Ayah 19:2[ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِكَ : (یہ) آپ ﷺ کے رب کی رحمت کا ذکر ہے ] [عَبْدَهٗ : اس کے بندے ] [زَكَرِيَّا : زکریا پر ]
ترکیب : (آیت۔ 2) ذِکْرُ رَحْمَتِ رَبِّکَ ۔ یہ پورا مرکب اضافی خبر ہے اور اس کا مبتدا ھٰذَا معذوف ہے۔ زَکَرِیَّا تینوں حالتوں میں مبنی کی طرح زِکَرِیَّا استعمال ہوتا ہے۔ یہاں یہ عَبْدَہٗ کا بدل ہونے کی وجہ سے محلاً حالت نصب میں ہے۔
Ayah 19:3[اِذْ : جب ] [نَادٰى: انھوں (علیہ السلام) نے پکارا ] [رَبَّهٗ : اپنے رب کو ] [نِدَاۗءً خَفِيًّا : ایک خفیہ پکار سے ]
Ayah 19:4[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [رَبِ : اے میرے رب ] [انى: بیشک میں (ہوں کہ)] [وَهَنَ : کمزور ہوئی ] [الْعَظْمُ : ہڈی ] [مِنِّيْ : مجھ (میں) سے ] [وَاشْتَعَلَ : اور چمک اٹھا ] [الرَّاْسُ : سر ] [شَيْبًا : سفیدی سے ] [وَّلَمْ اَكُنْۢ: اور میں ہوا ہی نہیں ] [بِدُعَاۗىِٕكَ : تیری دعا سے ] [رَبِ : اے میرے رب ] [شَقِيًّا : کبھی نامراد ]
ش ع ل
[شَعْلاٌ: (ف) ] آگ بھڑکانا
(افتعال) اِشْتِعَالًا آگ سے شعلہ نکلنا۔ غصّہ کا بھڑک اٹھنا، زیر مطالعہ آیت۔ 4
ش ی ب
[شَیْبًا : (ض) (1) سفید بالوں والا ہونا۔ (2) بوڑھا ہونا۔
شَیْبٌ اسم ذات بھی ہے۔ (1) سفیدی (2) بڑھاپا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 4 اور ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّۃٍ ضُعْفًا وَّ شَیْبَۃً (پھر اس نے بنایا قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا) 30:54
اَشْیَبُ ج شِیْبٌ۔ اَفْعَلُ الوان و عیوب کے وزن پر صفت ہے۔ (1) سفید سروالا۔ (2) بوڑھا۔ فَکَیْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ کَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبًا (پھر کیسے تم لوگ بچو گے اگر تم نے کفر کیا ایک ایسے دن سے جو کر دے گا بچوں کو بوڑھے) 73:17 ۔
Ayah 19:5[وَانى: اور بیشک میں ] [خِفْتُ : ڈرتا ہوں ] [الْمَوَالِيَ : اپنے اقربا سے ] [مِنْ وَّرَاۗءِيْ : اپنے بعد ] [وَ : اس حال میں کہ ] [كَانتِ : ہے ] [امْرَاَتِيْ : میری عورت ] [عَاقِرًا : بانجھ ] [فَهَبْ : پس تو عطا کر ] [لِيْ : مجھ کو ] [مِنْ لَّدُنْكَ : اپنے خزانے سے ] [وَلِيًّا : ایک ایسا کام اٹھانے والا ]
(آیت۔ 5 ۔ 6) ۔ یَرِثُنِیْ وَ یَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ ۔ یہ پورا جملہ فعل امر فَھَبْ لِیْ کا جواب امر نہیں ہے۔ اگر جواب امر ہوتا تو مضارع مجزوم یَرِثْ آتا۔ لیکن یہاں مضارع مرفوع یَرِثْ آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ جملہ دراصل نکرہ موصوفہ وَلِیًّا کی صفت ہے۔ ترجمہ میں اس فرق کو ظاہر کیا جائے گا۔
نوٹ۔ 1: آیت نمبر۔ 5 ۔ میں حضرت زکریا (علیہ السلام) کے اس قول کا ذکر ہے کہ انھیں (علیہ السلام) اپنے بعد، اپنے عزیز و اقارب کی طرف سے اندیشہ تھا۔ لیکن یہ نہیں بتایا کہ کس بات کا اندیشہ تھا۔ اس ضمن میں یہ بات بہت واضح ہے کہ حضرت زکریا کو یہ اندیشہ نہیں تھا کہ ان کے عزیزواقارب ان کی جائیداد پر قبضہ کرلیں گے کیونکہ وہ صاحب جائیداد نہیں تھے۔ پھر انھیں کس بات کا اندیشہ تھا۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے بنی اسرائیل کے نظام کہانت (Preisthood) کا ایک خاکہ ذہن میں واضح ہونا ضروری ہے جسے ہم تفہیم القرآن سے اخذ کر رہے ہیں۔
