Ayahs 25:35–44پچھلی قوموں کا عبرت ناک انجام
تشریح : ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ سیدنا ابراہیم و اسمعٰیل (علیہ السلام) نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی اور توحید کی ابتدا کی۔ مکہ میں خانہ کعبہ سب سے پہلا اللہ کا گھر بنایا گیا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ لوگ ان کی تعلیمات بھولتے گئے۔ تو انہوں نے اپنی مرضی سے کئی مذہب بنا لیے تو عرب کے قدیم باشندوں نے عرب سے نکل کر بابل ‘ شام اور مصر میں حکومتیں قائم کی تھیں۔ ان کو عرب بائدہ یعنی جونا پید ہوگئے کہا جاتا ہے عاد اور ثمود کی قومیں اسی دور سے تعلق رکھتے تھے۔ سب کے پاس نبی بھیجے گئے، آسمانی کتابیں بھیجی گئیں جیسا کہ ان کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا جا چکا ہے کہ سب کے پاس کفار مکہ کی طرح رسول بھیجے گئے، مگر انہوں نے بھی اسی طرح اپنے نبیوں کا مذاق اڑیا ان کی نافرمانی کی اور اس حد تک نافرمانی کی کہ اس نے ان پر عذاب کیا ان کو ختم کردیا اور پھر دوسری قوم کو ان کی جگہ آباد کردیا۔ یہ اللہ کے بنائے ہوئے اصول کا ایک حصہ ہے جو قوموں کے تنزل و تبدل کا ذریعہ بنتا رہتا ہے۔ مگر اس ترقی و تنزل سے سبق حاصل کر کے اپنے اندر ایسے اوصاف پیدا کرنے چاہئیں جو قوم کو مضبوط اور ناقابل تسخیر بنا دیں مگر کیونکہ محمد رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں کفر و جہالت کا دور دورہ تھا تو وہ لوگ آپ ﷺ کا مذاق اڑاتے تو ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے جانوروں کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اور نبی کو تسلی دی ہے کہ یہ عقل کے کورے بھٹکے ہوئے لوگ اپنے اعمال کے بدلے میں عنقریب بہت بڑا عذاب پائیں گے۔ کیونکہ ان کو عقل بھی دی گئی ہے اور نیک پیغام بھی مگر پھر بھی یہ نیکی اختیار کرنے کو تیار نہیں تو ایسے لوگوں کے لیے اللہ فرماتا ہے۔ ” یہ تو چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے۔ (الفرقان آیت : 44 )
قرآن پاک اللہ کا کلام ہے اور اس کی صداقت و حقانیت میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں۔ قرآن پاک کی حفاظت کا ذمہ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود لے رکھا ہے، اس لیے اور کئی دوسری خصوصیات کی وجہ سے قرآن پاک دوسری تمام الہامی کتابوں سے بڑھ کر اعلیٰ حیثیت رکھتا ہے اور پھر مسلمانوں کی ترقی و کامیابی کا وعدہ بھی رب العزت کرچکے ہیں۔ موجودہ دور کے مسلمان کو اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے قرآن کا ہی رخ کرنا بہت ضروری ہے اور الحمدللہ کہ اللہ کے فضل سے مسلمان دنیا میں تعداد کے لحاظ سے بڑھ رہے ہیں جیسا کہ ڈاکٹر حمید اللہ صاحب لکھتے ہیں ” کہ 1924 ء سے پیرس میں ایک مسجد تھی مگر اب گذشتہ بارہ سال سے یہ مسجد نمازیوں کے لیے ناکافی ہو رہی ہے چناچہ شہر میں روز بروز مسجدیں بننے لگی ہیں یا پھر گر جاؤں کو خرید کر مسجدوں میں بدلا جا رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اس وقت میرے علم میں شہر پیرس اور اس کے مضافات میں اسی (80) سے زائد مسجدیں ہیں۔ (از خطبات بہاولپور)
