Ayahs 23:1–11مؤمنوں کی صفات اور وعدہ جنت الفردوس
تشریح : یہاں پر ان سات فرائض کا ذکر کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کیے ہیں۔ اگر بندہ واقعی اپنے آقا کا نمک حلال، یعنی فرمانبردار غلام ہے تو پھر وہ اپنے مالک کے دیے گئے احکامات سے کبھی غافل نہیں ہوسکتا بلکہ ان کی بجا آوری میں ہرگز تھوڑی سی بھی غفلت یا لاپرواہی نہیں کرسکتا۔ اللہ ہمارا مالک ہے اس نے ہی ہمیں پیدا کیا ہے اسی کے پاس واپس جانا ہے۔ اسی نے ہمارے کیے گئے کاموں کا حساب لینا ہے۔ وہی اس کے بدلے میں جنت یا جہنم دے گا۔ وہی ہر وقت ہر جگہ ہر صورت میں ہمیں دیکھ رہا ہے۔ ہم اس کی نگاہ سے ہرگز چھپ نہیں سکتے۔
خلاصہ یہ ” کہ مسلم پر واجب ہے کہ جس حد تک ممکن ہو اللہ سے ڈرتا رہے جو چیزیں اللہ نے حرام قرار دی ہیں انہیں حرام سمجھے اور جو باتیں اللہ نے فرض کی ہیں ان میں اجتہاد (کوشش) کرے پھر اگر کہیں لغزش واقع ہوجائے تو سچی توبہ کرنے میں جلدی کرنا اس پر واجب ہے۔ “ از (فتاویٰ ‘ سمامۃ الشیخ/عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز)
مزید لکھتے ہیں ” نبی ﷺ نے فرمایا : اسلام ‘ اپنے سے پہلے گناہوں کو ختم کردیتا ہے اور توبہ ‘ اپنے سے پہلے گناہوں کو ختم کردیتی ہے۔
شرط صرف یہ ہے کہ توبہ بھی سچی ہو اور اسلام بھی سچا ہو کیونکہ سچ ہی ان کی روح ہے۔ اور یہ قرآن و اسلام کی سچی روح اس قدر پر اثر ‘ مضبوط اور ناقابل تسخیر ہے کہ مٹھی بھر مسلمان جو کفار کی ایذا رسانی سے بچنے کے لیے اللہ کے حکم سے مدینہ میں جا بسے تو ان کے پاس ایسی طاقت آگئی کہ انہوں نے دیکھتے ہی دیکھتے انتہائی تھوڑی سی مدت میں نہ صرف مکہ کو فتح کرلیا بلکہ دنیا کے بیشتر حصے ان کی تحویل میں آگئے۔ یہ کون لوگ تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اسلام کی روح کے ساتھ اس کو قبول کیا اس پر سختی سے پابند رہے اور کردار و افکار میں اللہ کی برہان ثابت ہوئے اسی لیے ایسے ہی لوگوں کو دنیا میں کامیابی سکون اور آخرت میں جنت الفردوس کے وارث ہونے کی خوشخبری دی گئی ہے۔ اور پھر یہ ضمانت بھی دی گئی ہے کہ ایسے لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت کے وارث ہوں گے۔ یہ وعدہ کسی معمولی ہستی کا کیا ہوا نہیں بلکہ یہ وعدہ اس اللہ عظیم و برتر کا وعدہ ہے جو خود بھی حق ہے اس کا وعدہ بھی حق ہے اس کی نشانی یہ ہے کہ اس خالق و معبود نے ہمیں پیدا کیا ہے۔ ہماری پیدائش کوئی معمولی کام نہیں۔ ہماری پیدائش کا ہلکا سا نقشہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں مدتوں پہلے بتا دیا تھا جس کو آج کے مفکر سائنسدان حضرات میڈیکل کے ماہرین بڑے فخر سے بیان کر رہے ہیں۔ اگلی آیات ملاحظہ ہوں :
Ayahs 23:12–16انسانی پیدائش کے مختلف مراحل اور قدرت کا کمال
