Ayah 17:1[سُبْحٰنَ الَّذِيٓ: اس کی پاکیزگی ہے جو ] [اَسْرٰى: لے گیا ] [بِعَبْدِهٖ : اپنے بندے کو ] [لَيْلًا : رات کے کسی وقت ] [مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ : مسجد حرام سے ] [اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِي : اس مسجد اقصیٰ تک ] [بٰرَكْنَا : ہم نے برکت دی ] [حَوْلَهٗ : جس کے ارد گرد کو ] [لِنُرِيَهٗ : تکہ ہم دکھائیں اس کو ] [مِنْ اٰيٰتِنَا : اپنی نشانیوں میں سے ] [انهٗ : بیشک وہ ] [هُوَ السَّمِيْعُ : ہی سننے والا ہے ] [الْبَصِيْرُ : دیکھنے والا ہے ]
ترکیب : (آیت۔ 1) لَیْلًا ظرف زماں ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔ اَلْاَقْصٰی کو اَلْاَقْصَا لکھنا قرآن مجید کا مخصوص املاء ہے۔ لِنُرِیَہٗ کے لام کا تعلق بٰرَکْنَا سے نہیں ہے بلکہ اصرای سے ہے۔
نوٹ۔ 1: آیت نمبر ایک میں واقعۂ معراج کا ذکر ہے۔ یہ واقعہ ہجرت سے ایک سال قبل پیش آیا۔ حدیث کی کتابوں میں اس کی تفصیلات بکثرت صحابہ ؓ سے مروی ہیں۔ جن کی تعداد 25 تک ہے۔ آیت کے الفاظ کہ ” ایک رات اپنے بندے کو لے گیا “ جسمانی سفر پر صریحاً دلالت کرتے ہیں۔ خواب کے سفر یا کشفی سفر کے لئے یہ الفاظ کسی طرح موزوں نہیں ہوسکتے۔ اس لئے ماننا پڑتا ہے کہ یہ محض ایک روحانی تجربہ نہ تھا بلکہ ایک جسمانی سفر اور عینی مشاہدہ تھا جو اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو کرایا۔ ممکن اور ناممکن کی بحث تو صرف اس صورت میں پیدا ہوتی ہے جب کسی انسان کے اپنے اختیار سے خود کوئی کام کرنے کا معاملہ زیر بحث ہو۔ لیکن جب ذکر یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں کام کہا، تو پھر امکان کا سوال وہی شخص اٹھا سکتا ہے جسے اللہ کے قادر مطلق ہونے کا یقین نہ ہو۔ (تفہیم القرآن سے ماخوذ) ۔
Ayah 17:2[وَاٰتَيْنَا : اور ہم نے دی ] [مُوْسَي : موسٰی (علیہ السلام) کو ] [الْكِتٰبَ : کتاب ] [وَجَعَلْنٰهُ : اور ہم نے بنایا اس کو ] [هُدًى: ہدایت ] [لِبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ : بنی اسرائیل کے لئے ] [اَلَّا تَتَّخِذُوْا : کہ تم لوگ مت بنائو ] [مِنْ دُوْنِيْ : میرے علاوہ ] [وَكِيْلًا : کوئی کارساز ]
Ayah 17:3[ذُرِّيَّــةَ مَنْ : اے ان کی اولادجن کو ] [حَمَلْنَا : ہم نے سوار کیا ] [مَعَ نُوْحٍ : نوح (علیہ السلام) کے ساتھ ] [انهٗ : بیشک وہ ] [كَان : تھے ] [عَبْدًا شَكُوْرًا : بہت شکرگزار بندے ]
(آیت۔ 3) ذُرِّیَّۃَ مضاف ہے اور مَنْ اس کا مضاف الیہ ہے۔ ذُرِّیَّۃَ کے حالت نصب میں ہونے کی متعدد وجوہات بیان کی گئی ہیں۔ ہماری ترجیح یہ ہے کہ اس کو منادٰی کا مضاف مانا جائے یعنی اس سے پہلے حرفِ ندا ” یا “ محذوف ہے اور اس کا تعلق لَا تَتَّخِذُوْا سے ہے۔
Ayah 17:4[وَقَضَيْنَآ : اور ہم نے فیصلہ کیا ] [اِلٰى بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ : بنی اسرائیل کی طرف ] [فِي الْكِتٰبِ : اس کتاب میں ] [لَتُفْسِدُنَّ : (کہ) تم لوگ لازماً نظم بگاڑو گے ] [فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [مَرَّتَيْنِ : دو مرتبہ ] [وَلَتَعْلُنَّ : اور تم لوگ لازماً عروج پائو گے ] [عُلُوًّا كَبِيْرًا : ایک بڑا عروج ]
Ayah 17:5[فَاِذَا : پھر جب ] [جَاۗءَ : آیا ] [وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا : ان دونوں (باری) کی پہلی کا وعدہ ] [بَعَثْنَا : تو ہم نے بھیجا ] [عَلَيْكُمْ : تم لوگوں پر ] [عِبَادًا لَّنَآ : اپنے کچھ ایسے بندے جو ] [اُولِيْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ : شدید جنگ والے تھے ] [فَجَاسُوْا : تو وہ گھس گئے ] [خِلٰلَ الدِّيَارِ : گھروں کے درمیان ] [وَكَان : اور وہ تھا ] [وَعْدًا مَّفْعُوْلًا : ایک کیا ہوا وعدہ ]
ج و س
[جَوْسًا : (ن) ] لوٹ مار کے لئے کسی جگہ گھس جانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 5
Ayah 17:6[ثُمَّ : پھر ] [رَدَدْنَا : ہم نے لوٹا دیا ] [لَكُمُ : تمہارے لئے ] [الْكَرَّةَ : اس باری کو ] [عَلَيْهِمْ : ان لوگوں پر ] [وَاَمْدَدْنٰكُمْ : اور ہم نے مدد دی تم کو ] [بِاَمْوَالٍ : مالوں سے ] [وَّبَنِيْنَ : اور بیٹوں سے ] [وَجَعَلْنٰكُمْ : اور ہم نے کردیا تم کو ] [اَكْثَرَ : زیادہ ] [نَفِيْرًا : بطور جتّھے کے ]
ترکیب : (آیت۔ 6) ۔ جَعَلْنَا کا مفعول اول کُمْ کی ضمیر ہے اور اَکْثَرَ مفعول ثانی ہے جبکہ نَفِیْرًا تمیز ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔ (آیت۔ 7) ۔ فَلَھَا میں ھَا کی ضمیر اَنْفس کے لئے ہے۔ وَعْدُ الْاٰخِرَۃِ کے بعد آیت۔ 6 کا پورا جملہ بَعَثْنَا سے بَاسٍ شَدِیْدٍ تک محذوف ہے۔ لِیَسُوْئٗا دراصل یَسُوْئُ وْنَ تھا۔ لام گی داخل ہونے کی وجہ سے نون گرا تو یَسُوْئُ وْا باقی بچا۔ اس کو یَسُوْئٗ ا لکھنا قرآن کا مخصوص املائ۔
