20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 20:60–76

فَتَوَلّٰى فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَیْدَهٗ ثُمَّ اَتٰى Open ayah 20:60 in the Quran reader

فرعون لوٹ گیا اور اپنے سامان جمع کر کے پھر آیا۔

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰى وَیْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَیُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ١ۚ وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى Open ayah 20:61 in the Quran reader

موسیٰ نے ان جادو گروں سے کہا کہ ” ہائے تمہاری کمبختی اللہ پر جھوٹا بہتان نہ باندھو، کہ وہ تمہیں عذاب سے فنا کر دے گا، اور جس نے جھوٹ گھڑا وہ نامراد رہا۔

فَتَنَازَعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ وَ اَسَرُّوا النَّجْوٰى Open ayah 20:62 in the Quran reader

تو وہ آپس میں جھگڑنے اور چپکے چپکے سرگوشی کرنے لگے۔

قَالُوْۤا اِنْ هٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیْدٰنِ اَنْ یُّخْرِجٰكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَ یَذْهَبَا بِطَرِیْقَتِكُمُ الْمُثْلٰى Open ayah 20:63 in the Quran reader

کہنے لگے یہ دونوں جادو گرہیں چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے تم کو تمہارے ملک سے نکال دیں اور تمہارے اچھے مذہب کو ختم کردیں۔

فَاَجْمِعُوْا كَیْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّا١ۚ وَ قَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰى Open ayah 20:64 in the Quran reader

تو تم جادو کا سامان اکٹھا کرلو، اور پھر قطار باندھ کر آئو۔ آج جو غالب رہا وہی کامیاب ہوا۔

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰى Open ayah 20:65 in the Quran reader

بولے کہ موسیٰ یا تو تم اپنی چیز ڈالو یا ہم اپنی چیزیں پہلے ڈالتے ہیں۔

قَالَ بَلْ اَلْقُوْا١ۚ فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَ عِصِیُّهُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰى Open ayah 20:66 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا نہیں تم ہی ڈالو، جب انہوں نے چیزیں ڈالیں تو اچانک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں موسیٰ کے خیال میں ایسی نظر آنے لگیں کہ وہ میدان میں ادھراُدھر دوڑ رہی ہیں۔

فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِهٖ خِیْفَةً مُّوْسٰى Open ayah 20:67 in the Quran reader

اس وقت موسیٰ نے اپنے دل میں خوف معلوم کیا۔

قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى Open ayah 20:68 in the Quran reader

ہم نے کہا خوف نہ کر بلا شبہ تم ہی غالب ہو۔

وَ اَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوْا كَیْدُ سٰحِرٍ١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰى Open ayah 20:69 in the Quran reader

اور جو چیز (یعنی لاٹھی) تمہارے داہنے ہاتھ میں ہے اسے ڈال دو کہ جو کچھ انہوں نے بنایا ہے اس کو نگل جائے گی۔ جو کچھ انہوں نے بنایا ہے یہ تو جادو گروں کے مکر ہیں اور جادو گر جہاں جائے فلاح نہیں پائے گا۔

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ هٰرُوْنَ وَ مُوْسٰى Open ayah 20:70 in the Quran reader

(القصہ یوں ہی ہوا) تو جادو گر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لائے۔

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ١٘ وَ لَتَعْلَمُنَّ اَیُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:71 in the Quran reader

فرعون بولا پیشتر اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے بیشک وہ تمہارا بڑا ہی استاد ہے۔ جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔ سو میں تمہارے ہاتھ اور پائوں جانب خلاف (یعنی سیدھا ہاتھ تو الٹا پائوں) سے کٹوا دوں گا اور کھجور کے تنے پر سولی چڑھا دوں گا، اس وقت تم کو معلوم ہوگا کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیر تک رہنے ولا ہے۔

قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الَّذِیْ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَاۤ اَنْتَ قَاضٍ١ؕ اِنَّمَا تَقْضِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 20:72 in the Quran reader

