24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsمفہوم القرآن

Ayah 24:1

سُوْرَةٌ اَنْزَلْنٰهَا وَ فَرَضْنٰهَا وَ اَنْزَلْنَا فِیْهَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:1 in the Quran reader

یہ ایک سورت ہے جس کو ہم نے نازل کیا اور اسکے احکام کو فرض کردیا اور اس میں واضح آیتیں نازل کیں تاکہ تم یاد رکھو۔

سورة نور کی فضیلت تشریح : یوں تو پورا قرآن پاک ہی رشدو ہدایت اور حق و صداقت کی باتوں سے بھرا ہوا ہے کیونکہ یہ اس جلیل القدر عظیم و حکیم کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جو حق اور سچ ہے۔ مگر اس سورت کا دیباچہ اللہ رب العزت نے کچھ تھوڑا مختلف دیا ہے۔ سب سے پہلے تو ” ہم “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو بات کہنے والے کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔ دوسرے فقرے میں ان احکامات کا ماننا ہر مسلمان کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اللہ کو مانتے ہو تو اس کے احکامات کو بھی ماننا لازمی ہے۔ یہ نہیں کہ چاہو تو مانو چاہو تو نہ مانو۔ اس کی ہرگز کوئی گنجائش نہیں۔ تیسری بات جو واضح کر کے کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اس سورت میں جو کچھ بھی احکامات جاری کیے گئے ہیں وہ اتنے سادہ ‘ آسان اور عام فہم ہیں کہ ان کو سمجھنا بالکل آسان ہے۔ کوئی مشکل اور نہ سمجھ میں آنے والی بات نہیں کہ سمجھ نہ آنے کا بہانہ کیا جاسکے۔ اصل میں جب یہ سمجھ میں آجاتا ہے کہ اللہ ایک ہے تو بیشمار مشکلات جو عام زندگی میں پیش آتی رہتی ہیں خود بخود آسان ہوجاتی ہیں۔ کیونکہ ہر بات کا حل تو اللہ نے انسان کو بتا دیا ہے اور جو حل اللہ نے بتا دیا ہے وہ حل ہی بہترین ہے کیونکہ توحید کا تصور محض ایک مذہبی عقیدہ نہیں ہے۔ اس سے اجتماعی زندگی کا وہ پورا نظام ‘ جو انسان کی خود مختار یا غیر اللہ کی حاکمیت اور الوہیت کی بنیاد پر بنا ہو ‘ جڑ سے اکھڑ جاتا ہے اور ایک دوسری بنیاد پر ایک نئی عمارت تیار ہوتی ہے۔ آج دنیا آپ کے موذنوں کو ” اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ “ کی صدا بلند کرتے ہوئے اس لیے ٹھنڈے پیٹوں سن لیتی ہے کہ نہ پکارنے والا جانتا ہے کہ کیا پکار رہا ہوں نہ سننے والوں کو اس میں کوئی معنی اور کوئی مقصد نظر آتا ہے۔ (ہمارا سنگین ترین مسئلہ مصنف محمد منظور الحق ڈار) مطلب کہنے کا یہ ہے کہ جب ایک شخص دل و جان اور زبان سے اقرار کرلیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو پھر اس کے دل میں نہ تو کسی دشمن کا خوف رہتا ہے نہ ظالم کا اور نہ ہی شیطان کی طاقت ہی اس پر اثر کرتی ہے۔ اس کے سامنے صرف الہ العلمین کی طاقت احکامات اور فرامین ہی رہتے ہیں جو ہر صورت دنیا و آخرت میں اس کے لیے آسانیاں ‘ رحمتیں ‘ برکتیں اور نجات کا ذریعہ ہی بنے رہتے ہیں۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ زندگی کے تمام مسائل کا تالا ہم توحید کی چابی سے کھول سکتے ہیں۔ بچہ ‘ بوڑھا ‘ جوان ‘ عورت ‘ مرد ‘ ہم سب کو توحید کے یقین کو دل میں رکھ کر زندگی کے ہر میدان میں بڑھتے چلے جانا چاہیے۔ اور موذن کی ہر آواز پر توحید کی روح کو بیدار کرنا چاہیے۔ تو پھر اللہ کے علاوہ کون سی طاقت ہے جو ہمیں زیر کرسکتی ہے ؟ کوئی بھی طاقت نہیں۔ توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لیے ہے کیا ڈر ہے جو ہو ساری خدائی بھی مخالف کافی ہے اگر ایک خدا میرے لیے ہے
Ayahs 24:2–10

اَلزَّانِیَةُ وَ الزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ١۪ وَّ لَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ۚ وَ لْیَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَآئِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:2 in the Quran reader

بدکاری کرنے والی عورت اور بدکاری کرنے والا مرد ( جب ان کی بدکاری ثابت ہوجائے تو) دونوں میں سے ہر ایک کو سو درے مارو اور اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو ‘ تو اللہ کے حکم میں تمہیں ہرگز ترس نہ آئے اور چاہیے کہ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت بھی موجود ہو۔

اَلزَّانِیْ لَا یَنْكِحُ اِلَّا زَانِیَةً اَوْ مُشْرِكَةً١٘ وَّ الزَّانِیَةُ لَا یَنْكِحُهَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌ١ۚ وَ حُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:3 in the Quran reader

بدکار مرد ‘ بدکار عورت یا مشرک عورت کے سوا نکاح نہیں کرتا اور بدکار عورت کو بھی بدکار یا مشرک مرد کے سوا اور کوئی نکاح میں نہیں لاتا اور یہ ( بدکار عورت سے نکاح کرنا) مومنوں پر حرام ہے۔

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَةً وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَۙ Open ayah 24:4 in the Quran reader

اور جو لوگ پاک دامن عورتوں کو بدکاری کا الزام لگائیں اور اس پر چار گواہ نہ لائیں تو ان کو اسی درے مارو اور کبھی ان کی شہادت قبول نہ کرو اور یہی بدکردار ہیں۔

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْا١ۚ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:5 in the Quran reader

ہاں جو اس کے بعد توبہ کرلیں اور اپنی حالت سنوار لیں تو اللہ بھی بخشنے والا مہربان ہے۔

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَهُمْ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ شُهَدَآءُ اِلَّاۤ اَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمْ اَرْبَعُ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:6 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنی عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں اور کوئی گواہ نہ لاسکیں تو ہر ایک کی شہادت یہ ہے کہ پہلے تو چار بار اللہ کی قسم کھائے کہ بیشک وہ سچا ہے۔

وَ الْخَامِسَةُ اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كَانَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 24:7 in the Quran reader

اور پانچویں بار یہ کہے ‘ کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت۔

وَ یَدْرَؤُا عَنْهَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْهَدَ اَرْبَعَ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۙ Open ayah 24:8 in the Quran reader

اور عورت سے سزا یوں ٹل سکتی ہے کہ پہلے چار بار اللہ کی قسم کھائے کے بیشک یہ جھوٹا ہے۔

وَ الْخَامِسَةَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰهِ عَلَیْهَاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:9 in the Quran reader

اور پانچویں دفعہ یوں کہے کہ اگر یہ سچا ہو تو مجھ پر اللہ کا غضب نازل ہو۔

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 24:10 in the Quran reader

اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور مہربانی نہ ہوتی تو بہت سی خرابیاں پیدا ہوجاتیں مگر وہ مہربان اور فضل و کرم کرنے والا ہے اور اللہ توبہ قبول کرنے والا حکمت والا ہے۔

