23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 23:62–77

وَ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا وَ لَدَیْنَا كِتٰبٌ یَّنْطِقُ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 23:62 in the Quran reader

اور ہم کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے اور ہمارے پاس کتاب ہے جو سچ سچ کہہ دیتی ہے اور ان لوگوں پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

بَلْ قُلُوْبُهُمْ فِیْ غَمْرَةٍ مِّنْ هٰذَا وَ لَهُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِكَ هُمْ لَهَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 23:63 in the Quran reader

مگر ان کے دل ان باتوں کی طرف سے غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور ان کے سوا اور اعمال بھی ہیں جو یہ کرتے رہتے ہیں۔

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذْنَا مُتْرَفِیْهِمْ بِالْعَذَابِ اِذَا هُمْ یَجْئَرُوْنَؕ Open ayah 23:64 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہم نے ان میں سے آسودہ حال لوگوں کو پکڑ لیا تو وہ اس وقت تلملا اٹھیں گے۔

لَا تَجْئَرُوا الْیَوْمَ١۫ اِنَّكُمْ مِّنَّا لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 23:65 in the Quran reader

آج مت تلملائو بیشک آج تم مدد نہیں کیے جاؤ گے۔

قَدْ كَانَتْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ تَنْكِصُوْنَۙ Open ayah 23:66 in the Quran reader

میری آیتیں تم کو پڑھ کر سنائی جاتی تھیں اور تم الٹے پائوں پھر پھرجاتے تھے۔

مُسْتَكْبِرِیْنَ١ۖۗ بِهٖ سٰمِرًا تَهْجُرُوْنَ Open ayah 23:67 in the Quran reader

ان سے سر کشی کرتے ‘ کہانیوں میں مشغول ہوتے اور بیہودہ باتیں کرتے تھے

اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآءَهُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآءَهُمُ الْاَوَّلِیْنَ٘ Open ayah 23:68 in the Quran reader

کیا انہوں نے اس کلام پر غور نہیں کیا یا ان کے پاس کوئی ایسی چیز آئی ہے جو ان کے باپ دادا کے پاس نہیں آئی تھی۔

اَمْ لَمْ یَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ فَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ٘ Open ayah 23:69 in the Quran reader

یا یہ اپنے پیغمبر کو جانتے نہیں اس لیے ان کو مانتے نہیں۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ وَ اَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ Open ayah 23:70 in the Quran reader

کیا یہ کہتے ہیں کہ اسے دیوانگی ہے ؟ ایسا نہیں بلکہ وہ ان کے پاس حق کو لے کر آئے ہیں اور ان میں سے اکثر حق کو ناپسند کرتے ہیں۔

وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَؕ Open ayah 23:71 in the Quran reader

اور اگر حق ان کی خواہشات پر چلے تو آسمان اور زمین جو کچھ ان میں ہیں سب خراب ہوجائے بلکہ ہم نے ان کے پاس ان کی نصیحت پہنچا دی ہے اور وہ اس نصیحت سے منہ پھیر رہے ہیں۔

اَمْ تَسْئَلُهُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّكَ خَیْرٌ١ۖۗ وَّ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 23:72 in the Quran reader

کیا تم ان سے نصیحت کے بدلے میں کچھ مانگتے ہو ؟ تیرے رب کا دیا ہوا مال بہت اچھا ہے اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔

وَ اِنَّكَ لَتَدْعُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 23:73 in the Quran reader

اور تم تو ان کو سیدھے رستے کی طرف بلاتے ہو۔

وَ اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰكِبُوْنَ Open ayah 23:74 in the Quran reader

اور جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے راستے سے ٹیڑھے مڑ گئے ہیں۔

وَ لَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَ كَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّلَجُّوْا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 23:75 in the Quran reader

اور اگر ہم ان پر رحم کریں اور جو تکلیف انہیں پہنچے دور کردیں تو پھر بھی بھٹکتے ہوئے اپنی شرارت میں لگے رہیں گے۔

وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 23:76 in the Quran reader

اور ہم نے انہیں عذاب میں پکڑ لیا تھا پھر نہ انہوں نے اپنے رب کے آگے عاجزی کی اور نہ گڑ گڑائے۔

حَتّٰۤى اِذَا فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِیْدٍ اِذَا هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَ۠ Open ayah 23:77 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہم ان پر ایک سخت عذاب کا دروازہ کھول دیں گے تب وہ ناامید ہوجائیں گے۔

