22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 22:39–51

اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِیْرُۙ Open ayah 22:39 in the Quran reader

جن مسلمانوں سے خواہ مخواہ لڑائی کی جاتی ہے ان کو اجازت ہے کہ وہ لڑیں کیونکہ ان پر ظلم ہو رہا ہے اللہ ان کی مدد پر قادر ہے۔

اِ۟لَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْكَرُ فِیْهَا اسْمُ اللّٰهِ كَثِیْرًا١ؕ وَ لَیَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:40 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ اپنے گھروں سے ناحق نکال دیے گئے ( انہوں نے کچھ قصور نہیں کیا) سوائے اس کے کہ وہ کہتے ہیں کہ اللہ ہمارا رب ہے اور اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے سے علیحدہ نہ کرتا رہتا تو ڈھا دیے جاتے، گرجے ‘ خا نقا ہیں ‘ عبادت خانے اور مسجدیں۔ جن میں اللہ کا بہت ذکر کیا جاتا ہے اور جو شخض اللہ کی مدد کرتا ہے اللہ اس کی مدد ضرور کرتا ہے بیشک اللہ توانا اور غالب ہے۔

اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 22:41 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو ملک میں قدرت دیں تو نماز پڑھیں ‘ زکوٰۃ دیں ‘ نیک کام کرنے کا حکم دیں برے کاموں سے منع کریں اور سب کاموں کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ ثَمُوْدُۙ Open ayah 22:42 in the Quran reader

اور اگر یہ آپ کو جھٹلاتے ہیں تو ان سے پہلے نوح کی قوم ‘ عادی اور ثمودی بھی اپنے پیغمبروں کو جھٹلا چکے ہیں۔

وَ قَوْمُ اِبْرٰهِیْمَ وَ قَوْمُ لُوْطٍۙ Open ayah 22:43 in the Quran reader

قوم ابراہیم اور قوم لوط بھی۔

وَّ اَصْحٰبُ مَدْیَنَ١ۚ وَ كُذِّبَ مُوْسٰى فَاَمْلَیْتُ لِلْكٰفِرِیْنَ ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١ۚ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 22:44 in the Quran reader

اور مدین کے رہنے والے بھی۔ موسیٰ بھی تو جھٹلائے جا چکے ہیں لیکن میں کفار کو مہلت دیتا رہا پھر ان کو پکڑ لیا تو دیکھ لو میرا عذاب کیسا سخت تھا۔

فَكَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ فَهِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ بِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّ قَصْرٍ مَّشِیْدٍ Open ayah 22:45 in the Quran reader

اور بہت سی بستیاں ہیں کہ ہم نے ان کو تباہ کر ڈالا کہ وہ نافرمان تھیں سو وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں ‘ بہت سے کنویں بےکار اور بہت سے محل ویران پڑے ہیں۔

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ۚ فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَ لٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ Open ayah 22:46 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے ملک میں سیر نہیں کی تاکہ ان کے دل ایسے ہوتے کہ ان سے سمجھ سکتے اور کان ایسے ہوتے کہ ان سے سن سکتے اصل میں آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَ لَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ١ؕ وَ اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 22:47 in the Quran reader

اور یہ لوگ آپ سے عذاب کے لیے جلدی کر رہے ہیں اور اللہ اپنا وعدہ ہرگز خلاف نہیں کرتا اور بیشک آپ کے رب کے نزدیک ایک دن ہزارسال کے برابر ہوتا ہے جو تم گنتے ہو۔

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَمْلَیْتُ لَهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا١ۚ وَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:48 in the Quran reader

اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ میں نے ان کو ڈھیل دی اور وہ گنہگار تھیں پھر میں نے ان کو پکڑا اور میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَاۤ اَنَا لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 22:49 in the Quran reader

آپ فرمادیں کہ ” اے لوگو میں تو واضح ڈرانے والا ہوں۔

فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 22:50 in the Quran reader

تو جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان کیلئے بخشش اور عزت والا رزق ہے۔

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْا فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 22:51 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلانے کی کوشش کی وہ دوزخی ہیں۔

