26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 26:10–68

وَ اِذْ نَادٰى رَبُّكَ مُوْسٰۤى اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 26:10 in the Quran reader

اور جب تمہارے رب نے موسیٰ سے کہا کہ ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔

قَوْمَ فِرْعَوْنَ١ؕ اَلَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 26:11 in the Quran reader

قوم فرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِؕ Open ayah 26:12 in the Quran reader

انہوں نے کہا میرے پروردگار ! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں گے۔

وَ یَضِیْقُ صَدْرِیْ وَ لَا یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ Open ayah 26:13 in the Quran reader

اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے (بولنے میں روانی نہیں) تو ہارون کو (میرے ساتھ) بھیج دے۔

وَ لَهُمْ عَلَیَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِۚ Open ayah 26:14 in the Quran reader

اور ان لوگوں کا مجھ پر ایک الزام (یعنی قبطی کو مارنے کا دعویٰ بھی ہے) تو مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے مار ہی ڈالیں۔

قَالَ كَلَّا١ۚ فَاذْهَبَا بِاٰیٰتِنَاۤ اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:15 in the Quran reader

فرمایا ہرگز نہیں تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ ہم تمہارے ساتھ سننے والے ہیں۔

فَاْتِیَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:16 in the Quran reader

تو تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے مالک کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں۔

اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:17 in the Quran reader

اور اس لیے آئے ہیں کہ آپ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دیں۔

قَالَ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِیْنَا وَلِیْدًا وَّ لَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِیْنَۙ Open ayah 26:18 in the Quran reader

فرعون نے موسیٰ سے کہا کیا ہم نے تم کو کہ جب بچے تھے پرورش نہیں کیا اور تم نے برسوں ہمارے پاس زندگی نہیں گزاری ؟

وَ فَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِیْ فَعَلْتَ وَ اَنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 26:19 in the Quran reader

اور تم نے ایک اور کام کیا تھا جس کا تو نے ارتکاب کیا تم ناشکرے معلوم ہوتے ہو۔

قَالَ فَعَلْتُهَاۤ اِذًا وَّ اَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَؕ Open ayah 26:20 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا ہاں وہ حرکت مجھ سے اتفاقاً ہوگئی تھی اور میں خطاکاروں میں تھا۔

فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِیْ رَبِّیْ حُكْمًا وَّ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 26:21 in the Quran reader

تو جب مجھے تم سے ڈر لگا میں یہاں سے بھاگ گیا ‘ پھر اللہ نے مجھے حکمت (نبوت) اور علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔

وَ تِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:22 in the Quran reader

اور کیا یہی احسان ہے جو آپ مجھ پر رکھتے ہیں کہ آپ نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے۔

قَالَ فِرْعَوْنُ وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:23 in the Quran reader

فرعون نے کہا کہ تمام جہانوں کا مالک کیا ؟

قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 26:24 in the Quran reader

کہا کہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کا رب بشرطیکہ تم لوگوں کو یقین ہو

قَالَ لِمَنْ حَوْلَهٗۤ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:25 in the Quran reader

فرعون نے اپنے اہل دربار سے کہا کہ ” کیا تم سنتے نہیں ؟

قَالَ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:26 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کہ ” تمہارا رب اور تمہارے پہلے باپ دادا کا مالک۔

قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِیْۤ اُرْسِلَ اِلَیْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ Open ayah 26:27 in the Quran reader

فرعون نے کہا یہ پیغمبر جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے بائولا ہے۔

قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 26:28 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کہ ” مشرق اور مغرب اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کا رب اگر تم کو سمجھ ہو۔

قَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ Open ayah 26:29 in the Quran reader

فرعون نے کہا کہ ” اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تمہیں قید کر دوں گا۔

قَالَ اَوَ لَوْ جِئْتُكَ بِشَیْءٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 26:30 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا خواہ میں آپ کے پاس روشن چیز (یعنی معجزہ) لائوں ؟

قَالَ فَاْتِ بِهٖۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 26:31 in the Quran reader