اللہ رحیم بھی ہے اور حساب لینے والا بھی ہے تشریح : یہ آیات بڑی معنی خیز ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ یقین دلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ احکامات انسان کے لیے نازل کیے گئے ہیں چاہے وہ دین سے تعلق رکھتے ہوں ایمان سے ‘ وحی سے انسانی زندگی سے ‘ عبادات اور عملیات سے تعلق رکھتے ہوں سب ہی بےحد آسان فائدہ مند اور معمولات انسانی سے مطابقت رکھنے والے ہیں۔ کوئی بھی ایسا فریضہ یا اصول نافذ نہیں کیا گیا جس کو پورا کرنا انسان کے لیے مشکل یا ناممکن ہو یا نقصان دہ ہو۔ اسی لیے بار بار کہا گیا ہے کہ تمام مذاہب سے زیادہ آسان اور معقول مذہب اسلام ہے۔ جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس بات کا ثبوت ہر جگہ ملتا ہے کہ مسلمانوں نے قرآن و حدیث کی برکت سے ہی دنیا کے بڑے بڑے حکمرانوں کو اور سخت دل انسانوں کو فتح کرلیا۔ سب سے بڑی مثال تو ہمارے سامنے سیدنا عمر ؓ کی ہی موجود ہے کیسے پتھر دل انسان قرآنی آیات سن کر موم ہوگئے اور اسلام قبول کرلیا۔ قرآن پاک کی تعلیمات نے کیسے کیسے بلند پایہ سائنسدان ‘ ڈاکٹر ‘ ماہر فلکیات غرض ہر میدان میں مسلمان نمایاں ‘ کامیاب اور قابل رشک شخصیات کی صورت میں دکھائی دیتے ہیں پیدا کیے ہیں۔ یہ اس آسان مذہب کی ہی برکات تھیں کہ عرب کے بدو دنیا کے سردار بنے۔ اس سے بڑی دلیل اور کیا ہوگی کہ آج بہترین معبود الہ العلمین بہترین رسول سیدنا محمد ﷺ بہترین کتاب قرآن پاک اور بہترین امت ‘ امت محمدیہ ہے۔ کیوں نہ ہو اللہ ہی مالک و خالق ہے ہر ظاہر چھپی ہوئی اور ہونے والی بات سے وہ واقف ہے اسی لیے رسول اور کتاب کے ذریعہ سے تمام لوگوں کو آنے والے وقت کے بارے میں خوب وضاحت سے بتا دیا گیا ہے کہ جو رسول کو جھٹلاتے ہیں مال و اولاد میں مست ہو کر اللہ رسول اور اس کے احکامات سے منہ موڑتے ہیں۔ ان کو خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ان کا ایک ایک عمل اللہ کے کمپیوٹر میں باقاعدہ موجود ہے اور جب ان کو بدلہ دیا جائے گا جو کہ ضرور دیا جائے گا تو پھر وہ واویلا مچائیں گے جو کہ بےکار ہوگا۔ کیونکہ وہ تو صرف رزلٹ کا وقت ہوگا امتحان دینے کا پرچہ حل کرنے کا وقت تو دنیا کی زندگی ہے جو گزر چکی ہوگی۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مصیبت اور راحت میں اللہ کا شکر اور ذکر کرو۔ کیونکہ جب ” ہم ان پر سخت عذاب کا دروازہ کھول دیں گے تب وہ ناامید ہوجائیں گے۔ “ (77 آیت) اسی لیے تو کہتے ہیں کہ موت کی آرزو نہ کرو مگر موت کو ہر وقت یا درکھو۔ الٰہی ! ہمارے دلوں کو پرہیزگاری دے ‘ ہمارے دلوں کو پاک کر دے ‘ تو ہی سب سے بڑھ کر انہیں پاک بنا سکتا ہے اور تو ہی ہماری جانوں کا والیو کار ساز ہے۔ یا اللہ تو ہمیں ان تمام گمراہیوں سے بچائے رکھنا جن میں کفار مکہ ڈوب چکے تھے۔ دراصل سرکش ‘ ہٹ دھرم اور نافرمان لوگ ہر زمانے میں موجود رہے ہیں آج کا زمانہ بھی ایسے لوگوں سے خالی نہیں۔ جس طرح اہل مکہ شرک کرتے تھے آج کے نام نہاد مسلمان بھی شرک میں ڈوبے ہوئے ہیں، عرب کے مشرکین بتوں کو پوجتے تھے آج کے مشرک قبروں اور مزاروں کو پوجتے ہیں جو سب کچھ جانتے ہیں مانتے ہیں اور سمجھتے بھی ہیں مگر ایمان نہیں لاتے تو ایسے ہی لوگوں کے لیے کہا جاتا ہے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ اور ایسے لوگ واقعی بڑے بدنصیب لوگ ہوتے ہیں۔ حالانکہ صرف اپنے اعضا کو ہی اگر ہم غور سے دیکھیں تو اللہ کی ربوبیت اور توحید سمجھ میں آسکتی ہے۔
Ayahs 23:78–80