لڑائی کی اجازت تشریح : مکہ میں آخری دور تک مسلمانوں کی تعداد کافی ہوگئی تھی۔ کفار ان پر انتہا سے زیادہ ظلم و ستم کرتے مثلاً تپتی ہوئی ریت پر لٹا دیتے قمیض اتار کر اور سینے پر گرم بھاری پتھر رکھ دیتے۔ وغیرہ وغیرہ یہ کوئی معمولی بات نہ تھی تو مسلمان آپ ﷺ سے اجازت مانگتے تھے کہ ہم بھی ان سے لڑنا چاہتے ہیں مگر جنگی مصلحت یا وقتی تقاضا یہ تھا اور پھر سب سے بڑی بات کہ اس وقت تک مسلمانوں کو کفار سے لڑنے کی اجازت نہ دی گئی تھی۔ ظلم و ستم اتنے بڑھے کہ صرف اللہ کا نام لینے کی وجہ سے لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے 13 سال ظلم و ستم برداشت کیے۔ مدینہ پہنچنے کے بعد اس آیت میں کفار سے لڑنے کا حکم دیا گیا اور ساتھ ہی یہ یقین بھی دلایا گیا کہ اللہ تمہارے ساتھ ہے اسی لیے اپنی کم تعداد اور کم وسائل جہاد سے مت گھبرائو۔ پھر جہاد و قتال کی حکمت بتائی جا رہی ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو ایک ہی فرقہ طاقت ور ہوتا چلا جاتا اور وہ دوسرے مذاہب کی عبادت گا ہیں ڈھا دیتا اور قتل و خونریزی کی انتہاہو جاتی۔ یہ تو قدرت کا ایک بہت بڑا اصول ہے۔ پھر خلفائے راشدین کے حق میں خوشخبری ہے کہ جب ان کو حکومت مل جائے گی تو یہ انتہائی پاکباز لوگ ہوں گے احکامات الٰہی نافذ کریں گے یعنی نیکی کی طرف بلائیں گے برائی سے منع کریں گے۔ اور پھر ایسا ہی ہوا۔ اور اس میں وہ تمام لوگ بھی شامل ہیں جن کو اللہ نے حکومت و اقتدار بخشا۔ پھر آپ ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ اگر کفار آپ کو جھٹلاتے ہیں تو آپ بالکل پریشان نہ ہوں۔ انبیاء کو جھٹلانا اور ان کو اذیت دینا کوئی نئی بات نہیں تاریخ میں گزرے ہوئے بیشمار نبیوں کے حالات موجود ہیں بلکہ جگہ جگہ ان بستیوں کے آثار بھی موجود ہیں جن کے رہنے والوں نے نبیوں کو جھٹلایا اللہ کی نافرمانی کی اور پھر اللہ کے عذاب کے مستحق ہوئے۔ یہ لوگ گھوم پھر کر ان عبرت کے مقامات کو کیوں نہیں دیکھتے۔ اصل میں ان کو شعور ہی نہیں۔ جیسا کہ اللہ نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کے ” دل اندھے ہوتے ہیں (46) یعنی اللہ تعالیٰ نے دل کو جسم انسانی کا بادشاہ قرار دے دیا ہے۔ حدیث میں آتا ہے۔ “ (انسان کے) جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے کہ اگر وہ خراب اور فاسد ہو تو پورا بدن خراب اور فاسد ہوتا ہے۔ اگر وہ ٹکڑا صحیح ہو تو پورا بدن درست اور ٹھیک ہوتا ہے اور وہ ہے دل “ (صحیح بخاری) زندگی میں صفائی ‘ حسن ‘ خوشی ‘ غمی ‘ وجد ‘ سرور ‘ محبت ‘ رحم ‘ وفا ‘ بےوفائی ‘ خواہشات ‘ انتظار ‘ حیاء ‘ غصہ اور نفرت یہ تمام جذبات انسان سے تعلق رکھتے ہیں اور جذبات کا منبع ہے دل۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ بدخیالات دل سے ہی جنم لیتے ہیں اور پھر انہی بدخیالات کے مطابق جسم کے تمام اعضاء کام کرتے ہیں۔ ایسے کان نیکی کی بات کو سن ہی نہیں سکتے۔ نیکی کا راستہ دیکھ ہی نہیں سکتے تو ایسے لوگ کان رکھتے ہوئے بھی بہرے ہوتے ہیں۔ آنکھیں رکھتے ہوئے بھی اندھے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ سورة الملک میں آیت 23 اس بات کو یوں واضح کرتی ہے۔ ” انہیں کہہ دو کہ اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا ‘ کان ‘ آنکھ اور دل کی نعمت سے تمہیں نوازا ‘ لیکن تم ان نعمتوں کا بہت کم شکریہ ادا کرتے ہو۔ “ رسول کریم ﷺ سے رب العزت مخاطب ہوتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ جب یہ لوگ عذاب کے آنے کی جلدی مچاتے ہیں تو ان کو بتائو یہ اللہ کا وعدہ ہے جو ضرور پورا ہوگا فکر نہ کرو یہ جو نیکی کرنے توبہ کرنے کی مہلت تمہیں اللہ نے دے رکھی ہے اپنے وقت پر ضرور ختم ہوجائے گی۔ پھر فرمایا کہ ” تمہارے رب کے نزدیک ایک دن ہزارسال کے برابر ہوتا ہے جو تم گنتے ہو۔ “ (آیت 48 ) یہاں علم طبیعیات کے انتہائی جدید نظریات کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ جیسا کہ سائنس کہتی ہے۔ ” ٹائیگون شعاعوں کی لکیریں جو اس قدر تیز رفتار ہوتی ہیں کہ انسانی ذہن ان کا احاطہ نہیں کرسکتا ‘ غیر مرئی توانائیوں (دکھائی نہ دینے والی طاقتیں) کی نشانیاں ہیں یہ مادی دنیا میں بھی آتی ہیں اور پھر اس کی طرف لوٹ جاتی ہیں جہاں سے یہ آتی ہیں۔ جدید فزکس نے یہ دریافتیں حال ہی میں کی ہیں۔ جبکہ قرآن پاک میں عرصہ دراز پہلے سے بتا دیا گیا ہے۔ یوں بھی کائنات میں وقت کی رفتار مختلف بتائی جاتی ہے۔ اور زمین پر بھی مثلاً خط استوا پر ایک رات دن چوبیس گھنٹے کا ہوتا ہے اور قطب شمالی پر ایک سال کا اور ان دونوں کے درمیان مختلف مقدار پر مختلف ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہ تو کائنات کے چھپے ہوئے رازوں میں سے ایک راز ہے سب سے بڑا راز جو رسول اللہ ﷺ نے اللہ کے حکم سے بتایا وہ یہ ہے کہ ” کہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کیے ان کے لیے بخشش اور عزت والا رزق ہے اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلانے کی کوشش کی وہ دوزخی ہیں۔ “ (51 - 50) یہاں یہ بات بڑی اچھی طرح واضح کردی گئی ہے کہ انسان کو انفرادی طور پر اور اجتماعی طور پر بھی بلکہ اسلامی حکومت کو اپنے قوانین میں چار بنیادی اصول ضرور رکھنے چاہیں۔ (1) اقامت نماز۔ (2) نظام زکوٰۃ۔ (3) نیکیوں کا حکم۔ (4) برائیوں سے روکنا۔ جیسا کہ سورة آل عمران میں اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کی تعریف یوں کرتے ہیں۔ ” تم دنیا میں بہترین امت ہو جسے انسانوں کی ہدایت کے لیے لایا گیا ہے تم نیکی کی تلقین کرتے ہو برائی سے روکتے ہو اللہ پر ایمان لائے ہو۔ “ (آیت 11 ) یہ ہے مومن کی تعریف اور اسلامی ملک کی تعریف ‘ ہمیں اپنے دن رات کی مصروفیات پر غور کرنا چاہیے اور سوچنا چاہیے کیا ہم سب اللہ کے بنائے ہوئے اس معیار پر پورا اتر رہے ہیں یا نہیں ؟ پرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کی ستارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہے (علامہ اقبال) یہاں مسلمان کی بےپناہ شان اور اہمیت کو بیان کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ اللہ کے نزدیک اس کی قدر و منزلت آسمانوں سے بھی زیادہ ہے دوسرے اس کی زندگی کا اصل مقصد عرش معلی پر رہنے والی ہستی یعنی الہ العلمین کی رضا اور قربت حاصل کرنا ہے۔ اور جب وہ اس مقصد میں کامیاب ہوجاتا ہے تو پھر ستارے بھی اس کی راہ کی دھول بن جاتے ہیں۔ نیابت الٰہی کا حق بھی اسی طرح ادا ہوتا ہے۔ یہ نکتہ سرگزشت ملت بیضا سے ہے پیدا کہ اقوام زمین ایشیا کا پاسبان تو ہے سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا (علامہ اقبال)
Ayahs 22:52–57

