19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 19:41

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ۬ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا Open ayah 19:41 in the Quran reader

اور اس کتاب میں ابراہیمؑ کا قصہ بیان کرو، بے شک وہ ایک راست باز انسان اور ایک نبی تھا

[وَاذْكُرْ : اور یاد کرو ] [فِي الْكِتٰبِ : اس کتاب میں ] [اِبْرٰهِيْمَ : ابراہیم (علیہ السلام) کو ] [انهٗ : بیشک وہ ] [كَان : تھے ] [صِدِّيْقًا : ایک انتہائی سچے ] [نَّبِيًّا : (اور) ایک نبی ]
Ayah 19:42

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَ لَا یُبْصِرُ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْكَ شَیْئًا Open ayah 19:42 in the Quran reader

(انہیں ذرا اُس موقع کی یاد دلاؤ) جبکہ اُس نے اپنے باپ سے کہا کہ "ابّا جان، آپ کیوں اُن چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ سنتی ہیں نہ دیکھتی ہیں اور نہ آپ کا کوئی کام بنا سکتی ہیں؟

[اِذْ : جب ] [قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [لِاَبِيْهِ : اپنے والد سے ] [يٰٓاَبَتِ : اے میرے والد ] [لِمَ تَعْبُدُ : آپ کیوں بندگی کرتے ہیں ] [مَا : اس کی جو ] [لَا يَسْمَعُ : نہیں سنتا ] [وَلَا يُبْصِرُ : اور نہیں دیکھتا ] [وَلَا يُغْنِيْ : اور کام نہیں آتا ] [عَنْكَ : آپ کے ] [شَـيْــــــًٔــا : کچھ بھی ]
Ayah 19:43

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ قَدْ جَآءَنِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ یَاْتِكَ فَاتَّبِعْنِیْۤ اَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِیًّا Open ayah 19:43 in the Quran reader

ابّا جان، میرے پاس ایک ایسا عِلم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا، آپ میرے پیچھے چلیں، میں آپ کو سیدھا راستہ بتاؤں گا

[يٰٓاَبَتِ : اے میرے والد ] [انى: بیشک ] [قَدْ جَاۗءَنِيْ : آچکا ہے میرے پاس ] [مِنَ الْعِلْمِ : علم میں سے ] [مَا : وہ جو ] [لَمْ يَاْتِكَ : نہیں پہنچا آپ تک ] [فَاتَّبِعْنِيْٓ: پس آپ پیروی کریں میری ] [اَهْدِكَ : تو میں ہدایت دوں گا ] [صِرَاطًا سَوِيًّا : آپ کو ایک ہموار راستے کی ]
Ayah 19:44

یٰۤاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّیْطٰنَ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِیًّا Open ayah 19:44 in the Quran reader

ابّا جان! آپ شیطان کی بندگی نہ کریں، شیطان تو رحمٰن کا نافرمان ہے

[يٰٓاَبَتِ : اے میرے والد ] [لَا تَعْبُدِ : آپ بندگی مت کریں ] [الشَّيْطٰنَ : شیطان کی ] [ان : بیشک ] [الشَّيْطٰنَ : شیطان ] [كَان : ہے ] [لِلرَّحْمٰنِ : رحمان کا ] [عَصِيًّا : نافرمان ]
Ayah 19:45

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَكُوْنَ لِلشَّیْطٰنِ وَلِیًّا Open ayah 19:45 in the Quran reader

ابّا جان، مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ رحمان کے عذاب میں مُبتلا نہ ہو جائیں اور شیطان کے ساتھی بن کر رہیں"

[يٰٓاَبَتِ : اے میرے والد ] [انىٓ: بیشک ] [اَخَافُ : میں ڈرتا ہوں ] [ان : کہ ] [يَّمَسَّكَ : چھولے آپ کو ] [عَذَابٌ: کوئی عذاب ] [مِّنَ الرَّحْمٰنِ : رحمن (کی طرف) سے ] [فَتَكُوْنَ : نتیجۃً آپ ہوجائیں ] [لِلشَّيْطٰنِ : شیطان کے ] [وَلِيًّا : ایک کارندے ]
Ayah 19:46

قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِهَتِیْ یٰۤاِبْرٰهِیْمُ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَنَّكَ وَ اهْجُرْنِیْ مَلِیًّا Open ayah 19:46 in the Quran reader

باپ نے کہا "ابراہیمؑ، کیا تو میرے معبُودوں سے پھر گیا ہے؟ اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا بس تو ہمیشہ کے لیے مجھ سے الگ ہو جا"

[قَالَ : (والد نے) کہا ] [اَ : کیا ] [ رَاغِبٌ: روگردانی کرنے والا ہے ] [انتَ : تو ] [عَنْ اٰلِــهَـتِيْ : میرے معبودوں سے ] [يٰٓاِبْرٰهِيْمُ : اے ابراہیم (علیہ السلام) ] [لَىِٕنْ : بیشک اگر ] [لَمْ تَنْتَهِ : تو باز نہ آیا ] [لَاَرْجُمَـــنَّكَ : تو میں لازماً سنگسار کروں گا تجھ کو ] [وَاهْجُرْنِيْ : اور تو چھوڑ دے مجھ کو ] [مَلِيًّا : ہمیشہ کے لئے ]
Ayah 19:47

قَالَ سَلٰمٌ عَلَیْكَ١ۚ سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِیْ حَفِیًّا Open ayah 19:47 in the Quran reader

ابراہیمؑ نے کہا "سلام ہے آپ کو میں اپنے رب سے دُعا کروں گا کہ آپ کو معاف کر دے، میرا رب مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے

[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [سَلٰمٌ: سلامتی ہو ] [عَلَيْكَ : آپ پر ] [سَاَسْتَغْفِرُ : میں مغفرت مانگوں گا ] [لَكَ : آپ کے لئے ] [رَبِيْ : اپنے رب سے ] [انهٗ : بیشک وہ ] [كَان : ہے ] [بِيْ : مجھ پر ] [حَفِيًّا : شفقت کرنے والا ]
Ayah 19:48

وَ اَعْتَزِلُكُمْ وَ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ اَدْعُوْا رَبِّیْ١ۖ٘ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوْنَ بِدُعَآءِ رَبِّیْ شَقِیًّا Open ayah 19:48 in the Quran reader

میں آپ لوگوں کو بھی چھوڑتا ہوں اور اُن ہستیوں کو بھی جنہیں آپ لوگ خدا کو چھوڑ کر پکارا کرتے ہیں میں تو اپنے رب ہی کو پکاروں گا، امید ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کے نامراد نہ رہوں گا"

[وَاَعْتَزِلُكُمْ : اور میں کنارہ کش ہوتا ہوں آپ سب سے ] [وَمَا : اور اس سے جس کو ] [تَدْعُوْنَ : آپ لوگ پکارتے ہیں ] [مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ : اللہ کے سوا ] [وَاَدْعُوْا : اور میں پکارتا ہوں ] [رَبِيْ : اپنے رب کو ] [عَسٰٓى: امید ہے ] [اَلَّآ اَكُوْنَ : کہ میں نہیں ہوں گا ] [بِدُعَاۗءِ رَبِيْ : اپنے رب کو پکارنے سے ] [شَقِيًّا : نامراد ]
Ayah 19:49

فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۙ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا Open ayah 19:49 in the Quran reader

پس جب وہ اُن لوگوں سے اور اُن کے معبُودانِ غیر اللہ سے جُدا ہو گیا تو ہم نے اُس کو اسحاقؑ اور یعقوبؑ جیسی اولاد دی اور ہر ایک کو نبی بنایا

[فَلَمَا : پھر جب ] [اعْتَزَلَهُمْ : وہ (علیہ السلام) کنارہ کش ہوئے ان سے ] [وَمَا : اور اس سے جس کی ] [يَعْبُدُوْنَ : وہ لوگ بندگی کرتے تھے ] [مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ : اللہ کے علاوہ ] [وَهَبْنَا : تو ہم نے عطا کیا ] [لَهٗٓ: ان (علیہ السلام) کو ] [اِسْحٰقَ : اسحاق (علیہ السلام) ] [وَيَعْقُوْبَ : اور یعقوب (علیہ السلام) ] [وَكُلًّا : اور ہر ایک کو ] [جَعَلْنَا : ہم نے بنایا ] [نَبِيًّا : نبی ]
Ayah 19:50

وَ وَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا۠ Open ayah 19:50 in the Quran reader

اور ان کو اپنی رحمت سے نوازا اور ان کو سچی ناموری عطا کی

[وَوَهَبْنَا : اور ہم نے عطا کیا ] [لَهُمْ : ان (علیہ السلام) کے لئے ] [مِّنْ رَّحْمَتِنَا : اپنی رحمت میں سے ] [وَجَعَلْنَا : اور ہم نے بنایا ] [لَهُمْ : ان (علیہ السلام) کے لئے ] [لِسَان صِدْقٍ : سچائی کی بات ] [عَلِيًّا : بلند ہونے والی ہوتے ہوئے ]
Ayah 19:51

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مُوْسٰۤى١٘ اِنَّهٗ كَانَ مُخْلَصًا وَّ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا Open ayah 19:51 in the Quran reader

اور ذکر کرو اس کتاب میں موسیٰؑ کا وہ ایک چیدہ شخص تھا اور رسول نبی تھا

وَاذْكُرْ : اور یاد کرو ] [فِي الْكِتٰبِ : اس کتاب میں ] [مُوْسٰٓى: موسٰی (علیہ السلام) کو ] [انهٗ : بیشک وہ ] [كَان : تھے ] [مُخْلَصًا : چنے ہوئے ] [وَّكَان : اور وہ تھے ] [رَسُوْلًا : رسول ] [نَّبِيًّا : نبی ] نوٹ۔ 1: قرآن مجید میں رسول اور نبی، دونوں الفاظ ہم معنی استعمال ہوتے ہیں۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ہی شخصیت کو کہیں صرف رسول کہا گیا ہے اور کہیں صرف نبی اور کہیں رسول اور نبی ایک ساتھ۔ لیکن بعض مقامات پر رسول اور نبی کے الفاظ اس طرح بھی استعمال ہوئے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان دونوں میں مرتبے یا کام کی نوعیت کے لحاظ سے کوئی اصطلاحی فرق ہے۔ مثلاً سورة حج کی آیت۔ 52 ۔ میں فرمایا ” ہم نے تم سے پہلے نہیں بھیجا کوئی رسول اور نہ کوئی نبی مگر……“۔ یہ الفاظ صاف ظاہر کرتے ہیں کہ رسول اور نبی کے درمیان کوئی معنوی فرق ضرور ہے۔ اہل تفسیر نے اس پر بحث کی ہے لیکن قطعی دلائل کے ساتھ کوئی بھی رسول اور نبی کی الگ الگ حیثیتوں کا تعین نہیں کرسکا۔ البتہ یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ رسول کا لفظ نبی کی نسبت خاص ہے۔ یعنی ہر رسول نبی بھی ہوتا ہے لیکن ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔ اس کی تائید ایک حدی سے بھی ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے رسولوں کی تعداد پوچھی گئی تو آپ ﷺ نے 313 یا 315 بتائی۔ اور انبیاء کی تعداد پوچھی گئی تو آپ ﷺ نے ایک لاکھ چوبیس ہزار بتائی (تفہیم القرآن)
Ayah 19:52

وَ نَادَیْنٰهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَیْمَنِ وَ قَرَّبْنٰهُ نَجِیًّا Open ayah 19:52 in the Quran reader