Ayahs 25:45–49سورج، دن رات، ہوائیں اور بارش پیدا کرنے کا مقصد
تشریح : ان آیات میں اللہ کی تخلیقات میں سے سورج ‘ دن ‘ رات ‘ بارش اور ہوائوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور آخر میں بتایا گیا ہے کہ سب تخلیقات صرف انسانوں کے فائدے کے لیے پیدا کی گئی ہیں۔ اور ہر تخلیق اپنی جگہ بےحد اہم اور عجیب و غریب ہے۔
سورج کا اپنے مدار میں گردش کرنا اور زمین کا اپنے مدار میں گردش کرنا ایک خاص اندازے اور خاص نظام کے تحت یہ لوگوں کے لیے رحمت سے کسی طرح کم نہیں کیونکہ اسی کی وجہ سے دھوپ مناسب اوقات میں زمین پر پڑتی ہے جس سے صبح دوپہر شام اور رات وجود میں آتے ہیں۔ بادل بنتے ہیں۔ پھول پھل اور فصلیں پکتی ہیں۔ سایہ جو سورج کی روشنی سے کبھی لمبا کبھی چھوٹا اور کبھی ختم ہوجاتا ہے۔ وقت کا تعین کرتا ہے۔ صبح کے بعد سائے آہستہ آہستہ چھوٹے ہوتے چلے جاتے ہیں جبکہ دپہر کو گھٹ کر بالکل چھوٹے ہوجاتے ہیں اسی طرح جیسے جیسے سورج غروب ہونے لگتا ہے سائے دوبارہ لمبے ہونے لگتے ہیں۔ انسان نے وقت کے تعین کے لیے شمسی گھڑیاں بنا رکھی تھیں۔ آج کل بھی ان کو قدیمی یاد گار کے طور پر کہیں کہیں یاد گار قدیمہ کے سلسلے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ پھر جب سورج اپنا چکر پورا کرلیتا ہے تو زمین کے چکر کے ساتھ وہ غروب ہوجاتا ہے دنیا کے مختلف حصے مختلف فاصلوں کے لحاظ سے آہستہ آہستہ اندھیرے میں ڈوبتے چلے جاتے ہیں اور کچھ روشن ہوتے چلے جاتے ہیں جیسا کہ مشرقی ممالک اور مغربی ممالک کا دن رات میں فاصلے کے مطابق ٹائم کا فرق ہوتا ہے۔ اور یوں دن رات کے ردو بدل سے انسان کے لیے بیشمار سہولتیں پیدا ہوجاتی ہیں ایک تو سورج کی مسلسل گرمی و تپش سے چھٹکارا ملتا ہے اور دوسرے رات کی خاموشی اور سکون سے ہر کوئی نیند کی آغوش میں جا کر جسم کی وہ تمام توانائیاں حاصل کر کے تروزتازہ ہوجاتا ہے جو نیند سے ملتی ہیں۔ نیند ‘ رات اور سورج کا غروب ہونا بذات خود بہت بڑی نعمتیں ہیں جو اللہ نے ہمارے لیے بنا رکھی ہیں جو بن مول ہمیں ملتی رہتی ہیں۔ بھلا یہ تمام سہولتیں دنیا کی کوئی طاقت ہمیں دے سکتی ہے ؟ ہرگز نہیں۔ پھر ہوائوں کا ذکر ہے ‘ جو ڈاکٹر ہلوک باقی کی تحریر سے واضح کی جاتی ہیں لکھتے ہیں : ” ہوائوں کے مختلف اطراف سے چلنے میں کئی نکتہ رس وجوہات ہیں۔ یہ جو ٹھنڈی اور گرم ہوائوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتی ہیں تو اس کا پہلا اور اہم مقصد بارش کی تیاری کرنا ہوتا ہے بعض اوقات ہوائیں تیز ہوجاتی ہیں اور اپنے ساتھ ہوا سے آئن (Ions) کو گھسیٹ کرلے جاتی ہیں۔ اس طرح برقی توانائیاں جو حیات کی بنیاد ہوتی ہیں ‘ بارش کے ذریعہ ہوا سے زمین تک پہنچتی ہیں۔ جہاں پانی کا ایک چھوٹا سا قطرہ بھی بجلی سے چارج شدہ ایک حیات بخش چیز بن جاتا ہے۔ (بارش کی آمد کی اطلاع دیتی ہیں) ہوا کے ذریعے پودوں کے بیجوں کا ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنا اور یہاں تک کہ پھولوں کے زہرہ (Pollen) پر تخم پاشی کرنا (Insemination) یعنی نباتات میں تخلیقی عمل کے متعلق بھی قرآن میں ذکر ملتا ہے۔ ہوائوں کا ایک بہت ہی اہم پہلو ‘ ان کا آکسیجن اور تازہ ہوا کو شہروں میں لانا اور شہروں کی زیر آلود خراب ہوا جنگلوں کی طرف صفائی کے لیے لے جانا بھی ہے۔ خراب ہوا ایک حد تک درختوں کی خوراک کا ذریعہ بھی ہے۔ اس طریقہ سے ساری دنیا میں آکسیجن کی ایک خاص سطح برقرار رہتی ہے۔ یہ سب حیران کن عمل تو قادر مطلق کے عظیم کمپیوٹر میں پہلے ہی سے درج کردیے گئے ہیں جو بغیر کسی فنی خرابی کے چلتے رہتے ہیں۔ آپ یہ یقین کرلیں کہ ہر علم کے مالک ” اللہ “ کے کمپیوٹر میں یہ پہلے ہی سے درج کردیا گیا ہے کہ کون سی ہوا کس علاقے میں پیدا ہوگی کون سی ہوا کس شہر میں چلے گی ‘ اور کس وقت چلے گی ؟ کیا یہ سب سائنس کے کمالات اور اصول کسی ایسی طاقت کے بنائے ہوئے ہیں جس کو ہم اللہ کے سوا خالق کہہ سکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں۔ “ (از قرآنی آیات اور سائنسی حقائق)
یہ ہوائیں چلانا کسی کی طاقت کے بس میں ہرگز نہیں۔ اسی طرح انسان حیوان نباتات اور جمادات کی زندگی کے لیے ہوائیں کس قدر لازمی ہیں۔ پھر یہ ہوائیں بادل بنانے بادل لے جانے اور مینہ برسا کر مردہ زمین کو زندہ کرنے کا کام بھی کرتی ہیں۔ اس سائنسی مگر قدرتی عمل کو ڈاکٹر ہلوک باقی صاحب یوں بیان کرتے ہیں۔
” خشک زمین کے نیچے ایک مردہ سلطنت پوشیدہ ہوتی ہے۔ زمینی مٹی کے ایک گرام میں کھربوں کی تعداد میں جراثیم ہوتے ہیں۔ بارش کے نہ ہونے سے یہ خوابیدہ ہوجاتے ہیں۔ بارش پڑنے پر زندہ ہو کر نائٹروجن فکیشن کے عمل کی مدد سے ایک بڑی پیداواری مہم شروع کردیتے ہیں اور یہ جانور پودوں کی پیداوار کا موجب بنتے ہیں اور یوں زیر زمین مردہ شہر میں زندگی آجاتی ہے۔ اس سے کھاد بنتی ہے اور بیشمار چھوٹے پودوں کے بیج زندہ ہو کر اٹھتے ہیں اور زمین میں اپنی جڑوں سے ایسے راستے کھولتے ہیں جیسے ایک شہر کی سڑکیں۔ اس کے بعد چھوٹے کیڑے مکوڑے اور چیونٹیاں اپنے گھروں کے لیے زمین کے اندر ایسی کھدائی کرتی ہیں جیسے ایک بڑے شہر میں ہو۔ اس طرح مردہ زمین کے زندہ ہونے کا یہ عمل واقع ہوتا ہے۔ (از قرآنی آیات اور سائنسی حقائق)
کیا خوب انتظام ہے قدرت کے کارخانے کا۔ کیا یہ سب کچھ اللہ کے سوا کوئی بھی کچھ وصول کیے بغیر کرتا چلا جائے ؟ ہرگز نہیں۔ سبحان اللہ ! کس قدر سچائی ‘ معقولیت اور دلیل موجود ہے اللہ کے اس کلام میں فرماتا ہے۔ ” آسمان سے پاک اور نتھرا ہوا پانی برساتے ہیں تاکہ اس سے مردہ زمین کو زندہ کردیں ‘ اور پھر ہم اسے بہت سے چوپایوں اور انسانوں کو جو ہم نے پیدا کیے ہیں پلاتے ہیں۔ “ (الفرقان آیت : 49 48 )
