ پڑھتے تو انسان تو کیا پہاڑ اور پرندے بھی اس وجد میں آجاتے کہ آپ کے ساتھ وہ بھی اللہ کی تسبیح و تقدیس میں شامل ہوجاتے۔ معلوم ہوا کہ ایک سچے پکارنے والے کی آواز آتش فشاں سے بھی زیادہ سخت زبردست ہوتی ہے۔ کیونکہ بولنے والا اللہ کی ذات میں گم ہو کر خود کو بھول جاتا ہے اور اس کی آواز خالصتاً اللہ کی آواز بن جاتی ہے۔ اسی طرح اگر وہ کچھ لکھتا ہے تو اپنے خون جگر سے لکھتا ہے۔ اس کی بات صرف بات نہیں ہوتی بلکہ روح انسانی کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ یہ بالکل سچ ہے کہ جو بات دل سے نکلتی ہے وہ سیدھی دل میں اتر جاتی ہے۔ مگر انسان اتنا بےحس ہے کہ اس کو جنت کا نقشہ دکھایا جاتا ہے جہنم کا عذاب بتایا جاتا ہے۔ غرض ہر طرح اس کو سمجھایا جاتا ہے مگر پھر بھی اکثریت اپنے کفر و شرک پر ہی اڑی رہتی ہے۔ بہرحال سیدنا دائود (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ایک اور بھی بہت بڑی صلاحیت دے رکھی تھی اور وہ تھی زرہ بنانے کا فن آپ کو اللہ نے اپنی قدرت سے یہ ملکہ عطا کیا ہوا تھا کہ لوہا آپ کے ہاتھ میں موم کی طرح نرم ہوجاتا تھا۔ اسی لیے آپ جو زرہیں بناتے تھے وہ پہلے بننے والی زر ہوں سے کئی گنا زیادہ مفید پائیدار اور بہترین ہوتی تھیں۔ مولانا مودودی لکھتے ہیں کہ ” دنیا میں لوہے کے استعمال کا دور 1200 اور 1000 قبل مسیح کے درمیان شروع ہوا اور یہی سیدنا دائود کا زمانہ ہے۔ “ (از تفہیم القرآن صفحہ 175 ) رشد و ہدایت کی تبلیغ کے علاوہ سیدنا دائود (علیہ السلام) نے انسان کی بھلائی کے لیے بڑی اچھی زرہیں بنائیں جو لڑائی کے وقت انسان کو جسمانی نقصان سے بچاتی تھیں۔ کیونکہ اس وقت تیر و تلوار سے جنگ ہوتی تھی تو یہ لوہے کا لباس تیر و تلوار کے وار کو جسم تک پہنچنے سے بچا لیتا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ یاد کرواتے ہیں ان انبیاء کے ذریعہ تم تک پہنچنے والی تمام نعمتیں ہم نے ہی انسان کی بھلائی کے لیے پیدا کی ہیں۔ اس لیے ہر لمحہ اللہ کا ذکر اور اس کا شکر ادا کرتے رہو تو یہی تمہارے لیے بہترین راستہ ہے۔ سیدنا دائود (علیہ السلام) کے بارے میں تفصیلاً سورة بقرہ میں گزر چکا ہے اب آپ کے بیٹے سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کے انعامات کا ذکر ہو رہا ہے۔ پہلا انعام تو آپ کو یہ دیا گیا کہ ہوا کو آپ کے تابع کردیا گیا تھا یہ قدرت اللہ رب العزت نے آپ کو خاص طور سے عطا کر رکھی تھی کہ تیز اور آہستہ ہوا کو سیدنا سلیمان (علیہ السلام) (اللہ کی اجازت سے) اپنی مرضی کے مطابق چلا سکتے تھے۔ اسی لیے آپ ایک دن میں دو ماہ کا سفر ہوا کے دوش پر آسانی سے کرلیتے تھے۔ یعنی جہاں بھی جانا چاہتے اور جس وقت واپس اپنے وطن شام میں آنا چاہتے باآسانی آسکتے تھے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ نعوذ باللہ وہ اللہ ہوگئے۔ کیونکہ سب کچھ دینے والا واپس لینے والا اور کنٹرول کرنے والا تو صرف وہی الہ العلمین ہے جو ذرے ذرے کا علم رکھنے والا ہے۔ وہ تو صرف ایک مقبول انسان تھے۔ دوسری مہربانی اللہ تعالیٰ نے سیدنا سلیمان (علیہ السلام) پر یہ کی تھی کہ آپ اللہ کی مرضی کے تحت سرکش جنوں کو اپنی مرضی کے مطابق چلا سکتے تھے۔ آپ ان سے بیشمار سخت اور مشکل کام لیتے تھے مثلاً سمندروں میں غوطے لگا کر قیمتی زر و جواہر اور موتی آپ کے لیے نکال کر لاتے اسی طرح کئی اور مشکل کام وہ حکم کے مطابق بغیر شرارت کے پوری فرمانبرداری سے کرتے تھے۔ اور اس میں اصل کمال تو اللہ ہی کا ہے کہ جس نے اتنی بڑی جنوں کی طاقت کو سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کے تابع کردیا تھا۔ مزید تفصیلات انشاء اللہ سورة سباء میں بیان کی جائیں گی۔ مندرجہ بالا مضمون کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی نعمتوں سے مغرور ہو کر اللہ کو بھول نہیں جانا چاہیے سیدنا دائود و سلیمان کو ہر ہر طرح سے عزت آسائش اور زبردست اختیارات اللہ نے دیے مگر وہ ہر صورت اللہ جل شانہ ‘ کی عبادت ‘ فرمانبرداری اور شکر گزاری میں مشغول رہتے۔ کبھی بھی ناشکری اور غفلت سے کام نہ لیتے تھے۔ بلکہ اپنے فرائض بڑی نیک نیتی ‘ محنت اور خلوص سے ادا کرتے رہے اور شکر و زہد میں زندگیاں گزار دیں۔ اسی طرح اللہ اپنے بندوں کو خاص طور سے انبیاء (علیہم السلام) کو کبھی سختی ‘ مصیبت ‘ پریشانی اور نقصانات سے آزماتا ہے اور کبھی خوشحالی ‘ سکون اور رحمتوں کی فراوانی سے آزماتا ہے۔ جیسا کہ نصیحت کے لیے آگے آیات میں سیدنا ایوب (علیہ السلام) کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
Ayahs 21:83–84

