26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 26:105–121

كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:105 in the Quran reader

قوم نوح نے بھی رسولوں کو جھٹلایا۔

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ نُوْحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:106 in the Quran reader

جب ان کے بھائی نوح نے ان سے کہا کہ تم ڈرتے کیوں نہیں۔

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:107 in the Quran reader

میں تو تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں۔

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:108 in the Quran reader

تو اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 26:109 in the Quran reader

اور میں اس کام کا تم سے صلہ نہیں مانگتا میرا صلہ تو اللہ رب العلمین کے پاس ہے۔

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِؕ Open ayah 26:110 in the Quran reader

تو اللہ سے ڈرو اور میرے کہنے پر چلو۔

قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَ اتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَؕ Open ayah 26:111 in the Quran reader

وہ بولے کہ کیا ہم تم کو مان لیں اور تمہارے پیرو تو رذیل لوگ ہوئے ہیں۔

قَالَ وَ مَا عِلْمِیْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 26:112 in the Quran reader

نوح نے کہا کہ مجھے کیا معلوم کہ وہ کیا کرتے ہیں۔

اِنْ حِسَابُهُمْ اِلَّا عَلٰى رَبِّیْ لَوْ تَشْعُرُوْنَۚ Open ayah 26:113 in the Quran reader

ان کا حساب اعمال میرے رب کے ذمہ ہے کاش تم سمجھو۔

وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 26:114 in the Quran reader

اور میں مومنوں کو نکال دینے والا نہیں ہوں۔

اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 26:115 in the Quran reader

میں تو صرف کھول کھول کر ڈرانے والا ہوں۔

قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰنُوْحُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِیْنَؕ Open ayah 26:116 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ” نوح اگر تم باز نہ آئے تو سنگسار کردیے جاؤ گے۔

قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ كَذَّبُوْنِۚۖ Open ayah 26:117 in the Quran reader

نوح نے کہا 1 اے میرے رب میری قوم نے تو مجھے جھٹلا دیا ہے۔

فَافْتَحْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَهُمْ فَتْحًا وَّ نَجِّنِیْ وَ مَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:118 in the Quran reader

سو تو میرے اور ان کے درمیان ایک کھلا فیصلہ کر دے۔ مجھے اور جو مومن میرے ساتھ ہیں انہیں بچا لے۔

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۚ Open ayah 26:119 in the Quran reader

پس ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ بھری ہوئی کشتی میں سوار تھے ان کو بچا لیا

ثُمَّ اَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبٰقِیْنَؕ Open ayah 26:120 in the Quran reader

پھر اس کے بعد باقی لوگوں کو ڈبو دیا۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:121 in the Quran reader

بیشک اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

سیدنا نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم تشریح : سیدنا نوح (علیہ السلام) کے بارے میں تفصیلات سورة الاعراف ‘ یونس ‘ ھود ‘ بنی اسرائیل ‘ الانبیاء ‘ المومنون اور الفرقان میں گزر چکی ہیں۔ یہاں دوبارہ اس کا ہلکا سا بیان ہو رہا ہے تاکہ نبی اکرم ﷺ اور لوگوں کو اندازہ ہو سکے کہ ہر نبی اور ہر قوم ایسے ہی مراحل سے گزری ہے۔ مثلاً نبی ہمیشہ دلیل کے طور پر دو باتیں ضرور کرتا ہے۔ ایک یہ کہ میں تمہارے جیسا بندہ ہوں میری سیرت و کردار تمہارے سامنے ہے۔ جو کہ بالکل پاک صاف ہے دوسرا یہ کہ دعوت توحید اور کفر و شرک سے بچائو کی جو تدبیریں علم اور قانون جو میں تمہیں بتاتا ہوں اس کے لیے میں تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا صرف اور صرف اللہ کی خوشنودی اور اس کے حکم کے مطابق میں تمہیں ہدایات دیتا ہوں۔ اور پھر یہ اعتراض کہ نبی اور اس کے ماننے والے کم حیثیت لوگ کیوں ہوتے ہیں۔ امرا اور سردار ہمیشہ یہ اعتراض ضرور لگاتے ہیں۔ سیدنا نوح (علیہ السلام) پر بھی یہ اعتراض ہوا اور پھر حسب معمول یہ الزام بھی لگایا گیا کہ صرف اپنے درجات بلند کرنے کے لیے لوگوں میں مقبول ہونے کے لیے یہ سب کیا جا رہا ہے۔ بہرحال جب قوم کے سرداروں نے سیدنا نوح (علیہ السلام) کو دھمکی دی کہ آپ تبلیغ سے باز آجائیں ورنہ آپ کو سنگسار کردیا جائے گا۔ یعنی انہوں نے آپ کو اور آپ کے پیغام کو پوری طرح رد کردیا تو پھر تھک ہار کر سیدنا نوح (علیہ السلام) نے اللہ سے دعا کی ” اے میرے رب میری قوم نے تو مجھے جھٹلا دیا ہے۔ سو تو میرے اور ان کے درمیان ایک کھلا فیصلہ کر دے۔ “ (الشعرا آیات : 118 - 117 ) تب اللہ نے ان پر پانی کا طوفان برپا کردیا اور پوری نافرمان قوم ڈوب گئی سوائے سیدنا نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ کشتی میں بیٹھنے والے لوگوں کے۔ تو یہ انجام سمجھنے والے لوگوں کے لیے عبرت کا مقام ہے اور اللہ غالب و مہربان ہے ورنہ تم بھی عذاب میں آچکے ہوتے۔ اسی طرح قوم عاد کا ذکر بھی پہلے گزر چکا ہے دوبارہ صرف ان کے عذاب سے عبرت دلانے کے لیے بیان کیا جا رہا ہے۔
Ayahs 26:122–140

