20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 20:1
طٰهٰ ۝ۚ
Ayah 20:2

مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤىۙ Open ayah 20:2 in the Quran reader

ہم نے یہ قرآن تم پر اس لیے نازل نہیں کیا ہے کہ تم مصیبت میں پڑ جاؤ

[مَآ انزَلْنَا : ہم نے نہیں اتارا ] [عَلَيْكَ : آپ ﷺ پر ] [الْقُرْاٰنَ : اس قرآن کو ] [لِتَشْقٰٓي : کہ آپ ﷺ سختی میں پڑھیں ]
Ayah 20:3

اِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰىۙ Open ayah 20:3 in the Quran reader

یہ تو ایک یاد دہانی ہے ہر اس شخص کے لیے جو ڈرے

[اِلَّا تَذْكِرَةً : مگر یاددہانی کرنے کے لئے ] [لِمَنْ : اس کو جو ] [يَّخْشٰى: ڈر رکھتا ہے ]
Ayah 20:4

تَنْزِیْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَ السَّمٰوٰتِ الْعُلٰىؕ Open ayah 20:4 in the Quran reader

نازل کیا گیا ہے اُس ذات کی طرف سے جس نے پیدا کیا ہے زمین کو اور بلند آسمانوں کو

[تَنْزِيْلًا : اتارا ہوا ہوتے ہوئے ] [مِّمَنْ : اس (کی طرف) سے جس نے ] [خَلَقَ : پیدا کیا ] [الْاَرْضَ : زمین کو ] [وَالسَّمٰوٰتِ الْعُلٰى: اور بہت بلند آسمان کو ] ترکیب : (آیت۔ 4) ۔ لفظ اَلْعُلٰی کو سمجھ لیں۔ مادہ ” ع ل و “ سے افعل تفضیل میں مؤنث فُعْلٰی کے وزن پر لفظ عُلْیََا بنتا ہے۔ اس کی جمع فُعَلٌ کے وزن پر اصلاً عُلَیٌ بنتی ہے قاعدہ کے مطابق تبدیل ہو کر حالت رفع و جر میں عُلٍ اور نصب میں عُلَیًا آئے گی۔ اور جب اس پر لام تعریف داخل ہوگا تو رفع، نصب، جر، تینوں حالتوں میں یہ لفظ اَلْعُلٰی آئے گا کیونکہ اَلْعُلَیُ اَلْعُلَیَ ۔ اَلْعُلَیِ ، تینوں قاعدہ کے مطابق تبدیل ہو کر اَلْعُلٰی بنیں گے، یہاں پر اَلسَّمٰوٰتِ کی صفت ہونے کی وجہ سے یہ حالت نصب میں ہے۔
Ayah 20:5

اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى Open ayah 20:5 in the Quran reader

وہ رحمان (کائنات کے) تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہے

[اَلرَّحْمَنُ : رحمن ] [عَلَي الْعَرْشِ : عرش پر ] [اسْتَوٰى: متمکن ہوا ] نوٹ۔ 1: زیر مطالعہ آیت نمبر۔ 5 قرآن مجید کے متشابہات میں سے ہے۔ اب اس کو ایک خصوصیت یہ بھی حاصل ہوگئی ہے کہ ہمارے مسیحی بھائی اکثر اس کا حوالہ دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تثلیث کو ماننا ضروری ہے، جاننا ضروری نہیں ہے۔ جیسے قرآن کے متشابہات کو ماننا ضروری ہے، جاننا ضروری نہیں ہے۔ پھر زیادہ تر لوگ زیر مطالعہ آیت۔ 5 کا ہی حوالہ دیتے ہیں۔ جسٹس محمد تقی عثمانی صاحب نے ” بائبل سے قرآن تک “ نامی کتاب کے مقدمہ میں اس بات کا تفصیل سے جواب دیا ہے۔ ہم اس کا ایک اقتباس نقل کر رہے ہیں تاکہ عقیدہ تثلیث اور متشابہات کا فرق واضح ہوجائے۔ قرآن جن کو متشابہات کہتا ہے وہ عقل سے ماوراء تو ہوتے ہیں (یعنی عقل کی پہنچ سے باہر تو ہوتے ہیں) لیکن عقل کے خلاف نہیں ہوتے۔ ان کی دو قسمیں ہیں۔ ایک تو وہ جن کا کوئی مطلب سمجھ میں نہیں آتا جیسے حروف مقطعات۔ دوسری قسم وہ ہے جن کے الفاظ سے ایک ظاہری مفہوم سمجھ میں آتا ہے، اور اگر وہ مفہوم ماورائے عقل ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ یہاں ظاہری مفہوم یقینا مراد نہیں ہے اور اصل مفہوم کیا ہے ؟ وہ معلوم نہیں۔ مثلاً اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی۔ ان الفاظ کا ایک ظاہری مفہوم نظر آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر سیدھا ہوگیا۔ لیکن یہ مفہوم عقل سے ماورا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات غیر متناہی ہے اور وہ کسی مکان کی قید میں مقید نہیں ہوسکتی۔ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ اس آیت کا ظاہری مفہوم مراد نہیں ہے بلکہ کچھ اور مراد ہے جو ہمیں معلوم نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ عقیدئہ تثلیث متشابہات کی پہلی قسم میں داخل نہیں ہوسکتا کیونکہ اس عقیدے میں جو الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں ان کا ایک ظاہری مفہوم سمجھ میں آتا ہے۔ لیکن یہ عقیدہ دوسری قسم میں بھی داخل نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ عیسائی حضرات اگر یوں کہتے کہ اس عقیدے کا ظاہری مفہوم خلافِ عقل ہے اس لئے ظاہری مفہوم مراد نہیں ہے بلکہ کچھ اور مراد ہے جو ہمیں معلوم نہیں ہے، تب تو بات بن سکتی تھی۔ لیکن عیسائی مذہب تو یہ کہتا ہے کہ اس عقیدے کا ظاہری مفہوم ہی مراد ہے۔ ہر عیسائی کو ماننا پڑے گا کہ خدا تین اقنوم ہیں اور یہ تین ایک ہیں۔ گویا وہ خلاف عقل بات کو عقیدہ بناتا ہے اور اس کی دلیل کو انسانی سمجھ سے ماوراء کہتا ہے۔ اس کے برخلاف مسلمان متشابہات کے ظاہری مفہوم کو ماورائے عقل ہونے کی وجہ سے قبول نہیں کرتا اور کہتا ہے کہ اس کی صحیح مراد ہمیں معلوم نہیں ہے۔ اس لئے عقیدئہ تثلیث کو قرآن کی متشابہات سے کوئی مناسبت نہیں ہے۔
Ayah 20:6

