23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 23:23–52

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:23 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے ان سے کہا اے قوم ! اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں کیا تم ڈرتے نہیں۔

فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً١ۖۚ مَّا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَۚ Open ayah 23:24 in the Quran reader

تو ان کی قوم کے کافر سردار کہنے لگے ” یہ تو تم جیسا ہی آدمی ہے تم پر بڑائی حاصل کرنا چاہتا ہے، اگر اللہ چاہتا تو فرشتے اتاردیتا۔ ہم نے اپنے باپ دادا میں تو یہ بات پہلے کبھی سنی نہیں۔

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ فَتَرَبَّصُوْا بِهٖ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:25 in the Quran reader

اس آدمی کو تو دیوانگی کی بیماری ہے تو اس کے بارے میں کچھ دیر انتظار کرو۔

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:26 in the Quran reader

نوح نے کہا ” پروردگار انہوں نے مجھے جھٹلایا ہے تو میری مدد کر۔

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا فَاِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ فَاسْلُكْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 23:27 in the Quran reader

پس ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے سامنے ہمارے حکم سے ایک کشتی بنائو پھر جب ہمارا حکم آپہنچے اور (تنور پانی سے بھر کر) جوش مارنے لگے تو سب قسم کے حیوانات میں سے نر و مادہ جوڑا جوڑا کشتی میں بٹھا لو اور اپنے گھر والوں کو بھی سوائے ان کے جن کی ہلاکت کا حکم پہلے سے ہوچکا ہے۔ اور ظالموں کے بارے میں ہم سے کچھ نہ کہنا وہ ضرور ڈبو دیے جائیں گے۔

فَاِذَا اسْتَوَیْتَ اَنْتَ وَ مَنْ مَّعَكَ عَلَى الْفُلْكِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:28 in the Quran reader

اور جب تم اور تمہارے ساتھی کشتی میں بیٹھ جاؤ تو ( اللہ کا شکر کرتے ہوئے) کہنا کہ سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے ہمیں ظالموں سے نجات بخشی۔

وَ قُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 23:29 in the Quran reader

اور یہ بھی دعا کرنا کہ اے رب ! ہمارے ہم کو مبارک جگہ پر اتارنا اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ وَّ اِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِیْنَ Open ayah 23:30 in the Quran reader

بیشک اس میں نشانیاں ہیں اور ہمیں تو آزمائش کرنی تھی۔

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَۚ Open ayah 23:31 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ہم نے ایک جماعت اور پیدا کی۔

فَاَرْسَلْنَا فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 23:32 in the Quran reader

اور انہی میں سے ایک پیغمبر بھیجا جس نے ان سے کہا کہ ” اللہ ہی کی عبادت کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں تو کیا تم ڈرتے نہیں “ ؟۔

وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ الْاٰخِرَةِ وَ اَتْرَفْنٰهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یَاْكُلُ مِمَّا تَاْكُلُوْنَ مِنْهُ وَ یَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:33 in the Quran reader

تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے اور آخرت کے آنے کو جھوٹ سمجھتے تھے اور دنیا کی زندگی میں ہم نے ان کو آسودگی دے رکھی تھی کہنے لگے کہ ” یہ تو تم ہی جیسا آدمی ہے جیسا کھانا تم کھاتے ہو اسی طرح کا یہ بھی کھاتا ہے اور جو پانی تم پیتے ہو اسی طرح کا یہ بھی پیتا ہے۔

وَ لَئِنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَكُمْ اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَۙ Open ayah 23:34 in the Quran reader

اور اگر تم نے اپنے ہی جیسے آدمی کا کہنا مان لیا تو اس وقت تم گھاٹے میں پڑگئے۔

اَیَعِدُكُمْ اَنَّكُمْ اِذَا مِتُّمْ وَ كُنْتُمْ تُرَابًا وَّ عِظَامًا اَنَّكُمْ مُّخْرَجُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:35 in the Quran reader

کیا یہ تم سے یہ کہتا ہے کہ جب تم مرجاؤ گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجاؤ گے تو پھر تم زندہ کیے جاؤ گے۔

هَیْهَاتَ هَیْهَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:36 in the Quran reader

دور ہے بہت دور جو تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔

اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ۪ۙ Open ayah 23:37 in the Quran reader

زندگی تو یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے کہ اسی میں ہم مرتے اور جیتے ہیں اور ہم دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے۔