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 23:78 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے تمہارے کان ‘ آنکھیں اور دل بنائے لیکن تم کم شکر گزرای کرتے ہو۔

وَ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 23:79 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں پیدا کیا اور اسی کی طرف تم جمع کیے جاؤ گے۔

وَ هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ لَهُ اخْتِلَافُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 23:80 in the Quran reader

اور وہی ہے جو زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے۔ رات اور دن کا بدلتے رہنا اسی کا کام ہے کیا تم سمجھتے نہیں۔

اللہ کی بہترین تخلیق انسان تشریح : عقیدہ توحید کی بڑی کھلی دلیل ان آیات میں ملتی ہے۔ اسی موضوع کے بارے میں انگلستان کا ایک فاضل ڈاکٹر اپر سولڈ اس طرح لکھتا ہے :” اس کائنات میں نظم و ترتیب کے یہ حیرت انگیز مظاہرے کسی حادثے یا اتفاق کا نتیجہ نہیں ہیں بلکہ ایک بےمثل خالق اور عظیم مدبر کی تخلیق ہیں جب میں نے سائنس کا مطالعہ شروع کیا تو آغاز میں یہ خیال تھا کہ سائنس بہت جلد عقل و شعور کے سرچشموں کے متعلق مکمل علم حاصل کرلے گی ‘ لیکن جوں جوں میرے علم میں اضافہ ہوتا گیا یہ حقیقت بھی مجھ پر منکشف ہوتی گئی کہ انسانی علم ان ماورائی (چھپے ہوئے) حقائق کی ابجد سے بھی واقف نہیں۔ “ ( از خدا موجود ہے صفحہ 2 ) اللہ تعالیٰ نے چودہ سو سال پہلے انسانی اعضاء کان ‘ آنکھیں اور دل پھر انسان کی زندگی موت ‘ کائنات کا نظام دن رات کا ردو بدل بیان کردیا ہے کہ ان کے ذریعے اللہ کو ڈھونڈ لو۔ آج کا مفکر ان تمام چیزوں پر غور و فکر کر رہا ہے۔ کچھ تو معلوم کرچکا اور بہت کچھ ابھی جانناباقی ہے۔ پھر آئندہ کا راز بھی بتا دیا کہ مرنے کے بعد تم ختم نہیں ہوجاؤ گے بلکہ ایک نئی زندگی کا آغاز ہوجائے گا اور وہ ہے آخرت کی زندگی۔ پھر اللہ سوال کرتا ہے ” کیا تم سمجھتے نہیں۔
Ayahs 23:81–83

بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 23:81 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ جو بات اگلے کافر کہتے تھے اسیطرح کی بات یہ کہتے ہیں۔

قَالُوْۤا ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ Open ayah 23:82 in the Quran reader

کہتے ہیں کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہم پھر اٹھائے جائیں گے۔

لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا هٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 23:83 in the Quran reader

یہ وعدہ ہم سے اور ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا سے بھی ہوتا چلا آیا ہے۔ یہ کچھ بھی نہیں بلکہ صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔

کفار کا عقیدہ آخرت سے انکار تشریح : کفار کی شروع دن سے بس ایک ہی رٹ ہے نہ اللہ کو مانیں نہ رسول کو نہ کتاب کو اور نہ آخرت کو لہٰذا اللہ نے فرمایا : ملاحظہ ہوں اگلی آیات۔
Ayahs 23:84–90

قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:84 in the Quran reader

فرمادیں کہ اگر تم جانتے ہو تو بتائو کہ زمین اور جو کچھ زمین میں ہے سب کس کا ہے ؟

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 23:85 in the Quran reader

جھٹ بول اٹھیں گے کہ ” اللہ کا کہو کہ پھر تم سوچتے کیوں نہیں ؟

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ Open ayah 23:86 in the Quran reader

