24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 24:41–50

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍ١ؕ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِیْحَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 24:41 in the Quran reader

کیا تو نے نہیں دیکھا کہ جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اللہ کی تسبیح کرتے رہتے ہیں اور پر پھیلائے ہوئے پرندے بھی سب اپنی نماز اور تسبیح کے طریقوں سے واقف ہیں اور جو کچھ وہ کرتے ہیں سب اللہ کو معلوم ہے۔

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 24:42 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُزْجِیْ سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَهٗ ثُمَّ یَجْعَلُهٗ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ وَ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْهَا مِنْۢ بَرَدٍ فَیُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَصْرِفُهٗ عَنْ مَّنْ یَّشَآءُ١ؕ یَكَادُ سَنَا بَرْقِهٖ یَذْهَبُ بِالْاَبْصَارِؕ Open ayah 24:43 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہی بادلوں کو چلاتا ہے پھر ان کو آپس میں ملا دیتا ہے پھر ان کو تہہ بہ تہہ کردیتا ہے پھر تم دیکھتے ہو کہ بادل میں سے مینہ نکل کر برس رہا ہے اور آسمان میں جو اولوں کے پہاڑ ہیں ان سے اولے نازل کرتا ہے تو جس پر چاہتا ہے برسا دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ہٹا دیتا ہے اور بادل میں جو بجلی ہوتی ہے اس کی چمک آنکھوں کو خیرہ کر کے بینائی کو اچک لیے جاتی ہے۔

یُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 24:44 in the Quran reader

اللہ ہی رات اور دن کو بدلتا ہے سمجھنے والوں کے لیے اس میں بڑی عبرت ہے۔

وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى بَطْنِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى رِجْلَیْنِ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰۤى اَرْبَعٍ١ؕ یَخْلُقُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 24:45 in the Quran reader

اور اللہ ہی نے چلنے پھرنے والے جاندار کو پانی سے پیدا کیا تو اس میں بعض ایسے ہیں کہ پیٹ کے بل چلتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو دو پائوں پر چلتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو چار پاؤں پر چلتے ہیں اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 24:46 in the Quran reader

ہم ہی نے روشن آیتیں نازل کی ہیں اور اللہ جس کو چاہتا ہے سیدھے رستے کی طرف ہدایت کرتا ہے

وَ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالرَّسُوْلِ وَ اَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:47 in the Quran reader

اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور رسول پر ایمان لائے اور ان کا حکم مان لیا پھر اس کے بعد ان میں سے ایک فرقہ پھرجاتا ہے اور یہ لوگ ایمان والے ہی نہیں ہیں۔

وَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 24:48 in the Quran reader

اور جب ان کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ اللہ اور رسول ان کا فیصلہ چکا دیں تو ان میں سے ایک فرقہ منہ پھیر لیتا ہے۔

وَ اِنْ یَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْۤا اِلَیْهِ مُذْعِنِیْنَؕ Open ayah 24:49 in the Quran reader

اگر ان کو حق ملتا ہو تو گردن جھکا کر چلے آئیں۔

اَفِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْۤا اَمْ یَخَافُوْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ بَلْ اُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 24:50 in the Quran reader

کیا ان کے دلوں میں بیماری ہے یا یہ شک میں ہیں یا ان کو یہ خوف ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان کے حق میں ظلم کریں گے ؟ نہیں ! بلکہ یہ خود ظالم ہیں۔

ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے، تخلیق الٰہی کے نمونے اور منافقین کارویہ تشریح : ان آیات میں اللہ کی حاکمیت کو بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ انسان کو غور کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ اگر غور کریں تو آسمان و زمین اور تمام چرند پرند اللہ کی موجودگی اور حاکمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ اور پھر دوسری بات یہ کہ ہر پرندہ اور ہر چیز اللہ کی تسبیح کر رہی ہے۔ جو طریقہ اللہ نے اس کو سکھا رکھا ہے اس کے مطابق تسبیح کر رہی ہے۔ پھر بادلوں کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے۔ بادل ‘ ہوائیں ‘ بارش اور اولے یہ سب اللہ تعالیٰ کے نظام اور ایک بہت بڑی حکمت کے تحت وجود میں آتے ہیں انسان لاکھ ترقی کرلے زور لگا لے یہ نظام نہ پیدا کرسکتا ہے نہ چلا سکتا ہے۔ ڈاکٹر موریس بکائے سائنسی تحقیقات کے بعد یوں بیان کرتے ہیں۔ ” بادلوں کی دس بڑی قسمیں ہیں۔ تین قسم کے بادل بڑی بلندی پر ہوتے ہیں دو قسم کے درمیانہ بلندی پر تیسری قسم کے نہایت کم بلندی پر دو قسمیں ایسی ہیں جو نیچے سے اوپر کی طرف بڑھتی چلی جاتی ہیں اور ان کی بلندی بعض اوقات کئی کئی میل کی ہوتی ہے۔ اور اوپر کے بادلوں میں اتنی ٹھنڈ ہوتی ہے کہ پانی کے بخارات منجمد ہو کر برف کے تراشے بن جاتے ہیں اس لیے ان سے بارش ہونے کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔ متوسط بادلوں میں سے ایک قسم اور زیریں بادلوں میں سے دو قسمیں ایسی ہیں ‘ جن سے بارش کا امکان ہوتا ہے۔ ان میں بھی زیریں قسم کے بادل ” سحاب باراں “ بارش کے لیے مخصوص ہیں۔ اوپر کی طرف بڑھنے والے بادلوں میں کیومیونمبس سے گرج چمک اور ژالہ باری ہوتی ہے سحاب باراں کے ٹکڑے بدلیاں کہلاتی ہیں وہ بھی بارش برساتی ہیں۔ جب مائیات کی جدید معلومات کا موازنہ ان بیانات سے کیا جاتا ہے جو قرآن کی متعدد آیات میں ملتا ہے۔ تو یہ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ ان میں بڑی مطابقت پائی جاتی ہے۔ (بائبل قرآن اور سائنس) جب یہ تمام حقائق ہمیں پتہ چلتے ہیں تو پھر انسان کو اپنی کمزوری اور اللہ کی بےپناہ طاقت کا خوب اندازہ ہوجاتا ہے کوئی شخص نہ تو اس انتظام میں دخل دے سکتا ہے نہ خود کرسکتا ہے تو پھر انسان بےاختیار کہہ اٹھتا ہے سبحان اللہ۔ لا الہ الا اللہ۔ سب تعریف اللہ کے لیے ہے اور اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ بات یہیں ختم نہیں ہوجاتی پھر سوچنا پڑتا ہے کہ کسی حکمت سے سمندر سے اٹھ کر دور دراز علاقوں میں تمام مخلوقات کی زندگی کا بندوبست کس خوبی اور ریاضیاتی توڑ جوڑ سے کیا جاتا ہے۔ پانی کے باریک قطرے کائناتی دھول کے گرد اکٹھا ہو کر بادل بنتے ہیں یہ معلوم نہیں کہ دھول کے ذرے بادل میں کس طرح ٹھہرتے ہیں۔ پھر یہ کہ پانی زندگی کے لیے انتہائی ضروری ہے کوئی بھی زندہ چیز پانی کے بغیر سوکھا ہوا پنجر ہے چاہے وہ DNA اور جینیانی فارمولے محفوظ کیے ہوئے ہوتا ہے۔ یہ نہ تو تخلیقات کو بڑھا سکتا ہے نہ حرکت کرسکتا ہے۔ جب پانی آتا ہے تو اسے اپنے ؓ اور QH آئن سے ہائیڈروجن مہیا کرتا ہے تو حیاتیاتی فارمولا CODE اچانک کام شروع کردیتا ہے۔ مگر یہ خوردبینی اجسام کے لیے ہے۔ پھر یہ کہ ہر جاندار پانی سے پیدا ہوا ہے۔ سب کا ایک ہی فارمولہ ہے مگر حیرت کی بات ہے کہ لاکھوں کروڑوں اربوں کھربوں قسم کے حشرات الارض ‘ چوپائے اور دریائوں پر چلنے والی مخلوقات ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ شیرنی کا بچہ شیر ہی ہوتا ہے خرگوش نہیں ہوسکتا۔ تمام مخلوقات کے رنگ ‘ عادات ‘ شکلیں اور آوازیں بالکل مختلف ہیں۔ اور صرف انسان کو ہی علم ‘ عقل اور ارادہ دیا گیا ہے جب کہ یہ بھی حیوان ہی شمار ہوتا ہے ہاں یہ فرق ہے کہ اس کو حیوان ناطق (بولنے والا حیوان) کہتے ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ کی قدرت اور اپنی تخلیقات پر اس کا پورا پورا کنٹرول ظاہر کرنے کے لیے کافی نہیں ہے ؟ یہ تو صرف چند معمولی حقائق ہیں پوری کائنات اس طرح کے بیشمار حقائق سے بھری پڑی ہے۔ مگر پھر بھی کئی بیوقوف لوگ ایمان لے آنے کے بعد بھی ایمان کے راستے سے ہٹ جاتے ہیں۔ تو ایسے لوگوں کا کوئی علاج نہیں۔ اصل میں یہ ایمان پوری طرح لاتے ہی نہیں بلکہ شکوک و شبہات میں ہی گھرے رہتے ہیں اور اپنے اوپر ظلم کرتے رہتے ہیں۔ اللہ نے ایسے ہی لوگوں کے لیے کہا ہے۔ ” بلکہ وہ خود ظالم ہیں۔ (النور آیت : 50) ایسے لوگ منافق کہلاتے ہیں۔
Ayahs 24:51–52

اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:51 in the Quran reader

مومنین کی تو یہ بات ہے کہ جب اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جائیں تاکہ وہ ان میں فیصلہ کریں تو کہیں گے ہم نے حکم سن لیا اور مان لیا اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَخْشَ اللّٰهَ وَ یَتَّقْهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 24:52 in the Quran reader

اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا اور اللہ سے ڈرے گا تو ایسے ہی لوگ مراد کو پانے والے ہیں۔

مؤمنین کی پہچان تشریح : مومن کا مطلب ہی یہ ہے کہ جو ایمان لے آئے، یعنی اللہ اور اس کے رسول کو سچا مان لے اور جو اللہ و رسول پر ایمان لے آتا ہے تو پھر وہ اپنے ہر معاملے کا فیصلہ ان کے مقرر کیے گئے احکامات کے مطابق کرتے ہیں تو ظاہر ہے اس طرح وہ فلاح پاتے ہیں اور مزے میں رہتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے اللہ نے فرمایا ہے۔” وہی مراد کو پہنچنے والے ہیں۔ ( آیت 52 النور)
Ayahs 24:53–61

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ اَمَرْتَهُمْ لَیَخْرُجُنَّ١ؕ قُلْ لَّا تُقْسِمُوْا١ۚ طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:53 in the Quran reader

اور یہ اللہ کی پختہ قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر تم ان کو حکم دو تو سب گھروں سے نکل کھڑے ہوں کہہ دو کہ قسمیں مت کھائو اچھی فرمانبرداری چاہیے بیشک اللہ تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے۔

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوْهُ تَهْتَدُوْا١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:54 in the Quran reader

کہہ دو کہ اللہ کی فرمانبرداری کرو اور اللہ کے رسول کے حکم پر چلو اگر منہ موڑو گے تو رسول پر اس چیز کا ادا کرنا ہے جو ان کے ذمے ہے اور تم پر اس چیز کا ادا کرنا ہے جو تمہارے ذمے اور اگر تم ان کے فرمان پر چلو گے تو سیدھا راستہ پالو گے اور رسول کے ذمے تو صاف صاف احکام الٰہی پہنچا دینا ہے۔

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١۪ وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا١ؕ یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْئًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 24:55 in the Quran reader

جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کو ملک کا حاکم بنا دے گا جیسا ان سے پہلے لوگوں کو حاکم بنایا تھا اور ان کے دین کو جسے اس نے ان کے لیے پسند کیا ہے مستحکم اور پائیدار کر دے گا اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں گے اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے لوگ بدکردار ہیں۔