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلُ اِ۟فْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا وَّ مَا نَحْنُ لَهٗ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 23:38 in the Quran reader

یہ تو ایک ایسا آدمی ہے جس نے اللہ پر جھوٹ بہتان لگایا ہے اور ہم اس کو ماننے والے نہیں۔

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:39 in the Quran reader

پیغمبر نے کہا ” اے رب ! انہوں نے مجھے جھوٹا سمجھا ہے تو میری مدد کر۔

قَالَ عَمَّا قَلِیْلٍ لَّیُصْبِحُنَّ نٰدِمِیْنَۚ Open ayah 23:40 in the Quran reader

فرمایا کہ ” یہ تھوڑے ہی عرصہ میں پشیمان ہو کر رہ جائیں گے۔

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنٰهُمْ غُثَآءً١ۚ فَبُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:41 in the Quran reader

پھر ان کو چنگھاڑ نے آپکڑا وعدہ برحق کے مطابق تو ہم نے ان کو کوڑا کرکٹ بنا دیا پس ظالم لوگوں پر لعنت ہے۔

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قُرُوْنًا اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 23:42 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ہم نے اور جماعتیں پیدا کیں۔

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَؕ Open ayah 23:43 in the Quran reader

کوئی جماعت اپنے وقت سے نہ آگے جاسکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے۔

ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا١ؕ كُلَّمَا جَآءَ اُمَّةً رَّسُوْلُهَا كَذَّبُوْهُ فَاَتْبَعْنَا بَعْضَهُمْ بَعْضًا وَّ جَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ١ۚ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 23:44 in the Quran reader

پھر ہم پے در پے اپنے پیغمبر بھیجتے رہے جب بھی کسی امت کے پاس اس کا پیغمبر آتا تھا تو وہ اسے جھٹلاتے تھے تو ہم بھی بعض کو بعض کے پیچھے ہلاک کرتے اور ان پر عذاب لاتے رہے اور ان کی کہانیاں بناتے رہے پس جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان پر لعنت۔

ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى وَ اَخَاهُ هٰرُوْنَ١ۙ۬ بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 23:45 in the Quran reader

پھر ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیاں اور کھلی سند دے کر بھیجا۔

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا عَالِیْنَۚ Open ayah 23:46 in the Quran reader

فرعون اور اس کی جماعت کی طرف تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ سرکش لوگ تھے۔

فَقَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَ قَوْمُهُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَۚ Open ayah 23:47 in the Quran reader

کہنے لگے ” کیا ہم اپنے جیسے ان دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں اور ان کی قوم کے لوگ ہمارے خدمت گار ہیں۔

فَكَذَّبُوْهُمَا فَكَانُوْا مِنَ الْمُهْلَكِیْنَ Open ayah 23:48 in the Quran reader

تو ان لوگوں نے ان کو جھٹلایا آخر ہلاک کردیے گئے۔

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 23:49 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی تاکہ وہ لوگ ہدایت پائیں۔

وَ جَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗۤ اٰیَةً وَّ اٰوَیْنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِیْنٍ۠ Open ayah 23:50 in the Quran reader

اور ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ اور ان کی ماں کو اپنی نشانی بنایا تھا اور ان کو ایک اونچی جگہ پر جو رہنے کے لائق تھی اور جہاں صاف پانی جاری تھا پناہ دی تھی۔

یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌؕ Open ayah 23:51 in the Quran reader

اے رسولو ! پاکیزہ چیزیں کھائو اور نیک عمل کرو جو عمل تم کرتے ہو میں ان سے واقف ہوں۔

وَ اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 23:52 in the Quran reader

اور یہ تمہاری جماعت حقیقت میں ایک ہی جماعت ہے اور میں تمہارا رب ہوں تو مجھ سے ہی ڈرو۔