ان سے پوچھو کہ سات آسمانوں کا کون مالک ہے ؟ اور عرش عظیم کا کون مالک ہے ؟

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:87 in the Quran reader

فوراً کہہ دیں گے یہ سب چیزیں اللہ ہی کی ہیں۔ کہو کہ پھر تم ڈرتے کیوں نہیں ؟

قُلْ مَنْۢ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ یُجِیْرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:88 in the Quran reader

کہو کہ اگر تم جانتے ہو تو بتائو کہ وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہی ہے اور وہ پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابل کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا۔

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ فَاَنّٰى تُسْحَرُوْنَ Open ayah 23:89 in the Quran reader

فوراً کہہ دیں گے کہ (ایسی بادشاہی تو) اللہ ہی کی ہے۔ کہو کہ پھر تم پر جاود کہاں سے پڑجاتا ہے ؟

بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِالْحَقِّ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 23:90 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ ہم نے ان کے پاس حق پہنچا دیا ہے اور یہ جو بت پرستی کیے جاتے ہیں بیشک جھوٹے ہیں۔

کفار کا توحید ربوبیت کا اقرار تشریح : ” شروع سے لے کر اب تک اور شاید آئندہ بھی تمام کفارو مشرکین کا خیال اور باتیں ایک ہی جیسی ہوتی ہیں یعنی اللہ کے واحد ہونے اور آخرت سے انکار۔ کسی بڑے سے بڑے عالم فاضل مشرک سے یا انتہائی بےعلم جاہل مشرک سے جب یہ سوال کیا جاتا ہے تمہیں کس نے پیدا کیا ہے ؟ تمہیں رزق کون دیتا ہے ؟ یہ آسمان و زمین کس نے پیدا کیے ہیں تو جواب میں فوراً کہے گا اللہ نے۔ تو اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ” عہد الست “ ہر بندے کے لاشعور میں پکی طرح موجود ہے۔ اور پھر اللہ کا یہ کہنا کہ سب لوگ ایک ہی امت ہیں، یعنی انسان کو پیدا تو حق و صداقت کا علم دے کر ہی کیا گیا ہے۔ بعد میں کئی فرقے ‘ مذہب اور اعتقادات بنا لیے گئے۔ مگر ان جھوٹے اعتقادات پر یہ لوگ اس قدر پکے یقین سے قائم و دائم ہیں کہ کسی صورت اللہ کے وجود کو ماننے اور توحید پر ایمان لانے کو تیار نہیں ہوتے۔ یہ اتنے پاگل لگتے ہیں کہ اتنی سی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی کہ یہ جو کائنات اور اس کی تمام چیزیں ہیں بغیر کسی بہترین خالق کے نہیں بن سکتی۔ ذرا سوچیں کہ ایک تصویر بھلا کسی مصور کے بغیر خود بخود بن سکتی ہے ؟ ہرگز نہیں۔ بس ان لوگوں کی عقل ماری گئی ہے اور کیا کہہ سکتے ہیں۔ اگر کسی سے یہ کہا جائے کہ بھئی اس طرف نہ جانا وہاں سانپوں اور بچھوئوں کا بسیرا ہے۔ یا دیکھو آگے کنواں ہے۔ تو ہرگز اس طرف کا رخ نہ کریں ڈرتے مارے مگر اس آگ جہنم سے ان کو بار بار آگاہ کیا جا رہا ہے مگر یہ لوگ ٹس سے مس نہیں ہوتے اور ہرگز ڈر محسوس نہیں کرتے۔ اللہ کا فرمانا کہ ہم نے ان کو حق کی بات بتا دی ہے۔ یہ لوگ اگر جھوٹ پر ہی قائم رہنا چاہتے ہیں تو پھر ان کی مرضی سچ تو یہ ہے کہ ” اللہ ایک ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
Ayahs 23:91–92

مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّ مَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ Open ayah 23:91 in the Quran reader

اللہ نے نہ تو کسی کو اپنا بیٹا بنایا ہے اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہے ‘ ایسا ہو تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوقات کو لے کر چل دیتا اور ایک دوسرے پر غالب آجاتا۔ یہ لوگ جو کچھ اللہ کے بارے میں کہتے ہیں اللہ اس سے پاک ہے۔

عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَتَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 23:92 in the Quran reader

وہ پوشیدہ اور ظاہر کو جانتا ہے اور مشرک جو اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ اللہ کی ذات اس سے بہت بلند ہے۔

اللہ وحدہ ‘ لا شریک ہے تشریح : ان آیات میں اللہ کے واحد ہونے اور مکمل طور پر اقتدار کے مالک ہونے کی دلیل دی گئی ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمان و زمین کے اس عظیم الشان کارخانے میں بیشمار اسباب آپس میں ملے ہوئے ہیں جو ایک ہی حاکم کی مرضی اور حکم سے چلتے ہیں۔ اگر دو حاکم ہوے یا زیادہ ہوتے تو یہ اسباب کی مجموعی حرکت ہرگز چل نہ سکتی کیونکہ ہر حاکم اپنی مرضی چلانے کی سوچتا اور یوں اس کارخانے کا بہترین نظام درہم برہم ہوجاتا اور ہم لوگ پانی پھول پھل اور کھانے پینے کی چیزوں سے عاجز آجاتے۔ کیونکہ مختلف حاکموں کے زیر نگرانی نہ سورج وقت پر کام کرتا نہ ہوائیں صحیح رخ سے چلتیں نہ بارش معمول کے مطابق ہوتی غرض کوئی کام بھی درست نہ ہوسکتا۔ بلکہ یہ حاکم صاحبان خود آپس میں ہی لڑتے جھگڑتے رہتے اور ہم انسان یہ بھی فیصلہ نہ کر پاتے کہ کس کے آگے ہاتھ پھیلائیں ‘ کس سے مشکلات دور کرنے کو کہیں ‘ کون ہماری مدد کرے۔ یہ سب کچھ تو صرف اسی وقت ممکن ہے جب عبادت کے لائق اور اقتدار اعلیٰ کا مالک صرف ایک ہی ہو۔ اور اس کام کے لیے یعنی دنیا کا نظام چلانے ہماری حاجات پوری کرنے، ہماری دعائیں سننے اور ہماری مشکلیں آسان کرنے کے لیے کسی معمولی حاکم اعلیٰ کی ضرورت نہیں بلکہ یہ ذمہ داری صرف وہی ایک اکیلا رب ہی کرسکتا ہے۔ جس کا نہ کوئی بیٹا ہے، نہ مدد گار، نہ بیوی ہے اور نہ ہی کوئی حصہ دار۔ بس وہ تو بالکل اکیلا ہے تمام اقتدار اور معبودیت کا درجہ رکھنے والا الہ العلمین وحدہ ‘ لا شریک صرف اللہ ہے۔ ہماری حاجت روائی ‘ مشکل کشائی ‘ حفاظت ‘ امداد ‘ اعانت ‘ خبر گیری ہماری پیدائش اور پھر جسمانی و روحانی نشوونما کا پورا بندوبست یہ سب کوئی آسان کام نہیں بلکہ اس خدائے واحد و بےنیاز کے سوا ان تمام کاموں میں سے کوئی چھوٹے سے چھوٹا کام بھی کوئی بڑی سے بڑی طاقت ہرگز نہیں کرسکتی تو ثابت ہوا کہ معبود برحق صرف وہی اقتدار اعلیٰ رکھنے والا سچا الہ العلمین ہی ہے۔ وہ ظاہر اور پوشیدہ سے پوری طرح واقف ہے۔ ہم انسان تو اتنا بھی علم نہیں رکھتے کہ کل ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ کب مرجائیں گے اور کہاں موت آئے گی۔ سامان سو برس کا، پل کی خبر نہیں مگر ایمان بالغیب ہی وہ مقام ہے کہ جس سے گزر کر انسان انسان بنتا ہے۔ کیونکہ حیوان تو اس بات کی عقل ہی نہیں رکھتا۔ جبکہ انسان اپنی عقل اور علم کے ذریعہ اس کائنات میں پھیلی ہوئی اللہ کی قدرتوں کو دیکھ کر اس کائنات کے خالق حاکم اور چلانے والے مقتدر اعلیٰ اللہ کی حقیقت تک پہنچتا ہے۔ وہ اللہ جو انسان کی نگاہوں سے پوشیدہ ہے مگر ہے بڑا عظیم اور با اختیار۔ کوئی اس کا مقابلہ ہرگز نہیں کرسکتا۔ اور یوں ایمان بالغیب کے عقیدہ پر قائم ہو کر انسان بیشمار غیر ضروری فکروں اور خواہ مخواہ کی الجھنوں سے محفوظ ہوجاتا ہے اور بےفکر ہو کر قرآن و حدیث کے احکامات کے مطابق پرسکون زندگی گزارنے لگتا ہے۔
Ayahs 23:93–98

قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 23:93 in the Quran reader

اے محمد ﷺ ! ) کہو کہ جس عذاب کا ان کفار سے وعدہ ہوا ہے اگر ( تو میری زندگی میں ان پر نازل کر کے) مجھے دکھائے۔

رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:94 in the Quran reader

تو اے میرے رب ! مجھے اس سے محفوظ رکھنا اور ان ظالموں میں شامل نہ کرنا۔

وَ اِنَّا عَلٰۤى اَنْ نُّرِیَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ Open ayah 23:95 in the Quran reader

اور جو وعدہ ہم ان سے کر رہے ہیں ہم تم کو دکھا کر ان پر نازل کرنے پر قادر ہیں

اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَ١ؕ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ Open ayah 23:96 in the Quran reader

اور بری بات کے جواب میں ایسی بات کہو جو نہایت اچھی ہو اور یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں ہمیں خوب معلوم ہے۔

وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ Open ayah 23:97 in the Quran reader

اور کہو کہ اے پروردگار ! میں شیطان کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔

وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ Open ayah 23:98 in the Quran reader

اور اے رب اس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آموجود ہوں۔

فتنہ ٔ عذاب قبر اور شیاطین سے پناہ مانگنے کی دو دعائیں تشریح : ان آیات میں اس رب جلیل سے دعا مانگنے کا طریقہ سکھایا گیا ہے۔ کیونکہ پچھلی آیات میں دعا مانگنے اور دعا قبول کرنے کا ایک ہی منبع ہے اور وہ ہے رب العزت تو یہاں دو دعائیں نبی کریم ﷺ کے ذریعہ مسلمانوں کو سکھائی گئی ہیں۔ پہلی تو اس عذاب سے بچنے کے لیے جو کفار پر ان کے کفر شرک اور نافرمانی کی وجہ سے آسکتا ہے اور پھر اس میں بےگناہ بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ تو ایسے عذاب سے بچنے کے لیے دعائیہ کلمات سکھائے گئے ہیں۔ پھر مکارم اخلاق کی تاکید کرتے ہوئے دوسری دعا سکھائی گئی ہے۔ یعنی آپ برائی کو بھلائی سے ‘ ظلم کو انصاف سے اور بےرحمی کو رحم کے ذریعہ دور کریں۔ اصل میں تو یہ سبق تمام مسلمانوں کو دیا گیا ہے۔ اصل میں یہ حکم اس وقت دیا گیا تھا جب مکہ میں مسلمان بڑی کمزور حالت میں رہ رہے تھے۔ جہاد کا حکم آنے کے بعد بھی مسلمانوں کو حسن اخلاق کا سبق یوں دیا گیا کہ عورتوں بچوں کو اور جو لوگ لڑائی میں شریک نہ ہوں قتل نہ کیا جائے۔ اور لاشوں کی بےحرمتی نہ کی جائے۔ مطلب یہ ہے کہ غصہ میں آکر کوئی ایسا کام نہ کیا جائے جو مسلمان کی شان کے خلاف ہو۔ تو اس کے لیے خاص طور سے دعائیہ کلمات سکھائے گئے ہیں۔ پہلی دعا آیت (94) میں سکھائی گئی ہے اور دوسری دعا آیت (97) میں سکھائی گئی ہے۔ یہ دعا عام حالات میں شیطان جن و انس اور کئی قسم کے حملوں سے بچنے کے لیے بڑی ہی موثر دعا ہے۔ بوقت ضرورت یہ دعا پڑھنی چاہیے۔ اللہ قبول کرے گا اور مطلوبہ مصیبت سے ضرور اپنی پناہ میں رکھے گا۔ یہی تو اس کی شان کریمی ہے۔ کہ ہم مانگیں اور وہ پوری کرے۔ اور یہ مشرکین کے معبود ہرگز نہیں کرسکتے کیونکہ وہ تو خود اللہ کے پیدا کردہ ہیں وہ کسی کی کیا دعا قبول کریں گے۔