25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 25:61–77

تَبٰرَكَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ جَعَلَ فِیْهَا سِرٰجًا وَّ قَمَرًا مُّنِیْرًا Open ayah 25:61 in the Quran reader

اور اللہ بڑی برکت والا ہے جس نے آسمانوں میں برج بنائے اور ان میں آفتاب کا نہایت روشن چراغ اور چمکتا ہوا چاند بھی بنایا۔

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا Open ayah 25:62 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن کو آگے پیچھے آنے جانے والا بنایا یہ چیزیں اس شخص کے لیے جو غور کرنا چاہے یا شکر گزاری کا ارادہ کرے ( سوچنے اور سمجھنے کی ہیں) ۔

وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا Open ayah 25:63 in the Quran reader

اور اللہ کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں اور جاہل لوگ ان سے بات کرتے ہیں تو وہ ان کو سلام کہتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا Open ayah 25:64 in the Quran reader

اور وہ جو اپنے رب کے آگے سجدے کر کے اور عجزو انکساری سے کھڑے رہ کر راتیں بسر کرتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ١ۖۗ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًاۗۖ Open ayah 25:65 in the Quran reader

اور وہ جو دعا مانگتے رہتے ہیں کہ اے رب العزت دوزخ کے عذاب سے ہم کو بچانا کہ اس کا عذاب بڑا تکلیف دینے والا ہے۔

اِنَّهَا سَآءَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا Open ayah 25:66 in the Quran reader

اور دوزخ ٹھہرنے اور رہنے کی بڑی بری جگہ ہے۔

وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا Open ayah 25:67 in the Quran reader

اور وہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچ کرتے ہیں اور نہ ہی بخل کرتے ہیں بلکہ درمیانہ، یعنی میانہ روری سے کام لیتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ یَلْقَ اَثَامًاۙ Open ayah 25:68 in the Quran reader

اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک نہیں بناتے اور جس کا قتل اللہ نے حرام قرار دیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے مگر جائز طریقہ ( یعنی شریعت کے مطابق) اور بدکاری نہیں کرتے اور جو بھی یہ کام کرے گا سخت گناہ میں مبتلا ہوگا

یُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ یَخْلُدْ فِیْهٖ مُهَانًاۗۖ Open ayah 25:69 in the Quran reader

قیامت کے دن اس کو دگنا عذاب ہوگا اور ذلت و خواری سے ہمیشہ اس میں رہے گا۔

اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یُبَدِّلُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:70 in the Quran reader

مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھے کام کیے تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا اور اللہ تو بخشنے والا مہربان ہے۔

وَ مَنْ تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ یَتُوْبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا Open ayah 25:71 in the Quran reader

اور جو توبہ کرتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے تو بیشک وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔

وَ الَّذِیْنَ لَا یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ١ۙ وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا Open ayah 25:72 in the Quran reader

اور وہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب ان کو برے (لغو) کے پاس سے گزرنے کا اتفاق ہو تو سنجیدگی سے گزر جاتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْهَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًا Open ayah 25:73 in the Quran reader

اور وہ لوگ کہ جب ان کو رب کی باتیں بتائیں جاتی ہیں تو وہ اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گزر جاتے۔ ( بلکہ غوروفکر سے سنتے ہیں)

وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا Open ayah 25:74 in the Quran reader

اور وہ جو اللہ سے دعا مانگتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہم کو اپنی بیویوں (کی طرف سے دل کا چین) اور اولاد کی طرف سے آنکھ کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا امام بنا۔

اُولٰٓئِكَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوْا وَ یُلَقَّوْنَ فِیْهَا تَحِیَّةً وَّ سَلٰمًاۙ Open ayah 25:75 in the Quran reader

ان صفات کے لوگوں کو صبر کے بدلے اونچے اونچے محل دیے جائیں گے اور وہاں فرشتے ان سے دعا وسلام سے ملاقات کریں گے۔

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا Open ayah 25:76 in the Quran reader

اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور وہ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت عمدہ جگہ ہے۔

قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّیْ لَوْ لَا دُعَآؤُكُمْ١ۚ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَكُوْنُ لِزَامًا۠ Open ayah 25:77 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر تم اللہ کو نہیں پکارتے تو میرا رب بھی تمہیں یاد نہیں رکھتا (پرواہ نہیں کرتا) تم نے جھٹلا دیا ہے سو اس کی سزا تمہیں ضرور ملے گی۔