زنا، اس کی سزا اور لعان کا حکم تشریح : سب سے پہلے تو زنا کی تعریف کردی گئی۔ کئی گناہ انسان زندگی میں کرتا ہے مگر یہ گناہ اس قدر بڑا اورا نسانی سوسائٹی کے لیے مضر اور نقصان دہ ہے کہ اس کو شرک کے برابر کہا گیا ہے۔ کیونکہ یہ تمام حدود کو توڑ دیتا ہے جو تہذیب و تمدن ‘ مذہب اور اخلاقیات اور انسانیت کی عظمت کے لیے ہر مذہب اور معاشرے میں مقرر کی گئی ہیں۔ البتہ موجودہ غیر اسلامی معاشرہ ان حدود کو توڑ رہا ہے تو ان کے اندر جو انتشار ‘ بےچینی ‘ بےراہروی ‘ بد نظمی اور بےقاعدگی پیدا ہو رہی ہے وہ ناقابل بیان ہے۔ یہ لوگ جب بھی اسلامی نظام کی اس خوبی سے بندھے ہوئے خاندانی ربط ‘ ضبط اور سکون کو دیکھتے ہیں تو رشک کرتے ہیں۔ یہ گناہ ایسا ہے کہ جو عورت اور مرد کو بغیر کسی بندھن یعنی بغیر شادی کا معاہدہ کیے ہوئے بدکرداری پر مجبور کر دے اور وہ دونوں ناجائز طریقہ سے اپنی نفسانی خواہش پوری کریں جو کہ شادی کے بعد بالکل جائز اور حلال ہے۔ کیونکہ انسان میں یہ خواہش اتنی ہی ضروری ہے جتنی کہ کھانا کھانا تو اس کو پورا کرنے کے لیے اللہ نے شادی کا طریقہ مقرر کر رکھا ہے۔ اسی لیے حکم ہے کہ شادی کے بغیر رہنا جائز نہیں بلکہ لونڈی اور غلام کی بھی شادی کر دینی ضروری ہے۔ کیونکہ شادی سے معاشرے سے یہ شرمناک اور برائیوں کی جڑ جیسا فساد ختم ہوسکتا ہے۔ اس شرمناک گناہ کے بعد جو اولاد پیدا ہوتی ہے وہ ماں اور معاشرے کے لیے بدنامی کا سبب بن جاتی ہے اور پھر یہ اس بچے پر بھی ظلم ہوتا ہے جو اس گناہ کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ غیر اسلامی ممالک میں ایسے بچے کی پیدائش پر بچے کو کنواری ماں سے دور رکھا جاتا ہے کیونکہ اکثر ایسی مائیں گناہ کی وہشت اور بچہ کی ذمہ داری نبھانے کے خوف سے بچے کو خود ہی مار دیتی ہیں۔ کس قدر شرمناک ہے یہ گناہ ؟ اس سے بچنے کے لیے قرآن پاک میں یہ اصول مقرر کیے گئے ہیں جو آسان بھی ہیں اور قابل قبول بھی ہیں۔ سب سے پہلے انسان کے نفس کی اصلاح کرنا ہے۔ معاشرے سے ان تمام اسباب کا خاتمہ جو زنا کی طرف متوجہ کریں۔ مثلاً عورتوں کا بےپردہ نکلنا ‘ مرد و عورت کا بےباک ملنا جلنا ‘ عورتوں کو گھروں سے بن سنور کر نکلنا۔ چال ڈھال اور بات چیت میں دعوت گناہ دینا۔ اس کے بعد پھر سخت سزا سنائی گئی ہے اور وہ یہ کہ جب یہ جرم ثابت ہوجائے تو سو درے بڑے مجمع کے سامنے لگائے جائیں۔ اس جرم کی صداقت کے ثبوت کے لیے بھی اللہ رب العزت نے قانون بنا دیا ہے کیونکہ اگر کوئی شخص کسی پر جھوٹا الزام لگائے اور وہ جھوٹ ثابت ہوجائے تو جھوٹے شخص کو تہمت لگانے کی سزا کے طور پر 80 کوڑے لگائے جائیں گے۔ یہ سزا غیر شادی شدہ مرد و عورت کے لیے ہے اگر یہی جرم شادی شدہ مرد اور عورت کریں تو انہیں رجم کیا جائے گا۔ رجم زمین میں گاڑ کر پتھر مار کر سنگسار کرنے کو کہتے ہیں۔ نیز سو دروں کے ساتھ ایک سال کی جلا وطنی کی سزا بھی غیر شادی شدہ مرد و عورت کے لیے حدیث میں بیان ہوئی ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ) اور زنا کی گواہی دینے کے لیے چار مردوں کا گواہ ہونا ضروری ہے جو کہ باقاعدہ چشم دید ہوں۔ میاں بیوی کے ایک دوسرے پر زنا کا الزام لگانے کے لیے علیحدہ حد مقرر کردی گئی ہے۔ جب یہ احکامات جاری ہوگئے تو ان کو قانونی جرم یعنی قابل سزا (Cognizable Offene) قرار دیا گیا ہے۔ الہ العلمین نے انسان کی سہولت کے لیے لعان کو جائز قرار دیا ہے۔ جب مرد چار دفعہ قسم کھالے اور پانچویں دفعہ کہے کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو اللہ کی لعنت ہو۔ اسی طرح عورت چار دفعہ اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ میں سچی ہوں اور پانچویں دفعہ کہے کہ اگر میں جھوٹی ہوں تو مجھ پر اللہ کا غضب ہو۔ اس طرح دونوں میں علیحدگی نافذ ہوجائے گی۔ یہ معاملہ عدالت میں ہونا ضروری ہے۔ اس طرح مرد اور عورت دونوں کا مسئلہ بغیر سزا کے حل ہوسکتا ہے۔ ظاہر ہے ان میں سے کوئی تو جھوٹا ضرور ہوگا مگر اللہ نے دونوں کو ہمیشہ کی پریشانی اور ذلت و رسوائی سے بچانے کا ایک بہتر راستہ نکال دیا ہے۔ اب جھوٹا فریق سچی توبہ کر کے کچھ نہ کچھ بخشش پاسکتا ہے۔ اور اللہ نے بھی راستہ اس لیے نکال دیا کہ وہ حکمت والا ہے ‘ معاف کرنے والا ہے اور ہر معاملہ سے خوب اچھی طرح واقف بھی ہے۔ اسلام میں جو سزا مقرر کی گئی ہے وہ صرف معاشرے کی اصلاح کے لیے دی گئی ہے۔ اسی لیے حکم دیا گیا ہے کہ یہ سزا بغیر کسی ردو بدل کے ویسے ہی دی جائے جیسا کہا گیا ہے۔ نہ کم نہ زیادہ اللہ ارحم الرحمین ہے اس کے فیصلے حکمتوں کی بنیاد پر کیے گئے ہیں خاوند اور بیوی کا ایک دوسرے پر الزام لگانا بھی فیصلہ کے قابل ہے۔ ایسا فیصلہ کہ جس میں اللہ کو گواہ بنا کر دونوں اقرار کریں کہ اگر یہ سچ ہے تو مجھ پر لعنت ہو اللہ کا وبال پڑے۔ اس طرح لعان کا حکم جاری ہوجائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مرد عورت کو میاں بیوی کی طرح رہنا حرام ہوگیا۔ لعان کے لیے طلاق کی کوئی حیثیت نہیں ہے لعان کے بعد خود بخود جدائی ہوجائے گی۔ اگلی آیت میں اس کو اللہ کا فضل کہا گیا ہے۔ اس برائی کے سد باب کے لیے حکم دیا جا چکا ہے کہ بدکردار عورت بدکردار مرد کے لیے اور بدکردار مرد بدکردار عورت کے لیے ہی ٹھیک ہے۔ ورنہ تو دونوں کے کردار کی ناموافقت کی وجہ سے گھر جہنم اور زندگی عذاب بن جائے۔ اور اگر اتفاق سے ایسے ہوجائے تو پھر طلاق کی گنجائش رکھ دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کی کمزوری سے بھی واقف ہے مجبوری سے بھی واقف ہے اور نیت و کردار سے بھی واقف ہے اور پھر غفور الرحیم بھی ہے۔ ان آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ زندگی کے ہر دور میں اللہ کی راہ ہی بہترین راہ ہے کیونکہ اسی سے دنیا و آخرت میں نجات ہے۔ حدیث میں آتا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے کہا رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ ” اے قریشی جوانو ! تم لوگ زنا کا ارتکاب نہ کرنا ‘ جو لوگ عفت و پاک دامنی کے ساتھ جوانی گزاریں گے وہ جنت کے مستحق ہوں گے۔ “ (ترغیب و ترہیب بحوالہ حاکم و بیہقی از زاد راہ مصنف مولانا جلیل احسن ندوی)
Ayahs 24:11–20

