20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 20:25–48

قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ Open ayah 20:25 in the Quran reader

کہا میرے رب ! میرے لیے میرا سینہ کھول دے۔

وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:26 in the Quran reader

ور میرا کام آسان کر دے۔

وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙ Open ayah 20:27 in the Quran reader

اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔

یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪ Open ayah 20:28 in the Quran reader

تاکہ وہ میری بات سمجھ سکیں۔

وَ اجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَهْلِیْۙ Open ayah 20:29 in the Quran reader

اور میرے گھر والوں میں سے ایک کو میرا وزیر (مددگار) مقرر فرما۔

هٰرُوْنَ اَخِیۙ Open ayah 20:30 in the Quran reader

یعنی میرے بھائی ہارون کو۔

اشْدُدْ بِهٖۤ اَزْرِیْۙ Open ayah 20:31 in the Quran reader

اس سے میری قوت کو مضبوط کر۔

وَ اَشْرِكْهُ فِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:32 in the Quran reader

اور اسے میرے کام میں شریک کر۔

كَیْ نُسَبِّحَكَ كَثِیْرًاۙ Open ayah 20:33 in the Quran reader

تاکہ ہم تیری بہت پاکی بیان کریں۔

وَّ نَذْكُرَكَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 20:34 in the Quran reader

اور تجھے کثرت سے یاد کریں۔

اِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِیْرًا Open ayah 20:35 in the Quran reader

تو ہم کو ہر حال میں دیکھ رہا ہے۔

قَالَ قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:36 in the Quran reader

فرمایا موسیٰ ! تمہاری دعا قبول کی گئی۔

وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْكَ مَرَّةً اُخْرٰۤىۙ Open ayah 20:37 in the Quran reader

اور ہم نے تم پر ایک اور بھی احسان کیا تھا۔

اِذْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّكَ مَا یُوْحٰۤىۙ Open ayah 20:38 in the Quran reader

جب ہم نے تیری ماں کی طرف وحی کے ذریعے پیغام بھیجا۔

اَنِ اقْذِفِیْهِ فِی التَّابُوْتِ فَاقْذِفِیْهِ فِی الْیَمِّ فَلْیُلْقِهِ الْیَمُّ بِالسَّاحِلِ یَاْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّیْ وَ عَدُوٌّ لَّهٗ١ؕ وَ اَلْقَیْتُ عَلَیْكَ مَحَبَّةً مِّنِّیْ١ۚ۬ وَ لِتُصْنَعَ عَلٰى عَیْنِیْۘ Open ayah 20:39 in the Quran reader

(وہ یہ تھا) کہ موسیٰ کو صندوق میں رکھو اور صندوق کو دریا میں ڈال دو تو دریا اس کو کنارے پر ڈال دے گا، اور میرا اور اس کا دشمن اسے ٹھا لے گا اور موسیٰ ! میں نے تم پر اپنی طرف سے محبت ڈال دی اس لیے کہ تم پر مہربانی کی جائے اور اس لیے کہ تم میرے سامنے پرورش پائو۔

اِذْ تَمْشِیْۤ اُخْتُكَ فَتَقُوْلُ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى مَنْ یَّكْفُلُهٗ١ؕ فَرَجَعْنٰكَ اِلٰۤى اُمِّكَ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ١ؕ۬ وَ قَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّیْنٰكَ مِنَ الْغَمِّ وَ فَتَنّٰكَ فُتُوْنًا١۫۬ فَلَبِثْتَ سِنِیْنَ فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ١ۙ۬ ثُمَّ جِئْتَ عَلٰى قَدَرٍ یّٰمُوْسٰى Open ayah 20:40 in the Quran reader

جب تمہاری بہن (فرعون کے ہاں) گئی اور کہنے لگی کہ میں تمہیں ایسا شخص بتائوں جو اس کو پالے، تو اس طریقہ سے ہم نے تم کو تمہاری ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ رنج نہ کرے اور تم نے ایک شخص کو مار ڈالا تو ہم نے تم کو غم سے نجات دی اور ہم نے تمہاری کئی بار آزمائش کی، پھر تم کئی سال اہل مدین میں ٹھہرے رہے، پھر اے موسیٰ تم تقدیر کے مطابق ٹھیک اپنے وقت پر یہاں پر آپہنچے۔