تشریح : آج کے سائنسی تجربات اور تحقیقات انسان کی ابتدا سے انتہا تک قرآن پاک کی بیان کردہ معلومات کے عین مطابق ثابت ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹر موریس بوکائے قرآنی آیات کی روشنی میں اس تمام سلسلے کو بڑے اچھے انداز میں بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ” لفظ سُلٰلَۃِ کسی ایسی چیز کو ظاہر کرتا ہے جو کشید کی گئی ہو، یعنی جو کسی چیز کا بہترین جزو ہو۔ “ یعنی نطفہ جو مٹی سے حاصل کی گئی خوراک سے بنتا ہے۔ پھر لکھتے ہیں :
” بیضہ کا بارآور ہونا اور افزائش نسل ‘ ایک خلیے سے وجود پاتے ہیں۔ جو نہایت لمبوترا ہوتا ہے۔ یہ ایک ملی میٹر کے دس ہزارویں حصے کے برابر ہوتا ہے۔ عام حالات میں ان کروڑوں خلیات میں جو انسان کے اندر تخلیق پا کر نکلتے ہیں صرف ایک خلیہ بیضہ دان میں نفوذ (رہتا ہے) پاتا ہے۔ ان تمام میں سے بڑی تعداد پیچھے رہ جاتی ہے۔ ایک بار جب قنات البیض میں بیضہ بارآور ہوجاتا ہے تو رحم کے اندر قرار پکڑتا ہے۔ قرآن پاک میں بیضہ کی جائے قرار کو محفوظ جگہ یعنی رحم یا بچہ دانی کہا گیا ہے۔ رحم کے اندر وہ جم کر اپنی غذائیت حاصل کرتا ہے جسے جما ہوا خون کہا گیا ہے۔ لفظ ہے عَلَقَہ جمی ہوئی چیز اس کے بعد قرآن کے مطابق مضغۃ کا لفظ ہے یعنی بوٹی یعنی جنین گوشت کے لوتھڑے کی شکل سے ہو کر گزرتا ہے اس کے بعد ہڈیاں بنتی ہیں اور ان کے اوپر گوشت چڑھتا ہے۔ اور پھر ایک متناسب شکل میں صورت تیار ہوجاتی ہے۔ “ (ازبائبل قرآن اور سائنس)
بھلا یہ سب کچھ کسی انسان یا کسی بھی محقق ‘ سائنسدان یا ماہر طب کے بس میں ہے کہ یوں انسان کو بنا سکے ؟ یہ کمال تو صرف اور صرف اس بابرکت باکمال اور عظیم و کبیرباری تعالیٰ کا ہی کام ہے جو اپنے کمال میں واحد ہے اس کو اپنے کسی بھی کام میں کسی دوسرے کی مدد کی ہرگز ضرورت نہیں وہ خالق مطلق ہے۔ وہ انسان کو ایک بوند پانی سے پیدا کرتا ہے، پھر انسان دنیا میں آکر آہستہ آہستہ زندگی کے مختلف مراحل طے کرتا ہے یعنی بچہ ‘ نوجوان ‘ جوان ‘ ادھیڑ عمر اور پھر بڑھاپا۔ اس عمر کے کسی بھی حصہ میں اللہ کے حکم سے وہ مرجاتا ہے، دنیا سے رابطہ ختم ہوجاتا ہے قبر میں اس سے سوال و جواب ہوتے ہیں۔ اس کی قبر نیک ہونے کی صورت میں وسیع ہوجاتی ہے اور بد ہونے کی صورت میں تنگ ہوجاتی ہے، اگر کوئی نیک ہے تو قبر میں اس کے لیے جنت کا بچھونا اور اگر بد ہو تو جہنم کا بچھونا بچھا دیا جاتا ہے۔ یہ عالم برزخ کہلاتا ہے اور پھر اللہ کے وعدے کے مطابق قیامت کے دن اسی طرح دوبارہ اٹھا کھڑا کیا جائے گا۔ جس طرح پہلے پیدا کیا گیا۔ مگر اس کی پیدائش کا طریقہ مختلف ہوگا۔ جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” پھر قیامت کے روز اٹھا کھڑے کیے جاؤ گے۔ “ (المومنون آیت : 16 )
Ayahs 23:17–22اللہ کے رب ہونے کی نشانیاں
تشریح : یہ آیات اللہ کی بےپناہ قدرت ناقابل فہم سائنسی حقائق سے بھری پڑی ہیں۔ جیسا کہ شروع میں فرمایا ” تمہارے اوپر سات راستے بنا دیے۔ بیشمار آیات میں سات آسمانوں کا ذکر آچکا ہے۔ سائنس دان اس کی پوری طرح وضاحت تا حال نہیں کرسکے۔ ڈاکٹر ہلوک باقی صاحب کچھ اس طرح لکھتے ہیں :