اِنَّ الَّذِیْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ١ؕ لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّكُمْ١ؕ بَلْ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ١ۚ وَ الَّذِیْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:11 in the Quran reader

جن لوگوں نے بہتان باندھا ہے تم ہی میں سے ایک جماعت ہے ‘ اس کو اپنے حق میں برا نہ سمجھنا بلکہ وہ تمہارے لیے اچھا ہے۔ ان میں سے جس شخص نے گناہ کا جتنا حصہ لیا اس کے لیے اتنا ہی وبال ہے اور جس نے ان میں سے اس بہتان کا بڑا بوجھ اٹھایا ہے اس کو بڑا عذاب ہوگا۔

لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِهِمْ خَیْرًا١ۙ وَّ قَالُوْا هٰذَاۤ اِفْكٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 24:12 in the Quran reader

جب تم نے وہ بات سنی تھی تو مومن مردوں اور عورتوں نے کیوں نہ اپنے دلوں میں نیک گمان کیا ‘ اور کیوں نہ کہا کہ یہ صریح جھوٹ ہے۔

لَوْ لَا جَآءُوْ عَلَیْهِ بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ١ۚ فَاِذْ لَمْ یَاْتُوْا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓئِكَ عِنْدَ اللّٰهِ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 24:13 in the Quran reader

یہ بہتان لگانے والے (اپنی بات کی سچائی کے لیے) چار گواہ کیوں نہ لائے تو جب یہ گواہ نہیں لاسکے تو پھر اللہ کے نزدیک یہ جھوٹے ہیں۔

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِیْ مَاۤ اَفَضْتُمْ فِیْهِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۚۖ Open ayah 24:14 in the Quran reader

اور اگر دنیا و آخرت میں تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو جس کام میں تم لگے ہوئے تھے اس کی وجہ سے تم پر بڑا سخت عذاب نازل ہوتا۔

اِذْ تَلَقَّوْنَهٗ بِاَلْسِنَتِكُمْ وَ تَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِكُمْ مَّا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ وَّ تَحْسَبُوْنَهٗ هَیِّنًا١ۖۗ وَّ هُوَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمٌ Open ayah 24:15 in the Quran reader

جب تم اپنی زبانوں سے اس کا ایک دوسرے سے ذکر کرتے تھے اور اپنے منہ سے ایسی بات کہتے تھے جس کا تم کو کچھ بھی علم نہ تھا اور تم اسے ایک معمولی بات سمجھتے تھے اور اللہ کے نزدیک وہ بڑی سخت بات تھی۔

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ مَّا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّتَكَلَّمَ بِهٰذَا١ۖۗ سُبْحٰنَكَ هٰذَا بُهْتَانٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:16 in the Quran reader

اور جب تم نے اسے سنا تھا تو کیوں نہ کہہ دیا کہ ہمیں مناسب نہیں کہ ایسی بات زبان پر لائیں ‘ اللہ تو پاک ہے یہ تو بہت بڑا بہتان ہے۔

یَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنْ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِهٖۤ اَبَدًا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 24:17 in the Quran reader

اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ اگر مومن ہو تو پھر کبھی ایسا کام نہ کرنا۔

وَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:18 in the Quran reader

اور اللہ تمہارے سمجھانے کے لیے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے اور اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 24:19 in the Quran reader

اور جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بدکاری کا چرچا ہو ان کے لیے درد ناک عذاب ہے دنیا اور آخرت میں اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 24:20 in the Quran reader

اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی (تو کیا کچھ نہ ہوتا مگر وہ کریم ہے) اور بیشک اللہ نہایت مہربان اور رحیم ہے۔