Ayah 17:7[ان : اگر ] [اَحْسَنْتم : بھلائی کرتے ہو ] [اَحْسَنْتم : تو بھلائی کرتے ہو ] [لِانفُسِكُمْ : اپنی جانوں کے لئے ] [وَان : اور اگر ] [اَسَاْتم : تم برائی کرتے ہو ] [فَلَهَا : تو ان کے لئے ] [فَاِذَا : پھر جب ] [جَاۗءَ : آیا ] [وَعْدُ الْاٰخِرَةِ : آخری (باری) کا وعدہ ] [لِيَسُوْۗءٗا : (تو ہم نے بھیجا جنگجو بندوں کو) کہ وہ بگاڑ دیں ] [وُجوهَكُمْ : تمہارے چہروں کو ] [وَلِيَدْخُلُوا : اور تاکہ وہ داخل ہوں ] [الْمَسْجِدَ : مسجد میں ] [كَمَا : جیسے کہ ] [دَخَلُوْهُ : وہ داخل ہوئے اس میں ] [اَوَّلَ مَرَّةٍ : پہلی مرتبہ ] [وَّلِــيُتَبِرُوْا : اور تاکہ وہ برباد کریں ] [مَا : اس کو جس پر ] [عَلَوْا : وہ غالب ہوں ] [تَتْبِيْرًا : جیسے کہ برباد کرتے ہیں ]
Ayah 17:8[عَسٰي : بعید نہیں ] [رَبُّكُمْ : تمہارے رب سے ] [ان : کہ ] [يَّرْحَمَكُمْ : وہ رحم کرے تم پر ] [وَان : اور اگر ] [ عُدْتم : تم واپس ہوئے (گناہ کی طرف)] [عُدْنَا : تو ہم واپس ہوں گے (سزا کی طرف)] [وَجَعَلْنَا : اور ہم نے بنایا ] [جَهَنَّمَ : جہنم کو ] [لِلْكٰفِرِيْنَ : کافروں کے لئے ] [حَصِيْرًا : ایک قید خانہ ]
Ayah 17:9[ان : یقینا ] [هٰذَا الْقُرْاٰنَ : یہ قرآن ] [يَهْدِيْ : ہدایت دیتا ہے ] [لِلَّتِيْ : اس کے لئے جو کہ ] [ھِيَ : وہ ہی ] [اَقْوَمُ : سب سے سیدھی (راہ) ہے ] [وَيُبَشِّرُ : اور وہ بشارت دیتا ہے ] [الْمُؤْمِنِيْنَ الَّذِينَ : ان ایمان لانے والوں کو جو ] [يَعْمَلُوْنَ : عمل کرتے ہیں ] [الصّٰلِحٰتِ : نیکیوں کے ] [ان : کہ ] [لَهُمْ : ان کے لئے ہے ] [اَجْرًا كَبِيْرًا : ایک بڑا اجر ]
(آیت۔ 9) لِلَّتِیْ ھِیَ کے بعد اَقْوَمُ مذکر کا استعمال بتارہا ہے کہ اس کا مضاف الیہ محذوف ہے جو کہ اَلسُّبُلِ ہوسکتا ہے اور یہ تفضیل کل ہے۔ (دیکھیں آسان عربی گرامر، پیراگراف۔ 7:62)
Ayah 17:10[وَّان : اور (بشارت دیتا ہے) کہ ] [الَّذِينَ : وہ لوگ جو ] [لَا يُؤْمِنُوْنَ : ایمان نہیں لاتے ] [بِالْاٰخِرَةِ : آخرت پر ] [اَعْتَدْنَا : ہم نے تیار کیا ہے ] [لَهُمْ : ان کے لئے ] [عَذَابًا اَلِـــيْمًا : ایک دردناک عذاب ]
نوٹ۔ 1: تورات میں کہہ دیا تھا کہ بنی اسرائیل دو بار شرارت کریں گے۔ (اپنے عروج کے نشہ میں بدمست ہو کر۔ مرتب) اس کی جزا میں دشمن ان کے ملک پر غالب ہوں گے۔ اسی طرح ہوا۔ ایک بار جالوت غالب ہوا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت دائود (علیہ السلام) کے ہاتھ سے ہلاک کیا اور بنی اسرائیل نے دوبارہ عروج حاصل کیا جس کی انتہاء حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت تھی۔ دوسری بار بخت نصر غالب ہوا اور اس کے بعد سے ان کی سلطنت نے قوت نہیں پکڑی بعض علماء نے پہلے وعدہ سے بخت نصر کا حملہ، جو 587 قبل مسیح ہوا تھا، اور دوسرے وعدہ سے طیطوس رومی کا حملہ، جو زفع مسیح کے ستر سال بعد ہوا تھا، مراد لیا ہے۔ کیونکہ ان دونوں حملوں میں مقدس ہیکل سلیمانی کو برباد کیا گیا۔ (ترجمۂ شیخ الہند) ۔ طیطوس رومی کے حملے کے وقت یہودیوں کی حکومت نہیں تھی بلکہ اس وقت فلسطین سلطنت روم کا ایک صوبہ تھا جس میں یہودیوں کو کچھ صوبائی خودمختاری حاصل تھی۔ البتہ وہ اپنی حکومت قائم کرنے کے لئے روم کے خلاف بغاوت کرتے رہتے تھے۔ اس کی سزا دینے کے لئے طیطوس نے حملہ کیا تھا۔
Ayah 17:11[وَيَدْعُ : اور دعوت دیتا ہے ] [الْانسَان : انسان ] [بِالشَّرِّ : برائی کو ] [دُعَاۗءَهٗ : (جیسے) اس کا دعوت دینا ہو ] [بِالْخَيْرِ : بھلائی کو ] [وَكَان : اور ہے ] [الْانسَان : انسان ] [عَجولًا : بہت جلد باز ]
ترکیب : (آیت۔ 11) یَدْعُ مضارع مجزوم نہیں ہے بلکہ یہ مضارع معروف یَدْعُوْ ہے۔ یہ قرآن کا مخصوص املاء ہے کہ اس کو یہاں یَدْعُ لکھا جاتا ہے۔
Ayah 17:12[وَجَعَلْنَا : اور ہم نے بنایا ] [الَّيْلَ : رات کو ] [وَالنَّهَارَ : اور دن کو ] [اٰيَـتَيْنِ : دو نشانیاں ] [فَمَــحَوْنَآ : پھر ہم نے مٹایا ] [اٰيَةَ الَّيْلِ : رات کی نشانی کو ] [وَجَعَلْنَآ : اور ہم نے بنایا ] [اٰيَةَ النَّهَارِ : دن کی نشانی کو ] [مُبْصِرَةً : دیکھنے والی ] [لِتَبْتَغُوْا : تاکہ تم لوگ تلاش کرو ] [فَضْلًا : کچھ فضل ] [مِّنْ رَّبِكُمْ : اپنے رب سے ] [وَلِتَعْلَمُوْا : اور تاکہ تم لوگ جان لو ] [عَدَدَ السِّنِيْنَ : برسوں کی گنتی کو ] [وَالْحِسَابَ : اور حساب کو ] [وَكُلَّ شَيْءٍ : اور ہر ایک چیز کو !] [فَصَّلْنٰهُ : ہم نے تفصیل سے بتایا اس کو ] [تَفْصِيْلًا : جیسے کھول کھول کر بتاتے ہیں ]
(آیت۔ 12) اَلْحِسَابَ کی نصب بتارہی ہے کہ یہ عَدَدَ کا مضاف الیہ نہیں ہے بلکہ لِتَعْلَمُوْا کا دوسرا مفعول ہے۔ کُلَّ شَیْئٍ میں کُلَّ کی نصب بتارہی ہے کہ یہ کسی فعل محذوف کا مفعول ہے۔ یہ فَصَّلْنَا کا مفعول مقدم نہیں ہوسکتا کیونکہ ضمیر مفعولی لـہُ اس کا مفعول ہے۔
Ayah 17:13[وَكُلَّ انسَان : اور ہر ایک انسان کو !] [اَلْزَمْنٰهُ : ہم نے چپکا دی اس سے ] [طٰۗىِٕرَهٗ : اس کی شامت عمل ] [فِيْ عُنُقِهٖ : اس کی گردن میں ] [وَنُخْرِجُ : اور ہم نکالیں گے ] [لَهٗ : اس کے لئے ] [يَوْمَ الْقِيٰمَةِ : قیامت کے دن ] [كِتٰبًا : ایک ایسی کتاب ] [يَّلْقٰىهُ : وہ ملے گا (یعنی پائے گا) جس کو ] [مَنْشُوْرًا : کھولی ہوئی ]
ن ش ر
(ن) نَشْرًا کسی چیز کو بکھیرنا۔ پھیلانا۔ وَ یَنْشُرُ رَحْمَتَہٗ (اور وہ پھیلاتا ہے اپنی رحمت کو) 42:28 ۔
نُشُوْرًا جی اٹھنا۔ دوبارہ زندہ ہونا۔ دوبارہ اٹھنا۔ کَذٰلِکَ النُّشُوْرُ (اس طرح دوبارہ زندہ ہونا ہے) 35:9 ۔