انہوں نے کہا جو دلائل ہمارے پاس آگئے ہیں، ان پر اور جس نے ہم کو پیدا کیا ہے اس پر ہم آپ کو ہرگز ترجیح نہیں دیں گے۔ تو آپ کو جو حکم دینا ہے دے دیجئے اور آپ جو حکم دے سکتے ہیں وہ صرف اسی دنیا کی زندگی میں دے سکتے ہیں۔

اِنَّاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغْفِرَ لَنَا خَطٰیٰنَا وَ مَاۤ اَكْرَهْتَنَا عَلَیْهِ مِنَ السِّحْرِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:73 in the Quran reader

ہم اپنے رب پر ایمان لے آئے، تاکہ وہ ہمارے گناہوں کو معاف کر دے اور اسے بھی جو آپ نے زبردستی ہم سے جادو کروایا، اور اللہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔

اِنَّهٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَهٗ جَهَنَّمَ١ؕ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰى Open ayah 20:74 in the Quran reader

جو شخص اپنے رب کے پاس گنہگار ہو کر آئے گا تو اس کے لیے جہنم ہے، جس میں نہ مرے گا اور نہ جیئے گا۔

وَ مَنْ یَّاْتِهٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰىۙ Open ayah 20:75 in the Quran reader

اور جو اس کے سامنے مسلم ہو کر آئے گا اور عمل بھی نیک کیے ہوں گے تو ایسے لوگوں کے لیے اونچے اونچے درجے ہیں۔

جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَكّٰى۠ Open ayah 20:76 in the Quran reader

ہمیشہ رہنے کے باغ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، ہمیشہ ان میں رہیں گے اور یہ اس شخص کا بدلہ ہے جو پاک ہو۔