وَ اَیُّوْبَ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 21:83 in the Quran reader

اور ایوب نے جب اپنے رب سے دعا کی کہ مجھ پر تکلیف پڑی ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنیوالا ہے۔

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَكَشَفْنَا مَا بِهٖ مِنْ ضُرٍّ وَّ اٰتَیْنٰهُ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ ذِكْرٰى لِلْعٰبِدِیْنَ Open ayah 21:84 in the Quran reader

تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان کو جو تکلیف تھی دور کردی ‘ اور ان کو بال بچے بھی دئیے اور اپنی مہربانی سے ان کے ساتھ اتنے ہی اور دیے اور عبادت کرنے والوں کے لیے یہ نصیحت ہے۔

سیدنا ایوب (علیہ السلام) کی آزمائش تشریح : سیدنا ایوب (علیہ السلام) کی زندگی بھی حسن اخلاق ‘ صبر و استقامت اور زہد وتقویٰ کی بہترین مثال ہے۔ آپ کے نسب قوم اور زمانے میں اختلاف ہے زیادہ خیال یہی ہے کہ آپ کا زمانہ نویں صدی قبل مسیح یا اس سے پہلے کا ہے۔ آپ سیدنا اسحاق (علیہ السلام) کے دوسرے بیٹے عیسو کی نسل سے تھے۔ آپ کو اللہ نے عزت ‘ دولت ‘ شہرت ‘ صحت اور ایمان کی دولت سے مالا مال کر رکھا تھا۔ آپ اور آپ کی بیوی رحمت انتہائی نیک ‘ پرہیزگار اور شکر گزار انسان تھے۔ اللہ نے آپ کو یہ سب کچھ دے کر تو آزما لیا اب اس نے آپ کو تنگ دستی بیماری ‘ آفات ‘ مشکلات اور نقصانات سے دوچار کر کے آزمایا۔ یعنی تمام شان و شوکت صحت آل اولاد سب کچھ چھین لیا اور بیماری ایسی لگائی کہ سب ساتھ چھوڑ گئے سوائے نیک و فرمانبردار بیوی کے۔ اتنا کچھ ہونے کے باوجود نہ تو زبان پر اللہ سے شکوہ کیا نہ ایمان میں کمزوری آئی۔ بلکہ اللہ جل شانہ ‘ کی حکمت ‘ دانائی اور حاکمیت پر اس قدر پکا یقین تھا کہ سب کچھ صبر و سکون سے شکر ادا کرتے ہوئے صرف اس لیے برداشت کرتے رہے کہ اللہ بڑا مہربان ہے یہ سب کچھ کسی خاص مصلحت یا امتحان کے طور پر ہو رہا ہے اور پھر ایمان کی پختگی کا یہ عالم کہ یہ زندگی تو عارضی ہے اصل میں تو آخرت کی زندگی ہی ہے۔ لہٰذا بےمثال صبر و سکون اور شکر و عبودیت سے تمام تکالیف برداشت کرتے رہے۔ جب بہت زیادہ وقت اسی طرح گزر گیا تو پھر اللہ کو پکارا ” مجھے سخت تکلیف پہنچی ہے اور تو ارحم الراحمین ہے۔ (سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے) آپ کی دعا کا انداز اور خودداری اور اللہ کے رحم و کرم پر بھروسہ کی انتہاء اللہ کو اس قدر پسند آیا کہ اللہ کی رحمت نے جوش مارا اللہ نے آپ کی تمام تکلیفیں دور کردیں اور سب کچھ پہلے سے زیادہ دیا۔ سیدنا ایوب (علیہ السلام) کا واقعہ اسی لیے بیان کیا گیا ہے کہ ہر سننے پڑھنے والا اس سے سبق حاصل کرلے۔ کہ ہر مصیبت ‘ پریشانی اور تکلیف اس لیے آتی ہے کہ انسان کا ایمان اور بھی مضبوط ہوجائے۔ جب ایک مصیبت زدہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ اس میں بھی اس کے لیے کوئی بہتری ہے تو پھر اس کی تکلیف ‘ تکلیف نہیں رہتی اسی میں تقویٰ ‘ بندگی ‘ ایثار اور اللہ سے محبت انتہاء کو پہنچ جاتی ہے۔ تو ایسے ہی شکر گزار متقی پرہیزگار بندگان کے لیے رب العلمین کی طرف سے خوشخبری ہے کہ ان کی دعائیں ضرور قبول ہوتی ہیں اللہ ان کو فراخی ‘ صحت و سلامتی ‘ عزت اور فتح مندی ضرور عطا کرتا ہے اور آخرت میں تو ہمیشہ کی برکات ان کو ہی ملیں گی۔ سیدنا ایوب (علیہ السلام) کی دعا کا انداز ہمیں خودد اری اور یقین کامل کا سبق بھی دیتا ہے۔ ” میں مشکل میں ہوں اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ “ خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے (علامہ اقبال) اس کا مطلب غرور ‘ خود پسندی ‘ ضد یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اس کا مطلب اپنی پہچان ‘ اللہ کی پہچان ‘ یقین ‘ بڑائی اور اپنی عجزو انکساری کا اعتراف ہے۔ اپنی بندگی اور اللہ کی بندہ نوازی پر یقین کی پختگی کا اظہار ہے۔ خودداری اور خود پسندی (غرور) میں ایک دھاگہ کے برابر فرق ہے۔ خودداری تو انسان کو زمین سے آسمان پر پہنچاتی ہے یعنی انسانی اخلاق کا بلند ترین درجہ ہے جبکہ خودپسندی آسمان سے زمین پر گرا دیتی ہے جیسا کہ شیطان ” ابلیس “ کہ اللہ نے اس کے غرور اور نافرمانی کی وجہ سے اس پر ہمیشہ کے لیے لعنت کردی۔ اور اپنے پیارے شکر گزار بندے سیدنا ایوب (علیہ السلام) کی شاندار دعا پر ان کی تمام سختیاں راحتوں میں بدل دیں۔ آپ کی زندگی کا ہر ہر لمحہ انسان کی زندگی کے ہر ہر لمحے کو پاکیزہ ‘ کامیاب اور بلند ترین بنانے کا سبق دیتا ہے۔ کیونکہ امتحان تو زندگی کے ہر شعبہ اور ہر لمحہ پر ہوتا رہتا ہے۔ یعنی انسان کی عقل ‘ علم ‘ مال و دولت ‘ عزت ‘ شہرت ‘ طاقت ‘ صحت ‘ عبادت اور ہر قسم کے اختیارات سب کچھ امتحان کے دائرے میں آتا ہے۔ جو بھی انسان یہ تمام کام عبدیت (اللہ کی فرمانبرداری) اور نیابت الٰہی (اللہ کا نائب ہونا) کو خیال میں رکھ کر کرتا ہے کسی بھی مشکل میں شکوہ شکایت نہیں کرتا۔ رضائے الٰہی پر راضی رہتا ہے تو گویا اس نے اللہ کی مقبولیت حاصل کرلی۔ اور جس نے فخر و غرور ‘ آزادی ‘ خود مختاری اور اللہ کے سوا دوسروں کی رضا مندی اور اللہ سے دوری اور غفلت سے کام لیا تو گویا اس نے شیطان کی رفاقت اور فرمانبرداری میں پڑ کر خود کو ذلیل و خوار کرلیا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ تو ثابت ہوا کہ اللہ کا راستہ بہترین راستہ ہے اور اللہ کی مدد ہی بہترین مدد ہے۔ ” ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔ “ ( سورة فاتحہ) ” اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحَمِیْنَ “ ” مجھے سخت تکلیف پہنچی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ “ تو اللہ نے فرمایا : ” پس ہم نے اس کی فریاد سن لی اور اس کو جو تکلیف تھی وہ دور کردی اور عبادت کرنے والوں کے لیے نصیحت ہے۔ “
Ayahs 21:85–92

