16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 16:1

اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 16:1 in the Quran reader

آ گیا اللہ کا فیصلہ، اب اس کے لیے جلدی نہ مچاؤ پاک ہے وہ اور بالا تر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں

[اَتٰٓى: ا ] [ اَمْرُ اللّٰهِ : اللہ کا حکم ] [ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ ۭ : پس تم لوگ جلدی مت مچائو اس کی ] [سُبْحٰنَهٗ : پاکیزگی اس کی ہے ] [ وَتَعٰلٰى: اور وہ بلند ہوا ] [ عَمَا : اس سے جو ] [ يُشْرِكُوْنَ : یہ لوگ شریک کرتے ہیں ] نوٹ۔ 1: اَتٰی ماضی کا صیغہ ہے اور اس کے معنی یہی ہیں کہ ” وہ پہنچا “۔ اس لئے ترجمہ میں اسی کو اختیار کیا ہے۔ لیکن عربی کا ایک انداز یہ بھی ہے کہ مستقبل میں ہونے والی کسی بات کو یقینی بنانے کے لئے مستقبل کے بجائے ماضی کا صیغہ استعمال کرتے ہیں۔ (دیکھیں آیت۔ 2:27، نوٹ۔ 3) یہاں آیت نمبر۔ 1 میں اَتٰی اسی انداز میں آیا ہے۔ اس کی توثیق آیت کے اگلے حصے فَلَاتَسْتَعْجِلُوْنَ سے ہو رہی ہے۔ اس لئے یہاں اَتٰی کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کا حکم لازماً پہنچے گا۔
Ayah 16:2

یُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اَنْ اَنْذِرُوْۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوْنِ Open ayah 16:2 in the Quran reader

وہ اِس روح کو اپنے جس بندے پر چاہتا ہے اپنے حکم سے ملائکہ کے ذریعے نازل فرما دیتا ہے (اِس ہدایت کے ساتھ کہ لوگوں کو) "آگاہ کر دو، میرے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں ہے، لہٰذا تم مجھی سے ڈرو"

[يُنَزِّلُ : وہ اتارتا ہے ] [ الْمَلٰۗىِٕكَةَ : فرشتوں کو ] [ بِالرُّوْحِ : روح ( یعنی وحی) کے ساتھ ] [ مِنْ اَمْرِهٖ : اپنے حکم سے ] [ عَلٰي مَنْ :: اس پر جس پر ] [ يَّشَاۗءُ : وہ چاہتا ہے ] [ مِنْ عِبَادِهٖٓ: اپنے بندوں میں سے ] [ ان : کہ ] [ انذِرُوْٓا : تم لوگ خبردار کرو ] [ انهٗ : (کہ) حقیقت یہ ہے کہ ] [ لَآ اِلٰهَ : کوئی بھی الٰہ نہیں ہے ] [ اِلَّآ : سوائے اس کے کہ ] [ انا : میں ہوں ] [ فَاتَّقُوْنِ : پس تم لوگ میرا تقوٰی کرو ]
Ayah 16:3

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 16:3 in the Quran reader

اُس نے آسمان و زمین کو برحق پیدا کیا ہے، وہ بہت بالا و برتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں

[خَلَقَ : اس نے پیدا کیا ] [ السَّمٰوٰتِ : آسمانوں کو ] [ وَالْاَرْضَ : اور زمین کو ] [ بِالْحَقِّ ۭـ: حق کے ساتھ ] [ تَعٰلٰى: وہ بلند ہوا ] [ عَمَا : اس سے جو ] [ يُشْرِكُوْنَ : یہ لوگ شریک کرتے ہیں ]
Ayah 16:4

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 16:4 in the Quran reader

اُس نے انسان کو ایک ذرا سی بوند سے پیدا کیا اور دیکھتے دیکھتے صریحاً وہ ایک جھگڑالو ہستی بن گیا

[خَلَقَ : اس نے پیدا کیا ] [ الْانسَان : انسان کو ] [ مِنْ نُّطْفَةٍ : پانی کی ایک بوند سے ] [ فَاِذَا : تو جب ہی ] [ هُوَ : وہ ] [ خَصِيْمٌ مُّبِيْنٌ: واضح طور پر ہمیشہ بحث کرنے والا ہے ] ن ط [نَطْفًا : (ن) پانی کا تھوڑا تھوڑا بہنا۔ ٹپکنا۔] [ نُطْفَۃٌ پانی کی بوند۔ زیر مطالعہ آیت۔ 4 ۔ ]
Ayah 16:5

وَ الْاَنْعَامَ خَلَقَهَا١ۚ لَكُمْ فِیْهَا دِفْءٌ وَّ مَنَافِعُ وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ۪ Open ayah 16:5 in the Quran reader

اس نے جانور پیدا کیے جن میں تمہارے لیے پوشاک بھی ہے اور خوراک بھی، اور طرح طرح کے دوسرے فائدے بھی

[وَالْانعام : اور (اس نے پیدا کیا) چوپایوں کو ] [ خَلَقَهَا ۚ: اس نے پیدا کیا ان کو ] [ لَكُمْ : تمہارے لئے ] [ فِيْهَا : ان میں ] [ دِفْءٌ: سردی سے بچنے (گرم رہنے) کا سامان ہے ] [ وَّمَنَافِعُ : اور کچھ (دوسرے) منافع ہیں ] [ وَمِنْهَا : اور ان میں سے ] [ تَاْكُلُوْنَ : تم لوگ کھاتے ہو ] دفء [دَفْئًا : (ک) گرمی پانا۔ گرمی محسوس کرنا۔] [ دِفْئٌ گرمی حاصل کرنے یعنی سردی سے بچنے کا سامان۔ زیر مطالعہ آیت۔ 5 ] نوٹ۔ 2: آیت نمبر۔ 5 ۔ میں چوپایوں کا ذکر کے ان کے فوائد میں سے ایک اہم فائدہ ان کا گوشت کھانا قرار دیا۔ پھر ان سے الگ کر کے آیت نمبر۔ 8 میں گھوڑوں، خچروں اور گدھوں کی تخلیق کا ذکر کیا۔ ان کے فوائد میں سواری اور زینت کا ذکر کیا لیکن گوشت کھانے کا ذکر نہیں کیا۔ اس میں یہ دلیل پائی جاتی ہے کہ گھوڑے خچر اور گدھے کا گوشت حلال نہیں ہے۔ خچر اور گدھے کا گوشت حرام ہونے پر اتفاق ہے اور ایک حدیث میں ان کی حرمت کا صراحۃً ذکر بھی ہے، مگر گھوڑے کے معاملہ میں دو حدیثیں ہیں۔ ایک سے حلال اور دوسری سے حرام ہونا معلوم ہوتا ہے۔ اس لئے اس مسئلہ میں اختلاف رائے ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے اس کو مکروہ قرار دیا ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 16:6