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی فتح اور جادو گروں کا ایمان لانا تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت، سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے اور عام جادو کا فرق ہر شخص کی اپنے مذہب سے محبت اور پھر اللہ کی محبت اور قدرت کا مظاہرہ کہ کفر کی محبت کس طرح ایمان اور اللہ کی محبت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے جشن کے دن چاشت کا وقت مقابلہ کے لیے مقرر کیا تو اس میں بھی تدبیر یہ تھی کہ جشن کی وجہ سے ہر قسم کے لوگ جمع ہوں گے جن کے سامنے کفرو ایمان کا مقابلہ اور آپ (علیہ السلام) کا پیغام پہنچانے کا بہترین ذریعہ ہے اور چاشت کا وقت اس لیے کہ یہ سورج نکلے سے تھوڑی دیر بعد کا وقت ہوتا ہے۔ لوگ تقریباً اس وقت اپنے ضروری کام نمٹا کر تازہ دم ہوتے ہیں۔ فراغت، توجہ اور شوق سے مظاہرہ دیکھ سکیں گے۔ سو سب سے پہلے تو سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے چھوٹا وعظ کیا جس میں اللہ کی بڑائی کفر کے نقصانات اور اللہ پر ایمان کی اچھائیاں بیان کیں جن سے سننے والے اور جادوگروں کے دل میں ایمان کی محبت اور آپ کی عزت پیدا ہوگئی۔ جس کی وجہ سے ان کے درمیان کسی حد تک پھوٹ پڑگئی۔ کیونکہ ہر انسان کو اپنا مذہب ہی اچھا اور سچا لگتا ہے جیسا کہ انسانی فطرت ہے ہر دور میں دیکھنے میں آیا ہے لوگ اپنے مذہب اور عقائد سے بےحد پیار کرتے ہیں۔ جیسا کہ اس حقیقت کو قرآن نے بھی واضح کیا ہے۔ ” ہر فرقہ جو اس کے پاس ہے، اس پر خوش ہو رہا ہے۔ “ (سورۃ الروم آیت :32 ) اسی لیے لوگوں کو کفر سے ہٹانے کے لیے انبیاء کو بڑے مشکل حالات سے گزرنا پڑتا ہے کیونکہ ان کو اللہ کی خاص مدد حاصل ہوتی ہے اور لوگوں کو کسی حد تک مطمئن کرنے کے لیے اللہ ان کو کچھ ایسے کمالات عطا کردیتا ہے کہ جو بظاہر عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے جیسا کہ فرعون کے جادو گروں نے ان کی عزت افزائی کرتے ہوئے پوچھا کہ ” آپ پہلے کمال دکھائیں گے یا ہم ؟ تو سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے مصلحتاً ان کو پہلے ڈالنے کو کہا۔ وہ لوگ جادو کا فن جانتے تھے۔ انہوں نے نظر بندی سے کام لے کر جادو دکھایا۔ جادو اور نظر بندی ہوسکتی ہے اس کا ذکر قرآن میں بھی آچکا ہے اور نئی سائیکالوجی بھی جادو کی یہی تعریف کرتی ہے کہ قوت خیال یعنی سوچ نظر اور ذہن کو متاثر کرتا ہے۔ اس طرح متاثر کرتا ہے کہ کرنے والا جو چاہتا ہے دیکھنے والے کو جاگتی آنکھوں سے وہی نظر آتا ہے۔ بہر حال مقابلہ کا جو نقشہ آیات میں بیان کیا گیا ہے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو مکمل کامیابی حاصل ہوئی جو اس طرح ظاہر ہوئی کہ تمام جادوگر سجدے میں گر پڑے اور فوراً ایمان لے آئے۔ یہ شکست فرعون کے لیے بڑی تکلیف دہ بات تھی تو اس نے ان جادوگروں کو خوب ڈرایا اور دھمکایا، سزا اور عذاب کا ڈراوا دیا مگر وہ تو اللہ کی محبت میں رنگے جا چکے تھے اور ان کو فرعون کا ڈرانا دھمکانا ایمان سے کسی صوت ذرہ برابر بھی ہٹا نہ سکا۔ کیونکہ توحید کی روشنی انسان کے دل کو اس طرح منور، مضبوط اور مسحور کردیتی ہے کہ پھر اس کو ہر طرف، ہر چیز میں نور الٰہی نظر آتا ہے۔ کیونکہ نور تو صرف ایک ہی ہے اور وہ ہر چیز سے بےنیاز کر کے صرف ایک ہی طرف لے جاتا ہے۔ جب کہ کفر کے راستے بیشمار ہیں، یعنی ناجائز خواہشیں، تکبر، بےیقینی، ریا، نفاق، لالچ، بےصبری، شکوک و شبہات اور بےسکونی۔ یہ تمام اوصاف کفر و شرک کے ہیں۔ جن کو دور کرنا اور ایمان کی طرف لانا کسی بھی بشر کے لیے آسان کام نہیں۔ لیکن جب کوئی شخص یا کوئی قوم نور ایمانی سے منور ہوجاتے ہیں۔ ذکر الٰہی ان کا محور بن جاتا ہے جیسا کہ حدیث میں آتا ہے۔ سیدنا ابو موسیٰ (علیہ السلام) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :” وہ آدمی جو اللہ کو یاد کرتا ہے اور وہ آدمی جو یاد الٰہی سے غافل ہو، ان کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے۔ ( صحیح بخاری ) یعنی جو ذکر الٰہی میں وقت گزارتا ہے اس کا دل زندہ رہتا ہے اور جو ذکر الٰہی سے دور رہتا ہے اس کا دل مرجاتا ہے۔ تو اس سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ذکر الٰہی سے دور رہنے والا انسان دنیا و آخرت کی آفات کے وبال میں پھنسا رہتا ہے اور پھر یوں اللہ کا بندہ کہلانے کے قابل نہیں رہتا بلکہ خواہشات کا بندہ بن جاتا ہے۔ جبکہ مومن کی نشانی یہ ہے کہ ہر وقت اللہ کا نام زبان پر ہو، جو بھی کام کرے اللہ کے ذکر سے دل اور زبان دور نہ ہوں۔ اس طرح مومن کے چہرے سے نور ایمانی دکھائی دینے لگتا ہے۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔ خوشا وہ دل کہ ہو جس دل میں آرزو تیری خوشا دماغ جسے تازہ رکھے بو تیری
Ayahs 20:77–98

وَ لَقَدْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى١ۙ۬ اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ یَبَسًا١ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّ لَا تَخْشٰى Open ayah 20:77 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے بندوں کو راتوں رات نکال لے جا، پھر ان کے لیے دریا میں لاٹھی مار کر خشک رستہ بنا دو پھر تم کو نہ تو فرعون کے آپکڑنے کا خوف ہوگا اور نہ غرق ہونے کا ڈر۔

فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِهٖ فَغَشِیَهُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَهُمْؕ Open ayah 20:78 in the Quran reader

فرعون نے اپنے لشکر کے ساتھ ان کا تعاقب کیا تو دریا کی موجوں نے ان پر چڑھ کر انہیں ڈھانک لیا۔ (یعنی ڈبو دیا)

وَ اَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهٗ وَ مَا هَدٰى Open ayah 20:79 in the Quran reader

اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کردیا اور سیدھے رستے پر نہ ڈالا۔

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ قَدْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَ وٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى Open ayah 20:80 in the Quran reader

اے آل یعقوب ! ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی اور تورات دینے کے لیے تم سے کوہ طور کی دا ہنی طرف مقرر کی اور تم پر من اور سلویٰ نازل کیا۔

كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ لَا تَطْغَوْا فِیْهِ فَیَحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبِیْ١ۚ وَ مَنْ یَّحْلِلْ عَلَیْهِ غَضَبِیْ فَقَدْ هَوٰى Open ayah 20:81 in the Quran reader

اور حکم دیا کہ جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو دی ہیں ان کو کھائو۔ اور ان میں حد سے نہ نکلنا ورنہ تم پر میرا غضب نازل ہوگا اور جس پر میرا غضب نازل ہوا وہ ہلاک ہوگیا۔

وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى Open ayah 20:82 in the Quran reader

اور جو توبہ کرے ایمان لائے اور نیک عمل کرے، پھر سیدھے رستے چلے اس کو میں بخش دینے والا ہوں۔

وَ مَاۤ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:83 in the Quran reader

اور اے موسیٰ ! تم نے اپنی قوم سے آگے چلے آنے میں جلدی کیوں کی ؟۔

قَالَ هُمْ اُولَآءِ عَلٰۤى اَثَرِیْ وَ عَجِلْتُ اِلَیْكَ رَبِّ لِتَرْضٰى Open ayah 20:84 in the Quran reader

کہا وہ میرے پیچھے آرہے ہیں اور اے میرے رب میں نے تیرے پاس آنے میں اس لیے جلدی کی کہ تو خوش ہو۔

قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْۢ بَعْدِكَ وَ اَضَلَّهُمُ السَّامِرِیُّ Open ayah 20:85 in the Quran reader

فرمایا ” ہم نے تمہاری قوم کو آزمائش میں ڈال دیا ہے اور سامری نے ان کو بہکا دیا ہے۔ (

فَرَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۚ۬ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَمْ یَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا١ؕ۬ اَفَطَالَ عَلَیْكُمُ الْعَهْدُ اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ یَّحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَخْلَفْتُمْ مَّوْعِدِیْ Open ayah 20:86 in the Quran reader

موسیٰ غصہ اور غم کی حالت میں اپنی قوم کے پاس واپس آئے اور کہنے لگے ” کیا تمہارے رب نے تم سے اچھا وعدہ نہیں کیا تھا ؟ کیا میری جدائی کی مدت تمہیں لمبی معلوم ہوئی ؟ یا تم نے چاہا کہ تم پر تمہارے رب کا غضب نازل ہو ؟ اور اس لیے تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا اس کے خلاف کیا۔

قَالُوْا مَاۤ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَ لٰكِنَّا حُمِّلْنَاۤ اَوْزَارًا مِّنْ زِیْنَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنٰهَا فَكَذٰلِكَ اَلْقَى السَّامِرِیُّۙ Open ayah 20:87 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ ” ہم نے جان کر تم سے وعدہ خلافی نہیں کی بلکہ ہم لوگوں کے زیورات کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھے پھر ہم نے اس کو آگ میں ڈال دیا اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا۔

فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ فَقَالُوْا هٰذَاۤ اِلٰهُكُمْ وَ اِلٰهُ مُوْسٰى١۬ فَنَسِیَؕ Open ayah 20:88 in the Quran reader

تو اس نے ان کے لیے ایک بچھڑا بنا دیا ( یعنی گائے کا بت بنا دیا) جس میں سے گائے کی آواز نکلتی تھی (ہوا کے گزرنے سے) تو لوگ کہنے لگے کہ یہی تمہارا معبود ہے اور یہی موسیٰ کا معبود ہے، مگر وہ بھول گئے ہیں۔