فلسطین پر قابض ہونے کے بعد بنی اسرائیل نے ملک کا انتظام اس طرح کیا تھا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد کے بارہ قبیلوں میں سارا ملک تقسیم کردیا گیا۔ اور تیرھواں قبیلہ یعنی لاوی بن یعقوب (علیہ السلام) کا گھرانہ مذہبی خدمات کے لئے مخصوص رہا۔ پھر بن لاوی میں سے بھی جو خاندان پاک ترین چیزوں کی تقدیس کا کام کرتا تھا، وہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کا خاندان تھا۔ ان میں ایک ابیاہ کا خاندان تھا جس کے سردار حضرت زکریا (علیہ السلام) تھے۔ انھیں ابیا کے خاندان میں کوئی ایسا نظر نہیں آ رہا تھا جو ان کے بعد دینی اور اخلاقی حیثیت سے اس منصب کا اہل ہو جسے وہ سنبھالے ہوئے تھے۔ یہ وہ اندیشہ ہے جس کا ذکر کیا گیا ہے۔
نوٹ۔ 2: رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ بیشک علماء وارث ہیں انبیاء کے کیونکہ انبیاء (علیہ السلام) دینار و درہم کو وراثت نہیں چھوڑتے بلکہ ان کی وراثت علم ہوتا ہے۔ جس نے علم حال کرلیا اس نے بڑی دولت حاصل کرلی۔ (معارف القرآن)
Ayah 19:6[يَّرِثُنِيْ : جو وارث ہو میرا ] [وَيَرِثُ : اور جو وارث ہو ] [مِنْ اٰلِ يَعْقُوْبَ : یعقوب (علیہ السلام) کے پیروکاروں میں سے (لوگوں) کا ] [وَاجْعَلْهُ : اور تو بنا اس کو ] [رَبِ : اے میرے رب ] [رَضِيًّا : پسندیدہ ]
Ayah 19:7[يٰزَكَرِيَّآ : اے زکریا (علیہ السلام) ] [انا : بیشک ] [نُبَشِّرُكَ : ہم بشارت دیتے ہیں آپ (علیہ السلام) کو ] [بِغُلٰمِۨ: ایک ایسے لڑکے کی ] [اسْمُهٗ : جس کا نام ] [يَحْــيٰى: یحییٰ ہے ] [لَمْ نَجْعَلْ : ہم نے نہیں بنایا ] [لَهٗ : اس کے لئے ] [مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے ] [سَمِيًّا : کوئی ہم نام ]
Ayah 19:8[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [رَبِ : اے میرے رب ] [انٰى: کہاں سے ] [يَكُوْنُ : ہوگا ] [لِيْ : میرے لئے ] [غُلٰمٌ: کوئی لڑکا ] [وَّ : اس حال میں کہ ] [كَانتِ : ہے ] [امْرَاَتِيْ : میری عورت ] [عَاقِرًا : بانجھ ] [وَّقَدْ بَلَغْتُ : اور میں پہنچ چکا ہوں ] [مِنَ الْكِبَرِ : بڑھاپے سے (یعنی پڑھاپے کی)] [عِتِيًّا : حد سے گزرا ہوا ]
Ayah 19:9[قَالَ : (اللہ تعالیٰ نے) کہا ] [كَذٰلِكَ : اس طرح سے ] [قَالَ : کہہ دیا ] [رَبُّكَ : آپ (علیہ السلام) کیۃ رب نے ] [هُوَ : یہ ] [عَلَيَّ : مجھ پر ] [هَيِّنٌ: آسان ہے ] [وَّقَدْ خَلَقْتُكَ : اور میں پیدا کرچکا ہوں آپ (علیہ السلام) کو ] [مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے ] [وَ : اس حال میں کہ ] [لَمْ تَكُ : آپ (علیہ السلام) نہیں تھے ] [شَـيْـــــًٔـا : کوئی چیز ]
Ayah 19:10[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [رَبِ : اے میرے رب ] [اجْعَلْ : رو بنا دے ] [لِيْٓ: میرے لئے ] [اٰيَةً : کوئی نشانی ] [قَالَ : (اللہ تعالیٰ نے) کہا ] [اٰيَتُكَ : آپ (علیہ السلام) کی نشانی ہے ] [اَلَّا تُكَلِمَ : کہ آپ (علیہ السلام) کلام نہیں کریں گے ] [النَاسَ : لوگوں سے ] [ثَلٰثَ لَيَالٍ : تین راتیں ] [سَوِيًّا : کامل ہوتے ہوئے ]
