25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 25:1–2

تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَاۙ Open ayah 25:1 in the Quran reader

وہ بڑی برکت والا ہے جس نے اپنے بندے پر فرقان (قرآن) نازل فرمایا تاکہ اہل دنیا کو ڈرائے (ہدایت کرے) ۔

اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِیْرًا Open ayah 25:2 in the Quran reader

وہ ذات کہ آسمان اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے اور جس نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا اور بادشاہی میں جس کا کوئی شریک نہیں اور جس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کا ایک اندازہ ٹھہرایا۔

تشریح : یہ آیات اللہ کی برکت اس کی حاکمیت اور وحدانیت کو واضح کر رہی ہیں۔ وہ کس قدر عظیم ہے یہ تو جب محسوس ہوتا ہے جب اس کی پیدا کی ہوئی کائنات پر غور و فکر کرتے ہیں۔ ایمان لانا تو بعد کی بات ہے پہلے تو یہ تمام کائنات اور اس کی ہر چیز اللہ کے موجود ہونے کا ثبوت بڑا اچھا پیش کردیتی ہیں۔ دنیا کی ہر چیز دو عدموں (غیب) میں قید ہے۔ ایک عدم پیدائش سے پہلے تھا اور دوسرا موت کے بعد ہوگا۔ پہلے عدم میں ایک ایسے خالق کا موجود ہونا ضروری ہے جو پیدائش کا باعث ہو۔ کیونکہ کوئی چیز کسی خالق کے بغیر وجود میں نہیں آسکتی۔ اللہ ہی ایک ایسی ہستی ہے جو ہر تخلیق پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ اس حقیقت پر بیشمار شہادتیں اور دلیلیں موجود ہیں۔ وہی تو ہے جو ہماری دعائیں سنتا ہے۔ مصیبت میں ہماری مدد کرتا ہے۔ اسی نے ہمیں پیدا کیا جسمانی پرورش کے لیے ماں کو پیدا کیا اور پھر انواع و اقسام کی سہولتیں عطا کیں اور پھر روحانی پرورش یعنی رشدو ہدایت کے لیے نبی بھیجے اور آسمانی کتابیں نازل کیں اور پھر آخری نبی مبعوث کیا اور آخری کتاب نازل کی کہ لوگوں کو نیکی کی خوشخبری اور گناہوں سے ڈرنے کی تاکید کرے۔ کیا یہ سب کچھ اللہ کو پہچاننے کے لیے کافی نہیں ؟ مغرب کے ایک طبیعی رابرٹ کار کا قول ہے : اے میرے اللہ ! جب میں ان حسین دنیائوں کو دیکھتا ہوں جو تیرے مقدس ہاتھوں نے تعمیر کی ہیں ‘ جب میں ان جھلملاتے تاروں ‘ نشیلی گھٹائوں اور نیلی فضائوں پر نظر ڈالتا ہوں تو میری روح بےساختہ پکار اٹھتی ہے۔ کہ اے رب ! تو کتنا عظیم ہے “ ؟ (خدا موجود ہے صفحہ 220 ) پھر جب اس کی تخلیقات کے کمالات ‘ ناپ تول اور انداز پر غور کرتے ہیں تو سوائے سبحان اللہ کے اور کیا کہہ سکتے ہیں۔ کہ مدتوں سے چاند ‘ سورج نکل رہے ہیں مجال ہے کہ کوئی اپنے مدار سے ہٹ کر دوسرے کے مدار میں جا گھسے یہی تو اس کی کاریگری ہے جو وہ خود ہی بالکل اکیلا یہ سب چلا رہا ہے۔ کیونکہ وہ کسی کی مدد کا نہ محتاج ہے اور نہ ہی کبھی ہوگا۔ نہ اس کا بیٹا ہے جو اس کی نسل چلائے گا اور نہ ہی اس کا کوئی مشیر اور نہ ہی اس کا کوئی وزیر ہے بس وہ واحد ہے اپنی تمام بادشاہی میں اور اس کی سلطنت بڑی وسیع و عریض ہے جو اس کے حکم سے چل رہی ہے۔ اللہ فرماتا ہے۔ اور بادشاہی میں جس کا کوئی شریک نہیں۔ (الفرقان آیت :2 ) اجالا ہو یا چھا رہا ہو اندھیرا ہے اس کی نظر میں ہر اک کام میرا وہ سب کچھ برا اور بھلا دیکھتا ہے خدا دیکھتا ہے خدا دیکھتا ہے (حفیظ جالندھری)
Ayahs 25:3–9