وَ اصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِیْۚ Open ayah 20:41 in the Quran reader

اور میں نے تم کو اپنے کام کے لیے بنایا ہے۔

اِذْهَبْ اَنْتَ وَ اَخُوْكَ بِاٰیٰتِیْ وَ لَا تَنِیَا فِیْ ذِكْرِیْۚ Open ayah 20:42 in the Quran reader

تو تم اور تمہارا بھائی دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ اور میری یاد میں سستی نہ کرنا۔

اِذْهَبَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰىۚۖ Open ayah 20:43 in the Quran reader

دونوں فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہو رہا ہے۔

فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى Open ayah 20:44 in the Quran reader

اور اس سے نرمی سے بات کرنا شاید وہ غور کرے یا ڈر جائے۔

قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَاۤ اَوْ اَنْ یَّطْغٰى Open ayah 20:45 in the Quran reader

دونوں کہنے لگے کہ ہمارے پروردگار ہمیں خوف ہے کہ وہ پر ہم ظلم کرنے لگے یا زیادہ سرکش ہوجائے۔

قَالَ لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِیْ مَعَكُمَاۤ اَسْمَعُ وَ اَرٰى Open ayah 20:46 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا ڈرو مت میں تمہارے ساتھ ہوں اور سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں۔

فَاْتِیٰهُ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ وَ لَا تُعَذِّبْهُمْ١ؕ قَدْ جِئْنٰكَ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ السَّلٰمُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى Open ayah 20:47 in the Quran reader

اچھا تو اس کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم آپ کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں، تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دیجیے اور انہیں عذاب نہ کیجیے۔ ہم آپ کے پاس آپ کے رب کی طرف سے نشانی لے کر آئے ہیں اور جو ہدایت کی بات مانے اس کو سلامتی ہو۔

اِنَّا قَدْ اُوْحِیَ اِلَیْنَاۤ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰى مَنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰى Open ayah 20:48 in the Quran reader