وَ لَكُمْ فِیْهَا جَمَالٌ حِیْنَ تُرِیْحُوْنَ وَ حِیْنَ تَسْرَحُوْنَ۪ Open ayah 16:6 in the Quran reader

اُن میں تمہارے لیے جمال ہے جب کہ صبح تم انہیں چرنے کے لیے بھیجتے ہو اور جبکہ شام انہیں واپس لاتے ہو

[وَلَكُمْ : اور تمہارے لئے ] [ فِيْهَا : ان میں ] [ جَمَالٌ: دلفریبی ہے ] [ حِيْنَ : جب ] [ تُرِيْحُوْنَ : شام کو واپس لاتے ہو ] [ وَحِيْنَ : اور جب ] [ تَسْرَحُوْنَ : چرنے کے لئے چھوڑتے ہو ]
Ayah 16:7

وَ تَحْمِلُ اَثْقَالَكُمْ اِلٰى بَلَدٍ لَّمْ تَكُوْنُوْا بٰلِغِیْهِ اِلَّا بِشِقِّ الْاَنْفُسِ١ؕ اِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 16:7 in the Quran reader

وہ تمہارے لیے بوجھ ڈھو کر ایسے ایسے مقامات تک لے جاتے ہیں جہاں تم سخت جانفشانی کے بغیر نہیں پہنچ سکتے حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب بڑا ہی شفیق اور مہربان ہے

[وَتَحْمِلُ : اور وہ اٹھاتے ہیں ] [ اَثْقَالَكُمْ : تمہارے بوجھ ] [ اِلٰى بَلَدٍ : کسی شہر کی طرف ] [ لَمْ تَكُوْنُوْا : تم لوگ نہیں تھے ] [ بٰلِغِيْهِ : پہنچنے والے اس تک ] [ اِلَّا : مگر ] [ بِشِقِّ الْانفُسِ ۭ: جانوں کی مشقت سے ] [ان : بیشک ] [ رَبَّكُمْ : آپ ﷺ کا رب ] [ لَرَءُوْفٌ: یقینا بہت نرمی کرنے والا ہے ] [ رَّحِيْمٌ : ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ]
Ayah 16:8

وَّ الْخَیْلَ وَ الْبِغَالَ وَ الْحَمِیْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَ زِیْنَةً١ؕ وَ یَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:8 in the Quran reader

اُس نے گھوڑے اور خچر اور گدھے پیدا کیے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور وہ تمہاری زندگی کی رونق بنیں وہ اور بہت سی چیزیں (تمہارے فائدے کے لیے) پیدا کرتا ہے جن کا تمہیں علم تک نہیں ہے

[وَّالْخَيْلَ : اور (اس نے پیدا کیا) گھوڑوں کو ] [ وَالْبِغَالَ : اور خچروں کو ] [ وَالْحَمِيْرَ : اور گدھوں کو ] [ لِتَرْكَبُوْهَا : تاکہ تم لوگ سواری کرو ان پر ] [ وَزِيْنَةً ۭ: اور زینت کے لئے ] [ وَيَخْلُقُ : اور وہ پیدا کرے گا ] [ مَا : اس کو جو ] [ لَا تَعْلَمُوْنَ : تم لوگ نہیں جانتے ] ب غ ل [ بَغْلًا : (ف) کسی کو دوغلا ٹھہرانا۔] بَغْلٌ ج بِغَالٌ۔ خچر۔ زیر مطالعہ آیت۔ 8 ] نوٹ۔ 3: آیت نمبر۔ 8 میں سواری کے تین جانور گھوڑے، خچر اور گدھے کا خاص طور سے بیان کرنے کے بعد فرمایا اور وہ پیدا کرے گا وہ چیزیں جن کو تم نہیں جانتے۔ اس میں وہ تمام نوایجاد سواریاں بھی داخل ہیں جن کا پرانے زمانے میں کوئی تصور بھی نہیں تھا، مثلاً ریل، موٹر، ہوائی جہاز، وغیرہ، جو اب تک ایجاد ہوچکے ہیں اور وہ تمام چیزیں بھی اس میں داخل ہیں جو آئندہ ایجاد ہوں گی۔ (معارف القرآن)
Ayah 16:9

وَ عَلَى اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِیْلِ وَ مِنْهَا جَآئِرٌ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 16:9 in the Quran reader

اور اللہ ہی کے ذمہ ہے سیدھا راستہ بتانا جب کہ راستے ٹیڑھے بھی موجود ہیں اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا

[وَعَلَي اللّٰهِ : اور اللہ پر (یعنی اس تک) ہے ] [قَصْدُ السَّبِيْلِ : راستے کا اعتدال ] [ وَمِنْهَا : اور اس سے ] [ جَاۗىِٕرٌ ۭ : کوئی بھٹکنے والا ہے ] [وَلَوْ : اور اگر ] [ شَاۗءَ : چاہتا ] [ لَهَدٰىكُمْ : تو ضرور ہدایت دیتا تم کو ] [ اَجْمَعِيْنَ : سب کے سب کو ] نوٹ۔ 4: توحید، رحمت اور ربوبیت کے دلائل پیش کر کے آیت نمبر ۔ 9 ۔ میں نبوت کی بھی ایک دلیل پیش کردی گئی ہے۔ اس کو سمجھ لیں۔ دنیا میں انسان کے لئے فکر و عمل کے بہت سے مختلف راستے ممکن ہیں اور عملاً موجود بھی ہیں۔ ظاہر ہے یہ سارے راستے بیک وقت حق نہیں ہوسکتے۔ سچائی تو ایک ہی ہے اور صحیح نظریۂ حیات صرف وہی ہوسکتا ہے جو اس سچائی کے مطابق ہو اور عمل کے بیشمار ممکن راستوں میں سے صحیح راستہ بھی صرف وہی ہوسکتا ہے جو صحیح نظریۂ حیات پر مبنی ہو۔ اس صحیح راہ عمل سے واقف ہونا انسان کی اصل اور بنیادی ضرورت ہے۔ کیونکہ دوسری تمام چیزیں تو انسان کی صرف ان ضرورتوں کو پورا کرتی ہیں جو ایک بلند درجے کا جانور ہونے کی حیثیت سے اس کو لاحق ہوا کرتی ہیں۔ مگر یہ ایک ضرورت ایسی ہے جو انسان ہونے کی حیثیت سے اس کو لاحق ہے۔ یہ اگر پوری نہ ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ آدمی کی ساری زندگی ہی ناکام ہوگئی۔ اب غور کرو کہ جس خدا نے تمہیں وجود میں لانے سے پہلے تمہارے لئے یہ کچھ سروسامان مہیا کر کے رکھا اور جس نے وجود میں لانے کے بعد تمہاری حیوانی زندگی کی ایک ایک ضرورت پورا کرنے کا اتنے بڑے پیمانے پر انتظام کیا، کیا اس سے تم یہ توقع رکھتے ہو کہ اس نے تمہاری انسانی زندگی کی اس اصلی ضرورت کو پورا کرنے کا بندوبست نہ کیا ہوگا ؟ یہ بندوبست نبوت کے ذریعہ سے کیا گیا ہے۔ اگر تم نبوت کو نہیں مانتے تو بتائو کہ تمہارے خیال میں خدا نے انسان کی ہدایت کے لئے اور کون سا انتظام کیا ہے ؟ اس کے جواب میں تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ خدا نے ہمیں راستہ تلاش کرنے کے لئے عقل و فکر دے رکھی ہے، کیونکہ انسانی عقل و فکر پہلے ہی بیشمار مختلف راستے ایجاد کر بیٹھی ہے جو راہ راست کی صحیح دریافت میں اس کی ناکامی کا کھلا ثبوت ہے اور نہ تم یہ کہہ سکتے ہو کہ خدا نے ہماری رہنمائی کا کوئی انتظام نہیں کیا ہے۔ خدا کے ساتھ اس سے بڑھ کر بدگمانی اور کوئی نہیں ہوسکتی کہ وہ جانور ہونے کی حیثیت سے تو تمہاری پرورش کا اتنا مکمل انتظام کرے، مگر انسان ہونے کی حیثیت سے تم کو بھٹکنے کے لئے چھوڑ دے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 16:10