جب ایک جاہل انسان کو اللہ کی یہ تمام قدرتیں بتا کر کہا جائے کہ صرف اس کی عبادت کرو جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے لیے یہ تمام بندوبست اس طرح کیا (جو اوپر بیان کیا گیا ہے) تو کوئی انسان جو عقل رکھتا ہے اللہ کا انکار ہرگز نہیں کرسکتا۔ مگر کفار و مشرکین باوجود پڑھے لکھے ہونے کے پھر بھی اللہ پر ایمان نہیں لاتے اسی لیے ایسے لوگوں کو اللہ نے جانوروں سے تشبیہ دی ہے۔ بلکہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں یہ لوگ کیونکہ جانور عقل نہیں رکھتے جبکہ یہ لوگ عقل رکھتے ہیں مگر عقل سے کام لے کر اللہ کو پہچاننے کی کوشش نہیں کرتے۔ تو ایسے لوگوں پر افسوس کرنا بےکار ہے۔ اللہ اپنے حبیب پاک ﷺ سے مخاطب ہوتا ہے۔ اور اپنی قدرت کی کچھ اور نشانیاں بیان فرماتا ہے۔ اور فرماتا ہے کہ ناشکرے لوگ ہر صورت ناشکرے ہی رہتے ہیں۔
Ayahs 25:50–52کفار سے جہاد کبیر کیوں اور کیسے ؟
تشریح : جیسا کہ اوپرآ یات میں اللہ کی کچھ نشانیوں کا ذکر کرتے ہوئے ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو کسی صورت بھی توحید کے قائل نہیں ہوسکتے تو اللہ رب العزت پیارے نبی ﷺ کو اپنی حکمت سے آگاہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اب وقت آگیا ہے کہ آخری اور ایک ہی نبی تمام دنیا کی ہدایت کے لیے بھیجا جا رہا ہے۔ آپ ہی آخری اور ایک ہی نبی ہیں۔ آپ کی شریعت آپ پر نازل کردہ قرآن بہترین مکمل اور ناقابل تردید ہے۔ حق اور سچ ہے اور تاقیامت رہنے والا ہے۔ اس لیے آپ نہ تو اپنے مخالفین سے ڈریں نہ گھبرائیں نہ ہی پریشان ہوں اللہ نے آپ کو اس فرض کو ادا کرنے کے لیے چن لیا ہے۔ آپ بےفکر ہو کر کفار کے مقابلہ میں توحید کے پیغام کے لیے ڈٹ جائیں اور اس راستہ میں پوری ہمت کوشش اور اعتماد سے ہر قسم کا زبردست جہاد کریں یعنی ہر قسم کا جہاد ‘ جہاد بالنفس ‘ بالمال ‘ باللسان ‘ بالعلم اور جہاد بالسیف کیونکہ آپ جس کے لیے یہ جہاد کر رہے ہیں وہی تو مالک الملک ہے۔ اس کی کاریگری ہر طرف دکھائی دیتی ہے۔
Ayahs 25:53–60اللہ کی طاقت کے ثبوت
میٹھا اور کھارا پانی، انسان کی پیدائش، رسول کریم کی بعثت اور اللہ کا عرش پر مستوی ہونا
تشریح : رب العزت کو دیکھنا کسی بھی انسانی آنکھ کے لیے ممکن نہیں کیونکہ اس کا جلال اس قدر زیادہ ہے کہ بندہ اس کو قیامت کے دن ہی دیکھ سکے گا اس مادی جسم کے ساتھ اس کو آنکھ سے نہیں البتہ دل کی آنکھ اور فہم و فراست سے اس کی بنائی ہوئی تخلیقات سے اس کی عظمت اور بڑائی کا اندازہ ضرور ر کرسکتا ہے۔ اب یہاں اس کی بیشمار تخلیقات میں سے ایک تو میٹھے اور کھارے پانی کو ایک ہی سمندر میں بہتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ایک ہی سمندر میں بہہ رہے ہیں مگر پانی آپس میں ملتا نہیں۔ کس قدر حیرت ناک اور عجیب و غریب سائنسی معجزہ ہے جو انسان کو قرآن پاک کے ذریعے بتایا گیا ہے اس کی تحقیق سولھویں صدی عیسوی میں امیر البحر سیدی علی رئیس نے کی۔ ” کہ خلیج فارس کے نیچے میٹھے پانی کے چشمے ہیں۔ (مرآۃ الممالک۔ تفہیم القرآن)