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ مَا تَحْتَ الثَّرٰى Open ayah 20:6 in the Quran reader

مالک ہے اُن سب چیزوں کا جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور جو زمین و آسمان کے درمیان میں ہیں اور جو مٹی کے نیچے ہیں

[لَهٗ : اس ہی کا ہے ] [مَا : وہ جو ] [فِي السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں ہے ] [وَمَا : اور وہ جو ] [فِي الْاَرْضِ : زمین میں ہے ] [وَمَا : اور وہ جو ] [بَيْنَهُمَا : ان دونوں کے درمیان ہے ] [وَمَا : اور وہ جو ] [تَحْتَ الثَّرٰى: گیلی مٹی کے نیچے ہے (یعنی معدنیات) ] ث ر ی [ثَرًی : (س) ] مٹی کا خشک ہونے کے بعد تر اور نم ہونا۔ ثَرٰی صفت ہے۔ تری۔ نمی۔ پھر گیلی مٹی کے لئے بھی آتا ہے، زیر مطالعہ آیت۔ 6 ❜
Ayah 20:7

وَ اِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَاِنَّهٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَ اَخْفٰى Open ayah 20:7 in the Quran reader

تم چاہے اپنی بات پکار کر کہو، وہ تو چپکے سے کہی ہوئی بات بلکہ اس سے مخفی تر بات بھی جانتا ہے

[وَان : اور اگر ] [تَجْــهَرْ : تم نمایاں کرو ] [بِالْقَوْلِ : بات کو ] [فَانهٗ : تو بیشک وہ تو ] [يَعْلَمُ : جانتا ہے ] [السِّرَّ : بھید کو ] [وَاَخْفٰي : اور اس سے زیادہ پوشیدہ کو (یعنی نیت کو)] (آیت۔ 7) ۔ اَخْفٰی باب افعال میں ماضی کا صیغہ نہیں ہے بلکہ یہ افعل تفضیل میں اَخْفَیُ سے تبدیل ہو کر اَخْفٰی بنا ہے۔
Ayah 20:8

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى Open ayah 20:8 in the Quran reader

وہ اللہ ہے، اس کے سوا کوئی خدا نہیں، اس کے لیے بہترین نام ہیں

[اللّٰهُ : اللہ (وہ ہے کہ)] [لَآ اِلٰهَ : کوئی بھی اِلٰہ نہیں ہے ] [اِلَّا : مگر ] [هُوَ : وہ (ہی)] [لَهُ : اس کے لئے ہی ] [الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى: تمام خوبصورت نام ہیں ]
Ayah 20:9

وَ هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ Open ayah 20:9 in the Quran reader

اور تمہیں کچھ موسیٰؑ کی خبر بھی پہنچی ہے؟

[وَهَلْ : اور کیا ] [اَتٰىكَ : پہنچی آپ ﷺ کے پاس ] [حَدِيْثُ مُوْسٰى: موسٰی (علیہ السلام) کی بات ]
Ayah 20:10

اِذْ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى Open ayah 20:10 in the Quran reader

جب کہ اس نے ایک آگ دیکھی اور اپنے گھر والوں سے کہا کہ " ذرا ٹھیرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے، شاید کہ تمہارے لیے ایک آدھ انگارا لے آؤں، یا اِس آگ پر مجھے (راستے کے متعلق) کوئی رہنمائی مل جائے"

[اِذْ : جب ] [رَاٰ : انھوں (علیہ السلام) نے دیکھی ] [نَارًا : ایک آگ ] [فَقَالَ : تو انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [لِاَهْلِهِ : اپنے گھر والوں سے ] [امْكُـثُوْٓا : تم لوگ ٹھہرو ] [انىٓ اٰنَسْتُ : بیشک میں نے دیکھی ] [نَارًا : ایک آگ ] [لَّعَلِيْٓ: شاید کہ ] [اٰتِيْكُمْ : میں لائوں تمہارے پاس ] [مِّنْهَا : اس سے ] [بِقَبَسٍ : کوئی انگارہ ] [اَوْ : یا ] [اَجِدُ : میں پائوں ] [عَلَي النَارِ : آگ پر ] [هُدًى: کوئی رہنمائی ] ق ب س [قَبْسًا : (ض) ] آگ سے آگ جلانا۔ قَبَسٌ آگ سے حاصل کی ہوئی آگ۔ جلتا ہوا کوئلہ۔ انگارہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 10 (افتعال) اِقْتِبَاسًا آگ یا کسی چیز سے اس کا کوئی جز یا ٹکڑا لینا۔ اُنْظُرُوْ نَا نَقْبِسْ مِنْ نُّوْرِکُمْ (تم لوگ راہ دیکھو ہماری تو ہم کوئی حصّہ حاصل کرلیں تمہارے نور سے) 57:13
Ayah 20:11

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ یٰمُوْسٰىؕ Open ayah 20:11 in the Quran reader

وہاں پہنچا تو پکارا گیا "اے موسیٰؑ!