سیدنا نوح، موسیٰ ، ہارون، عیسیٰ (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کے حالات تشریح : ان آیات میں اولوالعزم اور انتہائی فضیلت والے انبیاء اور ان کی قوموں کے حالات کا ذکر فرما کر اہل مکہ کو خبردار کیا جارہا ہے کہ تم سے پہلے بھی تمہاری طرح کے نافرمان لوگ گزر چکے ہیں۔ تو ان کا انجام تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہ ہوا۔ اور آنحضرت ﷺ کو بھی ان پیغمبروں کی پریشانیوں اور آزمائشوں سے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ کفار مکہ اگر آپ کو جھٹلا رہے ہیں یا سرداران قریش آپ کی شخصیت اور نبوت پر اعتراضات کر رہے ہیں تو یہ کوئی عجیب بات نہیں تمام قومیں جو آپ سے پہلے گزر چکی ہیں انہوں نے اور ان کے سرداروں نے اپنی سرداری اور اپنے پرانے رسم و رواج اور اعتقادات اور مشرکانہ عبادات کی خاطر رسولوں پر ایسے ہی اعتراضات کیے تھے۔ یہ کہ یہ تو ہم جیسا ہی انسان ہے فرشتہ ہونا چاہیے تھا اور پھر یہ کہ اس کی تو کوئی مالی حیثیت نہیں وغیرہ وغیرہ۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے سیدنا نوح (علیہ السلام) کا ذکر کیا گیا ہے۔ سیدنا نوح (علیہ السلام) کا قصہ سورة الاعراف ‘ یونس ‘ ھود ‘ بنی اسرائیل اور الانبیاء میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ اسی طرح دوسرے کئی انبیاء کا ذکر کیا گیا ہے سب نے یہی اعتراضات برداشت کیے اور آخر ان کی قوموں کو سزا کے طور پر تباہ و برباد کردیا گیا۔ ان رسولوں نے بھی توحید اور آخرت کی ہی یقین دہانی کروائی جس کو بہت کم لوگوں نے قبول کیا ان کو آسمانی کتابیں بھی دی گئیں جن کو انہوں نے اپنے مفاد کے مطابق ردو بدل کر کے کچھ کا کچھ کردیا ہٹ دھرم ‘ ضدی ‘ نافرمان اور شر پسند لوگ آج بھی موجود ہیں۔ اہل عرب تو خیر جاہل لوگ تھے آج کے زمانے میں بڑے پڑھے لکھے سائنسدان علم کی وجہ سے اللہ کو پہچان چکے ہیں اور ان کو کئی ثبوت مل چکے ہیں کہ انسان دوبارہ ضرور پیدا ہوگا۔ انسان اور اس کی اہمیت بھی جان چکے ہیں گویا آخرت کا یقین کرچکے ہیں مگر ایمان لانے کو اس لیے تیار نہیں کہ ہمارے آباواجداد نے یہ تعلیم نہیں دی اس لیے لکیر کے فقیر بنے بیٹھے ہیں۔ دیکھا جائے تو بنیادی تعلیم ہر مذہب ہر پیغمبر نے یہی دی ہے کہ اللہ ایک ہے اس نے انسان کو نہ تو بےضرورت پیدا کیا ہے اور نہ ہی بےسہارا۔ اللہ نے اس کو پیدا کیا ہے اور اس کو ہر طرح سے ہر قسم کی نعمتوں سے مالا مال کیا ہے۔ پھر سیدھی راہ سمجھانے کے لیے اور پرسکون اور آرام دہ زندگی گزارنے کے لیے رہنما رسول اور پیغمبر آسمانی کتابوں کے ساتھ بھیج دیے۔ اب یہ انسانوں کی بدنصیبی ہے کہ وہ ان کو بجائے نعمت سمجھنے کے ان کو تکالیف دیں یا ان کی نافرمانی کریں، تو پھر ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے بڑی سخت سزائوں کا اعلان کیا ہوا ہے جو قیامت کے دن ملیں گی۔ اس پر پہلے بھی اور آج بھی یہی اعتراض مشرکین کی طرف سے ہے کہ یہ نہیں ہوسکتا۔ پھر کئی پڑھے لکھے کافر یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ ” کیا مصیبت ہے یہ نیکی ‘ بدی ‘ موت ‘ حیات ‘ سوال جواب یہ سب کیا ہے ؟ اللہ ہمیں آزادی کیوں نہیں دے دیتا کہ زندگی گزاریں اور بس عیش کر کے مرجائیں۔ انسان کی پیدائش، زمین کی نیابت اور اللہ کی نعمتیں یہ سب عطا فرما کر کیا انسان کو بےمقصد پیدا کردیا گیا ہے ؟ ہرگز نہیں بلکہ پوری کائنات انسان کے لیے ہی بنائی گئی ہے اور پھر اس کو انسان کے لیے مسخر بھی کردیا گیا ہے۔ کائنات کا ذرہ ذرہ بامقصد ہے ہر چیز آپس میں مضبوط ‘ انتہائی شاندار طریقہ سے جڑی ہوئی ہے۔ یہاں کوئی چیز بےکار اور بےمقصد موجود نہیں تو پھر بھلا انسان کیوں بےمقصد ہوگیا۔ اصل حقیقت یہی ہے کہ انسان اس مادی زندگی میں اللہ تعالیٰ اور اپنے پیدا کرنے والے کا بہترین بندہ اور غلام بن کر رہے۔ بامقصد زندگی گزارے اور پھر اس دنیا کی موت سے مل کر ایک نئی زندگی کا آغاز کرے اصل میں یہاں کی موت صرف جسمانی موت ہوتی ہے روح تو ہرگز نہیں مرتی وہ تو پہلے بھی موجود تھی اور مرجانے کے بعد بھی موجود رہتی ہے۔ اس جسم کے ساتھ جو زندگی ملتی ہے وہ تو صرف ایک امتحانی کمرہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ پرچہ حل کرنے کے لیے آسمانی کتابیں اور اصول استاد کے طور پر انسان کو دیے گئے ہیں۔ یہ سلسلہ آج سے نہیں بلکہ انسان کے پیدا ہوتے ہی یہ سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ شیطان بھی ساتھ ہی پیدا ہوگیا تھا اور بندوں کو گمراہ کرنے والے کام پر لگ گیا تھا۔ اصل میں انسان کو نفس اور روح کے درمیان فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ روح نیکی کی طرف اور نفس برائی کی طرف کھینچتا ہے۔ روح یعنی ضمیر انسان کے اوپر ایک چوکیدار کی حیثیت رکھتی ہے جو انسان کو برائی پر متنبہ اور باخبر کرتا ہے جو شخص ضمیر کی بات تسلیم کرلے وہ ہر صورت اللہ کی رضا، کتاب کی نصیحت اور پیغمبر کی پکار کو دل و جان سے قبول کرتا ہے اور یوں جنت کا وارث اور دنیا میں پر سکون ہوجاتا ہے۔ اللہ اس سے راضی اور وہ اللہ سے راضی۔ یہ نعمت اللہ تعالیٰ سب کو دے۔ آمین۔ اسی مقصد کے لیے ہمیشہ پیغمبر بھیجے گئے۔ نبی اکرم ﷺ پوری دنیا کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجے گئے ہیں اور آخری نبی ہیں۔ جبکہ پہلے تمام نبی کسی خاص قوم ‘ وقت یا ملک کے لیے بھیجے گئے مگر تعلیم سب کی ایک ہی تھی۔ توحید اور آخرت پر ایمان۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ” پاکیزہ چیزیں کھائو ‘ نیک عمل کرو ‘ میں تمہارے اعمال سے واقف ہوں۔ اور یہ تمہاری جماعت حقیقت میں ایک ہی جماعت ہے ‘ اور میں تمہارا رب ہوں تو مجھ سے ہی ڈرو۔ (سورۃ المومنون آیات 52 - 51 ) پھر اللہ کا یہ دستور بھی ہے کہ قوموں کے عروج وزوال سے دنیا کا نظام بہتر طریقے سے چلتا رہتا ہے۔ ورنہ تو دنیا ظلم و ناانصافی کا گڑھ بن جائے۔ ہر جماعت کو اللہ تعالیٰ کسی نہ کسی طرح آزماتا ہے۔ کسی کو عیش و آرام دے کر اور کسی کو غربت و ناداری دے کر۔ مقبول و کامیاب صرف وہی جماعتیں یا قومیں ہوتی ہیں جوہر حال میں اللہ کی شکر گزار اور اللہ پر مکمل طور سے بھروسہ کرنے والی نیک اطوار قومیں ہوتی ہیں ایسی قومیں جو جینے کے لیے نام اور مرنے کے لیے مقام پیدا کرسکتی ہیں۔
Ayahs 23:53–56

فَتَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ زُبُرًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 23:53 in the Quran reader

پھر انہوں نے آپس میں اپنے کام کو متفرق کردیا اور ٹکڑے ٹکڑے کردیا جو چیز جس فرقے کے پاس ہے وہ اس سے خوش ہو رہا ہے۔

فَذَرْهُمْ فِیْ غَمْرَتِهِمْ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:54 in the Quran reader

تو ان کو ایک مدت تک ان کی غفلت میں رہنے دو ۔

اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّ بَنِیْنَۙ Open ayah 23:55 in the Quran reader

کیا لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم جو دنیا میں ان کو مال اور بیٹوں سے مدد دیتے ہیں۔

نُسَارِعُ لَهُمْ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 23:56 in the Quran reader

تو اس سے ان کی بھلائی میں جلدی کر رہے ہیں ؟ نہیں ! بلکہ یہ سمجھتے ہی نہیں۔

فرقہ بندی کا وبال تشریح : جیسا کہ کئی مرتبہ بتایا جا چکا ہے کہ انسان تخلیق کے لحاظ سے جسمانی طور پر اور روحانی طور پر ایک ہی بناوٹ سے پیدا کیا گیا ہے مگر لوگوں نے اپنی طرف سے بیشمار نئے نئے روحانی راستے نکال لیے ہیں، یعنی کوئی رسولوں کو ہی پوجنے لگا، کوئی سورج، چاند، ستارے، سانپ، گائے، پتھر کو اللہ بنا بیٹھا۔ کسی نے قبروں اور مزاروں کو پوجنا شروع کردیا اور پھر اپنے ان غلط عقیدوں پر اس قدر سختی سے قائم ہے کہ اس کی مت مار دی گئی ہے۔ شرک کی غلاظت میں اس قدر ڈوب چکے ہیں کہ ان کے دل توحید کو ہرگز ماننے کو تیار نہیں ایسے ہی لوگوں کے لیے کہا گیا ہے کہ آنکھیں ہیں مگر حق کو دیکھتی نہیں کان ہیں مگر حق کو سنتے نہیں ‘ زبان ہے مگر حق کو بیان یا اقرار نہیں کرتی یعنی یہ لوگ اپنے بنائے ہوئے غلط عقیدوں پر اس مضبوطی سے ڈٹے ہوئے ہیں کہ حق کی طرف سے یہ گونگے اور بہرے ہوچکے ہیں تو ایسے ہی لوگوں کے لیے آنحضرت ﷺ کو کہا گیا ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ اور کڑھنے کی ضرورت نہیں بلکہ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دو اب اللہ ہی ان سے سمجھ لے گا۔ باقی رہا نعمتوں کا تو اللہ خالق کل ہے اس کی عطا سب کے لیے برابر ہے وہ مشرک کافر اور مسلم سب کو نعمتیں عطا کرتا ہے اور انہی نعمتوں سے ہی تو وہ انسانوں کو آزماتا ہے۔ کون شکر ادا کرتے ہوئے رب کے سامنے جھکتا ہے اور کون غرور میں اکڑ کر اللہ سے غافل ہوجاتا ہے۔ اگلی آیات میں بھلے لوگوں کا ذکر ہے۔
Ayahs 23:57–61

اِنَّ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ خَشْیَةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۙ Open ayah 23:57 in the Quran reader

اور جو اپنے رب کے خوف سے ڈرتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:58 in the Quran reader

اور جو اپنے رب کی آیتوں پر ایمان لاتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِرَبِّهِمْ لَا یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 23:59 in the Quran reader

اور جو اپنے رب کے ساتھ شرک نہیں کرتے۔

وَ الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَۙ Open ayah 23:60 in the Quran reader

اور جو دے سکتے ہیں دیتے ہیں اور ان کے دل اس بات سے ڈرتے رہتے ہیں کہ ان کو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

اُولٰٓئِكَ یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ هُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ Open ayah 23:61 in the Quran reader

یہی لوگ نیکیوں میں جلدی کرتے اور یہی ان سب پر آگے بڑھنے والے ہیں۔

نیک لوگوں کی صفات تشریح : مومن ‘ نیک اور مسلمان کی تعریف میں چھ صفتیں بتائی ہیں۔ اور خوف کی تعریف یہ ہے کہ ایک خوف ہوتا ہے سانپ ‘ بچھو ‘ چور ‘ ڈاکو سے مگر اللہ سے ڈرنا ایسا کہ جیسے مہربان ماں سے ڈرنا۔ ایسے ہی لوگوں کا ہر سانس ہر قدم اور ہر عمل نیکیوں میں لکھا جاتا ہے اور یہ بھلائیاں حاصل کرنے میں سستی نہیں کرتے۔ اسی لیے وہ دین کے کاموں میں سب سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