فرعون نے کہا اگر سچے ہو تو اسے لائو دکھائو۔

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 26:32 in the Quran reader

پس انہوں نے اپنی لاٹھی ڈال دی تو وہ اسی وقت صریح اژدہابن گئی۔

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 26:33 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ جو نکالا تو اسی وقت دیکھنے والوں کے لیے سفید چمکدار دکھائی دینے لگا۔

قَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَهٗۤ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 26:34 in the Quran reader

فرعون نے اپنے سرداروں سے کہا کہ یہ تو ماہر جادوگر ہے۔

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهٖ١ۖۗ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 26:35 in the Quran reader

چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے زور سے تمہارے ملک سے نکال دے تو تمہاری کیا رائے ہے ؟

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ ابْعَثْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 26:36 in the Quran reader

انہوں نے کہا اس کے اور اس کے بھائی کو کچھ مہلت دیں اور شہروں میں اعلان کروا دیجیے۔

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِیْمٍ Open ayah 26:37 in the Quran reader

کہ سب ماہر جادو گروں کو جمع کر کے آپ کے پاس لے آئیں۔

فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۙ Open ayah 26:38 in the Quran reader

تو جادو گر ایک مقررہ دن وقت پر جمع ہوگئے۔

وَّ قِیْلَ لِلنَّاسِ هَلْ اَنْتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَۙ Open ayah 26:39 in the Quran reader

اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ سب اکٹھے ہوجائیں۔

لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ اِنْ كَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:40 in the Quran reader

تاکہ اگر جادو گر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہوجائیں۔

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُوْا لِفِرْعَوْنَ اَئِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:41 in the Quran reader

جب جادو گر آگئے تو فرعون سے کہنے لگے کہ اگر ہم غالب رہے تو ہمیں انعام بھی ملے گا ؟

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 26:42 in the Quran reader

فرعون نے کہا ہاں اور تم مقربوں (خاص لوگوں) میں بھی شامل کردیے جاؤ گے۔

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 26:43 in the Quran reader

موسیٰ نے ان سے کہا جو چیز ڈالنی چاہو ڈالو۔

فَاَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَ عِصِیَّهُمْ وَ قَالُوْا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ اِنَّا لَنَحْنُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 26:44 in the Quran reader

تو انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈال دیں اور کہنے لگے ” فرعون کے اقبال کی قسم ہم ضرور غالب رہیں گے

فَاَلْقٰى مُوْسٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚۖ Open ayah 26:45 in the Quran reader

پھر موسیٰ نے اپنی لاٹھی ڈالی تو وہ ان تمام چیزوں کو جو جادو گروں نے بنائی تھیں نگلنے لگی۔

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۙ Open ayah 26:46 in the Quran reader

جادوگر سجدے میں گر پڑے۔

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:47 in the Quran reader

اور کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے۔

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 26:48 in the Quran reader

جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے۔

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ؕ۬ لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُوصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَۚ Open ayah 26:49 in the Quran reader

فرعون نے کہا کیا اس سے پہلے کہ میں تمہیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے بیشک یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے سو عنقریب تم اس کا انجام معلوم کرلو گے کہ میں تمہارے ہاتھ اور پائوں مخالف طرف سے کاٹ دوں گا اور تم سب کو سولی پر چڑھا دوں گا۔

قَالُوْا لَا ضَیْرَ١٘ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 26:50 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ کچھ نقصان کی بات نہیں ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کرجانیوالے ہیں۔

اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَاۤ اَنْ كُنَّاۤ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَؕ۠ Open ayah 26:51 in the Quran reader

ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب ہمارے گناہ بخش دے گا۔ اس لیے کہ ہم اول ایمان لانے والوں میں ہیں۔

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْۤ اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَ Open ayah 26:52 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے بندوں کو رات کو لے نکلو کہ ( فرعون کی طرف سے) تمہارا پیچھا کیا جائے گا۔

فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۚ Open ayah 26:53 in the Quran reader

تو فرعون نے شہروں میں نقیب روانہ کیے۔

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِیْلُوْنَۙ Open ayah 26:54 in the Quran reader