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى اَلْقَى الشَّیْطٰنُ فِیْۤ اُمْنِیَّتِهٖ١ۚ فَیَنْسَخُ اللّٰهُ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ ثُمَّ یُحْكِمُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌۙ Open ayah 22:52 in the Quran reader

اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول اور نبی نہیں بھیجا مگر اس کا یہ حال تھا کہ جب وہ کوئی آرزو کرتا تھا تو شیطان وسوسہ ڈال دیتا تھا تو شیطان کا ڈالا وسوسہ اللہ دور کردیتا ہے۔ پھر اللہ اپنی آیتوں کو مضبوط کردیتا ہے اور اللہ علم و الا اور حکمت والا ہے۔

لِّیَجْعَلَ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْقَاسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍۙ Open ayah 22:53 in the Quran reader

تا کہ جو کچھ شیطان نے ڈالا اس سے ان کو آزمائے جن کے دل میں روگ ہے یا جن کے دل سخت ہیں اور گنہگار تو مخالفت میں دور جا پڑے۔

وَّ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَیُؤْمِنُوْا بِهٖ فَتُخْبِتَ لَهٗ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:54 in the Quran reader

اور تاکہ جن لوگوں کو علم عطا ہوا ہے وہ جان لیں کہ بیشک وہ ( وحی) آپ کے رب کی طرف سے حق ہے تو وہ اس پر ایمان لائیں اور ان کے دل اللہ کے سامنے عاجزی کریں اور جو لوگ ایمان لائے ہیں اللہ ان کو سیدھی راہ کی ہدایت کرتا ہے۔

وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً اَوْ یَاْتِیَهُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ Open ayah 22:55 in the Quran reader

اور کافر لوگ ہمیشہ اس سے شک میں رہیں گے یہاں تک کہ اچانک ان پر قیامت آجائے یا ان پر منحوس دن کا عذاب آجائے۔

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 22:56 in the Quran reader

اس روز بادشاہی اللہ ہی کی ہوگی اور وہ ان میں فیصلہ کر دے گا ‘ تو جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ نعمت کے باغوں میں ہوں گے۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 22:57 in the Quran reader

اور جو کافر ہوئے اور ہماری آیتوں کو جھٹلاتے رہے ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا۔

شیطان کی چال اور اللہ کا انتظام تشریح : ان آیات میں بھی رسول کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ گھبرائیں نہیں شیطان اور شیطان خصلت لوگ ہمیشہ نبیوں اور رسولوں کو تنگ کرتے رہے ہیں۔ مگر اللہ علم والا ہے اور حکمت والا ہے۔ پیدائش شیطان کا مقصد یہ ہے تاکہ کھرے کھوٹے لوگ دنیا کے سامنے اچھی طرح ظاہر ہوجائیں ورنہ اللہ کا علم تو ناقابل حد تک وسیع ہے۔ وہ اپنے علم اور اپنی حکمت سے سب لوگوں کے اعمال ‘ نیتیں اور ارادے جانتا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ کون لوگ شیطان کا مقابلہ کر کے اس کو بھگا سکتے ہیں اور کون اس کے جال میں پھنس کر تباہ و برباد ہونے والے ہیں۔ بہرحال سب لوگ قیامت کے روز اللہ کے حضور حاضر ہوں گے نیک لوگ اپنا بہترین اجر پائیں گے جب کہ کفار نہ ختم ہونے والا عذاب پائیں گے
Ayahs 22:58–59