سیدہ عائشہ صدیقہ پر جھوٹی تہمت اور اس کی برأت تشریح : انسان کو ہمیشہ ہی اخلاقی اور مذہبی تربیت کی ضرورت رہی ہے مگر آج کل پھر دنیا میں اخلاقی پستی اور افراتفری کا دور دورہ ہے۔ غرض کیا اسلامی ممالک اور کیا غیر اسلامی ممالک ہوں سوائے چند ایک کے ہر جگہ معاشرتی کمزوریاں ‘ فحاشی ‘ لوٹ مار لا قانونیت ‘ رشوت ‘ سفارش ‘ بددیانتی ‘ سیاسی بگاڑ ‘ تعلیم و تربیت کی تباہی ‘ فرقہ پرستی ‘ اندرونی و بیرونی سازشیں ‘ نفاق ‘ اغوا ‘ منشیات اور کلاشنکوف کلچر ‘ شرک ‘ بدعات اور لادینیت وغیرہ وغیرہ۔ یہی وہ تمام برائیاں ہیں جن کی وجہ سے قومیں اور ملک تباہ و برباد ہوجاتے ہیں۔ اب تو پوری دنیا ہی تباہی کے دہانے پر کھڑی ہوئی دکھائی دیتی ہے اور یہ قرب قیامت کی نشانی ہے۔ اسی بجھتی ہوئی روشنی کو قرآنی تعلیمات کافی حد تک بچا سکتی ہیں۔ شرط یہ ہے کہ وہ لوگ جن پر اللہ کا کرم ہے اور وہ کچھ سوجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ سر پر کفن باندھ کر میدان میں نکل آئیں اور اللہ کی آیات کو جو کہ فضل و کرم ‘ امن و سکون اور روحانی و اخلاقی تربیت کا خزانہ ہیں لوگوں کو ہر صورت سنائیں۔ جیسا کہ سورة نور میں ایسے احکامات انتہائی جامع انداز میں بیان ہوئے ہیں جو انسانوں کی زندگیوں کی بنیادیں مضبوط کرسکتی ہیں آیت ایک سے دس کے تمام احکامات عفت وعصمت پر دست اندازی ‘ حد زنا ‘ حد قذف اور پھر لعان پر مشتمل تھیں۔ قرآن کا اصول ہے کہ ہر بات دلیل کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ جھوٹی تہمت ‘ افواہوں کا پھیلانا اور ان پر گناہ و عذاب جاری ہونا اور معصوم انسان کی اللہ کی طرف سے حفاظت کی ذمہ داری کا ثبوت ان مندرجہ بالا آیات میں بڑی وضاحت سے مثال کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ ہوا یوں جب مخالفین نے مسلمانوں کی کامیابیوں سے حسد کی آگ میں جلنا شروع کیا تو طرح طرح کی سازشوں میں لگے رہتے تھے۔ ان میں سے ایک سازش واقعہ افک بھی ہے۔ صحیحین اور دوسری احادیث کی کتابوں میں یہ واقعہ اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ مختصراً بیان کیا جاتا ہے۔ 6 ھ رسول اللہ ﷺ غزوہ بنی المصطلق کے لیے روانہ ہوئے تو سیدہ عائشہ ؅آپ ﷺ کے ساتھ تھیں واپسی پر مدینہ سے کچھ فاصلے پر قافلے نے رات بھر کے لیے پڑائو ڈالا۔ علی الصبح سیدہ عائشہ ؅رفع حاجت کے لیے جنگل کی طرف گئیں واپسی پر دیکھا کہ ان کا ہار کہیں گرگیا ہے۔ ڈھونڈنے کے لیے واپس گئیں۔ ہار تو مل گیا مگر جب واپس ٹھکانے پر پہنچیں تو دیکھا کہ قافلہ روانہ ہوچکا تھا۔ قافلے والوں نے ان کا ہودج اٹھا کر اونٹ پر رکھ دیا اور یہ معلوم ہی نہ ہوسکا کہ وہ اس میں موجود ہیں یا نہیں۔ کیونکہ ہودج چاروں طرف سے بند تھا۔ آپ پریشان ہوئیں مگر کیا کرتیں یہ سوچ کر کہ ان کی عدم موجودگی پر قافلے والے خود ہی ان کی تلاش میں واپس آجائیں گے۔ وہ ادھر ہی چارد لے کر لیٹ گئیں اور سو گئیں۔ اتنے میں صفوان بن معطل صحابی ؓ جو اسی ڈیوٹی کے لیے پیچھے رہ گئے تھے کہ قافلہ کی جگہ پر اچھی طرح دیکھ بھال کر کے بعد میں آئیں کہ کوئی چیز رہ گئی ہو تو لے آئیں۔ انہوں نے جب سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کو دیکھا کہ وہ سوئی ہوئی تھیں۔ ان کے چہرے سے پردہ ہٹا ہوا تھا اور انہوں نے پردہ کا حکم نازل ہونے سے پہلے انھیں دیکھا تھا تو ” اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ “ پڑھا۔ ان کی آواز سے آپ ؅ جاگ گئیں اور فورًا اپنے چہرے پر پردہ گرا لیا۔ صفوان بن معطل ؓ نے آپ کو دیکھا تو اونٹ آپ کے قریب بٹھا دیا۔ آپ اس پر سوار ہوگئیں۔ صحابی نے اونٹ کی نکیل پکڑی اور پیدل چلتے ہوئے قافلے تک جا پہنچے۔ اس پر مشہور منافق عبداللہ بن ابی نے طوفان اٹھا دیا اور چاروں طرف سیدہ عائشہ ؓ پر تہمت اور الزام کی غلط خبر پھیلا دی۔ جس کی وجہ سے وہ آنحضرت ﷺ کی عزت کو (نعوذ باللہ) خراب کرنا چاہتا تھا۔ کچھ معصوم مسلمان بھی اس کی چال کا شکار ہو کر بدگمانی میں پڑنے لگے جیسا کہ مردوں میں سیدنا حسان ؓ اور سیدنا مسطح ؓ عورتوں میں سیدہ حمنہ؅۔ ظاہر ہے الزام تراشی اور افواہ سازی دوسرے فریق کو بدنام کرنے اور پریشان کرنے اور پھر منتشر کرنے کا بہترین ہتھیار ہے۔ مگر یہ معاملہ تھا پیارے نبی ﷺ اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؅ کا تو اس کا انجام بخیر ہوا اگرچہ ایک ماہ تک آپ ﷺ کی زوجہ محترمہ اور دیگر صحابہ کو پریشانی اٹھانی پڑی۔ ایک ماہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے سیدہ عائشہ ؅کی بےگناہی میں بہتان لگانے والوں اور اس میں شریک ہونے والوں کی مذمت میں سورة النور کی مندرجہ بالا دس آیات نازل فرمائیں۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی انتہائی عزت افزائی ہے کہ خاص طور سے قرآن پاک میں ان کا نام ہمیشہ ہمیشہ کے لیے عزت احترام ‘ پاکدامنی اور نیک نامی کے طور پر لکھ دیا گیا ہے اور مسلمانوں کو اسلامی سوسائٹی کو بہترین بنائے رکھنے کے بہترین اصول قوانین اور طریقے بتا دیے گئے ہیں۔ اب یہ ہم مسلمانوں کا فرض ہے کہ ان تمام ارشادات کو پلے باندھ کر امن و سکون اور خیر و عافیت سے زندگیاں گزاریں اور نافرمان مشرک اور غافل لوگوں کے لیے بھی بتا دیا گیا ہے کہ ” ایسے لوگ جو چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بدکاری کا چرچا ہو ان کے لیے دردناک عذاب ہے دنیا و آخرت میں بیشک اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ “ (النور آیت : 16 ) اسلامی سوسائٹی نے ان برائیوں کی نشاندہی بھی کی ہے جن سے بچنا چاہیے۔ (1) جھوٹا الزام۔ (2) بغیر تحقیق کے سنی سنائی بات آگے بیان کرنا۔ (3) بغیر ثبوت کے الزام لگانا۔ (4) فحش کاموں اور باتوں سے نہ بچنا۔ (5) گناہ سے نہ بچنا۔ (6) اللہ کا خوف ہر وقت دل میں نہ رکھنا۔ (7) دوسرے کی عزت کا خیال نہ رکھنا۔ (8) آپس میں ہمدردی اور سلوک سے نہ رہنا۔ (9) بد گمانی کرنا۔ (10) کسی کی بری بات کو پھیلانا۔ (11) ہر صورت تقویٰ اور پرہیزگاری کا خیال نہ رکھنا۔ اس کے برعکس جو معاشرہ ان تمام برائیوں سے پاک ہو وہ بھلا کیونکر ترقی نہ کرے گا۔ اور پھر اس میں خود انسان کے لیے سکون ہی سکون ہے۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ قرآن کے اصول و قوانین کسی زمانے میں بھی خواہ ترقی پذیر ہو، ترقی یافتہ ہو یا پسماندہ نامناسب نہیں ہوتے بلکہ ہر لحاظ سے فٹ ہوتے ہیں۔ اقبال مسلمان کی تعریف یوں کرتے ہیں ؎ غرض میں کیا کہوں تجھ سے کہ وہ صحرا نشیں کیا تھے جہاں گیرو جہاں دارو جہاں بان و جہاں آرا (اقبال) مطلب یہ ہے کہ دور اول کے مسلمان میں اتنی صفات تھیں کہ بیان سے باہر ہے۔ ان صحرانشینوں (صحرائوں میں رہنے والے) کی ساری زندگی صحرائوں اور بیابانوں میں گزری مگر یہ اسلام اور قوانین اسلام کی ہی برکت تھی کہ ایمان لانے کے بعد انہوں نے نہ صرف دنیا کے ایک بڑے حصہ کو فتح ہی کیا بلکہ جدید طرز کی سلطنت بھی قائم کر کے دکھائی۔ دنیا کے نظام کو ٹھیک کیا۔ زندگی ‘ حکومت اور حکمرانی کے ایسے بہترین قوانین ‘ اصول و ضوابط جاری کیے کہ خلاف راشدہ کی صورت میں ایک مثالی نظام حکومت پیش کیا۔ سبحان اللہ۔ کیوں نہ ہو جس کا بچہ نوجوان ‘ جوان اور بوڑھا بہترین زندگی گزارنے کے لیے بہترین اصول جانتا ہو وہ بھلا کامیابیوں کی دوڑ میں پیچھے کیسے رہ سکتا ہے۔
Ayahs 24:21–26

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّبِعْ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ فَاِنَّهٗ یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ مَا زَكٰى مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا١ۙ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:21 in the Quran reader

مومنو ! شیطان کے کہنے پر نہ چلنا ‘ اور جو شخص شیطان کی پیروی کرے گا تو شیطان بےحیائی اور برے کاموں کی ترغیب دے گا اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو تم میں ایک بندہ بھی پاک نہ رہ سکتا مگر اللہ جس کو چاہتا ہے پاک کردیتا ہے اور اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔

وَ لَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَ السَّعَةِ اَنْ یُّؤْتُوْۤا اُولِی الْقُرْبٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْا١ؕ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:22 in the Quran reader

اور جو لوگ تم میں امیر اور صاحب استطاعت ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ رشتہ داروں ‘ محتاجوں اور مہاجرین کو کچھ مالی مدد نہ دیں گے۔ ان کو چاہیے کہ معاف کردیں اور درگزر کریں۔ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے ؟ اور اللہ تو بخشنے والا مہربان ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 24:23 in the Quran reader

جو لوگ پرہیزگار اور برے کاموں سے بیخبر اور ایمان دار عورتوں پر بدکاری کی تمہت لگاتے ہیں ان پر دنیا و آخرت میں لعنت ہے اور ان کو سخت عذاب ہوگا۔

یَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:24 in the Quran reader

قیامت کے دن جس روزان کی زبانیں ہاتھ اور پائوں سب ان کے کاموں کی گواہی دیں گے۔ (

یَوْمَئِذٍ یُّوَفِّیْهِمُ اللّٰهُ دِیْنَهُمُ الْحَقَّ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:25 in the Quran reader

اس دن اللہ ان کو ان کے اعمال کا پورا پورا اور ٹھیک بدلہ دے گا اور ان کو معلوم ہوجائے گا کہ اللہ برحق اور حق کو ظاہر کرنے والا ہے۔

اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَ الْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثٰتِ١ۚ وَ الطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَ الطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبٰتِ١ۚ اُولٰٓئِكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا یَقُوْلُوْنَ١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ۠ Open ayah 24:26 in the Quran reader