اور کہا کہ ” یہ لوگ تھوڑی سی جماعت ہے۔

وَ اِنَّهُمْ لَنَا لَغَآئِظُوْنَۙ Open ayah 26:55 in the Quran reader

اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں۔

وَ اِنَّا لَجَمِیْعٌ حٰذِرُوْنَؕ Open ayah 26:56 in the Quran reader

اور ہم سب سازو سامان سے لیس ہیں۔

فَاَخْرَجْنٰهُمْ مِّنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 26:57 in the Quran reader

تو ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔

وَّ كُنُوْزٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 26:58 in the Quran reader

خزانوں اور نفیس مکانات سے۔

كَذٰلِكَ١ؕ وَ اَوْرَثْنٰهَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:59 in the Quran reader

ان کے ساتھ ہم نے اس طرح کیا اور ان چیزوں کا وارث بنی اسرائیل کو کردیا۔

فَاَتْبَعُوْهُمْ مُّشْرِقِیْنَ Open ayah 26:60 in the Quran reader

تو انہوں نے سورج نکلنے کے وقت (یعنی صبح) ان کا تعاقب کیا۔

فَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰۤى اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَۚ Open ayah 26:61 in the Quran reader

جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے ساتھی کہنے لگے کہ ہم تو پکڑ لیے گئے۔

قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 26:62 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا ” ہرگز نہیں ‘ میرا رب میرے ساتھ ہے ‘ وہ مجھے رستہ بتائے گا۔

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ١ؕ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 26:63 in the Quran reader

اس وقت ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی دریا پر مارو، تو دریا پھٹ گیا اور ہر ایک طرف یوں ہوگئی کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔

وَ اَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِیْنَۚ Open ayah 26:64 in the Quran reader

اور دوسروں کو وہاں ہم نے قریب کردیا۔

وَ اَنْجَیْنَا مُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۚ Open ayah 26:65 in the Quran reader

موسیٰ اور ان کے ساتھ والوں کو بچا لیا۔

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَؕ Open ayah 26:66 in the Quran reader

پھر دوسروں (فرعونیوں) کو ڈبو دیا۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:67 in the Quran reader

بیشک اس (واقعے) میں نشانی ہے لیکن یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں۔

