23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 23:99–108

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ Open ayah 23:99 in the Quran reader

یہ لوگ اسی طرح غفلت میں رہیں گے) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آجائے گی تو کہے گا ” اے اللہ مجھے پھر دنیا میں واپس بھیج دے۔

لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَا١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:100 in the Quran reader

تاکہ میں اس میں جو چھوڑ آیا ہوں نیک کام کروں۔ “ ہرگز نہیں یہ ایک ایسی بات ہے کہ وہ اسے زبان سے کہہ رہا ہوگا (مگر اس پر عمل نہیں ہوگا) اور ان کے پیچھے برزخ ہے کہ جہاں وہ اس دن تک رہیں گے جس دن دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَئِذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 23:101 in the Quran reader

پھر جب صور پھونکا جائے گا تو اس وقت نہ ان میں رشتہ داریاں رہیں گی اور نہ کوئی ایک دوسرے کو پوچھے گا۔

فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 23:102 in the Quran reader

تو جن کے وزن بھاری ہوں گے وہ فلاح پانے والے ہیں۔

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فِیْ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 23:103 in the Quran reader

اور جن کے بوجھ ہلکے ہوں گے وہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے خود کو نقصان میں رکھا وہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے

تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ وَ هُمْ فِیْهَا كٰلِحُوْنَ Open ayah 23:104 in the Quran reader

آگ ان کے مونہوں کو جھلس دے گی اور وہ اس میں پریشان ہوں گے۔

اَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 23:105 in the Quran reader

کیا تم کو میری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی تھیں ؟ نہیں تم ان کو (سن کر) جھٹلاتے تھے۔

قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَ كُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ Open ayah 23:106 in the Quran reader

اے ہمارے رب ! ہم پر ہماری بدنصیبی چھا گئی اور ہم راستے سے بھٹک گئے۔

رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 23:107 in the Quran reader

اے ہمارے رب ! ہم کو اس میں سے نکال دے اگر ہم پھر ایسے کام کریں تو ظالم ہوں گے۔

قَالَ اخْسَئُوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ Open ayah 23:108 in the Quran reader

اللہ فرمائے گا کہ اسی میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو۔

کیا مرنے کے بعد دوبارہ دنیا میں آسکتے ہیں ؟ تشریح : حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” موت کے وقت مومن جب رحمت کے فرشتے اور رحمت کے سامان دیکھنے لگتا ہے تو فرشتے اس سے پوچھتے ہیں کہ ” کیا تم چاہتے ہو کہ تمہیں پھر دنیا میں واپس کردیا جائے گا “ تو وہ کہتا ہے کہ ” میں اس غموں اور تکلیفوں کے عالم میں جا کر کیا کروں گا مجھے تو اب اللہ کے پاس لے جاؤ۔ “ اور کافر سے پوچھتے ہیں تو وہ کہتا ہے۔ ” مجھے دنیا میں لوٹا دو ۔ “ (از معارف القرآن جلد 6 صفحہ 331 ) یہ تمام آیات عالم الغیب سے تعلق رکھتی ہیں۔ جن کی وضاحت کچھ حدیث اور کچھ قرآنی آیات سے کردی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہاں اس دنیا سے جو ایک دفعہ رخصت ہوجاتا ہے وہ دوبارہ اس دنیا میں ہرگز واپس نہیں آسکتا بلکہ پھر وہ قیامت تک عالم برزخ میں رہتا ہے۔ قرآن پاک میں انسانی زندگی کو چار درجوں میں رکھا گیا ہے۔ ایک ہے عالم ارواح جس میں تمام روحوں سے عہد لیا گیا ” کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ “ سب روحوں نے جواب دیا ” کیوں نہیں آپ ہی ہمارے رب ہیں۔ “ اس کو عہد الست کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ پھر دنیا کی زندگی اسی کو عالم ظاہر کہا گیا ہے۔ اور یہ ہی امتحان کا دور ہے۔ یہ مومن کے لیے قید خانہ کہلاتا ہے جبکہ کافر کے لیے بس یہی کچھ ہے۔ یعنی بابر باعیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست مطلب ہے عیش کرلو کیونکہ زندگی دوبارہ نہیں ملے گی۔ کافر یہ زندگی انتہائی غفلت ‘ ناشکر گزاری اور اللہ کی اتنہائی نافرمانی میں گزار دیتا ہے۔ اسی لیے نادم ہو کر دنیا میں دوبارہ آنے کی خواہش کرتا ہے۔ جو کہ ہرگز ممکن نہیں اللہ نے صاف کہہ دیا کہ اب تم عالم برزخ میں رہو۔ یہ عالم برزخ تیسرا دور ہے جس میں قیامت کے آنے تک انسان زندگی گزارے گا۔ یہ دور مومن اور مقبول الٰہی بندوں کے لیے بڑا پر سکون زمانہ ہوگا جبکہ گنہگاروں مشرکوں کے لیے یہ بڑا تکلیف دہ زمانہ ہوگا۔ ان کا عذاب ادھر سے ہی اعمال کے مطابق شروع ہوجائے گا۔ پھر چوتھا دور زندگی کا ہوگا۔ جو قیامت سے شروع ہوگا۔ یہ قیامت کبریٰ ہوگی۔ جس میں سب کچھ ختم ہوجائے گا اور لوگ قبروں میں سے نکل کر میدان حشر میں اللہ کے دربار میں حاضر ہوجائیں گے اور پھر مشرکوں کو ان کی بدنصیبی کی سزا دی جائے گی جس پر وہ اللہ سے آہ وزاری کریں گے توبہ و استغفار کریں گے جو قبول نہ ہوگی اور رب العزت فرمائے گا ” اسی میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو۔ “ آیت 108 یہ سب غیب کی باتیں ہیں جو ہر انسان کو بار بار بتائی جا رہی ہیں تاکہ نیکی کی راہ اختیار کرلے اور توبہ کرے کیونکہ توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے بشرطیکہ موت آنے سے پہلے کرلی جائے۔ موت کے بعد توبہ کا وقت بھی ختم ہوجاتا ہے۔ یہ تو گنہگاروں کا انجام تھا اب نیکو کار پرہیزگار سچے مومنین کے بارے میں فرمان ہے۔ ملاحظہ ہو :
Ayahs 23:109–118