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ وَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا یَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّ لَا حَیٰوةً وَّ لَا نُشُوْرًا Open ayah 25:3 in the Quran reader

اور لوگوں نے اس کے سوا اور معبود بنا لیے ہیں ‘ جو کوئی چیز بھی پیدا نہیں کرسکتے بلکہ خود پیدا کیے گئے ہیں ‘ اور نہ اپنے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتے ہیں ‘ نہ مرنا ان کے اختیار میں ہے ‘ اور نہ جینا اور نہ مر نے کے بعد اٹھ کھڑے ہونا۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكُ اِ۟فْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَیْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ١ۛۚ فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًاۚۛ Open ayah 25:4 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ یہ قرآن من گھڑت باتیں ہیں جو یہ خود ہی بنا لایا ہے اور دوسرے لوگوں نے اس میں اس کی مدد کی ہے سو آگئے یہ لوگ جھوٹ اور بےانصافی پر۔

وَ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِیَ تُمْلٰى عَلَیْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 25:5 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جن کو اس نے جمع کر رکھا ہے ‘ اور وہی صبح و شام اس کو پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں۔

قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:6 in the Quran reader

کہہ دو کہ اس کو اس نے اتارا ہے جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے۔ بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔

وَ قَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَلَكٌ فَیَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِیْرًاۙ Open ayah 25:7 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ” یہ کیسا پیغمبر ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ اس پر کوئی فرشتہ کیوں نازل نہیں کیا گیا کہ اس کے ساتھ ڈرانے (ہدایت) کو رہتا۔

اَوْ یُلْقٰۤى اِلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ یَّاْكُلُ مِنْهَا١ؕ وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 25:8 in the Quran reader

یا اس کی طرف (آسمان سے) خزانہ اتارا جاتا ‘ یا اس کا کوئی باغ ہوتا کہ اس میں سے کھایا کرتا۔ “ اور ظالم تو کہتے ہیں کہ تم جادو میں مبتلا ایک مرد کی پیروی کرتے ہو۔

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:9 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ ! دیکھو تو یہ تمہارے بارے میں کیسی کیسی باتیں کرتے ہیں۔ سو یہ گمراہ ہوگئے اور راستہ نہیں پاسکتے۔