ہم نے اُس کو طُور کے داہنی جانب سے پکارا اور راز کی گفتگو سے اس کو تقرب عطا کیا

[وَنَادَيْنٰهُ : اور ہم نے پکارا ان (علیہ السلام) کو ] [مِنْ جانب الطُّوْرِ الْاَيْمَنِ : طور کی داہنی جانب سے ] [وَقَرَّبْنٰهُ : اور ہم نے قربت دی ان (علیہ السلام) کو ] [نَجِيًّا : سرگوشی والا ہوتے ہوئے ]
Ayah 19:53

وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِیًّا Open ayah 19:53 in the Quran reader

اور اپنی مہربانی سے اس کے بھائی ہارونؑ کو نبی بنا کر اُسے (مدد گار کے طور پر) دیا

[وَوَهَبْنَا : اور ہم نے عطا کیا ] [لَهٗ : ان (علیہ السلام) کے لئے ] [مِنْ رَّحْمَتِنَآ : اپنی رحمت سے ] [اَخَاهُ : ان (علیہ السلام) کے بھائی ] [هٰرُوْنَ : ہارون کو ] [نَبِيًّا : نبی ہوتے ہوئے ]
Ayah 19:54

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّاۚ Open ayah 19:54 in the Quran reader

اور اس کتاب میں اسماعیلؑ کا ذکر کرو وہ وعدے کا سچا تھا اور رسُول نبی تھا

[وَاذْكُرْ : اور یاد کرو ] [فِي الْكِتٰبِ : اس کتاب میں ] [اِسْمٰعِيْلَ : اسماعیل (علیہ السلام) کو ] [انهٗ : بیشک وہ ] [كَان : تھے ] [صَادِقَ الْوَعْدِ : وعدے کے سچے ] [وَكَان : اور وہ تھے ] [رَسُوْلًا : رسول ] [نَّبِيًّا : نبی ]
Ayah 19:55

وَ كَانَ یَاْمُرُ اَهْلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ١۪ وَ كَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ مَرْضِیًّا Open ayah 19:55 in the Quran reader

وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتا تھا اور اپنے رب کے نزدیک ایک پسندیدہ انسان تھا

[وَكَان يَاْمُرُ : اور حکم کرتے تھے ] [اَهْلَهٗ : اپنے گھر والوں کو ] [بِالصَّلٰوةِ : نماز کا ] [وَالزَّكٰوةِ : اور زکٰوۃ کا ] [وَكَان : اور وہ تھے ] [عِنْدَ رَبِهٖ : اپنے رب کے پاس ] [مَرْضِيًّا : پسند کئے ہوئے ]
Ayah 19:56

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِدْرِیْسَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّاۗۙ Open ayah 19:56 in the Quran reader

اور اس کتاب میں ادریسؑ کا ذکر کرو وہ ایک راستباز انسان اور ایک نبی تھا

[وَاذْكُرْ : اور یاد کرو ] [فِي الْكِتٰبِ : اس کتاب میں ] [اِدْرِيْسَ : ادریس (علیہ السلام) کو ] [انهٗ : بیشک وہ ] [كَان : تھے ] [صِدِّيْقًا نَّبِيًّا : سچے نبی ] نوٹ۔ 2: حضرت ادریس (علیہ السلام) کے متعلق اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک وہ بنی اسرائیل سے بھی پہلے گزرے ہیں۔ کوئی حدیث ایسی نہیں ملی جس سے ان کی شخصیت کے تعین میں کوئی مدد ملتی ہو۔ البتہ قرآن کا ایک اشارہ اس خیال کی تائید کرتا ہے کہ وہ نوح (علیہ السلام) سے پہلے ہیں۔ کیونکہ بعد والی آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ یہ انبیاء جن کا ذکر گزرا ہے، آدم (علیہ السلام) کی اولاد، نوح (علیہ السلام) کی اولاد، ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد اور اسرائیل (علیہ السلام) کی اولاد سے ہیں۔ اب یہ ظاہر ہے کہ حضرت یحییٰ ، عیسیٰ اور موسٰی علیھم السلام تو بنی اسرائیل میں سے ہیں، حضرت اسمٰعیل، اسحاق اور یعقوب علیھم السلام اولاد ابراہیم (علیہ السلام) سے ہیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اولاد نوح (علیہ السلام) سے ہیں۔ ان کے بعد صرف حضرت ادریس (علیہ السلام) ہی رہ جاتے ہیں جن کے متعلق یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ وہ اولاد آدم (علیہ السلام) سے ہیں۔ اور وَرَفَعْنٰہُ مَکَانًا عَلِیًّا کا سیدھا سادھا مطلب تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ح (علیہ السلام) ضرت ادریس (علیہ السلام) کو بلند مرتبہ عطا کیا تھا۔ لیکن اسرائیلی روایات سے منتقل ہو کر یہ بات ہمارے ہاں بھی مشہور ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ادریس (علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھا لیا۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 19:57

وَّ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِیًّا Open ayah 19:57 in the Quran reader

اور اسے ہم نے بلند مقام پر اٹھایا تھا

[وَّرَفَعْنٰهُ : اور ہم نے بلند کیا ان (علیہ السلام) کو ] [مَكَانا عَلِيًّا : ایک بالا تر مقام پر ]
Ayah 19:58

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ مِنْ ذُرِّیَّةِ اٰدَمَ١ۗ وَ مِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١٘ وَّ مِنْ ذُرِّیَّةِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْرَآءِیْلَ١٘ وَ مِمَّنْ هَدَیْنَا وَ اجْتَبَیْنَا١ؕ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُكِیًّا۩ Open ayah 19:58 in the Quran reader