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً لَّكُمْ مِّنْهُ شَرَابٌ وَّ مِنْهُ شَجَرٌ فِیْهِ تُسِیْمُوْنَ Open ayah 16:10 in the Quran reader

وہی ہے جس نے آسمان سے تمہارے لیے پانی برسایا جس سے تم خود بھی سیراب ہوتے ہو اور تمہارے جانوروں کے لیے بھی چارہ پیدا ہوتا ہے

[هُوَ : وہ ] [ الَّذِيٓ: وہی ہے جس نے ] [ انزَلَ : اتارا ] [ مِنَ السَّمَاۗءِ : آسمان سے ] [ مَاۗءً : کچھ پانی ] [ لَكُمْ : تمہارے لئے ] [ مِّنْهُ : اس میں سے ] [ شراب : پینے کی چیز ہے ] [ وَّمِنْهُ : اور اس میں سے ] [ شَجَـرٌ: ایسے درخت ہیں ] [ فِيْهِ : جن میں ] [ تُسِيْمُوْنَ : تم لوگ مویشی چراتے ہو ]
Ayah 16:11

یُنْۢبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ النَّخِیْلَ وَ الْاَعْنَابَ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:11 in the Quran reader

وہ اس پانی کے ذریعہ سے کھیتیاں اگاتا ہے اور زیتون اور کھجور اور انگور اور طرح طرح کے دوسرے پھل پیدا کرتا ہے اِس میں ایک بڑی نشانی ہے اُن لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں

[يُنْۢبِتُ : وہ اگاتا ہے ] [ لَكُمْ : تمہارے لئے ] [ بِهِ : اس سے ] [ الزَّرْعَ : کھیتی کو ] [ وَالزَّيْتُوْنَ : اور زیتون کو ] [ وَالنَّخِيْلَ : اور کھجوروں کو ] [ وَالْاَعْنَابَ : اور انگوروں کو ] [ وَمِنْ كُلِ الثَّمَرٰتِ ۭ: اور تمام پھلوں میں سے (بھی اگاتا ہے)] [ان : بیشک ] [ فِيْ ذٰلِكَ : اس میں ] [ لَاٰيَةً : یقینا ایک نشانی ہے ] [ لِقَوْمٍ : ایسے لوگوں کے لئے جو ] [ يَّتَفَكَّرُوْنَ : غور و فکر کرتے ہیں ] ترکیب : (آیت۔ 11) وَمِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ عطف ہے۔ یُنْبِتُ پر۔
Ayah 16:12

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ۙ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ وَ النُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَۙ Open ayah 16:12 in the Quran reader

اُس نے تمہاری بھلائی کے لیے رات اور دن کو اور سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے اور سب تارے بھی اُسی کے حکم سے مسخر ہیں اِس میں بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں

[وَسَخَّرَ : اور اس نے مطیع کیا ] [ لَكُمُ : تمہارے لئے ] [ الَّيْلَ : رات کو ] [ وَالنَّهَارَ ۙ: اور دن کو ] [ وَالشَّمْسَ : اور سوج کو ] [ وَالْقَمَرَ ۭ: اور چاند کو ] [ وَالنُّجومُ : اور تمام ستارے ] [ مُسَخَّرٰتٌۢ: مطیع کئے گئے ہیں ] [ بِاَمْرِهٖ ۭ : اس کے حکم سے ] [ان : بیشک ] [ فِيْ ذٰلِكَ : اس میں ] [ لَاٰيٰتٍ : یقینا نشانیاں ہیں ] [ لِقَوْمٍ : ایسے لوگوں کے لئے جو ] [ يَّعقلوْنَ : سوچ سمجھ سے کام لیتے ہیں ] (آیت۔ 12) وَ سَخَّرَ کے مفعول وَالْقَمَرَ پر ختم ہوگئے۔ آگے نیا جملہ ہے جس میں وَالنُّجُوْمُ مبتدا ہے اور مُسَخَّرٰتٌ اس کی خبر ہے، اس لئے دونوں حالت رفع میں ہیں۔
Ayah 16:13

وَ مَا ذَرَاَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 16:13 in the Quran reader

اور یہ جو بہت سی رنگ برنگ کی چیزیں اس نے تمہارے لیے زمین میں پیدا کر رکھی ہیں، اِن میں بھی ضرور نشانی ہے اُن لوگوں کے لیے جو سبق حاصل کرنے والے ہیں

[وَمَا : اور اس میں (بھی نشانیاں ہیں) جو ] [ ذَرَاَ : اس نے بکھیرا ] [لَكُمْ : تمہارے لئے ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [ مُخْتَلِفًا : مختلف ہوتے ہوئے ] [ اَلْوَانهٗ ۭ: ان کے رنگ ] [ ان : بیشک ] [ فِيْ ذٰلِكَ : اس میں ] [ لَاٰيَةً : یقینا ایک نشانی ہے ] [ لِقَوْمٍ : ایسے لوگوں کے لئے جو ] [ يَّذَّكَّرُوْنَ : نصیحت پکڑتے ہیں ] (آیت۔ 13) ۔ مُخْتَلِفًا اسم الفائل ہے اور حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے جبکہ اَلْوَانُ اس کا فاعل ہونے کی وجہ سے حالت رفع میں ہے۔
Ayah 16:14

وَ هُوَ الَّذِیْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 16:14 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تمہارے لیے سمندر کو مسخر کر رکھا ہے تاکہ تم اس سے ترو تازہ گوشت لے کر کھاؤ اور اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو تم دیکھتے ہو کہ کشتی سمندر کا سینہ چیرتی ہوئی چلتی ہے یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو اور اس کے شکر گزار بنو

