20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 20:1
(1۔ 2۔ 3) یہ قرآن کریم آپ پر ہم نے اس لیے نہیں اتارا کہ آپ تکلیف اٹھائیں بلکہ ایسے شخص کی نصیحت کے لیے جو کہ مطیع وفرمانبردار ہو، یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی اور اس وقت آپ رات کو تہجد میں اس قدر دیر تک قیام فرماتے تھے کہ قدم مبارک تک ورم آجاتا تھا تو اس آیت مبارکہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے آپ پر آسانی فرما دی، یعنی اے محمد ﷺ یہ قرآن کریم آپ پر بذریعہ جبریل امین اس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ خود کو تکلیف دیں، طہ کے معنی مکی اصطلاح میں اے آدمی کے ہیں۔
Ayahs 20:2–3

مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤىۙ Open ayah 20:2 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ہم نے تم پر قرآں اس لئے نازل نہیں کیا کہ تم مشقت میں پڑجاؤ

اِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰىۙ Open ayah 20:3 in the Quran reader

بلکہ اس شخص کو نصیحت دینے کے لیے (نازل کیا ہے) جو خوف رکھتا ہے

شان نزول : (آیت) ”۔ ماانزلنا علیک القران“۔ (الخ) ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ پر جب پہلی بار اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی تو آپ کے نماز کیلیے جس وقت کھڑے ہوتے تو بہت ہی دیر تک کھڑے ہوتے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی یعنی ہم نے قرآن آپ پر اس لیے نہیں اتارا کہ آپ تکلیف اٹھائیں۔ اور عبد بن حمید نے اپنی تفسیر میں ربیع بن انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ اپنے دونوں پیروں میں سے ہر ایک پیر باری باری اٹھاتے رہتے تھے تاکہ نماز میں ایک قدم مبارک پر دیر تک کھڑے رہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور نیز ابن مردویہ ؒ نے عوفی کے ذریعے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کفار نے کہا کہ اس شخص کو یعنی رسول اکرم ﷺ کو اس کے رب نے تکلیف میں ڈال دیا ہے اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔
Ayah 20:4

تَنْزِیْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَ السَّمٰوٰتِ الْعُلٰىؕ Open ayah 20:4 in the Quran reader

یہ اس (ذات برتر) کا اتارا ہوا ہے جس نے زمین اور اونچے اونچے آسمان بنائے

(4) یہ اس ذات کا نازل کردہ اور اس کا کلام ہے جس نے زمین کو اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا اس طرح ایک آسمان کے اوپر دوسرا آسمان ہے۔
Ayah 20:5

اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى Open ayah 20:5 in the Quran reader

(یعنی خدائے) رحمن جس نے عرش پر قرار پکڑا

(5) اور وہ بڑی رحمت والا عرش پر براجمان ہوا یعنی اس کا تخت شاہی سب پر بھاری ہے یا یہ کہ اس کی حقیقت کسی کو معلوم نہیں۔
Ayah 20:6

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ مَا تَحْتَ الثَّرٰى Open ayah 20:6 in the Quran reader

جو آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور جو کچھ ان دونوں کے بیچ ہے اور جو کچھ (زمین کی) مٹی کے نیچے ہے سب اسی کا ہے

(6) آسمان و زمین اس کی ملکیت ہیں اور تمام عجائبات اور تمام مخلوقات اور جو چیزیں تحت الثری ہیں یعنی جو چیزیں ساتویں زمین کے نیچے ہیں کیوں کہ ساتوں زمینیں پانی پر ہیں اور پانی مچھلی پر ہے اور مچھلی صخرہ پر ہے۔
Ayah 20:7

وَ اِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَاِنَّهٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَ اَخْفٰى Open ayah 20:7 in the Quran reader

اور اگر تم پکار کر بات کہو تو وہ چھپتے بھید اور نہایت پوشیدہ بات کو جانتا ہے

(7) اور صخرہ بیل کے دونوں سینگوں پر ہے اور بیل ثری کے اوپر ہے اور ثری اس تر مٹی کو کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کو اس کے نیچے جو چیزیں ہیں اس کا بھی علم ہے اور وہ بھی اس کی ملکیت میں شامل ہیں اور اس کے علم کی یہ شان ہے کہ اے مخاطب اگر تم کسی بات یا فعل کو علانیہ طور پر کرے تو وہ چپکے سے کہی ہوئی بات اور کی ہوئی بات کو اور بلکہ اس سے بھی زیادہ پوشیدہ بات کو جانتا ہے یعنی جو ابھی تک دل میں بات ہے ابھی تک اس کو ظاہر نہیں کیا ہوگا اس کو بھی اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔
Ayah 20:8

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى Open ayah 20:8 in the Quran reader

(وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اس کے (سب) نام اچھے ہیں

(8) وہ ذات وحدہ لاشریک ہے اور اس کی صفات اعلی ہیں ان ہی سے اس کو پکارو اور دعا کرو۔
Ayahs 20:9–10

وَ هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ Open ayah 20:9 in the Quran reader

اور کیا تمہیں موسیٰ (کے حال) کی خبر ملی ہے ؟

اِذْ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى Open ayah 20:10 in the Quran reader

جب انہوں نے آگ دیکھی تو اپنے گھر کے لوگوں سے کہا کہ تم (یہاں) ٹھیرو میں نے آگ دیکھی ہے (میں وہاں جاتا ہوں) شاید اس میں سے میں تمہارے پاس انگاری لاؤں یا آگ (کے مقام) کا راستہ معلوم کرسکوں

(9۔ 10) اور اے محمد ﷺ ابھی تک آپ کو حضرت موسیٰ ؑ کے قصہ کی خبر نہیں پہنچی ہے، اب آپ کو بتاتے ہیں جب کہ انہوں نے (مدین سے واپسی پر) اپنے بائیں طرف ایک آگ دیکھی تو اپنے گھر والوں یعنی اپنی بیوی سے کہا تم ٹھہرو میں نے ایک آگ دیکھی ہے شاید میں اس میں سے تمہارے پاس کوئی شعلہ لاؤں کیوں کہ اس رات میں سردی بھی بہت تھی اور راستہ بھی بھول گئے تھے یا شاید وہاں آگ کے پاس راستہ بتانے والا بھی کوئی مجھے مل جائے۔
Ayahs 20:11–12

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ یٰمُوْسٰىؕ Open ayah 20:11 in the Quran reader

جب وہاں پہنچے تو آواز آئی کہ موسیٰ

اِنِّیْۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىؕ Open ayah 20:12 in the Quran reader

میں تو تمہارا پروردگار ہوں تو اپنی جوتیاں اتارو تم (یہاں) پاک میدان (یعنی) طوٰی میں ہو

(11۔ 12) چناچہ جب وہاں آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ سبز رنگ کا درخت ہے اس میں سے سفید آگ چمک رہی ہے فوراً اللہ کی طرف سے آواز دی گئی کہ اے موسیٰ میں تمہارا رب ہوں اپنے جوتے اتار دو ، اس لیے کہ وہ مردہ ہوئے گدھے کی کھال کے بنے ہوئے تھے کیوں کہ تم ایک پاکیزہ میدان یعنی طوی میں یا یہ کہ طوی اس لیے کہا گیا کہ اس سے پہلے اور انبیاء کرام کا ادھر سے گزر ہوچکا تھا یا یہ کہ اس وادی میں جس میں یہ درخت تھا ایک کنواں تھا جس کے چاروں طرف پتھر لگا دیے گئے تھے اس بنا پر اس وادی کو طوی کہا گیا۔
Ayah 20:13

وَ اَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰى Open ayah 20:13 in the Quran reader

اور میں نے تم کو انتخاب کرلیا ہے جو حکم دیا جائے اسے سنو

(13) اور میں نے فرعون کی طرف رسول بنا کر بھیجنے کے لیے تمہارا انتخاب کیا ہے لہذا جو تمہیں حکم دیا جائے اس پر عمل کرو،
Ayah 20:14

اِنَّنِیْۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدْنِیْ١ۙ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ Open ayah 20:14 in the Quran reader

بیشک میں خدا ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری عبادت کرو اور میری یاد کے لیے نماز پڑھا کرو

(14) میں اللہ ہوں میرے علاوہ اور کوئی عبادت کے لائق نہیں لہذا میری فرمانبرداری کرو اور اگر کسی وقت نماز پڑھنا بھول جاؤ تو فورا یاد آتے ہی پڑھ لیا کرو۔
Ayah 20:15

اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ اَكَادُ اُخْفِیْهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعٰى Open ayah 20:15 in the Quran reader

قیامت یقینا آنے والی ہے میں چاہتا ہوں کہ اس (کے وقت) کو پوشیدہ رکھوں تاکہ ہر شخص جو کوشش کرے اس کا بدلہ پائے

(15) اور دوسرا یہ کہ قیامت آنیوالی ہے میں اس کے وقت کو مخفی رکھنا چاہتا ہوں یا یہ کہ میں نے اس کا علم خاص اپنی ذات کے لیے مخفی رکھا ہے تو کسی اور سے اس کا اظہار کیوں کروں کہ وہ کب آئے گی تاکہ ہر ایک نیک وبد کو، جو کچھ کسی نے نیک و بداعمال کیے ہیں ان کو ان کا بدلہ مل جائے۔
Ayah 20:16

فَلَا یَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ فَتَرْدٰى Open ayah 20:16 in the Quran reader