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِدْرِیْسَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِیْنَۚۖ Open ayah 21:85 in the Quran reader

اور اسمعیل اور ادریس اور ذوالکفل کو ( بھی یاد کرو) یہ سب صبر کرنے والے تھے۔

وَ اَدْخَلْنٰهُمْ فِیْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 21:86 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اپنی رحمت میں داخل کیا بیشک وہ نیک بختوں میں ہیں۔

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ١ۖۗ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 21:87 in the Quran reader

اور مچھلی والے (یونس) جب وہ اپنی قوم سے ناراض ہو کر غصہ کی حالت میں چل دیے اور خیال کیا کہ ہم ان پر تنگی نہیں کریں گے آخر اندھیرے میں اللہ کو پکارنے لگے : تیرے سوا کوئی معبود نہیں ‘ تو پاک ہے اور بیشک میں قصور وار ہوں۔

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١ۙ وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 21:88 in the Quran reader

تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان کو غم میں نجات بخشی اور ایمان والوں کو ہم اسی طرح نجات دیا کرتے ہیں۔

وَ زَكَرِیَّاۤ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْوٰرِثِیْنَۚۖ Open ayah 21:89 in the Quran reader

اور زکریا نے جب اپنے رب کو پکارا کہ ” اے رب ! مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو سب سے بہتر وارث ہے۔

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١٘ وَ وَهَبْنَا لَهٗ یَحْیٰى وَ اَصْلَحْنَا لَهٗ زَوْجَهٗ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ یَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًا١ؕ وَ كَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ Open ayah 21:90 in the Quran reader

تو ہم نے ان کی پکار سن لی اور ان کو یحییٰ بخشے اور ان کی بیوی کو اولاد کے قابل بنا دیا یہ لوگ لپک لپک کر نیکیاں کرتے ہمیں امید اور خوف سے پکارتے اور ہمارے آگے عاجزی کیا کرتے تھے۔

وَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهَا مِنْ رُّوْحِنَا وَ جَعَلْنٰهَا وَ ابْنَهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:91 in the Quran reader