[وَهُوَ : اور وہ ] [ الَّذِي : وہی ہے جس نے ] [ سَخَّرَ : مطیع کیا ] [ الْبَحْرَ : سمندر کو ] [ لِتَاْكُلُوْا : تاکہ تم لوگ کھائو ] [ مِنْهُ : اس میں سے ] [ لَحْمًا طَرِيًّا : کچھ تازہ گوشت ] [ وَّتَسْتَخْرِجوا : اور تاکہ تم لوگ نکالو ] [ مِنْهُ : اس میں سے ] [ حِلْيَةً : کچھ ایسے زیور ] [ تَلْبَسُوْنَهَا ۚ : تم لوگ پہنتے ہو جن کو ] [وَتَرَى: اور تو دیکھتا ہے ] [ الْفُلْكَ : کشتیوں کو ] [ مَوَاخِرَ : پانی چیرنے والی ہوتے ہوئے ] [ فِيْهِ : اس میں ] [ وَلِتَبْتَغُوْا : اور تاکہ تم لوگ تلاش کرو ] [ مِنْ فَضْلِهٖ : اس کے فضل میں سے ] [ وَلَعَلَّكُمْ : اور شاید تم لوگ ] [ تَشْكُرُوْنَ : احسان مانو ] ط رو [طَرَاوَۃً : (ک) نرم اور تروتازہ ہونا۔] [ طَرِیٌّ فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت ہے۔ تروتازہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 14 ۔] م خ ر [مَخْرًا : (ف۔ ن) پانی کو آواز کے ساتھ چیرنا۔] [ مَاخِرٌ ج مَوَاخِرٌ۔ اسم الفائل ہے۔ پانی چیرنے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 14 ۔] (آیت۔ 14) تَرَی کا مفعول ہونے کی وجہ سے اَلْفُلْکَ حالت نصب میں ہے جبکہ مَوَاخِرَ حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔ یہ اَلْفُلْکَ کی صفت نہیں ہوسکتا کیونکہ اَلْفُلْکَ معرف باللّام ہے جبکہ مَوَاخِرَ نکرہ آیا ہے۔ فِیْہِ کی ضمیر اَلْبَحْرَ کے لئے ہے۔
Ayah 16:15

وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ اَنْهٰرًا وَّ سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 16:15 in the Quran reader

اُس نے زمین میں پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں تاکہ زمین تم کو لے کر ڈھلک نہ جائے اس نے د ریا جاری کیے اور قدرتی راستے بنائے تاکہ تم ہدایت پاؤ

[ وَاَلْقٰى: اور اس نے ڈالے ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [ رَوَاسِيَ؛کچھ پہاڑ ] [ ان : کہ کہیں ] [ تميْدَ بِكُمْ : وہ لرزے تمہارے ساتھ ] [ وَانهٰرًا : اور کچھ نہریں ] [ وَّسُبُلًا : اور کچھ راستے ] [ لَعَلَّكُمْ : شاید تم لوگ ] [ تَهْتَدُوْنَ : راہ پائو ] (آیت۔ 15) ۔ رَوَاسِیَ ۔ اَنْھٰرًا۔ سُبُلًا اور عَلٰمٰتٍ ، یہ سب اَلْقٰی کا مفعول ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہیں۔
Ayah 16:16

وَ عَلٰمٰتٍ١ؕ وَ بِالنَّجْمِ هُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 16:16 in the Quran reader

اس نے زمین میں راستہ بتانے والی علامتیں رکھ دیں، اور تاروں سے بھی لوگ ہدایت پاتے ہیں

[وَعَلٰمٰتٍ ۭ: اور کچھ علامتیں (بھی ڈالیں)] [ وَبِالنَّجْمِ : اور اس ستارے سے ] [ هُمْ : وہ لوگ ] [ يَهْتَدُوْنَ : راہ پاتے ہیں ] نوٹ۔ 1: اس سورة کی ابتداشرک کی نفی سے ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے بہت بلند ہے جن کو لوگ اس کی ذات وصفات میں شریک کرتے ہیں۔ اس کے بعد آیت نمبر۔ 16 تک آفاق وانفس کی بہت سی نشانیاں پے در پے بیان کی گئی ہیں۔ ان سے یہ ذہن نشین کرانا مقصود ہے کہ انسان اپنے وجود سے لے کر زمین و آسمان کے گوشے گوشے تک جدھر چاہے نظر دوڑا کر دیکھ لے، ہر چیز پیغمبر کے بیان کی تصدیق کر رہی ہے۔ کہیں سے بھی شرک یا دہریت کی تائید میں کوئی شہادت فراہم نہیں ہوتی۔
Ayah 16:17

اَفَمَنْ یَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا یَخْلُقُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 16:17 in the Quran reader

پھر کیا وہ جو پیدا کرتا ہے اور وہ جو کچھ بھی پیدا نہیں کرتے، دونوں یکساں ہیں؟ کیا تم ہوش میں نہیں آتے؟

[اَفَمَنْ : تو کیا وہ جو ] [ يَّخْلُقُ : پیدا کرتا ہے ] [ كَمَنْ : اس کی مانند ہے جو ] [ لَّا يَخْلُقُ ۭ: پیدا نہیں کرتا ] [ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ : تو کیا تم لوگ نصیحت نہیں پکڑو گے ] پھر آیت نمبر۔ 17 میں سوال کیا گیا کہ اگر تم مانتے ہو (جیسا کہ فی الواقع مکہ کے مشرکین بھی مانتے تھے اور دنیا کے دوسرے مشرکین بھی مانتے ہیں) کہ خالق اللہ ہی ہے اور اس کائنات میں تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں سے کسی کا کچھ بھی پیدا کیا ہوا نہیں ہے، تو پھر کیسے ہوسکتا ہے کہ غیر خالق ہستیوں کی حیثیتخود خالق کے برابر ہو یا کسی طرح بھی اس کے مانند ہو۔ کیسے باور کیا جاسکتا ہے کہ خالق اور غیر خالق کی صفات ایک جیسی ہوں گی، یا وہ ایک جنس کے افراد ہوں گے، حتیٰ کہ ان کے درمیان باپ اور اولاد کا رشتہ ہوگا ؟ (تفہیم القرآن)
Ayah 16:18

وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:18 in the Quran reader

اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو گن نہیں سکتے، حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا ہی درگزر کرنے والا اور رحیم ہے

[وَان : اور اگر ] [ تَعُدُّوْا : تم لوگ گنتی کرو گے ] [ نِعْمَةَ اللّٰهِ : اللہ کی نعمت کی ] [ لَا تُحْصُوْهَا ۭ: تو شمار پورا نہ کر پائو گے اس کا ] [ ان : بیشک ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ لَغَفُوْرٌ: یقینا بےانتہا بخشنے والا ہے ] [ رَّحِيْمٌ: ہر حال میں رحم کرنے والا ہے ]
Ayah 16:19

وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 16:19 in the Quran reader

حالانکہ وہ تمہارے کھلے سے بھی واقف ہے اور چھپے سے بھی

[وَاللّٰهُ : اور اللہ ] [ يَعْلَمُ : جانتا ہے ] [ مَا : اس کو جو ] [ تُسِرُّوْنَ : تم لوگ چھپاتے ہو ] [ وَمَا : اور اس کو جو ] [ تُعْلِنُوْنَ : تم لوگ اعلان کرتے ہو ]
Ayah 16:20

وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَؕ Open ayah 16:20 in the Quran reader

اور وہ دوسری ہستیاں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر لوگ پکارتے ہیں، وہ کسی چیز کی بھی خالق نہیں ہیں بلکہ خود مخلوق ہیں

وَالَّذِينَ : اور وہ لوگ جن کو ] [ يَدْعُوْنَ : یہ لوگ پکارتے ہیں ] [ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ : اللہ کے علاوہ ] [ لَا يَخْلُقُوْنَ : وہ پید انہیں کرتے ] [ شَيْـــًٔـا : کوئی چیز ] [ وَّهُمْ : اور وہ (تو خود)] [ يُخْلَقُوْنَ : پیدا کئے گئے ہیں ] ترکیب : (آیت۔ 20) ۔ یَدْعُوْنَ کا فاعل اس میں شامل ھُمْ کی ضمیر ہے اور وَالَّذِیْنَ اس کا مفعول مقدم ہے۔ (آیت۔ 21) ۔ اَمْوَاتٌ خبر ہے۔ اس کا مبتدا ھُمْ محذوف ہے۔ اسی طرح غَیْرُ اَحْیَائٍ بھی خبر ہے اور اس کا بھی مبتدا ھُمْ محذوف ہے۔ نوٹ۔ 1: آیت نمبر۔ 20 ۔ 21 کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ یہاں جن بناوٹی معبودوں کی تردید کی جا رہی ہے وہ فرشتے یا جن یا شیاطین یا لکڑی پتھر کی مورتیاں نہیں ہیں بلکہ اصحاب قبور ہیں۔ اس لئے کہ فرشتے اور شیاطین تو زندہ ہیں، ان پر اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَائٌ کے الفاظ کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔ اور لکڑی پتھر کی مورتیوں کے معاملہ میں بعث بعد الموت کا کوئی سوال نہیں ہے، اس لئے مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ کے الفاظ انھیں بھی خارج از بحث کردیتے ہیں۔ اب لامحالہ اس میں اَلَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ سے مراد وہ انبیائ، اولیائ، شہداء اور صالحین ہیں جن کو غالی معتقدین اپنی حاجت روائی کے لئے پکارنا شروع کردیتے ہیں۔ اگر کوئی یہ کہے کہ عرب میں اس نوعیت کے معبود نہیں پائے جاتے تھے تو یہ جاہلیت عرب کی تاریخ سے ان کی ناواقفیت کا ثبوت ہے۔ عرب کے متعدد قبائل میں کثرت سے عیسائی اور یہودی پائے جاتے تھے اور یہ دونوں مذاہب بری طرح انبیائ، اولیاء اور شہداء کی پرستش سے آلودہ تھے۔ پھر مشرکین عرب کے بہت سے معبود گزرے ہوئے انسان ہی تھے جنھیں بعد کی نسلوں نے خدا بنا لیا تھا۔ بخاری میں ابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ وَدّ ، سواع، یَغوث، یَعوق، نسر، یہ سب صالحین کے نام ہیں جنھیں بعد کے لوگ بت بنا بیٹھے۔ بی بی عائشہ ؓ کی روایت ہے اساف اور نائلہ دونوں انسان تھے۔ اسی طرح کی روایات لات اور مناۃ اور عُسزّٰی کے بارے میں بھی موجود ہیں۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 16:21

اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍ١ۚ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ١ۙ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ۠ Open ayah 16:21 in the Quran reader

مردہ ہیں نہ کہ زندہ اور ان کو کچھ معلوم نہیں ہے کہ انہیں کب (دوبارہ زندہ کر کے) اٹھایا جائے گا

[اَمْوَاتٌ: (وہ لوگ) مردہ ہیں ] [ غَيْرُ اَحْيَاۗءٍ ۚ: (وہ لوگ) کسی جان کے بغیر ہیں ] [ وَمَا يَشْعُرُوْنَ ۙ : اور وہ شعور نہیں رکھتے ] [اَيَّان : کہ کب ] [ يُبْعَثُوْنَ : وہ اٹھائے جائیں گے ]
Ayah 16:22

اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَالَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ وَّ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 16:22 in the Quran reader

تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے اُن کے دلوں میں انکار بس کر رہ گیا ہے اور وہ گھمنڈ میں پڑ گئے ہیں

[اِلٰـهُكُمْ؛تم لوگوں کا الٰہ ] [ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۚ : واحد الٰہ ہے ] [فَالَّذِينَ : پس وہ لوگ جو ] [ لَا يُؤْمِنُوْنَ؛ایمان نہیں رکھتے ] [ بِالْاٰخِرَةِ : آخرت پر ] [ قُلُوْبُهُمْ : ان کے دل ] [ مُّنْكِرَةٌ: انکار کرنے والے ہیں ] [ وَّهُمْ : اور وہ لوگ ] [ مُّسْـتَكْبِرُوْنَ : بڑائی چاہنے والے ہیں ]
Ayah 16:23

لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ Open ayah 16:23 in the Quran reader

اللہ یقیناً اِن کے سب کرتوت جانتا ہے چھپے ہوئے بھی اور کھلے ہوئے بھی وہ اُن لوگوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا جو غرور نفس میں مبتلا ہوں

[لَاجَرَمَ : کوئی شک نہیں ہے ] [ ان : کہ ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ يَعْلَمُ : جانتا ہے ] [ مَا : اس کو جو ] [ يُسِرُّوْنَ؛یہ لوگ چھپاتے ہیں ] [ وَمَا : اور اس کو جو ] [ يُعْلِنُوْنَ ۭ: یہ لوگ اعلان کرتے ہیں ] [ انهٗ : حقیقت یہ ہے کہ ] [ لَا يُحِبُّ : وہ پسند نہیں کرتا ] [ الْمُسْـتَكْبِرِيْنَ : بڑائی چاہنے والوں کو ] (آیت۔ 23) ۔ اِنَّہٗ کو ضمیر الشان ماننا بہتر ہے۔
Ayah 16:24

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ مَّا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 16:24 in the Quran reader