Ayah 19:11[فَخَرَجَ : پھر وہ نکلے ] [عَلٰي قَوْمِهٖ : اپنی قوم پر ] [مِنَ الْمِحْرَابِ : محراب سے ] [فَاَوْحٰٓى: تو انھوں نے اشارہ کیا ] [اِلَيْهِمْ : ان کی طرف ] [ان : کہ ] [سَبِحُوْا : تم لوگ تسبیح کرو ] [بُكْرَةً : صبح کے وقت ] [وَّعَشِـيًّا : اور شام کے وقت ]
Ayah 19:12[يٰــيَحْـيٰى: اے یحییٰ (علیہ السلام) ] [خُذِ : آپ (علیہ السلام) پکڑیں ] [الْكِتٰبَ : کتاب (یعنی تورات)] [بِقُوَّةٍ : مضبوطی سے ] [وَاٰتَيْنٰهُ : اور ہم نے دیا ان (علیہ السلام) کو ] [الْحُكْمَ : فیصلہ کرنے کی صلاحیت ] [صَبِيًّا : بچہ ہوتے ہوئے ]
نوٹ۔ 1: حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے جو حالات مختلف انجیلوں میں بکھرے ہوئے ہیں، تفہیم القرآن میں ان کو جمع کر کے ان کی سیرت پاک کا ایک نقشہ پیش کیا گیا ہے۔ ہم اس کا خلاصہ دی رہے ہیں۔
حضرت یحییٰ (علیہ السلام) ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے چھ ماہ بڑے تھے۔ تقریباً تیس سال کی عمر میں وہ نبوت کے منصب پر عملاً مامور ہوئے۔ وہ لوگوں سے گناہوں کی توبہ کراتے تھے اور توبہ کرنے والوں کو بپتسمہ دیتے تھے یعنی توبہ کے بعد غسل کراتے تھے تاکہ روح اور جسم دونوں پاک ہوجائیں۔ یہودیہ اور یروشلم کے بکثرت لوگ ان کے معتقد ہوگئے تھے اور ان کے پاس جا کر بپتسمہ لیتے تھے۔ اسی بنا پر ان کا نام یوحنا بپتسمہ دینے والا (JOHN THEBAPTIST) مشہور ہوگیا تھا۔
وہ اونٹ کے بالوں کی پوشاک پہنتے۔ ان کی خوراک ٹڈیاں اور جنگلی شہد تھا۔ اس فقیرانہ زندگی کے ساتھ وہ منادی کرتے پھرتے تھے کہ توبہ کرو کیونکہ آسمان کو بادشاہی قریب آگئی ہے۔ یعنی مسیح (علیہ السلام) کی دعوت نبوت کا آغاز ہونے والا ہے، وہ لوگوں کو نماز اور روزے کی تلقین کرتے تھے۔ وہ لوگوں سے کہتے تھے کہ جس کے پاس دو کرتے ہوں وہ اس کو جس کے پاس نہ ہو بانٹ دے۔ اور جس کے پاس کھانا ہو وہ بھی ایسا ہی کرے۔ محصول لینے والوں سے فرمایا کہ جو تمہارے لئے مقرر ہے اس سے زیادہ نہ لینا۔ سپاہیوں سے فرمایا کہ نہ کسی پر ظلم کرو اور نہ ناحق کسی سے کچھ لو اور اپنی تنخواہ پر کفایت کرو۔
ان کے عہد کا یہودی فرمانروا، جس کی ریاست میں وہ دعوت حق کی خدمت انجام دیتے تھے، سرتاپا رومی تہذیب میں فرق تھا۔ اس کی وجہ سے سارے ملک میں فسق و فجور پھیل رہا تھا۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) نے اس کو ملامت کی اور اس کی فاسقانہ حرکات کے خلاف آواز اٹھائی۔ اس جرم میں اس نے ان کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا۔
فرمانروا کی سالگرہ کے جشن کے دربار میں ایک رقاصہ نے خوب رقص کیا جس پر خوش ہو کر اس نے کہا مانگ کیا مانگتی ہے۔ اس نے کہا مجھے یوحنا بپتسمہ دینے والے کا سر ایک تھال میں رکھوا کر ابھی منگوا دیجئے۔ اس نے فوراً قید خانہ سے یحییٰ (علیہ السلام) کا سر کٹوایا اور ایک تھال میں رکھ کر رقاصہ کی نذر کردیا۔
Ayah 19:13[وَّحَنَانا : اور شفقت (دی)] [مِّنْ لَّدُنَا : اپنے پاس سے ] [وَزَكٰوةً : اور پاکیزگی (دی)] [وَكَان : اور وہ (علیہ السلام) تھے ] [تَقِيًّا : پرہیزگار ]
