18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 18:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلٰى عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَ لَمْ یَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًاؕٚ Open ayah 18:1 in the Quran reader

تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے اپنے بندے پر یہ کتاب نازل کی اور اس میں کوئی ٹیڑھ نہ رکھی

[اَلْحَمْدُ : تمام شکر و سپاس ] [للّٰهِ الَّذِيٓ: اس اللہ کے لئے ہے جس نے ] [انزَلَ : اتارا ] [عَلٰي عَبْدِهِ : اپنے بندے پر ] [الْكِتٰبَ : اس کتاب کو ] [وَلَمْ يَجْعَلْ : اور اس نے نہیں بنائی ] [لَهٗ : اس کے لئے ] [عِوَجًا : کوئی کجی ]
Ayah 18:2

قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْهُ وَ یُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا حَسَنًاۙ Open ayah 18:2 in the Quran reader

ٹھیک ٹھیک سیدھی بات کہنے والی کتاب، تاکہ وہ لوگوں کو خدا کے سخت عذاب سے خبردار کر دے، اور ایمان لا کر نیک عمل کرنے والوں کو خوشخبری دیدے کہ ان کے لیے اچھا اجر ہے

[قَـيِّمًا : سیدھی (کتاب) ہوتے ہوئے ] [لِيُنْذِرَ : تاکہ وہ خبردار کریں (لوگوں کو)] [بَاْسًا شَدِيْدًا : ایک ایسی شدید سختی سے جو ] [مِّنْ لَّدُنْهُ : اس (اللہ) کے پاس سے ہوگی ] [وَيُبَشِّرَ : اور تاکہ وہ بشارت دیں ] [الْمُؤْمِنِيْنَ الَّذِينَ : ان ایمان لانے والوں کو جو ] [يَعْمَلُوْنَ : عمل کرتے ہیں ] [الصّٰلِحٰتِ : نیکیوں کے ] [ان : کہ ] [لَهُمْ : ان کے لئے ] [اَجْرًا حَسَـنًا : ایک خوبصورت اجر ہے ] ترکیب : (آیت۔ 2) گزشتہ آیت میں اَلْکِتٰبَ کا حال ہونے کی وجہ سے قَیِّمًا حالت نصب میں ہے۔ بَاْسًا شَدِیْدًا نکرہ مخصوصہ ہے۔ یُشِّرَ کی نصب بتارہی ہے کہ یہ لِیُنْذِرَ کے لام کسی پر عطف ہے۔
Ayah 18:3

مَّاكِثِیْنَ فِیْهِ اَبَدًاۙ Open ayah 18:3 in the Quran reader

جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے

[مَاكِثِيْنَ : ٹھہرنے والے ہوتے ہوئے ] [فِيْهِ : اس میں ] [اَبَدًا : ہمیشہ ] (آیت۔ 3) فِیْہِ کی ضمیر اَجْرًا حَسَنًا کے لئے ہے۔
Ayah 18:4

وَّ یُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًاۗ Open ayah 18:4 in the Quran reader

اور اُن لوگوں کو ڈرا دے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے

[وَّيُنْذِرَ : اور تاکہ وہ خبردار کریں ] [الَّذِينَ : ان کو جنھوں نے ] [قَالُوا : کہا ] [اتَّخَذَ : بنایا ] [اللّٰهُ : اللہ نے ] [وَلَدًا : ایک بیٹا ] (آیت۔ 4) ۔ آیت۔ 2 میں لِیُنْذِرَ کے لام کسی پر عطف ہونے کی وجہ سے وَیُنْذِرَ حالت نصب میں ہے۔
Ayah 18:5

مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّ لَا لِاٰبَآئِهِمْ١ؕ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ؕ اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا Open ayah 18:5 in the Quran reader

اِس بات کا نہ اُنہیں کوئی علم ہے اور نہ ان کے باپ دادا کو تھا بڑی بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے وہ محض جھوٹ بکتے ہیں

[مَا لَهُمْ : نہیں ہے ان کے لئے ] [بِهٖ : جس کا ] [مِنْ عِلْمٍ : کوئی بھی علم ] [وَّلَا لِاٰبَاۗىِٕهِمْ : اور نہ ہی ان کے آبائو اجداد کے لئے ] [كَبُرَتْ : بھاری ہوئی ] [كَلِمَةً : بلحاظ بات کے ] [تَخْرُجُ : (وہ جو) نکلتی ہے ] [مِنْ اَفْوَاهِهِمْ : ان کے مونہوں سے ] [ان يَّقُوْلُوْنَ : وہ لوگ نہیں کہتے ] [اِلَّا : مگر ] [كَذِبًا : ایک جھوٹ ] (آیت۔ 5) تُخْرُجُ مِنْ اَفْوَاھِھِمْ سے پہلے ما محذوف ہے اور یہ کَبُرَتْ کا فاعل ہے اور کَلِمَۃً اس کی تمیز ہے۔
Ayah 18:6

فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا Open ayah 18:6 in the Quran reader

اچھا، تو اے محمدؐ، شاید تم ان کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان کھو دینے والے ہو اگر یہ اِس تعلیم پر ایمان نہ لائے

[فَلَعَلَّكَ : تو شاید کہ آپ ﷺ ] [بَاخِعٌ: ہلاکت تک پہنچانے والے ہیں ] [نَّفْسَكَ : اپنے آپ کو ] [عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ : ان کے پیچھے ] [ان : اگر ] [لَمْ يُؤْمِنُوْا : وہ لوگ ایمان نہ لائے ] [بِهٰذَا الْحَدِيْثِ : اس بات پر ] [اَسَفًا : افسوس کرتے ہوئے ] ب خ ع [بَخْعًا : (ف) ] غم و غصّہ سے خود کو ہلاکت تک پہنچانا۔ بَاخِعٌ اسم الفاعل ہے۔ ہلاکت تک پہنچانے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 6
Ayah 18:7

اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْاَرْضِ زِیْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا Open ayah 18:7 in the Quran reader

واقعہ یہ ہے کہ یہ جو کچھ سر و سامان بھی زمین پر ہے اس کو ہم نے زمین کی زینت بنایا ہے تاکہ اِن لوگوں کو آزمائیں اِن میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے

[انا : بیشک ] [جَعَلْنَا : ہم نے بنایا ] [مَا : اس کو جو ] [عَلَي الْاَرْضِ : زمین پر ہے ] [زِيْنَةً : ایک زینت ] [لَّهَا : اس (زمین) کے لئے ] [لِنَبْلُوَهُمْ : تاکہ ہم آزمائیں ان کو ] [اَيُّهُمْ : (کہ) ان کا کون ] [اَحْسَنُ : زیادہ اچھا ہے ] [عَمَلًا : بلحاظ عمل کے ]
Ayah 18:8

وَ اِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَیْهَا صَعِیْدًا جُرُزًاؕ Open ayah 18:8 in the Quran reader

آخرکار اِس سب کو ہم ایک چٹیل میدان بنا دینے والے ہیں

[وَانا : اور بیشک ہم ] [لَجٰعِلُوْنَ : ضرور بنانے والے ہیں ] [مَا : اس کو جو ] [عَلَيْهَا : اس (زمین) پر ہے ] [صَعِيْدًا جُرُزًا : ایک بنجر میدان ] ج ر ز [جَرَزًا : (س) ] زمین کا بنجر ہونا۔ جُرُزٌ بنجر زمین ۔ چٹیل میدان۔ زیر مطالعہ آیت۔ 8
Ayah 18:9

اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ وَ الرَّقِیْمِ١ۙ كَانُوْا مِنْ اٰیٰتِنَا عَجَبًا Open ayah 18:9 in the Quran reader

کیا تم سمجھتے ہو کہ غار اور کتبے والے ہماری کوئی بڑی عجیب نشانیوں میں سے تھے؟

[اَمْ : کیا ] [حَسِبْتَ : آپ ﷺ نے گمان کیا ] [ان : کہ ] [اَصْحٰبَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيْمِ : غار اور لوح والے ] [كَانوْا : تھے ] [مِنْ اٰيٰتِنَا : ہماری نشانیوں میں سے ] [عَجبا : کوئی عجیب چیز ] ک ھـ ثلاثی مجرد سے مفعل نہیں آتا۔ (تفعل) تَکَفُّھًا پہاڑ میں غار ہونا۔ کَھْفٌ پہاڑ میں کھدا ہوا وسیع غار۔ زیر مطالعہ آیت۔ 9 ۔ رق م [رَقْمًا : (ن) ] جلی حروف میں لکھنا۔ نقش بنانا۔ مَرْقُوْمٌ اسم المفعول ہے۔ لکھا ہوا۔ کِتَابٌ مَّرْقُوْمٌ (وہ ایک لکھی ہوئی کتاب ہے) 83:9 رَقِیْمٌ فَعِیْلٌ کا وزن ہے اسم المفعول کے معنی میں۔ نقش کی ہوئی یا الفاظ کندہ کی ہوئی لوح۔ زیر مطالعہ آیت۔ 9 ۔ نوٹ۔ 1: زیر مطالعہ آیت۔ 9 میں لفظ رقیم سے کیا مراد ہے، اس میں مفسرین کے اقوال مختلف ہیں۔ کچھ مفسرین برروایت ابن عباس ؓ اس کے معنی ایک لکھی ہوئی تختی کے قرار دیتے ہیں، جس پر بادشاہِ وقت نے اصحاب کہف کے نام کندہ کر کے غار کے دروازے پر لگا دیا تھا۔ اس وجہ سے اصحاب کہف کو اصحاب الرقیم بھی کہا جاتا ہے۔ بعض کا قول یہ ہے کہ رقیم اس پہاڑ کے نیچے کی وادی کا نام ہے جس میں اصحاب کہف کا غار تھا۔ بعض نے خود اس پہاڑ کو رقیم کہا ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 18:10