اَفَلَا یَرَوْنَ اَلَّا یَرْجِعُ اِلَیْهِمْ قَوْلًا١ۙ۬ وَّ لَا یَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا۠ Open ayah 20:89 in the Quran reader

کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ وہ ان کی کسی بات کا جواب نہیں دیتا اور نہ ان کے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتا ہے۔

وَ لَقَدْ قَالَ لَهُمْ هٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ یٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهٖ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِیْ وَ اَطِیْعُوْۤا اَمْرِیْ Open ayah 20:90 in the Quran reader

اور ہارون نے ان سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ لوگو ! اس سے صرف تمہاری آزمائش کی گئی ہے اور تمہارا رب تو رحمٰن ہے تو میری پیروی کرو اور میرا کہا مانو۔

قَالُوْا لَنْ نَّبْرَحَ عَلَیْهِ عٰكِفِیْنَ حَتّٰى یَرْجِعَ اِلَیْنَا مُوْسٰى Open ayah 20:91 in the Quran reader

وہ بولے کہ جب تک موسیٰ ہمارے پاس نہ آئے ہم تو اس کی پوجا پر قائم رہیں گے۔

قَالَ یٰهٰرُوْنُ مَا مَنَعَكَ اِذْ رَاَیْتَهُمْ ضَلُّوْۤاۙ Open ayah 20:92 in the Quran reader

پھر موسیٰ نے ہارون سے کہا کہ اے ہارون ! جب تم نے ان کو دیکھا تھا کہ گمراہ ہوگئے ہیں تو تم کو کس چیز نے روکا۔

اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَیْتَ اَمْرِیْ Open ayah 20:93 in the Quran reader

اس بات سے کہ تم میرے پیچھے چلے آئوبھلا تم نے میرے حکم کے خلاف کیوں کیا ؟۔

قَالَ یَبْنَؤُمَّ لَا تَاْخُذْ بِلِحْیَتِیْ وَ لَا بِرَاْسِیْ١ۚ اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ لَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْ Open ayah 20:94 in the Quran reader

کہنے لگے کہ بھائی میری ڈاڑھی اور سر کے بالوں کو نہ پکڑیے میں تو اس سے ڈرا کہ آپ یہ نہ کہیں کہ تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میری بات کو ملحوظ نہ رکھا۔

قَالَ فَمَا خَطْبُكَ یٰسَامِرِیُّ Open ayah 20:95 in the Quran reader

پھر سامری سے بولے سامری تیرا کیا حال ہے ؟۔

قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ یَبْصُرُوْا بِهٖ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ فَنَبَذْتُهَا وَ كَذٰلِكَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِیْ Open ayah 20:96 in the Quran reader

اس نے کہا کہ میں نے ایسی چیز دیکھی جو اوروں نے نہیں دیکھی تو میں نے فرشتے کے قدم سے ایک مٹھی مٹی کی بھر لی، پھر اس کو اس (بچھڑے کے) بت میں ڈال دیا اور مجھے میرے دل نے اس کام کو اچھا بتایا۔

قَالَ فَاذْهَبْ فَاِنَّ لَكَ فِی الْحَیٰوةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ١۪ وَ اِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهٗ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰۤى اِلٰهِكَ الَّذِیْ ظَلْتَ عَلَیْهِ عَاكِفًا١ؕ لَنُحَرِّقَنَّهٗ ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّهٗ فِی الْیَمِّ نَسْفًا Open ayah 20:97 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا جا تجھ کو دنیا کی زندگی میں یہ سزا ہے کہ کہتا رہے ” مجھ کو ہاتھ نہ لگانا اور تیرے لیے ایک اور وعدہ ہے عذاب کا جو ٹل نہ سکے گا اور جس معبود کی پوجا پر تو قائم اور معتکف تھا اس کو دیکھ، ہم اسے جلا دیں گے، پھر اس کی راکھ کو اڑا کر دریا میں بہا دیں گے۔

اِنَّمَاۤ اِلٰهُكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَسِعَ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا Open ayah 20:98 in the Quran reader