[فَلَمَآ : پھر جب ] [اَتٰىهَا : وہ پہنچے اس کے پاس ] [نُوْدِيَ : تو آواز دی گئی ] [يٰمُوْسٰى: اے موسٰی ]
Ayah 20:12

اِنِّیْۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىؕ Open ayah 20:12 in the Quran reader

میں ہی تیرا رب ہوں، جوتیاں اتار دے تو وادی مقدس طویٰ میں ہے

[انىٓ انا : بیشک میں ہی ] [رَبُّكَ : آپ (علیہ السلام) کا رب ہوں ] [فَاخْلَعْ : تو آپ (علیہ السلام) اتار دیں ] [نَعْلَيْكَ : اپنے دونوں جوتے ] [انكَ : بیشک آپ (علیہ السلام) ] [بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ : اس پاک کی ہوئی وادی میں ہیں ] [طُوًى: جو طوٰی (کہلاتی) ہے ] خ ل ع [خَلْعًا : (ف) ] کوئی پہنی ہوئی چیز اتارنا جیسے ٹوپی اتارنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 12 ن ع ل [نَعْلًا : (ف) ] جوتا عطا کرنا یا پہنانا نَعْلٌ جوتا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 12 ط وی [طَیًّا : (ض) ] کسی چیز کو تہہ در تہہ لپیٹنا جیسے کپڑے کا تھان لپیٹا جاتا ہے۔ یَوْمَ نَطْوِی السَّمَائَ کَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْکُتُبِ (جس دن ہم لپیٹیں گے آسمان کو جیسے عدالتی ریکارڈ کا لپیٹنا لکھا ہوا ہونے کے لئے) 21:104 ۔ مَطْوِیَّـۃٌ لپیٹی ہوئی۔ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌ بِیَمِیْنِہٖ (اور آسمان لپیٹے ہوئے ہوں گے اس کے داہنے ہاتھ میں۔ ) 39:67 طُوًی قرآن میں یہ اسم علم کے طور پر آیا ہے۔ ایک وادی کا نام۔ زیر مطالعہ آیت۔ 12 ۔ نوٹ۔ 1: آیت۔ 12 ۔ میں حضرت موسٰی (علیہ السلام) کو جوتے اتارنے کا جو حکم ہے اس کی وجہ سے یہودیوں میں یہ شرعی مسئلہ بن گیا کہ جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔ نبی ﷺ نے اس غلط فہمی کو رفع کرنے کے لئے فرمایا کہ یہودیوں کے خلاف عمل کرو کیونکہ وہ جوتے اور چمڑے کے موزے پہن کر نماز نہیں پڑھتے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ضرور جوتے پہن کر نماز پڑھنی چاہیے بلکہ مطلب یہ ہے کہ ایسا کرنا جائز ہے۔ حضرت عمرو بن عاص ؓ کی روایت ہے کہ انھوں نے نبی ﷺ کو دونوں طرح نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ ایک حدیث میں آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب تم میں سے کوئی مسجد آئے تو جوتے کو پلٹ کر دیکھ لے اگر کوئی گندگی لگی ہو تو زمین سے رگڑ کر صاف کرلے اور ان ہی جوتوں کو پہنے ہوئے نماز پڑھ لے۔ ایک اور حدیث میں آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ اگر تم میں سے کسی نے گندگی کو پامال کیا ہو تو مٹی اس کو پاک کردینے کے لئے کافی ہے۔ ایک حدیث کے الفاظ ہیں کہ ایک جگہ گندگی لگی ہوگی تو دوسری جگہ جاتے جاتے خود زمین ہی اس کو پاک کر دے گی۔ ان احادیث کی بنا پر اکثر فقہا اس بات کے قائل ہیں کہ جوتا زمین کی مٹی سے پاک ہوجاتا ہے۔ اس سلسلہ میں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مسجد نبوی میں چٹائی تک کا فرش نہ تھا بلکہ کنکریاں بچھی ہوئی تھیں۔ لہٰذا ان احادیث سے استدلال کر کے اگر کوئی شخص آج کی مسجدوں کے فرش پر جوتے لے جانا چاہے تو یہ صحیح نہ ہوگا۔ البتہ گھاس پر یا کھلے میدان میں جوتے پہنے پہنے نماز پڑھ سکتے ہیں۔ جو لوگ میدان میں نماز جنازہ پڑھتے وقت جوتے اتارنے پر اصرار کرتے ہیں وہ دراصل احکام سے ناواقف ہیں۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 20:13

وَ اَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰى Open ayah 20:13 in the Quran reader