نَاشِرٌ اسم الفاعل ہے۔ پھیلانے والا۔ وَالنّٰشِرٰتِ نَشْرًا (اور پھیلانے والیاں جیسا کہ پھیلانے کا حق ہے) 77:3 ۔
مَنْشُوْرٌ اسم المفعول ہے۔ پھیلایا ہوا۔ کھولا ہوا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 13 ۔
(افعال) اِنْشَارًا دوبارہ زندہ کرنا۔ دوبارہ اٹھانا۔ ثُمَّ اَمَاتَہٗ فَاَقْبَرَہٗ ثُمَّ اِذَا شَائَ اَنْشَرَہٗ (پھر اس نے موت دی اس کو پھر اس نے قبردی اس کو پھر جب بھی وہ چاہے گا وہ دوبارہ زندہ کرے گا اس کو) 80:21 ۔ 22 ۔
مُنْشَرٌ اسم المفعول ہے۔ زندہ یا اٹھایا جانے والا۔ وَمَا نَحْنُ بِمُنْشَرِیْنَ (اور ہم نہیں ہیں دوبارہ اٹھائے جانے والے) 44:35 ۔
(تفعیل) تَنْشِیْرًا خوب پھیلانا۔ کھولنا۔
مُنَشَّرٌ اسم المفعول ہے۔ پھیلایا ہوا۔ کھولا ہوا۔ اَنْ یُّؤْتٰی صُحُفًا مُنَشَّرَۃً (کہ ان کو دیئے جائیں کھولے ہوئے صحیفے) 74:52 ۔
(افتعال) اِنْتِشَارًا پھیل جانا۔ بکھر جانا۔ وَ مِنْ اٰیٰتِہٖ اَنْ خَلَقَکُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَا اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ (اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے پیدا کیا تم لوگوں کو ایک مٹی سے پھر جب تم لوگ ایک بشر ہوتے ہو تو پھیل جاتے ہو) 30:20 ۔
اِنْتَشِرْ فعل امر ہے۔ تو پھیل جا۔ بکھر جا۔ فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا (پھر جب کھا چکو تو منتشر ہو جائو) 33:53 ۔
مُنْتَشِرٌ اسم الفاعل ہے۔ پھیلنے والا۔ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ کَاَنَّھُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌ (وہ لوگ نکلیں گے قبروں سے گویا کہ وہ پھیلنے والی ٹڈی ہیں) 54:7 ۔
(آیت۔ 13) ۔ کُلَّ اِنْسَانٍ بھی فعل محذوف کا مفعول ہے۔
Ayah 17:14[اِقْرَاْ : تو پڑھ ] [كِتٰبَكَ : اپنی کتاب ] [كَفٰى: کافی ہے ] [بِنَفْسِكَ : تیرا نفس ] [الْيَوْمَ : آج کے دن ] [عَلَيْكَ : تجھ پر ] [حَسِيْبًا : بطور حساب لینے والے کے ]
Ayah 17:15[مَنِ : جس نے ] [اهْتَدٰى: ہدایت پائی ] [فَانمَا : تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [يَهْــتَدِيْ : وہ ہدایت پاتا ہے ] [لِنَفْسِهٖ : اپنے نفس کے لئے ] [وَمَنْ : اور جو ] [ضَلَّ : گمراہ ہوا ] [فَانمَا : تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [يَضِلُّ : وہ گمراہ ہوتا ہے ] [عَلَيْهَا : اس پر ] [وَلَا تَزِرُ : اور نہیں اٹھائے گی ] [وَازِرَةٌ: کوئی اٹھانے والی (جان)] [وِّزْرَ اُخْرٰى: کسی دوسری کا بوجھ ] [وَمَا كُنَا : اور ہم نہیں ہیں ] [مُعَذِّبِيْنَ : عذاب دینے والے ] [حَتّٰى: یہاں تک کہ ] [نَبْعَثَ : ہم بھیجیں ] [رَسُوْلًا : کوئی رسول ]
Ayah 17:16[وَاِذَآ : اور جب ] [اَرَدْنَآ : ہم ارادہ کرتے ہیں ] [ان : کہ ] [نُّهْلِكَ : ہم ہلاک کریں ] [قَرْيَةً : کسی بستی کو ] [اَمَرْنَا : تو ہم حکم دیتے ہیں ] [مُتْرَفِيْهَا : اس کے خوشحال لوگوں کو ] [فَفَسَقُوْا : پھر وہ نافرمانی کرتے ہیں ] [فِيْهَا : اس میں ] [فَحَقَّ : تو ثابت ہوجاتی ہے ] [عَلَيْهَا : اس (بستی) پر ] [الْقَوْلُ : بات ] [فَدَمَّرْنٰهَا : تو ہم اس کو اجاڑ دیتے ہیں ] [تَدْمِيْرًا : جیسا کہ اجاڑنے کا حق ہے ]
Ayah 17:17[وَكَمْ اَهْلَكْنَا : اور کتنی ہی ہم نے ہلاک کیں ] [مِنَ الْقُرُوْنِ : قوموں میں سے ] [مِنْۢ بَعْدِ نُوْحٍ : نوح (علیہ السلام) کے بعد ] [وَكَفٰى: اور کافی ہے ] [بِرَبِكَ : آپ ﷺ کا رب ] [بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ : اپنے بندوں کے گناہوں سے ] [خَبِيْرًۢا : باخبر ہونے کے لحاظ سے ] [بَصِيْرًا : دیکھنے والا ہونے کے لحاظ سے ]
Ayah 17:18[مَنْ : جو ] [كَان يُرِيْدُ : چاہتا رہتا ہے ] [الْعَاجِلَةَ : دنیا کو ] [عَجَّــلْنَا : تو ہم جلدی کردیتے ہیں ] [لَهٗ : اس کے لئے ] [فِيْهَا : اس (دنیا) میں ] [مَا : وہ (چیز) جو ] [نَشَاۗءُ : ہم چاہتے ہیں ] [لِمَنْ : اس کے لئے جس کے لئے ] [نُّرِيْدُ : ہم چاہتے ہیں ] [ثُمَّ : پھر ] [جَعَلْنَا : ہم بناتے ہیں ] [لَهٗ : اس کے لئے ] [جَهَنَّمَ : جہنم ] [يَصْلٰىهَا : وہ گرے گا اس میں ] [مَذْمُوْمًا : مذمت کیا ہوا ] [مَّدْحُوْرًا : کھدیرا ہوا ہوتے ہوئے ]
نوٹ۔ 1: اللہ تعالیٰ جب کسی قوم پر ناراض ہوتا ہے اور اس کو عذاب میں مبتلا کرنا چاہتا ہے تو اس کی ابتدائی علامت یہ ہوتی ہے کہ اس قوم کے حاکم ایسے لوگ بنا دیئے جاتے ہیں جو عیش پسند ہوں، یا اگر حاکم نہ بھی بنائے جائیں تو اس قوم میں ایسے لوگوں کی کثرت کردی جاتی ہے۔ دونوں صورتوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ دنیا میں مست ہو کر اللہ کی نافرمانیاں خود بھی کرتے ہیں اور دوسروں کے لئے بھی اس کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ پھر ان پر اللہ کا عذاب آجاتا ہے۔ (معارف القرآن)