اور جب کوئی ان سے پوچھتا ہے کہ تمہارے رب نے یہ کیا چیز نازل کی ہے، تو کہتے ہیں "اجی وہ تو اگلے وقتوں کی فرسودہ کہانیاں ہیں"

[وَاِذَا : اور جب بھی ] [ قِيْلَ؛کہا جاتا ہے ] [ لَهُمْ؛ان سے ] [ مَاذَآ : کیا ] [ انزَلَ : اتارا ] [ رَبُّكُمْ ۙ : تمہارے رب نے ] [قَالُوْٓا : تو وہ کہتے ہیں ] [ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ : پہلے لوگوں کے افسانے ہیں ]
Ayah 16:25

لِیَحْمِلُوْۤا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۙ وَ مِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ۠ Open ayah 16:25 in the Quran reader

یہ باتیں وہ اس لیے کرتے ہیں کہ قیامت کے روز اپنے بوجھ بھی پورے اٹھائیں، اور ساتھ ساتھ کچھ اُن لوگوں کے بوجھ بھی سمیٹیں جنہیں یہ بر بنائے جہالت گمراہ کر رہے ہیں دیکھو! کیسی سخت ذمہ داری ہے جو یہ اپنے سر لے رہے ہیں

[لِيَحْمِلُوْٓا : انجام کار وہ اٹھائیں گے ] [ اَوْزَارَهُمْ : اپنے بوجھ ] [ كَامِلَةً : پورے پورے ] [ يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ ۙ : قیامت کے دن ] [وَمِنْ اَوْزَارِ الَّذِينَ : اور ان کے بوجھوں میں سے ] [ يُضِلُّوْنَهُمْ : انھوں نے گمراہ کیا جن کو ] [ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۭ : کسی علم کے بغیر ] [اَلَا؛خبردار !] [ سَاۗءَ : بُرا ہے ] [ مَا : وہ جو ] [ يَزِرُوْنَ : یہ لوگ اٹھائیں گے ] (آیت۔ 25) ۔ لِیَحْمِلُوْا پر جو لام ہے اسے لام کَیْ کے بجائے لام عاقبت (بمعنی آخرکار) ماننا بہتر ہے۔ یُضِلُّوْنَ کا فاعل اس میں شامل ھم کی ضمیر ہے اور اس کا مفعول اَلذَّیْنَمقدم ہے۔ یُضِلُّوْنَ کے ساتھ ھُمْ کی ضمیر اَلَّذِیْنَ کی ضمیر عائد ہے۔ نوٹ۔ 2: آیت نمبر۔ 25 میں وَمِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَھُمْ کے الفاظ سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ کوئی شخص قیامت کے دن اس بنیاد پر، کہ دوسرے نے اسے گمراہ کیا ہے، اپنی ذمہ داری سے کلیۃََ بَری نہیں ہوگا، بلکہ اسے بھی اپنی گمراہی کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود اس کو جو عقل و بصیرت عطا فرمائی تھی اس نے اس سے کام کیوں نہیں لیا۔ اس وجہ سے جس طرح اس کو گمراہ کرنے والا اپنی حد تک اس کی گمراہی کا ذمہ دار ٹھہرے گا، اسی طرح یہ بھی اپنی حد تک اپنی گمراہی کا ذمہ دار قرار پائے گا اور اس کا خمیازہ بھگتے گا۔ (تدبر قرآن) مزید وضاحت کے لئے آیت نمبر 14:21، نوٹ۔ 1 ۔ دوبارہ پڑھ لیں۔
Ayah 16:26

قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتَى اللّٰهُ بُنْیَانَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَیْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ اَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 16:26 in the Quran reader

اِن سے پہلے بھی بہت سے لوگ (حق کو نیچا دکھانے کے لیے) ایسی ہی مکاریاں کر چکے ہیں، تو دیکھ لو کہ اللہ نے اُن کے مکر کی عمارت جڑ سے اکھاڑ پھینکی اور اس کی چھت اوپر سے ان کے سر پر آ رہی اور ایسے رخ سے ان پر عذاب آیا جدھر سے اس کے آنے کا اُن کو گمان تک نہ تھا

قَدْ مَكَرَ : چالبازی کرچکے ہیں ] [ الَّذِينَ : وہ لوگ جو ] [ مِنْ قَبْلِهِمْ : ان سے پہلے تھے ] [ فَاَتَى: تو پہنچا ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ بُنْيَانهُمْ : ان کی عمارت پر ] [ مِّنَ الْقَوَاعِدِ : بنیادوں سے ] [ فَخَــرَّ : پس گر پڑی ] [ عَلَيْهِمُ : ان پر ] [ السَّقْفُ : چھت ] [ مِنْ فَوْقِهِمْ : ان کے اوپر سے ] [ وَاَتٰىهُمُ : اور پہنچا ان پر ] [ الْعَذَابُ : عذاب ] [ مِنْ حَيْثُ؛جہاں سے ] [ لَا يَشْعُرُوْنَ : وہ شعور نہیں رکھتے تھے ] س ق [سَقْفًا : (ف۔ ن) مکان پر چھت ڈالنا۔] [ شَقْفٌ ج سُقُفٌ۔ چھت۔ زہر مطالعہ آیت۔ 26 ۔]
Ayah 16:27

ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُخْزِیْهِمْ وَ یَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تُشَآقُّوْنَ فِیْهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اِنَّ الْخِزْیَ الْیَوْمَ وَ السُّوْٓءَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 16:27 in the Quran reader

پھر قیامت کے روز اللہ اُنہیں ذلیل و خوار کرے گا اور اُن سے کہے گا "بتاؤ اب کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کے لیے تم (اہل حق سے) جھگڑے کیا کرتے تھے؟" جن لوگوں کو دنیا میں علم حاصل تھا وہ کہیں گے "آج رسوائی اور بدبختی ہے کافروں کے لیے"

[ثُمَّ : پھر ] [ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ : قیامت کے دن ] [ يُخْــزِيْهِمْ : وہ رسوا کرے گا ان کو ] [ وَيَقُوْلُ : اور کہے گا ] [ اَيْنَ : کہاں ہیں ] [ شُرَكَاۗءِيَ الَّذِينَ : میرے وہ شرکاء ] [ كُنْتم تُشَاۗقُّوْنَ : تم لوگ مخالفت کرتے تھے ] [ فِيْهِمْ ۭ: جن (کے بارے) میں ] [ قَالَ : کہیں گے ] [ الَّذِينَ : وہ لوگ جنھیں ] [ اُوْتُوا : دیا گیا ] [ الْعِلْمَ : علم ] [ ان یقینا ] [ الْخِزْيَ : ساری رسوائی ] [ الْيَوْمَ : آج کے دن ] [ وَالسُّوْۗءَ : اور ساری برائی (بھی)] [ عَلٰي الْكٰفِرِيْنَ : انکار کرنے والوں پر ]
Ayah 16:28

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۪ فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ بَلٰۤى اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:28 in the Quran reader

