22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 22:1–2

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ Open ayah 22:1 in the Quran reader

لوگو ! اپنے رب سے ڈرو کہ قیامت کا زلزلہ ایک بہت بڑا واقعہ ہے۔

یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ Open ayah 22:2 in the Quran reader

جس دن اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل گرا دے گی اور آپ لوگوں کو نشے میں دیکھیں گے حالانکہ وہ نشے میں نہ ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب سخت ہے۔

قیامت کا منظر تشریح : چھوٹے موٹے زلزلے اور قدرتی آفات تو اکثر و بیشتر لوگوں کو دیکھنے کو ملتے ہیں جو اللہ کے بیان کردہ حالات کا نقشہ انسان کو دکھا دیتے ہیں۔ ایک زلزلہ 79 سن عیسوی میں آیا تھا جس کا ریٹچر سکیل 8 تھا موجودہ اٹلی کے دو بڑے شہر Pompeii اور Hereilaman مکمل طور پر تباہ ہوگئے تھے۔ ہم سوچ سکتے ہیں کہ اس اچانک آفت کے وقت انسانوں کا کیا حال ہوگا ؟ بالکل وہی حال ہوگا جو اوپر آیات میں بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح کی چھوٹی موٹی قیامت یں تو انسان دیکھتا رہتا ہے یہاں اس بڑی قیامت کے زلزلے کا ذکر کیا جا رہا ہے جو کسی بھی وقت آسکتی ہے۔ سائنس دان اب بڑی تحقیقات کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ زمین و آسمان کی اچانک تباہی کے کیا کچھ اسباب ہوسکتے ہیں جبکہ قرآن پاک میں طویل عرصہ پہلے یہ سب کچھ بتا دیا گیا ہوا ہے۔ کہ زمین پہلے پھیل رہی تھی اب سکڑ رہی ہے اور لگاتار سکڑنے سے اندر کے لاوے پر اس قدر دبائو بڑھ جائے گا کہ زمین ایک بڑے دھماکے سے پوری طرح پھٹ کر تباہ و برباد ہوسکتی ہے۔ جب اتنا کچھ معلوم ہوجائے تو پھر بھی لوگ اللہ کے معاملہ میں جھگڑتے ہیں۔
Ayahs 22:3–4

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ یَتَّبِعُ كُلَّ شَیْطٰنٍ مَّرِیْدٍۙ Open ayah 22:3 in the Quran reader

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو بغیر کچھ جانے بوجھے اللہ کی شان میں جھگڑتے اور سرکش شیطان کی پیروی کرتے ہیں۔

كُتِبَ عَلَیْهِ اَنَّهٗ مَنْ تَوَلَّاهُ فَاَنَّهٗ یُضِلُّهٗ وَ یَهْدِیْهِ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 22:4 in the Quran reader

جس کے بارے میں لکھ دیا گیا ہے کہ جو اسے دوست رکھے گا وہ اسے گمراہ کر دے گا اور دوزخ کے عذاب کا رستہ دکھائے گا۔

شیطان کے دوست اور ان کا عذاب تشریح : خوب اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ شیطان کی دوستی جہنم کا راستہ دکھاتی ہے۔ کیونکہ اس پر تو اللہ کی لعنت ہوچکی ہے وہ تو ڈوب ہی چکا ہے تو اس کا مشن یہی ہے۔ ” ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے “
Ayahs 22:5–13

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّ غَیْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَیِّنَ لَكُمْ١ؕ وَ نُقِرُّ فِی الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْلَا یَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ وَ تَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ وَ اَنْۢبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍ Open ayah 22:5 in the Quran reader

لوگو ! اگر تمہیں مرنے کے بعد زندہ ہونے میں کچھ شک ہو تو ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر اس سے نطفہ بنا کر ‘ پھر اس سے خون کا لوتھڑا بنا کر ‘ پھر اس سے بوٹی بنا کر جس کا نقشہ کامل بھی ہوتا ہے اور ناقص بھی تاکہ تم پر واضح کردیں۔ اور ہم جس کو چاہتے ہیں ایک مقرر میعاد تک رحم میں ٹھہرائے رکھتے ہیں پھر تم کو بچہ بنا کر نکالتے ہیں۔ پھر تم جوانی کو پہنچتے ہو اور بعض مرجاتے ہیں اور بعض نکمی عمر تک پہنچا دیے جاتے ہیں کہ بہت کچھ جاننے کے بعد بالکل بےعلم ہوجاتے ہیں۔ (یعنی) بھول جاتے ہیں بڑھاپے کی وجہ سے اور اے دیکھنے والے ! تو دیکھتا ہے کہ ایک وقت میں زمین خشک پڑی ہوتی ہے پھر جب ہم اس پر مینہ برساتے ہیں تو وہ سرسبز ہوجاتی ہے ‘ ابھرنے لگتی ہے اور طرح طرح کی بارونق چیزیں اگاتی ہے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّهٗ یُحْیِ الْمَوْتٰى وَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۙ Open ayah 22:6 in the Quran reader

ان قدرتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ ہی قادر مطلق ہے جو برحق ہے اور یہ کہ وہ مردوں کو زندہ کردیتا ہے ‘ اور یہ کہ وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

وَّ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 22:7 in the Quran reader

اور بیشک قیامت آنے والی ہے اس میں کچھ شک نہیں اور یہ کہ اللہ ان تمام لوگوں کو جو قبروں میں ہیں جلا اٹھائے گا۔ (7)

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍۙ Open ayah 22:8 in the Quran reader

اور لوگوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو اللہ کی شان میں بغیر جانے ہوئے بغیر ہدایت کے اور بغیر روشن کتاب پڑھنے کے جھگڑتا ہے۔

ثَانِیَ عِطْفِهٖ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَهٗ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ نُذِیْقُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 22:9 in the Quran reader

اور تکبر سے منہ موڑ لیتا ہے تاکہ لوگوں کو اللہ کے رستے سے گمراہ کر دے ‘ اس کے لیے دنیا میں ذلت ہے اور قیامت کے دن ہم اسے آگ کے سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ یَدٰكَ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 22:10 in the Quran reader