نوٹ۔ 2: زیر مطالعہ آیت۔ 18 ۔ 19 ۔ میں دنیا اور آخرت کے طالب اور ان کی جزاء کا ذکر ہے۔ صرف دنیا کے طلبگاروں کے لئے مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَۃَ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ جس میں ہمیشگی کا مفہوم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جہنم کی سزا صرف اس صورت میں ہے کہ اس کے عمل میں ہر وقت صرف دنیا ہی کی غرض چھائی ہوئی ہو اور آخرت کی طرف کوئی دھیان ہی نہ ہو۔ جبکہ آخرت کے طلبگاروں کے لئے مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَۃَ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مومن جس وقت، جس عمل میں آخرت کا ارادہ اور نیت کرے گا اس کا وہ عمل مقبول ہوجائے گا خواہ کسی دوسرے عمل کی نیت میں دنیا کی طلب بھی شامل ہو۔ پھر اسی آیت میں سعی کے ساتھ لفظ سَعْیَھَا بڑھا کر یہ بتادیا گیا کہ آخرت کے لئے ہر عمل اور ہر کوشش نہ مفید ہوتی ہے اور نہ عند اللہ مقبول، بلکہ کوشش وہی معتبر ہے جو مقصد آخرت کے مناسب ہو۔ کسی کوشش کا آخرت کے مناسب ہونا یا نہ ہونا صرف رسول اللہ ﷺ کے بیان سے ہی معلوم ہوسکتا ہے۔ اس لئے جو نیک اعمال اپنی رائے اور من گھڑت طریقوں سے کئے جاتے ہیں، خواہ وہ دیکھنے میں کتنے ہی بھلے اور مفید نظر آئیں، وہ نہ اللہ کے نزدیک مقبول ہیں اور نہ ہی آخرت میں کارآمد ہوں گے۔ (معارف القرآن)
Ayah 17:19[وَمَنْ : اور جو ] [اَرَادَ : چاہتا ہے ] [الْاٰخِرَةَ : آخرت کو ] [وَسَعٰى: اور وہ بھاگ دوڑ کرتا ہے ] [لَهَا : اس کے لئے ] [سَعْيَهَا : جیسا اس کی بھاگ دوڑ کا حق ہے ] [وَ : اس حال میں کہ ] [هُوَ : وہ ] [مُؤْمِنٌ: ایمان لانے والا ہے ] [فَاُولٰۗىِٕكَ : تو وہ لوگ ہیں ] [كَان سَعْيُهُمْ : جن کی بھاگ دوڑ ہے ] [مَّشْكُوْرًا : قدر کی ہوئی ]
Ayah 17:20[كُلًّا : سب کی ] [نُّمِدُّ : ہم مدد کرتے ہیں ] [هٰٓؤُلَاۗءِ : ان کی (بھی)] [وَهٰٓؤُلَاۗءِ : اور ان کی (بھی)] [مِنْ عَطَاۗءِ رَبِكَ : آپ ﷺ کے رب کے عطیہ سے ] [وَمَا كَان : اور نہیں ہے ] [عَطَاۗءُ رَبِكَ : آپ ؐ کے رب کا عطیہ ] [مَحْظُوْرًا : روکا ہوا ]
ح ظ ر
[حَظْرًا : (ض) ] منع کرنا۔ روک لینا۔
مَحْظُوْرٌ اسم المفعول ہے۔ منع کیا ہوا۔ روکا ہوا۔ آیت زیر مطالعہ۔ 20 ۔
(افتعال) اِحْتِظَارًا اہتمام سے روکنا۔ باڑہ بنانا۔
مُحْتَظِرٌ اسم الفاعل ہے۔ روکنے والا۔ باڑہ بنانے والا۔ کَھَثِیْمِ الْمُحْتَظِرِ (باڑہ بنانے والے کی خشک ٹہنی کی مانند) 54:31 ۔
Ayah 17:21[انظُرْ : آپ ﷺ دیکھیں ] [كَيْفَ : کیسے ] [فَضَّلْنَا : ہم نے فضیلت دی ] [بَعْضَهُمْ : ان کے بعض کو ] [عَلٰي بَعْضٍ : بعض پر ] [وَلَلْاٰخِرَةُ : اور یقینا آخرت ] [اَكْبَرُ : سب سے بڑی ہے ] [دَرَجٰتٍ : درجوں کے لحاظ سے ] [وَّاَكْبَرُ : اور سب سے بڑی ہے ] [تَفْضِيْلًا : فضیلت دینے کے لحاظ سے ]
نوٹ۔ 3: آیت نمبر۔ 21 کو اگر آیت۔ 19 کے تناظر میں پڑھا جائے تو بات یہ سمجھ میں آتی ہے کہ آخرت کے لئے کوشش کرنا مطلوب بھی ہے اور محمود بھی۔ جنت میں داخلہ کا پروانہ مل جانا ہی ایک عظیم کامیابی ہے۔ لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوجاتی۔ اس کے آگے پھر جنت کی سوسائٹی میں Status یعنی درجات کا مسئلہ بھی ہے۔ اس کی طرف توجہ دلانے کے لئے ہم سے کہا گیا کہ اس دنیا میں Status کے جو فرق ہیں ان پر غور کرو اور اس حوالہ سے یہ حقیقت ذہن نشین کرلو کہ دنیا میں Status کا جو فرق ہے، وہ تو محض ایک نمونہ ہے۔ اس کا تھان تو آخرت میں کھلے گا۔ جنت کی سوسائٹی میں درجات کا فرق تعداد کے لحاظ سے بھی بہت زیادہ ہے اور ایک درجے کی دوسرے درجے پر فضیلت کے لحاظ سے بھی بہت زیادہ ہے۔
ہمیں ایمانداری سے سوچنا چاہیے کہ ہم اس دنیا کے عارضی اور فانی Status کے لئے کتنی جان مارتے ہیں اور جنت کے Status کی ہمیں کتنی فکر ہے۔ جو لوگ آخرت کے لئے کوشاں ہیں ان کسی بھی اکثریت کے ذہن میں جنت کے Status کا مسئلہ نہیں ہے پھر اس کی فکر کرنے کا کیا سوال ہے۔ ہم لوگ مرحومین کے لئے بلندیٔ درجات کی دعا تو مانگتے ہیں لیکن جنت میں اپنے درجات کی اپنی زندگی میں فکر نہیں کرتے۔ اِلاّ ماشاء اللہ۔
Ayah 17:22[لَا تَجْعَلْ : تو مت بنا ] [مَعَ اللّٰهِ : اللہ کے ساتھ ] [اِلٰـهًا اٰخَرَ : کوئی دوسرا الٰہ ] [فَتَقْعُدَ : ورنہ تو بیٹھ رہے گا ] [مَذْمُوْمًا : مذمت کیا ہوا ] [مَّخْذُوْلًا : بےبس کیا ہوا ]
Ayah 17:23[وَقَضٰى: اور فیصلہ کیا ] [رَبُّكَ : تیرے رب نے ] [اَلَّا تَعْبُدُوْٓا : کہ تم لوگ بندگی مت کرو ] [اِلَّآ : مگر ] [اِيَّاهُ : اس کی ہی ] [وَبِالْوَالِدَيْنِ : اور والدین کے ساتھ ] [اِحْسَانا : حسن سلوک کرنے کا ] [اِمَا : جب کبھی بھی ] [يَبْلُغَنَّ : پہنچ جائیں ] [عِنْدَكَ : تیرے پاس ] [الْكِبَرَ : بڑھاپے کو ] [اَحَدُهُمَآ : دونوں کا ایک ] [اَوْ : یا ] [كِلٰـهُمَا : دونوں کے دونوں ] [فَلَا تَـقُلْ : تو تو مت کہہ ] [لَّهُمَآ : ان دونوں سے ] [اُفٍّ : اف (بھی)] [وَّلَا تَنْهَرْ : اور تو مت جھڑک ] [هُمَا : ان دونوں کو ] [وَقُلْ : اور تو کہہ ] [لَّهُمَا : ان دونوں سے ] [قَوْلًا كَرِيْمًا : شریفانہ بات ]
ءف
[اَفًّا : (ن۔ ض) ] تکلیف یا بےقراری میں اُف اُف کہنا۔
اُفٍّ اسم فعل ہے بمعنی میں ناپسند کرتا ہوں۔ بیزار ہوتا ہوں، زیر مطالعہ آیت۔ 23