اور میں نے تجھ کو چُن لیا ہے، سُن جو کچھ وحی کیا جاتا ہے

وَانا : اور میں نے ] [اخْتَرْتُكَ : چنا آپ (علیہ السلام) کو ] [فَاسْتمعْ : تو آپ (علیہ السلام) دھیان سے سنیں ] [لِمَا : اس کو جو ] [يُوْحٰى: وحی کیا جائے ]
Ayah 20:14

اِنَّنِیْۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدْنِیْ١ۙ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ Open ayah 20:14 in the Quran reader

میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے، پس تو میری بندگی کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر

[اننِيْٓ انا : بیشک میں ہی ] [اللّٰهُ : اللہ ہوں ] [لَآ اِلٰهَ : کوئی اِلٰہ نہیں ] [اِلَّآ انا : سوائے میرے ] [فَاعْبُدْنِيْ : پس آپ (علیہ السلام) بندگی کریں میری ] [وَاَقِمِ : اور آپ (علیہ السلام) قائم کریں ] [الصَّلٰوةَ : نماز کو ] [لِذِكْرِيْ : میری یاد کے لئے ]
Ayah 20:15

اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ اَكَادُ اُخْفِیْهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعٰى Open ayah 20:15 in the Quran reader

قیامت کی گھڑی ضرور آنے والی ہے میں اُس کا وقت مخفی رکھنا چاہتا ہوں، تاکہ ہر متنفّس اپنی سعی کے مطابق بدلہ پائے

[ان : بیشک ] [السَّاعَةَ : وہ گھڑی (یعنی قیامت)] [اٰتِيَةٌ: آنے والی ہے ] [اَكَادُ : میں ارادہ کرتا ہوں کہ ] [اُخْفِيْهَا : میں خفیہ رکھوں اس کو ] [لِتُجْزٰى: تاکہ جزاء دی جائے ] [كُلُّ نَفْسٍۢ: ہر جان کو ] [بِمَا : اس کی جو ] [تَسْعٰي : اس نے بھاگ دوڑ کی ]
Ayah 20:16

فَلَا یَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ فَتَرْدٰى Open ayah 20:16 in the Quran reader

پس کوئی ایسا شخص جو اُس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش نفس کا بندہ بن گیا ہے تجھ کو اُس گھڑی کی فکر سے نہ روک دے، ورنہ تو ہلاکت میں پڑ جائے گا

[فَلَا يَصُدَّنَّكَ : پس ہرگز نہ روکے آپ (علیہ السلام) کو ] [عَنْهَا : اس سے ] [مَنْ : وہ جو ] [لَّا يُؤْمِنُ : ایمان نہیں لاتا ] [بِهَا : اس پر ] [وَاتَّبَعَ : اور اس نے پیروی کی ] [هَوٰىهُ : اپنی خواہش کی ] [فَتَرْدٰى: ورنہ تُو تباہ و برباد ہوگا ]
Ayah 20:17

وَ مَا تِلْكَ بِیَمِیْنِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:17 in the Quran reader

اور اے موسیٰؑ، یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے؟"

[وَمَا تِلْكَ : اور وہ کیا ہے ] [بِيَمِيْنِكَ : آپ (علیہ السلام) کے ہاتھ میں ] [يٰمُوْسٰى: اے موسٰی (علیہ السلام) ]
Ayah 20:18

قَالَ هِیَ عَصَایَ١ۚ اَتَوَكَّؤُا عَلَیْهَا وَ اَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِیْ وَ لِیَ فِیْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى Open ayah 20:18 in the Quran reader

موسیٰؑ نے جواب دیا "یہ میری لاٹھی ہے، اس پر ٹیک لگا کر چلتا ہوں، اس سے اپنی بکریوں کے لیے پتے جھاڑتا ہوں، اور بھی بہت سے کام ہیں جو اس سے لیتا ہوں"

[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [هِىَ : یہ ] [عَصَايَ : میری لاٹھی ہے ] [اَتَـوَكَّؤُا : میں ٹیک لگاتا ہوں ] [عَلَيْهَا : اس پر ] [وَاَهُشُّ : اور میں پتے جھاڑتا ہوں ] [بِهَا : اس سے ] [عَلٰي غَنَمِيْ : اپنی بکریوں پر ] [وَلِيَ : اور میرے لئے ] [فِيْهَا : اس میں ] [مَاٰرِبُ اُخْرٰى: ضرورت پوری کرنے کے دوسرے مواقع ہیں ] ھـ ش ش [ھَشًّا : (ن) ] درخت سے پتے جھاڑنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 18 ء ر ب [اَرَبًا : (س) ] کسی چیز کا بہت دلدادہ و مشتاق ہونا۔ حاجتمند ہونا۔ ضرورت مند ہونا۔ اِرْبَۃٌ حاجت ضرورت۔ اَوِالتَّابِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرَبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ (یا تابع لوگ یعنی نوکر بغیر (جنسی) حاجت والے مردوں میں سے) 24:31 مَاْرَبَۃٌ ج مَاٰرِبُ ۔ اسم الظرف ہے۔ حاجت پوری کرنے کی جگہ یا وقت یعنی موقع۔ زیر مطالعہ آیت۔ 18
Ayah 20:19

قَالَ اَلْقِهَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:19 in the Quran reader

فرمایا "پھینک دے اس کو موسیٰؑ"

[قَالَ : (اللہ تعالیٰ نے) کہا ] [اَلْقِهَا : آپ (علیہ السلام) ڈال دیں اس کو ] [يٰمُوْسٰى: اے موسٰی (علیہ السلام) ]
Ayah 20:20