تو جو شخص اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اپنی خواہش کے پیچھے چلتا ہے (کہیں) تم کو اس (کے یقین) سے روک نہ تو (اس صورت میں) تم ہلاک ہوجاؤ

(16) تو تمہیں قیامت کے اقرار ویقین سے ایسا شخص روک نہ پائے جو اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اس کے انکار اور بتوں کی پوجا کرکے اپنی خواہشات پر چلتا ہو کہیں تو اس بےفکری سے تباہ نہ ہوجاؤ۔
Ayahs 20:17–18

وَ مَا تِلْكَ بِیَمِیْنِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:17 in the Quran reader

اور موسیٰ یہ تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا ہے ؟

قَالَ هِیَ عَصَایَ١ۚ اَتَوَكَّؤُا عَلَیْهَا وَ اَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِیْ وَ لِیَ فِیْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى Open ayah 20:18 in the Quran reader

انہوں نے کہا یہ میری لاٹھی ہے اس پر میں سہارا لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں اور اس میں میرے اور بھی کئی فائدے ہیں

(17۔ 18) اور اللہ تعالیٰ نے دریافت فرمایا کہ موسیٰ ؑ تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا ہے حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا یہ میری لاٹھی ہے جب تھک جاتا ہوں تو اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے لیے درختوں کے پتے جھاڑتا ہوں اور اس سے میرے اور بھی کئی کام نکلتے ہیں۔
Ayahs 20:19–20

قَالَ اَلْقِهَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:19 in the Quran reader

فرمایا کہ موسیٰ اسے ڈالدو

فَاَلْقٰىهَا فَاِذَا هِیَ حَیَّةٌ تَسْعٰى Open ayah 20:20 in the Quran reader

تو انہوں نے اس کو ڈال دیا اور ناگہاں سانپ بن کر دوڑنے لگا

(19۔ 20) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اسے زمین پر ڈال دو چناچہ حضرت موسیٰ ؑ نے ڈال دیا تو یکایک وہ ایک دوڑتا ہوا سانپ بن گئی جس سے حضرت موسیٰ ؑ ڈر کر بھاگے۔
Ayah 20:21

قَالَ خُذْهَا وَ لَا تَخَفْ١ٙ سَنُعِیْدُهَا سِیْرَتَهَا الْاُوْلٰى Open ayah 20:21 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا اسے پکڑ لو اور ڈرنا مت ہم اس کو ابھی اس کی پہلی حالت پر لوٹا دیں گے

(21) اللہ تعالیٰ نے فرمایا حضرت موسیٰ ؑ اس کو پکڑ لو اور ڈرو نہیں ہم ابھی اس کو پہلی حالت پر لاٹھی بنادیں گے۔
Ayah 20:22

وَ اضْمُمْ یَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ اٰیَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 20:22 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ اپنی بغل سے لگا لو وہ کسی عیب (و بیماری) کے بغیر سفید (چمکتا دمکتا) نکلے گا۔ یہ دوسری نشانی ہے

(22) اور نیز تم دایاں ہاتھ اپنی بائیں بغل میں دے کر پھر نکالو، وہ بغیر کسی برص بیماریی کے روشن ہو کر چمکتا ہوا نکلے گا یہ عصا کے ساتھ دوسری نشانی ہوگی۔
Ayahs 20:23–24

لِنُرِیَكَ مِنْ اٰیٰتِنَا الْكُبْرٰىۚ Open ayah 20:23 in the Quran reader

تاکہ ہم تمہیں اپنے نشانات عظیم دکھائیں

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى۠ Open ayah 20:24 in the Quran reader

تم فرعون کے پاس جاؤ (کہ) وہ سرکش ہو رہا ہے

(23۔ 24) تاکہ ہم تمہیں اپنی قدرت کی بڑی نشانیوں میں سے بعض نشانیاں دکھائیں اب یہ نشانیاں لے کر فرعون کے پاس جاؤ، اس نے بہت بڑائی تکبر اور کفر اختیار کرلیا ہے۔
Ayahs 20:25–28

قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ Open ayah 20:25 in the Quran reader

کہا میرے پروردگار (اس کام کے لئے) میرا سینہ کھول دے

وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:26 in the Quran reader

اور میرا کام آسان کر دے

وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙ Open ayah 20:27 in the Quran reader

اور میری زبان کی گرہ کھول دے

یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪ Open ayah 20:28 in the Quran reader

تاکہ وہ میری بات سمجھ لیں

(25۔ 28) نبوت ملنے کے بعد حضرت موسیٰ ؑ نے دعا کی کہ اے اللہ میرا حوصلہ بڑھائیے تاکہ میں اس سے تبلیغ میں نہ ڈروں اور فرعون کی طرف تبلیغ رسالت کا جو میرا کام ہے اس کو آسان فرما دیجیے اور میری زبان سے لکنت ہٹا دیجیے تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں۔
Ayahs 20:29–35