Ayah 17:24[وَاخْفِضْ : اور تو بچھا ] [لَهُمَا : دونوں کے لئے ] [جَنَاحَ الذُّلِ : تابعداری کا پہلو ] [مِنَ الرَّحْمَةِ : رحمت سے ] [وَقُلْ : اور تو کہہ ] [رَّبِ : اے میرے رب ] [ارْحَمْهُمَا : تو رحم کر دونوں پر ] [كَمَا : جیسے کہ ] [رَبَّيٰنِيْ : ان دونوں نے تربیت کی میری ] [صَغِيْرًا : چھوٹا ہوتے ہوئے (یعنی بچپن میں)]
نوٹ۔ 1: معارف القرآن کی جلد۔ 5 کے صفحات۔ 451 تا 457 میں والدین کے حقوق پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ ہم اس کے چند اقتباسات ذیل میں نقل کر رہے ہیں۔
1 ۔ امام قرطبی (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے والدین کے ادب و احترام اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کو اپنی عبادت کے ساتھ ملا کر واجب کیا ہے۔ جیسا کہ سورة لقمان (آیت نمبر۔ 14) میں اپنے شکر کے ساتھ والدین کے شکر کو ملا کر لازم فرمایا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کے شکر کی طرح والدین کا شکر گزار ہونا واجب ہے۔ (میرے خیال میں یہ بات ہمیں اس طرح سمجھنا چاہیے کہ اللہ کی اطاعت کے ساتھ والدین کی اطاعت اور اللہ کے شکر کے ساتھ والدین کا شکر لازم و ملزوم ہیں۔ مرتب)
2 ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ کے لئے اپنے ماں باپ کا فرمانبردار رہا اس کے لئے جنت کے دو دروازے کھلے رہیں گے۔ اور جو ان کا نافرمان ہوا اس کے لئے جہنم کے دو دروازے کھلے رہیں گے اور اگر ماں باپ میں سے کوئی ایک ہی تھا تو ایک دروازہ ۔ اس پر ایک شخص نے سوال کیا کہ یہ جہنم کی وعید اس صورت میں بھی ہے کہ ماں باپ نے اس پر ظلم کیا ہو تو آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا وَاِنْ ظَلَمَا۔ وَ اِنْ ظَلَمَا۔ وَ اِنْ ظَلَمَا۔ (اور اگر ان دونوں نے ظلم کیا) ۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ اولاد کو ماں باپ سے انتقام لینے کا حق نہیں ہے۔ اگر انہوں نے ظلم کیا تو اسے اجازت نہیں ہے کہ وہ ان کی خدمت اور اطاعت سے ہاتھ کھینچ لے۔
3 ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی رضا باپ کی رضا میں ہے اور اللہ کی ناراضی باپ کی ناراضی میں ہے۔ (میں نے ایک عالم دین سے پوچھا تھا کہ ماں اور باپ میں سے کس کا حق زیادہ ہے۔ تو انہوں نے فرمایا کہ خدمت گزاری میں ماں کا حق باپ سے زیادہ ہے اور اطاعت میں باپ کا حق ماں سے زیادہ ہے۔ مرتب)
4 ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اور سب گناہوں کی سزا تو اللہ تعالیٰ جس کو چاہتے ہیں قیامت تک مؤخر کردیتے ہیں بجز والدین کی حق تلفی اور نافرمانی کے کہ اس کی سزا آخرت سے پہلے دنیا میں بھی دی جاتی ہے۔
5 ۔ اس پر علماء و فقہاء کا اتفاق ہے کہ والدین کی اطاعت صرف جائز کاموں میں واجب ہے۔ ناجائز یا گناہ کے کام میں واجب تو کیا جائز بھی نہیں ہے۔ (کیونکہ) حدیث میں ہے کہ خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔
6 ۔ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جہاد میں شریک ہونے کی اجازت لینے کے لئے حاضر ہوا۔ آپ ﷺ نے اس سے دریافت کیا کہ کیا تمہارے والدین زندہ ہیں۔ اس نے کہا کہ ہاں زندہ ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا فَفِیْھِمَا فَجَاھِدْ (تو ان دونوں میں پھر تم جہاد کرو) ۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی خدمت میں ہی تمہیں جہاد کا ثواب مل جائے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب تک جہاد فرض کفایہ کے درجے میں ہے اس وقت تک کسی کے لئے والدین کی اجازت کے بغیر جہاد میں شریک ہونا جائز نہیں ہے۔ اسی طرح جب تک کوئی کام فرض کفایہ کے درجے میں ہو تو اولاد کے لئے وہ کام ماں باپ کی اجازت کے غیر کرنا جائز نہیں ہے۔ جس کو بقدر فرض دین کا علم حاصل ہے وہ عالم بننے کے لئے سفر کرے یا لوگوں کو تبلیغ و دعوت کے لئے سفر کرے تو یہ والدین کی اجازت کے بغیر جائز نہیں ہے۔
7 ۔ ایک شخص نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ( ﷺ) ماں باپ کے انتقال کے بعد بھی ان کا کوئی حق میرے ذمہ باقی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں۔ ان کے لئے دعاء مغفرت اور استغفار کرنا اور جو عہد انھوں نے کسی سے کیا تھا اس کو پورا کرنا اور ان کے دوستوں کا احترام کرنا اور ان کے ایسے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنا جن کا رشتہ صرف ان ہی کے واسطے سے ہے۔ والدین کے یہ حقوق ہیں جو ان کے بعد بھی تمہارے ذمہ باقی ہیں۔
8 ۔ والدین اگر مسلمان ہوں تو ان کے لئے رحمت کی دعا ظاہر ہے۔ لیکن اگر وہ مسلمان نہ ہوں تو ان کی زندگی میں یہ دعا (وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا) اس نیت سے جائز ہوگی کہ ان کو دنیا کی تکالیف سے نجات ہو اور ایمان کی توفیق ہو۔ لیکن مرنے کے بعد ان کے لئے یہ دعائِ رحمت جائز نہیں ہے۔