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:122 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار تو غالب اور مہربان ہے

كَذَّبَتْ عَادُ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:123 in the Quran reader

عاد نے بھی رسولوں کو جھٹلایا۔

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ هُوْدٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:124 in the Quran reader

جب ان سے ان کے بھائی ہود نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ؟

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:125 in the Quran reader

میں تو تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں۔

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:126 in the Quran reader

تو اللہ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو۔

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:127 in the Quran reader

اور میں اس پر تم سے کوئی بدلہ نہیں مانگتا میرا بدلہ رب العلمین کے ذمہ ہے

اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِیْعٍ اٰیَةً تَعْبَثُوْنَ Open ayah 26:128 in the Quran reader

بھلا تم ہر اونچی جگہ پر عبث نشان تعمیر کرتے ہو

وَ تَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَۚ Open ayah 26:129 in the Quran reader

اور محل بناتے ہو شاید تم ہمیشہ رہو گے

وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَۚ Open ayah 26:130 in the Quran reader

اور جب کسی کو پکڑتے ہو تو ظالمانہ پکڑتے ہو

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:131 in the Quran reader

تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔

وَ اتَّقُوا الَّذِیْۤ اَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَۚ Open ayah 26:132 in the Quran reader

اور اس سے جس نے تم کو ان چیزوں سے مدد دی جن کو تم جانتے ہو ڈرو

اَمَدَّكُمْ بِاَنْعَامٍ وَّ بَنِیْنَۚۙ Open ayah 26:133 in the Quran reader

اس نے تمہیں مویشیوں اور بیٹوں سے مدد دی۔

وَ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚ Open ayah 26:134 in the Quran reader

) اور باغوں اور چشموں سے

اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍؕ Open ayah 26:135 in the Quran reader

مجھے تمہارے بارے میں بڑے سخت دن کے عذاب کا خوف ہے

قَالُوْا سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَوَ عَظْتَ اَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوٰعِظِیْنَۙ Open ayah 26:136 in the Quran reader

وہ بولے کہ ہمیں نصیحت کرو یا نہ کرو ہمارے لیے یکساں ہے۔

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 26:137 in the Quran reader

یہ تو اگلوں ہی کے طریقے ہیں

وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَۚ Open ayah 26:138 in the Quran reader

اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔

فَكَذَّبُوْهُ فَاَهْلَكْنٰهُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:139 in the Quran reader

تو انہوں نے اس ( ھود) کو جھٹلایا سو ہم نے ان کو ہلاک کر ڈالا بیشک اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:140 in the Quran reader

اور بیشک تمہارا رب تو غالب اور مہربان ہے۔

قوم عاد کا تذکرہ تشریح : سورة الاعراف اور سورة ھود میں تفصیلات گزر چکی ہیں۔ جسمانی مالی اور تمدنی لحاظ سے یہ قوم بےمثال تھی۔ وہ لوگ بجائے اللہ کا شکر کرنے کے انتہائی مغرور، سرکش اور نافرمان لوگ تھے۔ سیدنا ھود (علیہ السلام) نے ان کو توحید اور نیکی کی طرف بلانے کی بہت کوشش کی۔ مگر وہ نافرمان بالکل نہ مانے آخر اللہ کے عذاب میں گرفتار ہوئے اور بالکل تباہ و برباد ہوگئے۔ آٹھ دن اور سات راتیں مسلسل شدید آندھی نے ان کو الٹ کر رکھ دیا اور یہ صرف ان کی نافرمانی اور بےراہروی کی سزا تھی۔ اللہ ہر چیز پر غالب ہے۔ بروں کو بڑی مہلت دیتا ہے کیونکہ مہربان ہے مگر آخر عذاب دینا اس کے لیے کوئی مشکل کام نہیں یہ اس کی حکمت ہے کہ جب کوئی قوم حد سے گزر جاتی ہے تو پھر زمین کی صفائی اسی طرح ہوتی ہے کہ اس قوم کو جڑ سے ختم کر کے وہاں دوسرے لوگ آباد کردیے جاتے ہیں۔ اسی طرح ان کی بستیاں پہلے تو کھنڈروں کی صورت میں دکھائی دیتی تھیں مگر اب تو وہ احقاف کا پورا علاقہ ایک خوفناک ریگستان بن چکا ہے اور یہ عبرت حاصل کرنے کا بہت بڑا ثبوت موجود ہے۔ اسی طرح ثمود کا ذکر ہے۔