اے سرکش ! یہ اس کفر کی سزا ہے جو تیرے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے اور اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں۔

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍ١ۚ فَاِنْ اَصَابَهٗ خَیْرُ اِ۟طْمَاَنَّ بِهٖ١ۚ وَ اِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةُ اِ۟نْقَلَبَ عَلٰى وَجْهِهٖ١ۚ۫ خَسِرَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةَ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 22:11 in the Quran reader

اور لوگوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو کنارے پر کھڑا ہو کر (شک و شبہ میں) اللہ کی عبادت کرتا ہے اگر اس کو کوئی دنیاوی فائدہ پہنچے تو مطمئن ہوجائے اور اگر کوئی آفت آپڑے تو منہ کے بل لوٹ جائے (اللہ سے منکر ہوجائے) ( یعنی) پھر کافر ہوجائے تو اس نے دنیا میں بھی نقصان اٹھایا اور آخرت میں بھی ‘ یہی صریح نقصان ہے۔

یَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهٗ وَ مَا لَا یَنْفَعُهٗ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُۚ Open ayah 22:12 in the Quran reader

یہ اللہ کے سوا ایسی چیز کو پکارتا ہے جو نہ اسے نقصان پہنچائے اور نہ فائدہ دے سکے یہی تو حد درجہ کی گمراہی ہے۔

یَدْعُوْا لَمَنْ ضَرُّهٗۤ اَقْرَبُ مِنْ نَّفْعِهٖ١ؕ لَبِئْسَ الْمَوْلٰى وَ لَبِئْسَ الْعَشِیْرُ Open ayah 22:13 in the Quran reader

بلکہ ایسے شخص کو پکارتا ہے جس کا نقصان فائدہ سے زیادہ قریب ہے ایسا دوست بھی برا اور ایسا ساتھی بھی برا۔

مرنے کے بعد زندہ ہونے کے ثبوت تشریح : جب انسان نے خود پر غور کیا تو معلوم ہوا یہ تو بڑی ہی عجیب و غریب فیکٹری ہے۔ جس میں جدید سائنس کی رو سے ایک سو چھبیس عناصر شامل ہیں۔ آگ ‘ پانی ‘ ہوا ‘ مٹی ‘ ہائیڈروجن ‘ ریڈیم ‘ کاربن ‘ نائٹروجن وغیرہ وغیرہ اور یہی اجزا ہر جاندار چرند پرند غرض ذی روح اور غیر ذی روح سب انہیں کا مرکب ہیں۔ فرق انسان میں اور باقی تمام مخلوقات میں صرف یہ ہے کہ انسان کو رب العزت نے علم اور ارادہ دیا ہے جو کہ اور کسی بھی مخلوق کو نہیں دیا گیا اور اسی وجہ سے انسان اشرف المخلوقات کہلایا۔ اسی علم کی وجہ سے آج انسان کو یہ نکتہ معلوم ہوا کہ انسان کی تخلیق میں ڈارون کا اصول غلط ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا پورا نقشہ اصولوں کے ساتھ بتا دیا ہے۔ کہ ” پہلے انسان کو مٹی سے پیدا کیا۔ “ جیسا کہ سورة البقرہ میں آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کا ذکر تفصیل سے ہوچکا ہے۔ اور یہ اللہ کا فرمان ہے جو بالکل سچ ہے۔ مگر عقل انسانی، یعنی سائنس دان اس کو ثابت نہیں کرسکے تو ڈارون نے تھیوری پیش کردی کہ انسان حیوان سے ارتقائی منزل طے کر کے بنا ہے جو کہ اللہ کے فرمان کے مطابق بالکل غلط ہے۔ انسان پہلے مٹی سے بنا اور پھر جوڑا ہونے کی صورت میں پیدائش کا ذریعہ وہ پانی کا قطرہ بنا جس کو منی کہا جاتا ہے۔ منی سے لے کر بچہ پیدا ہونے تک کے تمام مراحل اللہ کے بتائے ہوئے اندازے کے مطابق آج کی سائنس کا علم جس کو ہم میڈیکل سائنسزز کہتے ہیں ثابت کرچکا ہے۔ اور یہ علم انیسویں صدی کے دوران واضح تصور پیش کرسکا۔ یہ سب تفصیلاً بیان کیا جا چکا ہے۔ مختصراً یوں ہے کہ پہلے مرد اور عورت کے خلیے آپس میں مل کر ایک زئیگوٹ بناتے ہیں جو بچہ دانی میں پہنچ کر جمے ہوئے خون کی شکل اختیار کرلیتا ہے پھر اس کے بعد کا درجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ گوشت کی بوٹی بن جاتا ہے۔ جو شکل و صورت کے بغیر ہوتا ہے اس کے بعد شکل و صورت اور اعضاء جسمانی بننے شروع ہوجاتے ہیں۔ اور پھر 9 ماہ یا 6 ماہ کی مدت پوری ہونے پر ایک بنا بنایا بچہ دنیا میں آجاتا ہے۔ یہ سب اللہ کے حکم سے ہوتا ہے تمام مراحل اسی کی مرضی اور حکم سے پورے ہوتے ہیں۔ اور اگر اس کی مرضی نہ ہو تو کوئی کتنی ہی کوشش کرلے بچے کی نعمت حاصل نہیں کرسکتا اور اگر اس کا حکم ہو تو بانجھ اور بوڑھے والدین کو بھی اولاد کی نعمت دے سکتا ہے جیسا کہ سیدنا زکریا (علیہ السلام) کو بڑھاپے میں سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) عطا ہوئے۔ اولاد کی نعمت انمول ہے یہ صرف اللہ کی عطا ہے۔ پھر بچہ کا نصیب ‘ زندگی ‘ اچھا یا برا ہونا ‘ اور موت سب کچھ ماں کے پیٹ میں ہی مقرر کردیے جاتے ہیں۔ اس کی جنس ‘ اس کی ذہانت اور اس کا کردار سب کچھ اللہ کے علم میں موجود ہوتا ہے۔ اور اس تمام معاملہ میں کوئی شخص اپنی مرضی یا ارادے سے ہرگز کوئی تبدیلی نہیں کرسکتا۔ اور جب ہم یہ سب کچھ غور سے دیکھتے ہیں تو پھر اللہ کی قدرت اور اس کے حق ہونے میں کون سی بات ہمیں روکتی ہے۔ بچہ بنانا تو بہت بڑی بات ہے ایک تنکا بھی انسان نہیں بنا سکتا۔ اگر اس طرح سے اللہ انسان پیدا کرسکتا ہے تو پھر دوسری دفعہ پیدا کیوں نہیں کرسکتا ؟ ضرور پیدا کرسکتا ہے بلکہ پہلے پیدا کیے جانے کا مقصد ہی یہ ہے کہ دوبارہ پیدا کر کے اس زندگی کا حساب کتاب لیا جائے کہ جو انسان نے دنیا میں گزاری ہے۔ دوبارہ زندہ کیے جانے کی ایک دلیل اللہ تعالیٰ مردہ زمین سے بھی دیتے ہیں کہ جب زمین خشک ہوجاتی ہے بارش ہونے لگتی ہے تو اللہ کے حکم سے پانی اس مردہ زمین کو شاداب کردیتا ہے۔ زمین کی پیدوار کرنے کی طاقت بحال ہوجاتی ہے اور وہی زمین جو بےآب وگیاہ ہوتی ہے بیشمار قسم کے پھول پھل اور اناج اگانے لگتی ہے۔ یہ سب اس بات کی نشانیاں ہیں کہ جو لوگ آخرت پر اور حساب کتاب کے دن پر اور دوبارہ زندہ کیا جانے پر یقین نہیں رکھتے وہ جان جائیں جو لوگ قرآن پڑھتے ہیں ان کا فرض ہے کہ یہ تمام حقیقتیں لوگوں کو بتائیں جو بےعلم ہیں ان کو علم کی روشنی سے منور کردیں تاکہ کفار و مشرکین ان تمام حقائق کو مان کر دنیا و آخرت میں کامیاب ہو سکیں۔ اور وہ حقائق یہ ہیں۔ اللہ ہی حق اور سچ ہے کیونکہ وہی مردوں کو زندہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ قیامت کی گھڑی ضروری آئے گی اور وہ تمام لوگ جو مرچکے ہیں اللہ کے حکم سے دوبارہ زندہ کیے جائیں گے اور سزا و جزا ضرور پائیں گے۔ یہ سب کچھ انسان کو اپنے ذاتی مشاہدے سے حاصل ہوتا ہے یا کسی راہبر دوست اور معلم سے حاصل ہوتا ہے۔ اس لیے نیک دوست نیک صحبت انسان کے لیے بہت بڑی نعمت ہے۔ مگر افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ کئی ہٹ دھرم ‘ ضدی ‘ سرکش اور بیوقوف لوگ سمجھانے ‘ بتانے اور سکھانے پر الٹا اللہ کے خلاف حجت بازی ‘ غلط تنقید اور جھگڑا کرتے ہیں۔ جو خود ان کے اپنے نقصان کا باعث ہوتا ہے کیونکہ یہ شیطانی کام ہے اور اللہ نے شیطان اور اس کے ماننے والے دوستوں کے لیے فرمایا ہے ” قیامت کے دن ہم اسے آگ کے سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ “ (آیت 9 الحج) اس کے علاوہ کچھ ایسے لوگوں کے بارے میں بری سزا کا اعلان کیا گیا ہے جو مصلحتاً ایمان لاتے ہیں۔ ان کا ایمان مضبوط نہیں ہوتا۔ فائدہ ہوا تو یقین کرلیا نقصان ہوا تو ایمان سے پھرگئے۔ یہ طریقہ اللہ کے ہاں کچھ زیادہ سزا کا موجب ہوگا۔ کیونکہ عالم گنہگار بےعلم گنہگار سے کئی گنا زیادہ سزا پائے گا۔
Ayahs 22:14–18