9 ۔ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور شکایت کی کہ میرے باپ نے میرا مال لے لیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اپنے باپ کو بلا کر لائو۔ اسی وقت حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور کہا کہ جب اس کا باپ آجائے تو آپ ﷺ اس سے پوچھیں کہ وہ کلمات کیا ہیں جو اس نے دل میں کہے ہیں اور خود اس کے کانوں نے بھی ان کو نہیں سنا۔ جب وہ اپنے والد کو لے کر آیا تو آپ ﷺ نے اس سے کہا کہ تمہارا بیٹا شکایت کرتا ہے۔ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اس کا مال چھین لو۔ والد نے کہا کہ آپ ﷺ اس سے پوچھیں کہ میں اس کی پھوپھی، خالہ یا اپنے نفس کے سوا کہاں خرچ کرتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اِیْہ “ اس کا مطلب یہ تھا کہ بس حقیقت معلوم ہوگئی۔ اب اور کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے بعد اس کے والد سے پوچھا کہ وہ کلمات کیا ہیں جن کو ابھی تک خود تمہارے کانوں نے بھی نہیں سنا۔ اس نے کہا یا رسول اللہ ( ﷺ) اللہ تعالیٰ ہر معاملہ میں آپ ﷺ پر ہمارا ایمان بڑھا دیتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ میں نے چند اشعار دل میں کہے تھے جن کو میرے کانوں نے بھی نہیں سنا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ ہمیں سنائو۔ اس نے وہ اشعار سنائے جن کا ترجمہ یہ ہے۔
” میں نے تجھے بچپن میں غذا دی اور جوان ہونے کے بعد بھی تیری ذمہ داری۔ تیرا سب کھانا پینا میری ہی کمائی سے تھا۔ جب کسی رات میں تجھے کوئی بیماری پیش آگئی تو میں نے تمام رات بیداری اور بیقراری میں گزاری۔ گویا کہ تیری بیماری مجھے ہی لگی ہے جس کی وجہ سے تمام شب روتا رہا۔ میرا دل تیری ہلاکت سے ڈرتا رہا حالانکہ میں جانتا تھا کہ موت کا ایک دن مقرر ہے جو آگے پیچھے نہیں ہوسکتا۔ پھر جب تم اس عمر کو پہنچ گئے جس کی میں تمنا کیا کرتا تھا تو تو نے میرا بدلہ سخت کلامی بنادیا گویا کہ تو ہی مجھ پر احسان کر رہا ہے۔ کاش اگر تجھ سے میرے باپ ہونے کا حق ادا نہیں ہوسکتا تو کم از کم ایسا ہی کرلیتا جیسا ایک شریف پڑوسی کیا کرتا ہے۔ “
رسول اللہ ﷺ نے یہ اشعار سن کر بیٹے کا گریبان پکڑ لیا اور فرمایا اَنْتَ وَ مَالُکَ لِاَبِیْکَ یعنی تو بھی اور تیرا مال بھی تیرے باپ کے لئے ہے۔ (ڈاکٹر غلام مرتضیٰ مرحوم نے اپنے ایک خطاب میں فرمایا تھا کہ لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ بیوی بچوں کا خرچ پورا نہیں ہوتا تو والدین کو کہاں سے دیں۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ میرے بھائی آپ کا سوال غلط ہے۔ اگر آپ مجھ سے پوچھتے کہ والدین کا خرچ پورا نہیں ہوتا تو بیوی بچوں کو کہاں سے دیں، پھر میں آپ کو بتاتا کہ آپ کو کیا کرنا چاہیے۔ مرتب)
نوٹ۔ 2: فضول خرچی کے معنی کو قرآن حکیم نے دو لفظوں سے تعبیر فرمایا ہے، ایک تبذیر اور دوسرا اسراف تبذیر کی ممانعت تو زیر مطالعہ آیت۔ 26 سے واضح ہَے جبکہ اسراف کی ممانعت وَلَاتُسْرِفُوْا (الاعراف۔ 31) سے ثابت ہے۔ بعض حضرات نے یہ تفصیل کی ہے کہ کسی گناہ میں یا بالکل بےموقع اور بےمحل خرچ کرنے کو تبذیر کہتے ہیں۔ اور جہاں خرچ کرنے کا جائز موقع تو ہو مگر ضرورت سے زیادہ خرچ کیا جائے تو اس کو اسراف کہتے ہیں۔ اس لئے تبذیر بہ نسبت اسراف کے زیادہ سخت ہے اور مبذرین کو شیطان کا بھائی قرار دیا ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 17:25[رَبُّكُمْ : تم لوگوں کا رب ] [اَعْلَمُ : سب سے زیادہ جاننے والا ہے ] [بِمَا : اس کو جو ] [فِيْ نُفُوْسِكُمْ : تمہاری طبیعتوں میں ہے ] [ان : اگر ] [تَكُوْنُوْا : تم لوگ ہو گے ] [صٰلِحِيْنَ : نیک ] [فَانهٗ : تو بیشک ] [كَان : وہ ہے ] [لِلْاَوَّابِيْنَ : بار بار رجوع کرنے والوں کے لئے ] [غَفُوْرًا : بےانتہا بخشنے والا ]
Ayah 17:26[وَاٰتِ : اور تو دے ] [ذَا الْقُرْبٰى: قرابت والے کو ] [حَقَّهٗ : اس کا حق ] [وَالْمِسْكِيْنَ : اور مسکین کو ] [وَابْنَ السَّبِيْلِ : اور مسافر کو ] [وَلَا تُبَذِّرْ : اور تو بےجا مال مت اڑا ] [تَبْذِيْرًا : جیسا بےجا مال اڑانا ہے ]
Ayah 17:27[ان : بیشک ] [الْمُبَذِّرِيْنَ : بےجا مال اڑانے والے ] [كَانوْٓا : ہیں ] [اِخْوَان الشَّيٰطِيْنِ : شیطانوں کے بھائی ] [وَكَان : اور ہے ] [الشَّيْطٰنُ : شیطان ] [لِرَبِهٖ : اپنے رب کا ] [كَفُوْرًا : انتہائی ناشکرا ]
ب ذ ر
[بَذْرًا : (ن) ] (1) کسی بات کو پھیلانا۔ اشاعت کرنا۔ (2) مال کو بکھیرنا۔ فضول خرچی کرنا۔
(تفعیل) تَبْذِیْرًا نام و نمود اور نمائش میں مال اڑانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 26 ۔
مُبَذِّرٌ اسم الفاعل ہے۔ نمائش میں مال اڑانے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 27
Ayah 17:28[وَاِمَا : اور جب کبھی ] [تُعْرِضَنَّ : تو اعراض کرے ] [عَنْهُمُ : ان سے ] [ابْتِغَاۗءَ رَحْمَةٍ : ایسی رحمت کی تلاش کرنے میں ] [مِّنْ رَّبِكَ : اپنے رب سے ] [تَرْجوهَا : تو امید کرتا ہے جس کی ] [فَقُلْ : تب تو کہہ ] [لَهُمْ : ان سے ] [قَوْلًا مَّيْسُوْرًا : نرم کی ہوئی بات ]
Ayah 17:29[وَلَا تَجْعَلْ : اور تو مت بنا ] [يَدَكَ : اپنے ہاتھ کو ] [مَغْلُوْلَةً : باندھا ہوا ] [اِلٰى عُنُقِكَ : اپنی گردن کی طرف ] [وَلَا تَبْسُطْهَا : اور تو مت کھول اس کو ] [كُلَّ الْبَسْطِ : جیسے بالکل کھولنا ہے ] [فَتَـقْعُدَ : نتیجۃً تو بیٹھ رہے ] [مَلُوْمًا : ملامت کیا ہوا ] [مَّحْسُوْرًا : تھکا ہارا ہوتے ہوئے ]