منکرین حق اور نبی کے سوال و جواب تشریح : کفار مکہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میری اتنی نعمتیں برکتیں لوگوں کو ملی ہوئی ہیں پھر بھی یہ لوگ دوسرے معبود بنا بیٹھے ہیں۔ اصل میں انسان خود بہت بڑا معمہ ہے اور سب سے بڑا معمہ اس کا دماغ ہے جس میں ذہانت ‘ عقل ‘ فکر ‘ جستجو ‘ حافظہ ‘ فہم اور حکمت سب کچھ موجود ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ یہ تمام صلاحیتیں کس نے دی ہیں ؟ انسان کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ اس کا جواب ہر کوئی یہی دیتا ہے کہ ” اللہ نے “ جسے دل نے تو ہمشہ مان لیا لیکن عقل اس سے انکار کرتی ہے اور یہی لوگ مشرک ہیں۔ کیونکہ یہ لوگ خالق کو چھوڑ کر مخلوق ( پیدا کیا ہوا) کے آگے جھکتے ہیں مرادیں مانگتے ہیں تو اب اس کو کیا کہیں ! کفر اور شرک ظلم ہے اور اس ظلم سے بچانے کے لیے نبی ﷺ آئے اور یہ لوگ بجائے ان کی نصیحت ماننے کے الٹا ان پر غلط اعتراضات کرتے ہیں۔ پہلا اعتراض یہ ہے کہ قرآن آسمانی کتاب نہیں۔ کلام الٰہی نہیں۔ دوسرا یہ کہ کچھ یہودی علماء اور غلاموں نے ان کی مدد کی ہے کتاب لکھنے میں۔ تیسرا یہ کہ کہیں سے پہلے لوگوں کی کہانیاں اکٹھی کر رکھی ہیں جو سناتے رہتے ہیں۔ چوتھا یہ کہ یہ ہماری طرح کا انسان ہے۔ کوئی فرشتہ بھی مددگار نہیں۔ پانچواں یہ کہ ان کو مالدار اور صاحب جائیداد ہونا چاہیے تھا۔ چھٹا یہ کہ وہ جادو کے اثر میں آچکا ہے یعنی (نعوذباللہ) ان کا دماغ خراب ہوچکا ہے۔ یہ تمام اعتراضات بالکل اسی مفہوم کے ساتھ آج کل کے پڑھے لکھے جاہل کفار و مشرکین بھی کرتے ہیں۔ تو کفار مکہ اور موجودہ اور آئندہ تمام کفار کے لیے رب العلمین کی طرف سے بڑے معقول جوابات ہیں۔ نبی کریم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ جوابات دیتے ہیں۔ سب سے پہلے تو قرآن پاک کی حقانیت ‘ معقول مضامین اور گزشتہ وغیب کی باتیں جو قرآن میں بیان کی گئی ہیں وہ کوئی امی شخص اپنے پاس سے نہیں بتا سکتا۔ سوچنے کی بات ہے کہ چھٹی صدی عیسوی کا ایک عرب امی اتنے تاریخی حقائق زمین و آسمان کے راز جو وقتاً فوقتاً اکثر آیات میں بتائے گئے ہیں اور پھر قیامت ‘ حساب کتاب جنت و دوزخ یہ سب عالم الغیب کی ہی اطلاعات ہیں جو اللہ وحی کے ذریعہ نبی ﷺ کو آہستہ آہستہ بتاتے رہے۔ یہ لوگ جو قرآن مجید اور نبی ﷺ کو جھٹلا کر اللہ کے سوا کی عبادت کرتے ہیں۔ تو کیا یہ لوگ سوچتے ہیں کہ اگر اللہ ہوتا تو ان کو فوراً عذاب دے دیتا۔ ان کو پتہ ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ بڑا غفور ورحیم ہے۔ بخشنے والا مہربان ہے۔ یہ تو اس کی ایک بڑی حکمت ہے کہ ان کو ڈھیل دے رہا ہے کہ شاید توبہ کرلیں اور دوسری بات شاید یہ بھی ہوسکتی ہے۔ ایمان والوں کو مضبوط کرنا چاہتا ہے کہ وہ تمام کفر کی رکاوٹوں کو برداشت کرتے ہوئے استقامت اختیار کریں۔ پھر یہ اعتراض کہ ہم جیسا انسان نبی کیسے ہوسکتا ہے۔ تو جواب یہ ہے کہ انسان کا ڈاکٹر انسان ہی ہوسکتا ہے۔ اور پھر ہدایت کا راستہ دکھانے والا اگر اپنے ہم جنس میں سے نہ ہوگا تو پھر وہ انسانی مسائل ‘ مشکلات ‘ سوچ ‘ عمل کی طاقت اور ذہنی معیار کو کیسے سمجھ کر اس کے مطابق بات کرسکتا ہے۔ فرشتہ یا جن یہ کام کیسے کرسکتا ہے۔ سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ انسان کو اللہ نے اتنا افضل بنایا ہے کہ فرشتوں سے اسے سجدہ کروایا اور پھر اپنا نائب بنا کر زمین میں اتار دیا۔ تو اس کی ہدایت کے لیے ہمیشہ انسان کے گروہوں میں سے ہی ایک بہترین انسان کو منتخب کر کے نبوت دیتا رہا جو ہر زمانے میں توحید ‘ ایمان اور آخرت پر یقین کرنے کی نصیحت کرتا رہا۔ مگر جس شخص کے دل پر کسی نصیحت کا اثر ہی نہ ہو یعنی جو نیکی کی آرزو ہی نہ کرے سوچے ہی نہ تو پھر اس کو اللہ بھی راہ نہیں دکھاتا۔ یہی حال ہٹ دھرم ضدی کفار کا بھی ہوچکا ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے اللہ فرماتا ہے ” دیکھ یہ لوگ تجھ پر کیسی مثالیں بٹھاتے ہیں یہ بہک گئے پس اب راستہ نہیں پاسکتے۔ (الفرقان آیت :9 ) آج کے مسلمان کا مسئلہ یہ ہے کہ اس مادی دنیا کی طلب میں بھاگ رہا ہے۔ اول تو سجدہ کرتا ہی نہیں اگر کر بھی لے تو نہ اللہ کی شان تک اس کا دل پہنچتا ہے اور نہ سجدے کی لذت سے جھومتا ہے۔ ذرا اللہ کے تصور میں ڈوب کر دیکھئے تو ہر معاملہ آپ کو اللہ کے ہاتھ میں دکھائی دے گا۔ یوں لگے گا گویا ہم بذات خود اس سے کلام کر رہے ہیں تو سوچیے اس حالت میں بندہ اللہ کے کس قدر قریب ہوجاتا ہے اور اس پر اللہ کے نور کی کس قدر بارش ہوتی ہے۔ دنیا کے غم فکر اور تمام تکالیف ختم ہوجاتی ہیں اور انسان خود کو ہلکا پھلکا ہوائوں میں اڑتا محسوس کرتا ہے۔ آج کل ہمیں ایسے ہی سجدوں کی ضرورت ہے کہ جو ہمارے دلوں کو غفلت اور دکھاوے کی عبادت سے رہائی دلا سکیں اور اصلی ایمان کی دولت عطا کرسکیں۔
Ayahs 25:10–14