ہاں، اُنہی کافروں کے لیے جو اپنے نفس پر ظلم کرتے ہوئے جب ملائکہ کے ہاتھوں گرفتار ہوتے ہیں تو (سرکشی چھوڑ کر) فوراً ڈگیں ڈال دیتے ہیں اور کہتے ہیں "ہم تو کوئی قصور نہیں کر رہے تھے" ملائکہ جواب دیتے ہیں "کر کیسے نہیں رہے تھے! اللہ تمہارے کرتوتوں سے خوب واقف ہے

[الَّذِينَ : وہ لوگ ] [ تَتَوَفّٰىهُمُ : جان قبض کرتے ہیں جن کی ] [ الْمَلٰۗىِٕكَةُ : فرشتے ] [ ظَالِمِيْٓ انفُسِهِمْ : اپنے آپ پر ظلم کرنے والے ہوتے ہوئے ] [ ۠فَاَلْقَوُا : تو وہ لوگ ڈالتے ہیں ] [ السَّلَمَ : مکمل اطاعت ] [ مَا كُنَا نَعْمَلُ : (اور کہتے ہیں) ہم عمل نہیں کرتے تھے ] [ مِنْ سُوْۗءٍ ۭ: کسی بھی برائی کا ] [ بَلٰٓى؛ (فرشتے کہتے ہیں) کیوں نہیں ] [ ان : یقینا ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ عَلِيْمٌۢ: جاننے والا ہے ] [ بِمَا : اس کو جو ] [ كُنْتم تَعْمَلُوْنَ : تم لوگ کرتے تھے ] ترکیب : (آیت۔ 28) ظَالِمِیْ اَنْفُسِھِمْ ۔ مضاف، مضاف الیہ مل کر تَتَوَفّٰھُمْ میں ھم (مفعول) کا حال ہے۔ الملگکۃ کا نہیں ہے۔ نوٹ۔ 1: اس سورة کی آیات 28 ۔ 29 میں اور پھر آیت۔ 32 میں ان لوگوں سے فرشتوں کی گفتگو کا ذکر ہے جن کی وہ روح قبض کرتے ہیں۔ یہ آیات قرآن مجید کی ان متعدد آیات میں سے ہیں جو عذاب و ثواب قبر کا ثبوت دیتی ہیں، حدیث میں قبر کا لفظ مجازاً عالم برزخ کے لئے استعمال ہوا ہے۔ اس سے مراد وہ عالم ہے جس میں موت کی آخری ہچکی سے لے کر بعث بعد الموت کے پہلے جھٹکے تک انسانی ارواح رہیں گی۔ منکرین حدیث کو اس پر اصرار ہے کہ یہ عالم بالکل عدم محض کا عالم ہے جس میں کوئی احساس و شعور نہ ہوگا اور کسی قسم کا عذاب یا ثواب نہ ہوگا۔ لیکن یہاں دیکھیے کہ کفار کی روحیں جب قبض کی جاتی ہیں تو وہ موت کی سرحد کے پار کا حال اپنی توقعات کے خلاف پا کر سراسیمہ ہوجاتی ہیں اور فوراً سلام ٹھونک کر ملائکہ کو یقین دلانے کی کوشش کرتی ہیں کہ ہم کوئی برا کام نہیں کر رہے تھے۔ جواب میں ملائکہ ان کو جہنم کی پیشگی خبر دیتے ہیں۔ دوسری طرف متقی لوگوں کی روحیں جب قبض کی جاتی ہیں تو ملائکہ ان کو سلام کرتے ہیں اور جنتی ہونے کی پیشگی مبارکباد دیتے ہیں۔ کیا برزخ کی زندگی، احساس شعور، عذاب اور ثواب کا اس سے بھی زیادہ کھلا ہوا کوئی ثبوت درکار ہے ؟ سب سے زیادہ صاف الفاظ میں عذاب برزخ کی تصریح سورة مومن کی آیات 45 ۔ 46 میں کی گئی ہے۔ جہاں اللہ تعالیٰ فرعون اور اٰلِ فرعون کے متعلق فرماتا ہے کہ ” ایک سخت عذاب ان کو گھیرے ہوئے ہے، یعنی صبح و شام وہ آگ کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، پھر جب قیامت کی گھڑی آجائے گی تو حکم دیا جائے گا کہ اٰلِ فرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کرو۔ “ حقیقت یہ ہے کہ قرآن و حدیث، دونوں سے موت اور قیامت کے درمیان حالت کا ایک ہی نقشہ معلوم ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ موت محض جسم و روح کی علیحدگی کا نام ہے، نہ کہ بالکل معدوم ہوجانے کا۔ جسم سے علیحدہ ہوجانے کے بعد روح معدوم نہیں ہوجاتی بلکہ اس پوری شخصیت کے ساتھ زندہ رہتی ہے جو دنیا کی زندگی کے تجربات اور ذہنی و اخلاقی اکتسابات سے بنی تھی۔ اس حالت میں روح کے شعور، احساس، مشاہدات اور تجربات کی کیفیت خواب سے ملتی جلتی ہوتی ہے۔ (تفہیم القرآن۔ ج 2 ۔ ص 536)
Ayah 16:29

فَادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 16:29 in the Quran reader

اب جاؤ، جہنم کے دروازوں میں گھس جاؤ وہیں تم کو ہمیشہ رہنا ہے" پس حقیقت یہ ہے کہ بڑا ہی برا ٹھکانہ ہے متکبروں کے لیے

[فَادْخُلُوْٓا : پس (اب) داخل ہو جائو ] [ اَبْوَابَ جَهَنَّمَ : جہنم کے دروازوں میں ] [ خٰلِدِيْنَ : ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے ] [ فِيْهَا ۭ: اس میں ] [ فَلَبِئْسَ : تو یقینا کتنا برا ہے ] [ مَثْوَى الْمُتَكَبِرِيْنَ : گھمنڈ کرنے والوں کا ٹھکانہ ]
Ayah 16:30

وَ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا مَا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوْا خَیْرًا١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ١ؕ وَ لَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:30 in the Quran reader

دوسری طرف جب خدا ترس لوگوں سے پوچھا جاتا ہے کہ یہ کیا چیز ہے جو تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوئی ہے، تو وہ جواب دیتے ہیں کہ "بہترین چیز اتری ہے" اِس طرح کے نیکوکار لوگوں کے لیے اِس دنیا میں بھی بھلائی ہے اور آخرت کا گھر تو ضرور ہی ان کے حق میں بہتر ہے بڑا اچھا گھر ہے متقیوں کا