یہ وہ پیغمبر ہیں جن پر اللہ نے انعام فرمایا آدمؑ کی اولاد میں سے، اور اُن لوگوں کی نسل سے جنہیں ہم نے نوحؑ کے ساتھ کشتی پر سوار کیا تھا، ا ور ابراہیمؑ کی نسل سے اور اسرائیلؑ کی نسل سے اور یہ ان لوگوں میں سے تھے جن کو ہم نے ہدایت بخشی اور برگزیدہ کیا ان کا حال یہ تھا کہ جب رحمان کی آیات ان کو سنائی جاتیں تو روتے ہوئے سجدے میں گر جاتے تھے

[اُولٰۗىِٕكَ الَّذِينَ : یہ وہ لوگ ہیں ] [انعَمَ : انعام کیا ] [اللّٰهُ : اللہ نے ] [عَلَيْهِمْ : جن پر ] [مِّنَ النَّبِيّٖنَ : نبیوں میں سے ] [مِنْ ذُرِّيَّةِ اٰدَمَ : آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ] ۤ[ وَمِمَنْ : اور ان میں سے جن کو ] [حَمَلْنَا : ہم نے سوار کیا ] [مَعَ نُوْحٍ : نوح (علیہ السلام) کے ساتھ ] [وَّمِنْ ذُرِّيَّةِ اِبْرٰهِيْمَ وَاِسْرَاۗءِيْلَ : اور ابراہیم (علیہ السلام) اور اسرائیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ] [وَمِمَنْ : اور ان میں سے جن کو ] [هَدَيْنَا : ہم نے ہدایت دی ] [وَاجْتَبَيْنَا : اور ہم نے منتخب کیا ] [اِذَا : جب ] [تُتْلٰى عَلَيْهِمْ : پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ان کو ] [اٰيٰتُ الرَّحْمٰنِ : رحمن کی آیتیں ] [خَرُّوْا : تو وہ گرپڑتے ہیں ] [سُجَّدًا : سجدہ کرنے والے ہوتے ہوئے ] [وَّبُكِيًّا : اور روتے ہوئے ]
Ayah 19:59

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ Open ayah 19:59 in the Quran reader

پھر ان کے بعد وہ ناخلف لوگ ان کے جانشین ہوئے جنہوں نے نماز کو ضائع کیا اور خواہشاتِ نفس کی پیروی کی، پس قریب ہے کہ وہ گمراہی کے انجام سے دوچار ہوں

[فَخَــلَفَ : پھر جانشین ہوئے ] [مِنْۢ بَعْدِهِمْ : ان کے بعد ] [خَلْفٌ: کچھ ایسے جانشین جنھوں نے ] [اَضَاعُوا : ضائع کیا ] [الصَّلٰوةَ : نماز کو ] [وَاتَّـبَعُوا : اور انھوں نے پیروی کی ] [الشَّهَوٰتِ : خواہشات کی ] [فَسَوْفَ : تو عنقریب ] [يَلْقَوْنَ : وہ لوگ ملیں گے ] [غَيًّا : گمراہی سے ] نوٹ۔ 1: نماز کو ضائع کرنے سے مراد جمہور مفسرین کے نزدیک نماز کو اس کے وقت سے تاخیر کر کے پڑھنا ہے۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ نماز کے آداب و شرائط میں سے کسی میں کوتاہی کرنا، جس میں وقت بھی شامل ہے، نماز کو ضائع کرنا ہے۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اضاعتِ صلٰوۃ سے مراد ہے جماعت کے گھر میں نماز پڑھ لینا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو نماز میں اقامت نہ کرے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جو رکوع اور سجدے میں جلدی کرے اور رکوع سے سیدھا کھڑا ہونے کا اور دو سجدوں کے درمیان سیدھا بیٹھنے کا اہتمام نہ کرے اس کی نماز نہیں ہوتی یعنی ضائع ہوجاتی ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 19:60

اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ شَیْئًاۙ Open ayah 19:60 in the Quran reader

البتہ جو توبہ کر لیں اور ایمان لے آئیں اور نیک عملی اختیار کر لیں وہ جنّت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرّہ برابر حق تلفی نہ ہو گی

[اِلَّا مَنْ : سوائے اس کے جس نے ] [تَابَ : توبہ کی ] [وَاٰمَنَ : اور ایمان لایا ] [وَعَمِلَ : اور عمل کیا ] [صَالِحًـا : نیک ] [فَاُولٰۗىِٕكَ : تو وہ لوگ ] [يَدْخُلُوْنَ : داخل ہوں گے ] [الْجَــنَّةَ : جنت میں ] [وَلَا يُظْلَمُوْنَ : اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا ] [شَـيْــــــًٔا : کچھ بھی ]
Ayah 19:61

جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ عِبَادَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ وَعْدُهٗ مَاْتِیًّا Open ayah 19:61 in the Quran reader

ان کے لیے ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کا رحمان نے اپنے بندوں سے در پردہ وعدہ کر رکھا ہے اور یقیناً یہ وعدہ پُورا ہو کر رہنا ہے

[جَنّٰتِ عَدْنِۨ : عدن کے باغات ] [الَّتِيْ : جن کا ] [وَعَدَ : وعدہ کیا ] [الرَّحْمٰنُ : رحمن نے ] [عِبَادَهٗ : اپنے بندوں سے ] [بِالْغَيْبِ : غیب میں ] [انهٗ : حقیقت یہ ہے کہ ] [كَان : ہے ] [وَعْدُهٗ : اس کا وعدہ ] [مَاتِيًّا : پورا کیا ہوا ]
Ayah 19:62

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا١ؕ وَ لَهُمْ رِزْقُهُمْ فِیْهَا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا Open ayah 19:62 in the Quran reader

وہاں وہ کوئی بے ہودہ بات نہ سُنیں گے، جو کچھ بھی سُنیں گے ٹھیک ہی سنیں گے اور ان کا رزق انہیں پیہم صبح و شام ملتا رہے گا