آسمانوں کے انتظام ‘ نیک لوگوں کی صفات اور انعام تشریح : یہاں بھی کفار کو اللہ رحمن و رحیم کی کچھ اور مہربانیاں بتائی جا رہی ہیں جو خالصتاً اس وقت کے عرب بدئوں کے معیار کے مطابق بات کی جا رہی ہے۔ گو کہ اس میں بھی افلاک کے بہت سے رازوں کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ اس وقت یعنی ساتویں صدی کے آغاز کا عرب بدو اپنی تہذیب ‘ زبان ‘ تشبیہ اور ثقافت کے معیار سے ہی بات سمجھ سکتا تھا کیونکہ قرآن کا سب سے پہلا مخاطب وہی عرب بدو تھا۔ لہٰذا رب ذوالجلال انہی کی زبان میں فرماتا ہے کہ ” بڑی بابرکت ہے اس کی ذات جس نے آسمان میں برج بنائے اور پھر سورج کا روشن چراغ رکھ دیا اور چاند کا اجالا کردیا۔ اور وہی ہے جس نے رات دن بنائے آگے پیچھے آنے والے اس شخص کے واسطے جو دھیان رکھنا چاہے یا شکر کرنا چاہیے۔ (الفرقان آیت :62 - 61) اب ان کی وضاحت ایک عالم افلاک اپنی علمیت کی روشنی میں کرتا ہے۔ مطلب دونوں کا یہ ہے کہ عام آدمی اللہ کی اس بنائی ہوئی تنظیم کو دیکھ کر اللہ کی توحید کا قائل ہو کر اسی کی عبادت میں جھک جائے اور اسی طرح ایک عالم و فاضل اللہ کی بنائی ہوئی اس تنظیم کو سمجھ کر اس کے سامنے جھک جائے اور دونوں ہی شکر بجا لائیں اور اس کے نیک بندے بن کر بہترین انعامات حاصل کریں جو دنیا میں بھی ملتے ہیں اور آخرت میں بھی ملیں گے۔ یہ سب کچھ اللہ نے بندوں کے فائدے کے لیے بنایا ہے ‘ اور نجات کے لیے قرآن نازل فرمایا اور رسول ﷺ کو مبعوث کیا ہے۔ ورنہ بندوں کی عبادت گزاری اور نیکی اللہ کے کسی فائدے کی بات نہیں۔ اللہ کے مقبول اور نیک بندوں کی صفات یہ ہیں : (1) ان کی چال میں وقار اور نیکی پائی جاتی ہے۔ (2) برے لوگوں کے ساتھ نرمی ‘ عقل اور حکمت سے بات کرتے ہیں۔ (3) راتوں کو رکوع و سجود کرتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو۔ (4) اللہ سے ہر وقت مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔ (5) نہ وہ فضول خرچ ہوتے ہیں نہ بخیل ہوتے ہیں۔ (6) اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے۔ (7) کسی کو بغیر وجہ ‘ قانون شکنی کرتے ہوئے قتل نہیں کرتے۔ (8) بدکاری اور ہر قسم کی بےحیائی سے دور رہتے ہیں۔ جو لوگ ان صفات کو اپنی زندگی میں پیدا نہیں کرتے وہ بیشک دگنا عذاب بھگتیں گے۔ ایک تو کفر و شرک کا اور ایک گنہگاروں کی زندگی گزارنے کا یعنی ہر برے عمل کا بدلہ علیحدہ علیحدہ دیا جائے گا اور پھر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دیا جائے گا۔ جب کہ ایمان لانے والوں اور توبہ کرنے والوں کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیے جائیں گے اور اگر کوئی گناہ اس سے ہو بھی جائے تو اس کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ اس کو معاف کردیا جائے گا یا اگر کوئی ایسا گناہ کہ جس کے لیے اس نے توبہ نہ کی ہو تو پھر صرف اسی کی سزا ملے گی اور جہنم سے یا سزا سے نکال دیا جائے گا۔ نیک لوگوں کی اور بھی صفات بیان کی جارہی ہے۔ (1) جھوٹ کبھی نہیں بولتے اور نہ جھوٹی گواہی دیتے ہیں کہ یہ تمام عیوب کی جڑ ہے۔ (2) تقویٰ اور نیکی میں سب سے سبقت لے جانے کی دعا اور کوشش کرتے ہیں۔ (3) ہر صورت صبر سے کام لیتے ہیں۔ ” کیونکہ مصیبت ہلاکت کے لیے نہیں بلکہ آزمائش کے لیے ہوتی ہے۔ “ (قول سیدنا امام جعفر صادق (رح) ) (4) کلام الٰہی کو غور سے سنتے ہیں ‘ عمل کرتے ہیں اور ہر وقت دعائیں کرتے ہیں۔ کہ ” ہمیں متقی اور نیک لوگوں کا امام اور پیشوا بنا دے۔ “ (الفرقان آیت : 74 ) یہی لوگ مقبول الٰہی ہیں اور انہی کے لیے اللہ فرماتا ہے۔” ان صفات کے لوگوں کو صبر کے بدلے اونچے اونچے محل دیے جائیں گے اور وہاں فرشتے ان سے دعا وسلام کے ساتھ ملاقات کریں گے۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور وہ ٹھہرنے اور رہنے کی بڑی عمدہ جگہ ہے۔ “ (الفرقان آیات 76 - 75 - 74 ) پھر آخر میں نبی اکرم ﷺ کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان لوگوں سے فرمادیں : ” اگر تم اللہ کو نہیں پکارتے تو میرا پروردگار بھی تمہاری کچھ پرواہ نہیں کرتا۔ تم نے جھٹلایا ہے تو اس کی سزا تمہارے لیے ضرور ہوگی۔ (الفرقان آیت : 77 ) الحمدللہ سورة الفرقان مکمل ہوئی جیسا کہ تمام سورتیں ایک سے ایک بڑھ کر ہیں یہ سورت بھی توحید ‘ رسالت اور آخرت کے سبق سے بھری ہوئی ہے اور آداب و اخلاق کے وہ تمام اصول دلیلوں کے ساتھ بتائے گئے ہیں جو انسان کو انسان اور مسلمان کو پکا مسلمان اور مقبول الٰہی انسان بنا سکتے ہیں۔ اللہ کی صفات نبی کی صفات قرآن کی برکات اور نیک و بد انسان کی صفات اور ان کے سزا و جزا کا ذکر بڑی ہی وضاحت سے کیا گیا ہے۔ اور یہ سب کچھ ایک جاہل اور عالم کو اللہ کا راستہ دکھانے کے لیے بےحد مفید ‘ آسان اور ضروری ہیں۔ دعا : ” اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ “ ترجمہ : اے اللہ میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔ (آمین)