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 24:56 in the Quran reader

نماز پڑھتے رہو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور رسول اللہ کے فرمان پر چلتے رہو تاکہ تم پر رحمت کی جائے۔

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 24:57 in the Quran reader

اور ایسا خیال نہ کرنا کہ کافر لوگ ہمیں زمین میں مغلوب کردیں گے یہ جا ہی کہاں سکتے ہیں ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاْذِنْكُمُ الَّذِیْنَ مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ١ؕ مِنْ قَبْلِ صَلٰوةِ الْفَجْرِ وَ حِیْنَ تَضَعُوْنَ ثِیَابَكُمْ مِّنَ الظَّهِیْرَةِ وَ مِنْۢ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَآءِ١ؕ۫ ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ وَ لَا عَلَیْهِمْ جُنَاحٌۢ بَعْدَهُنَّ١ؕ طَوّٰفُوْنَ عَلَیْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:58 in the Quran reader

مومنو ! تمہارے غلام لونڈیاں اور جو بچے بالغ نہیں ہوئے تین اوقات میں تم سے اجازت لے لیا کریں۔ ایک تو صبح نماز سے پہلے دوسرے گرمی کی دوپہر کو جب تم کپڑے اتار دیتے ہو اور تیسرے عشاء کی نماز کے بعد یہ تین اوقات تمہارے پردے کے ہیں ان کے آگے پیچھے یعنی دوسرے وقتوں میں نہ تم پر کچھ گناہ ہے نہ ان پر کہ کام کاج کے لیے ایک دوسرے کے پاس آتے جاتے ہو اس طرح اللہ اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے اور اللہ بڑا علم والا اور حکمت والا ہے۔

وَ اِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا كَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:59 in the Quran reader

اور جب تمہارے لڑکے بالغ ہوجائیں تو ان کو بھی اسی طرح اجازت لینی چاہیے جس طرح ان سے اگلے (یعنی بڑے آدمی) اجازت حاصل کرتے رہے ہیں۔ اس طرح اللہ تم سے اپنی آیتیں کھول کر بیان فرماتا ہے اور اللہ جاننے ولا اور حکمت والا ہے۔

وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَهُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِیْنَةٍ١ؕ وَ اَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:60 in the Quran reader

اور بڑی عمر کی عورتیں جن کو نکاح کی توقع نہیں رہی اور وہ کپڑے اتار رکھیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں یہ نہیں کہ اپنا سنگھار دکھاتی پھریں اور اگر اس سے بھی بچیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے اور اللہ (سب باتیں) سنتا (سب اعمال) جانتا ہے۔

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَاْكُلُوْا مِنْۢ بُیُوْتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآئِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اُمَّهٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اِخْوَانِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخَوٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَعْمَامِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ عَمّٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخْوَالِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ خٰلٰتِكُمْ اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗۤ اَوْ صَدِیْقِكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا١ؕ فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ تَحِیَّةً مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُبٰرَكَةً طَیِّبَةً١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 24:61 in the Quran reader

نہ تو اندھے پر کچھ گناہ ہے نہ لنگڑے اور نہ بیمار پر اور نہ خود تم پر کہ اپنے گھروں سے کھانا کھائو ‘ اپنے باپوں کے گھروں سے یا اپنی مائوں کے گھروں سے یا بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچائوں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموئوں کے گھروں سے یا اپنی خالائوں کے گھروں سے یا اس گھر سے جس کی کنجیاں تمہارے ہاتھ میں ہوں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے اور اس کا بھی تم پر کچھ گناہ نہیں کہ سب مل کر کھانا کھائو یا جدا جدا اور جب گھروں میں جایا کرو تو اپنے گھر والوں کو سلام کیا کرو یہ اللہ کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے۔ اس طرح اللہ اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم سمجھو۔