ہماری طرف یہ وحی آئی ہے کہ جو جھٹلائے یا منہ پھیرے اس کے لیے عذاب تیار ہے۔

سیدنا موسیٰ کی دعاؤں کی قبولیت اور بچپن کی یادیں تشریح : اصل اور مکمل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا سورة قصص میں انشاء اللہ بیان کیا جائے گا۔ یہاں بہت مختصر بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ آیات سے ظاہر ہو رہا ہے۔ اصل میں تو آنحضرت ﷺ کو یہ بتانا مقصود تھا کہ تبلیغ کے لیے کیا کچھ ضروری اور کیا کچھ مشکلات پیش آتی ہیں جیسا کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بچپن سے ہی نبوت کے لیے منتخب کرلیا تھا۔ اور ان کو کئی مشکلات سے اپنی حکمت سے بچائے رکھا۔ مثلاً اللہ نے فرمایا : جو سال بچوں کے قتل کا تھا اس سال آپ کی پیدائش ہوئی۔ قتل کردیے جانے کے خوف سے تیری ماں نے اللہ کے حکم سے تجھے صندوق میں بند کر کے سمندر میں ڈال دیا، پھر اسی کے دل میں تیرے لیے محبت ڈال دی جو تیرا اور میرا دشمن تھا اور اسی نے تیری پرورش کی۔ تمام دایائوں کا دودھ تجھ پر حرام کردیا اور اپنی قدرت سے تیری ماں کو ہی تیرے دودھ پلانے پر مقرر کروا دیا، پھر تیرے ہاتھوں ایک قبطی کا قتل ہوگیا تو وہ لوگ تجھے قتل کردینا چاہتے تھے تو اس پر بھی اللہ نے تجھے بچا لیا اور تو کئی سال مدین میں رہتا رہا۔ یہ سب اس لیے اللہ نے تیرے ساتھ کیا کیونکہ اس نے تم سے ایک بہت بڑا کام لینا تھا اور وہ تھا تبلیغ کا اور پوری آزمائشوں کے بعد اب تم میرے پاس آئے ہو جب نبوت کے فرائض کو پورا کرنے کے تم اہل ہوچکے ہو۔ اب جو مکالمہ اللہ تعالیٰ اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان ہوا اس سے وہ تمام فرائض آنحضرت ﷺ کو سمجھانے مقصود ہیں جو ایک مبلغ کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ پہلا داعی الیٰ اللہ (مبلغ) کو کسی وقت بھی اللہ کے ذکر سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ دوسرا : مبلغ کو بہت نرم مزاجی، شفقت اور محبت سے بات چیت کرنی چاہیے۔ سخت لہجہ میں نہیں بولنا چاہیے۔ کیونکہ اس طرح لوگ دور بھاگتے ہیں۔ تیسرا : مبلغ کو صبر و سکون، ثابت قدمی، مضبوط ارادے، اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے بالکل نڈر ہو کر اپنا کام کرنا چاہیے۔ چوتھا : مبلغ کو اس انداز میں بات کرنی چاہیے کہ سننے والا ڈر کر یا سمجھ کر ایمان لے آئے۔ یہ تمام ہدایات اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو دیں اور کہا کہ اب جاؤ فرعون کے پاس کہ اس نے بہت زیادہ طوفان اٹھا رکھا ہے۔ جب کوئی پیغمبر اس کی راہ میں نکلتا ہے تو اللہ ہر لحظہ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ دیکھتا ہے اور سنتا ہے۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے جو بھی دعائیں کیں اللہ نے ان کو پورا کردیا۔ پہلی دعا : میرا سینہ کھول دے یعنی نبوت کے اتنے بڑے کام کے لیے مجھے فہم و فراست اور عقل سمجھ عطا کرے۔ دوسری دعا : میری زبان صاف کر دے۔ کیونکہ آپ کی زبان میں زیادہ فصاحت نہ تھی بلکہ لکنت تھی کہ صاف طور سے بات چیت سمجھا سکیں۔ تیسری دعا : میرے گھر والوں میں سے میرا بھائی ہارون کو میرا مددگار بنا دے۔ (سیدنا ہارون آپ سے بڑے تھے) تاکہ ہم مل کر تمام کام کرسکیں اور تیری حمد و ثنا کرسکیں۔ چوتھی دعا : تو سنتا جانتا ہے جس طرح بچپن سے تو نے ہم پر احسانات کیے اب بھی ہم پر احسانات کی بارش کیے رکھ۔
Ayahs 20:49–59

قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:49 in the Quran reader

اس نے کہا کہ ” موسیٰ تمہارا پروردگار کون ہے ؟

قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْۤ اَعْطٰى كُلَّ شَیْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى Open ayah 20:50 in the Quran reader

کہا ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی شکل صورت بخشی پھر راہ دکھائی۔

قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:51 in the Quran reader

کہا تو پہلی جماعتوں کا کیا حال ؟

قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ كِتٰبٍ١ۚ لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَ لَا یَنْسَى٘ Open ayah 20:52 in the Quran reader

کہا کہ ان کا علم میرے رب کو ہے جو کتاب میں لکھا ہوا ہے، میرا رب نہ بھولتا ہے نہ چوکتا ہے۔

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ سَلَكَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ؕ فَاَخْرَجْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰى Open ayah 20:53 in the Quran reader

وہ وہی تو ہے جس نے تم لوگوں کے لیے زمین کو فرش بنایا اور اس میں تمہارے لیے رستے جاری کیے اور آسمان سے پانی برسایا پھر اس نے قسم قسم کی نباتات پیدا کیں۔

كُلُوْا وَ ارْعَوْا اَنْعَامَكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:54 in the Quran reader

کہ خود بھی کھائو اور اپنے جانوروں کو بھی چرائو، بیشک ان باتوں میں عقل والوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں۔

مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِیْهَا نُعِیْدُكُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى Open ayah 20:55 in the Quran reader

اسی زمین سے ہم نے تم کو پیدا کیا اور اسی میں تمہیں لوٹائیں گے اور اسی سے دوسری دفعہ نکالیں گے۔