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ Open ayah 22:14 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اللہ ان کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

مَنْ كَانَ یَظُنُّ اَنْ لَّنْ یَّنْصُرَهُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَى السَّمَآءِ ثُمَّ لْیَقْطَعْ فَلْیَنْظُرْ هَلْ یُذْهِبَنَّ كَیْدُهٗ مَا یَغِیْظُ Open ayah 22:15 in the Quran reader

جو شخص یہ گمان یقینا کرتا ہو کہ اللہ اس کو دنیا و آخرت میں مدد نہیں دے گا تو اس کو چاہیے کہ اوپر کی طرف ایک رسی باندھے پھر اس سے اپنا گلا گھونٹ لے اب دیکھے کہ اس کی تدبیر سے اس کا غصہ کچھ جاتا رہا۔

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یُّرِیْدُ Open ayah 22:16 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو اتارا ہے جس کی تمام باتیں کھلی ہوئی ہیں اور اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئِیْنَ وَ النَّصٰرٰى وَ الْمَجُوْسَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا١ۖۗ اِنَّ اللّٰهَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 22:17 in the Quran reader

جو لوگ مومن ہیں ‘ یہودی ‘ صابی ‘ نصاریٰ ‘ مجوسی اور مشرک ان سب کے درمیان اللہ قیامت کے دن فیصلہ کر دے گا۔ بیشک اللہ ہر چیز سے باخبر ہے۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَسْجُدُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ وَ النُّجُوْمُ وَ الْجِبَالُ وَ الشَّجَرُ وَ الدَّوَآبُّ وَ كَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ١ؕ وَ كَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْهِ الْعَذَابُ١ؕ وَ مَنْ یُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُؕ۩ Open ayah 22:18 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا جو مخلوق آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے ‘ سورج ‘ چاند ستارے ‘ پہاڑ ‘ درخت ‘ چار پائے اور بہت سے انسان اللہ کو سجدہ کرتے ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جن پر عذاب ثابت ہوچکا ہے۔ اور جس شخص کو اللہ ذلیل کرے اس کو کوئی عزت دینے والا نہیں۔ بیشک اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

ایمان والوں کیلئے خوشخبری ‘ اللہ کی عظمت و شان تشریح : یہ سب باتیں غیب کی باتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ رسول کو وحی کے ذریعے بتاتا ہے اور رسولوں کو بتاتا ہے اور رسول لوگوں کو بتاتے ہیں کہ اللہ قادر مطلق ہے۔ اس نے تمام لوگوں کو توحید کا وعدہ لینے کے بعد دنیا میں بھیجا جس کو ” عہد الست “ کہا جاتا ہے۔ یعنی انسان کو نیکی پر ہی پیدا کیا گیا ہے مگر جس طرح ایک ہی کھیت میں کچھ پودے صحت مند اور کچھ ناقص اگ آتے ہیں اسی طرح آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں بھی کچھ شیطان کے بہکاوے میں آگئے اور کچھ نہیں آئے انہوں نے ایمان کو ترجیح دی اور قائم و دائم رہے تو ایسے ہی لوگوں کو خوشخبری دی جا رہی ہے کہ آخرت میں ان کو بہترین ٹھکانے اور بہترین پر آسائش زندگیاں ضرور دی جائیں گی یہ غیب کی خبر ہے مگر ہے بالکل سچی کیونکہ یہ خدائے برتر الہ العلمین کی دی ہوئی خبر ہے۔ ہرگز غلط نہیں ہوسکتی۔ پھر اس کا علم اس قدر وسیع اور مکمل ہے کہ وہ ہر انسان کو فطرت کے لحاظ سے خوب جانتا ہے کہ کونسا انسان کیا راستہ اختیار کرے گا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ایک استاداپنے شاگرد یا ایک ماں اپنے بچے کو خوب پہچان لیتے ہیں کہ اس کی فطرت اس کا رجحان کیا ہے اور بڑا ہو کر یہ کیا کرے گا تو یہ علم و ادراک کی بات ہے جو اللہ نے فرمایا کہ ” اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ “ آیت (14) بظاہر کوئی دینداریا متقی دکھائی دیتا ہے جب کہ اس کی نیت صاف نہیں بلکہ صرف دکھاوے کے لیے سب کچھ کرتا ہے تو کیونکہ اللہ کا علم تو نیتوں تک کو جانتا ہے۔ اور انتہائی انصاف کرنے والا ہے اس لیے وہ بڑے وسیع علم کی وجہ سے ہر ایک کو ٹھیک ٹھیک بدلہ دے گا۔ دنیا بیشمار قسم کے مذاہب اور عقائد رکھنے والوں سے بھری پڑی ہے مگر اللہ کو ان کے اعمال کے مطابق ان کا فیصلہ کرنا ہرگز مشکل کام نہیں۔ وہ تو بڑا ہی باخبر اور سمیع وبصیر ہے ہر چیز جو کچھ اس کائنات میں موجود ہے سب ہی اللہ کے فرمانبردار ہیں۔ جن میں پہلے نمبر پر انسان پھر حیوان پھر نباتات اور پھر جمادات آتے ہیں۔ انسان تو ارادہ سے سجدہ کرتا ہے جبکہ باقی سب حکم الٰہی کے مطابق اپنے طریقہ سے تسبیح و تقدیس کرتے ہیں۔ مگر بندوں میں سے جو نافرمانی کرتے ہوئے سجدہ نہیں کرتے وہ یقینا اپنے آپ کو ذلیل و خوار کرتے ہیں اور یہ ذلت و خواری ان سے کوئی بھی دور نہیں کرسکتا۔ سوائے رب العزت کے۔ پھر ان لوگوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے جو سیدنا محمد ﷺ سے حسد کرتے تھے کہ یہ تو معمولی انسان ہیں ان کو نبوت اور وحی کا درجہ کیوں دیا گیا۔ تو اللہ نے ایسے لوگوں کو بتایا کہ رسول ﷺ کو روحانی بلندی تو ملی ہوئی ہے مالی ترقیاں بھی ان کو ضرور اور خوب ملیں گی تم لوگ اگر کچھ کرسکتے ہو ‘ تو ضرور کر دیکھو اور اگر پھر بھی تمہارا غصہ ٹھنڈا نہ ہو تو پھر بہتر ہے خود کشی کر ڈالو کہ حسد و بغض اور غصہ سے نجات مل جائے۔ اللہ نے تو اپنے حساب کتاب اندازے اور تدبیر سے یہ دنیا اور اس کی ہر چیز بنائی ہے وہ قادر مطلق ہے۔ ” اور بیشک اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ “ (آیت 18 الحج) ہر چیز اللہ کی تسبیح کر رہی ہے۔ یعنی جو حکم ان کی تقدیر میں لکھ دیا گیا ہے وہ اس سے ہٹ کر کچھ نہیں کرسکتے۔ پہاڑ کو حکم ہے کھڑا رہے۔ ہوا کو حکم ہے چلے۔ پانی کو حکم ہے بہے یا ٹھہرا رہے یعنی درخت چرند پرند سب اللہ کے حکم کو مانتے ہوئے اپنی اپنی ڈیوٹی دے رہے ہیں اور یہی عبادت ہے۔ عبادت کا مطلب ہے تابع ہوجانا یعنی مالک کی غلامی میں پوری طرح بلاچون و چرا حکم کی تابعداری کرنا۔ رام ہوجانا۔ غلامی ‘ اطاعت ‘ پوجا ‘ ملازمت یعنی مالک کے سامنے بالکل جھک جانا۔ واقعی ہر چیز اللہ کے بنائے ہوئے قوانین جن کو ہم سائنسی قوانین کہتے ہیں۔ ان ہی قوانین کی پابندی کرتی ہے اور حکم الٰہی کے مطابق عمل کرتی ہے۔ اسی کو کہتے ہیں تسبیح کرنا یعنی سجدہ کرنا۔ اس لیے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہر شے جاندار ہو یا بےجان سب اپنے خالق کو اچھی طرح پہچانتے ہیں اور اس کی خدمت میں سجدے کرتے ہیں۔ انسان کو تو ارادہ کی طاقت دی گئی ہے اس لیے وہ جن پر اللہ کی رحمت ہے سجدے کرتے ہیں اور جو شیطان کے دوست ہیں وہ لعنت میں پڑچکے ہیں۔ ان کو دردناک عذاب ضرور دیا جائے گا اگلی آیات میں انہی کا ذکر ہے۔
Ayahs 22:19–22

هٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّهِمْ١٘ فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍ١ؕ یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِیْمُۚ Open ayah 22:19 in the Quran reader

یہ دو فریق کہ جھگڑتے ہیں اپنے رب کے بارے میں تو جو کافر ہیں ان کے لیے آگ کے کپڑے قطع کیے جائیں گے اور ان کے سروں پر جلتا ہوا پانی ڈالا جائے گا۔

یُصْهَرُ بِهٖ مَا فِیْ بُطُوْنِهِمْ وَ الْجُلُوْدُؕ Open ayah 22:20 in the Quran reader

اس سے ان کے پیٹ اندر سے سب پگھل کر نکل جائے گا اور کھال بھی گل جائے گی۔

وَ لَهُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِیْدٍ Open ayah 22:21 in the Quran reader

اور ان کے لیے لوہے کے گرز ہوں گے۔

كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِیْدُوْا فِیْهَا١ۗ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ۠ Open ayah 22:22 in the Quran reader

جب وہ گھٹن کی وجہ سے وہاں سے نکلنا چاہیں گے تو پھر ڈال دیے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ ” جلنے کے عذاب کا مزہ چکھتے رہو۔

آخرت میں عذاب کا نقشہ تشریح : ان دو گروہوں کا ذکر ہے ایک مومن اور دوسرا کافر۔ تو کفار کے لیے جو نقشہ عذاب کا کھینچا گیا ہے جو ان کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر دیا جائے گا واقعی رونگٹے کھڑے کرنے والا عذاب ہوگا۔ اللہ کبھی نہ دکھائے اور ہمیشہ اس سے اپنی پناہ میں رکھے آمین۔ دوسرا گروہ جو مومن ہے اس کے انعامات کا ذکر یوں کیا جا رہا ہے۔
Ayahs 22:23–24

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ؕ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ Open ayah 22:23 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے اللہ ان کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ وہاں ان کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور موتیوں کے ہار اور وہاں ان کا لباس ریشمی ہوگا۔

وَ هُدُوْۤا اِلَى الطَّیِّبِ مِنَ الْقَوْلِ١ۖۚ وَ هُدُوْۤا اِلٰى صِرَاطِ الْحَمِیْدِ Open ayah 22:24 in the Quran reader

اور ان کو پاکیزہ کلام کی ہدایت کی گئی اور تعریف والے اللہ کی راہ بتائی گئی۔

مومنین کا انعام تشریح : کتنی مزے کی بات ہے کہ جو لوگ اللہ پر پکا ایمان لے آتے ہیں وہ خود بخود ہی اس قدر پاکیزہ ہوجاتے ہیں کہ وہ جو بات کرتے ہیں جو کام کرتے ہیں وہ پاکیزہ ہوتا ہے غرض دنیا میں ان پر اللہ کی طرف سے یہ خاص رحمت ہوتی ہے۔ اور جو نیک بات کرے نیک خیال ہو وہ نیک عمل ضرور ہوتا ہے اسی وجہ سے ایسے لوگوں کے چہروں پر اطمینان سکون اور نور ہوتا ہے۔ ایسے ہی بہترین اور خوش خلق لوگوں کو اللہ تعالیٰ موت کے بعد بھی اور پھر قیامت کے بعد بھی بہترین آسائشوں سے بھری زندگی ملنے کی خوشخبری سناتے ہیں۔ نہ ان کو یہاں غم ہے نہ وہاں فکر ہوگی۔
Ayah 22:25

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِیْ جَعَلْنٰهُ لِلنَّاسِ سَوَآءَ اِ۟لْعَاكِفُ فِیْهِ وَ الْبَادِ١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ فِیْهِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ۠ Open ayah 22:25 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جو کافر ہیں اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور مسجد الحرام سے منع کرتے ہیں جسے ہم نے لوگوں کے لیے یکساں عبادت گاہ بنایا ہے لوگوں کے لیے چاہے وہاں کے رہنے والے ہوں یا با ہر سے آنے والے ہوں اور جو اس میں شرارت سے ٹیڑھی راہ چاہے اس کو ہم درد ناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔

حج بیت اللہ تشریح : مسجد حرام ایسی مسجد ہے جو مکہ میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے تعمیر کی، یعنی خانہ کعبہ (بیت اللہ) یہ مسجد تمام مسلمانوں کے لیے کھلی رہتی ہے۔ کسی کو بھی اس میں جا کر عبادت کرنے سے منع نہیں کیا جاسکتا ہے یہ اللہ کا گھر ہے اور مسلمانوں کا مرکزی نشان ہے۔ یہاں جا کر عمرہ بھی کیا جاتا ہے اور حج بھی۔ لیکن جب مسلمان مدینہ ہجرت کر گئے تو 6 ہجری میں آن سیدنا ﷺ اپنے ساتھیوں کے ساتھ عمرہ کے ارادے سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے تو کفار مکہ نے آپ کو عمرہ کرنے سے روک دیا، لہٰذا آپ عمرہ کیے بغیر مقام حدیبیہ سے واپس مدینہ لوٹ گئے۔ حرم کعبہ میں کسی بھی قسم کی لڑائی جھگڑا منع ہے۔ مسلمانوں کو تاکید کی گئی ہے کہ کفرو شرک سے لے کر ہر قسم کے چھوٹے بڑے گناہ حدود حرم میں کرنے بالکل منع ہیں۔ جو اس کی خلاف ورزی کرے گا تو اس کی پکڑ اور پھر سزا جو کہ درد ناک عذاب کی صورت میں ہوگا ‘ ضرور دیا جائے گا۔ کیونکہ یہ گھر تو بنایا ہی اس کام کے لیے گیا تھا کہ یہ اللہ کی عبادت کی خاص جگہ ہے۔ جیسا کہ اگلی آیات میں وضاحت کی جا رہی ہے۔
Ayah 22:26

وَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِیْمَ مَكَانَ الْبَیْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِیْ شَیْئًا وَّ طَهِّرْ بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْقَآئِمِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ Open ayah 22:26 in the Quran reader

ہم نے ابراہیم کے لیے اس گھر کی جگہ ٹھیک کردی۔ کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرنا طواف کرنے ‘ قیام ‘ رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے میرے گھر کو پاک صاف رکھ۔

تعمیر کعبہ کا مقصد تشریح : بیت اللہ کی تعمیر کے بارے میں مفصل مضمون سورة بقرئہ میں گزر چکا ہے۔ مختصراًٍ یہ کہ یہ گھر صرف اللہ کی عبادت کے لیے بنایا گیا تھا۔ تاکہ مسلمانوں کا مرکز بن جائے اور تمام دنیا کے لوگ اس میں نماز قائم کریں اور اس کی عزت و احترام کا خیال رکھیں۔ یہاں تین باتوں کا حکم دیا گیا ہے۔ پہلا : اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائو۔ دوسرا : اللہ کے گھر کو پاک صاف رکھو ہر لحاظ سے۔ تیسرا : حج کا اعلان کر دو ۔
Ayahs 22:27–36

وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّ عَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍۙ Open ayah 22:27 in the Quran reader

اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دو ۔ لوگ تمہارے پاس چلے آئیں گے پیدل بھی اور دبلی پتلی اونٹنیوں پر بھی جو دور دراز راستوں سے پہنچتی ہوں گی۔

لِّیَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ وَ یَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ۚ فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآئِسَ الْفَقِیْرَ٘ Open ayah 22:28 in the Quran reader

تاکہ اپنے فائدے کے کاموں کے لیے حاضر ہوں اور مقررہ ونوں میں مویشیوں پر (ذبح کے وقت) اللہ کا نام لیں جو اللہ نے ان کو عطا کیے ہیں۔ اس میں سے تم بھی کھائو اور فقیر و مسکین کو بھی کھلائو۔

ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَهُمْ وَ لْیُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ وَ لْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ Open ayah 22:29 in the Quran reader

پھر چاہیے کہ لوگ اپنا میل کچیل دور کریں اور نذریں پوری کریں اور اس قدیم گھر کا طواف کریں

ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ وَ اُحِلَّتْ لَكُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِۙ Open ayah 22:30 in the Quran reader

اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ ادب کی باتوں کا خیال رکھے تو یہ اللہ کے نزدیک اس کے لیے بہتر ہے۔ اور تمہارے لیے مویشی حلال کردیے گئے ہیں سوائے ان کے جو تمہیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔ بس بتوں کی گندگی سے بچو اور جھوٹی باتوں سے پرہیز کرو۔

حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَیْرَ مُشْرِكِیْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّیْرُ اَوْ تَهْوِیْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ مَكَانٍ سَحِیْقٍ Open ayah 22:31 in the Quran reader

صرف ایک اللہ کے ہو کر اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا ‘ اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے تو گویا وہ ایسا ہے جیسے آسمان سے گر پڑے اور اس کو مردار خور پرندے اچک کرلے جائیں یا ہوا کسی دور جگہ اڑا کر پھینک دے۔

ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ Open ayah 22:32 in the Quran reader

یہ ہمارا حکم ہے اور جو شخص ادب کی چیزوں کا احترام کرے جو اللہ نے مقرر کر رکھی ہیں تو یہ کام دلوں کی پاکیزگی میں سے ہے۔

لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَاۤ اِلَى الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ۠ Open ayah 22:33 in the Quran reader

ان میں ایک وقت مقرر تک تمہارے لیے فائدے ہیں پھر ان کو قدیمی گھر تک پہنچنا اور ذبح ہونا ہے۔

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّیَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ؕ فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْا١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ Open ayah 22:34 in the Quran reader

اور ہم نے ہر ایک امت کے لیے قربانی کا طریقہ مقرر کردیا ہے تاکہ جو مویشی چار پائے اللہ نے ان کو دیے ہیں ان کو ذبح کرنے کے وقت ان پر اللہ کا نام لیں سو تمہارا معبود ایک ہی ہے تو اسی کے فرمانبردار ہوجاؤ اور عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو ۔

الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَصَابَهُمْ وَ الْمُقِیْمِی الصَّلٰوةِ١ۙ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 22:35 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ جب اللہ کا نام لیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان پر مصیبت پڑتی ہے تو صبر کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو مال ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے نیک کاموں میں خرچ کرتے ہیں۔

وَ الْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ لَكُمْ فِیْهَا خَیْرٌ١ۖۗ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا صَوَآفَّ١ۚ فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُهَا فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَ الْمُعْتَرَّ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرْنٰهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 22:36 in the Quran reader

اور قربانی کے اونٹوں کو بھی ہم نے تمہارے لیے شعائر الٰہی مقرر کیا ہے۔ ان میں تمہارے لیے فائدے ہیں تو قربانی کرنے کے وقت قطار باندھ کر ان پر اللہ کا نام لو جب پہلو کے بل گر پڑیں تو ان میں سے کھائو اور قناعت سے بیٹھے رہنے والوں اور سوال کرنے والوں کو بھی کھلائو اس طرح ہم نے ان کو تمہارے بس میں کردیا ہے تاکہ تم شکر ادا کرو۔