اِذْ اَوَى الْفِتْیَةُ اِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّ هَیِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا Open ayah 18:10 in the Quran reader

جب وہ چند نوجوان غار میں پناہ گزیں ہوئے اور انہوں نے کہا کہ "اے پروردگار، ہم کو اپنی رحمت خاص سے نواز اور ہمارا معاملہ درست کر دے،"

[اِذْ : جب ] [اَوَى: پناہ لی ] [الْفِتْيَةُ : نوجوانوں نے ] [اِلَى الْكَهْفِ : غار کی طرف ] [فَقَالُوْا : پھر انھوں نے کہا ] [رَبَّنَآ : اے ہمارے رب ] [اٰتِنَا : تو عطا کر ہم کو ] [مِنْ لَّدُنْكَ : اپنے پاس سے ] [رَحْمَةً : ایک رحمت ] [وَّهَيِّئْ : اور تو اسباب پیدا کر دے ] [لَنَا : ہمارے لئے ] [مِنْ اَمْرِنَا : ہمارے کام میں ] [رَشَدًا : نیک راہ کے ]
Ayah 18:11

فَضَرَبْنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمْ فِی الْكَهْفِ سِنِیْنَ عَدَدًاۙ Open ayah 18:11 in the Quran reader

تو ہم نے انہیں اُسی غار میں تھپک کر سالہا سال کے لیے گہری نیند سلا دیا

[فَضَرَبْنَا : تو ہم نے تھپکی دی ] [عَلٰٓي اٰذَانهِمْ : ان کے کانوں پر ] [فِي الْكَهْفِ : غار میں ] [سِنِيْنَ : کچھ برس ] [عَدَدًا : بلحاظ گنتی کے ] نوٹ۔ 2: فَضَرَبْنَا عَلٰی اٰذَانِھِمْ کے لفظی معنی کانوں کو بند کردینے کے ہیں۔ غفلت کی نیند کو ان الفاظ سے تعبیر کیا جاتا ہے کیونکہ نیند کے وقت سب سے پہلے آنکھ بند ہوتی ہے مگر کان اپنا کام کرتے رہتے ہیں اور آواز سنائی دیتی ہے۔ پھر جب نیند غالب ہوجاتی ہے تو کان بھی اپنا کام چھوڑ دیتے ہیں۔ پھر بیداری میں سب سے پہلے کان اپنا کام شروع کرتے ہیں کہ آواز سے سونے والا چونکتا ہے پھر بیدار ہوتا ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 18:12

ثُمَّ بَعَثْنٰهُمْ لِنَعْلَمَ اَیُّ الْحِزْبَیْنِ اَحْصٰى لِمَا لَبِثُوْۤا اَمَدًا۠ Open ayah 18:12 in the Quran reader

پھر ہم نے انہیں اٹھایا تاکہ دیکھیں اُن کے دو گروہوں میں سے کون اپنی مدت قیام کا ٹھیک شمار کرتا ہے

[ثُمَّ : پھر ] [بَعَثْنٰهُمْ : ہم نے اٹھایا ان کو ] [لِنَعْلَمَ : تاکہ ہم جان لیں کہ ] [اَيُّ الْحِزْبَيْنِ : دو گروہوں کے کس نے ] [اَحْصٰى: شمار پورا کیا ] [لِمَا : اس کا جو ] [لَبِثُوْٓا : وہ لوگ ٹھہرے ] [اَمَدًا : بلحاظ مدت کے ]
Ayah 18:13

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ نَبَاَهُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّهُمْ فِتْیَةٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّهِمْ وَ زِدْنٰهُمْ هُدًىۗۖ Open ayah 18:13 in the Quran reader

ہم ان کا اصل قصہ تمہیں سناتے ہیں وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لے آئے تھے اور ہم نے ان کو ہدایت میں ترقی بخشی تھی

[نَحْنُ : ہم ] [نَقُصُّ : بیان کرتے ہیں ] [عَلَيْكَ : آپ ﷺ پر ] [نَبَاَهُمْ : ان کی خبر ] [بِالْحَقِّ : حق کے ساتھ ] [انهُمْ : بیشک وہ ] [فِتْيَةٌ: کچھ ایسے نوجوان تھے جو ] [اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [بِرَبِهِمْ : اپنے رب پر ] [وَزِدْنٰهُمْ : اور ہم نے زیادہ کیا ان کو ] [هُدًى: بلحاظ ہدایت کے ]
Ayah 18:14

وَّ رَبَطْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَاۡ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلٰهًا لَّقَدْ قُلْنَاۤ اِذًا شَطَطًا Open ayah 18:14 in the Quran reader

ہم نے ان کے دل اُس وقت مضبوط کر دیے جب وہ اٹھے اور انہوں نے اعلان کر دیا کہ "ہمارا رب تو بس وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے ہم اُسے چھوڑ کر کسی دوسرے معبود کو نہ پکاریں گے اگر ہم ایسا کریں تو بالکل بیجا بات کریں گے"

[وَّرَبَطْنَا : اور ہم نے مضبوط کیا ] [عَلٰي قُلُوْبِهِمْ : ان کے دلوں کو ] [اِذْ : جب ] [قَامُوْا : وہ کھڑے ہوئے ] [فَقَالُوْا : پھر انھوں نے کہا ] [رَبُّنَا : ہمارا رب ] [رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : زمین اور آسمانوں کا رب ہے ] [لَنْ نَّدْعُوَا۟: ہم ہرگز نہیں پکاریں گے ] [مِنْ دُوْنِهٖٓ: اس کے علاوہ ] [اِلٰـهًا : کسی الٰہ کو ] [لَّقَدْ قُلْنَآ : بیشک ہم کہہ چکے ] [اِذًا : تب تو ] [شَطَطًا : حد سے گزری ہوئی بات ] ش ط ط [شَطَطًا : (ض) ] مقررہ حد سے آگے بڑھنا۔ حد سے گزرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 14 ۔ (افعال) اِشْطَاطًا حق سے دور ہونا۔ زیادتی کرنا۔ فَاحْکُمْ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ وَ َلا تُشْطِطْ (پس آپ (علیہ السلام) فیصلہ کریں ہمارے درمیان حق کے ساتھ اور آپ (علیہ السلام) زیادتی مت کریں) 38:22 ۔
Ayah 18:15

هٰۤؤُلَآءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ لَوْ لَا یَاْتُوْنَ عَلَیْهِمْ بِسُلْطٰنٍۭ بَیِّنٍ١ؕ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاؕ Open ayah 18:15 in the Quran reader

(پھر انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا) "یہ ہماری قوم تو ربِّ کائنات کو چھوڑ کر دوسرے خدا بنا بیٹھی ہے یہ لوگ ان کے معبود ہونے پر کوئی واضح دلیل کیوں نہیں لاتے؟ آخر اُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے؟

[هٰٓؤُلَاۗءِ : یہ ] [قَوْمُنَا : ہماری قوم ہے ] [اتَّخَذُوْا : انھوں نے بنائے ] [مِنْ دُوْنِهٖٓ: اس (اللہ) کے علاوہ ] [اٰلِهَةً : کچھ الٰہ ] [لَوْلَا : کیوں نہیں ] [يَاْتُوْنَ : وہ لوگ لاتے ] [عَلَيْهِمْ : ان (اِلہٰوں) پر ] [بِسُلْطٰنٍۢ بَيِّنٍ : کوئی واضح دلیل ] [فَمَنْ : تو کون ] [اَظْلَمُ : زیادہ ظالم ہے ] [مِمَّنِ : اس سے جس نے ] [افْتَرٰى: گھڑا ] [عَلَي اللّٰهِ : اللہ پر ] [كَذِبًا : کوئی جھوٹ ]
Ayah 18:16

وَ اِذِ اعْتَزَلْتُمُوْهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاْوٗۤا اِلَى الْكَهْفِ یَنْشُرْ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یُهَیِّئْ لَكُمْ مِّنْ اَمْرِكُمْ مِّرْفَقًا Open ayah 18:16 in the Quran reader