ح ن ن
[صَنَانًا : (ص) ] کسی پر مہربان و شفیق ہونا۔
صَنَانٌ اسم ذات بھی ہے۔ شفقت۔ مہربانی۔ زیر مطالعہ آیت۔ 13 ۔
صَنَیْنٌ فعیل کے وزن پر اسم علم ہے۔ مکہ اور طائف کے درمیان ایک جگہ کا نام جہاں جنگ حنین ہوئی تھی۔ آیت نمبر 9:25 ۔
Ayah 19:14[وَّځ ا : اور فرمانبردار (تھے)] [بِوَالِدَيْهِ : اپنے والدین کے ] [وَلَمْ يَكُنْ : اور وہ نہیں تھے ] [جبارًا : جبر کرنے والے ] [عَصِيًّا : نافرمانی کرنے والے ]
ترکیب : زیر مطالعہ آیات کا صحیح ترجمہ کرنے کے لئے منصوبات کی وجوہات کا تعین ضروری ہے۔ اٰتَیْنٰہُ کا مفعول ہونے کی وجہ اَلْحُکْمَ ، صَنَانًا اور زَکٰوًۃ حالت نصب میں آئے ہیں جبکہ صَبِیًّا حال ہے۔ کَانَ کی خبر ہونے کی وجہ سے تَقِیًّا اور بَرًّا حالت نصب میں ہیں۔ جَبَّارًا اور عَصِیًّا خبریں ہیں لَمْ یَکُنْ کی جبکہ صَیًّا حال ہے۔
Ayah 19:15[وَسَلٰمٌ: اور سلامتی ہے ] [عَلَيْهِ : ان (علیہ السلام) پر ] [يَوْمَ : جس دن ] [وُلِدَ : وہ پید اکئے گئے ] [وَيَوْمَ : اور جس دن ] [يَمُوْتُ : وہ مریں گے ] [وَيَوْمَ : اور جس دن ] [يُـبْعَثُ : وہ اٹھائے جائیں گے ] [حَيًّا : زندہ ہوتے ہوئے ]
Ayah 19:16[وَاذْكُرْ : اور یاد کرو ] [فِى الْكِتٰبِ : اس کتاب میں ] [مَرْيَمَ : مریم کو ] [اِذِ : جب ] [انتَبَذَتْ : وہ علیحدہ ہوئیں ] [مِنْ اَهْلِهَا : اپنے لوگوں سے ] [مَكَانا شَرْقِيًّا : ایک مشرقی جگہ میں ]
نوٹ۔ 1: بی بی مریم کا ایک مشرقی جگہ میں الگ ہونیکا مطلب یہ ہے کہ وہ ہیکل کے مشرقی جانب میں معتکف ہوگئیں۔ مشرقی جانب میں اس وجہ سے کہ ہیکل کا جو حصہ عورتوں کے اعتکاف اور عبادت کے لئے خاص تھا وہ مشرقی سمت میں ہی تھا۔ حضرت جبریل (علیہ السلام) نے انھیں اولاد ہونے کی جو خبر دی، اس پر بی بی مریم نے جن الفاظ میں تعجب کا اظہار کیا، اس سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ لوقا کی یہ روایت بالکل بےسروپا ہے کہ یوسف نامی کسی شخص سے ان کا نکاح ہوا تھا۔ اگر ان کا نکاح ہوا ہوتا تو یہ خبر ان کے لئے ایک خوشخبری ہوتی اور وہ مذکورہ الفاظ میں اس پر تشویش اور حیرت کا اظہار کرنے کے بجائے اللہ کا شکر ادا کرتیں۔ لوقا کی یہ روایت یہود کی دراندازی کا مولودِ فساد ہے کیونکہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خارق عادت ولادت کے مخالف ہیں۔ ہمارے ہاں جن لوگوں نے بےسوچے سمجھے اس روایت کو نقل کرلیا ہے انھوں نے نادانستہ یہود ہی کی مقصد براری کی ہے۔ (تدبر قرآن)
نوٹ۔ 2: بی بی مریم کے اظہار تعجب کے جواب میں حضرت جبریل (علیہ السلام) نے فرمایا کَذٰلِکَ یعنی ایسا ہی ہوگا۔ یہ ہرگز اس معنی میں نہیں ہوسکتا کہ بشر تجھ کو چھوئے گا اور اس سے تیرے ہاں لڑکا پیدا ہوگا۔ بلکہ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ تیرے ہاں لڑکا ہوگا، باجو ود اس کے کہ تجھے کسی بشر نے نہیں چھوا ہے۔ اس سے پہلے آیت نمبر۔ 8 ۔ میں حضرت زکریا (علیہ السلام) کا استعجاب نقل ہوچکا ہے، وہاں بھی یہی جواب دیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ جو مطلب اس جواب کا وہاں ہے، وہی یہاں بھی ہے۔ اسی طرح سورة ذاریات کی آیات 28 تا 30 میں جب فرشتہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی بشارت دیتا ہے اور حضرت سارہ کہتی ہیں کہ مجھ بوڑھی بانجھ کے ہاں بیٹا کیسے ہوگا تو فرشتہ ان کو جواب دیتا ہے کہ کَذٰلِکَ (ایسا ہی ہوگا) ۔ ظاہر ہے کہ اس سے مراد بڑھاپے اور بانجھ پن کے باوجود اولاد ہونا ہے۔ اس کے علاوہ اگر کذلک کا یہ مطلب لیا جائے کہ بشر تجھے چھوئے گا اور تیرے ہاں اسی طرح لڑکا ہوگا جیسے دنیا بھر کی عورتوں کے ہاں ہوتا ہے، تو پھر بعد کے دونوں فقرے بےمعنی ہوجاتے ہیں۔ پھر یہ کہنے کی کیا ضرورت ہے کہ تیرا رب کہتا ہے کہ ایسا کرنا میرے لئے بہت آسان ہے اور ہم اس لڑکے کو ایک نشانی بنانا چاہتے ہیں۔ (تفہیم القرآن)
نوٹ۔ 3: حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کو نشانی اس لئے بنایا تاکہ لوگ جان لیں کہ وہ خالق ہر طرح کی پپدائش پر قادر ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کو بغیر عورت مرد کے پیدا کیا۔ بی بی حوّا کو صرف مرد سے بغیر عورت کے پیدا کیا۔ باقی تمام انسانوں کو مرد عورت سے پیدا کیا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بغیر مرد کے صرف عورت سے پیدا کیا۔ پس تقسیم کی یہ چار ہی صورتیں ہوسکتی تھیں جو سب پوری کردی گئیں اور اللہ نے اپنی کمال قدرت کی مثال قائم کردی۔ (ابن کثیر (رح) ) ۔
Ayah 19:17[فَاتَّخَذَتْ : پھر انھوں نے پکڑا ] [مِنْ دُوْنِهِمْ : ان لوگوں کے علاوہ سے (یعنی ہٹ کر)] [حِجَابًا : ایک اوٹ ] [فَاَرْسَلْنَآ : تو ہم نے بھیجا ] [اِلَيْهَا : ان کی طرف ] [رُوْحَنَا : اپنی روح (یعنی جبریل (علیہ السلام) کو)] [فَتمثَّلَ : تو وہ شکل میں آگئے ] [لَهَا : ان کے لئے ] [بَشَرًا سَوِيًّا : ایک مکمل آدمی کے ]
Ayah 19:18[قَالَتْ : (بی بی مریم نے) کہا ] [انىٓ: کہ میں ] [اَعُوْذُ : پناہ میں آتی ہوں ] [بِالرَّحْمٰنِ : رحمن کی ] [مِنْكَ : تجھ سے ] [ان : اگر ] [كُنْتَ : تو ہے ] [تَقِيًّا : پرہیزگار ]
Ayah 19:19[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [انمَآ : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [انا : میں ] [رَسُوْلُ رَبِكِ : آپ کے رب کا پیغامبر ہوں ] [لِاَهَبَ : کہ میں عطا کروں ] [لَكِ : آپ کے لئے ] [غُلٰمًا زَكِيًّا : ایک پاکیزہ لڑکا ]
Ayah 19:20[قَالَتْ : انھوں نے کہا ] [انٰى: کہاں سے ] [يَكُوْنُ : ہوگا ] [لِيْ : میرے لئے ] [غُلٰمٌ: کوئی لڑکا ] [وَّ : حالانکہ ] [لَمْ يَمْسَسْنِيْ : چھوا ہی نہیں مجھ کو ] [بَشَرٌ: کسی آدمی نے ] [وَّلَمْ اَكُ : اور نہ میں ہوں ] [بَغِيًّا : کوئی زیادتی والی ]
Ayah 19:21[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [كَذٰلِكِ : اس طرح سے ] [قَالَ : کہا ] [رَبُّكِ : آپ کے رب نے ] [هُوَ : وہ ] [عَلَيَّ : مجھ پر ] [هَيِّنٌ: آسان ہے ] [وَلِنَجْعَلَهٗٓ: اور تاکہ ہم بنائیں اس (لڑکے) کو ] [اٰيَةً : ایک نشانی ] [لِلنَاسِ : لوگوں کے لئے ] [وَرَحْمَةً : اور رحمت ہوتے ہوئے ] [مِّنَا : ہماری طرف سے ] [وَكَان : اور وہ ہے ] [اَمْرًا : ایک کام ] [مَّقْضِيًّا : فیصلہ کیا ہوا ]
Ayah 19:22[فَـحَمَلَتْهُ : پس انھوں نے اٹھایا اس (بچے) کو (پیٹ میں)] [فَانتَبَذَتْ : پھر وہ علیحدہ ہوئیں ] [بِهٖ : اس کے ساتھ ] [مَكَانا قَصِيًّا : ایک دور والی جگہ میں ]