راشد مسعود صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” گلف سٹریم دریافت ہوئی جو کہ ایک گرم پانی کا سمندر میں بہتا دریا ہے۔ اس کے علاوہ بیشمار سمندری دریا دریافت ہوئے۔ “
کس قدر حیرت اور حکمت کی بات ہے جو سمندروں اور دریائوں کے بارے میں قرآن بتا رہا ہے ایک سائنس دان خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ کھاری پانی کی حکمت کیا ہے۔ سمندر پانی کا اتنا بڑا ذخیرہ ہے کہ اگر میٹھا ہوتا تو پانی خراب ہوجاتا۔ اس کے پانی میں اللہ تعالیٰ نے اس قدر نمکیات رکھ دی ہیں کہ وہ سمندر کے ساکن پانی کو بدبو اور سرانڈ سے بچائے رکھتی ہیں۔ دنیا کا تمام استعمال شدہ اور فالتو گندی چیزیں سب سمندر میں جا گرتی ہیں اور پھر بیشمار آبی جانور ہر وقت پیدا ہوتے اور مرتے رہتے ہیں ذرا سوچیں اگر اس قدرتی نظام کو نافذ نہ کیا جاتا تو بدبو اور سڑاند سے انسان کا جینا محال ہوجاتا۔ تین چوتھائی حصہ سمندر اور ایک چوتھائی حصہ خشکی کا ہے۔ اتنا بڑا حوض صاف کیونکر ہوسکتا تھا اللہ کی حکمت کہ اس ساکن پانی کو محفوظ اور صاف رکھنے کا یہ طریقہ بنا دیا اور پھر پینے کے لیے صاف ‘ میٹھے اور نتھرے ہوئے پانی کا جو بہترین انتظام میٹھے دریائوں ‘ چشموں اور بارش کے ذریعے اللہ نے انسان کے لیے کردیا ہے۔ کیا یہ بہت بڑا احسان ‘ قدرت اور کمال نہیں ؟ کیا یہ سب اللہ کے موجود ہونے اس کے واحد ہونے اور لا شریک ہونے کی صاف آسان دلیلیں نہیں ہیں ؟ بالکل ہیں کوئی نہیں جو ہر قسم کی طاقت مدد اور وسائل لگا کر بھی ایسی ترکیب پانی ذخیرہ کرنے اور پھر دور دراز علاقوں میں فلٹر کر کے پانی کی اتنی بڑی مقدار سپلائی کرسکے جتنی کہ ہر وقت انتہائی مناسب وقت مقدار اور علاقہ میں اللہ کی طرف سے خود کار پلانٹ کے ذریعہ ہورہا ہے۔ یہ پلانٹ خود کار ضرور ہے مگر ہے یہ اللہ کے پورے کنٹرول میں۔ کوئی بھی جن و بشر اس میں ہرگز مداخلت کرنے کی جرأت نہیں کرسکتا۔ اسی طرح اس کی قدرت کا ایک اور بہت بڑا معجزہ انسان کی پیدائش ہے۔ ایک پانی کا قطرہ اتنے بڑے انسان کی تخلیق کا باعث بنتا ہے۔ اس کی تفصیلات گزر چکی ہیں یہاں صرف اتنا ہی عرض کرنا ہے کہ وراثت کا جو نظام اس ایک معمولی چھوٹے سے کروموسوم میں اللہ نے رکھ دیا ہے وہ اتنا مضبوط اور اٹل ہے کہ اس سے فرار ہرگز ممکن نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا عورتوں مردوں کی بیشمار قسموں سے بھری پڑی ہے۔ مگر وراثت کا یہ نظام ہر شخص کو دوسرے سے مختلف رکھتا ہے۔ شکل ‘ آواز ‘ رنگ ‘ عادات اور ذہنیت غرض جنس کو بھی علیحدہ علیحدہ رکھتا ہے۔ ماہرین حیات نے بتایا ہے کہ چند خوردبینی اجرام والدین کی خصوصیات کو اولاد میں منتقل کرتے ہیں۔ مگر پیدائش کا یہ نظام لڑکا اور لڑکی پر منحصر ہوتا ہے۔ کیونکہ آئندہ نسل چلنے کا سبب عورت مرد پھر ان کی رشتہ داریاں یعنی سسرال کی رشتہ داریوں سے خاندان بنتے اور رشتہ داریاں پھیلتی چلی جاتی ہیں۔ یہ سب کام سوائے اللہ کی قدرت کے اور کون کرسکتا ہے۔ اگر غور کریں تو عقل یہی بتاتی ہے کہ صرف اللہ ہی سب طرح کی قدرت کا مالک ہے اس لیے صرف اسی کی عبادت اور اسی کو سجدہ کرنا جائز ہے مگر یہ کفار تو بالکل ہی عقل کے اندھے ہیں اتنا کچھ دیکھ کر بھی یہ بجائے اللہ کی عبادت کے ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو کچھ بھی کرنے کی طاقت نہیں رکھتے بےوقوفی اور ہٹ دھرمی کی انتہا ہے۔ اس لیے اللہ رب العلمین پیارے رسول ﷺ کو تسلی دیتے ہیں کہ آپ کا کام ہے سمجھانا سیدھی اور اچھی راہ دکھانا۔ آپ اللہ پر بھروسہ رکھیں وہ اللہ جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ گنہگار اور بھٹکے ہوئے لوگوں کو اللہ خوب اچھی طرح جانتا ہے۔ آپ اللہ کی تسبیح و تقدیس اور تبلیغ میں ڈٹے رہیں۔ اس اللہ کی تسبیح جو دنیا کی ہر چیز کا خالق ومالک ہے اور رحمن و رحیم ہے اس آیت پر سجدہ کرنا چاہیے۔ یہ کفار تو رحمن کے نام سے ہی بدک جاتے ہیں جیسا کہ صلح حدیبیہ کے معاہدہ پر جب نبی اکرم ﷺ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا تو کفار نے کہا کہ یہ نہیں بلکہ باسْمِکَ اللّٰھُمَّ لکھو۔ مطلب یہ ہے کہ کفار تو اللہ رحمن و رحیم کے نام سے دور بھاگتے ہیں عبادت کرنا تو دور کی بات ہے۔ اس رحمن و رحیم کی کون کون سی قدرتوں کا ذکر کریں اس کی لاجواب اور بےمثال قدرت کا ذکر آیت 59 میں کیا گیا ہے۔ یہ آیت تخلیق کائنات کی دلیل کے لیے بہترین آیت ہے۔
” زمین و آسمان کو اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے سب چھ دن میں پیدا کیا۔ “ اس مضمون کی آیات قرآن مجید میں سات جگہ آئی ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے وہ چھ دن ہمارے اس دنیا کے چھ دن سے ٹائم کے لحاظ سے بہت مختلف ہیں۔ کیونکہ ہمارے دن اور رات زمینی محوری گردش سے بنتے ہیں۔ اس گردش کے دوران زمین کا جو حصہ سورج کے سامنے آتا ہے روشن ہو کر دن کہلاتا ہے اور جو حصہ سورج کے سامنے نہیں ہوتا وہاں اندھیرا ہوتا ہے تو وہ رات کہلاتی ہے۔ اصل میں قرآن پاک میں جو دن کا لفظ آتا ہے یہ اصل میں عام دن کے معنی میں نہیں آتا بلکہ اس سے مراد وقت ہوتا ہے۔ جیسا کہ یوم القیامہ یعنی قیامت کا دن اب اس دن سے مراد ہمارا زمینی دن نہیں بلکہ اس دن کی مقدار قرن پاک میں ہمارے پچاس ہزار سالوں کے برابر بتائی گئی ہے اور کہیں ہمارے ایک دن کو ہزار برس کے برابر کہا گیا ہے۔ بہرحال اس وقت کا مقرر کرنا اس کا اندازہ کرنا فی الحال انسان کی عقل سے باہر ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر مستوی اور براجمان ہے اس کی کیفیت کیا ہے ؟ وہ اللہ تعالیٰ کو ہی معلوم ہے۔ اللہ قادر مطلق ہے۔ وہ تو ” کُنْ فَیَکُوْنُ “ ہوجا اور ہوگیا پر قدرت رکھتا ہے اب اس میں کتنا وقت درکار ہوتا ہے اور حکم اور عمل کا کیا طریقہ کار ہوتا ہے یہ تو اللہ ہی جانتا ہے انسان تو تحقیق و جستجو میں لگا رہتا ہے جتنا علم اس نے دینا ہے دے دیتا ہے اور بس ہمارے لیے تو صرف اس کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم ہے۔ اللہ ہمیں اس حکم کی پابندی کی توفیق عطا کرے آمین۔ کفر و شرک کی گندگی اور ظلم سے بچائے آمین۔