[لَا يَسْمَعُوْنَ : وہ نہیں سنیں گے ] [فِيْهَا : اس میں ] [لَغْوًا : کوئی بیہودہ بات ] [اِلَّا : مگر ] [سَلٰمًا : سلام ] [وَلَهُمْ : اور ان کے لئے ] [رِزْقُـهُمْ : ان کی روزی ہے ] [فِيْهَا : اس میں ] [بُكْرَةً : صبح کے وقت ] [وَّعَشِيًّا : اور شام کے وقت ]
Ayah 19:63

تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِیًّا Open ayah 19:63 in the Quran reader

یہ ہے وہ جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اُس کو بنائیں گے جو پرہیزگار رہا ہے

[تِلْكَ الْجَــــنَّةُ الَّتِيْ : یہ وہ جنت ہے جس کا ] [نُوْرِثُ : ہم وارث بنائیں گے ] [مِنْ عِبَادِنَا : اپنے بندوں میں سے ] [مَنْ : اس کو جو ] [كَان : تھا ] [تَقِيًّا : پرہیزگار ]
Ayah 19:64

وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ١ۚ لَهٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَ مَا خَلْفَنَا وَ مَا بَیْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ مَا كَانَ رَبُّكَ نَسِیًّاۚ Open ayah 19:64 in the Quran reader

اے محمدؐ، ہم تمہارے رب کے حکم کے بغیر نہیں اُترا کرتے جو کچھ ہمارے آگے ہے اور جو کچھ پیچھے ہے اور جو کچھ اس کے درمیان ہے ہر چیز کا مالک وہی ہے اور تمہارا رب بھولنے والا نہیں ہے

[وَمَا نَتَنَزَّلُ : اور ہم نہیں اترتے ] [اِلَّا : مگر ] [بِاَمْرِ رَبِكَ : آپ ﷺ کے رب کے حکم سے ] [لَهٗ : اس کا ہی ہے ] [مَا : وہ جو ] [بَيْنَ اَيْدِيْــنَا : ہمارے سامنے ہے ] [وَمَا : اور وہ جو ] [خَلْفَنَا : ہمارے پیچھے ہے ] [وَمَا : اور وہ جو ] [بَيْنَ ذٰلِكَ : اس کے درمیان ہے ] [وَمَا كَان : اور نہیں ہے ] [رَبُّكَ : آپ ﷺ کا رب ] [نَسِـيًّا : بھولنے والا ]
Ayah 19:65

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَ اصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ١ؕ هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِیًّا۠ Open ayah 19:65 in the Quran reader

وہ رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور اُن ساری چیزوں کا جو آسمان و زمین کے درمیان ہیں پس تم اُس کے بندگی کرو اور اُسی کی بندگی پر ثابت قدم رہو کیا ہے کوئی ہستی تمہارے علم میں اس کی ہم پایہ؟

[رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : زمین اور آسمانوں کا رب ہے ] [وَمَا : اور اس کا جو ] [بَيْنَهُمَا : ان دونوں کے درمیان ہے ] [فَاعْبُدْهُ : پس آپ ﷺ بندگی کریں اس کی ] [وَاصْطَبِرْ : اور آپ ﷺ ڈٹے رہیں ] [لِعِبَادَتِهٖ : اس کی بندگی کے لئے ] [هَلْ : کیا ] [تَعْلَمُ : آپ ﷺ جانتے ہیں ] [لَهٗ : اس کے ] [سَمِيًّا : کسی ہم نام کو ] نوٹ۔ 2: یہ عجیب اتفاق ہے کہ مشرکین اور بت پرستوں نے اگرچہ عبادت میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ بہت سے انسانوں، فرشتوں، پتھروں اور بتوں کو شریک کر ڈالا تھا اور ان سب کو الٰہ یعنی معبود کہتے تھے مگر کسی نے لفظ اللہ، کسی معبود باطل کا نام کبھی نہیں رکھا۔ یہ ایک تکوینی اور تقدیری امر تھا کہ دنیا میں اللہ کے نام سے کوئی بت اور کوئی باطل الٰہ کبھی موسوم نہیں ہوا۔ (معارف القرآن)
Ayah 19:66

وَ یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَیًّا Open ayah 19:66 in the Quran reader

انسان کہتا ہے کیا واقعی جب میں مر چکوں گا تو پھر زندہ کر کے نکال لایا جاؤں گا؟

[وَيَقُوْلُ : اور کہتا ہے ] [الْانسَان : انسان ] [ءَ : کیا ] [اِذَا مَا : جب کبھی ] [مِتُّ : میں مر جائوں گا ] [لَسَوْفَ : تو عنقریب (پھر)] [اُخْرَجُ : میں نکالا جائوں گا ] [حَيًّا : زندہ ہوتے ہوئے ]
Ayah 19:67

اَوَ لَا یَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ یَكُ شَیْئًا Open ayah 19:67 in the Quran reader

کیا انسان کو یاد نہیں آتا کہ ہم پہلے اس کو پیدا کر چکے ہیں جبکہ وہ کچھ بھی نہ تھا؟

[اَوَ : تو کیا ] [لَا يَذْكُرُ : یاد نہیں کرتا ] [الْانسَان : انسان ] [انا : کہ ] [خَلَقْنٰهُ : ہم نے پیدا کیا اس کو ] [مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے ] [وَ : اس حال میں کہ ] [لَمْ يَكُ : وہ نہیں تھا ] [شَـيْـــــًٔـا : کوئی چیز ]
Ayah 19:68

فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَ الشَّیٰطِیْنَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِیًّاۚ Open ayah 19:68 in the Quran reader

تیرے رب کی قسم، ہم ضرور ان سب کو اور ان کے ساتھ شیاطین کو بھی گھیر لائیں گے، پھر جہنم کے گرد لا کر انہیں گھٹنوں کے بل گرا دیں گے