ناپاک عورتیں ناپاک مردوں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لیے، پاک عورتیں پاک مردوں کے لیے اور پاک مرد پاک عورتوں کے لیے ہیں۔ یہ لوگ ان باتوں سے جو کہتے ہیں بری ہیں۔ ان کے لیے بخشش اور عزت کی روزی ہے۔

شیطان کی چالوں سے اللہ کا فضل بچا سکتا ہے تشریح : ان آیات میں واقعہ افک کی کچھ وجوہات بیان ہوئی ہیں جن میں سب سے بڑی وجہ شیطان کی شرارت ہے۔ شیطان تو ہر وقت اور ہر صورت سے انسان کو بہکانے میں لگا رہتا ہے۔ کیونکہ وہ تو انسان کا پکا دشمن ہے اور کچھ انسانی کمزوری ہے کہ وہ جلدی شیطان کا شکار ہوجاتا ہے۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا ہے کہ اگر میرا فضل میری رحمت اور میری مدد انسان کو میسر نہ ہو تو اکثر و بیشتر انسان اس کے شکار ہوجائیں۔ افواہیں ‘ بدگمانیاں اور فتنے یہ سب شیطان کے راستے ہیں۔ انہی میں سے ایک واقعہ افک بھی تھا۔ جس کی وجہ سے بڑا ہنگامہ ہوا کئی نیک لوگ بھی اس کی لپیٹ میں آگئے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ اس سے سبق سیکھیں جو کوئی بھلائی کے راستے دکھائی دیتے ہیں ان کو اختیار کریں۔ برائی کے راستوں سے توبہ کریں اور پھر سیدنا ابوبکر ؓ کے رویہ کو بھی سامنے لا کر یہی سمجھایا گیا کہ جو ہوگیا سو ہوگیا۔ برائی کا بدلہ دنیا و آخرت میں اللہ ضرور دے گا مگر آپ سب لوگ دل صاف کر کے آپس میں بھلائی کا راستہ اختیار کرو۔ بائیسویں آیت کا شان نزول یہ ہے کہ سیدنا مسطح ؓ سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کے عزیزوں میں سے تھے۔ وہ چونکہ غریب تھے اس لیے سیدنا ابوبکر ؓ ان کی اور ان کے خاندان کی کفالت کرتے تھے اور ہر طرح سے ان کی مالی اعانت فرماتے تھے۔ جب سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کو معلوم ہوا کہ واقعہ افک میں مسطح ؓ بھی شریک ہیں تو آپ نے غصہ میں آکر کہا کہ میں آئندہ اس شخص کو کبھی مالی امداد نہ دوں گا، مگر جب یہ آیت نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل و کرم نازل کرنے اور بہتان لگانے کی برائی اور اس کی سخت سزا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ تم میں امیر اور صاحب استطاعت لوگ یہ قسم نہ کھائیں کہ وہ اپنے رشتہ داروں کی اعانت نہ کریں گے۔ بلکہ انہیں چاہیے کہ در گزر کریں اور بخش دیں۔ اللہ تعالیٰ چونکہ خود بخشنے والا اور مہربان ہے اس لیے وہ اپنے بندوں میں بھی یہ صفت دیکھنی پسند کرتا ہے۔ اس کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے دوبارہ مسطح ؓ اور اس کے خاندان کی مالی مدد جاری رکھی۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ :” جو اس دنیا میں بداعمالی کے عذاب سے بچ جائے گا تو وہ روز حساب سے ہرگز نہ بچ سکے گا۔ کیونکہ وہ تو ایسا حساب کا دن ہوگا کہ انسان کے اپنے اعضاء زبان ہاتھ اور پائوں خود اس کے خلاف گواہی دیں گے۔ اس سے بڑا انصاف کرنے کا اور کون سا ذریعہ ہوسکتا ہے۔ “ موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونا اور اعمال نامے کا سامنے موجود ہونا۔ یہ سب ایک عام آدمی کی سمجھ میں نہیں آرہا۔ لیکن قرآن کے بیان کے مطابق اس پر ایمان لانا لازمی ہے۔ سائنس دان اس حقیقت پر یقین کرنے لگے ہیں۔ کیونکہ اگر انسان ایک فلم سٹوڈیو میں ایکٹرز کی فلم بنا سکتا ہے جو ہم کسی بھی وقت بلکہ ان لوگوں کے مر چکنے کے کافی عرصہ بعد تک کو حرکات و سکنات کرتے دیکھ سکتے ہیں تو کیا اللہ کے پوشیدہ کیمرے جو فضائی لہروں کی صورت میں ہر طرف پھیلے ہوئے ہیں جن کو فرشتے یا اللہ کا بنایا ہوا نظام کہتے ہیں وہ اس قدر مضبوط اور معقول کیوں نہیں ہوسکتا کہ وہ ہر شخص کی زندگی کی مکمل فلم تیار کرسکے اور وقت آنے پر ہمارے سامنے چلا کر اس کے مطابق سزا یا جزا دی جائے۔ اس موضوع پر پہلے بھی بڑی مدلل بحث ہوچکی ہے۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے جو ہمارے سامنے ضرور آکر رہے گی۔ جیسے اللہ نے ہمیں پہلے پیدا کیا ہے یہ حیرت انگیز طریقہ ہے۔ اسی طرح ہمیں دوبارہ ضرور پیدا کیا جائے گا۔ اور ہمارا حساب کتاب ضرور لیا جائے گا۔ کیونکہ ایک تو یہ ثابت ہوچکا ہے اور دوسرا اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بیشمار دفعہ اس بات کا اعلان کیا ہے۔ اور یہ ضرور ہوگا کہ جب انسان کی زندگی کی پوری فلم اس کے سامنے چلے گی تو وہ پکار اٹھے گا۔ القرآن : یہ کیسا دفتر ہے جس نے میرا چھوٹا بڑا کوئی کام بھی درج کیے بغیر نہیں چھوڑا ہے۔ ( سورة کہف آیت :49 ) مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کو ہر وقت اللہ کی مدد طلب کرتے ہوئے نیکی کی راہ اختیار کرنی چاہیے کسی کی برائی کا بدلہ لینا ضروری نہیں کیونکہ وہ سمیع وبصیر ہے بہترین فیصلہ کرنے والا ہے اور حاکم اعلیٰ ہے نیک و بد کے ظاہر و باطن کو ہر طرح سے خوب جانتا ہے۔ اور پھر اللہ نے نہ انسانوں کو بےمقصد پیدا کیا ہے اور نہ ہی پوری کائنات ہی بےمقصد پیدا کی گئی ہے۔ ” دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ (یہاں جیسا بوئے گا وہاں ویسا کاٹے گا) اللہ کی حکمت اور اسباب پر بھروسہ کرنا ہی بندگی ہے سکون اور چین کا باعث بھی ہے۔ جیسا کہ سیدنا یوسف (علیہ السلام) کا مصیبت میں پر سکون رہنا سیدنا یعقوب (علیہ السلام) کا اللہ پر مکمل بھروسہ رکھنا بیٹوں کو معاف کردینا۔ یہ سب صبرو شکر اور عفو درگزر کی بہترین مثالیں ہیں۔
Ayahs 24:27–29

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا وَ تُسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَهْلِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:27 in the Quran reader

مومنو ! اپنے گھروں کے سوا دوسرے لوگوں کے گھروں میں گھر والوں سے اجازت لیے اور ان کو سلام کیے بغیر داخل نہ ہوا کرو۔ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اور ہم یہ نصیحت اس لیے کرتے ہیں کہ شاید تم یاد رکھو۔

فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْهَا حَتّٰى یُؤْذَنَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ قِیْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ Open ayah 24:28 in the Quran reader

اگر تم گھر میں کسی کو موجود نہ پائو تو جب تک تم کو اجازت نہ دی جائے اس میں مت داخل ہو۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ اس وقت لوٹ جاؤ تو لوٹ جایا کرو یہ تمہارے لیے بڑی پاکیزگی کی بات ہے ‘ اور جو کام تم کرتے ہو اللہ سب جانتا ہے۔

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ مَسْكُوْنَةٍ فِیْهَا مَتَاعٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 24:29 in the Quran reader