نوٹ۔ 1: آیت۔ 22 ۔ میں دور والی جگہ سے مراد بیت لحم ہے۔ بی بی مریم کا اپنے اعتکاف سے نکل کر وہاں جانا اس بات کی بہت بڑی دلیل ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) باپ کے بغیر پیدا ہوئے تھے۔ اگر وہ شادی شدہ ہوتیں اور شوہر سے ہی ان کے ہاں بچہ پیدا ہو رہا ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ میکے اور سسرال، سب کو چھوڑ چھاڑ کر وہ زچگی کے لئے تن تنہا ایک دور دراز مقام پر چلی جاتیں۔ (تفہیم القرآن)
نوٹ۔ 2: قبل از اسلام یہ بھی عبادت میں داخل تھا کہ بولنے کا روزہ رکھے۔ صبح سے رات تک کسی سے کلام نہ کرے۔ اسلام نے اس کو منسوخ کر کے یہ لازم کردیا کہ صرف برے کلام، گالی گلوچ، جھوٹ، غیبت وغیرہ سے پرہیز کیا جائے۔ عام گفتگو ترک کرنا اسلام میں کوئی عبادت نہیں رہی اس لئے اس کی نذر ماننا بھی جائز نہیں۔ (معارف القرآن)
Ayah 19:23[فَاَجَاۗءَهَا : پھر لایا ان کو ] [الْمَخَاضُ : دردِ زِہ ] [اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِ : کھجور کے تنے کی طرف ] [قَالَتْ : انھوں نے کہا ] [يٰلَيْتَنِيْ : اے کاش میں ] [مِتُّ : مرجاتی ] [قَبْلَ ھٰذَا : اس سے پہلے ] [وَكُنْتُ : اور میں ہوتی ] [نَسْيًا مَنْسِيًّا : ایک بھولی بسری چیز ]
م خ ض
[مَخَاضًا : (س) ] حاملہ کا درد زِہ میں مبتلا ہونا۔
مَخَاصٌ اسم ذات بھی ہے۔ درد زِہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 23 ۔
ض ذ ع
[جَذْعًا : (ف) ] دو اونٹوں کو ایک رسی میں باندھنا۔
جِذْعٌ ج جُدُوْعٌ۔ درخت کا تنہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 23 اور وَلَاْوصَلِّبَنَّکُمْ فِیْ جُدُوْعِ النَّخْلِ (اور میں لازماً پھانسی دوں گا تم لوگوں کو کھجور نے تنوں میں) 20:71
Ayah 19:24[فَنَادٰىهَا : تو آواز دی ان کو ] [مِنْ تَحْتِهَآ : ان کے نیچے سے ] [اَلَّا تَحْزَنِيْ : کہ آپ غمگین مت ہوں ] [قَدْ جَعَلَ : بنادی ہے ] [رَبُّكِ : آپ کے رب نے ] [تَحْتَكِ : آپ کے نیچے ] [سَرِيًّا : ایک نہر ]
Ayah 19:25[وَهُزِّيْٓ: اور آپ بلائیں ] [اِلَيْكِ : اپنی طرف ] [بِجِذْعِ النَّخْلَةِ : کھجور کے تنے کو ] [تُسٰقِطْ : تو وہ گراتا رہے گا ] [عَلَيْكِ : آپ پر ] [رُطَبًا : پکے ہوئے ] [جَنِيًّا : چنے ہوئے پھل ]
ھ ز ز
[ھَوًّا : (ن) ] کسی چیز کو حرکت دینا۔ ہلانا۔
ھُزٌّ فعل امر ہے۔ زیر مطالعہ آیت۔ 25 ۔
(افتعال) اِھْتِزَازًا کسی چیز کا حرکت میں آنا۔ ہلنا۔ لہلہانا۔ فَلَمَّا رَاٰھَا تَھْتَزُّ کَاَنَّھَا جَانٌّ (پھر جب انھوں (علیہ السلام) نے دیکھا اس کو یعنی لاٹھی کو کہ وہ ہلتی ہے جیسے کہ وہ کوئی سانپ ہے) 27:10 ۔ مَاِذَا اَنْزَلْنَا عَلَیْھَا الْمَائَ اھْتَزَّتْ (پھر جب ہم نے اتارا اس پر یعنی زمین پر پانی تو وہ لہلہا اٹھی) 22:5
ج ن ی
[جَنْیًا : (ض) ] درخت سے پھل چننا۔
جَنِیٌّ ابھی کا چنا ہوا پھل۔ تازہ پھل۔ چنا ہوا پھل۔ زیر مطالعہ آیت۔ 25