[فَوَرَبِكَ : تو آپ ﷺ کے رب کی قسم ] [لَنَحْشُرَنَّهُمْ : ہم لازماً اکٹھا کریں گے ان کو ] [وَالشَّيٰطِيْنَ : اور شیطانوں کو ] [ثُمَّ : پھر ] [لَنُحْضِرَنَّهُمْ : ہم لازماً حاضر کریں گے ان کو ] [حَوْلَ جَهَنَّمَ : جہنم کے گرد ] [جِثِيًّا : گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ] ج ث و [جَثْوًا : (ن) ] ج جِثِیٌّ۔ گھٹنوں کے بل گرنے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 68 ۔
Ayah 19:69

ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِیْعَةٍ اَیُّهُمْ اَشَدُّ عَلَى الرَّحْمٰنِ عِتِیًّاۚ Open ayah 19:69 in the Quran reader

پھر ہر گروہ میں سے ہر اُس شخص کو چھانٹ لیں گے جو رحمان کے مقابلے میں زیادہ سرکش بنا ہُوا تھا

[ثُمَّ : پھر ] [لَنَنْزِعَنَّ : ہم لازماً کھینچ نکالیں گے ] [مِنْ كُلِ شِيْعَةٍ : ہر فرقے سے ] [اَيُّهُمْ : ان کا کون (یعنی جو)] [اَشَدُّ : زیادہ سخت ہے ] [عَلَي الرَّحْمٰنِ : رحمن پر ] [عِتِيًّا : بیباک ہونے کے لحاظ سے ]
Ayah 19:70

ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِیْنَ هُمْ اَوْلٰى بِهَا صِلِیًّا Open ayah 19:70 in the Quran reader

پھر یہ ہم جانتے ہیں کہ ان میں سے کون سب سے بڑھ کر جہنم میں جھونکے جانے کا مستحق ہے

[ثُمَّ : پھر ] [لَنَحْنُ : یقینا ہم بھی ] [اَعْلَمُ : زیادہ جاننے والے ہیں ] [بِالَّذِينَ : ان کو جو (کہ)] [هُمْ : وہ لوگ ہی ] [اَوْلٰى: زیادہ حقدار ہیں ] [بِهَا : اس (جہنم) کے ] [صِلِيًّا : بلحاظ تپش جھیلنے کے ]
Ayah 19:71

وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا١ۚ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِیًّاۚ Open ayah 19:71 in the Quran reader

تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو جہنم پر وارد نہ ہو، یہ تو ایک طے شدہ بات ہے جسے پُورا کرنا تیرے رب کا ذمہ ہے

[وَان : اور نہیں ہے ] [مِّنْكُمْ : تم میں سے (کوئی)] [اِلَّا : سوائے اس کے کہ ] [وَارِدُهَا : (وہ) پہنچنے والا ہے اس (جہنم) تک ] [كَان : یہ ہے ] [عَلٰي رَبِكَ : آپ ﷺ کے رب پر ] [حَتما مَّقْضِيًّا : فیصلہ کی ہوئی پکی بات ] ح ث م [حَثْمًا : (ض) ] مضبوط کرنا۔ واجب کرنا۔ حَثْمٌ قطعی۔ پکی بات۔ زیر مطالعہ آیت۔ 71 نوٹ۔ 1: آیت۔ 71 ۔ میں وارد ہونے کے معنی بعض روایات میں داخل ہونے کے بیان کئے گئے ہیں۔ مگر ان میں سے کسی کی بھی سند نبی ﷺ تک قابل اعتماد ذرائع سے نہیں پہنچی۔ اور پھر یہ بات قرآن مجید اور ان کثیر التعداد احادیث کے بھی خلاف ہے جن میں مومنین صالحین کے دوزخ میں جانے کی قطعی نفی کی گئی ہے۔ جن میں مومنین صالحین کے دوزخ میں جانے کی قطعی نفی کی گئی ہے۔ مزید برآں لغت میں بھی ورود کے معنی دخول کے نہیں ہیں۔ اس لئے اس آیت کا صحیح مطلب یہی ہے کہ جہنم پر سے گزر تو سب کا ہوگا مگر، جیسا کہ آگے والی آیت بتارہی ہے، پرہیزگار لوگ اس سے بچا لئے جائیں گے اور ظالم اس میں جھونک دیئے جائیں گے۔ (تفہیم القرآن) حضور ﷺ فرماتے ہیں اس دن بہت سے مرد عورت اس پر سے (یعنی پل صراط سے) پھسل پڑیں گے۔ اس کے دونوں کنارے فرشتوں کی صف بندی ہوگی جو اللہ تعالیٰ سے سلامتی کی دعائیں کر رہے ہوں گے۔ یہ تو اللہ کی ایک قسم ہے جو پوری ہو کر رہے گی۔ پل صراط جانے کے بعد پرہیزگار تو پار ہوجائیں گے۔ ہاں کافر و گنہگار اپنے اپنے اعمال کے مطابق جہنم میں گرتے جائیں گے۔ مومن بھی اپنے اپنے اعمال کے مطابق نجات پائیں گے۔ جیسے عمل ہوں گے اتنی دیر وہاں لگ جائے گی۔ پھر یہ نجات یافتہ اپنے دوسرے مسلمان بھائیوں کی سفارش کریں گے۔ ملائکہ شفاعت کریں گے اور انبیاء بھی ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ پل صراط سے سب کو گزرنا ہوگا یہی آگ کے پاس کھڑا ہونا ہے (یعنی آگ پر وارد ہونا ہے) (ابن کثیر (رح) ) نوٹ۔ 2: دوسرے مذاہب میں سے آتش پرستوں یعنی پارسی لوگوں کے ہاں بھی پل صراط کا تصور پایا جاتا ہے۔ ان کی نمازیں بھی پانچ ہیں اور ان کی نمازوں کے اوقات بھی ہم سے ملتے جلتے ہیں۔ کسی کے انتقال کے بعد وہ لوگ بھی چالیسواں کرتے ہیں۔ (شاید یہ بھی اس طرح کی خانہ ساز اور من گھڑت رسم ہے جیسے مسلمانوں کے ہاں ہے۔ کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ موجد کون اور نقال کون ہے) ایک پارسی دوکاندار سے اس کے مذہب کے متعلق کچھ باتیں پوچھیں تو اس نے کہا کہ ہم بس اتنا جانتے ہیں کہ ہم پارسی ہیں۔ ہمارے مذہب کے بارے میں ہمارے عالم سے پوچھو۔ آج مسلمانوں میں بھی اکثر کا یہ ہی حال ہے۔ ان کو بس اتنا پتہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔ اسلام میں کیا ہے کیا نہیں ہے۔ یہ مولوی سے پوچھو۔ دوسری بات یہ ہے کہ آخرت میں تو پل صراط سے ہی گزر رہیں ہیں، یہاں شریعت پر عمل کرنا پل صراط سے گزرنے کے برابر ہے۔ خاص طور سے ماں اور بیوی کے حقوق میں توازن برقرار رکھنے کا مسئلہ بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہے۔ (حافظ احمد یار صاحب مرحوم)
Ayah 19:72

ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ نَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْهَا جِثِیًّا Open ayah 19:72 in the Quran reader

پھر ہم اُن لوگوں کو بچا لیں گے جو (دنیا میں) متقی تھے اور ظالموں کو اُسی میں گرا ہُوا چھوڑ دیں گے

[ثُمَّ : پھر ] [نُـنَجِّي : ہم بچا لیں گے ] [الَّذِينَ : ان کو جنھوں نے ] [اتَّقَوْا : تقویٰ اختیار کیا ] [وَّنَذَرُ : اور ہم چھوڑ دیں گے ] [الظّٰلِمِيْنَ : ظالموں کو ] [فِيْهَا : اس میں ] [جِثِيًّا : گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ]
Ayah 19:73

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا١ۙ اَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ خَیْرٌ مَّقَامًا وَّ اَحْسَنُ نَدِیًّا Open ayah 19:73 in the Quran reader

اِن لوگوں کو جب ہماری کھُلی کھُلی آیات سنائی جاتی ہیں تو انکار کرنے والے ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں "بتاؤ ہم دونوں گروہوں میں سے کون بہتر حالت میں ہے اور کس کی مجلسیں زیادہ شاندار ہیں؟"

[وَاِذَا : اور جب ] [تُتْلٰى عَلَيْهِمْ : پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ان کو ] [اٰيٰتُنَا : ہماری آیتیں ] [بَيِّنٰتٍ : واضح ہوتے ہوئے ] [قَالَ : تو کہتے ہیں ] [الَّذِينَ : وہ لوگ جنھوں نے ] [كَفَرُوْا : انکار کیا ] [لِلَّذِيْنَ : وہ لوگ جنہوں نے ] [اٰمَنُوْٓا : ایمان لائے ] [اَيُّ الْفَرِيْقَيْنِ : دونوں فرقوں کا کون ] [خَيْرٌ: بہتر ہے ] [مَّقَامًا : بلحاظ مقام و مرتبہ کے ] [وَّاَحْسَنُ : اور زیادہ اچھا ہے ] [نَدِيًّا : بلحاظ مجلس کے ]
Ayah 19:74

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّ رِءْیًا Open ayah 19:74 in the Quran reader

حالانکہ ان سے پہلے ہم کتنی ہی ایسی قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں جو اِن سے زیادہ سر و سامان رکھتی تھیں اور ظاہری شان و شوکت میں اِن سے بڑھی ہوئی تھیں

[وَكَمْ اَهْلَكْنَا : اور کتنی ہی ہم نے ہلاک کیں ] [قَبْلَهُمْ : ان سے پہلے ] [مِّنْ قَرْنٍ : قومیں ] [هُمْ : وہ لوگ ] [اَحْسَنُ : زیادہ اچھے تھے ] [اَثَاثًا : بلحاظ سازو سامان کے ] [وَّرِءْيًا : اور بلحاظ ظاہری دکھاوے (Appearance) کے ]
Ayah 19:75

قُلْ مَنْ كَانَ فِی الضَّلٰلَةِ فَلْیَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا١ۚ۬ حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ اِمَّا الْعَذَابَ وَ اِمَّا السَّاعَةَ١ؕ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضْعَفُ جُنْدًا Open ayah 19:75 in the Quran reader

اِن سے کہو، جو شخص گمراہی میں مُبتلا ہوتا ہے اُسے رحمان ڈھیل دیا کرتا ہے یہاں تک کہ جب ایسے لوگ وہ چیز دیکھ لیتے ہیں جس کا اُن سے وعدہ کیا گیا ہے خواہ وہ عذاب الٰہی ہو یا قیامت کی گھڑی تب انہیں معلوم ہو جاتا ہے کہ کس کا حال خراب ہے اور کس کا جتھا کمزور!

[قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [مَنْ : وہ جو ] [كَان : ہے ] [فِي الضَّلٰلَةِ : گمراہی میں ] [فَلْيَمْدُدْ : تو چاہیے کہ مہلت دے ] [لَهُ : اس کو ] [الرَّحْمٰنُ : رحمن ] [مَدًّا : جیسے مہلت دیتے ہیں ] [حَتّٰٓی : یہاں تک کہ ] [اِذَا : جب ] [رَاَوْا : وہ لوگ دیکھیں ] [مَا : اس کو جو ] [يُوْعَدُوْنَ : ان سے وعدہ کیا جاتا ہے ] [اِمَا : خواہ ] [الْعَذَابَ : عذاب کو ] [وَاِمَا السَّاعَةَ : اور یا قیامت کو ] [فَسَيَعْلَمُوْنَ : پھر وہ لوگ جان لیں گے ] [مَنْ : کون ہے (کہ)] [هُوَ : وہ ہی ] [شَرٌّ: برا ہے ] [مَّكَانا : بلحاظ جگہ کے ] [وَّاَضْعَفُ : اور زیادہ کمزور ہے ] [جُنْدًا : بلحاظ لائو لشکر کے ] ترکیب : (آیت۔ 75) فَلْیَمْدُدْ فعل امر غائب ہے اور اس کا فاعل اَلرَّحْمٰنُ ہے اس لئے حالت رفع میں ہے۔ رَاَوْا کا مفعول مَا ہے اور مَحَلًّا حالت نصب میں ہے۔ اس کا بدل ہونے کی وجہ سے اَلْعَذَابَ اور اَلسَّاعَۃَ حالت نصب میں آئے ہیں۔ یُوْعَدُوْنَ کے دو امکان ہیں۔ اگر اس کا مصدر وَعْدٌ مانا جائے تو ترجمہ ہوگا۔ جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ اور اگر مصدر وَعِیْدٌ ہو تو ترجمہ ہوگا ” جس سے ان کو ڈرایا جاتا ہے۔ “ اور دونوں صورتوں میں ثلاثی مجرد ہی ہوگا یا اگر اس کو ثلاثی مجرد کا مضارع مجہول مانیں تو ترجمہ ہوگا ” جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ “ اور اگر باب افعال کا مضارع مجہول مانیں تو ترجمہ ہوگا ” جس سے ان کو ڈرایا جاتا ہے۔ “ دونوں ترجمے درست مانیں جائیں گے۔
Ayah 19:76

وَ یَزِیْدُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا هُدًى١ؕ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ مَّرَدًّا Open ayah 19:76 in the Quran reader

اس کے برعکس جو لوگ راہِ راست اختیار کرتے ہیں اللہ ان کو راست روی میں ترقی عطا فرماتا ہے اور باقی رہ جانے والی نیکیاں ہی تیرے رب کے نزدیک جزا اور انجام کے اعتبار سے بہتر ہیں

[وَيَزِيْدُ : اور زیادہ کرتا ہے ] [اللّٰهُ : اللہ ] [الَّذِينَ : ان لوگوں کو جنھوں نے ] [اهْتَدَوْا : ہدایت پائی ] [هُدًى: بلحاظ ہدایت کے ] [وَالْبٰقِيٰتُ : اور باقی رہنے والی ] [الصّٰلِحٰتُ : نیکیاں ] [خَيْرٌ: بہترین ] [عِنْدَ رَبِكَ : آپ ﷺ کے رب کے نزدیک ] [ثَوَابًا : بلحاظ بدلے کے ] [وَّخَيْرٌ: اور بہتر ہیں ] [مَّرَدًّا : بلحاظ لوٹانے کے ]
Ayah 19:77

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ كَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَ قَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًاؕ Open ayah 19:77 in the Quran reader

پھر تو نے دیکھا اُس شخص کو جو ہماری آیات کو ماننے سے انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تو مال اور اولاد سے نوازا ہی جاتا رہوں گا؟

[اَفَرَءَيْتَ : تو کیا آپ ﷺ نے دیکھا ] [الَّذِي : اس کو جس نے ] [كَفَرَ : انکار کیا ] [بِاٰيٰتِنَا : ہماری نشانیوں کا ] [وَقَالَ : اور کہا ] [لَاُوْتَيَنَّ : مجھ کو لازماً دیا جائے گا ] [مَالًا : مال ] [وَّوَلَدًا : اور اولاد ]
Ayah 19:78

اَطَّلَعَ الْغَیْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۙ Open ayah 19:78 in the Quran reader

کیا اسے غیب کا پتہ چل گیا ہے یا اس نے رحمان سے کوئی عہد لے رکھا ہے؟

[اَطَّلَعَ : کیا وہ آگاہ ہوا ] [الْغَيْبَ : غیب سے ] [اَمِ : یا ] [اتَّخَذَ : اس نے پکڑا ] [عِنْدَ الرَّحْمٰنِ : رحمن کے پاس ] [عَهْدًا : کوئی عہد ]
Ayah 19:79

كَلَّا١ؕ سَنَكْتُبُ مَا یَقُوْلُ وَ نَمُدُّ لَهٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّاۙ Open ayah 19:79 in the Quran reader

ہرگز نہیں، جو کچھ یہ بکتا ہے اسے ہم لکھ لیں گے اور اس کے لیے سزا میں اور زیادہ اضافہ کریں گے

[كَلَّا : ہرگز نہیں ] [سَنَكْـتُبُ : ہم لکھ لیں گے ] [مَا : اس کو جو ] [يَقُوْلُ : وہ کہتا ہے ] [وَنَمُدُّ : اور ہم دراز کریں گے ] [لَهٗ : اس کے لئے ] [مِنَ الْعَذَابِ : عذاب میں سے ] [مَدًّا : جیسے دراز کرتے ہیں ]
Ayah 19:80

وَّ نَرِثُهٗ مَا یَقُوْلُ وَ یَاْتِیْنَا فَرْدًا Open ayah 19:80 in the Quran reader

جس سر و سامان اور لاؤ لشکر کا یہ ذکر کر رہا ہے وہ سب ہمارے پاس رہ جائے گا اور یہ اکیلا ہمارے سامنے حاضر ہوگا

[وَّنَرِثُهٗ : اور ہم وارث ہوں گے اس کے ] [مَا : اس چیز میں جو ] [يَقُوْلُ : وہ کہتا ہے ] [وَيَاْتِيْنَا : اور وہ آئے گا ہمارے پاس ] [فَرْدًا : تنہا ہوتے ہوئے ]