وَ اجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَهْلِیْۙ Open ayah 20:29 in the Quran reader

اور میرے گھروالوں میں سے (ایک کو) میرا وزیر (یعنی مددگار) مقرر فرما

هٰرُوْنَ اَخِیۙ Open ayah 20:30 in the Quran reader

(یعنی) میرے بھائی ہارون کو

اشْدُدْ بِهٖۤ اَزْرِیْۙ Open ayah 20:31 in the Quran reader

اس سے میری وقت کو مضبوط فرما

وَ اَشْرِكْهُ فِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:32 in the Quran reader

اور اسے میرے کام میں شریک کر

كَیْ نُسَبِّحَكَ كَثِیْرًاۙ Open ayah 20:33 in the Quran reader

تاکہ ہم تیری بہت سی تسبیح کریں

وَّ نَذْكُرَكَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 20:34 in the Quran reader

اور تجھے کثرت سے یاد کریں

اِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِیْرًا Open ayah 20:35 in the Quran reader

تو ہم کو ہر حال میں دیکھ رہا ہے

(29۔ 35) اور ہارون ؑ کو میرا معاون مقرر کردیجیے اور ان کے ذریعے سے میری قوت کو مضبوط کردیجیے اور میری کام یعنی فرعون کی جانب تبلیغ رسالت میں ان کو میرے ساتھ شامل کردیجیے تاکہ ہم دونوں مل کر تیری خوب نمازیں زبان وقلب سے پڑھیں اور کثرت سے تیرا ذکر زبان وقلب سے کریں یقینا آپ ہمارے حال سے واقف ہیں۔
Ayah 20:36

قَالَ قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:36 in the Quran reader

فرمایا موسیٰ تمہاری دعا قبول کی گئی

(36) اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا حضرت موسیٰ ؑ تمہاری منظور کی گئی یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کا حوصلہ بڑھا دیا اور ان کے کام کو آسان کردیا اور زبان کی لکنت دور کردی اور حضرت ہارون ؑ کو ان کا مددگار اور رسول بنا دیا۔
Ayahs 20:37–38

وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْكَ مَرَّةً اُخْرٰۤىۙ Open ayah 20:37 in the Quran reader

اور ہم نے تم پر ایک بار اور بھی احسان کیا تھا

اِذْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّكَ مَا یُوْحٰۤىۙ Open ayah 20:38 in the Quran reader

جب ہم نے تمہاری والدہ کو الہام کیا تھا جو تمہیں بتایا جاتا ہے

(37۔ 38) اور ہم تو اس احسان کے علاوہ ایک مرتبہ پہلے بھی تم پر احسان کرچکے ہیں، جب کہ ہم نے تمہاری ماں کو وہ بات الہام سے بتلائی جو الہام سے بتانے کے قابل تھی۔
Ayah 20:39

اَنِ اقْذِفِیْهِ فِی التَّابُوْتِ فَاقْذِفِیْهِ فِی الْیَمِّ فَلْیُلْقِهِ الْیَمُّ بِالسَّاحِلِ یَاْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّیْ وَ عَدُوٌّ لَّهٗ١ؕ وَ اَلْقَیْتُ عَلَیْكَ مَحَبَّةً مِّنِّیْ١ۚ۬ وَ لِتُصْنَعَ عَلٰى عَیْنِیْۘ Open ayah 20:39 in the Quran reader

(وہ یہ تھا) کہ اسے (یعنی موسیٰ کو) صندوق میں رکھو پھر اس (صندوق) کو دریا میں ڈال دو تو دریا اسے کنارے پر ڈال دے گا (اور) میرا اور اس کا دشمن اسے اٹھا لے گا اور (موسی) میں نے تم پر اپنی طرف سے محبت ڈال دی (اس لئے کہ تم پر مہربانی کی جائے) اور اس لیے کہ تم میرے سامنے پرورش پاؤ

(39) کہ حضرت موسیٰ ؑ کو ایک بند صندوق میں رکھ دو اور پھر اس صندوق کو دریا میں ڈال دو پھر دریا ان کو کنارے تک لے آئے گا آخر کار فرعون ان کو پکڑ لے گا جو کافر ہونے کی وجہ سے میرا بھی دشمن ہے اور قتل کرنے کے ارادہ سے ان کا بھی دشمن ہے۔ اور اے موسیٰ ؑ میں نے اس وقت تمہارے چہرے پر اپنی طرف سے ایک اثر محبت ڈال دیا تھا تاکہ جو تمہیں دیکھے پیار کرے اور تمہارے ساتھ جو کچھ اس وقت معاملہ ہو رہا تھا وہ میری خاص نگرانی میں ہو رہا تھا۔