فَاَلْقٰىهَا فَاِذَا هِیَ حَیَّةٌ تَسْعٰى Open ayah 20:20 in the Quran reader

اس نے پھینک دیا اور یکایک وہ ایک سانپ تھی جو دَوڑ رہا تھا

[فَاَلْقٰىهَا : تو انھوں (علیہ السلام) نے ڈالا اس کو ] [فَاِذَا : تو جب ہی ] [هِىَ : وہ ] [حَيَّةٌ: زندہ (سانپ) تھی ] [تَسْعٰي : دوڑتی ہوئی ]
Ayah 20:21

قَالَ خُذْهَا وَ لَا تَخَفْ١ٙ سَنُعِیْدُهَا سِیْرَتَهَا الْاُوْلٰى Open ayah 20:21 in the Quran reader

فرمایا "پکڑ لے اس کو اور ڈر نہیں، ہم اسے پھر ویسا ہی کر دیں گے جیسی یہ تھی

[قَالَ : (اللہ تعالیٰ نے) کہا ] [خُذْهَا : آپ (علیہ السلام) پکڑیں اس کو ] [وَلَا تَخَفْ : اور مت ڈریں ] [سَنُعِيْدُهَا : ہم لوٹا دیں گے اس کو ] [سِيْرَتَهَا الْاُوْلٰى: اس کی پہلی خصلت پر ]
Ayah 20:22

وَ اضْمُمْ یَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ اٰیَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 20:22 in the Quran reader

اور ذرا اپنا ہاتھ اپنی بغل میں دبا، چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے یہ دوسری نشانی ہے

[وَاضْمُمْ : اور آپ (علیہ السلام) ملائیں ] [يَدَكَ : اپنا ہاتھ ] [اِلٰى جَنَاحِكَ : اپنی بغل کی طرف (یعنی سے)] [تَخْرُجْ : تو وہ (ہاتھ) نکلے گا ] [بَيْضَاۗءَ : سفید ہوتے ہوئے ] [مِنْ غَيْرِ سُوْۗءٍ : کسی بھی برائی کے بغیر ] [اٰيَةً اُخْرٰى: ایک دوسری نشانی ہوتے ہوئے ] ض م م [ضَمًّا : (ن) ] دو یا دو سے زیادہ چیزوں کو باہم ملا دینا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 22
Ayah 20:23

لِنُرِیَكَ مِنْ اٰیٰتِنَا الْكُبْرٰىۚ Open ayah 20:23 in the Quran reader

اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی نشانیاں دکھانے والے ہیں

[لِنُرِيَكَ : تاکہ ہم دکھائیں آپ (علیہ السلام) کو ] [مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى: اپنی بڑی نشانیوں میں سے ]
Ayah 20:24

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى۠ Open ayah 20:24 in the Quran reader

اب تو فرعون کے پاس جا، وہ سرکش ہو گیا ہے"

[اِذْهَبْ : (اب) آپ (علیہ السلام) جائیں ] [اِلٰى فِرْعَوْنَ : فرعون کی طرف ] [انهٗ : بیشک اس نے ] [طَغٰي : سرکشی کی ہے ]
Ayah 20:25

قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ Open ayah 20:25 in the Quran reader

موسیٰؑ نے عرض کیا " پروردگار، میرا سینہ کھول دے

[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [رَبِ : اے میرے رب ] [اشْرَحْ : تو کشادہ کر دے ] [لِيْ : میرے لئے ] [صَدْرِيْ : میرے سینے کو ]
Ayah 20:26

وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:26 in the Quran reader

اور میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے

[وَيَسِّرْ : اور تو آسان کر دے ] [لِيْٓ: میرے لئے ] [اَمْرِيْ : میرے کام کو ]
Ayah 20:27

وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙ Open ayah 20:27 in the Quran reader

اور میری زبان کی گرہ سُلجھا دے

[وَاحْلُلْ : اور تو کھول دے ] [عُقْدَةً : گرہ کو ] [مِّنْ لِسَانيْ : میری زبان (میں) سے ] نوٹ۔ 1: حضرت موسٰی (علیہ السلام) نے زبان کی گرہ کھولنے کی جو دعا مانگی تھی اس کی بائبل میں جو تشریح بیان ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ موسٰی (علیہ السلام) نے عرض کیا ” اے خدا وند، میں فصیح نہیں ہوں۔ نہ پہلے ہی تھا اور نہ جب سے تو نے اپنے بندے سے کلام کیا بلکہ رُک رُک کر بولتا ہوں اور میری زبان کند ہے۔ “ مگر تلمود میں ایک لمبا چوڑا قصّہ بیان ہوا ہے کہ بچپن میں موسٰی (علیہ السلام) نے انگارہ اٹھا کر منہ میں رکھ لیا تھا تو زبان میں لکنت پڑگئی۔ لیکن عقل اسے ماننے سے انکار کرتی ہے۔ اس لئے کہ اگر بچے نے آگ پر ہاتھ مارا بھی تو یہ کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ وہ انگارے کو اٹھا کر منہ میں لے جاسکے۔ بچہ تو آگ کی جلن محسوس کرتے ہی ہاتھ کھینچ لیتا ہے۔ قرآن کے الفاظ سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ حضرت موسٰی (علیہ السلام) اپنے اندر خطابت کی صلاحیت نہ پاتے تھے اور ان کو اندیشہ تھا کہ نبوت کے فرائض ادا کرنے کے لئے تقریر کی ضرورت پیش آئی تو ان کی جھجھک مانع ہوگی۔ اس لئے انھوں نے دعا کی۔ ان کی یہ کمزوری دور ہوگئی۔ چناچہ قرآن اور بائبل میں ان کی بعد کے دور کی جو تقریریں آئی ہیں وہ کمال فصاحت کی شہادت دیتی ہیں۔
Ayah 20:28

یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪ Open ayah 20:28 in the Quran reader

تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں

[يَفْقَـــهُوْا : وہ لوگ سمجھیں ] [قَوْلِيْ : میری بات کو ] ترکیب : (آیت۔ 28) یَفْقَھُوْا جواب امر ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے اس لئے اس سے پہلے لام کَی کو محذوف نہیں مان سکتے۔
Ayah 20:29

وَ اجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَهْلِیْۙ Open ayah 20:29 in the Quran reader

اور میرے لیے میرے اپنے کنبے سے ایک وزیر مقرر کر دے

[وَاجْعَلْ : اور تو بنا دے ] [لِيْ : میرے لئے ] [وَزِيْرًا : ایک معاون ] [مِّنْ اَهْلِيْ : میرے گھر والوں (میں) سے ]
Ayah 20:30

هٰرُوْنَ اَخِیۙ Open ayah 20:30 in the Quran reader

ہارونؑ، جو میرا بھائی ہے

[هٰرُوْنَ : جو ہارون ہے ] [اَخِي : میرا بھائی ]
Ayah 20:31

اشْدُدْ بِهٖۤ اَزْرِیْۙ Open ayah 20:31 in the Quran reader

اُس کے ذریعہ سے میرا ہاتھ مضبُوط کر

[اشْدُدْ : تو سخت کر دے ] [بِهٖٓ: اس سے ] [اَزْرِيْ : میری قوت کو ]
Ayah 20:32

وَ اَشْرِكْهُ فِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:32 in the Quran reader

اور اس کو میرے کام میں شریک کر دے

[وَاَشْرِكْهُ : اور تو شریک کر دے اس کو ] [فِيْٓ اَمْرِيْ : میرے کام میں ]
Ayah 20:33

كَیْ نُسَبِّحَكَ كَثِیْرًاۙ Open ayah 20:33 in the Quran reader

تاکہ ہم خوب تیری پاکی بیان کریں

[كَيْ : تاکہ ] [نُسَبِحَكَ : ہم تسبیح کریں تیری ] [كَثِيْرًا : کثرت سے ] (آیات 33 ۔ 34) کَثِیْرًا حال نہیں ہے بلکہ یہ مفعول مطلق محذوف کی صفت ہے۔ یعنی یہ دراصل تَسْبِیْحًا کَثِیْرًا اور ذِکْرًا کَثِیْرًا ہے۔
Ayah 20:34

وَّ نَذْكُرَكَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 20:34 in the Quran reader

اور خوب تیرا چرچا کریں

[وَّنَذْكُرَكَ : اور ہم یاد کریں تجھ کو ] [كَثِيْرًا : کثرت سے ]
Ayah 20:35

اِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِیْرًا Open ayah 20:35 in the Quran reader

تو ہمیشہ ہمارے حال پر نگران رہا ہے"

[انكَ : بیشک تو ] [كُنْتَ : ہے ] [بِنَا : ہم کو ] [بَصِيْرًا : ہمیشہ اور ہر حال میں دیکھنے والا ] (آیت۔ 35) فَعِیْلٌ کے وزن پر عَلِیْمٌ۔ خَبِیْرٌ۔ بَصِیْرٌ وغیرہ کے ساتھ عموماً ب کا صلہ آتا ہے۔ یہاں لفظ بِنَا میں بِ دراصل بَصِیْرًا کا صلہ ہے اور نَا اس کی ضمیر مفعولی ہے۔
Ayah 20:36

قَالَ قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:36 in the Quran reader

فرمایا "دیا گیا جو تو نے مانگا اے موسیٰؑ

[قَالَ : (اللہ نے) کہا ] [قَدْ اُوْتِيْتَ : آپ (علیہ السلام) کو دی جا چکی ہے ] [سُؤْلَكَ : آپ (علیہ السلام) کی التجا ] [يٰمُوْسٰى: اے موسٰی (علیہ السلام) ]
Ayah 20:37

وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْكَ مَرَّةً اُخْرٰۤىۙ Open ayah 20:37 in the Quran reader

ہم نے پھر ایک مرتبہ تجھ پر احسان کیا

[وَلَقَدْ مَنَنَا : اور بیشک ہم احسان کرچکے ہیں ] [عَلَيْكَ : آپ (علیہ السلام) پر ] [مَرَّةً اُخْرٰٓى: ایک اور بار (بھی)]
Ayah 20:38

اِذْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّكَ مَا یُوْحٰۤىۙ Open ayah 20:38 in the Quran reader

یاد کر وہ وقت جبکہ ہم نے تیری ماں کو اشارہ کیا ایسا اشارہ جو وحی کے ذریعہ سے ہی کیا جاتا ہے