Ayah 17:30[ان : بیشک ] [رَبَّكَ : تیرا رب ] [يَبْسُطُ : کشادہ کرتا ہے ] [الرِّزْقَ : روزی کو ] [لِمَنْ : اس کے لئے جس کے لئے ] [يَّشَاۗءُ : وہ چاہتا ہے ] [وَيَــقْدِرُ : اور وہ اندازہ لگاتا ہے (یعنی ناپ تول کردیتا ہے جسے چاہتا ہے)] [انهٗ : یقینا وہ ] [كَان : ہے ] [بِعِبَادِهٖ : اپنے بندوں سے ] [خَبِيْرًۢا : ہر حال میں باخبر رہنے والا ] [بَصِيْرًا : ہر حال میں دیکھنے والا ]
Ayah 17:31[وَلَا تَقْتُلُوْٓا : اور تم لوگ قتل مت کرو ] [اَوْلَادَكُمْ : اپنی اولاد کو ] [خَشْـيَةَ اِمْلَاقٍ : مفلس ہونے کے خوف سے ] [نَحْنُ : ہم ہی ] [نَرْزُقُهُمْ : رزق دیتے ہیں ان کو ] [وَاِيَّاكُمْ : اور تم کو بھی ] [ان : یقینا ] [قَتْلَهُمْ : ان کو قتل کرنا ] [كَان : ہے ] [خِطْاً كَبِيْرًا : ایک بڑی غلطی ]
Ayah 17:32[وَلَا تَقْرَبُوا : اور تم لوگ قریب مت ہو ] [الزِّنٰٓى: زنا کے ] [انهٗ : یقینا وہ ] [كَان : ہے ] [فَاحِشَةً : ایک بےحیائی ] [وَسَاۗءَ : اور برا ہے ] [سَبِيْلًا : بلحاظ راستہ کے ]
ز ن ی
[زِنًی : (ض) ] زنا کرنا۔ وَلَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا یَزْنُوْنَ (اور وہ لوگ قتل نہیں کرتے اس جان کو جسے محترم کیا اللہ نے مگر حق کے ساتھ اور وہ لوگ زنا نہیں کرتے) ۔ 25:68 ۔
زِنًی اسم ذات بھی ہے۔ زنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 32 ۔
زَانٍ اسم فاعل ہَے۔ زنا کرنے والا۔ اَلزَّنِیْ لَا یَنْکِحُ اِلَّازَانِیَۃً اَوْمُشْرِکَۃً (زنا کرنے والا نکاح نہیں کرتا مگر زنا کرنے والی سے یا شرک کرنے والی سے) 24:3 ۔
Ayah 17:33[وَلَا تَقْتُلُوا : اور تم لوگ قتل مت کرو ] [النَّفْسَ الَّتِيْ : اس جان کو جس کو ] [حَرَّمَ : (قتل کرنا) حرام کیا ] [اللّٰهُ : اللہ نے ] [اِلَّا : مگر ] [بِالْحَقِّ : حق کے ساتھ ] [وَمَنْ : اور جو ] [قُتِلَ : قتل کیا گیا ] [مَظْلُوْمًا : مظلوم ہوتے ہوئے ] [فَقَدْ جَعَلْنَا : تو ہم نے بنادیا ہے ] [لِوَلِيِّهٖ : اس کے ولی کے لئے ] [سُلْطٰنًا : ایک اختیار ] [فَلَا يُسْرِفْ : تو اسے چاہیے کہ حد سے تجاوز نہ کرے ] [فِّي الْقَتْلِ : قتل کرنے میں ] [انهٗ : بیشک وہ ] [كَان : ہے ] [مَنْصُوْرًا : مدد کیا ہوا ]
نوٹ۔ 2: قتل نفس سے مراد صرف دوسرے انسان کا قتل ہی نہیں ہے، بلکہ خود اپنے آپ کو قتل کرنا بھی ہے۔ اس لئے کہ نفس، جس کو اللہ نے ذی حرمت قرار دیا ہے، اس کی تعریف میں دوسرے نفوس کی طرح انسان کا اپنا نفس بھی داخل ہے۔ لہٰذا جتنا بڑا جرم اور گناہ قتل انسان ہے، اتنا ہی بڑا جرم اور گناہ خود کشی بھی ہے۔ (تفہیم القرآن)
نوٹ۔ 3: اسلامی قانون میں قتل بالحق کی پانچ صورتیں ہیں۔ (1) قتل عمد کے مجرم سے قصاص (2) دین حق کے راستے میں مزاحمت کرنے والوں سے جنگ (3) اسلامی نظام حکومت کو الٹنے کی سعی کرنے والوں کو سزا (4) شادی شدہ مرد یا عورت کو ارتکابِ زنا کی سزا (5) ارتداد کی سزا۔ (تفہیم القرآن)
نوٹ۔ 4: ولی کے اختیار کا مطلب یہ ہے کہ وہ قصاص کا مطالبہ کرسکتا ہے۔ اس سے اسلامی قانون کا یہ اصول نکلتا ہے کہ قتل کے مقدمے میں اصل مدعی حکومت نہیں بلکہ اولیائے مقتول ہیں۔ ان کو اختیار ہے کہ وہ قصاص میں قاتل کو قتل کروائیں یا خون بہا لینے پر راضی ہوں یا قاتل کو بالکل معاف کردیں۔ البتہ قاتل کو سزا دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ مقتول کے اولیاء اور اس کے قبیلہ کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ خود قاتل کو قتل کریں۔ اگر ان کو حکومت کی طرف سے قصاص لینے میں مدد نہیں ملتی تب بھی انھیں قاتل سے بدلہ لینے کی اجازت نہیں۔ اگر کوئی بدلہ لیتا ہے اور خود قاتل کو قتل کردیتا ہے تو اب وہ خود قتل عمد کا مجرم اور گناہگار ہے۔ ایسی صورت میں انھیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اپنے جذبات کو قابو میں رکھنا ہے اور فیصلہ اللہ پر چھوڑ دینا ہے۔ اس حکم پر عمل کرنے والے کو بےغیرت کہنا یا سمجھنا خود بھی ایک گناہ ہے۔
نوٹ۔ 5: اسراف فی القتل کی متعدد صورتیں ہیں۔ مثلاً اگر قاتل پر قابو نہ پا سکے تو اس کے خاندان یا قبیلے کے کسی فرد کو قتل کرنا۔ یا قاتل کے ساتھ اور لوگوں کو قتل کرنا یا خون بہا لینے کے بعد پھر قتل کرنا۔ وغیرہ وغیرہ یہ سب ممنوع ہیں اور گناہ ہیں۔
Ayah 17:34[وَلَا تَقْرَبُوْا : اور تم لوگ قریب مت ہو ] [مَالَ الْيَتِيْمِ : یتیم کے مال کے ] [اِلَّا بِالَّتِيْ : سوائے اس کے ساتھ جو کہ ] [ھِيَ : وہ ہی ] [اَحْسَنُ : سب سے بہتر ہو ] [حَتّٰى: یہاں تک کہ ] [يَبْلُغَ : وہ پہنچے ] [اَشُدَّهٗ : اپنی پختگی کو ] [وَاَوْفُوْا : اور تم لوگ پورا کرو ] [بِالْعَهْدِ : وعدے کو ] [ان : یقینا ] [الْعَهْدَ : وعدہ ] [كَان : ہے ] [مَسْــــُٔـوْلًا : پوچھا جانے والا ]
Ayah 17:35[وَاَوْفُوا : اور تم لوگ پورا کرو ] [الْكَيْلَ : ناپ کو ] [اِذَا : جب بھی ] [كِلْتم : تم لوگ ناپو ] [وَ : اور ] [زِنُوْا : تم لوگ وزن کرو ] [بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَــقِيْمِ : سیدھے ترازوے سے ] [ذٰلِكَ : یہ ] [خَيْرٌ: سب سے بہتر ہے ] [وَّاَحْسَنُ : اور سب سے اچھا ہے ] [تَاْوِيْلًا : بلحاظ انجام کے ]