تَبٰرَكَ الَّذِیْۤ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ وَ یَجْعَلْ لَّكَ قُصُوْرًا Open ayah 25:10 in the Quran reader

وہ اللہ بڑی برکت والا ہے جو اگر چاہے تو تمہارے لیے اس سے بہتر چیزیں بنا دے یعنی باغات جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں اور تمہارے لیے محل بنا دے۔

بَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ١۫ وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیْرًاۚ Open ayah 25:11 in the Quran reader

بلکہ یہ تو قیامت ہی کو جھٹلاتے ہیں اور ہم نے قیامت کو جھٹلانے والوں کے لیے دوزخ تیار کر رکھی ہے۔

اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیْرًا Open ayah 25:12 in the Quran reader

جس وقت وہ ان کو دور سے دیکھے تو یہ اس کا غصے سے چلانا اور چیخنا سنیں گے۔

وَ اِذَاۤ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًاؕ Open ayah 25:13 in the Quran reader

اور جب یہ دوزخ کی کسی تنگ جگہ میں زنجیروں میں جکڑ کر ڈالے جائیں گے تو وہاں موت کو پکاریں گے۔

لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّ ادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِیْرًا Open ayah 25:14 in the Quran reader

آج ایک ہی موت کو نہ پکارو بہت سی موتوں کو پکارو۔

نبی کریم ﷺ پر فضل اور منکرین پر عذاب تشریح : پہلے تو پیارے نبی ﷺ سے اللہ نے اپنی محبت کا اظہار کیا ہے کہ آپ کے لیے محلات و باغات کیا معنی رکھتے ہیں۔ مگر آپ جس حال میں ہیں سب اللہ کی خاص حکمت کی وجہ سے ہے ورنہ نبوت سے بڑی اور کون سی چیز ہے۔ اتنا بڑا عزاز دنیاوی عیش و آرام کے سامنے کیا حقیقت رکھتا ہے۔ آپ کا دل امیر ہے تو آپ امیر ترین انسان ہیں آپ کی روح نورالٰہی سے منور ہے تو آپ دنیا کے عظیم ترین انسان ہیں۔ یہی چیزیں تو ہیں جو موت کے بعد ہمیشہ کا آرام و عیش دلوائیں گی ورنہ یہ دنیا کے محلات باغات اور عیش و آرام تو یہیں پر رہ جائے گا۔ بلکہ یہ لوگ جو قیامت کو جھٹلاتے ہیں ان کو اچھی طرح خبردار کر دو کہ یہ خوف ناک عذاب میں ضرور ڈالے جائیں گے۔ جس کی شدت ناقابل برداشت ہوگی تو یہ لوگ التجا کریں گے کہ موت آجائے تو عذاب سے چھوٹ جائیں گے رب العزت فرمائے گا۔ ” آج ایک موت کو نہ پکارو بہت سی موتوں کو پکارو۔ “ (الفرقان آیت :14 )
Ayahs 25:15–20

قُلْ اَذٰلِكَ خَیْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ كَانَتْ لَهُمْ جَزَآءً وَّ مَصِیْرًا Open ayah 25:15 in the Quran reader

پوچھو ! کہ یہ بہتر ہے یا ہمیشہ کا رہنے کا باغ جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ ہے یہ ان کے عملوں کا بدلہ اور رہنے کا ٹھکانا ہوگا

لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ خٰلِدِیْنَ١ؕ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْئُوْلًا Open ayah 25:16 in the Quran reader

وہاں وہ جو چاہیں گے ان کو میسر ہوگا ہمیشہ اس میں رہیں گے یہ آپ کے رب کا وعدہ ہے جس کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے۔

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 25:17 in the Quran reader

اور جس دن اللہ ان کو اور جن کو وہ اللہ کے سوا پکارتے تھے جمع کرے گا تو فرمائے گا ” کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ خود گمراہ ہوگئے تھے۔

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ یَنْۢبَغِیْ لَنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِكَ مِنْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنْ مَّتَّعْتَهُمْ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى نَسُوا الذِّكْرَ١ۚ وَ كَانُوْا قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 25:18 in the Quran reader

وہ کہیں گے ” تو پاک ہے ہم سے یہ نہ ہوسکتا تھا کہ تیرے سوا کسی کو دوست بنائیں۔ لیکن تو نے ہی ان کو اور ان کے باپ دادا کو استعمال کرنے کو نعمتیں دیں یہاں تک کہ وہ تیری یاد کو بھول گئے اور یہ ہلاک ہونے والے تھے۔

فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ١ۙ فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ صَرْفًا وَّ لَا نَصْرًا١ۚ وَ مَنْ یَّظْلِمْ مِّنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِیْرًا Open ayah 25:19 in the Quran reader

تو (کافرو ! ) انہوں نے تو تمہیں جھٹلا دیا بس اب تم عذاب کو نہ پھیر سکتے ہو نہ کسی سے مدد لے سکتے ہو اور جو شخض تم میں سے ظلم کرے گا ہم اس کو بڑے عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمْ لَیَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ یَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ وَ جَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً١ؕ اَتَصْبِرُوْنَ١ۚ وَ كَانَ رَبُّكَ بَصِیْرًا۠ Open ayah 25:20 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے ہیں سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے اور ہم نے تمہیں ایک دوسرے کے لیے آزمائش بنایا۔ کیا تم صبر کرو گے اور تمہارا رب تو دیکھنے والا ہے۔

پرہیز گاروں کو خوشخبری اور بدوں کو عذاب تشریح : آنکھیں بند کر کے ذرا تصور کریں کہ جنت کے باغات کیسے ہوں گے ؟ جو کہ ایسی ہستی کی طرف سے وعدہ ہے جس کی عظمت ‘ حقانیت اور جود و سخا کسی سے چھپا ہوا نہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اپنی دعائوں میں باقی تمام دعائوں کے ساتھ جنت الفردوس کا مانگنا نہ بھولیں۔ کیونکہ اس سے مانگنا اس کو پسند ہے اور دعا کو تو عبادت کا بہترین حصہ کہا گیا ہے تو ایمان کی سلامتی اللہ سے عجزونیاز اور مغفرت مانگتے رہنا اللہ کو بےحد پسند ہے۔ پھر دوبارہ منکرین کو عذاب کی خبر دی جا رہی ہے۔ اور نصیحت کی جا رہی ہے کہ جو بھی کرو اپنی عقل کو کام میں لا کر کرو کیونکہ جھوٹا شخص نجات دلانے میں بھی جھوٹا ہی ثابت ہوتا ہے۔ اور کفار کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ایمان نہ لانے پر عذاب کے وقت ان کی طرف سے کوئی حیلہ بہانہ ہرگز نہ چلے گا آخر میں اللہ تعالیٰ کی حکمت کا ذکر یوں کیا گیا ہے کہ اگر وہ چاہے تو سب لوگ ہر حیثیت سے برابر ہوتے نہ کوئی غریب ہوتا نہ بیمار نہ مصیبت زدہ مگر اس طرح تو دنیا کا نظام تباہ و برباد ہوجاتا کوئی کام بھی کسی کے لیے نہ کرتا اور دوسرے یہ تو انسانوں کی آزمائش اور کردار کی جانچ کے لیے کیا گیا ہے۔ کہ کون شکر کرتا ہے اور کون صبر کرتا ہے۔ اور اس کے لیے ضروری ہے کہ اپنے سے اوپر والے کو نہ دیکھو تاکہ حسد کی بیماری سے بچو اپنے سے نیچے والے کو دیکھو تاکہ شکر اور مہربانی کے جذبات پیدا ہوں اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ” جب تمہاری نظر کسی ایسے شخص پر پڑے جو مال و دولت میں تم سے زیادہ ہو یا صحت و قوت اور عزت و جاہ میں تم سے بڑا ہو تو تم فوراً ایسے لوگوں پر نظر کرو جو ان چیزوں میں تم سے کم حیثیت رکھتے ہیں۔ تاکہ تم حسد کے گناہ سے بھی بچ جاؤ اور اپنی موجودہ حالت میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی توفیق ہو۔ (رواہ البخاری و مسلم، تفسیر مظہری، معارف القرآن جلد 6 صفحہ 466 )
Ayahs 25:21–24