اور (ان مریم کو بھی یاد کرو) جنہوں نے اپنی عفت کو محفوظ رکھا تو ہم نے ان میں اپنی روح پھونک دی ان کو اور انکے بیٹے کو اہل عالم (دنیا والوں) کے لیے نشانی بنا دیا۔

اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً١ۖ٘ وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:92 in the Quran reader

یہ تمہاری جماعت ایک ہی جماعت ہے اور میں تمہارا رب ہوں تو میری ہی عبادت کیا کرو۔

مختلف انبیائے کرام کا تذکرہ تشریح : ان تمام واقعات میں بہت سی نصیحتیں ہیں گو کہ مخاطب سیدنا محمد ﷺ کو ہی کیا گیا ہے۔ اسی سلسلہ میں سیدنا اسماعیل کی طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ ان کو سخت آزمائشوں سے واسطہ پڑا اسی سلسلہ میں خانہ کعبہ کا ظہور ہوا آپ کو مذبوح (ذبح کیے گئے) کا لقب ملا حج پر قربانی انہی کی یاد میں کی جاتی ہے۔ اسی لیے آپ کو نبوت دی گئی آپ کے مکمل حالات سورة مریم میں گزر چکے ہیں۔ سیدنا ادریس (علیہ السلام) بھی نیکی و پارسائی میں کسی سے کم نہ تھے اور پھر ذوالکفل (علیہ السلام) کا ذکر ہے۔ بنی اسرائیل کے نبیوں میں سے ہیں۔ یہ سب اللہ کے مقبول ترین بندے تھے کیونکہ انہوں نے خود کو اللہ کے لیے ہی وقف کر رکھا تھا۔ اسی طرح ذوالنون کا ذکر ہے یہ سیدنا یونس (علیہ السلام) کا لقب ہے۔ ان کا ذکر تفصیلاً سورة یونس میں ہوچکا ہے۔ آپ اہل نینوا کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے مگر ان کی ہٹ دھرمی سے عاجز آکر ان کو عذاب کی اطلاع دی اور خود اللہ کے حکم سے پہلے ہی وہاں سے چل پڑے۔ اسی جرم کی سزا میں آپ کشتی سے اتار دیے گئے اور مچھلی نے آپ کو نگل لیا جب اس مصیبت میں آپ گرفتار ہوئے تو آپ نے اللہ سے معافی اور نجات کے لیے دعا کی۔ آپ کی دعا نہ صرف قبول ہوئی اور مچھلی نے آپ کو کنارے پر اگل دیا بلکہ آپ کی دعا مقبول ترین دعائوں میں سے ایک دعا کی حیثیت رکھتی ہے۔ ذوالنون کا مطلب ہے مچھلی والا۔ کیونکہ آپ کچھ دیر مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ رب العزت کا وعدہ ہے کہ ” ایمان والوں کو ہم اسی طرح نجات دیا کرتے ہیں۔ “ اسی سلسلہ میں سیدنا زکریا (علیہ السلام) کا ذکر بھی کیا جا رہا ہے کہ وہ اللہ کے برگزیدہ صالح بندے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا بھی قبول فرمائی اور ان کو سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) عطا کیے۔ ان کے حالات مفصل سورة مریم میں آیات 16 سے 34 آپ پڑھ چکے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو اللہ کی طرف ایک قدم بڑھاتا ہے اللہ اس کی طرف دس قدم بڑھاتا ہے جو اس کی طرف چل کے جاتا ہے اللہ اس کی طرف دوڑ کرجاتا ہے۔ اللہ اپنی راہ میں جدوجہد کرنے والوں کو ہر صورت ہر قدم پر ہر طرح مدد کرتا ہے۔ ان کی دعائیں قبول کرتا ہے اور ان کو دنیا و آخرت میں بہترین درجات عطا کرتا ہے۔ پھر سیدنا مریم (علیہا السلام) کا ذکر انتہائی عزت افزائی کے ساتھ کیا۔ یہ بھی سورة مریم میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ سمجھانا یہ مقصود ہے کہ جس قدر انبیاء (علیہم السلام) گزر چکے ہیں وہ سب خاص انسان تھے راہ حق میں قربانیاں دینے والے مگر سیدنا آدم (علیہ السلام) سے لے کر آخری نبی محمد ﷺ تک سب کا پیغام ایک ہی تھا۔ یعنی توحید۔ ایک ہی عقیدہ اور ایک ہی پیغام دیا۔ مگر ہر زمانے میں ہر قسم کے لوگ آئے اور انہوں نے نافرمانی کی اور عذاب کے حق دار ہوئے تو اللہ تعالیٰ یاد کرواتے ہیں کہ ” یہ تمہاری جماعت (امت) ایک ہی جماعت ہے اور میں تمہارا رب ہوں تو میری ہی عبادت کیا کرو۔ “ (الانبیاء آیت 92)
Ayahs 21:93–95

وَ تَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ١ؕ كُلٌّ اِلَیْنَا رٰجِعُوْنَ۠ Open ayah 21:93 in the Quran reader

اور لوگوں نے اپنا کام آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرلیا ‘ مگر سب ہمارے ہی پاس لوٹ کر آئیں گے۔

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْیِهٖ١ۚ وَ اِنَّا لَهٗ كٰتِبُوْنَ Open ayah 21:94 in the Quran reader

جو نیک کام کرے گا اور مومن بھی ہوگا تو اس کی کوشش ضائع نہ جائے گی اور ہم اسے لکھ لیتے ہیں۔