اللہ کی اطاعت، بچوں کیلئے آداب اجازت اور کھانے کے آداب تشریح : یہ اس زمانے کی بات ہے جب مدینہ آنے کے بعد بھی کفار ‘ مشرکین اور منافقین کی چالوں سے آپ ﷺ اور مسلمانوں کو واسطہ پڑتا رہتا تھا۔ تو اللہ نے اپنے نبی کو ان کی چالوں سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کو بتا دو ان کی اصل حقیقت اللہ سے چھپی ہوئی نہیں۔ اس لیے جو بھی اللہ و رسول کے احکامات سے دور بھاگتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ اللہ و رسول کو دھوکہ دے سکتا ہے تو یہ غلط خیال ہے اس کی سزا تو ان کو خوب اچھی طرح بھگتنی پڑے گی کیونکہ رسول نے پیغام دے دیا جو نیک عمل نہ کرے گا سزا پائے گا اور جو نیک عمل کرے گا اس سے اللہ کے تین وعدے ہیں۔ حکومت ‘ دولت اور امن۔ مگر اس کے لیے شرط یہ ہے کہ نماز قائم کرو ‘ زکوٰۃ دو اور رسول اللہ ﷺ کی خلوص دل سے اطاعت کرو۔ اور پھر اس بات کا اعلان کرنے کا حکم دیا کہ مسلمانوں کو اللہ کی مدد مل رہی ہے۔ اس لیے وہ کبھی بھی ناکام نہ ہوں گے۔ اور یہ سب وعدے اللہ نے پورے کردیے۔ اس کے بعد کچھ آداب زندگی بڑی وضاحت سے تمام رشتوں کو بیان کر کے میل جول کے اوقات مقرر کردیے گئے۔ وہ اوقات آرام کرنے کے ہوتے ہیں اس لیے خصوصی اجازت لینا ضروری ہے۔ فجر سے پہلے ظہر کے بعد اور عشا کے بعد۔ بظاہر یہ بڑی معمولی باتیں ہیں مگر اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے اس قدر محبت ہے کہ ماں کی طرح ہر چھوٹی بڑی بات وضاحت سے بتا دیتا ہے کہ لوگ خواہ مخواہ کی تکلیف سے بچ سکیں۔ واقعی ان اوقات میں اگر کوئی خلل ڈالے تو بڑی کوفت ہوتی ہے۔ پھر پردے کا ذکر پہلی آیات میں بڑی تفصیل سے ہوچکا ہے یہاں ان بوڑھی عورتوں کے بارے میں بتایا جا رہا ہے جن کو حیض آنا بند ہوجائے اور نہ خود ان کے اندر جنسی خواہش ہو نہ کسی مرد کو انہیں دیکھ کر کوئی خواہش پیدا ہو۔ کہ اگر وہ پردے کے بغیر نکلیں تو ان پر کوئی حرج نہیں اس سے مراد شلوار قمیض کے علاوہ اوپر کے پردے والی چادر ہے۔ اسی طرح بالغ لڑکوں کا حکم ہے کہ جب وہ بالغ ہوجائیں تو تمام احکامات ان کے لیے جوان مرد کے سے ہوجائیں گے پھر بچے والے احکامات اس پر عائد نہ ہوں گے۔ پھر یاد کروایا جا رہا ہے کہ یہ احکامات اس مہربان کی طرف سے بھیجے گئے ہیں جو سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ اسی طرح اس نے بندوں کے لیے آداب خانہ داری پوری وضاحت سے ہر رشتے کا نام لے کر بتا دیا ہے کہ کن لوگوں کے ساتھ مل کر تم بےتکلفی اور آسانی سے کھانا کھا سکتے ہو۔ یہ آپس کی محبت ‘ میل جول اور بھائی چارے کے لیے بےحد ضروری ہے اسی لیے اللہ نے یہ خود ہی تفصیل سے بتا دیا ہے اور فرما دیا ہے کہ یہ سب اس حکمت والے اور جاننے والے کی طرف سے احکامات جاری کیے گئے ہیں جو تمہاری زندگی کے ہر ہر مرحلے سے خوب اچھی طرح واقف ہے اور تمہاری مشکلات کو بھی خوب اچھی طرح جانتا ہے۔ کس قدر گہرائی سے اللہ تعالیٰ انسانوں کے مسائل کو جانتا ہے اسی سوسائٹی اور معاشرے کو صاف ستھرا رکھنے کے اور امن و سکوں اور باہمی محبت کو قائم رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے بڑی ہی وضاحت سے اپنے تمام احکامات بتا دیے ہیں۔ یہاں تک بتایا کہ ” جب اپنے گھروں میں جایا کرو تو اپنے گھر والوں کو سلام کیا کرو یہ اللہ کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے۔ (النور آیت :61 )
Ayahs 24:62–64