[اِذْ : جب ] [اَوْحَيْنَآ : ہم نے وحی کیا ] [اِلٰٓى اُمِّكَ : آپ (علیہ السلام) کی والدہ کی طرف ] [مَا : وہ جو ] [يُوْحٰٓي : وحی کیا گیا ] نوٹ۔ 1: لفظ وحی کے لغوی معنی ایسے خفیہ کلام کے ہیں جو صرف مخاطب کو معلوم ہو، اور دوسرے اس پر مطلع نہ ہوں۔ اس لغوی معنی کے اعتبار سے وحی کسی کے لئے مخصوص نہیں، نبی و رسول اور عام مخلوق بلکہ جانور تک اس میں شامل ہوسکتے ہیں۔ شہد کی مکھیوں کو بذریعہ وحی تلقین و تعلیم کرنے کا ذکر اسی معنی کے اعتبار سے ہے۔ (آیت 16:68) موسٰی (علیہ السلام) کی والدہ کی طرف وحی بھی اسی لغوی معنی کے اعتبار سے ہے۔ اس سے ان کا نبی یا رسول ہونا لازم نہیں آتا۔ جیسے بی بی مریم کو ارشادات ربانی پہنچے باوجودیکہ وہ نبی یا رسول نہیں تھیں۔ اس طرح کی لغوی وحی بطور الہام کے ہوتی ہے جیسے اولیاء اللہ کو اس قسم کے الہامات ہوتے رہتے ہیں۔ مگر اس کا تعلق صرف اس شخص کی ذات سے ہوتا ہے جس کو یہ وحی الہام ہوتی ہے، اصلاح خلق اور دعوت و تبلیغ سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس وحی نبوت کا منشاء ہی مخلوق کی اصلاح کے لئے کسی کو کھڑا کرنا اور دعوت و تبلیغ پر مامور کرنا ہوتا ہے۔ اس کے ذمہ لازم ہوتا ہے کہ اپنی وحی پر خود بھی ایمان لائے اور دوسروں کو بھی اپنی نبوت کو ماننے اور اپنی وحی کے ماننے کا پابند بنائے۔ جو اس کو نہ مانے اسے کافر قرار دے۔ وحی لغوی یعنی وحی الہام میں اور وحی اصطلاحی یعنی وحی نبوت میں یہی فرق ہے۔ وحی لغوی ہمیشہ سے جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گی۔ جبکہ نبوت اور وحی نبوت خاتم الانبیاء ﷺ پر ختم ہوچکی ہے۔ (معارف القرآن) نوٹ۔ 2: امتحانات اور آزمائشیں انسان کی تعلیم و تربیت کا لازمہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں کے ذریعہ سے انسان کی اعلیٰ صلاحیتوں کو پروان چڑھاتا ہے۔ اس لئے ان سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ جو شخص ان سے گھبراتا اور بھاگتا ہے وہ گویا اپنی تربیت سے گھبراتا اور بھاگتا ہے۔ ڈرنے کی کوئی چیز ہے تو وہ یہ ہے کہ امتحان میں وہ کہیں ناکام نہ رہ جائے۔ یہ امتحانات صرف مشکلات اور مصائب ہی کی راہ سے پیش نہیں آتے بلکہ انعامات اور افضال کی شکل میں بھی پیش آتے ہیں۔ مصائب و مشکلات کے امتحانات میں اللہ تعالیٰ بندے کے صبر کی تربیت فرمانا چاہتا ہے اور انعامات و افضال کے امتحان میں اس کے شکر کو پروان چڑھانا چاہتا ہے۔ اسی صبر و شکر پر تمام اعلیٰ صفات انسانی کا انحصار ہے۔ ان ہی دونوں صفتوں کی تکمیل پر نفس مطمٔنّہکی بادشاہی حاصل ہوتی ہے اور پھر اسی کا ثمرہ وہ ابدی بادشاہی ہے جس کو قرآن نے رَاضِیَّۃً مَّرْضِیَّۃً کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ شکر کا امتحان زیادہ مشکل ہے۔ اس میں پاس ہونے والوں کا اوسط بہت کم ہے۔ وَقَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُوْرُ (34:13) میں اسی طرف اشارہ ہے۔ (تدبر قرآن)
Ayah 20:39

اَنِ اقْذِفِیْهِ فِی التَّابُوْتِ فَاقْذِفِیْهِ فِی الْیَمِّ فَلْیُلْقِهِ الْیَمُّ بِالسَّاحِلِ یَاْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّیْ وَ عَدُوٌّ لَّهٗ١ؕ وَ اَلْقَیْتُ عَلَیْكَ مَحَبَّةً مِّنِّیْ١ۚ۬ وَ لِتُصْنَعَ عَلٰى عَیْنِیْۘ Open ayah 20:39 in the Quran reader

کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ دے اور صندوق کو دریا میں چھوڑ دے دریا اسے ساحل پر پھینک دے گا اور اسے میرا دشمن اور اس بچے کا دشمن اٹھا لے گا میں نے اپنی طرف سے تجھ پر محبت طاری کر دی اور ایسا انتظام کیا کہ تو میری نگرانی میں پالا جائے