Ayah 19:26[فَكُلِيْ : پس آپ کھائیں ] [وَاشْرَبِيْ : اور پئیں ] [وَقَرِّيْ : اور ٹھنڈی رکھیں ] [عَيْنًا : آنکھ ] [فَاِمَا : پھر اگر ] [تَرَيِنَّ : آپ دیکھیں ] [مِنَ الْبَشَرِ : بشر میں سے ] [اَحَدًا : کسی ایک کو ] [فَقُوْلِيْٓ: تو آپ کہیں ] [انى: کہ میں نے ] [نَذَرْتُ : منت مانی ہے ] [لِلرَّحْمٰنِ : رحمن کے لئے ] [صَوْمًا : روزہ رکھنے کی ] [فَلَنْ اُكَلِمَ : تو میں ہرگز کلام نہیں کروں گی ] [الْيَوْمَ : آج کے دن ] [انسِـيًّا : کسی انسان سے ]
Ayah 19:27[فَاَتَتْ بِهٖ : پھر وہ لائیں اس (بچے) کو ] [قَوْمَهَا : اپنی قوم کے پاس ] [تَحْمِلُهٗ : اٹھاتے ہوئے اس کو ] [قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [يٰمَرْيَمُ : اے مریم ] [لَقَدْ جِئْتِ : بیشک آپ نے کیا ہے ] [شَـيْـــــًٔـا فَرِيًّا : ایک حیران کن چیز (یعنی کام)]
Ayah 19:28[يٰٓاُخْتَ هٰرُوْنَ : اے ہارون (علیہ السلام) کی بہن ] [مَا كَان : نہیں تھے ] [اَبُوْكِ : آپ کے والد ] [امْرَاَ سَوْءٍ : کسی برائی کے آدمی ] [وَّمَا كَانتْ : اور نہیں تھیں ] [اُمُّكِ : آپ کی والدہ ] [بَغِيًّا : کوئی زیادتی والی ]
Ayah 19:29[فَاَشَارَتْ : تو انھوں نے اشارہ کیا ] [اِلَيْهِ : اس (بچے) کی طرف ] [قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [كَيْفَ : کیے ] [نُكَلِمُ : ہم کلام کریں ] [مَنْ : اس سے جو ] [كَان : ہے ] [فِي الْمَهْدِ : پلنگڑے میں ] [صَبِيًّا : بچہ ہوتے ہوئے ]
Ayah 19:30[قَالَ : اس (بچے) نے کہا ] [انى: کہ میں ] [عَبْدُ اللّٰهِ : اللہ کا بندہ ہوں ] [اٰتٰىنِيَ : اس نے دی مجھ کو ] [الْكِتٰبَ : کتاب ] [وَجَعَلَنِيْ : اور اس نے بلایا مجھ کو ] [نَبِيًّا : ایک نبی ]
Ayah 19:31[وَّجَعَلَنِيْ : اور اس نے بنایا مجھ کو ] [مُبٰرَكًا : برکت دیا ہوا ] [اَيْنَ مَا : جہاں کہیں بھی ] [كُنْتُ : میں ہوں ] [وَاَوْصٰىنِيْ : اور اس نے تاکید کی مجھ کو ] [بِالصَّلٰوةِ : نماز کی ] [وَالزَّكٰوةِ : اور زکٰوۃ کی ] [مَا دُمْتُ : جب تک میں رہوں ] [حَيًّا : زندہ ]
Ayah 19:32[وَځ ا : اور (بتایا مجھ کو) فرمانبردار ] [بِوَالِدَتِيْ : میری والدہ کا ] [وَلَمْ يَجْعَلْنِيْ : اور اس نے نہیں بنایا مجھ کو ] [جبارًا : جبر کرنے والا ] [شَقِيًّا : نامراد ]
نوٹ۔ 1: آیت۔ 32 ۔ میں یہ نہیں ہے کہ اس نے مجھے اپنے والدین کا فرمانبردار بنایا ہے جیس ا کہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے ذکر میں آیت۔ 14 ۔ میں والدین کا لفظ آیا ہے۔ کیونکہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے والد اور والدہ، دونوں تھے۔ لیکن یہاں اللہ تعالیٰ نے صرف والدہ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ یہ اس بات کا بہت بڑا ثبوت ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے والد نہیں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان (علیہ السلام) کو قرآن مجید میں ہر جگہ عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم کہا گیا ہے۔
Ayah 19:33[وَالسَّلٰمُ : اور سلام ہے ] [عَلَيَّ : مجھ پر ] [يَوْمَ : جس دن ] [وُلِدْتُّ : میں پیدا کیا گیا ] [وَيَوْمَ : اور جس دن ] [اَمُوْتُ : میں مروں گا ] [وَيَوْمَ : اور جس دن ] [اُبْعَثُ : میں اٹھایا جائوں گا ] [حَيًّا : زندہ ہوتے ہوئے ]