” یہاں باریکی یہ ہے کہ سات آسمانوں کو سات راستے اس لیے کہا گیا ہے تاکہ ہم سات میدانوں کو باآسانی سمجھ سکیں ‘ چناچہ قرآن میں راستوں کے ذکر کے ذریعے پیمائش ‘ جسامت ‘ آسمانی فاصلے اور لامحدود رفتاروں کو بیان کیا گیا ہے۔ “
مزید لکھتے ہیں : ” ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک کوئی مادی سواری نہیں پہنچ سکتی اس کی ایک وجہ تو اس سلسلے میں رفتار کا معاملہ ہے ‘ دوسرے راستے کی مقناطیسی موجودات کو عبور نہیں کیا جاسکتا۔ ان آسمانوں تک پہنچنے کے لیے یا ان سے گزرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ جس رفتار سے سفر کیا جائے وہ روشنی کی رفتار سے بھی زیادہ ہو۔ یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ مادہ کی دنیا سے ہی نکل جانا ہوگا۔ “ (از قرآنی آیات اور سائنسی حقائق) پھر فرمایا کہ ” ہم خلق سے بیخبر نہیں ہیں۔ 17) (
یعنی یہ وسیع و عریض ناقابل فہم کائنات کس نظام ‘ ترتیب اور حکمت و انتظام سے بنائی گئی ہے اس سے صرف اللہ کی ذات ہی واقف ہے۔ وہی جانتا ہے۔ کیسے چلانا ہے اور کیا سلسلہ ہے۔ انسان کو غوروفکر کی اجازت تو بہت دفعہ دی گئی ہے۔ بلکہ اندازاً 750 آیات ایسی ہیں کہ جن میں انسان کو کائناتی مظاہر پر غوروفکر کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اسی لیے انسان ہر وقت اس کوشش میں لگا رہتا ہے کہ کسی طرح قدرت کے نظام کو سمجھ سکے۔ کبھی کبھی کسی کسی معاملہ میں سوجھ بوجھ حاصل کرلیتا ہے مگر بہت سے راز ایسے ہیں کہ جن کو سمجھ لینا اس کے بس میں نہیں۔ ہمارے چاروں طرف پھیلائے ہوئے قدرت کے کرشمے انسان کو اللہ کے وجود کو ماننے کے لیے بہت کافی ہیں۔ جیسا کہ خود انسان کی تخلیق ‘ آسمانی راستوں کی تخلیق اور اب ذکر ہو رہا ہے بارش کی کیا ذمہ داری ہے جو وہ اللہ کے حکم سے انسانوں کے فائدہ کے لیے انجام دیتی ہے۔
سائنسی دنیا میں بارش عجوبے کا درجہ رکھتی ہے۔ ڈاکٹر ہلوک باقی صاحب اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں۔
(1) بادل ایک خاص مادی ساخت ہے جو بھاپ سے بنتا ہے لیکن فوراً ہی پانی کے باریک قطروں میں تبدیل ہوجاتا ہے اس لیے عام پانی سے مختلف ہوتا ہے۔ فضائی بادل جمتے نہیں اور نہ ہی نقطہ انجماد سے نیچے زمین پر گرتے ہیں۔
(2) سمندر میں نمکین پانی بخارات کے عمل میں شامل ہو کر نمک کے قطرے بھاپ میں شامل بھی کردیتا ہے۔
(3) بادل کی تشکیل میں اندازاً ایک مکعب سینٹی میٹر میں پانی کے باریک قطرے ایک ارب کی تعداد میں ہوتے ہیں۔ بارش کے قطرے بادل میں 50 سے 500 فی مکعب سینٹی میٹر ہوتے ہیں۔
(4) پانی کا ایک قطرہ نودی حالت (Nuclear State) بن کر صفر سے چالیس ڈگری کم کی حالت کو سہار سکتا ہے اور بارش کو ایک انتہائی پیچیدہ مساوات سے پیدا کرتا ہے۔