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ نَرٰى رَبَّنَا١ؕ لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 25:21 in the Quran reader

اور جو لوگ ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ ہم پر فرشتے کیوں نازل نہیں کیے گئے یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیں یہ اپنے خیال میں بڑائی رکھتے ہیں اور اسی لیے بڑے سرکش ہو رہے ہیں۔

یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ لَا بُشْرٰى یَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ وَ یَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:22 in the Quran reader

جس دن یہ فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن مجرموں کے لیے کوئی خوشی کی بات نہ ہوگی اور کہیں گے اللہ کرے تم روک لیے اور بند کردیے جاؤ۔

وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا Open ayah 25:23 in the Quran reader

اور جو انہوں نے عمل کیے ہوں گے ہم انکی طرف متوجہ ہونگے تو ان کو اڑتی خاک کر دینگے۔

اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّ اَحْسَنُ مَقِیْلًا Open ayah 25:24 in the Quran reader

اس دن اہل جنت کا ٹھکانا بہتر ہوگا اور آرام کا اچھا ٹھکانا ہوگا

سر کش اور نیک لوگوں کا انجام تشریح : یہاں پھر میدان حشر کا نقشہ اور گنہگاروں کے تکبر کا انجام بڑے صاف انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ وہ اس قدر غرور اور لاپرواہی میں بدمست ہوچکے تھے کہ مطالبہ کرتے کہ یا تو فرشتے یا خود اللہ ان سے بات کرے تو مانیں گے۔ تو فرشتے تو قیامت کے دن ہی دکھائی دیں گے تب توبہ کر اٹھیں گے اور اعمال بد تو ان کے ویسے ہی برباد ہوچکے ہوں گے تب ان کو اصل حقیقت کا یقین آئے گا۔ مگر اس وقت کوئی فائدہ نہ ہوگا کیونکہ ان کو اعمال بد کے نتیجہ میں بد ترین ٹھکانا مل چکا ہوگا۔ اور ان کے مقابلے میں نیک ‘ متقی ‘ پرہیزگار اور مقبول الٰہی لوگوں کو بہترین آرام دہ اور پر آسائش ٹھکانا جنت میں ملے گا۔ بار بار جنت اور دوزخ کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ کیونکہ یہ غیب کی بات ہے لوگوں کو اس کا یقین اور سمجھ مشکل سے آتی ہے۔ مسلمان تو خیر اس پر فوراً یقین کرلیتا ہے۔ کیونکہ اس پر یقین کیے بغیر تو ایمان ہی مکمل نہیں ہوتا۔ مسئلہ تو کفار و مشرکین کا ہے بلکہ کئی کمزور ایمان والے بھی یوں کہہ دیتے ہیں ” دیکھا جائے گا۔ “ ان کو اتنی بھی عقل نہیں آتی کہ یہ سراسر کفر کا کلمہ ہے۔ اور اس کی سزا ان کو بہت بڑی ملے گی۔ اس بات کو پکا اور یقینی بنانے کے لیے قرآن پاک میں 115 مقامات پر الآخرۃ کا لفظ آیا ہے۔
Ayahs 25:25–29

وَ یَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓئِكَةُ تَنْزِیْلًا Open ayah 25:25 in the Quran reader

اور جس دن آسمان ابر کے ساتھ پھٹ جائے گا اور فرشتے نازل کیے جائیں گے۔

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ١ؕ وَ كَانَ یَوْمًا عَلَى الْكٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا Open ayah 25:26 in the Quran reader

اس دن سچی بادشاہی اللہ ہی کی ہوگی اور وہ دن کفار پر سخت مشکل ہوگا۔

وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا Open ayah 25:27 in the Quran reader