اب جبکہ تم ان سے اور اِن کے معبودانِ غیر اللہ سے بے تعلق ہو چکے ہو تو چلو اب فلاں غار میں چل کر پناہ لو تمہارا رب تم پر اپنی رحمت کا دامن وسیع کرے گا اور تمہارے کام کے لیے سر و سامان مہیا کر دے گا"

[وَاِذِ : اور جب ] [اعْتَزَلْتموْهُمْ : تم لوگ کنارہ کش ہوگئے ان سے ] [وَمَا : اور اس سے جس کی ] [يَعْبُدُوْنَ : وہ لوگ بندگی کرتے ہیں ] [اِلَّا اللّٰهَ : اللہ کے سوا ] [فَاْوٗٓا : تو (اب) تم لوگ پناہ لو ] [اِلَى الْكَهْفِ : غار کی طرف ] [يَنْشُرْ : پھیلا دے گا ] [لَكُمْ : تمہارے لئے ] [رَبُّكُمْ : تمہارا رب ] [مِّنْ رَّحْمَتِهٖ : اپنی رحمت میں سے (کچھ)] [وَيُهَــيِّئْ : اور وہ اسباب پیدا کرے گا ] [لَكُمْ : تمہارے لئے ] [مِّنْ اَمْرِكُمْ : تمہارے کام میں ] [مِّرْفَقًا : سہارا دینے کا ذریعہ ]
Ayah 18:17

وَ تَرَى الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَّزٰوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ اِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَ هُمْ فِیْ فَجْوَةٍ مِّنْهُ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِیًّا مُّرْشِدًا۠ Open ayah 18:17 in the Quran reader

تم انہیں غار میں دیکھتے تو تمہیں یوں نظر آتا کہ سورج جب نکلتا ہے تو ان کے غار کو چھوڑ کر دائیں جانب چڑھ جاتا ہے اور جب غروب ہوتا ہے تو ان سے بچ کر بائیں جانب اتر جاتا ہے اور وہ ہیں کہ غار کے اندر ایک وسیع جگہ میں پڑے ہیں یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہے جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے اللہ بھٹکا دے اس کے لیے تم کوئی ولی مرشد نہیں پا سکتے

[وَتَرَى: اور تو دیکھے ] [الشَّمْسَ : سورج کو ] [اِذَا : جب ] [طَلَعَتْ : وہ طلوع ہوتا ہے ] [تَّزٰوَرُ : تو وہ بچ کر نکلتا ہے ] [عَنْ كَهْفِهِمْ : ان کے غار سے ] [ذَاتَ الْيَمِيْنِ : دا ہنی جانب ] [وَاِذَا : اور جب ] [غَرَبَتْ : وہ غروب ہوتا ہے ] [تَّقْرِضُهُمْ : تو وہ کترا جاتا ہے ان سے ] [ذَاتَ الشِّمَالِ : بائیں جانب ] [وَ : اس حال میں کہ ] [هُمْ : وہ لوگ ] [فِيْ فَجوةٍ : صحن میں ہیں ] [مِّنْهُ : اس کے ] [ذٰلِكَ : یہ ] [مِنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ : اللہ کی نشانیوں میں سے ہے ] [مَنْ : جس کو ] [يَّهْدِ : ہدایت دی ] [اللّٰهُ : اللہ نے ] [فَهُوَ : تو وہ ] [الْمُهْتَدِ : ہی ہدایت پانے والا ہے ] [وَمَنْ : اور جس کو ] [يُّضْلِلْ : اس نے گمراہ کیا ] [فَلَنْ تَجِدَ : تو تو ہرگز نہیں پائے گا ] [لَهٗ : اس کے لئے ] [وَلِيًّا مُّرْشِدًا : کوئی راہ بتانے والا کارساز ] زور [زِیَارَۃً : (ن) ] ملاقات کے لئے جانا۔ زیارت کرنا۔ اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُرُ حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ (غافل کیا تم لوگوں کو ایک دوسرے پر کثرت حاصل کرنے کی کوشش نے یہاں تک کہ تم لوگوں نے ملاقات کی قبروں سے) 102:1 ۔ 2 ۔ [زَوَارًا : (س) ] ٹیڑھے سینے والا ہونا۔ کسی سیدھ سے ہٹا ہوا ہونا۔ زُوْرٌ جھوٹ۔ باطل۔ (کیونکہ یہ سچ یا حق سے ہٹا ہوا ہوتا ہے) ۔ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ (اور تم لوگ بچو جھوٹ کی بات سے) 22:30 (تفاعل) نَزَاوُرًا (1) ایک دوسرے سے ملاقات کے لئے جانا۔ (2) کسی سے بچ کر نکلنا۔ کنارہ کش ہونا (اس مفہوم کے لئے عن کا صلہ آتا ہے) زیر مطالعہ آیت۔ 17 ۔ ج و [فَجْوًا : (ن) ] دروازہ کھولنا۔ فَجْوَۃٌ دو چیزوں کے درمیان کشادگی۔ صحن۔ زیر مطالعہ آیت۔ 17 ۔ نوٹ۔ 1: اس واقعہ سے بعض صوفی حضرات نے گوشہ نشینی اور ترک دنیا کو زندگی کی فضیلت ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے۔ اصحاب کہف نے غار میں پناہ اس وقت لی ہے جب وہ اپنے ماحول کی اصلاح کے لئے جان کی بازی کھیل کر اپنی قوم کے ہاتھوں سنگسار کردیئے جانے کے مرحلہ تک پہنچ گئے ہیں۔ یہ مرحلہ بعینہ وہی مرحلہ ہے جو ہمارے نبی ٔ کریم ﷺ کو پیش آیا اور آپ ﷺ کو غار ثور میں پناہ لینی پڑی۔ ان لوگوں نے یہ غار نشینی رہبانیت کے لئے نہیں اختیار کی تھی بلکہ اعدائے حق کے شر سے اپنی جانیں بچانے کے لئے اختیار کی تھی۔ (تدبر قرآن)
Ayah 18:18

وَ تَحْسَبُهُمْ اَیْقَاظًا وَّ هُمْ رُقُوْدٌ١ۖۗ وَّ نُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ ذَاتَ الشِّمَالِ١ۖۗ وَ كَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْهِ بِالْوَصِیْدِ١ؕ لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَیْهِمْ لَوَلَّیْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَّ لَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا Open ayah 18:18 in the Quran reader

تم انہیں دیکھ کر یہ سمجھتے کہ وہ جاگ رہے ہیں، حالانکہ وہ سو رہے تھے ہم انہیں دائیں بائیں کروٹ دلواتے رہتے تھے اور ان کا کتا غار کے دہانے پر ہاتھ پھیلائے بیٹھا تھا اگر تم کہیں جھانک کر اُنہیں دیکھتے تو الٹے پاؤں بھاگ کھڑے ہوتے اور تم پر ان کے نظارے سے دہشت بیٹھ جاتی