وَ لَقَدْ اَرَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَ اَبٰى Open ayah 20:56 in the Quran reader

اور ہم نے فرعون کو اپنی سب نشانیاں دکھائیں مگر وہ جھٹلاتا رہا اور انکار ہی کرتا رہا۔

قَالَ اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:57 in the Quran reader

کہنے لگا موسیٰ ! کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ اپنے جادو کے زور سے ہمیں ہمارے ملک سے نکال دو ؟۔

فَلَنَاْتِیَنَّكَ بِسِحْرٍ مِّثْلِهٖ فَاجْعَلْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُهٗ نَحْنُ وَ لَاۤ اَنْتَ مَكَانًا سُوًى Open ayah 20:58 in the Quran reader

تو ہم بھی تمہارے مقابل ایسا ہی جادو لائیں گے تو ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کرلو کہ نہ تو ہم اس کے خلاف کریں اور نہ تم اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔

قَالَ مَوْعِدُكُمْ یَوْمُ الزِّیْنَةِ وَ اَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى Open ayah 20:59 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کہ آپ کے لیے یوم زینت کا وعدہ ہے اور یہ کہ لوگ اس دن چاشت کے وقت اکٹھے ہوجائیں۔

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا مکالمہ تشریح : ان آیات میں فرعون اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی گفتگو سے اللہ کے حق ہونے اور شیطان کے باطل ہونے کا اظہار اس طرح ہوتا ہے جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں کا ذکر بڑے ہی دانشمدانہ انداز میں کرتے ہیں۔ انہوں نے ان نکات کو بیان کردیا جن کی تصدیق بیسویں صدی کے سائنسدانوں نے اس طرح کی ہے۔ ” ہر ایک ایٹم کی فطرت میں یہ اصول یا پروگرام فٹ کردیا گیا ہے کہ وہ خالق حقیقی کو پہچانتے ہیں اور اسی کے حکم کے مطابق حرکت کرتے ہیں۔ یہی پہچان ہی زندگی کی روح ہے، لہٰذا اس کائنات میں کوئی چیز بھی مردہ نہیں۔ ہر چیز کا مادی وجود کمپیوٹر کی مانند ہے جو بجلی کی طاقت سے چلتا ہے۔ مگر پروگرام جو اس میں بھر دیا جاتا ہے اصل چیز وہ پروگرام ہی ہے۔ کیونکہ ہر حرکت اس پروگرام کے تحت ہی ہوسکتی ہے۔ اس پروگرام کو ہم روح، اللہ کی رحمت اور اللہ کا حکم کہہ سکتے ہیں۔ پھر اس پوری کائنات کے ہر ذرے نباتات، حیوانات، جمادات غرض ایک ایک چیز کا علم حساب کتاب ان کا عمل اور انجام ہر نقطہ اللہ کے علم میں موجود ہے اسی لیے وہ علیم و حکیم سمیع وبصیر کہلاتا ہے۔ (جاننے والا، حکمت والا، سننے والا، دیکھنے والا) لوگوں کو اس نے پہلے مٹی سے، پھر نطفہ سے پیدا کیا، پھر مر کر مٹی میں شامل ہوجاتے ہیں، پھر دوبارہ اسی مٹی میں سے ہماری پیدائش ہوگی۔ اور اللہ کے سامنے حاضری ہوگی، جنت و دوزخ میں داخل کیے جائیں گے۔ یہی تو ایمان ہے جو آج بھی مشکل سے کفار کی سمجھ میں آتا ہے جیسا کہ فرعون کو اس بات کی سمجھ نہیں آئی بلکہ وہ اکڑ گیا اور مقابلے کے لیے تیار ہوگیا۔ اس بات پر اتفاق ہوگیا کہ جشن کے دن سب لوگوں کے سامنے ایک کھلے میدان میں دونوں کا مقابلہ ہوجائے۔ جو جیت گیا وہ سچا۔ اب اصل میں یہاں مقابلہ جادو اور معجزات کا تھا۔ اگلی آیات میں یہ منظر بیان کیا گیا ہے۔