اور جس دن گنہگار اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کھائے گا اور کہے گا کہ اے کاش میں نے پیغمبر کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔

یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا Open ayah 25:28 in the Quran reader

ہائے شامت کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا

لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِیْ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا Open ayah 25:29 in the Quran reader

اس نے نصیحت کی کتاب میرے پاس آنے کے بعد مجھے بہکا دیا اور شیطان انسان کو وقت پر دغا دینے والا ہے

قیامت کا نقشہ اور کفار کی حسرت تشریح : حشر کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ اس دن اللہ بادشاہوں کا بادشاہ پورے جلال سے اپنا دربار لگائے گا۔ تب ہر شخص اپنے کیے گئے گناہ اور جنہوں نے اپنے برے دوستوں کے غلط مشوروں پر چل کر ہدایت پانے کے بعد گمراہی اختیار کی ہوگی ‘ افسوس کرے گا۔ حقیقت تو یہی ہے کہ نیکی کا راستہ اور نیک دوستوں کی مجلس ہی انسان کے لیے ذریعہ نجات ہوگی۔ برے دوست وقت پر دھوکہ دیتے ہیں برے راستے اور برے اعمال سزا کا باعث بنتے ہیں۔ جزا کا باعث نہیں بنتے۔ اس لیے نیک دوست بھی بڑی نعمت ہوتے ہیں۔ بری صحبت یعنی برے لوگوں سے بچنا بھی نیکی ہے اور بڑی سعادت ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے اچھے دوست کی مثال خوشبو بیچنے والے اور برے دوست کی مثال بھٹی جلانے والے (لوہار) سے دی ہے۔ شیخ سعدی (رح) فرماتے ہیں کہ بھٹی پر کام کرنے والے کے پاس جو بیٹھے گا تو اس کے کپڑوں میں سے بھی دھوئیں کی بدبو آنے لگتی ہے۔ نیک خیالات رکھنے والا بندہ ساتھ بیٹھنے والے کو نیکی کی ہدایت ضرور کرتا ہے اور اس کے کان میں بھی کوئی بھلی بات ہی پڑتی ہے۔ اسی لیے قرآن پاک میں اس گناہ گار کا ذکر اس طرح کیا ہے جو قیامت کے دن پچھتا رہا ہوگا فرمایا ” ہائے شامت کاش میں نے فلاں شخص (برے دوست) کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس نے نصیحت کی کتاب میرے پاس آنے کے بعد مجھے بہکا دیا۔ “ (الفرقان آیت : 28 - 27 )
Ayahs 25:30–31

وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا Open ayah 25:30 in the Quran reader

اور رسول کہیں گے اے میرے رب ! میری قوم نے تو اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ هَادِیًا وَّ نَصِیْرًا Open ayah 25:31 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے مجرموں میں سے دشمن بنا رکھے ہیں اور تیرا رب راہ دکھانے اور مدد کرنے کو کافی ہے۔

نبی ﷺ کی قرآن مجید کو پس پشت ڈالنے والوں کے خلاف شکایت تشریح : نبی اکرم ﷺ روز قیامت ایسے لوگوں کی شکایت کریں گے کہ جنہوں نے قرآن مجید کو پس پشت ڈال دیا یا اس پر طرح طرح کے اعتراضات کر کے اسے جھٹلاتے رہے اور مذاق کا نشانہ بناتے رہے ایسے لوگوں کے خلاف اللہ تعالیٰ کی بیشمار حکمتوں میں سے ایک بڑی حکمت یہ بھی ہے کہ اس نے ہر زمانے میں گنہگاروں میں سے کچھ لوگ نبی کی مخالفت کے لیے ضرور مقرر کیے ہوئے ہوتے ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ مثلاً آپ کسی کو کہتے ہیں جھوٹ نہ بولو۔ وہ کہتا ہے اچھا بات ختم ہوگئی۔ لیکن جب کوئی کہے کہ بھئی میں نہیں مانتا تو پھر کہنے والے کو اسے منانے کی مختلف تراکیب سوچنی پڑتی ہیں اور یوں تبلیغ یا درس و تدریس میں گرما گرمی زور اور قوت پیدا ہوتی ہے کافر کے اعتراضات اور سوالات سے نئی نئی باتیں نکلتی ہیں اور یوں علم میں اضافہ ہوتا ہے، یعنی اگر مخالفت نہ ہو تو جدوجہد ہوتی ہے اور نہ کامیابی کا وجود ہوتا ہے۔ گویا کامیابی کے وجود کے لیے مخالفت ضروری ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” تیرا رب راہ دکھانے اور مدد کرنے کو کافی ہے۔ “ (الفرقان آیت :31 ) اور یہ لوگ جو آپ کی مخالفت یا نافرمانی کرتے ہیں تو گھبرانے کی بات نہیں بلکہ یہ تو اللہ کی حکمت کا ایک حصہ ہے کہ آپ کامیاب ہوجائیں۔
Ayah 25:32