[وَتَحْسَبُهُمْ : اور تو گمان کرے گا ان کو ] [اَيْقَاظًا : بیدار ] [وَّ : حالانکہ ] [هُمْ : وہ لوگ ] [رُقُوْدٌ: سوئے ہوئے ہیں ] [وَّنُقَلِبُهُمْ : اور ہم بار بار پلٹتے ہیں ان کو ] [ذَاتَ الْيَمِيْنِ : دائیں جانب ] [وَذَاتَ الشِّمَالِ : اور بائیں جانب ] [وَكَلْبُهُمْ : اور ان کا کتا ] [بَاسِطٌ: پھیلانے والا ہے ] [ذِرَاعَيْهِ : اپنے دونوں بازئوں کو ] [بِالْوَصِيْدِ : چوکھٹ پر ] [لَوِ : اگر ] [اطَّلَعْتَ : جھانکے ] [عَلَيْهِمْ : ان پر ] [لَوَلَّيْتَ : تو ضرور تو پیٹھ پھیرے گا ] [مِنْهُمْ : ان سے ] [فِرَارًا : بھاگتے ہوئے ] [وَّلَمُلِئْتَ : اور تجھ کو ضرور بھر دیا جائے گا ] [مِنْهُمْ : ان کے ] [رُعْبًا : رعب سے ] ی ق ظ [یَقَظًا : (س) ] چوکنا ہونا۔ جاگنا۔ یَقِظٌ ج اَیْقَاظٌ۔ صفت ہے۔ چوکنا۔ جاگا ہوا۔ بیدار۔ زیر مطالعہ آیت۔ 18 ر ق د [رَقْدًا : (ن) ] نیند میں سونا۔ رَاقِدٌ ج رُقُوْدٌ۔ صفت ہے سویا ہوا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 18 ۔ مَرْقَدٌ ظرف ہے۔ سونے کی جگہ۔ خوابگاہ۔ مَنْ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا (کس نے اٹھایا ہمیں ہماری خوابگاہ سے) 36:52 و ص د [وَصْدًا : (ض) ] ثابت رہنا۔ قائم ہونا۔ وَصِیْدٌ فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت۔ ہمیشہ جمی رہنے یا قائم رہنے والی چیز پھر زیادہ تر مکان یا غار کی چوکھٹ کے لئے آتا ہے۔ زیر مطالعہ آیت۔ 18 ۔ (افعال) اِیْصَادًا کسی چیز کو جمانا۔ قائم رکھنا۔ جیسے ہانڈی ڈھانکنا۔ دروازہ بند کرنا۔ مُوْصَدٌ اسم المفعول ہے۔ ڈھانکا ہوا۔ بند کیا ہوا۔ اس کا مؤنث مُوْصَدَۃٌ ہے جس کی ایک قراءت مُؤْصَدَۃٌ بھی ہے (مفردات القرآن) ۔ عَلَیْھِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَۃٌ (ان لوگوں پر ایک ڈھانکی ہوئی آگ ہے) 90:20 ر ر [ فِرَارًا : (ض۔ ن) بھاگنا۔ دوڑنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 18 ۔ مَفَرٌّ اسم الظرف ہے۔ بھاگنے کی جگہ۔ یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَگذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّ (کہے گا انسان اس دن کہاں ہے بھاگنے کی جگہ) 75:10 نوٹ۔ 1: حدیث میں آیا ہے کہ جس گھر میں کتا یا تصویر ہو اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص شکاری کتے یا جانوروں کے محافظ کتے کے علاوہ کتا پالتا ہے تو ہر روز اس کے اجر میں سے دو قیراط گھٹ جاتے ہیں۔ ایک اور حدیث میں تیسری قسم کے کتے کا استثناء آیا ہے، یعنی جو کھیتی کی حفاظت کے لئے پالا گیا ہو۔ ان احادیث کی بناء پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان بزرگ اللہ والوں نے کتا کیوں ساتھ لیا تھا۔ اس کا ایک جواب تو یہ ہوسکتا ہے کہ کتا پالنے کی ممانعت کا یہ حکم شریعت محمدیہ ﷺ کا حکم ہے۔ ممکن ہے اس سے پہلے یہ ممنوع نہ ہو۔ دوسرے یہ بھی قرین قیاس ہے کہ یہ لوگ صاحب جائیداد اور صاحب مویشی تھے، ان کی حفاظت کے لئے کتا پالا ہو۔ اور جیسے کہ کتے کی وفاشعاری مشہور ہے، یہ لوگ جب شہر سے چلے تو وہ بھی ساتھ لگ گیا۔ (معارف القرآن)
Ayah 18:19

وَ كَذٰلِكَ بَعَثْنٰهُمْ لِیَتَسَآءَلُوْا بَیْنَهُمْ١ؕ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالُوْا رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ١ؕ فَابْعَثُوْۤا اَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هٰذِهٖۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ فَلْیَنْظُرْ اَیُّهَاۤ اَزْكٰى طَعَامًا فَلْیَاْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِّنْهُ وَ لْیَتَؔلَطَّفْ وَ لَا یُشْعِرَنَّ بِكُمْ اَحَدًا Open ayah 18:19 in the Quran reader

اور اسی عجیب کرشمے سے ہم نے انہیں اٹھا بٹھایا تاکہ ذرا آپس میں پوچھ گچھ کریں ان میں سے ایک نے پوچھا "کہو کتنی دیر اس حال میں رہے؟"دوسروں نے کہا "شاید دن بھر یا اس سے کچھ کم رہے ہوں گے" پھر وہ بولے "اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہمارا کتنا وقت اس حالت میں گزرا چلو، اب اپنے میں سے کسی کو چاندی کا یہ سکہ دے کر شہر بھیجیں اور وہ دیکھے کہ سب سے اچھا کھانا کہاں ملتا ہے وہاں سے وہ کچھ کھانے کے لیے لائے اور چاہیے کہ ذرا ہوشیاری سے کام کرے، ایسا نہ ہو کہ وہ کسی کو ہمارے یہاں ہونے سے خبردار کر بیٹھے

[وَكَذٰلِكَ : اور اس طرح ] [بَعَثْنٰهُمْ : ہم نے اٹھایا ان کو ] [لِيَتَسَاۗءَلُوْا : تاکہ وہ ایک دوسرے سے پوچھیں ] [بَيْنَهُمْ : آپس میں ] [قَالَ : کہا ] [قَاۗىِٕلٌ: ایک کہنے والے نے ] [مِّنْهُمْ : ان میں سے ] [كَمْ : کتنا (عرصہ)] [لَبِثْتم : تم لوگ ٹھہرے ] [قَالُوْا : انھوں نے کہا ] [لَبِثْنَا : ہم ٹھہرے ] [يَوْمًا : ایک دن ] [اَوْ : یا ] [بَعْضَ يَوْمٍ : ایک دن کا کچھ (حصّہ)] [قَالُوْا : انھوں نے کہا ] [رَبُّكُمْ : تمہارا رب ] [اَعْلَمُ : خوب جاننے والا ہے ] [بِمَا : اس کو جو ] [لَبِثْتم : تم لوگ ٹھہرے ] [فَابْعَثُوْٓا : تو (اب) تم لوگ بھیجو ] [اَحَدَكُمْ : اپنے ایک کو ] [بِوَرِقِكُمْ هٰذِهٖٓ: اپنے اس چاندی کے سکے کے ساتھ ] [اِلَى الْمَدِيْنَةِ : شہر کی طرف ] [فَلْيَنْظُرْ : پھر اسے چاہیے کہ وہ دیکھے ] [اَيُّهَآ : اس (شہر) کا کون ] [اَزْكٰى: زیادہ پاکیزہ ہے ] [طَعَامًا : بلحاظ کھانے کے ] [فَلْيَاْتِكُمْ : پھر اسے چاہیے کہ وہ آئے تمہارے پاس ] [بِرِزْقٍ : کچھ کھانے کے ساتھ ] [مِّنْهُ : اس میں سے ] [وَلْيَتَلَطَّفْ : اور اسے چاہیے کہ وہ نرمی اختیار کرے ] [وَلَا يُشْعِرَنَّ : اور وہ ہرگز شعور (یعنی خبر) نہ دے ] [بِكُمْ : تمہارے بارے میں ] [اَحَدًا : کسی ایک کو ]
Ayah 18:20

اِنَّهُمْ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ یَرْجُمُوْكُمْ اَوْ یُعِیْدُوْكُمْ فِیْ مِلَّتِهِمْ وَ لَنْ تُفْلِحُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:20 in the Quran reader

اگر کہیں اُن لوگوں کا ہاتھ ہم پر پڑ گیا تو بس سنگسار ہی کر ڈالیں گے، یا پھر زبردستی ہمیں اپنی ملت میں واپس لے جائیں گے، اور ایسا ہوا توہم کبھی فلاح نہ پا سکیں گے"

[انهُمْ : بیشک وہ لوگ ہیں (کہ)] [ان : اگر ] [يَّظْهَرُوْا : وہ غالب ہوئے ] [عَلَيْكُمْ : تم لوگوں پر ] [يَرْجُمُوْكُمْ : تو وہ رجم کردیں گے تم لوگوں کو ] [اَوْ : یا ] [يُعِيْدُوْكُمْ : لوٹائیں گے تم کو ] [فِيْ مِلَّتِهِمْ : اپنے مذہب میں ] [وَلَنْ تُفْلِحُوْٓا : اور تم لوگ ہرگز مراد نہ پائو گے ] [اِذًا : تب تو ] [اَبَدًا : کبھی بھی ]
Ayah 18:21

وَ كَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَیْهِمْ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اَنَّ السَّاعَةَ لَا رَیْبَ فِیْهَا١ۗۚ اِذْ یَتَنَازَعُوْنَ بَیْنَهُمْ اَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَیْهِمْ بُنْیَانًا١ؕ رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰۤى اَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْهِمْ مَّسْجِدًا Open ayah 18:21 in the Quran reader

اِس طرح ہم نے اہل شہر کو ان کے حال پر مطلع کیا تاکہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت کی گھڑی بے شک آ کر رہے گی (مگر ذرا خیال کرو کہ جب سوچنے کی اصل بات یہ تھی) اُس وقت وہ آپس میں اِس بات پر جھگڑ رہے تھے کہ اِن (اصحاب کہف) کے ساتھ کیا کیا جائے کچھ لوگوں نے کہا "اِن پر ایک دیوار چن دو، ان کا رب ہی اِن کے معاملہ کو بہتر جانتا ہے" مگر جو لوگ اُن کے معاملات پر غالب تھے انہوں نے کہا " ہم تو ان پر ایک عبادت گاہ بنائیں گے"