ہاں اگر تم کسی ایسے مکان میں جاؤ جس میں کوئی نہ بستا ہو اور اس میں تمہارا کچھ مال رکھا ہوا ہو تو تم پر کچھ گناہ نہیں اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو پوشیدہ کرتے ہو اللہ کو سب معلوم ہے۔

کسی کے گھر میں داخل ہونے کے آداب تشریح : جیسا کہ آداب معاشرت کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ اسلام ہر چھوٹی بڑی بات کو سامنے رکھ کر اخلاقیات کا ایک اور نکتہ بیان کرتا ہے وہ یہ کہ کسی دوسرے کے گھر میں بلا اجازت اچانک نہ گھس جاؤ بلکہ گھر والوں سے اجازت طلب کرو۔ اگر ایک دفعہ جواب نہ ملے تو دوسری دفعہ پھر جواب نہ آئے تو تیسری دفعہ جواب نہ آئے تو لوٹ جاؤ۔ اسی طرح باقی تمام احکامات اس سلسلے میں مندرجہ ذیل آیات میں بیان کیے گئے ہیں ان پر عمل کرنا فرض ہے۔ جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمیں ان تمام احکامات میں کوئی مشکل بات نظر نہیں آتی بلکہ سب کے سب انسان کے سکون راحت اور خیر خواہی کے موجب ہیں۔ کیونکہ ان میں انسان کے ذاتی آرام اور پرائیویسی کا پورا پورا خیال رکھا گیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اخلاص سے اللہ کے بنائے ہوئے احکامات کی تعمیل کریں۔ کیونکہ اللہ رب العزت ہر عمل کے وقت انسان کی نیت سے بخوبی واقف ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ فرماتا ہے : ” اور اللہ کو معلوم ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو۔ “ (النور آیت :29 )
Ayahs 24:30–31

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 24:30 in the Quran reader

مومن مردوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں یہ ان کے لیے بڑی پاکیزگی کی بات ہے اور جو کام یہ کرتے ہیں اللہ ان سے خبردار ہے۔

وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ١۪ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآئِهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآئِهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآئِهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرٰتِ النِّسَآءِ١۪ وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّ١ؕ وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:31 in the Quran reader

اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش (زیور) کے مقامات کو ظاہر نہ ہونے دیا کریں مگر جو اس میں سے کھلا رہتا ہے اور اپنے سینوں پر اوڑھنیاں اوڑھا لیا کریں۔ اپنے خاوند ‘ اپنے باپ ‘ سسر ‘ بیٹوں اور خاوند کے بیٹوں (سوتیلے بیٹے) بھائیوں ‘ بھتیجوں ‘ بھانجوں ‘ اپنی ہی قسم کی عورتوں اور لونڈی غلاموں کے سوا اور ان نوکروں کے جو عورتوں کی خواہش نہ رکھیں یا ایسے لڑکوں کے جو عورتوں کے پردے کی چیزوں سے واقف نہ ہوں۔ غرض ان لوگوں کے سوا کسی پر اپنی زینت اور سنگار کے مقامات کو ظاہر نہ ہونے دیں اور اپنے پائوں اس طرح زمین پر نہ ماریں کہ ان کا چھپا ہوا زیور ظاہر ہوجائے اور مومنو ! سب اللہ کے آگے توبہ کرو تاکہ فلاح پائو۔

کچھ اور اخلاقی آداب تشریح : معاشرے کی اخلاقی معاشرتی اور تمدنی برائیوں سے بچانے کے لیے چند اور اصول بتائے جا رہے ہیں جو کہ شرم و حیا قائم کرنے اور برے راستوں کو بند کرنے کا موجب ہیں۔ نگاہیں اللہ کی دی ہوئی ایسی نعمت ہے کہ اگر اس کو ٹھیک استعمال کیا جائے تو نعمت ورنہ زحمت کیونکہ ہر چیز آنکھوں کے ذریعے ہی دل میں اتر جاتی ہے اور اسی کے مطابق انسان کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ اسی لیے حکم ہوا کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ یعنی پردہ اور ستر پوشی کا سخت حکم دیا گیا ہے یہاں عورتوں کے لیے زیادہ تاکید اور بڑی وضاحت سے ان رشتہ داروں کے نام بتا کر وضاحت کردی گئی ہے کہ سوائے ان خاص عزیزوں کے باقی تمام مردوں سے پکا پردہ کریں۔ بعض لوگ چہرے کو پردے میں شامل نہیں کرتے اگر چہرے کا پردہ نہیں تو پھر عورت کی زینت کیا ہے ؟ چہرے کا پردہ کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اور اپنی چال ڈھال بات چیت سج دھج سے ہرگز کوئی ایسا عمل نہ کریں کہ جس سے دیکھنے والوں کے دل میں کسی بھی قسم کا کوئی شیطانی خیال پیدا ہو۔ یعنی معاشرے میں سے بیشمار گناہوں کا سد باب کردیا گیا ہے لباس کا تعین بھی کردیا گیا ہے مردوں کے لیے اور عورتوں کے لیے بھی لباس ایسا ہونا چاہیے کہ جس سے جسم سے کوئی بھی پوشیدہ حصہ ننگا نہ ہو اور نہ ظاہر ہو۔ کیونکہ اس سے انسانی سفلی جذبات ابھرتے ہیں اور یہی سفلی جذبات ہی انسان کو بد راہ کرتے ہیں اور پھر اس گمراہی اور بدراہی سے ہی تمام برائیوں کی بنیاد رکھی جاتی ہے، لہٰذا اس بنیاد کو ہی ختم کردیا گیا کہ لباس ایسا پہنو کہ جس سے انسانی عظمت ‘ حسن کردار اور شرم و حیا کا مظاہرہ ہو، یعنی نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری۔ غیر اسلامی ممالک کی بدنصیبی ‘ بےسکونی اور گمراہی کا سبب ہی عریانی ہے۔ اسی لیے تو وہاں جانوروں والا جنسی معاشرہ ہے اور عورت کی عظمت اور قدروقیمت کوڑیوں کے برابر ہے۔ عورت انتہائی سستی اور بےوقعت ہو کر رہ گئی ہے۔ اور پھر وہاں کی عورت خوش ہے کہ اس کو آزادی ملی ہوئی ہے۔ یہ کیسی آزادی ہے کہ اس کا سکون عزت اور آبرو سرعام نیلام ہو رہی ہے۔ ہر اچھی بری نظر اس کے حسن کو دھندلا رہی ہے۔ جب کہ اسلام نے عورت کی حفاطت کے لیے پردہ کا حکم دے کر اس کو ہر ہر بلا سے باقاعدہ تحفظ دے دیا ہے۔ اور یہی اصل آزادی ہے۔ پردہ کے احکامات سورة الاحزاب میں 5 ہجری کو نازل ہوئے تھے پھر یہ واقعہ افک غزوہ بنی المصطلق سے واپسی پر پیش آیا جو کہ 6 ہجری میں ہوا۔ بہرحال سورة النور کی یہ آیات پردہ کے بارے میں پہلے نازل ہوئیں۔ پوری طرح شرعی پردہ کے تمام احکامات انشاء اللہ سورة احزاب میں دیکھیں گے۔ یہاں مختصراً صرف اتنا ہی بتایا گیا ہے جو کہ سورة نور میں آیا ہے۔ یعنی عورتوں کو چاہیے کہ اپنے دوپٹوں سے اپنے سینے چھپائے رکھیں جسم کے اعضاء اور بنائو سنگھار کسی پر ظاہر نہ کریں سوائے بھائی ‘ بھتیجا ‘ بھانجا ‘ لونڈی ‘ غلام اور نابالغ بچوں کے۔ باقی تفصیلات آگے آئیں گی ان شاء اللہ۔ آخر آیت میں توبہ کے دروازے کا ذکر ہے جو بھول چوک سے ہونے والے گناہوں کے لیے ہر وقت کھلا ہے اللہ تعالیٰ یوں فرماتے ہیں۔ ” اے ایمان والو اللہ کے سامنے سب مل کر توبہ کرو تاکہ تم بھلائی پائو۔ ( سورة نور آیت : 31 ) غرض پردہ ایک مضبوط ڈھال ہے عورت کے پاس برائیوں اور دنگا فساد سے بچنے کا۔
Ayahs 24:32–33