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْۤا اَوْ مَاتُوْا لَیَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 22:58 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی پھر مارے گئے یا مرگئے ان کو اللہ اچھا رزق دے گا اور بیشک اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔

لَیُدْخِلَنَّهُمْ مُّدْخَلًا یَّرْضَوْنَهٗ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَلِیْمٌ حَلِیْمٌ Open ayah 22:59 in the Quran reader

اور ان کو ایسی جگہ داخل کرے گا جسے وہ پسند کریں گے اور اللہ تو جاننے والا بردبار ہے۔

مہاجر اور شہید کی تعریف تشریح : اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ جاننے والا اور درگزر کرنے والا ہے۔ ذکر یہاں پر مہاجر اور شہید کا ہو رہا ہے یہ دونوں اعمال بےحد مشکل ہیں۔ یعنی صرف ایمان بچانے کے لیے اور اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے گھر بار آل اولاد ‘ مال جائیداد اور وطن چھوڑ دینا جس قدر مشکل ہے اسی قدر اللہ کو پسند بھی ہے اسی لیے ایسے لوگوں کے ساتھ اور ان لوگوں کے ساتھ جو ہجرت کرتے ہوئے یا ہجرت کر کے فوت ہوجاتے ہیں اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کو ان کی خواہش اور پسند کے مطابق بہترین ٹھکانے اور بہترین رزق بھی دیا جائے گا اور پھر اللہ نیتوں کو خوب اچھی۔ طرح جانتا ہے کہ کون منافق ہے اور کون سچا مومن ہے۔ سچے مومنین کے تو چھوٹے موٹے گناہ بھی معاف فرما دے گا۔ یہ اس کا وعدہ ہے جو ضرور پورا ہوگا۔
Ayahs 22:60–78

ذٰلِكَ١ۚ وَ مَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِهٖ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیْهِ لَیَنْصُرَنَّهُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 22:60 in the Quran reader

یہ ( بات اللہ کی طرف سے مقرر ہوچکی ہے) کہ ایک شخص دوسرے کو اتنی ہی ایذا دے جتنی ایذا اس کو دی گئی پھر اگر اس پر زیادتی کی جائے تو اللہ اس کی مدد کرے گا بیشک اللہ معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 22:61 in the Quran reader

اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ هُوَ الْبَاطِلُ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 22:62 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ صرف اللہ ہی برحق ہے اور جس کو کافر اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ باطل ہے اور اس لیے کہ اللہ بلند مرتبہ اور عظیم شان والا ہے۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١٘ فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌۚ Open ayah 22:63 in the Quran reader

کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ آسمان سے مینہ برساتا ہے تو زمین سر سبز ہوجاتی ہے بیشک اللہ مہربان اور خبردار ہے۔

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 22:64 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اسی کا ہے اور بیشک اللہ بےنیاز اور ہر تعریف کا مستحق ہے۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ وَ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ یُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 22:65 in the Quran reader

کیا تم نہیں دیکھتے کہ جتنی چیزیں زمین میں ہیں سب اللہ نے تمہارے لیے مسخر کردی ہیں اور کشتیاں بھی جو اس کے حکم سے چلتی ہیں دریا میں اور وہ آسمان کو تھامے رہتا ہے۔ کہ زمین پر نہ گر پڑے مگر اس کے حکم سے بیشک اللہ لوگوں پر بہت شفقت کرنے والا مہربان ہے۔

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَحْیَاكُمْ١٘ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ Open ayah 22:66 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے تم کو زندگی بخشی پھر تم کو مارتا ہے ‘ پھر تمہیں زندہ بھی کرے گا بیشک انسان تو بڑا ناشکرا ہے۔

لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوْهُ فَلَا یُنَازِعُنَّكَ فِی الْاَمْرِ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ١ؕ اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:67 in the Quran reader

ہم نے ہر ایک امت کے لیے ایک شریعت مقرر کردی ہے جس پر وہ چلتے ہیں تو یہ لوگ آپ سے اس بات میں جھگڑا نہ کریں اور آپ لوگوں کو اپنے رب کی طرف بلاتے رہیں ‘ بیشک آپ سیدھے رستے پر ہیں۔