تمہارا معبود اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا علم ہر چیز پر محیط ہے۔

دریا کا پھٹنا، فرعون کا غرق ہونا، من و سلوٰی کا نزول اور بچھڑے کی پوجا تشریح : ان آیات میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا وہ حصہ بیان کیا گیا ہے۔ جس میں آپ کو حکم دیا گیا کہ ” میرے بندوں کو، ، اس سے مراد بنی اسرائیل اور مسلمان ہیں۔ ان لوگوں پر فرعون حد سے زیادہ ظلم کرتا تھا لے کر نکل جاؤ، لہٰذا سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سب کو اکٹھا کیا اور رات کی تاریکی میں نکل پڑے جب سمندر کے کنارے پہنچے تو فرعون کا لشکر ان کے تعاقب میں آپہنچا۔ ظاہر ہے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے خطرے اور پانی کے ڈر سے گھبرائے تو اس وقت ایک اور بہت بڑا معجزہ وجود میں آیا۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ سے کہا کہ اپنی لاٹھی پانی پر مارو۔ تمہارے لیے خشک راستہ پیدا ہوجائے گا اور یہی ہوا۔ جب پانی دونوں طرف اللہ کے حکم سے کھڑا ہوگیا تو خشک زمین پر سے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کا لشکر آرام سے گزر گئے۔ جب وہ گزر چکے تو فرعون نے بھی راستہ دیکھ کر اپنی فوج سمیت گزرنا چاہا۔ اللہ کی قدرت سے جب وہ عین درمیان میں پہنچ گیا تو دونوں طرف کا پانی چلنے لگا۔ اور یوں فرعون اپنی پوری فوج سمیت غرق ہوگیا۔ ” درس قرآن “ میں ہے کہ یہ واقعہ بحرقلزم میں ہوا۔ مصر سے نکل کر سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اپنے لوگوں کے ساتھ دشت سین میں ایلیم اور سین کے درمیان ٹھہر گئے۔ وہاں صحرا تھا تو ان کے کھانے پینے کا بندوبست اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے یوں کیا کہ من وسلویٰ آسمان سے اتار دیے اس کی تفصیلات سورة البقرہ کے شروع میں بیان ہوچکی ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو نیکی کرنے حرص اور لالچ سے بچنے کی تاکید کی اور ڈرایا کہ نافرمان لوگوں کو اللہ کے غضب سے کوئی نہیں بچا سکتا اور ایسے لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ اور بنی اسرائیل کو اپنی ان تمام نعمتوں کی یاد دہانی کروائی جو ان پر کی گئی تھیں مثلاً پہلے فرعون کے ظلم وستم سے نجات دلائی، پھر آسمانی کتاب تورات دی اور من وسلویٰ کی نعمت عطا کی۔ اس کے بعد اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنی ایک اور بڑی عنایت کا ذکر فرماتے ہیں ” اور اس پر میری بڑی بخشش ہے جو توبہ کرے اور ایمان لائے نیک کام کرے اور اس پر قائم رہے۔ “ ( سورة طہٰ آیت : 82) یعنی ایمان چار باتوں سے مکمل ہوتا ہے۔ (1) کفر و شرک اور گناہ سے توبہ۔ (2) مکمل طور پر ایمان لانا۔ (3) نیک عمل۔ (4) راہ راست پر قائم رہنا۔ ہر شخص کو اپنی زندگی کا معیار ان چاروں کے مطابق رکھنا چاہیے۔ یہاں سے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا کوہ طور پر جانا۔ سیدنا ہارون کی سربراہی میں قوم کا گوسالہ پرستی کرنا اور سامری کے غلط کام کی وضاحت کی گئی ہے۔ یہ واقعہ سورة الاعراف اور سورة بقرہ میں بیان کیا جا چکا ہے۔ مختصراً بیان کرتے ہیں۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) حسب وعدہ کوہ طور پر گئے وہاں چالیس دن رہے تو آپ کو آسمانی کتاب تختیوں کی صورت میں دی گئی۔ جس کا نام تورات ہے اور اس میں احکامات الٰہی لوگوں کو بتائے گئے ہیں۔ یوں ہوا کہ سیدنا موسیٰ طور پر جاتے ہوئے اپنے سیدنا بھائی ہارون (علیہ السلام) کو قوم کا سربراہ بنا گئے۔ ایک شخص بڑا چالباز، مکار اور فریب کار تھا اس نے موقعہ سے فائدہ اٹھایا اس کا نام قرآن پاک میں سامری بتایا گیا ہے۔ (آیت :85) اسی شخص کی شرارت سے لوگوں کی گائے پرستی کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔ گو کہ اس شرک میں سیدنا ہارون (علیہ السلام) کا کوئی ہاتھ نہ تھا مگر کیونکہ وہ نائب پیغمبر کی حیثیت سے وہاں موجود تھے اس لیے ان سے بڑی سخت پوچھ گچھ کی گئی اس کی تفصیل سورة الاعراف میں گزر چکی ہیں۔ بہر حال قوم کو سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے سمجھایا اور تورات کی تعلیمات سے آگاہ کیا۔ تو لوگوں کو سمجھ آگئی کہ واقعی عبادت اور دعا تو اس سے کرنی چاہیے جو سب سے زیادہ طاقتور ہو۔ یہ بچھڑا تو ہرگز عبادت کے لائق نہیں یہ تو خود بےحس و حرکت بےجان چیز ہے اس کی عبادت شرک ہے اور شرک ناقابل معافی گناہ ہے اور پھر انہوں نے اس کفر کا الزام سامری پر لگایا۔ سامری نے کہا کہ بھئی اس بچھڑے میں سے گائے کی آواز نکلتی ہے جس کی وجہ وہ مٹی ہے جو سیدنا جبرائیل (علیہ السلام) کے گھوڑے کے قدموں کے نیچے سے میں نے مٹھی بھر کر اٹھائی تھی اور اس بت میں ڈال دی۔ اپنی طرف سے اس نے لوگوں کو یہ ایک معجزہ دکھایا تھا جس سے لوگ اتنے مرعوب ہوئے کہ اس کی پوجا شروع کردی۔ یہاں یہ سبق ملتا ہے کہ کبھی بھی آنکھیں بند کر کے کسی کے پیچھے نہیں لگ جانا چاہیے۔ بلکہ اپنی عقل سمجھ اور پوری تحقیق کے بعد کسی پر یقین کرنا چاہیے۔ سامری نے لوگوں کو اس طرح بیوقوف بنایا کہ بچھڑے کا ڈھانچہ اندر سے خالی تھا اور اس کے منہ اور دم پر سوراخ تھا۔ جب ہوا اس میں سے گزرتی تو گائے جیسی آواز نکلتی جیسا بگل کا اصول ہوتا ہے۔ بہرحال اس نے اپنی بد فطرت کی وجہ سے شرک جیسا ظلم لوگوں میں پھیلا دیا۔ سیدنا موسیٰ نے اس کو قتل کرنے کا سوچا اور قوم کو توحید کی تعلیم دی اور اللہ کی تمام نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے قوم کو کامیابی اور نجات کی راہیں دکھائیں اور توبہ کرنے کی تلقین کی۔ جس پر لوگ ایمان لے آئے۔ اور سامری کو اس کے اس گناہ کی سزا سنائی۔ آپ نے کہا کہ یہ بڑا ظلم تم نے کیا ہے ہم اس بچھڑے کے بت کو ابھی جلا کر راکھ کردیں گے اور اس کی راکھ پانی میں بکھیر دیں گے اور تیری سزا اس دنیا میں یہ ہے کہ تو پکارتا رہے گا ” مجھے مت چھونا۔ ، ، کیونکہ اس کو چھونے والا بخار میں مبتلا ہوجاتا اور وہ خود بھی بخار میں مبتلا ہوجاتا۔ غرض اس تکلیف دہ حالت سے نجات پانے کے لیے وہ جنگل میں نکل گیا۔ یہ تو دنیا میں سزا تھی آخرت میں تو اس کی سزا بڑی ہی درد ناک ہوگی۔ اور پھر لوگوں کو بتایا ” تمہارا معبود تو وہی ہے جس کے سوا کسی کی بندگی جائز نہیں۔ کیونکہ اللہ کے علم میں ہر چیز سما گئی ہے۔ ، ، (سورۃ طہٰ آیت :98 )