[ان : کہ ] [اقْذِفِيْهِ : آپ ڈال دیں اس (بچے) کو ] [فِي التَّابُوْتِ : اس صندوق میں ] [فَاقْذِفِيْهِ : پھر آپ ڈال دیں اس (صندوق) کو ] [فِي الْيَمِّ : پانی میں ] [فَلْيُلْقِهِ : پھر چاہیے کہ ڈال دے اس کو ] [الْيَمُّ : پانی ] [بِالسَّاحِلِ : ساحل پر ] [يَاْخُذْهُ : تو پکڑے اس کو ] [عَدُوٌّ لِيْ : میرا دشمن ] [وَعَدُوٌّ لَهٗ : اور اس (بچے) کا دشمن ] [وَاَلْقَيْتُ : اور میں نے ڈال دی ] [عَلَيْكَ : آپ پر (کے لئے)] [مَحَبَّةً : ایک محبت ] [مِّنِّيْ : اپنی طرف سے ] [وَلِتُصْنَعَ : اور تاکہ آپ (علیہ السلام) پروان چڑھائے جائیں ] [عَلٰي عَيْنِيْ : میری آنکھ کے سامنے ] ق ذ [قَذْفًا : (ض) ] (1) کوئی چیز پھینک دینا۔ (2) کوئی چیز کسی پر پھینک کر مارنا۔ (3) کوئی چیز کسی چیز میں ڈالنا۔ اس کے لئے عموماً فِیْ کا صلہ آتا ہے۔ حُمِّلْنَا اَوْزَارًا مِّنْ زِیْنَۃِ الْقَوْمِ فَقَذَ فْنٰھَا (اٹھوائے گئے ہم سے کچھ بوجھ قوم کی زینت یعنی زیور میں سے تو ہم نے پھینک دیا ان کو) 20:87 ۔ بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَی الْبَاطِلِ (بلکہ ہم پھینک مارتے ہیں حق کو باطل پر) 21:18 ۔ وَقَذَفَ فِیْ قُلُوْبِھِمُ الرُّعْبَ (اور اس نے ڈالا ان کے دلوں میں رعب۔ 33:26 ۔ اِقْذِفِیْ یہ فعل امر میں واحد مؤنث مخاطب کا صیغہ ہے۔ تو ایک عورت پھینک دے۔ ڈال دے۔ زیر مطالعہ آیت۔ 39
Ayah 20:40

اِذْ تَمْشِیْۤ اُخْتُكَ فَتَقُوْلُ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى مَنْ یَّكْفُلُهٗ١ؕ فَرَجَعْنٰكَ اِلٰۤى اُمِّكَ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ١ؕ۬ وَ قَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّیْنٰكَ مِنَ الْغَمِّ وَ فَتَنّٰكَ فُتُوْنًا١۫۬ فَلَبِثْتَ سِنِیْنَ فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ١ۙ۬ ثُمَّ جِئْتَ عَلٰى قَدَرٍ یّٰمُوْسٰى Open ayah 20:40 in the Quran reader

یاد کر جبکہ تیری بہن چل رہی تھی، پھر جا کر کہتی ہے، "میں تمہیں اُس کا پتہ دوں جو اِس بچے کی پرورش اچھی طرح کرے؟" اس طرح ہم نے تجھے پھر تیری ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ اُس کی آنکھ ٹھنڈی رہے اور وہ رنجیدہ نہ ہو اور (یہ بھی یاد کر کہ) تو نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا، ہم نے تجھے اِس پھندے سے نکالا اور تجھے مختلف آزمائشوں سے گزارا اور تو مَدیَن کے لوگوں میں کئی سال ٹھیرا رہا پھر اب ٹھیک اپنے وقت پر تو آ گیا ہے اے موسیٰؑ

[اِذْ : جب ] [تمشِيْٓ: چلتی تھیں ] [اُخْتُكَ : آپ (علیہ السلام) کی بہن ] [فَتَقُوْلُ : تو انھوں نے کہا ] [هَلْ : کیا ] [اَدُلُّكُمْ : میں پتہ دوں تم لوگوں کو ] [عَلٰي مَنْ : اس کا جو ] [يَّكْفُلُهٗ : پال پوس دے اس کو ] [فَرَجَعْنٰكَ : تو ہم نے واپس کیا آپ (علیہ السلام) کو ] [اِلٰٓى اُمِّكَ : آپ (علیہ السلام) کی والدہ کی طرف ] [كَيْ : تاکہ ] [تَقَرَّ : ٹھنڈی ہو ] [عَيْنُهَا : ان کی آنکھ ] [وَلَا تَحْزَنَ : اور وہ غمگین نہ ہوں ] [وَقَتَلْتَ : اور آپ (علیہ السلام) نے قتل کیا ] [نَفْسًا : ایک جان کو ] [فَنَجَّيْنٰكَ : تو ہم نے نجات دی آپ (علیہ السلام) کو ] [مِنَ الْغَمِّ : غم سے ] [وَفَتَنّٰكَ : اور ہم نے آزمائش میں ڈالا آپ (علیہ السلام) کو ] [فُتُوْنًا : جیسے آزمائش میں ڈالنے کا حق ہے ] [فَلَبِثْتَ : پھر آپ (علیہ السلام) ٹھہرے ] [سِنِيْنَ : کچھ سال ] [فِيْٓ اَهْلِ مَدْيَنَ : مدین والوں میں ] [ثُمَّ : پھر ] [جِئْتَ : آپ (علیہ السلام) آئے ] [عَلٰي قَدَرٍ : ایک (مقرر) اندازے پر ] [يّٰمُوْسٰى: اے موسٰی (علیہ السلام) ] د ل ل [دَلُوْلاً : (ن) ] رہنمائی کرنا۔ راستہ دکھانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 40 دَلِیْلٌ فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت ہے۔ رہنمائی کرنے والا۔ دلیل۔ حجت۔ ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْہِ دَلِیْلًا (پھر ہم نے بنایا سورج کو اس پر ایک دلیل) 25:45 ۔