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِیْلًا Open ayah 25:32 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو منکر ہیں کہنے لگے اس پر پورا قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نہ اترایہ اس لیے کہ ہم اس کے ذریعہ تیرے دل کو قوی رکھیں اور اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر سنائیں۔

کفار کی طرف سے ایک اور اعتراض اور جواب تشریح : اس سورت کے شروع سے ہی کفار کے اعتراضات ہوتے چلے آئے ہیں تو ان میں سے ایک اعتراض کفار کی طرف سے یہ بھی ہوا کہ دیکھو قرآن پاک کتنے عرصہ میں تھوڑا تھوڑا نازل ہوا۔ بیک وقت کیوں نہیں نازل ہوا ؟ اس کا جواب رب ذوالجلال اس طرح دیتے ہیں کہ اس کی کچھ وجوہات ہیں ایک تو یہ کہ آپ پر پوری کتاب کا بوجھ یکدم نہ پڑے آپ آہستہ آہستہ یاد کرتے چلے جائیں دوسرا یہ کہ تمام انسانی مسائل کا حل دلیل کے ساتھ ہر واقعہ کے مطابق اللہ کی طرف سے احکامات کے ساتھ نازل ہوتے چلے گئے اور انسان کو ہر مسئلہ پر بنے بنائے قانون ملتے چلے گئے۔ تیسرا یہ کہ اللہ کی نگہبانی اور مدد کا پتہ چلتا رہا کہ وہ دیکھ رہا ہے۔ ہمارے ساتھ ہے اور سب سے بڑا مدگار بھی وہی ہے۔ برابر کبھی فتح کی اور کبھی مدد کی بشارت اللہ تعالیٰ دیتا رہا جس سے مسلمانوں کو اور نبی ﷺ کو تقویت حوصلہ اور تسلی ہوتی رہی۔ تو اللہ کا کوئی کام حکمت کے بغیر نہیں ہوتا اور کفار کسی بات کو اعتراض کے بغیر نہیں چھوڑتے اور اس طرح اللہ کی حکمتوں کی وضاحت بھی ہوتی رہتی ہے۔ اور یوں ثابت ہوا کہ ” مزاحمت اور مزاحمت کی مزاحمت “ ہی وہ قانون ہے جس کے سہارے ترقی ہوتی ہے۔ “ (از قرآن اور مسلمانوں کے زندہ مسائل)
Ayahs 25:33–34

وَ لَا یَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اَحْسَنَ تَفْسِیْرًاؕ Open ayah 25:33 in the Quran reader

اور یہ لوگ تمہارے پاس جو اعتراض کی بات لاتے ہیں ہم تمہارے پاس اس کا معقول اور خوب واضح جواب بھیج دیتے ہیں۔

اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَ١ۙ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:34 in the Quran reader

جو لوگ اپنے مونہوں کے بل دوزخ کی طرف جمع کیے جائیں گے ان کا ٹھکانا بھی برا ہے اور وہ رستے سے بھی بہکے ہوئے ہیں۔

حق پر اعتراض کرنے والوں کا انجام تشریح : جیسا کہ پہلے بھی کفار کے الٹے سیدھے سوالات کے جوابات دیے گئے ہیں انہی کے بارے میں اللہ رب العزت جہاں فرما رہے ہیں کہ کفار و مشرکین کا تو ہمیشہ سے ہی یہ کام رہا ہے کہ اپنے نبیوں کو جھٹلاتے تنگ کرتے بلکہ قتل تک کرتے رہے ہیں اور ایسے ہی لوگوں کے لیے قرآن پاک میں شدید ترین عذاب کا اعلان کیا گیا ہے۔ اب اس سلسلے میں کچھ پچھلی قوموں کا ذکر مثال دینے کے لیے کیا جا رہا ہے۔