[وَكَذٰلِكَ : اور اس طرح ] [اَعْثَرْنَا : ہم نے اطلاع کردی ] [عَلَيْهِمْ : ان (اصحاب کہف) کی ] [لِيَعْلَمُوْٓا : تاکہ وہ لوگ جان لیں ] [ان : کہ ] [وَعْدَ اللّٰهِ : اللہ کا وعدہ ] [حَقٌّ: حق ہے ] [وَّان : اور یہ کہ ] [السَّاعَةَ : قیامت ] [لَا رَيْبَ : کوئی بھی شک نہیں ہے ] [فِيْهَا : اس میں ] [اِذْ : جب ] [يَتَنَازَعُوْنَ : وہ لوگ کھینچا تانی کرتے تھے ] [بَيْنَهُمْ : آپس میں ] [اَمْرَهُمْ : انکے معاملہ میں ] [فَقَالُوا : تو انھوں نے کہا ] [ابْنُوْا : تم لوگ تعمیر کرو ] [عَلَيْهِمْ : ان (اصحاب کہف کی جگہ) پر ] [بُنْيَانا : ایک عمارت ] [رَبُّهُمْ : ان کا رب ] [اَعْلَمُ : خوب جانتا ہے ] [بِهِمْ : ان (اصحاب کہف کے حال) کو ] [قَالَ : کہا ] [الَّذِينَ : ان لوگوں نے جو ] [غَلَبُوْا : غالب ہوئے ] [عَلٰٓي اَمْرِهِمْ : ان کے معاملہ پر ] [لَنَتَّخِذَنَّ : ہم لازماً بنائیں گے ] [عَلَيْهِمْ : ان (کی جگہ) پر ] [مَّسْجِدًا : ایک سجدہ کرنے کی جگہ ] نوٹ۔ 2: بعض لوگوں نے آیت۔ 21 ۔ کا بالکل الٹا مفہوم لیا ہے۔ وہ اسے دلیل بنا کر مقابر صلحاء پر عمارتیں اور مسجدیں بنانے کو جائز قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ یہاں قرآن ان کی اس گمراہی کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ جو نشانی ان کو بعث بعد الموت اور امکانِ آخرت کا یقین دلانے کے لئے دکھائی گئی تھی اسے انھوں نے ارتکاب شرک کے لئے ایک موقع سمجھا۔ پھر اس آیت سے قبور صالحین پر مسجدیں بنانے کے لئے کیسے استدلال کیا جاسکتا ہے جبکہ نبی ﷺ کے یہ ارشادات اس کی نہی میں موجود ہیں : (1) اللہ نے لعنت فرمائی ہے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر اور قبروں پر مسجدیں بنانے اور چراغ روشن کرنے والوں پر۔ (احمد۔ ترمذی۔ ابودائود۔ نسائی۔ ابن ماجہ) (2) خبردار رہو۔ تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیتے تھے۔ میں تمہیں اس حرکت سے منع کرتا ہوں۔ (مسلم) ۔ (3) اللہ نے لعنت فرمائی یہود اور نصارٰی پر۔ انھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا۔ (احمد۔ بخاری۔ مسلم۔ نسائی) (4) ان لوگوں کا حال یہ تھا کہ اگر ان میں کوئی صالح مرد ہوتا تو اس کے مرنے کے بعد اس کی قبر پر مسجدیں بناتے اور اس کی تصویریں تیار کرتے تھے۔ یہ قیامت کے روز بدترین مخلوق ہوں گے۔ (احمد۔ بخاری۔ مسلم۔ نسائی) نبی ﷺ کی ان تصریحات کی موجودگی میں یہ بات درست نہیں ہے کہ قرآن مجید میں عیسائی پادریوں اور رومی حکمرانوں کے جس گمراہانہ فعل کا حکایتًہ ذکر کیا گیا ہے اس کو ٹھیک وہی فعل کرنے کے لئے دلیل و حجت بنایا جائے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 18:22

سَیَقُوْلُوْنَ ثَلٰثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًۢا بِالْغَیْبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ سَبْعَةٌ وَّ ثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَّا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا قَلِیْلٌ١۫۬ فَلَا تُمَارِ فِیْهِمْ اِلَّا مِرَآءً ظَاهِرًا١۪ وَّ لَا تَسْتَفْتِ فِیْهِمْ مِّنْهُمْ اَحَدًا۠ Open ayah 18:22 in the Quran reader

کچھ لوگ کہیں گے کہ وہ تین تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا اور کچھ دوسرے کہہ دیں گے کہ پانچ تھے اور چھٹا اُن کا کتا تھا یہ سب بے تکی ہانکتے ہیں کچھ اور لوگ کہتے ہیں کہ سات تھے اور آٹھواں اُن کا کتا تھا کہو، میرا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنے تھے کم ہی لوگ ان کی صحیح تعداد جانتے ہیں پس تم سرسری بات سے بڑھ کر ان کی تعداد کے معاملے میں لوگوں سے بحث نہ کرو، اور نہ ان کے متعلق کسی سے کچھ پوچھو

[سَيَقُوْلُوْنَ : لوگ کہیں گے ] [ثَلٰثَةٌ: (وہ) تین تھے ] [رَّابِعُهُمْ : ان کا چوتھا ] [كَلْبُهُمْ : ان کا کتا تھا ] [وَيَقُوْلُوْنَ : اور کہیں گے ] [خَمْسَةٌ: (وہ) پانچ تھے ] [سَادِسُهُمْ : ان کا چھٹا ] [كَلْبُهُمْ : ان کا کتا تھا ] [رَجْمًۢا : اٹکل مارتے ہوئے ] [بِالْغَيْبِ : اَن دیکھے میں ] [وَيَقُوْلُوْنَ : اور کہیں گے ] [سَبْعَةٌ: (وہ) سات تھے ] [وَّثَامِنُهُمْ : اور ان کا آٹھواں ] [كَلْبُهُمْ : ان کا کتا تھا ] [قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [رَّبِيْٓ: میرا رب ] [اَعْلَمُ : سب سے زیادہ جاننے والا ہے ] [بِعِدَّتِهِمْ : ان کی گنتی کو ] [مَا يَعْلَمُهُمْ : لوگ نہیں جانتے ان (کی گنتی) کو ] [اِلَّا : مگر ] [قَلِيْلٌ: تھوڑے (لوگ)] [فَلَا تمارِ : پس تو مت جھگڑ ] [فِيْهِمْ : ان (کے بارے) میں ] [اِلَّا : مگر ] [مِرَاۗءً ظَاهِرًا : ظاہری جھگڑنا (یعنی اختلاف ظاہر کرنا)] [وَّلَا تَسْتَفْتِ : اور تو مت پوچھ ] [فِيْهِمْ : ان (کے بارے) میں ] [مِّنْهُمْ : ان لوگوں سے ] [اَحَدًا : کسی ایک سے بھی ] نوٹ۔ 1: اس زمانے کے لوگوں کو قیامت کے آنے میں کچھ شکوک پیدا ہوگئے تھے۔ ایک جماعت کہتی تھی کہ فقط روحیں دوبارہ جی اٹھیں گی اور جسم کا اعادہ نہ ہوگا۔ پس اللہ تعالیٰ نے صدیوں بعد اصحاب کہف کو جگا کر قیامت کے ہونے اور جسموں کے دوبارہ جینے کی حجت واضح کردی۔ پس اصحاب کہف کا ظہور منکروں پر حجت اور ماننے والوں کے لئے دلیل بن گیا۔ (ابن کثیر (رح) )
Ayah 18:23

وَ لَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْءٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًاۙ Open ayah 18:23 in the Quran reader

اور دیکھو، کسی چیز کے بارے میں کبھی یہ نہ کہا کرو کہ میں کل یہ کام کر دوں گا

[وَلَا تَقُوْلَنَّ : اور آپ ﷺ ہرگز مت کہیں ] [لِشَايْءٍ : کسی چیز کے لئے ] [انى: کہ میں ] [فَاعِلٌ: کرنے والا ہوں ] [ذٰلِكَ : اس کو ] [غَدًا : کل ] ترکیب : (آیت۔ 23) لِشَایْ ئٍ دراصل لِشَیْ ئٍ ہے۔ اس مقام پر اس کو الف کے ساتھ لکھنا قرآن مجید کا مخصوص املا ہے۔ اسم الفاعل فَاعِلٌ نے فعل کا عمل کیا ہے اور ذٰلِکَ اس کا مفعول ہونے کی وجہ سے محلاً حالت نصب میں ہے، جبکہ غَدًا ظرف ہونے کی وجہ سے نصب میں ہے۔
Ayah 18:24

اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١٘ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِیْتَ وَ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّهْدِیَنِ رَبِّیْ لِاَقْرَبَ مِنْ هٰذَا رَشَدًا Open ayah 18:24 in the Quran reader

(تم کچھ نہیں کر سکتے) اِلّا یہ کہ اللہ چاہے اگر بھولے سے ایسی بات زبان سے نکل جائے تو فوراً اپنے رب کو یاد کرو اور کہو "امید ہے کہ میرا رب اِس معاملے میں رشد سے قریب تر بات کی طرف میری رہنمائی فرما دے گا"