اعلان حج تشریح : آج جو حاجی ” لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ “ حاضر ہوں میں حاضر ہوں اے اللہ “ یہ پڑھتے ہوئے حج اور عمرہ کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں تو یہ اسی اعلان کا جواب ہے جو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے خانہ کعبہ مکمل ہونے پر حج کے لیے لوگوں کو بلانے کے لیے کیا تھا۔ شان خداوندی ہے کہ اس اعلان کے جواب میں مقررہ تاریخوں پر پوری دنیا سے مسلمان خانہ کعبہ کی طرف سفر کرنے لگتے ہیں اور قیامت تک کرتے رہیں گے ان شاء اللہ۔ پھر حج کے دنیاوی فائدوں کی بات کی گئی دینی فریضہ تو یہ ہے ہی۔ حج بہت بڑی عبادت یعنی ارکان اسلام کا اہم رکن ہے۔ اور دنیاوی فائدہ تجارت کی اجازت ہے۔ دوسرا فائدہ وہ ذکر ہے جو قربانی کرتے وقت اللہ کا نام لیا جاتا ہے۔ قربانی کی حقیقت تو صرف عبادت کا ذریعہ ہے۔ اور پھر یہ گوشت بھی حلال کردیا گیا ہے۔ یہ قربانی ذی الحجہ کی دسویں ‘ گیارہویں اور بارہویں تاریخوں میں کی جاتی ہے۔ قربانی کے بعد احرام کھولنا ‘ غسل کرنا اور سر کے بال اتروانا فرض ہے۔ پھر نذر یعنی منت پوری کرنے کا حکم ہے کہ وہ بھی پوری کردی جائے۔ پھر طواف زیارت کا ذکر یہ ہے یہ ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو کیا جاتا ہے اس سے پہلے رمی ‘ جمرہ اور قربانی کی جاتی ہے۔ پہلا رکن وقوف عرفات ہے پھر طواف زیارت پر احرام کھل جاتا ہے کیونکہ احکام مکمل ہوجاتے ہیں۔ بیت عتیق کا مطلب ہے آزاد گھر۔ کیونکہ یہ گھر کفار اور ہر قسم کے شرو فساد کے غلبہ سے آزاد ہے۔ احکام شرعیہ کے مطابق قربانی کے جانور اونٹ ‘ گائے ‘ بکرا ‘ مینڈھا اور دنبہ حلال ہیں پھر یہ حکم ہے کہ جھوٹی بات سے بچو اللہ کے احکامات کا احترام کرو۔ کیونکہ یہی تقویٰ ہے۔ پھر قربانی کے جانور سے کسی بھی قسم کا فائدہ حاصل کرنا منع ہے جب جانور کو حج وغیرہ پر ذبح کرنے کا سوچ لیا ہو یعنی ساتھ لے لیا ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جانور ذبح کرنے کی حقیقت صرف یہی ہے کہ صرف اللہ کے لیے اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اسی کا نام لے کر جانور ذبح کیا جائے تو یہ بھی عبادت میں شمار ہوتا ہے۔ تو عاجزی اور خلوص سے صرف اللہ کی ہی عبادت کرنے والوں کے لیے خوشخبری ہے۔ اور ان لوگوں کی خصوصیات یہ ہیں کہ وہ تمام احکامات الٰہی پورے کرتے ہیں۔ (1) مصیبتوں پر صبر اور شکر ادا کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ راضی برضاء ہونے کی نشانی ہے۔ (2) نماز خشوع و خضوع، پابندی اور سنت کے مطابق قائم کرتے ہیں۔ (3) جو مال ان کو دیا گیا ہے وہ شریعت محمدی ﷺ کے مطابق خرچ کرتے ہیں یعنی صدقہ اور قربانی کرتے ہیں۔ حج ادا کرتے ہیں اور ضرورت مندوں کی ضرورتیں پوری کرتے ہیں۔ یعنی سفید پوش اور فقیر کا خیال رکھتے ہیں۔ آخر میں اونٹ کو ذبح کرنے کا طریقہ جس کو نحر کرنا کہتے ہیں بتا دیا کہ اس کو کھڑا کر کے نیزہ مارا جاتا ہے ایک ٹانگ اٹھا کر باندھ دی جاتی ہے۔ جب بہت خون نکل جاتا ہے تو اونٹ خود بخود گر پڑتا ہے۔ کیونکہ اتنے بڑے جانور کو لٹا کر ذبح کرنا مشکل ہے۔ مگر ضروری ہے کہ نیزہ مارتے ہوئے اللہ کا نام لے لیا جائے۔ یہ سب کچھ اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے کافی ہے۔ لہٰذا ہر وقت اللہ کا ہی شکر ادا کرتے رہنا چاہیے۔ حج زندگی میں ایک دفعہ اور استطاعت رکھنے والے پر فرض ہے۔ میقات ‘ احرام ‘ طواف ‘ سعی ‘ عرفہ ‘ رمی اور قربانی یہ مناسک حج ہیں ان میں سے کچھ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) سیدہ ہاجرہ کی یاد میں کیے جاتے ہیں۔ آپ ہی واحد شخصیت ہیں جن کی عزت و احترام اکثر اقوام کرتی ہیں۔ حج کیونکہ زندگی میں ایک دفعہ کیا جاتا ہے لہٰذا پورے ذوق و شوق اور دل و دماغ کی پوری گہرائیوں کے ساتھ کرنا چاہیے کہ دل پر پوری زندگی کے لیے اللہ کی محبت اور بزرگی کا ایسا نقش بن جائے کہ بقیہ زندگی اللہ کی عبادت ہی بن جائے۔ یہی اصل حج ہے اور صحیح عبادت ہے۔ یہ ایک ایسی اجتماعی عبادت ہے کہ جس سے بین الاقوامی جذبے اور انسانی اخوت کو فروغ ملتا ہے اور دنیا کے مسلمانوں کو مل بیٹھ کر کئی مسائل حل کرنے کا موقع ملتا ہے۔ غرض حج ایک ایسی عملی مشق ہے جو مسلمانوں کو صبر و ثبات ‘ عزم و ارادہ ‘ محنت مشقت ‘ خوف خدا اور قرب الٰہی حاصل کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ خانہ کعبہ کے بارے میں کچھ معلومات عرض کی جارہی ہیں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) نے بیت اللہ تعمیر کیا پھر مختلف ادوار میں تعمیر نو ہوتی رہی۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے خانہ کعبہ کی اونچائی 4.32 میٹر رکھی۔ موجودہ دور میں اس کی اونچائی 12.95 میٹر ہے۔ غلاف کعبہ بہترین ریشم سے بنایا جاتا ہے۔ کلمہ طیبہ اور دوسری کئی آیات سونے کے تاروں سے بنائی جاتی ہیں۔ اس کی تیاری میں 240 افرادباوضوہوکرکام کرتے ہیں 670 کلو گرام ریشم اور 17 ملین سعودی ریال خرچہ آتا ہے اور میں دروازہ 280 کلوخالص سونے سے بنایا گیا ہے۔ حجراسود 1//1/2 میٹر اونچائی پر خانہ کعبہ کی دیوار میں چاندی کے خول میں نصب کیا گیا ہے۔ چھت پر جو پرنالہ 4 فٹ لمبا ہے اس پر سونے کا خول چڑھا ہوا ہے۔ یہ سب تو بیت اللہ کی ظاہری شکل و صورت ہے دراصل یہ مسلمانوں کے لیے انتہائی مقدس مقام ہے دنیابھرکے مسلمان خانہ کعبہ کی طرف ہی منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں یہ امن سکون کی جگہ ہے یہاں لڑائی جھگڑا قتل و فساد جانوروں کا شکار حتیٰ کے بیل بوٹے جڑی بوٹیاں اکھیڑنا بھی منع ہے۔ یہ اللہ کا گھر ہے مسلمانوں کا مرکز ہے۔ دنیا کے بت کدوں میں پہلا یہ گھر خدا کا ہم اس کے پاسباں ہیں یہ پاسباں ہمارا
Ayahs 22:37–38

لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 22:37 in the Quran reader

اللہ تک نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون بلکہ اس تک تمہاری پرہیزگاری پہنچتی ہے ‘ اسی طرح اللہ نے ان کو تمہارے لیے مسخر کردیا ہے تاکہ اس بات کے بدلے کہ اس نے تمہیں ہدایت بخشی ہے اس کی کبریائی بیان کرو ‘ اور (اے پیغمبر ﷺ ! ) نیکی کرنے والوں کو بشارت دے دو ۔

اِنَّ اللّٰهَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠ Open ayah 22:38 in the Quran reader

اللہ تو مومنوں سے ان کے دشمنوں کو ہٹاتا رہتا ہے۔ بیشک اللہ کسی خیانت کرنے والے اور کفر ان نعمت کرنے والے کو دوست نہیں رکھتا۔

ہر عبادت میں خلوص ضروری ہے تشریح : پچھلی آیات میں حج کے ارکان اور خاص طور سے قربانی کا ذکر بڑی وضاحت سے کیا گیا ہے تو یہاں اس قربانی کی اصل حقیقت بیان کی گئی ہے۔ جس خلوص ‘ محبت ‘ ایثار اور اللہ کی محبت میں گم ہو کر سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے پیارے بیٹے کی گردن پر چھری رکھ دی تھی وہ تھی اصل قربانی ‘ اللہ کی فرمانبرداری ‘ رضا اور محبت میں بیٹے کی محبت بھول گئے اور آنکھوں پر پٹی باندھ کر اللہ اکبر ہی بولے تھے کہ اللہ نے قربانی قبول کرلی اور سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) کی بجائے دنبہ کی گردن پر چھری پھروا دی۔ جانوروں کی قربانی بھی اسی جذبے ‘ خلوص ‘ محبت اور فرمانبرداری کے جذبے کے ساتھ ہونی چاہیے۔ اللہ کو قربانی سے کچھ نہیں پہنچتا بلکہ یہ بھی ایک عبادت کا طریقہ ہے جو بغیر خلوص نیت کے بالکل بےکار ہے۔ تمام عبادات روزہ ‘ زکوٰۃ اور حج اگر خلوص نیت کے بغیر کی جائیں تو یہ بالکل بےکاراعمال ہیں ان کی اصل روح خلوص ہے۔ وہ تو پھر ایسے ہی ہے جیسے ہم بیٹھ کر بس اللہ اللہ کرتے رہیں صرف زبان سے دل اور دماغ کسی دنیاوی مسئلہ میں مصروف ہوں۔ بلکہ اللہ کہنے کے ساتھ اللہ کے تمام احکامات اس کی بڑائی اس کی تمام مہربانیاں ‘ رحمتیں اور برکتیں بھی ہمارے سامنے آجائیں اور ہمارا روآں روآں اس کی محبت میں ڈوب جائے اور اس کے سوا کچھ نظر نہ آئے تو پھر اللہ کہنے کا حق ادا ہوتا ہے۔ اور اللہ اس قدر قریب ہوجاتا ہے کہ انسان خود کو بھول جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ہم کوئی کام شروع کرتے ہیں مگر توجہ اس کی طرف نہیں ہوتی تو ہم اس کام میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتے عبادات کے جو طریقے ہمیں سکھائے گئے ہیں وہ بھی حکم ربانی مگر ان کی تعمیل کرتے ہوئے پوری توجہ، خشوع و خضوع اور یکسوئی اتنی ہی ضروری ہے جتنی کہ جسم انسانی کے لیے روح۔ یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارا رب ہمارا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ صرف اسی کی فرمانبرداری ہم پر لازم ہے۔ کیونکہ ہم اس کے عبد اور غلام ہیں۔ آیت 38 شروع کی آیات کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔ وہ اس طرح کہ 6 ہجری میں جب سیدنا محمد ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ احرام باندھ کر عمرہ کے ارادے سے آئے تھے مگر مشرکین مکہ نے ان کو مسجد حرام میں جانے اور عمرہ کرنے سے روک دیا تھا۔ اس آیت میں مسلمانوں کو اس وعدہ کے ساتھ تسلی دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ عنقریب کفار کی قوت کو ختم کر دے گا جس طاقت کی وجہ سے یہ مسلمانوں پر ظلم و ستم کرتے ہیں۔ تو اللہ کا وعدہ پورا ہوا۔ کفار کی ہمت اور طاقت روز بروز کم ہوتی چلی گئی یہاں تک کہ 8 ہجری میں ان کو بڑی سخت ذلت کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ مسلمانوں نے اللہ کے حکم سے بغیر خون خرابے کے مکہ کو فتح کرلیا تھا۔ کفار میں اتنی بھی سکت نہ تھی کہ سامنے آکر مقابلہ میں ہی کھڑے ہوجاتے۔ اگلی آیات میں اسی کی تفصیلات آرہی ہیں۔