وَ اِنْ جٰدَلُوْكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 22:68 in the Quran reader

اور اگر یہ آپ سے جھگڑا کریں تو فرمادیں جو عمل تم کرتے ہو اللہ اس سے خوب واقف ہے۔

اَللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 22:69 in the Quran reader

جن باتوں میں تم اختلاف کرتے ہو اللہ قیامت کے روز تم میں اس کا فیصلہ کر دے گا۔

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 22:70 in the Quran reader

کیا تم نہیں جانتے کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ اس کو جانتا ہے ‘ یہ سب کچھ کتاب میں لکھا ہوا ہے بیشک یہ سب اللہ کے لیے آسان ہے۔

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ مَا لَیْسَ لَهُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ Open ayah 22:71 in the Quran reader

اور یہ لوگ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جن کی اس نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی اور نہ ان کے پاس اس کا کوئی علم ہے اور ظالموں کا کوئی بھی مددگار نہ ہوگا۔

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ١ؕ یَكَادُوْنَ یَسْطُوْنَ بِالَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ؕ قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ اَلنَّارُ١ؕ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:72 in the Quran reader

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کی شکل بگڑ جاتی ہے اور آپ ان کے چہروں پر صاف طور پر ناگواری کے آثار دیکھتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ جو ہماری آیتیں ان کو پڑھ کر سناتے ہیں ان پر حملہ کردیں۔ فرمادیں کہ میں تم کو اس سے بھی بری چیز بتائوں ؟ وہ دوزخ کی آگ ہے جس کا اللہ نے کافروں سے وعدہ کیا ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗ١ؕ وَ اِنْ یَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّا یَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُ١ؕ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ Open ayah 22:73 in the Quran reader

لوگو ! ایک مثال بیان کی جاتی ہے اسے غور سے سنو کہ جن لوگوں کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے چاہے اس کے لیے سب جمع ہوجائیں اور اگر ان سے مکھی کوئی چیز چھین لے جائے تو اسے اس سے چھڑا نہیں سکتے۔ طالب اور مطلوب ( یعنی) عابد اور معبود دونوں ہی لاچار ہیں۔

مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:74 in the Quran reader

ان لوگوں نے اللہ کی قدر جیسی کرنی چاہیے تھی نہیں کی کچھ شک نہیں کہ اللہ زبردست اور غالب ہے۔

اَللّٰهُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌۚ Open ayah 22:75 in the Quran reader

اللہ فرشتوں میں سے پیغام پہنچانے والے منتخب کرلیتا ہے اور انسانوں میں سے بھی بیشک اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 22:76 in the Quran reader

جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے وہ اس سے واقف ہے اور سب کاموں کا انجام اللہ ہی کی طرف ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَ اسْجُدُوْا وَ اعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَ افْعَلُوا الْخَیْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ۩ Open ayah 22:77 in the Quran reader

مومنو ! رکوع کرتے سجدے کرتے اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو ‘ اور نیک کام کرو تاکہ فلاح پائو۔

وَ جَاهِدُوْا فِی اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ١ؕ هُوَ اجْتَبٰىكُمْ وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ١ؕ مِلَّةَ اَبِیْكُمْ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِیْنَ١ۙ۬ مِنْ قَبْلُ وَ فِیْ هٰذَا لِیَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِیْدًا عَلَیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ١ۖۚ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اعْتَصِمُوْا بِاللّٰهِ١ؕ هُوَ مَوْلٰىكُمْ١ۚ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ۠ Open ayah 22:78 in the Quran reader

اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا جہاد کرنے کا حق ہے اس نے تم کو برگزیدہ کیا ہے اور تم پر دین کی کسی بات کی تنگی نہیں کی اور تمہارے لیے تمہارے باپ ابراہیم کا دین پسند کیا اسی نے پہلے ( یعنی پہلی کتابوں میں) تمہارا نام مسلمان رکھا تھا اس (کتاب) میں بھی یہی نام رکھا ہے تو جہاد کرو تاکہ پیغمبر تمہارے بارے میں شاہد ہوں اور تم لوگوں کے بارے میں شاہد ہو نماز قائم کرو ‘ زکوٰۃ دو اور اللہ کے دین کی رسی کو پکڑے رہو وہی تمہارا دوست ہے ‘ خوب دوست ہے اور خوب مددگار ہے۔