[اِلَّآ ان : سوائے اس کے کہ ] [يَّشَاۗءَ : چاہے ] [اللّٰهُ : اللہ ] [وَاذْكُرْ : اور آپ ﷺ یاد کریں ] [رَّبَّكَ : اپنے رب کو ] [اِذَا : جب کبھی ] [نَسِيْتَ : آپ ﷺ بھول جائیں ] [وَقُلْ : اور آپ ﷺ کہیں ] [عَسٰٓي ان : امید ہے کہ ] [يَّهْدِيَنِ : ہدایت دے گا مجھ کو ] [رَبِيْ : میرا رب ] [لِاَقْرَبَ مِنْ هٰذَا : اس سے زیادہ قریب کے لئے ] [رَشَدًا : بلحاظ رہنمائی کے ]
Ayah 18:25

وَ لَبِثُوْا فِیْ كَهْفِهِمْ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِیْنَ وَ ازْدَادُوْا تِسْعًا Open ayah 18:25 in the Quran reader

اور وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے، اور (کچھ لوگ مدّت کے شمار میں) ۹ سال اور بڑھ گئے ہیں

[وَلَبِثُوْا : اور وہ لوگ ٹھہرے ] [فِيْ كَهْفِهِمْ : اپنے غار میں ] [ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِيْنَ : تین سو سال ] [وَازْدَادُوْا : اور وہ زیادہ ہوئے ] [تِسْعًا : نو (سال)]
Ayah 18:26

قُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا١ۚ لَهٗ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَبْصِرْ بِهٖ وَ اَسْمِعْ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ١٘ وَّ لَا یُشْرِكُ فِیْ حُكْمِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 18:26 in the Quran reader

تم کہو، اللہ ان کے قیام کی مدّت زیادہ جانتا ہے، آسمانوں اور زمین کے سب پوشیدہ احوال اُسی کو معلوم ہیں، کیا خوب ہے وہ دیکھنے والا اور سننے والا! زمین و آسمان کی مخلوقات کا کوئی خبرگیر اُس کے سوا نہیں، اور وہ اپنی حکومت میں کسی کو شریک نہیں کرتا

[قُلِ : آپ ﷺ کہیے ] [اللّٰهُ : اللہ ] [اَعْلَمُ : خوب جاننے والا ہے ] [بِمَا : اس کو جو ] [لَبِثُوْا : وہ ٹھہرے ] [لَهٗ : اس کے لئے ہی ہے ] [غَيْبُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : زمین اور آسمانوں کا غیب ] [اَبْصِرْ بِهٖ : وہ کیا ہی دیکھنے والا ہے ] [وَاَسْمِعْ : اور سننے والا ہے ] [مَا لَهُمْ : ان لوگوں کے لئے نہیں ہے ] [مِّنْ دُوْنِهٖ : اس (اللہ) کے علاوہ ] [مِنْ وَّلِيٍّ : کوئی بھی کارساز ] [وَّلَا يُشْرِكُ : اور وہ شریک نہیں کرتا ] [فِيْ حُكْمِهٖٓ: اپنے حکم میں ] [اَحَدًا : کسی ایک کو (بھی)] (آیت۔ 26) اَبْصِرْبِہٖ وَاَسْمِعْ تعجب کا صیغہ ہے۔ دیکھیں آیت۔ 2:175، نوٹ۔ 1 ۔
Ayah 18:27

وَ اتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ١ؕۚ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١۫ۚ وَ لَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا Open ayah 18:27 in the Quran reader

اے نبیؐ! تمہارے رب کی کتاب میں سے جو کچھ تم پر وحی کیا گیا ہے اسے (جوں کا توں) سنا دو، کوئی اُس کے فرمودات کو بدل دینے کا مجاز نہیں ہے، (اور اگر تم کسی کی خاطر اس میں رد و بدل کرو گے تو) اُس سے بچ کر بھاگنے کے لیے کوئی جائے پناہ نہ پاؤ گے

[وَاتْلُ : اور آپ ﷺ تلاوت کریں ] [مَآ : اس کی جو ] [اُوْحِيَ : وحی کیا گیا ] [اِلَيْكَ : آپ ﷺ کی طرف ] [مِنْ كِتَابِ رَبِكَ : آپ ﷺ کے رب کی کتاب سے ] [لَا مُبَدِّلَ : کوئی بھی بدلنے والا نہیں ہے ] [لِكَلِمٰتِهٖ : اس کے فرمانوں کو ] [وَلَنْ تَجِدَ : اور آپ ﷺ ہرگز نہیں پائیں گے ] [مِنْ دُوْنِهٖ : اس کے علاوہ ] [مُلْتَحَدًا : کوئی پناہ گاہ ]
Ayah 18:28

وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَ لَا تَعْدُ عَیْنٰكَ عَنْهُمْ١ۚ تُرِیْدُ زِیْنَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا Open ayah 18:28 in the Quran reader

اور اپنے دل کو اُن لوگوں کی معیت پر مطمئن کرو جو اپنے رب کی رضا کے طلب گار بن کر صبح و شام اُسے پکارتے ہیں، اور اُن سے ہرگز نگاہ نہ پھیرو کیا تم دنیا کی زینت پسند کرتے ہو؟ کسی ایسے شخص کی اطاعت نہ کرو جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور جس نے اپنی خواہش نفس کی پیروی اختیار کر لی ہے اور جس کا طریق کار افراط و تفریط پر مبنی ہے

[وَاصْبِرْ : اور آپ ﷺ روکیں ] [نَفْسَكَ : اپنے آپ کو ] [مَعَ الَّذِينَ : ان لوگوں کے ساتھ جو ] [يَدْعُوْنَ : پکارتے ہیں ] [رَبَّهُمْ : اپنے رب کو ] [بِالْغَدٰوةِ : صبح کو ] [وَالْعَشِيِّ : اور شام کو ] [يُرِيْدُوْنَ : چاہتے ہوئے ] [وَجْهَهٗ : اس کے چہرے (یعنی توجہ) کو ] [وَلَا تَعْدُ : اور چاہیے کہ آگے نہ نکلیں ] [عَيْنٰكَ : آپ ﷺ کی دونوں آنکھیں ] [عَنْهُمْ : ان لوگوں سے (یعنی ان کو مت چھوڑیں)] [تُرِيْدُ : (کہ) آپ ﷺ تلاش کرتے ہوں ] [زِيْنَةَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا : دنیوی زندگی کی زینت کو ] [وَلَا تُطِعْ : اور آپ ﷺ پیروی مت کریں ] [مَنْ : اس کی ] [اَغْفَلْنَا : ہم نے غافل کیا ] [قَلْبَهٗ : جس کے دل کو ] [عَنْ ذِكْرِنَا : اپنی یاد سے ] [وَاتَّبَعَ : اور جس نے پیروی کی ] [هَوٰىهُ : اپنی خواہش کی ] [وَكَان : اور ہے ] [اَمْرُهٗ : اس کا کام ] [فُرُطًا : حد سے گزرا ہوا ] (آیت۔ 28) لَا تَعْدُ فعل نہی ہے لیکن یہ واحد مذکر حاضر کا صیغہ نہیں ہے بلکہ واحد مؤنث غائب کا صیغہ ہے اور عَیْنٰکَ اس کا فاعل ہے اس لئے عَیْنَانِ حالت رفع میں آیا ہے۔
Ayah 18:29

وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْ١ۙ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًا١ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا١ؕ وَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَ١ؕ بِئْسَ الشَّرَابُ١ؕ وَ سَآءَتْ مُرْتَفَقًا Open ayah 18:29 in the Quran reader

صاف کہہ دو کہ یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے، اب جس کا جی چاہے مان لے اور جس کا جی چاہے انکار کر دے ہم نے (انکار کرنے والے) ظالموں کے لیے ایک آگ تیار کر رکھی ہے جس کی لپٹیں انہیں گھیرے میں لے چکی ہیں وہاں اگر وہ پانی مانگیں گے توایسے پانی سے ان کی تواضع کی جائے گی جو تیل کی تلچھٹ جیسا ہوگا اور ان کا منہ بھون ڈالے گا، بدترین پینے کی چیز اور بہت بری آرامگاہ!