Ayah 19:34[ذٰلِكَ : یہ ] [عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ : عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم ہیں ] [قَوْلَ الْحَــقِّ الَّذِي : (میں کہتا ہوں) ان (علیہ السلام) کی سچی بات ] [فِيْهِ : جن (کے بارے) میں ] [يَمْتَرُوْنَ : یہ لوگ جھگڑتے ہیں ]
Ayah 19:35[مَا كَان : نہیں ہے ] [للّٰهِ : اللہ کے لئے ] [ان : کہ ] [يَّــتَّخِذَ : وہ بنائے ] [مِنْ وَّلَدٍ : کوئی بھی اولاد ] [سُبْحٰــنَهٗ : پاکیزگی اس کو ہے ] [اِذَا : جب بھی ] [قَضٰٓى: وہ فیصلہ کرتا ہے ] [اَمْرًا : کسی کام کا ] [فَانمَا : تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [يَقُوْلُ : وہ کہتا ہے ] [لَهٗ : اس کو (کہ)] [كُنْ : تو ہوجا ] [فَيَكُوْنُ : تو وہ ہوجاتا ہے ]
Ayah 19:36[وَان : اور بیشک ] [اللّٰهَ : اللہ ] [رَبِيْ : میرا رب ہے ] [وَرَبُّكُمْ : اور تم لوگوں کا رب ہے ] [فَاعْبُدُوْهُ : پس تم لوگ بندگی کرو اس کی ] [ھٰذَا : یہ ] [صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ: ایک سیدھا راستہ ہے ]
Ayah 19:37[فَاخْتَلَفَ : پھر اختلاف کیا ] [الْاَحْزَابُ : گروہوں نے ] [مِنْۢ بَيْنِهِمْ : ان لوگوں میں سے ] [فَوَيْلٌ: پس تباہی ہے ] [لِـلَّذِيْنَ : ان کے لئے جنھوں نے ] [كَفَرُوْا : انکار کیا ] [مِنْ مَّشْهَدِ يَوْمٍ عَظِيْمٍ : ایک عظیم دن کے دیکھنے کے وقت سے ]
Ayah 19:38[اَسْمِعْ بِهِمْ : کیا خوب سننے والے ہوں گے ] [وَاَبْصِرْ : اور دیکھنے والے ہوں گے ] [يَوْمَ : جس دن ] [يَاْتُوْنَنَا : یہ لوگ آئیں گے ہمارے پاس ] [لٰكِنِ : لیکن ] [الظّٰلِمُوْنَ : یہ ظالم لوگ ] [الْيَوْمَ : آج کے دن ] [فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ : ایک کھلی گمراہی میں ہیں ]
Ayah 19:39[وَانذِرْهُمْ : اور آپ ﷺ خبردار کردیں ان کو ] [يَوْمَ الْحَسْرَةِ : حسرتوں کے دن سے ] [اِذْ : جب ] [قُضِيَ : فیصلہ کردیا جائے گا ] [الْاَمْرُ : تمام معاملات کا ] [وَهُمْ : اور (ابھی) یہ لوگ ] [فِيْ غَفْلَةٍ : غفلت میں ہیں ] [وَّهُمْ : اور یہ لوگ ] [لَا يُؤْمِنُوْنَ : ایمان نہیں لائیں گے ]
نوٹ۔ 1: تمام معاملات کا فیصلہ ہوجانے کے بعد والے دن کو حسرتوں کا دن اس لئے کہا گیا کہ اہل جہنم کو حسرت ہوگی کہ اگر وہ مومن صالح ہوتے تو ان کو جنت ملتی۔ جبکہ اہل جنت کو بھی ایک خاص قسم کی حسرت ہوگی۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ اہل جنت کو کسی چیز پر حسرت نہ ہوگی۔ بجز ان لمحاتِ وقت کے جو بغیر ذکر اللہ کے گزر گئے۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ ہر مرنے والے کو حسرت و ندامت سے سابقہ پڑے گا۔ صحابۂ کرام ؓ نے سوال کیا کہ یہ ندامت و حسرت کس بناء پر ہوگی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ نیک اعمال کرنے والوں کو اس پر حسرت ہوگی کہ اور زیادہ نیک اعمال کیوں نہ کر لئے کہ اور زیادہ درجات جنت ملتے اور بدکار کو اس پر حسرت ہوگی کہ وہ اپنی بدکاری سے باز کیوں نہ آگیا۔ (معارف القرآن)
Ayah 19:40[انا : بیشک ] [نَحْنُ : ہم ہی [نَرِثُ : وارث ہوں گے ] [الْاَرْضَ : اس زمین کے ] [وَمَنْ : اور ان کے جو ] [عَلَيْهَا : اس پر ہیں ] [وَاِلَيْنَا : اور ہماری طرف ہی ] [يُرْجَعُوْنَ : لوٹائے جائیں گے ]