اِنَّهٗ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 23:109 in the Quran reader

میرے بندوں میں ایک گروہ تھا جو دعا کیا کرتا تھا ” اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لائے تو ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔

فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰۤى اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِیْ وَ كُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ Open ayah 23:110 in the Quran reader

تو تم ان سے تمسخر کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پیچھے میری یاد بھی بھول گئے اور تم ہمیشہ ان سے ہنسی کیا کرتے تھے

اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا١ۙ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 23:111 in the Quran reader

آج میں نے ان کو ان کے صبر کا بدلہ دیا کہ بیشک وہ کامیاب ہونے والے ہیں۔

قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ Open ayah 23:112 in the Quran reader

) اللہ پوچھے گا کہ تم زمین میں کتنے برس رہے ؟

قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْئَلِ الْعَآدِّیْنَ Open ayah 23:113 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ ہم ایک روز یا دن کا کچھ حصہ رہے تھے شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجئے۔

قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:114 in the Quran reader

اللہ فرمائے گا کہ ” وہاں تم بہت ہی کم رہے کاش تم جانتے ہوتے۔

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 23:115 in the Quran reader

کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تم کو بےفائدہ پیدا کیا تھا اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئو گے۔

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ Open ayah 23:116 in the Quran reader

تو اللہ جو سچا بادشاہ ہے اس کی شان اس سے اونچی ہے اس کا کوئی معبود نہیں وہی عرش کریم کا مالک ہے۔

وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ١ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 23:117 in the Quran reader

اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو پکارتا ہے جس کی اس کے پاس کوئی بھی دلیل نہیں تو اس کا حساب اللہ ہی کے پاس ہوگا کچھ شک نہیں کہ کافر کامیاب نہیں ہونگے۔

وَ قُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 23:118 in the Quran reader

اور اللہ سے دعا کیا کرو کہ میرے رب ! مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔

اللہ کے مقبول بندے تشریح : آیت 109 میں ایک اور بہترین دعا ہے جو اکثر و بیشتر نیک لوگ اٹھتے بیٹھتے اللہ سے کرتے رہتے ہیں۔ دوسرا نکتہ یہاں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اللہ کے مقبول، نیک صالح اور عبادت گزار بندوں کا مذاق اڑانا بھی جہنم میں ڈالے جانے کا سبب ہے۔ کیونکہ مذاق وہی اڑاتا ہے جو کافر ہو۔ ایک گناہ تو کفر کا اور دوسرا مومنین کی عبادات کا مذاق اڑانا ہے۔ آیت 112 میں زمینی وقت کے بارے میں اشارہ ملتا ہے۔ اسی طرح کی کئی آیات قرآن پاک میں مختلف جگہوں پر ملتی ہیں جن کو وضاحت سے سمجھنا موجودہ علم فزکس کی رو سے بھی کافی مشکل ہے۔ کہیں یہاں کے ہزار دنوں کے برابر وہاں یعنی عالم بالا کا ایک دن کہا گیا ہے اور کہیں پچاس ہزار دنوں کے برابر ایک دن کہا گیا ہے۔ بہرحال یہاں کی زندگی بڑی مختصر ہے اس کو طریقہ سلیقہ سے گزاریں گے تو آخرت میں ہمیشہ کی زندگی میں آرام ہی آرام ہوگا ورنہ تو پھر شرک و کفر اور بداعمالی ددزخ کی راہ ہی دکھائیں گی۔ استغفر اللہ۔ اس سورت کا اختتام ہو رہا ہے اور آخری آیت ایک بڑی ہی جامع دعا پر ختم ہوتی ہے۔ ” وَقُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاَنْتَ خَیْرُالرّٰحِمِیْنَ “ (اے پیغمبر ! ﷺ کہہ دیجئے اے میرے رب ! بخش دے اور رحم فرما اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہیں۔ (المومنون :118) اس سورت کو اگر سمری کی صورت میں بیان کیا جائے تو اس طرح ہوگی۔ سب سے پہلے سچے مومن کے تصور میں مندرجہ ذیل باتیں آتی ہیں۔ (1) اللہ کی عظمت دل اور روح کے اندر پیدا ہونا۔ (2) نکمی اور فضول باتوں سے دور رہنا۔ (3) زکوٰۃ باقاعدہ اور خوشی سے ادا کرنا۔ (4) شرم و حیا اور جنسی خواہشات کو حدود میں رکھنا۔ (5) امانت اور عہد کا پورا خیال رکھنا۔ (6) نماز پابندی اور خشوع و حضوع سے پڑھنا۔ ان کے علاوہ اگر زندگی گزاری تو جہنم ملے گی۔ اللہ کو ماننا اور رسولوں کی پیروی کرنا اور آخرت کو ماننا۔ جنت کے حصول کی پوری پوری کوشش یعنی نیکی کے تصور میں چار باتیں آتی ہیں۔ ایمان ‘ عبادات ‘ صبر ‘ معاملات۔ اور آخر میں بہترین دعا۔ اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین