Ayahs 26:1–6قرآن روشن کتاب ہے
تشریح : ڈاکٹر برہان احمد فاروقی صاحب ” کتاب “ کی تعریف یوں کرتے ہیں۔
-1 ” جس کے پانے سے تمام خیروکمال وابستہ ہوں۔
-2 تصورِ کائنات موجودہ حالات ماضی حال اور مستقبل کے احکامات کا وہ جائزہ جس کی بنیاد پر نصب العین کا حصول ‘ معیار کا تعین ہو۔
-3 وہ مقام یا حیثیت جس کے حوالے کے بغیر اعمال کا موازنہ (جانچنا) اور تخمینہ مقصود نہ ہو سکے۔
-4 وہ عمل جسے اتمام (تکمیل) تک پہنچانے پر کوئی جماعت مأمور ہو۔
-5 لائحہ عمل پہلے سے ترتیب دیا ہوا فرائض و اعمال کا وہ گوشوارہ جو اپنے اندر مطلوبہ نتائج تک پہنچانے کی ضمانت رکھتا ہو۔
-6 معیار وہ نمونہ کمال یا اصول جس کے حوالے سے ہر عمل کو پرکھا جائے اور بہتر سے بہتر بنایا جاسکے اور جس کی مطابقت میں عمل کے ڈھلنے سے ” فضائل “ واقعہ بن سکیں۔ “ مزید لکھتے ہیں کہ ” اس کتاب کا مسئلہ یہ ہے کہ فرد اور معاشرے کو جس نمونے پر ڈھلنا چاہیے وہ کیونکر ڈھلے ؟ کتاب کی احتیاج (ضرورت) فرد اور معاشرے کو لاحق ہے۔ کتاب سے یہ مسئلہ حل نہ ہو تو زندگی کے تقاضے پورے نہیں ہوسکتے۔ زندگی کے تقاضے پورے نہ ہوں تو کتاب ہدایت مقصود نہیں ہوسکتی۔ کتاب سے ہم اپنی جستجو اس سوال تک محدود رکھیں کہ دین کیا ہے ؟ تو اس سے زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جاسکتی اور ہماری جستجو یہ نہ ہو کہ ہماری زندگی کے تقاضے کیسے پورے ہوں گے جن میں ہماری معیشت اور سیاست کا معاندین کی گرفت سے آزاد ہونا بھی داخل ہے ‘ (موجودہ ماحول حکمران اور ان کے وضع کردہ قانون اصول) تو پھر زندگی کا لا دینی نظام ڈھلا رہنا ناگزیر (ضروری) رہے گا۔ جب تک ہم کسی منہاج کے مطابق قرآن مجید سے یہ اخذ نہ کرسکیں کہ غایت کیا ہے ؟ دعوتِ کائنات کیا ہے ؟ زاویہ نگاہ کیا ہے ؟ (غرض وغایت) دعوت کیا ہے ؟ (اسلام کی طرف بلانا) لائحہ عمل اور معیار کیا ہے ؟ زندگی کے لادینی نظام سے نکلنے کا کوئی امکان نہیں۔ جب تک حصول مقصد میں بےیقینی ہوگی اور مقصد کا شعور نہ ہوگا تو غلط روی کا پیدا ہونا ضروری ہے۔ “ مضامین قرآن کے بارے میں مزید لکھتے ہیں۔ ” غیب سے مراد اللہ تعالیٰ ‘ ملائکہ ‘ آخرت ‘ حشر و نشر ‘ جنت دوزخ ‘ جزا اور سزا سے حیات کامرانی مراد ہے۔ “ (از قرآن اور مسلمانوں کے زندہ مسائل)
اس حیات کامرانی کے حصول کے لیے یقین اور اللہ کی مدد کا حصول بہت ضروری ہے۔ رسول کی راہنمائی اور اس پر یقین کامل ایمان کی پختگی اور قرآن کی روشنی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے مگر آنحضرت ﷺ کی پریشانی پر اللہ تعالیٰ ان کو تسلی دیتے ہوئے فرماتے ہیں (یہ تضاد کا اصول ہر محنت کرنے والے کے لیے ہے) کہ آپ ان لوگوں کی نفرت نافرمانی اور گمراہی سے بالکل پریشان نہ ہوں کیونکہ اللہ جانتا ہے آپ کس خلوص ‘ محنت اور کوشش سے یہ کام کر رہے ہیں۔ یہ میری حکمت میں شامل ہے۔ اور یہ کائناتی قانون ہے کہ ہر نشوونما تضاد کے قانون کے تحت چل رہی ہے۔ جیسا کہ قرآن ان دو گروہوں کی نشاندہی یوں کرتا ہے۔ آدم ‘ ابلیس، اہل جنت ‘ اہل جہنم، اصحاب حق ‘ اصحاب باطل تو ثابت ہوا کہ مخالف فریق کے بغیر نشوونما ممکن نہیں اسی لیے ہر انسان کے مقابلہ میں شیطان ہے اور ہر پیغمبر کے مقابلہ میں دشمن ہیں۔ تو یہ تضاد اور مخالفت نشوونما اور ترقی و کامیابی کا ایک ضروری حصہ ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو تسلی دیتے ہوئے اپنی مدد اور کامیابی کی بشارت بھی دیتا ہے۔ یہی مضمون سورة کہف کی آیت 6 میں ہوچکا ہے سورة فاطر میں آیت 8 میں بھی آئے گا۔ تو آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو آپ کو جھٹلاتے ہیں وہ عنقریب اپنا انجام دیکھ لیں گے۔ ” پس یہ تو جھٹلا چکے اب ان کو اس بات کی حقیقت معلوم ہوجائے گی جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ “ آیت 6 ۔ یہ انجام بد ان کے سامنے کئی صورتوں میں آسکتا ہے۔ یعنی حق کی فتح کی صورت میں بھی ان کو ناکامی اور ذلت کا سامنا کرنا پڑے یا پھر عذاب کی صورت میں وہ اپنا انجام بد دیکھیں گے۔ بہرحال ان کا انجام برا ہی ہوگا اور پھر اس وقت عمل اور توبہ کا وقت گزر چکا ہوگا اور سوائے افسوس کے کچھ نہ ہو سکے گا۔
Ayahs 26:7–9دعوت توحید کی صداقت کی نشانیاں
تشریح : اس کی تشریح ہم روس کے مشہور ادیب و فلسفی ٹالسٹائی کی زبانی کرتے ہیں جو مذہب سے پھرجانے کے بعد دوبارہ ایمان لایا تو اس کی مدد قدرت کے ان نظاروں نے ہی کی جو ہمارے چاروں طرف بیشمار پھیلے ہوئے ہیں۔ اپنی کتاب ” اے کنفیشن “ "A. Confession" میں ایک جگہ وہ لکھتا ہے۔” نوع انسانی کسی نہ کسی ایمان کے سہارے جی رہی ہے اور اسی سے منزل کا تعین ہوتا ہے انسانی نفس کی گہرائیوں میں ایک لامحدود فیاض اور بےمثال اللہ کا تصور موجود ہے ‘ جس سے رابطہ ہونے کے بعد دل کو سکون ملتا ہے۔ اللہ سے منحرف ہونے کے بعد میں ایک شام ایک حسین جنگل میں پھر رہا تھا۔ ہر طرف سے پر اسرار آوازیں میرے کانوں میں موسیقی انڈیل رہی تھیں۔ رنگ برنگی چڑیاں شاخوں پر پھدک رہی تھیں اور حسن فطرت پھوار کی طرح برس رہا تھا ‘ اور یہ منظر دیکھ کر مجھے خیال آیا ‘ کہ اس بےپناہ دلکشی، مستی اور سرور کا کوئی نہ کوئی خالق ہونا چاہیے اور یوں میں تین سال بھٹکنے کے بعد پھر اللہ پر ایمان لے آیا ‘ اس ایمان سے مجھے کائنات کے ہر تغیر کی توجیہ (وجہ) مل گئی حریم دل میں بجھی شمع پھر فروزاں ہوگئی ‘ جس کے اجالوں سے تشکیک (شبہات) و اضطراب کی ظلمتیں (اندھیرے) دور ہوگئیں ‘ اور مجھے یہ احساس ہوا کہ میں بیک وقت زمین پر بھی ہوں اور آسمان پر بھی۔ “ (از نفسیات و روحانی واردات ص 271)
ایک کافر کو اگر اس کے چاروں طرف پھیلی ہوئی حسین کائنات ‘ نیلی فضائیں ‘ کالی گھٹائیں ‘ سبزہ زار ‘ کہسار ‘ سمندر ‘ دریا ‘ ندی ‘ نالے ‘ لہلہاتے کھیت ‘ مسکراتی کلیاں ‘ پھول ‘ پھل طرح طرح کی غذائی اجناس اللہ کے وجود کا یقین نہیں دلا سکتیں تو پھر اس کا کوئی علاج نہیں۔ کیونکہ اس سے بڑی اور کون سی نشانیاں ہوسکتی ہیں جو اس کو یہ سمجھا سکیں کہ یہ تمام انتظام کرنے والا ایک غالب اور مہربان موجود ہے جو صرف ایک ہی ہے اور سب پر اس کا غلبہ ہے سب پر مہربان بھی ہے۔ کیونکہ وہ کفار و مشرکین کو بھی تمام نعمتیں ضرور اور بیشمار دیتا ہے مگر ناشکرے لوگوں کو بڑی مہلت دیتا ہے کہ شاید کبھی ان کا دل دماغ سیدھی راہ کی طرف ان کو چلا دے۔ مگر یہ بڑی پرانی رسم چلی آرہی ہے کہ بہت سے لوگ ایمان نہیں لاتے جیسا کہ نبی اکرم حضرت محمد ﷺ سے پہلے بہت سے انبیاء آئے اور اسی طرح بہت سی قومیں گزریں ان کے واقعات یہاں بیان کیے جائیں گے تاکہ لوگ عبرت حاصل کریں اور نبی کو تسلی ہوجائے کہ یہ سب کچھ تو ضرور ہوتا ہے مگر حق کو کبھی شکست نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ اللہ حق ہے اور سب سے زیادہ طاقتور ہے۔ اس نے ایسے خراب لوگوں کو سمجھانے کے لیے نبی ضرور بھیجے مگر زبردستی ان کو دین کی طرف دھکیلا نہیں۔ جن کی عقل نے کام کیا ‘ ایمان لے آئے تو جنت حاصل کرلی اور جن کی عقل نے کام نہ کیا کفر میں ڈوبے رہے تو انہوں نے خود اپنے لیے دوزخ کمالی۔ سب سے پہلے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔ یہ پہلے بھی گزر چکا ہے اب نبی ﷺ کو تسلی دینے اور کفار کو عبرت دلانے ‘ اور تمام مسلمانوں کو سبق سکھانے کے لیے پھر بیان کیا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ اپنے طور پر بیشمار سبق آموز باتوں کا موجب ہے۔ اللہ کو پہچان لینا بڑا آسان کام ہے بس ذرا سی عقل کی ضرورت ہے۔ تو واقعہ سنیے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا۔