وَ اَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآئِكُمْ١ؕ اِنْ یَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ یُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:32 in the Quran reader

اور (اپنی قوم کی) بیوہ عورتوں کے نکاح کردیا کرو اور اپنے غلاموں اپنی لونڈیوں کے بھی جو نیک ہوں نکاح کردیا کرو۔ اگر وہ مفلس ہوں گے تو اللہ ان کو اپنے فضل سے خوشحال کر دے گا اور اللہ بہت وسعت والا اور جاننے والا ہے

وَ لْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ نِكَاحًا حَتّٰى یُغْنِیَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ مِمَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوْهُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْهِمْ خَیْرًا١ۖۗ وَّ اٰتُوْهُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ لَا تُكْرِهُوْا فَتَیٰتِكُمْ عَلَى الْبِغَآءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَنْ یُّكْرِهْهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنْۢ بَعْدِ اِكْرَاهِهِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:33 in the Quran reader

اور جو نکاح کی استطاعت نہ رکھتے ہوں وہ پاکدامنی اختیار کیے رہیں یہاں تک کہ اللہ ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے اور جو غلام تم سے مکاتبت چاہیں اگر تم ان میں صلاحیت اور نیکی پائو تو ان سے مکاتبت کرلو۔ اور اللہ نے جو مال تم کو دیا ہے اس میں سے ان کو بھی دو اور اپنی لونڈیوں کو اگر وہ پاکدامن رہنا چاہیں تو بےشرمی سے دنیاوی فوائد حاصل کرنے کے لیے بدکاری پر مجبور نہ کرنا اور جو ان کو مجبور کرے گا تو اس عمل پر ان کی پکڑ نہ ہوگی (مجبور کرنے والے کی پکڑ ہوگی) اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

بدی کو روکنے کے لیے مزید احکامات تشریح : ان آیات میں شرم و حیا اور معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے نکاح کی تاکید کی گئی ہے۔ کیونکہ نکاح انسان کی نفسانی خواہش پوری کرنے کا جائز اور حلال طریقہ ہے۔ اور اس طرح فحاشی بدکاری ‘ گمراہی اور فتنہ فساد کی روک تھام ہوجاتی ہے۔ پھر جیسا کہ اس وقت لونڈی غلام کا دور دورہ تھا کیونکہ یہ رسم رومن ائمپائر کے زمانے سے چلی آرہی تھی جو کہ نبی اکرم ﷺ کے زمانے تک تقریباً ختم ہوگئی تھی۔ اس کو ختم کرنے کے لیے ایک بڑا طریقہ مکاتبت کا شروع کیا گیا۔ مکاتبت کا مطلب ہے غلام اپنے آقا سے معاہدہ کرتا کہ اتنے عرصہ میں اتنا پیسہ میں ادا کر دوں گا تو آپ مجھے آزاد کریں گے۔ یہ لکھت پڑھت غلاموں کو آزادی حاصل کرنے کا بڑا آسان طریقہ تھا جس کا اسلام میں حکم دیا گیا ہے۔ اور پھر آزاد کردہ غلام کے لیے ایک سہولت یہ بھی رکھی گئی کہ آقا اپنے اللہ کے دیے ہوئے رزق میں سے مدد کے طور پر اپنے آزاد کردہ غلام کو ضرور دے تاکہ وہ اپنی آزاد زندگی کو اچھی طرح سہولت سے شروع کرسکے۔ لونڈی اور غلاموں کے نکاح کردینے کا حکم بھی اس برائی کو روکنے کے لیے دیا گیا ہے۔ ایک حکم اور بھی یہاں دیا گیا ہے کہ جو لونڈی پاکدامنی کی زندگی گزارنا چاہے تو اس کے آقا کو ہرگز اس بات کو اختیار نہیں کرنا چاہیے کہ جاہلیت کے رسم و رواج کے مطابق وہ اپنی لونڈی سے فحاشی کا کاروبار کروائے۔ کیونکہ اسلام نے تو اس کاروبار کو ہر صورت حرام کاروبار ٹھہراتے ہوئے روک دیا ہے۔ پھر مجبور و بےبس لونڈی کو خوشخبری سنائی ہے کہ اگر ظالم و جابر آقا کی مرضی سے اس کو یہ کاروبار کرنا پڑے تو اس کو اطمینان رکھنا چاہیے کہ اس فعل کا عذاب اس کو نہیں ملے گا بلکہ اس کے ظالم آقا کو ضرور ملے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ” کہ اللہ ان کی بےبسی کے بعد بخشنے والا مہربان ہے۔ (النور آیت : 33 ) آخر میں سوسائٹی کو پاک صاف رکھنے کے لیے ان تمام کھلی آسان اور سادہ آیات کا ذکر کیا گیا ہے جو اب تک اس سورت میں بیان کی گئی ہیں وہ ہدایات ہم ایک دفعہ یوں مختصراً دہرا لیتے ہیں۔ (1) گناہ کی حد بتائی گئی ہے۔ (2) بےگناہ پر تہمت لگانے کی مذمت اور سزا بتائی گئی ہے۔ (3) بیوی اور میاں کے تہمت لگانے کا جھگڑا نمٹایا گیا ہے۔ (4) سیدہ عائشہ ﷺ کی بےگناہی ظاہر کی گئی اور بد زبانوں کو ڈرایا گیا ہے۔ (5) بدی اور بدکاری کی روک تھام کے لیے نکاح کو ضروری کردیا گیا ہے۔ (6) پردے کا حکم اور پابندی فرض کی گئی ہے۔ (7) لونڈی غلاموں کے ساتھ بہترین سلوک کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ (8) فحاشی کے اڈے ختم کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ ظاہر ہے یہ تمام احکامات انسانوں کی بھلائی معاشرے کی اصلاح کے لیے نافذ کیے گئے ہیں۔ جن میں نہ تو کوئی مشکل ہے اور نہ ہی بےکار بات۔ پھر اس قادر مطلق کے بارے میں وضاحت کی گئی ہے جو سب سے بڑا اور مہربان ہے۔
Ayahs 24:34–38

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ وَّ مَثَلًا مِّنَ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 24:34 in the Quran reader

اور ہم نے تمہاری طرف روشن آیتیں نازل کی ہیں اور جو لوگ تم سے پہلے گزر چکے ہیں ان کی خبریں اور پرہیزگاروں کے لیے نصیحت ہے۔

اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌ١ؕ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍ١ؕ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّ لَا غَرْبِیَّةٍ١ۙ یَّكَادُ زَیْتُهَا یُضِیْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ١ؕ نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ١ؕ یَهْدِی اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌۙ Open ayah 24:35 in the Quran reader

اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے اس کے نور کی مثال ایسی ہے کہ گویا ایک طاق ہے اس میں چراغ ہے اور چراغ ایک قندیل میں ہے اور قندیل ایسی صاف شفاف ہے گویا موتی جیسا چمکتا ہوا تارا ہو ‘ اس میں ایک مبارک درخت کا تیل جلایا جاتا ہے یعنی زیتون کہ نہ مشرق کی طرف ہے نہ مغرب کی طرف ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تیل خواہ آگ اسے نہ بھی چھوئے جلنے کو تیار ہے بڑی روشنی پر روشنی ہو رہی ہے اللہ اپنے نور سے جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ دکھاتا ہے اور اللہ جو مثالیں بیان فرماتا ہے تو لوگوں کے سمجھانے کے لیے اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے

فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَ یُذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ١ۙ یُسَبِّحُ لَهٗ فِیْهَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِۙ Open ayah 24:36 in the Quran reader

وہ قندیل ان گھروں میں ہے جن کے بارے میں اللہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ بلند کیے جائیں اور وہاں اللہ کا ذکر کیا جائے اور ان میں صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہیں۔

رِجَالٌ١ۙ لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءِ الزَّكٰوةِ١۪ۙ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْهِ الْقُلُوْبُ وَ الْاَبْصَارُۗۙ Open ayah 24:37 in the Quran reader