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:68 in the Quran reader

اور تمہارا رب تو غالب اور مہربان ہے۔

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ تشریح : اس واقعہ میں بیشمار نصیحتیں ‘ اللہ کے کمالات ‘ عجزو انکساری اور سب سے بڑھ کر توکل علی اللہ کا بہت زبردست سبق ملتا ہے۔ ایمان کامل انسان کے اندر اس قدر ہمت ‘ جرأت ‘ بہادری اور معرفت پیدا کردیتا ہے کہ انسان مادی اصولوں سے بےنیاز ہو کر روحانی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اس کو اللہ ‘ اس کی مدد ‘ اس کا سایہ دنیا کے ہر خطرے سے محفوظ بےنیاز کردیتا ہے۔ جیسا کہ سید حسین نصر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” سچے مومن کی فراست تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون ہے۔ “ ( سورة رعد آیت : 28) ایسا شخص جو اس حالت میں ہو وہ سکون اور سرخوشی سے مالامال ہوتا ہے۔ اور اللہ کے قرب کے مدارج طے کرتا ہے۔ یہ درجات ہمیں سیدنا موسیٰ اور سیدنا ہارون (علیہم السلام) کے قصہ میں ایک تو اس وقت ملتے ہیں جب وہ فرعون کے دربار میں دعوت توحید لے کر جاتے ہیں۔ اس وقت ایک تو وہ ایک محکوم شہری تھے کیونکہ ان سے ایک قبطی کا خون ہوگیا تھا جس وجہ سے وہ مصر سے فرار ہوئے تھے۔ دوسرے ایک حاکم کے دربار میں یوں چلے جانا جو جاہ و جلال کی شراب میں یوں مست ہوچکا تھا کہ خود کو خدا سمجھتا تھا اور خود کو سجدہ کرواتا تھا۔ بھلا اس کے سامنے جا کر یوں اللہ کا پیغام دینا کوئی معمولی کام تھا۔ اور دوسرا واقعہ ان جادو گروں کا ‘ یوں فوراً بےخوف ہو کر ایمان لے آنا اور جس کو کچھ مدت پہلے وہ ہاتھ جوڑ کر انعام و اکرام کی درخواست کر رہے تھے۔ سزا اور موت کے خوف سے بالکل بےنیاز ہو کر یوں کہنا کہ ” کچھ نقصان کی بات نہیں ہم اپنے رب کی طرف لوٹ جانے والے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب ہمارے گناہ بخش دے گا اس لیے کہ ہم اول ایمان لانے والوں میں ہیں۔ (الشعراء آیات : 51 - 50 ) سبحان اللہ وہ جس کے دل کو منور کر دے۔ مقصد یہ ہے کہ اگر سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور نبی اکرم ﷺ کی زندگیوں کا مقابلہ کیا جائے تو سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی نسبتاً زیادہ مشکل دکھائی دیتی ہے اور اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دینے کے لیے یہ قصہ یہاں بیان کیا ہے۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش پرورش کا ذکر بڑی تفصیل سے سورة الاعراف ‘ طہٰ ‘ نمل اور قصص میں بتایا گیا ہے۔ ان کے معجزات جیسا کہ یہاں بیان کیا گیا ہے یہ سب کچھ سورة یونس اور سورة بنی اسرائیل میں بیان ہوچکا ہے۔ مقصد صرف یہی ہے کہ حق کی جیت ضرور ہوتی ہے اور حق کے جاں نثاروں کی مدد اللہ خود کرتا ہے۔ فرعون کالا جواب ہو کر غصہ میں الٹا سیدھا بیان دینا اور بالآخر عذاب الٰہی کا شکار ہونا بہت بڑی عبرت ہے۔ مگر کفار قریش بڑے ہٹ دھرم اور ضدی تھے۔ جس طرح قوم فرعون اتنے بڑے بڑے صریح معجزے دیکھ کر بھی ایمان نہ لائی اسی طرح یہ بھی اکثر ایمان لانے والے نہیں۔ تو آپ کو اللہ پر بھروسا رکھنا چاہیے اور یہ پیغام ہر مسلمان کے لیے ہے کہ حق کی حمایت میں تبلیغ و اشاعت دین میں جس قدر بھی مشکلات پیش آئیں خوشی سے برداشت کرتے چلے جائیں اور یقین رکھیں کہ حق کی فتح ضرور ہوتی ہے۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی چھوٹی سی جماعت نے فرعونیوں کے اتنے بڑے لائو لشکر سے ٹکر لے لی۔ اور فرعونیوں کو اپنے فخر و غرور کی وجہ سے سخت تباہی دیکھنی پڑی اور پھر اللہ کی حکمت دیکھیے کہ پورا لائو لشکر فرعون کی سربراہی میں موسیٰ (علیہ السلام) کے تعاقب میں چل نکلا۔ مقصد یہی تھا کہ سب کے سب یکدم غرق ہوجائیں اور ان کی تمام جائیدادیں ‘ مال و متاع یہیں دھرا رہ جائے اور بنی اسرائیل کو ان کا وارث بنا دیا گیا۔ اہل عرب کو ان کی نافرمانی کفر و شرک کی سزا فوراً نہیں دی جا رہی کیونکہ ان کو مہلت دی جا رہی ہے۔ یہ بھی اللہ کی حکمت ہے۔ کیونکہ وہ بڑا غلبہ رکھنے والا اور مہربان ہے۔ جیسا کہ امام الانبیاء سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی تمام زندگی بعثت سے وفات تک بیشمار عنایت الٰہی سے بھری پڑی ہے۔ وہ اپنے مومن بندوں کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑتا۔ نبی اور پیغمبر کی تو بات ہی اور ہے وہ بھلا اللہ کی مدد اور رحمت سے دور کیسے رکھے جاسکتے ہیں۔ اسی سلسلے میں ایک اور جلیل القدر پیغمبر کی زندگی اور امت کا حال بیان کیا جا رہا ہے ملاحظہ ہو :