[وَقُلِ : آپ ﷺ کہیے ] [الْحَقُّ : کل کا کل حق ] [مِنْ رَّبِكُمْ : تم لوگوں کے رب (کی طرف) سے ہے ] [فَمَنْ : پس جو ] [شَاۗءَ : چاہے ] [فَلْيُؤْمِنْ : تو وہ ایمان لائے ] [وَّمَنْ : اور جو ] [شَاۗءَ : چاہے ] [فَلْيَكْفُرْ : تو وہ انکار کرے ] [انآ : بیشک ] [اَعْتَدْنَا : ہم نے تیار کیا ] [لِلظّٰلِمِيْنَ : ظلم کرنے والوں کے لئے ] [نَارًا : ایک آگ ] [اَحَاطَ : گھیر لیں گے ] [بِهِمْ : ان کو ] [سُرَادِقُهَا : اس کی قناطیں ] [وَان : اور اگر ] [يَّسْتَغِيْثُوْا : وہ لوگ مدد کے لئے پکاریں گے ] [يُغَاثُوْا : تو ان کی مدد کی جائے گی ] [بِمَاۗءٍ : ایک ایسے پانی سے جو ] [كَالْمُهْلِ : پگھلی ہوئی دھات کی مانند ہے ] [يَشْوِي : وہ بھون دے گا ] [الْوُجوهَ : چہروں کو ] [بِئْسَ : کتنا برا ہے ] [الشراب : یہ پینا ] [وَسَاۗءَتْ : اور کتنی بری ہے یہ (آگ)] [مُرْتَفَقًا : بطور آرام گاہ کے ] م ھـ ل [مُھْلَۃً : (ف) ] جلد بازی نہ کرنا۔ آرام سے کام کرنا۔ مُھْلٌ پگھلی ہوئی دھات۔ پیپ۔ راکھ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 29 (افعال) اِمْھَالًا مہلت دینا اَمْھِلْ فعل امر ہے۔ تو مہلت دے۔ (تفعیل) مَھِیْلًا ڈھیل دینا مَھِّلْ فعل امر ہے۔ تو ڈھیل دے۔ فَمَھِّلِ الْکٰفِرِیْنَ اَمْھِلْھُمْ رُوَیْدًا (پس تو ڈھیل دے کافروں کو، تو مہلت دے ان کو غیر محسوس طریقے سے) 86:17 ۔ ش و ی [شَیًّا : (ض) ] کسی چیز کو بھوننا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 29 شَوًی جسم کے اطراف جن پر زخم لگنے سے موت واقع نہ ہو جیسے کھال۔ نَزَّاعَۃً لِّلشَّوٰی (کھینچ لینے والی کھال کو) 70:16
Ayah 18:30

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًاۚ Open ayah 18:30 in the Quran reader

رہے وہ لوگ جو مان لیں اور نیک عمل کریں، تو یقیناً ہم نیکو کار لوگوں کا اجر ضائع نہیں کیا کرتے

[ان : بیشک ] [الَّذِينَ : وہ لوگ جو ] [اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [وَعَمِلُوا : اور انھوں نے عمل کئے ] [الصّٰلِحٰتِ : نیکیوں کے ] [انا : تو بیشک ] [لَا نُضِيْعُ : ہم ضائع نہیں کرتے ] [اَجْرَ مَنْ : اس کے اجر کو جس نے ] [اَحْسَنَ : حسین بنایا ] [عَمَلًا : عمل کو ]
Ayah 18:31

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ یَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ؕ نِعْمَ الثَّوَابُ١ؕ وَ حَسُنَتْ مُرْتَفَقًا۠ Open ayah 18:31 in the Quran reader

ان کے لیے سدا بہار جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، وہاں وہ سونے کے کنگنوں سے آراستہ کیے جائیں گے، باریک ریشم اور اطلس و دیبا کے سبز کپڑے پہنیں گے، اور اونچی مسندوں پر تکیے لگا کر بیٹھیں گے بہترین اجر اور اعلیٰ درجے کی جائے قیام!

[اُولٰۗىِٕكَ : یہ لوگ ہیں ] [لَهُمْ : جن کے لئے ہیں ] [جَنّٰتُ عَدْنٍ : عدن کے باغات ] [تَجْرِيْ : بہتی ہیں ] [مِنْ تَحْتِهِمُ : ان لوگوں کے نیچے سے ] [الْانهٰرُ : نہریں ] [يُحَلَوْنَ : وہ لوگ آراستہ کئے جائیں گے ] [فِيْهَا : ان (باغات) میں ] [مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ : سونے کے کنگنوں سے ] [وَّيَلْبَسُوْنَ : اور پہنیں گے ] [ثِيَابًا خُضْرًا : سبز کپڑے ] [مِّنْ سُنْدُسٍ وَّاِسْتَبْرَقٍ : چمکیلے اور باریک ریشم میں ہے ] [مُّتَّكِــِٕـيْنَ : بیٹھنے والے ہوتے ہوئے ] [فِيْهَا : ان (باغات) میں ] [عَلَي الْاَرَاۗىِٕكِ : مزین تختوں پر ] [نِعْمَ : کتنا اچھا ہے ] [الثَّوَابُ : یہ بدلہ ] [وَحَسُنَتْ : اور کتنے اچھے ہیں یہ (باغات)] [مُرْتَفَقًا : بطور آرام گاہ کے ] نوٹ۔ 1: جنت اور دوزخ کے احوال کا بیان متشابہات میں داخل ہے۔ جن ثمثیلات و تشبیہات سے اس نادیدہ عالم کے احوال کو ہمارے ذہن کے قریب لایا جاسکتا ہے، قرآن ان کے ذریعہ سے ان کو ہمارے ذہن کے قریب کرتا ہے۔ رہی ان کی اصل حقیقت تو اس کا علم صرف اللہ کو ہے۔ دوزخ کے ” مُھْل “ یا جنت کے کنگن اور سندس اور استبرق کی حقیقت یہاں نہیں معلوم کی جاسکتی۔ یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ قرآن ان چیزوں کے بیان میں اہل عرب ہی کی معلومات اور ان ہی کے ذوق کو ملحوظ رکھتا ہے۔ اس لئے کہ تشبیہہ و تمثیل میں مؤثر وہی چیزیں ہوتی ہیں جن سے مخاطب واقف ہوں۔ (تدبر قرآن)
Ayah 18:32

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا رَّجُلَیْنِ جَعَلْنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّتَیْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَّ حَفَفْنٰهُمَا بِنَخْلٍ وَّ جَعَلْنَا بَیْنَهُمَا زَرْعًاؕ Open ayah 18:32 in the Quran reader

اے محمدؐ! اِن کے سامنے ایک مثال پیش کرو دو شخص تھے ان میں سے ایک کو ہم نے انگور کے دو باغ دیے اور اُن کے گرد کھجور کے درختوں کی باڑھ لگائی اور ان کے درمیان کاشت کی زمین رکھی

[وَاضْرِبْ : اور آپ ﷺ بیان کریں ] [لَهُمْ : ان لوگوں کے لئے ] [مَّثَلًا : ایک مثال ] [رَّجُلَيْنِ : دو آدمیوں کی ] [جَعَلْنَا : ہم نے بنایا ] [لِاَحَدِهِمَا : ان دونوں کے ایک کے لئے ] [جَنَّتَيْنِ : دو باغ ] [مِنْ اَعْنَابٍ : انگوروں کے ] [وَّحَفَفْنٰهُمَا : اور ہم نے گھیرا ڈالا دونوں کے گرد ] [بِنَخْلٍ : کچھ کھجوروں سے ] [وَّجَعَلْنَا : اور ہم نے بنایا ] [بَيْنَهُمَا : دونوں کے مابین ] [زَرْعًا : ایک کھیتی ] حف حَفًّا کسی کو گھیرنا۔ کسی کے گرد گھیرا ڈالنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 32 حافٌّ اسم الفاعل ہے۔ گھیرنے والا۔ گھیرا ڈالنے والا۔ وَ تَرَی الْمَلٰگکَۃَ حَافِّیْنَ مِنْ حُوْلِ الْعَرْشِ (اور تو دیکھے گا فرشتوں کو گھیرا ڈالنے والے ہوتے ہوئے عرش کے اردگرد) 39:75
Ayah 18:33

كِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ اٰتَتْ اُكُلَهَا وَ لَمْ تَظْلِمْ مِّنْهُ شَیْئًا١ۙ وَّ فَجَّرْنَا خِلٰلَهُمَا نَهَرًاۙ Open ayah 18:33 in the Quran reader

دونوں باغ خوب پھلے پھولے اور بار آور ہونے میں انہوں نے ذرا سی کسر بھی نہ چھوڑی اُن باغوں کے اندر ہم نے ایک نہر جاری کر دی

[كِلْتَا الْجَنَّتَيْنِ : دونوں باغ ] [اٰتَتْ : دیتے تھے ] [اُكُلَهَا : اپنے پھل ] [وَلَمْ تَظْلِمْ : اور وہ (باغ) کمی نہ کرتے ] [مِّنْهُ : اس ) (پھل) میں سے ] [شَـيْــــًٔـا : کوئی چیز ] [وَّفَجَّرْنَا : اور ہم نے جاری کیا ] [خِلٰلَهُمَا : دونوں کے بیچ سے ] [نَهَرًا : ایک نہر ]
Ayah 18:34

وَّ كَانَ لَهٗ ثَمَرٌ١ۚ فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًا Open ayah 18:34 in the Quran reader

اوراُسے خوب نفع حاصل ہوا یہ کچھ پا کر ایک دن وہ اپنے ہمسائے سے بات کرتے ہوئے بولا "میں تجھ سے زیادہ مالدار ہوں اور تجھ سے زیادہ طاقتور نفری رکھتا ہوں"

[وَّكَان : اور تھا ] [لَهٗ : اس کے لئے ] [ثَمَــــرٌ: ایک پھل ] [فَقَالَ : تو اس نے کہا ] [لِصَاحِبِهٖ : اپنے ساتھی سے ] [وَ : اس حال میں کہ ] [هُوَ : وہ ] [يُحَاوِرُهٗٓ: گفتگو کر رہا تھا اس سے ] [انا : میں ] [اَكْثَرُ : زیادہ کثرت والا ہوں ] [مِنْكَ : تجھ سے ] [مَالًا : بلحاظ مال کے ] [وَّاَعَزُّ : اور زیادہ عزت والا ہوں ] [نَفَرًا : بلحاظ نفری (یعنی افرادی قوت) کے ]
Ayah 18:35