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اِذَا كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰۤى اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْهَبُوْا حَتّٰى یَسْتَاْذِنُوْهُ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:62 in the Quran reader

مومن تو وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور جو کام جمع ہو کر ‘ کرنے کا ہو اور پیغمبر ﷺ کے پاس جمع ہوں تو ان سے اجازت لیے بغیر نہیں چلے جاتے ‘ اے پیغمبر ﷺ ! جو لوگ تم سے اجازت حاصل کرتے ہیں وہی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں ‘ سو جب بھی یہ لوگ تم سے کسی کام کے لیے اجازت مانگا کریں تو ان میں سے جسے چاہو اجازت دے دیا کرو اور ان کے لیے اللہ سے بخشش مانگا کرو۔ کچھ شک نہیں کہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا١ؕ قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا١ۚ فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 24:63 in the Quran reader

مومنو ! پیغمبر کے بلانے کو ایسا خیال نہ کرنا جیسا تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو بیشک اللہ کو وہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں۔ تو جو لوگ ان کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو ڈرنا چاہیے کہ ایسا نہ ہو کہ ان پر کوئی آفت پڑجائے یا دردناک عذاب نازل ہو۔

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قَدْ یَعْلَمُ مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ١ؕ وَ یَوْمَ یُرْجَعُوْنَ اِلَیْهِ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 24:64 in the Quran reader

دیکھو جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے جس طریق پر تم ہو اسے جانتا ہے اور جس روز لوگ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے تو جو عمل وہ کرتے رہے وہ ان کو بتا دے گا اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔

رسول کریم ﷺ کو بلانے کے آداب اور آپ کی نافرمانی پر سزا تشریح : لوگوں کو آپس میں مل جل کر رہنے سہنے اور معاملات زندگی کے بہت سے پہلوئوں کو واضح کرنے کے بعد اب اللہ رب العزت نے حکم دیا ہے کہ تمام معاملات میں آنحضرت ﷺ کے معاملات میں خصوصی احتیاط کی ضرورت ہے۔ وہ یہ ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے بہت بڑا درجہ دیا ہے۔ بلکہ تمام انبیاء میں بھی آپ کو فضیلت اس طرح ملی ہے کہ آپ آخری نبی ہیں۔ کیونکہ آپ کے بعد نہ کوئی نبی آئے گا نہ کوئی شریعت اور نہ کوئی دین۔ تو ظاہر ہے ایسے عظیم الشان محسن انسانیت، حامل قرآن کی عزت و توقیر کسی بھی عام انسان کی طرح نہیں ہوسکتی۔ بلکہ آپ کے بلاوے پر فوراً حاضر ہونا۔ محفل کے آداب کا پورا پورا احترام کرنا اور چپکے سے بلا اجازت آپ کی مجلس میں سے کھسک جانا بڑا گناہ شمار ہوتا ہے۔ تو جو لوگ منافق تھے ان کو یہ خیال تھا کہ یہ دین چلنے والا نہیں اپنی ذاتی اغراض کی وجہ سے مسلمانوں میں شامل تو رہتے تھے مگر دل سے نہ نبی ﷺ کی عزت کرتے نہ ان کی بات پر دھیان دیتے نہ ہی شوق سے ان کی محفل میں بیٹھتے اور حکم ماننا تو بڑی دور کی بات ہے۔ تو ایسے لوگوں کے لیے درد ناک عذاب کا اعلان کیا گیا ہے اور پھر ان کو بتا دیا گیا ہے کہ یہ جو دھوکہ تم دے رہے ہو اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہو کیونکہ اللہ تو ہر بندے کی نیت خیال اور سوچ سے اچھی طرح واقف ہے زمین و آسمان کی ہر ہر چیز سے وہ واقف ہے کیوں نہ ہو ! اسی نے تو سب کچھ بنایا ہے اسی کے حکم سے چل رہا ہے۔ وہی ختم کر دے گا اور پھر لوٹ کر اسی کی خدمت میں حاضر ہو کر سزا اور جزا ملے گی۔ اسی لیے اللہ فرماتا ہے اور اللہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ “ (النور آیت :64 ) اصل میں یہ آخری آیات مسلمانوں کی جماعت کو مکمل طور پر منظم اور مضبوط کرنے کے لیے اتری تھیں۔ ان میں جو کچھ احکامات ہیں مسلم سوسائٹی کا امتیاز ہیں۔ اور یہ سب کچھ کیونکہ سیدنا محمد ﷺ نے ہمیں بتایا ہے اس لیے ان کی جتنی بھی عزت کی جائے احترام کیا جائے کم ہے۔ ان سے جتنی دعائیں لیں کم ہیں۔ حدیث ہے۔ سیدنا انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ ” یا رسول اللہ ! ﷺ میں سفر کا ارادہ رکھتا ہوں آپ مجھے زاد راہ عنایت فرمایے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” اللہ تمہیں تقویٰ کا زاد راہ عنایت فرمائے “ اس نے عرض کی کہ ” مجھے مزید عنایت کیجیے۔ “ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ” اللہ تیرے گناہ معاف فرمائے۔ “ اس نے عرض کی، میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں اور زیادہ مرحمت فرمائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ” جہاں کہیں بھی تم ہو اللہ تمہارے لیے بھلائی کو آسان فرمائے۔ “ (جامع ترمذی از اسوہ حسنہ) سورة نور کی خاصیتیں سورة النور واقعی مسلم سوسائٹی کے لیے روشن چراغ ہے۔ یوں تو پورا قران ہی ہدایت کا سرچشمہ ہے مگر اس وقت میں صرف سورة النور کا ذکر کروں گی اس کو سمجھ لینے کے بعد اس جادو اثر تبلیغ کا یقین ہوجاتا ہے جس نے عرب کے انتہائی پسماندہ کفر و شرک میں ڈوبے ہوئے لوگوں کو خیر امت اور بہترین و کامیاب ملت بنا دیا اور انہوں نے دنیا کے بیشترحصوں پر حکومت کی اور بہترین اصول و ضوابط حکمرانوں کو دیے اور لوگوں کو ایمان کی روشنی سے منور کردیا۔ یہ اخلاق و کردار اور بہترین سوسائٹی کا ہی نتیجہ تھا۔ پھر جیسے جیسے مسلمانوں نے مذہب سے دوری اختیار کی ویسے ویسے ان کا تنزل ہوتا چلا گیا۔ کیسے بہترین اصول ہیں جو سورة النور میں پڑھنے کو ملے ہر اصول روشنی کا چراغ ہے۔ زنا کی روک تھام۔ بدکاری سے بچنا۔ دوسروں کی عزت کی حفاظت۔ اپنی بیوی پر تہمت نہ لگانا۔ دوسروں کے گھروں میں جانے کے اصول۔ مرد و عورتیں نگاہیں نیچی رکھیں ‘ اپنی شرمگاہوں کی خفاطت کریں۔ نکاح کرنے کا فائدہ ‘ بدکاری سے بچائو۔ نفسانی خواہشات کو قابو میں رکھنا۔ غلاموں کے ساتھ مکاتبت کرنا۔ دوسروں سے ملاقات خاص وقتوں میں کرنا۔ پردہ کی تاکید۔ آپس میں مل کر کھانے پینے کے آداب۔ گھر میں آکر گھر والوں کو سلام کرنا۔ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان اور اللہ کی حاکمیت پر پورا پورا یقین کرنا۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت۔ آداب ِ رسول اور نافرمانی ٔ رسول کی سزا۔ واقعی ہر اصول سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہے۔