(5) جب قطرے زمین کے نزدیک پہنچتے ہیں تو ہوائی رگڑ کے ذریعہ اس کی رفتار میں کمی آجاتی ہے اور یوں بارش ایک حلیم طریقے سے زمین پر گرتی ہے۔ یہ متوازن طریقہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے۔ زمین پر پہنچتے پہنچتے بارش کے قطرے کی رفتار اتنی کم ہوجاتی ہے جیسے پیرا شوٹ کا عمل ہوتا ہے۔ “ (قرآنی آیات اور سائنسی حقائق)
کیا بارش کا یہ ریاضیاتی حساب کتاب اللہ کی بڑائی، وحدانیت، حکمت اور موجودگی کا ایک جیتا جاگتا ثبوت نہیں ؟ کیوں نہیں کوئی انسان اللہ کے سوا پانی کا یہ بندوبست ہرگز نہیں کرسکتا۔ پہلے تو پانی کا اتنا بڑا ذخیرہ سمندر میں نمک ملا کر محفوظ کردیا کہ پانی خراب نہ ہو۔ نمک بہت بڑا ذریعہ ہے کسی چیز کو خراب ہونے سے بچانے کا، پھر اس پانی کو مطلوبہ وقت پر مطلوبہ مقدار میں اور مطلوبہ جگہ پر ہوائوں کے ذریعہ بادلوں کی مشکوں میں بھر کر پہنچا دینا۔ پانی کی ضرورت انسان کو اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ بیان سے باہر ہے۔ صرف انسان کو ہی نہیں تمام مخلوقات حیوانات جمادات اور نباتات سب پانی ہی کی وجہ سے زندہ رہتے ہیں۔ سبحان اللہ اس احسن الخالقین کی جس قدر تعریف کی جائے کم ہے اللہ اکبر۔ کون ہے جو کسی صورت بھی ذرہ برابر اس کی برابری کا سوچ بھی سکے۔ وہ اکیلا ہے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوجاتی۔ پھر پانی کو زمین کے اندر ‘ پہاڑوں کی قدرتی قاریزوں میں، دریائوں ‘ ندی نالوں اور جوہڑوں میں پہاڑوں کے اوپر برف کی موٹی تہوں کی صورت میں پانی کا ذخیرہ اس قدر اللہ تعالیٰ کردیتا ہے کہ انسان اس کو حاصل کرتا رہتا ہے۔ استعمال کرتا ہے اور یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اگر وہ چاہے تو پانی کے سلسلے کو بند کر دے یا تھوڑا کر دے یا زیادہ کر دے۔ یہ تینوں باتیں اس کے اختیار میں ہیں۔ اس کے بعد ایک اور فضل اللہ کا یہ ہے کہ وہ انسان کے لیے بہترین باغات پھلوں سے بھرے ہوئے اگاتا ہے خاص طور سے کھجور انگور اور زیتون کا ذکر کیا گیا ہے۔ زیتون کی خاصیت یہ ہے کہ یہ کوہ طور پر بکثرت پیدا ہوتا ہے اور یہ بیشمار طریقوں سے کام میں لایا جاتا ہے، پھر چوپاؤں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہیں ان کی ضرورت انسان کو کس حد تک ہوتی ہے۔ سب جانتے ہیں۔ پھر کشتیاں اور چوپائے سواری کے کام بھی آتے ہیں۔ یہ سب کیا ہے ؟ اللہ کی قدرت اس کے موجود ہونے کے اسباب ہیں۔ یہ سب تو انسانی پیدائش اور پھر اس کی جسمانی نشوونما کے لیے کیا گیا ہے اور اب ذکر ہوتا ہے انسان کی روحانی تربیت کا تو وہ رسولوں ‘ نبیوں اور پیغمبروں کے ذریعہ سے ہر زمانے میں اللہ بندوبست کرتا رہا ہے۔ اللہ نے کبھی بھی اپنے بندوں کو بےیارو مددگار نہیں چھوڑا۔ پیارے نبی سیدنا محمد ﷺ کو تسلی دینے کے لیے بہت سے انبیاء کا ذکر کیا جا رہا ہے۔