وَ دَخَلَ جَنَّتَهٗ وَ هُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنْ تَبِیْدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًاۙ Open ayah 18:35 in the Quran reader

پھر وہ اپنی جنّت میں داخل ہوا اور اپنے نفس کے حق میں ظالم بن کر کہنے لگا "میں نہیں سمجھتا کہ یہ دولت کبھی فنا ہو جائے گی

[وَدَخَلَ : اور وہ داخل ہوا ] [جَنَّتَهٗ : اپنے باغ میں ] [وَ : اس حال میں کہ ] [هُوَ : وہ ] [ظَالِمٌ: ظلم کرنے والا تھا ] [لِنَفْسِهٖ : اپنے آپ پر ] [قَالَ : اس نے کہا ] [مَآ اَظُنُّ : میں نہیں سمجھتا ] [ان : کہ ] [تَبِيْدَ : برباد ہوگا ] [هٰذِهٖٓ: یہ (باغ)] [اَبَدًا : کبھی بھی ] ب ی د [بَیَادًا : (ض) ] بیابان میں کسی چیز کا پراگندہ ہونا۔ تباہ و برباد ہونا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 35 ۔
Ayah 18:36

وَّ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّیْ لَاَجِدَنَّ خَیْرًا مِّنْهَا مُنْقَلَبًا Open ayah 18:36 in the Quran reader

اور مجھے توقع نہیں کہ قیامت کی گھڑی کبھی آئے گی تاہم اگر کبھی مجھے اپنے رب کے حضور پلٹایا بھی گیا تو ضرور اِس سے بھی زیادہ شاندار جگہ پاؤں گا"

[وَّمَآ اَظُنُّ : اور میں نہیں سمجھتا ] [السَّاعَةَ : قیامت کو ] [قَاۗىِٕمَةً : قائم ہونے والی ] [وَّلَىِٕنْ : اور بیشک اگر ] [رُّدِدْتُّ : لوٹایا گیا مجھ کو ] [اِلٰى رَبِيْ : میرے رب کی طرف ] [لَاَجِدَنَّ : تو میں لازماً پائوں گا ] [خَيْرًا مِّنْهَا : اس سے بہتر ] [مُنْقَلَبًا : پلٹنے کی جگہ ]
Ayah 18:37

قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَكَفَرْتَ بِالَّذِیْ خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوّٰىكَ رَجُلًاؕ Open ayah 18:37 in the Quran reader

اُس کے ہمسائے نے گفتگو کرتے ہوئے اس سے کہا "کیا تو کفر کرتا ہے اُس ذات سے جس نے تجھے مٹی سے اور پھر نطفے سے پیدا کیا اور تجھے ایک پورا آدمی بنا کھڑا کیا؟

[قَالَ : کہا ] [لَهٗ : اس سے ] [صَاحِبُهٗ : اس کے ساتھی نے ] [وَ : اس حال میں کہ ] [هُوَ : وہ ] [يُحَاوِرُهٗٓ: گفتگو کر رہا تھا اس سے ] [اَ : کیا ] [كَفَرْتَ : تو نے انکار کیا ] [بِالَّذِي : اس کا جس نے ] [خَلَقَكَ : پیدا کیا تجھ کو ] [مِنْ تُرَابٍ : ایک مٹی سے ] [ثُمَّ : پھر ] [مِنْ نُّطْفَةٍ : ایک نطفہ سے ] [ثُمَّ : پھر ] [سَوّٰىكَ : ٹھیک ٹھاک کیا تجھ کو ] [رَجُلًا : بطور ایک مرد کے ]
Ayah 18:38

لٰكِنَّاۡ هُوَ اللّٰهُ رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:38 in the Quran reader

رہا میں، تو میرا رب تو وہی اللہ ہے اور میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا

[لٰكِنَا : لیکن میں (کہتا ہوں کہ) [هُوَ : وہ ] [اللّٰهُ : اللہ ] [رَبِيْ : میرا رب ہے ] [وَلَآ اُشْرِكُ : اور میں شریک نہیں کرتا ] [بِرَبِيْٓ: اپنے رب کے ساتھ ] [اَحَدًا : کسی ایک کو ] ترکیب : (آیت۔ 38) لٰکِنَّا کے الف پر قرآن مجید کے نسخوں میں یا تو کانٹا (x) لگا ہوتا ہے یا ایک گول نشان (o) ہوتا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ یہ الف پڑھا نہیں جائے گا۔ اس لئے اس کو لٰکِنَّ پڑھنا ہے۔ لیکن یہ لٰکِنَّ بھی نہیں ہے۔ اگر یہ لٰکِنَّ ہوتا تو اس کے آگے ضمیر مرفوعہ ھُوَ کے بجائے ضمیر منصوبہ آتی اور یہ لَکِنَّہٗ آتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ دراصل لٰکِنْ اَنَا ہے جس کو لٰکِنَّا لکھا اور لٰکِنَّ پڑھا جاتا ہے،
Ayah 18:39

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَآءَ اللّٰهُ١ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ١ۚ اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَّ وَلَدًاۚ Open ayah 18:39 in the Quran reader

اور جب تو اپنی جنت میں داخل ہو رہا تھا تو اس وقت تیری زبان سے یہ کیوں نہ نکلا کہ ماشاءاللہ، لا قوة الّا باللہ؟ اگر تو مجھے مال اور اولاد میں اپنے سے کمتر پا رہا ہے

[وَلَوْلَآ : اور کیوں نہیں ] [اِذْ : جب ] [دَخَلْتَ : تو داخل ہوا ] [جَنَّتَكَ : اپنے باغ میں ] [قُلْتَ : تو تو نے کہا ] [مَا : جو ] [شَاۗءَ : چاہا ] [اللّٰهُ : اللہ نے ] [لَا قُوَّةَ : کوئی بھی قوت نہیں ] [اِلَّا : مگر ] [بِاللّٰهِ : اللہ سے ] [ان : اگر ] [تَرَنِ انا : تو دیکھتا ہے مجھ کو ] [اَقَلَّ : کمتر ] [مِنْكَ : اپنے سے ] [مَالًا : بلحاظ مال کے ] [وَّوَلَدًا : اور اولاد کے ] (آیت۔ 39) مضارع تَرٰی کو اِنْ نے مجزوم کیا تو یا گرگئی اور اِنْ تَرَ باقی بچا۔ اس کے آگے ضمیر مفعولی نِیْ ہے۔ نِ اس کا نون وقایہ ہے۔ اس کے آگے اَنَا اگر مبتدا ہوتا تو اس کی خبر اَقَلُّ آتی لیکن اَقَلَّ حالب نصب میں ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اَنَا دراصل ضمیر مفعولی نِیْ کی تاکید کے لئے آیا ہے اور ترکا مفعول ہونے کی وجہ سے اَقَلَّ حالت نصب میں ہے۔
Ayah 18:40

فَعَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یُّؤْتِیَنِ خَیْرًا مِّنْ جَنَّتِكَ وَ یُرْسِلَ عَلَیْهَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ فَتُصْبِحَ صَعِیْدًا زَلَقًاۙ Open ayah 18:40 in the Quran reader

تو بعید نہیں کہ میرا رب مجھے تیری جنت سے بہتر عطا فرما دے اور تیری جنت پر آسمان سے کوئی آفت بھیج دے جس سے وہ صاف میدان بن کر رہ جائے

[فَعَسٰي : تو امید ہے ] [رَبِيْٓ: میرے رب سے ] [ان : کہ ] ] يُّؤْتِيَنِ : وہ دے گا مجھ کو ] [خَيْرًا : بہتر ] [مِّنْ جَنَّتِكَ : تیرے باغ سے ] [وَيُرْسِلَ : اور وہ بھیج دے گا ] [عَلَيْهَا : اس پر ] [حُسْـبَانا : کوئی آفت ] [مِّنَ السَّمَاۗءِ : آسمان سے ] [فَتُصْبِحَ : نتیجۃ وہ (باغ) ہوجائے گا ] [صَعِيْدًا زَلَقًا : ایک چکنا میدان ] ز ل ق [زَلَقًا : (س) ] قدم پھسلنا۔ زَلَقٌ صفت بھی ہے۔ پھسلتی جگہ۔ چکنی۔ زیر مطالعہ آیت۔ 40 (افعال) اِزْلَاقًا پھسلانا۔ وَاِنْ یَّکَادُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِیُزْ لِقُوْنَکَ بِاَبْصَارِھِمْ (اور یقینا قریب ہے کہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا۔ پھسلا دیں آپ ﷺ کو اپنی آنکھوں سے یعنی گھور گھور کے) 68:51 (آیت۔ 40) ۔ اَنْ یُّؤْتِیَنِ میں بھی نون وقایہ ہے۔