نوٹ۔ 1: ترازو کے لئے عربی لفظ میزان ہے۔ قــطاس کے معنی بھی ترازو ہے لیکن یہ عربی لفظ نہیں ہے۔ یہ یونانی لفظ ہے اور عرب تاجروں کے ذریعہ عرب میں بھی رائج ہوگیا۔ (حافظ احمد یار صاحب)
Ayah 17:36[وَلَا تَــقْفُ : اور تو پیچھے مت پڑ ] [مَا : اس کے ] [لَيْسَ لَكَ : نہیں ہے تیرے لئے (یعنی تیرے پاس)] [بِهٖ : جس کا ] [عِلْمٌ: کوئی علم ] [ان : یقینا ] [السَّمْعَ : سماعت ] [وَالْبَصَرَ : اور بصارت ] [وَالْفُؤَادَ : اور دل (یعنی نفقّہ)] [كُلُّ اُولٰۗىِٕكَ : ان کے سب ہیں (کہ)] [كَان : ہے ] [عَنْهُ : اس (ہر ایک) کے بارے میں ] [مَسْــــُٔــوْلًا : پوچھا جانے والا ]
ترکیب : (آیت۔ 36) اَلسَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ ، یہ سب اِنَّ کے اسم ہیں۔ اس کے آگے پورا جملہ کُلُّ اُولٍّگکَ کَانَ عَنْہُ مَسَئُوْلًا۔ اِنَّ کی خبر ہے۔ اس جملہ میں کُلُّ اُولٍّگکَ مرکب اضافی کَانَ کا اسم ہے جبکہ مَسْئُوْلًا اس کی خبر ہے۔ اس میں اِنَّ کے تینوں اسم یعنی اَلسَّمْعَ ۔ اَلْبَصَرَ اور اَلْفُؤَادَ کی طرف اشارہ ہے اس لئے اسم اشارہ اُولٍّگکَ جمع کا صیغہ آیا ہے لیکن عَنْہُ میں جمع کی ضمیر عَنْھُمْ کے بجائے واحد ضمیر عَنْہُ آئی ہے۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ہر ایک صلاحیت کے بارے میں الگ الگ پوچھا جائے گا۔
نوٹ۔ 1: آیت۔ 36، میں لفظ ” علم “ اپنے اصطلاحی اور لغوی، دونوں مفہوموں کا جامع ہے۔ (آیت۔ 16:56، نوٹ۔ 1) اس کا مطلب یہ ہے کہ ایی عقائد اور نظریات کو اختیار نہ کرے جن کی سند قرآن و حدیث میں نہ ہو۔ زندگی کے معاملات میں جن اوامر اور نواہی کی سند قرآن و حدیث میں ہو ان کے خلاف نہ کرے۔ دیگر معاملات میں قابل اعتبار معلومات کے بغیر محض ظن اور گمان کی بنیاد پر نہ تو کوئی رائے قائم کرے اور نہ ہی کوئی فیصلہ یا اقدام کرے۔
نوٹ۔ 2: زندگی کے تمام معاملات میں کوئی رائے قائم کرنے یا فیصلہ کرنے کا جو Process ہے، اس کی وضاحت آیت۔ 7:179، نوٹ۔ 2، میں کی جا چکی ہے۔ اس کو دوبارہ پڑھ لیں۔ زیر مطالعہ آیت۔ 36، میں ہم کو یہ بتایا گیا ہے کہ فیصلہ کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو صلاحیتیں دے کر انسان کو دنیا کی امتحان گاہ میں بھیجا، ان کے متعلق پوچھا جائے گا کہ ان کو استعمال بھی کیا تھا یا محض اندھی تقلید پر ہی زندگی بسر کرتے رہے اور اگر استعمال کیا تھا تو کس مقصد کے لئے استعمال کیا تھا۔
نوٹ۔ 3: آیت۔ 36 میں الفاظ آئے ہیں ” عَنْہُ مَسْئُوْلًا “ عام طور پر اس کا مطلب بیان کیا گیا ہے کہ کان، آنکھ اور دل سے پوچھا جائے گا لیکن استادِ محترم حافظ احمد یار صاحب کو اس سے اتفاق نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سَئَلَ زَیْدًا کا مطلب ہے اس نے زید سے پوچھا۔ جبکہ سَئَلَ عَنْ زَیْدٍ کا مطلب ہے اس نے زید کے بارے میں پوچھا۔ اس لحاظ سے مذکورہ الفاظ کا مطلب یہ بنتا ہے کہ مذکورہ صلاحیتوں سے نہیں بلکہ ان کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ ترجمہ میں اور اوپر نوٹ۔ 2، میں ہم نے حافظ صاحب کی رائے کو اختیار کیا ہے۔
Ayah 17:37[وَلَا تمشِ : اور تو مت چل ] [فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [مَرَحًا : اتراتا ہوا ] [انكَ : یقینا تو ] [لَنْ تَخْرِقَ : ہرگز نہیں پھاڑ سکے گا ] [الْاَرْضَ : زمین کو ] [وَلَنْ تَبْلُغَ : اور تو ہرگز نہیں پہنچ سکے گا ] [الْجبالَ : پہاڑوں کو ] [طُوْلًا : بلحاظ لمبائی کے ]
م ر ح
[مَرَحًا : (س) ] ناز سے چلنا۔ اٹھلانا۔ اترانا۔ ذٰلِکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَبِمَا کُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَ (یہ اس سبب سے ہے جو تم لوگ خوش ہوتے تھے زمین میں حق کے بغیر اور اس سبب سے ہے جو تم لوگ اٹھلاتے تھے) 40:75 اور زیر مطالعہ آیت۔ 37 ۔
(آیت 37) مَرَحًا مصدر ہے اور حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔
Ayah 17:38[كُلُّ ذٰلِكَ : اس کا سب ہے (کہ)] [كَان : ہے ] [سَيِّئُهٗ : اس (ہر ایک) کی برائی ] [عِنْدَ رَبِكَ : آپ ﷺ کے رب کے نزدیک ] [مَكْرُوْهًا : ناپسند کی ہوئی ]
(آیت۔ 38) کُلُّ ذٰلِکَ مبتدا ہے اور آگے کا پورا جملہ اس کی خبر ہے۔ اس جملہ میں کَانَ کا اسم سَیِّئَۃٌہے جبکہ مَکْرُوْھًا اس کی خبر ہے۔
Ayah 17:39[ذٰلِكَ : یہ ] [مِمَآ : اس میں سے ہے جو ] [اَوْحٰٓى: وحی کیا ] [اِلَيْكَ : آپ ﷺ کی طرف ] [رَبُّكَ : آپ ﷺ کے رب نے ] [مِنَ الْحِكْمَةِ : حکمت میں سے ] [وَلَا تَجْعَلْ : اور مت بنا ] [مَعَ اللّٰهِ : اللہ کے ساتھ ] [اِلٰـهًا اٰخَرَ : کوئی دوسرا اِلٰہ ] [فَتُلْقٰى: نتیجۃً تو ڈالا جائے گا ] [فِيْ جَهَنَّمَ : جہنم میں ] [مَلُوْمًا : ملامت کیا ہوا ہوتے ہوئے ] [مَّدْحُوْرًا : ہانکا ہوا ہوتے ہوئے ]
Ayah 17:40[اَفَاَصْفٰىكُمْ : تو کیا مخصوص کیا تم لوگوں کو ] [رَبُّكُمْ : تمہارے رب نے ] [بِالْبَنِيْنَ : بیٹوں کے ساتھ ] [وَاتَّخَذَ : اور (خود) اس نے بنائیں ] [مِنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ : فرشتوں میں سے ] [اناثًا : بیٹیاں ] [انكُمْ : بیشک تم لوگ ] [لَتَقُوْلُوْنَ : یقینا کہتے ہو ] [قَوْلًا عَظِيْمًا : ایک بڑی بات ]