ایسے مرد جن کو اللہ کے ذکر نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے سے نہ تجارت غافل کرتی ہے نہ خریدو فروخت۔ وہ اس دن سے جب خوف سے دل اور گھبراہٹ سے آنکھیں الٹ جائیں گی ڈرتے ہیں۔

لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 24:38 in the Quran reader

تاکہ اللہ ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھابدلہ دے اور اپنے فضل سے زیادہ بھی دے اور اللہ جس کو چاہتا ہے بےحساب رزق دیتا ہے۔

اللہ کے نور مثال اور مرد لوگوں کی تعریف تشریح : ان آیات میں اللہ کے اس صفاتی نام نور کی مثال دی گئی ہے ایک ایسے روشن، خوبصورت ترین چراغ کے ساتھ جس میں تیل بھی بہترین زیتون کے درخت کا پڑتا ہے۔ زیتون کے درخت کئی قسم کے ہوتے ہیں مگر بہترین درخت وہ ہوتا ہے جو کھلی فضا اور کھلی جگہ میں ہوتا ہے۔ اس کا تیل کھانے کے لیے اور جلانے کے لیے بہترین ہوتا ہے۔ زیتون کا درخت اس کا پھل اور اس کا تیل انسان کے لیے بےحد مفید شفاف اور صحت کے لیے بہترین غذائیت رکھتا ہے۔ اللہ کے نور کی تعریف کرنا بڑی مشکل بات ہے بہرحال اس وقت کے بہترین چراغ سے اللہ نے خود اپنے نور کو تشبیہ دی ہے۔ ہم تو صرف اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ اللہ کی تعریف انسان کے بس کی بات نہیں صرف اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ زمین و آسمان ان کا وجود ان کا کاروبار یعنی کائنات کا روشن ہونا اور نظام کائنات کا چلتے چلے جانا یہ سب اللہ کے نور کی ہی بدولت ہے۔ اللہ نے اپنے نور کی مثال جو لوگوں کو سمجھانے کے لیے دی ہے وہ بہترین ہے۔ ہم یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ جن لوگوں کے دلوں میں اللہ کے نور سے ایمان کی روشنی پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ ہدایت پاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں راہ راست پر چلاتا ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے نور ایمان نور ہدایت دیتا رہتا ہے۔ یہ تو اس کی خاص مہربانی ہے کہ وہ اس قندیل کو کس کے دل میں اور کس کے گھر میں روشن کرتا ہے۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے مومن کا دل اور اللہ کا گھر یعنی پاک صاف بہترین جگہ جس کو مسجد کا نام دیا گیا ہے منتخب کیا ہے۔ مومن کے دل کی تعریف تو یوں کی گئی ہے کہ وہ دنیا کی کسی چیز کی وجہ سے اللہ سے غافل نہیں ہوتا۔ نماز کی پابندی کرتا ہے۔ زکوٰۃ ادا کرتا ہے۔ اور آخرت کے خوف سے ہر وقت ڈرتارہتا ہے۔ اور یہ سب کچھ خلوص نیت سے کرتا ہے۔ اور پھر پاک گھر کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے کہ مساجد اللہ کے گھر ہیں ان میں ہر وقت اللہ کا نام لیا جاتا ہے اس کی تسبیح و تقدیس کی جاتی ہے۔ اس لیے اس کی پاکی ‘ صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھنا چاہیے جس میں یہ بھی شامل ہے کہ وہاں دنگا فساد بیہودہ باتیں اور شر انگیز گفتگو ہرگز نہ کی جائے کہ جس سے مسجد کا احترام مجروح ہو۔ مسجدیں بنانا ‘ ان کو سجانا ‘ ان کو صاف ستھرا رکھنا اور ان کا احترم کرنا بالکل واجب اور فرض ہے۔ پھر وہ گھر بھی قابل احترام ہیں جہاں اللہ کا نام کسی بھی صورت میں لیا جائے۔ ایسے گھروں پر اللہ کی خاص رحمتیں برستی ہیں اور ایسے لوگوں کو اللہ اپنے خاص فضل و کرم سے نوازتا ہے جن کے دل نور ایمان سے روشن ہوتے ہیں ایسے ہی لوگوں کے لیے اللہ فرماتا ہے ” تاکہ اللہ ان کو ان کے اعمال کا اچھابدلہ دے اور اپنے فضل سے زیادہ بھی دے اور اللہ جس کو چاہتا ہے بےحساب رزق دیتا ہے۔ ( سورة النور آیت :38 ) دعا ہے : اے اللہ ہمارے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔ آمین
Ayahs 24:39–40

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ بِقِیْعَةٍ یَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ یَجِدْهُ شَیْئًا وَّ وَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِۙ Open ayah 24:39 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے کہ جیسے میدان میں ریت ‘ کہ پیاسا اسے پانی سمجھے یہاں تک کہ جب اس کے پاس آئے تو کچھ بھی نہ پائے اور اللہ ہی کو اپنے پاس دیکھے تو وہ اسے اس کا پورا پورا حساب چکا دے اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے۔

اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ١ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ١ؕ اِذَاۤ اَخْرَجَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ۠ Open ayah 24:40 in the Quran reader

یا ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے، جیسے دریا کی گہرائی میں اندھیرے جس پر لہر چڑھی ہوئی ہو ‘ اس کے اوپر اور لہر آرہی ہو اور اوپر سیاہ بادل ہو غرض اندھیرے ہی اندھیرے ہوں ایک پر ایک چھایا ہوا جب اپنا ہاتھ نکالے تو کچھ نہ دیکھ سکے اور جس کو اللہ روشنی نہ دے اس کو کہیں بھی روشنی نہیں مل سکتی۔

اللہ کو نہ ماننے والوں کے اعمال ؟ تشریح : ان آیات میں کفار کے اعمال کو سراب سے تشبیہ دی گئی کہ جیسے دور سے ریت پیاسے کو پانی دکھائی دیتی ہے، حالانکہ وہ پانی نہیں ہوتا بلکہ ایسے ہی برے اعمال دور سے اچھے دکھائی دیتے ہیں مگر اصل میں وہ سوائے دھوکے کے اور کچھ نہیں ہوتے سچ اور حق تو اللہ ہی ہے وہ حساب لینے میں کبھی نہ غلطی کرتا ہے نہ بےانصافی سے کام لیتا ہے اور کچھ تو اللہ کے اس قانون کی گرفت میں فوراً آجاتے ہیں۔ کہ ” جو کیا پالیا۔ “ یعنی مکافات عمل کی گرفت۔ اسی طرح کفار کے بداعمال کو ان اندھیروں سے تشبیہ دی گئی ہے جو گہرے سمندر میں تہہ در تہہ لہروں کے نیچے اس صورت میں کہ کالے بادل بھی چھائے ہوئے ہوں وہاں ایسی تاریکی زبردست ہوتی ہے کہ ہاتھ بھی دکھائی نہیں دیتا تو کفار گناہ پر گناہ کفر پر کفر اسی طرح کرتے چلے جاتے ہیں کہ ان کے دل و دماغ کے لیے ایمان کی کوئی ہلکی کرن بھی نہیں پہنچ سکتی۔ یعنی نہ تو وہ ہدایت حاصل کرنے کا سوچتے ہیں نہ کوشش کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کے لیے ہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” جس کو اللہ تعالیٰ روشنی نہ دے اس کو کہیں بھی روشنی نہیں مل سکتی۔ (سورۃ النور آیت :40 ) ڈاکٹر غلام مرتضیٰ صاحب نے اس آیت سے ایک سائنسی نقطہ بیان کیا ہے کہ ” پانی میں سے روشنی کی لہریں نہیں گزر سکتیں۔ “ (انوار القرآن صفحہ 438 ) جیسا کہ بادل سورج کی روشنی کو زمین پر آنے سے روک دیتے ہیں اسی طرح اعمال بد کافر کے دل کو ایمان کی روشنی سے محروم رکھتے ہیں۔ جب ایک شخص اللہ کو ہی نہیں مانتا جو کہ سراسر نور ہی نور ہے ہدایت کا۔ روشنی ہی روشنی ہے تو اس کو سوائے گناہ و کفر کی تاریکی کے اور کیا ملے گا ؟ مذہب اسلام میں کوئی زبردستی نہیں۔