وَ حَرٰمٌ عَلٰى قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَاۤ اَنَّهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:95 in the Quran reader

اور ہر بستی پر لازم ہوچکا جسے ہم نے غارت کردیا دوبارہ پھر نہ آئیں گے۔

لوگوں نے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تشریح : جب ہم نے اتنے انبیائے کرام کے متعلق پڑھ لیا تو ہمیں اچھی طرح یہ معلوم ہوگیا کہ تمام انبیاء نے ایک ہی تعلیم دی یعنی توحید کی تعلیم مگر بدنصیبی انسان کی کہ اس نے اپنے اپنے دنیاوی مفادات کے مطابق اصلی تعلیمات کو بدل کر اپنے اپنے عقیدے اور مرضی کے مطابق بالکل الٹ پلٹ کردیا۔ حالانکہ تمام انسان ایک اللہ کے پیدا کیے ہوئے ہیں۔ سب برابر ہیں سوائے ان لوگوں کے جو نیک کام کرتے ہیں اور اللہ کو ایک مانتے ہیں ان کو رب العزت نے دنیا میں بھی اعلیٰ درجات دیے اور آخرت میں بھی ان کا مقام بلند ہوگا۔ صاف صاف اور بار بار یہ اعلان قرآن پاک میں اور قرآن سے پہلی کتابوں میں کردیا گیا ہے کہ تمام لوگ اللہ کے حضور حاضر ہو کر اپنے اپنے اعمال کا بدلہ ضرور پائیں گے اور ہر شخص کا ہر عمل لکھا جا رہا ہے۔ مولانا وحید الدین صاحب اپنی کتاب میں اس کی وضاحت اس طرح کرتے ہیں۔ ” تحت الشعور کا یہ نظریہ اب نفسیات میں عام طور پر تسلیم کیا جا چکا ہے کہ ہر بات جو آدمی سوچتا ہے ‘ اور ہر اچھا یا برا خیال جو اس کے دل میں گزرتا ہے وہ سب کا سب نفس انسانی میں اس طرح نقش ہوجاتا ہے کہ پھر کبھی نہیں مٹتا ‘ وقت کا گزرنا یا حالات کا بدلنا اس کے اندر ذرہ برابر بھی تبدیلی پیدا نہیں کرتا ‘ اور یہ واقعہ انسانی ارادے کے بغیر ہوتا ہے۔ خواہ انسان اسے چاہے یا نہ چاہے۔ یہ واقعہ صریح طور پر اس امکان کو ظاہر کرتا ہے کہ جب دوسری زندگی شروع ہوگی تو ہر شخص اپنے پورے نامہ اعمال کے ساتھ وہاں موجود ہوگا ‘ آدمی کا خود اپنا وجود گواہی دے رہا ہوگا کہ کن نیتوں اور کن خیالات کے ساتھ اس نے دنیا میں زندگی بسر کی تھی۔ “ (از مذہب اور جدید چیلنج) مسلمانوں کا عقیدہ تو بالکل اس بات پر پکا ہے کیونکہ قرآن پاک میں اس کو بار بار وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ بلکہ آج کا غیر مسلم سائنسدان ‘ محقق اور تاریخ دان بھی اب اس کی تصدیق کر رہے ہیں۔ پھر یہ بات کہ جو بستیاں عذاب الٰہی سے یا قدرتی آفات سے نیست و نابود ہو چکیں وہ دوبارہ کبھی ان ہلاک شدہ لوگوں سے آباد نہیں ہوسکتیں ہم دن رات یہ حقیقت دیکھتے ہیں کہ مرنے والا اس دنیا میں ہرگز کسی صورت واپس نہیں آسکتا البتہ اس وقت ضرور زندہ کیا جائے گا اللہ کے حکم سے جب قیامت آئے گی۔ قیامت کب آئے گی ؟ اس کا علم سوائے رب ذوالجلال کے کسی کو نہیں البتہ اس کے آنے کی نشانیاں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کچھ اس طرح بیان فرمائی ہیں۔ ملاحظہ ہو :
Ayahs 21:96–103

حَتّٰۤى اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَ هُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ Open ayah 21:96 in the Quran reader

یہاں تک کہ یاجوج اور ماجوج کھول دیے جائیں اور وہ ہر بلندی سے دوڑ رہے ہوں گے۔

وَ اقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَاِذَا هِیَ شَاخِصَةٌ اَبْصَارُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ یٰوَیْلَنَا قَدْ كُنَّا فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا بَلْ كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:97 in the Quran reader

اور قیامت کا سچا وعدہ قریب آجائے گا تو پھر کفار کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی اور کہنے لگیں گے کہ ہائے کم بختی ہماری ہم اس سے بیخبر رہے بلکہ ہم قصور وار تھے۔

اِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ Open ayah 21:98 in the Quran reader

کافرو ! اس روز تم اور جن کی تم عبادت کرتے ہو دوزخ کا ایندھن ہو گے اور تم سب اس میں داخل ہو کر رہو گے۔

لَوْ كَانَ هٰۤؤُلَآءِ اٰلِهَةً مَّا وَرَدُوْهَا١ؕ وَ كُلٌّ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 21:99 in the Quran reader

اگر یہ لوگ دراصل معبود ہوتے تو اس میں داخل نہ ہوتے سب اس میں ہمیشہ جلتے رہیں گے۔

لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ هُمْ فِیْهَا لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 21:100 in the Quran reader

ان کے لیے وہاں چلانا ہے اور وہ اس میں کچھ نہ سنیں گے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤى١ۙ اُولٰٓئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ Open ayah 21:101 in the Quran reader

جن لوگوں کے لیے ہماری طرف سے پہلے بھلائی مقرر ہوچکی ہے وہ اس سے دور رکھے جائیں گے۔

لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَهَا١ۚ وَ هُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 21:102 in the Quran reader

یہاں تک کہ وہ اس کی آواز تک بھی نہ سنیں گے اور جو کچھ ان کا جی چاہے گا اس میں ہر طرح کے عیش و آرام میں ہمیشہ کے لیے رہیں گے۔

لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ هٰذَا یَوْمُكُمُ الَّذِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:103 in the Quran reader

اس بڑی گھبراہٹ میں ان کو غم نہ ہوگا اور فرشتے ان کو لینے آئیں گے اور کہیں گے کہ ” یہی وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔

یاجوج ماجوج کا ظہور قیامت کی نشانی تشریح : قیامت کے قریب ہونے یا قیامت آنے کی دس نشانیاں رسول اکرم ﷺ نے بیان فرمائی ہیں ان میں سے ایک نشانی یا جوج و ماجوج کا دنیا میں پھیل جانا بھی ہے۔ یاجوج ماجوج کے بارے میں سورة کہف کی آیات 93 سے 98 تک میں بڑی تفصیل سے لکھا جا چکا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ ذوالقرنین ایک بڑا فاتح بادشاہ گزرا ہے جس نے دنیا کے شمالی پہاڑوں کے درمیان سیسہ پلائی دیوار اس غرض سے بنوائی تھی کہ ان کے پیچھے ایک شیطان فطرت قوم یاجوج ماجوج رہتی تھی اور وہ لوگوں کو بہت زیادہ ستاتے تھے۔ وہ اس دیوار کو ہر وقت توڑنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ قرآن میں آیا ہے کہ قیامت کے قریب وہ اس دیوار کو توڑنے میں کامیاب ہوجائیں گے اور شرو فساد اور قتل و غارتگری کا یہ طوفان بلندیوں سے نیچے آکر دنیا میں پھیل جائے گا اور دنیا کے امن و سکون کو تباہ و برباد کر دے گا۔ تو پھر جب قیامت جو کہ سو فیصد یقینی ہے آجائے گی تو اس وقت کفار و مشرک لوگوں کو ہوش آئے گا۔ مگر تب معافی اور عمل صالح کرنے کا وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوگا سوائے پچھتاوے اور عذاب میں مبتلا ہونے کے اور کوئی صورت نظر نہ آئے گی۔ مگر نیک اور اچھے مومنین اور مومن عورتوں کے لیے عذاب نام کی کوئی چیز نہ ہوگی بلکہ وہ تو گویا اللہ تعالیٰ کے خاص مہمان ہوں گے جن کو مکمل عیش و آرام ملے گا اور فرشتے ان کا استقبال کریں گے اور کہیں گے ” یہی وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ “ (آیت 103 الانبیاء)
Ayahs 21:104–112

یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ كَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ١ؕ كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُهٗ١ؕ وَعْدًا عَلَیْنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:104 in the Quran reader

جس دن ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ لیں گے جیسے خطوں کا طومار لپیٹ لیتے ہیں ‘ جس طرح ہم نے کائنات کو پہلے پیدا کیا تھا اسی طرح دوبارہ پیدا کردیں گے ‘ یہ وعدہ ہے جس کا پورا کرنا ضروری ہے اور ہم ایسا ضرور کرنے والے ہیں۔

وَ لَقَدْ كَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ Open ayah 21:105 in the Quran reader

اور ہم نے نصیحت کی کتاب (یعنی) زبور میں لکھ دیا تھا کہ میرے نیک بندے ملک کے وارث ہوں گے

اِنَّ فِیْ هٰذَا لَبَلٰغًا لِّقَوْمٍ عٰبِدِیْنَؕ Open ayah 21:106 in the Quran reader

عبادت کرنے والے لوگوں کے لیے اس میں اللہ کے حکموں کی وضاحت ہے۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:107 in the Quran reader

اور ( اے محمد ! ) ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔

قُلْ اِنَّمَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 21:108 in the Quran reader

فرمادیں کہ مجھ پر اللہ کی طرف سے یہ وحی آتی ہے کہ تم سب کا معبود اللہ واحد ہے تو کیا تم فرمانبرداری کرنیوالے ہو۔

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ اٰذَنْتُكُمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ وَ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:109 in the Quran reader

اگر یہ لوگ منہ پھیریں تو فرما دو کہ میں نے تم کو دونوں طرف کی برابر خبر کردی ہے۔ اور میں نہیں جانتا کہ جس بات کا وعدہ تم سے کیا گیا ہے ‘ وہ قریب ہے یا دور ہے۔

اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 21:110 in the Quran reader

جو بات پکار کر کی جائے وہ اسے جانتا ہے اور جو تم پوشیدہ کرتے ہو اس سے بھی وہ واقف ہے۔

وَ اِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّهٗ فِتْنَةٌ لَّكُمْ وَ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 21:111 in the Quran reader

اور میں نہیں جانتا شاید وہ تمہارے لیے آزمائش ہو اور ایک مدت تک فائدہ ہو۔

قٰلَ رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ رَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ۠ Open ayah 21:112 in the Quran reader

پیغمبر نے کہا اے رب فیصلہ کر انصاف سے اور ہمارا رب بڑا مہربان ہے اسی سے ان باتوں پر جو تم بیان کرتے ہو مدد مانگی جاتی ہے۔

قیامت کا منظر، نبی ﷺ کا پیغام تشریح : سب سے پہلے کائنات کے اختتام کا ذکر ہے کیونکہ یہ بالکل سچا اور پکا وعدہ ہے پھر اس کو دوبارہ پیدا کرنے کا وعدہ ہے۔ کائنات کے اختتام کا منظر کچھ یوں بیان کیا ہے۔ ڈاکٹر دلدار احمد اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں۔ ” اس وقت اوراق کے یہ طومار کھلے ہوئے ہیں اور اس کے تمام نقوش اور خطوط پڑھے جا رہے ہیں۔ اور ہر ایک اپنی جگہ پر قائم اور برقرار ہے۔ لیکن جب قیامت کا حکم ہوجائے گا تو یہ عظیم طومار اپنے تمام خطوط و نقوش کے ساتھ لپیٹ دیے جائیں گے، یعنی کائنات پھیل رہی ہے اور ایک خاص حد تک وسعت پا چکنے کے بعد یہ دوبارہ سکڑنا شروع ہوجائے گی (یعنی) طومار لپیٹ دیے جائیں گے۔ ( از کائنات قرآن اور سائنس) ڈاکٹر ہلوک باقی صاحب اس آیت کے بارے میں یوں لکھتے ہیں۔ ” قرآن فہمی کے سلسلے میں جو آسمانوں کی تہوں کو ایک کتاب سے تشبیہ دیتی ہے۔ کائنات سے یہاں ہماری مراد مادی کائنات سے ہے اس لیے کہ مادی کائنات کی آسمانوں سے تمثیل (مثال) دی گئی ہے۔ “ مزید لکھتے ہیں کہ ” مادی اشیاء فضائے بسیط میں متعدد مقناطیسی سطحوں کو اس طریقہ سے پر کیے ہوئے ہیں جیسے کتاب کے اوراق ترتیب سے کھلتے ہیں۔ اگر اللہ کی مرضی اس توسیع کو رک جانے کا حکم دیتی ہے ‘ تو مادہ اسی لمحے منہدم ہوجاتا ہے۔ اور اگر اللہ چاہے تو نئی ہستیاں ‘ نئے فاصلوں کے ساتھ وجود میں آجاتے ہیں۔ یہی وہ طبعی حقیقت ہے جس کا ادراک (سمجھ) بہت مشکل سے ہوتا ہے جس کو یہ آیت ظاہر کرتی ہے۔ ( از قرآنی آیات اور سائنسی حقائق) آسان زبان میں مطلب یہ ہے کہ قرآن پاک میں قیامت کا ہولناک نقشہ کھینچا گیا ہے۔ کیونکہ آسمان تہہ در تہہ بنائے گئے ہیں۔ کئی دفعہ سات آسمانوں کا ذکر ہے۔ اب آپ ذرا تصور کریں کہ ان آسمانوں کو اگر رول کرلیا جائے جیسے خطوط کے پلندے کو رول کرلیا جاتا ہے تو ان آسمانوں میں موجود ہر چیز کا کیا حال ہوگا ؟ مکمل تباہی مکمل خاتمہ اور یہی قیامت کی تعریف ہے کہ سب کچھ پہلے تباہ ہوجائے گا اور پھر جب اس رول کو اللہ اپنے حکم سے کھولے گا تو یہ دوسری دنیا کا آغاز ہوگا جس میں تمام لوگ اپنے اعمال کے وڈیو کیسٹ کے ساتھ اللہ کے حضور حاضر ہوں گے اور یہی یوم الحساب ہوگا۔ نیکی بدی ‘ توحید و شرک ‘ ایمان و کفر کا فرق قرآن سے پہلے بھی تمام آسمانی کتابوں میں اچھی طرح واضح کر کے بیان کیا جا چکا ہے اور پھر قیامت کا وعدہ بھی دہرایا جا چکا ہے اور پھر آخرت کا ذکر سزا اور جزا سب کچھ تمام نبیوں نے بڑی وضاحت سے بتایا مگر لوگ بھول جاتے رہے اور کچھ تو اپنے نبیوں کو ہی معبود بنا بیٹھے تو اللہ تعالیٰ اپنے پیارے رسول سیدنا محمد ﷺ کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں کہ آپ بےفکر ہو کر اللہ کا پیغام ان لوگوں تک پہنچاتے رہیں۔ برے لوگوں کا تو ہمیشہ سے ہی یہ طریقہ چلا آیا ہے کہ حق کو ناپسند کرتے رہے جیسا کہ آپ نے ان سابقہ انبیاء کے حالات پڑھے ہیں۔ سب ہی آزمائشوں اور مصیبتوں سے دوچار ہوتے رہے مگر آپ کو فضیلت یہ دی گئی ہے کہ آپ کسی خاص قوم یا ملک کے لیے نبی بنا کر نہیں بھیجے گئے بلکہ آپ تو پوری دنیا کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ باقی امتوں پر تو عذاب بھیجے گئے مگر آپ کی امت پر عذاب نہیں بھیجا گیا وقتاً فوقتاً تنبیہ کے طور پر خبردار کرنے کے لیے اللہ کی ناراضگی فطرت کے قوانین میں سختی پیدا کر کے ضرور کی جاتی ہے مگر پھر مہلت دی جاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بتائے ہوئے راستوں پر چلیں۔ اللہ ہی کی عبادت کریں کیونکہ وہی قادر مطلق ہے۔ سمیع ہے بصیر ہے غفور ہے رحیم ہے اور وہی جانتا ہے قیامت کب آئے گی ؟ کفار ہر وقت یہی کہتے تھے کہ اگر تم سچے ہو تو پھر قیامت کیوں نہیں لاتے تو آپ نے ان کو پھر سمجھایا کہ اگر قیامت کے آنے میں دیر ہو رہی ہے تو غنیمت سمجھو شاید اللہ تعالیٰ تمہیں مہلت دے رہا ہے کہ اپنے سیدھے راستے پرچلو اور پکے مومن بن جاؤ تاکہ قیامت کی سختی ‘ جہنم کے عذاب اور اللہ کی سزا سے بچ سکو۔ خلاصہ سورة الا نبی اء اس سورت میں بڑے احسن انداز میں قرآن مجید، انبیائے کرام کا اور قیامت کی حقیقت کا ذکر کیا گیا ہے۔ تمام انبیاء کا ذکر کسی نہ کسی سبق آموز وسیلہ سے کیا گیا ہے۔ انسانی زندگی کے تمام کرداروں کو بڑی خوبی سے پیش کیا گیا ہے خاص طور سے ان مسائل کو واضح کیا گیا ہے جن کا انسانی زندگی سے گہرا تعلق ہے۔ اور پھر محمد ﷺ کی ذات پاک کی فضیلت یوں بیان کی گئی کہ آپ ﷺ پوری دنیا کے لیے نبی یعنی رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ آپ ﷺ انسان کامل تھے اسی طرح آپ ﷺ کی تعلیمات بھی کامل ہیں۔ آپ کی تعلیمات کی بنیاد خاص طور پر ان عقائد پر ہے جو انسانی زندگی کے لیے بہترین اصول ہیں۔ اللہ کا خوف اور آخرت کا خوف انسان کو انسان بناتا ہے۔ اس لیے آپ ﷺ کی جس قدر عزت احترام اور فرمانبرداری کی جائے کم ہے۔ جب ہم سورة الانبیاء پر ایک نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں اس میں قیامت کی خبر پراثر انداز میں ملتی ہے۔ اللہ کی بڑائی اور رسول کی برتری اور رسولوں کی خاص خاص صفات معلوم ہوتی ہیں جو ہمارے لیے کامیاب زندگی کا نمونہ پیش کرتی ہیں مثلاً سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی فہم و فراست ‘ مستقل مزاجی ‘ قوت ایمانی ‘ رب سے پیار اور اس کی محبت اور ہر آزمائش میں پورا اترنا۔ تو پھرا ایسے بندے کو اللہ انعام و اکرام سے مالا مال کیوں نہ کرے گا۔ ان کو بیشمار انعامات سے اللہ نے نوازا۔ سیدنا نوح (علیہ السلام) بھی اللہ کے برگزیدہ انسان تھے اور آپ کی دعا سے اللہ نے ان کو برے لوگوں سے نجات دی بلکہ پوری سرزمین کو ہی گنہگاروں سے دھو ڈالا اور نوح (علیہ السلام) آدم ثانی کہلائے کیونکہ ان کی نیک نسل سے دنیا آباد ہوئی۔ دائود و سلیمان (علیہم السلام) بادشاہ گزرے ہیں۔ جن کی بادشاہت ایسی تھی جو ان کی دعا میں ان کو ملی کہ نہ پہلے کسی کو ملی اور نہ بعد میں کسی کو ملے گی۔ کیونکہ پہاڑ ‘ ہوائیں ‘ چرند ‘ پرند اور جن سب ان کے ماتحت تھے اور پھر بھی اللہ کے سامنے عاجزی و انکساری سے جھک کر شکر کرتے رہے کبھی غرور نہ کیا۔ سیدنا ایوب (علیہ السلام) کا صبر اور دعا قابل رشک اور بےمثال ہے۔ سیدنا یونس (علیہ السلام) کا اپنی چھوٹی سی غلطی پر نادم ہونا اور پھر ان کی مانگی ہوئی پُر اثر دعا تمام لوگوں کے لیے روشنی کا باعث بنی۔ سیدنا ذکریا علیہ السلام۔ انتہائی نیک ‘ صالح اور اللہ سے ہر وقت ڈرنے والے انتہائی پرہیزگار انسان تھے۔ ان کی خدا خوفی اور بھلائیوں کی طرف رغبت کی وجہ سے اللہ نے آپ کی دعا قبول کی اور ناممکن حالات میں نیک اولاد سے نوازا پھر مریم (علیہا السلام) ان کی پاک دامنی ‘ صبر و سکون ‘ اللہ کی رضا پر راضی رہنا انسانیت کی بلندی کا نمونہ ہے۔ ان تمام انبیاء کا ذکر بار بار مختلف مقاصد کو واضح کرنے کے لیے کیا جاتا ہے جیسا کہ یہاں زندگی گزارنے کے بہترین اصول ان کی زندگیوں کے ذریعے سمجھائے گئے ہیں۔ اللہ ہمیں ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے۔ اور سب سے آخر میں نبی آخرالزماں پیارے رسول حضرت محمد ﷺ تشریف لائے کہ جن کی تعریف میں علامہ اقبال فرماتے ہیں ؎ وہ دانائے سبل ‘ مولائے کل جس نے غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سینا نگاہ عشق ومستی میں وہی اول وہی آخر وہی قرآں وہی فرقاں وہی یٰسین وہی طہٰ