اللہ کی حاکمیت اور اللہ کے لیے انسان کی بندگی تشریح : اخلاقیات کا ایک بہت بڑا سبق اللہ تعالیٰ دہرا رہے ہیں۔ وہ یہ کہ مسلمان کے لیے اصول بنا دیا گیا ہے کہ ظلم و زیادتی کا جواب اتنا ہی دیں جتنی زیادتی ان پر کی گئی ہو۔ کیونکہ اللہ ظلم کو پسند نہیں کرتا اس لیے اس نے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ مظلو موں کی مدد ضرور کرتا ہے۔ یہ وعدہ اور یہ اخلاقی اصول کسی معمولی ہستی کے بنائے ہوئے نہیں بلکہ یہ اس رب العلمین کے بنائے ہوئے ہیں جس نے انسان کو پیدا کیا پھر اسکی نشوونما اور آرام و سکون کے لیے آسمانوں کو بلند کیا زمین بنائی اس میں ہر قسم کے چرند ‘ پرند ‘ حیوانات ‘ نباتات ‘ چاند، سورج، ستارے ‘ ندی نالے، دریا، سمندر ‘ پہاڑ پھول، پھل، یہ تمام چیزیں انسان کے لئے پیدا کیں اور اس میں اسے اختیار دیا پھر بھی انسان اس قدر ناشکرا ‘ جاہل اور ناعاقبت اندیش ہے کہ بجائے اللہ کا شکر ادا کرنے کے اور دوسری تیسری ایسی چیزوں کی عبادت کرتا ہے جو خود اللہ کی ہی بنائی ہوئی ہیں اور اللہ کی ہی بنائی ہوئی تقدیر اور حکم کے پابند ہیں اللہ نے ان تمام گمراہیوں اور گندگیوں سے انسان کو بچانے کے لیے فرشتوں میں سے ایک فرشتے جبرائیل (علیہ السلام) کو اپنے پیغام رسولوں تک پہنچانے کے لیے چن لیا اور اپنے بندوں میں سے مختلف بستیوں کے لیے مختلف انسانوں کو پیغمبر رسول اور نبی کی حیثیت سے چن لیا تاکہ وہ اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچائیں اور لوگوں کو ایسے ایسے اخلاقی ‘ معاشی ‘ معاشرتی اور تہذیبی اصول بتا دیں کہ لوگ اپنی زندگیاں انتہائی پاکیزہ اور بہترین طریقوں سے گزار کر آخرت میں سرخرو ہو کر جہنم کے عذاب سے بچ کر جنت کے انعامات سے مالا مال ہو سکیں۔ جیسا مذہب اسلام ہے اور اس کے اصول و ضوابط ہیں کسی بھی دوسرے مذہب کے اب تک ہوئے ہیں نہ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے مذکورہ تمام آیات میں اپنے کچھ ناموں کی وضاحت کی ہے اور اس بات کی بھی وضاحت کی ہے کہ بندہ اللہ کا نائب بنا کر زمین میں علم و ارادہ کی یک حد تک طاقت دے کر بھیجا گیا ہے۔ اس لیے اللہ فرماتا ہے کہ میں معاف کرنے والا بخشنے والا ہوں تو بندوں کو بھی معاف کرنا چاہیے ایک دوسرے کو یعنی اللہ معاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے۔ بندوں کو بھی چاہیے کہ نیکی کی راہ اختیار کریں۔ اللہ سب سے بڑا اور سب سے بلند ہے۔ اس لیے وہ انسان کو متقی اور اخلاقی کردار کی بلندیوں پر دیکھنا پسند کرتا ہے۔ اللہ مہربان اور خبردار ہے۔ انسان کا مہربان ہونا اور شیطان سے خبردار ہونا اسے پسند ہے۔ اللہ بےنیاز ہے اور تمام تعریفوں کے قابل ہے۔ انسان کو اللہ کی تعریف اور اس کی نیاز مندی میں گم ہو کر اس کی قربت اور جھوٹے خدائوں کی پناہ سے شیطان کی ترغیبات سے اپنے آپ کو بالکل دور رکھنا چاہیے۔ یہی اللہ کو پسند ہے۔ اللہ شفقت کرنے والا مہربان ہے۔ بندے کو بھی اپنی زندگی کا اصول شفقت اور مہربانی بنا لینا چاہیے۔ یہی اللہ کو پسند ہے۔ اللہ زبردست اور غالب ہے۔ سننے اور دیکھنے والا ہے۔ اس لیے ہر وقت ہر لمحہ اور ہر عمل پر سوچتے رہنا چاہیے کہ وہ مجھے دیکھ رہا ہے۔ نہ تو ہم اسکی نظر سے بچ سکتے ہیں اور نہ ہی اس کی پکڑ سے بچ سکتے ہیں اور نہ وہ بےانصافی کرے گا۔ تو جب یہ سب کچھ معلوم ہوچکا تو کیوں نہ وہی راستہ وہی اصول ‘ وہی قانون اور وہی دین اپنایا جائے۔ اور اس اللہ کی عبادت کی جائے جس نے ہمیں پیدا کیا اور جس کے پاس ہم مرنے کے بعد جائیں گے اور جو ہمیں جنت یا دوزخ میں داخل کر دے گا۔ اب کون بیوقوف ہے جو اس عارضی زندگی کے لیے کفر و شرک اور گناہوں کی زندگی کو پسند کرے گا۔ اب تو علم و حکمت اور سائنسی تجربات ‘ تحقیقات اور ایجادات حق کے راستوں کو کھول رہی ہیں جو انسانوں کو اللہ کی راہ کی طرف لے جا رہی ہیں۔ اور کفر و شرک کے پردے خود بخود چاک ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ اور مسلمانوں کی عبادات اعتقادات روز روشن کی طرح دنیا کے سامنے چلے آرہے ہیں۔ اسلام دین فطرت ہے۔ یعنی اس کا کوئی اصول نہ تو مشکل ہے اور نہ ہی ناقابل عمل ہے۔ توحید : تو انسان کو اس قدرت مضبوط خود اعتماد ‘ بےخوف اور نڈر بنا دیتی ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت توحید کے ماننے والے کو زیر نہیں کرسکتی۔ مثلاً نماز ‘ پاکیزگی ڈسپلن ‘ سکون اور اتحاد و یقین کی طرف لے جاتی ہے۔ زکوٰۃ ‘ لالچ ‘ ذخیرہ اندوزی ‘ بےرحمی اور خود غرضی سے بچا کر انسان کو بہترین انسان بناتی ہے۔ روزہ : خود پر کنٹرول ‘ صحت و صفائی روحانی اور جسمانی دونوں طرح کی نعمت کا ذریعہ ہے۔ حج : یہ آخری رکن ہے جو زندگی میں ایک دفعہ کرنے کا حکم ہے مگر یہ عبادت انسان میں اس قدر روحانی ترقی پیدا کردیتی ہے کہ بندہ اصل میں اللہ کا ہی فرمانبردار بندہ بن کر زندگی گزارنے لگتا ہے اور یوں نیابت الٰہی کا حق ادا کر کے جنت کا وارث بن جاتا ہے۔ اور سورت الحج کا لب لباب بھی یہی ہے۔ ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان (علامہ اقبال) مومن کا مطلب ہے ایک ایسا انسان جو ہر وقت حرکت و عمل میں مصروف رہتا ہے۔ کاہل اور بےکار ہو کر بیٹھتا نہیں۔ مومن کا کلام اور اس کا عمل دونوں اللہ کی ذات کا ثبوت ہوتے ہیں۔ اس کے منہ سے اللہ کے وجود کے خلاف کوئی کلمہ نہیں نکلتا۔ پھر مسلم کا کردار ‘ عمل اور عقیدہ اتنا پر اثر ہوتا ہے کہ اس کو دیکھ کر ہر کوئی اثرلیتا ہے کہ وہ اللہ کی ذات کا قائل ہوجاتا ہے یہ ہے ایک مسلم کی شان۔ الحمدللہ سورة الحج اور سترھواں پارہ بھی مکمل ہوگیا۔