[وَقِيْلَ؛اور (جب) کہا جاتا ہے ] [ لِلَّذِيْنَ : ان سے جنھوں نے ] [ اتَّقَوْا : تقوٰی اختیار کیا ] [ مَاذَآ : کیا ] [ انزَلَ : اتارا ] [ رَبُّكُمْ : تمہارے رب نے ] [ قَالُوْا : تو وہ کہتے ہیں ] [ خَيْرًا ۭ: (اس نے اتارا) بہترین کو ] [ لِلَّذِيْنَ : ان کے لئے جنھوں نے ] [ اَحْسَنُوْا : بلا کم وکاست کام کیا،] [ فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا : اس دنیا میں ] [ حَسَـنَةٌ ۭ: (ان کے لئے) ایک بھلائی ہے ] [ وَلَدَارُ الْاٰخِرَةِ : اور یقینا آخرت کا گھر (تو)] [ خَيْرٌ ۭ: سب سے بہتر ہے ] [ وَلَنِعْمَ : اور یقینا کتنا اچھا ہے ] [ دَارُ الْمُتَّقِيْنَ : تقوٰی کرنے والوں کا گھر ] ترکیب : (آیت۔ 30) خَیْرًا کی نصب بتارہی ہے کہ اس سے پہلے اس کا فعل اَنْزَلَ محذوف ہے۔ حَسَنَۃٌ مبتدا مؤخر نکرہ ہے۔ اس کی خبر وَاجِبٌ یا ثَابِتٌ محذوف ہے۔ اس کے آگے ایک گنجائش یہ ہے کہ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا کو قائم مقام خبر مقدم مانیں اور فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا کو متعلق خبر مانیں۔ ایسی صورت میں جملہ ہوگا اَلْحَسَنَۃُ وَاجِبٌ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا۔ دوسری گنجائش یہ ہے کہ فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا کو قائم مقام خبرمانیں اور لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا کو متعلق خبر مانیں۔ ایسی صورت میں جملہ ہوگا اَلْحَسَنَۃُ وَاجِبٌ فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا۔ اگلی عبارت وَلَدَارُ الاْٰ خِرَۃُ خَیْرٌ کا تقاضہ ہے کہ دوسری گنجائش کو ترجیح دی جائے۔
Ayah 16:31

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْزِی اللّٰهُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:31 in the Quran reader

دائمی قیام کی جنتیں، جن میں وہ داخل ہوں گے، نیچے نہریں بہہ رہی ہونگی، اور سب کچھ وہاں عین اُن کی خواہش کے مطابق ہوگا یہ جزا دیتا ہے اللہ متقیوں کو

[جَنّٰتُ عَدْنٍ : عدن کے باغات ہیں ] [ يَّدْخُلُوْنَهَا : وہ لوگ داخل ہوں گے ان میں ] [ تَجْرِيْ : بہتی ہیں ] [ مِنْ تَحْتِهَا : ان کے نیچے سے ] [ الْانهٰرُ : نہریں ] [ لَهُمْ : ان کے لئے ہے ] [ فِيْهَا : ان میں ] [ مَا : وہ جو ] [ يَشَاۗءُوْنَ ۭ: وہ لوگ چاہیں گے ] [كَذٰلِكَ : اس طرح ] [ يَجْزِي : بدلہ دے گا ] [ اللّٰهُ الْمُتَّقِيْنَ : اللہ تقوٰی کرنے والوں کو ]
Ayah 16:32

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ طَیِّبِیْنَ١ۙ یَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَیْكُمُ١ۙ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:32 in the Quran reader

اُن متقیوں کو جن کی روحیں پاکیزگی کی حالت میں جب ملائکہ قبض کرتے ہیں تو کہتے ہیں "سلام ہو تم پر، جاؤ جنت میں اپنے اعمال کے بدلے"

الَّذِينَ : وہ لوگ ] [ تَتَوَفّٰىهُمُ : جان قبض کرتے ہیں جن کی ] [ الْمَلٰۗىِٕكَةُ : فرشتے ] [ طَيِّبِيْنَ ۙ: خوشگوار حالت میں ] [ يَقُوْلُوْنَ : وہ (فرشتے) کہیں گے ] [ سَلٰمٌ: سلامتی ہے ] [ عَلَيْكُمُ ۙ: تم لوگوں پر ] [ ادْخُلُوا : (اب) داخل ہو جائو ] [ الْجَنَّةَ : جنت میں ] [ بِمَا : بسبب اس کے جو ] [ كُنْتم تَعْمَلُوْنَ : تم لوگ عمل کرتے تھے ]
Ayah 16:33

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:33 in the Quran reader

اے محمدؐ، اب جو یہ لوگ انتظار کر رہے ہیں تو اِس کے سوا اب اور کیا باقی رہ گیا ہے کہ ملائکہ ہی آ پہنچیں، یا تیرے رب کا فیصلہ صادر ہو جائے؟ اِس طرح کی ڈھٹائی اِن سے پہلے بہت سے لوگ کر چکے ہیں پھر جو کچھ اُن کے ساتھ ہوا وہ اُن پر اللہ کا ظلم نہ تھا بلکہ اُن کا اپنا ظلم تھا جو اُنہوں نے خود اپنے اوپر کیا

[هَلْ يَنْظُرُوْنَ : وہ لوگ کیا انتظار کرتے ہیں ] [ اِلَّآ ان : سوائے اس کے کہ ] [ تَاْتِيَهُمُ : آئیں ان کے پاس ] [ الْمَلٰۗىِٕكَةُ : فرشتے ] [ اَوْ : یا ] [ يَاْتِيَ : پہنچے ] [ اَمْرُ رَبِكَ ۭ: آپ ﷺ کے رب کا حکم ] [ كَذٰلِكَ : اسی طرح ] [ فَعَلَ : کیا ] [ الَّذِينَ : انھوں نے جو ] [ مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ: ان سے پہلے تھے ] [ وَمَا ظَلَمَهُمُ : اور ظلم نہیں کیا ان پر ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ وَلٰكِنْ : اور لیکن ] [ كَانوْٓا انفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ : وہ لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے ]
Ayah 16:34

فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 16:34 in the Quran reader

اُن کے کرتوتوں کی خرابیاں آخر اُن کی دامنگیر ہو گئیں اور وہی چیز اُن پر مسلط ہو کر رہی جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے

[فَاَصَابَهُمْ : تو لگیں ان کو ] [ سَـيِّاٰتُ مَا : اس کی برائیاں جو ] [ عَمِلُوْا : انھوں نے عمل کیا ] [ وَحَاقَ : اور چھا گیا ] [ بِهِمْ : ان پر ] [ مَا : وہ ] [ كَانوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ : جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے ]
Ayah 16:35

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ نَّحْنُ وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 16:35 in the Quran reader

یہ مشرکین کہتے ہیں "اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم اور نہ ہمارے باپ دادا اُس کے سوا کسی اور کی عبادت کرتے اور نہ اُس کے حکم کے بغیر کسی چیز کو حرام ٹھیراتے" ایسے ہی بہانے اِن سے پہلے کے لوگ بھی بناتے رہے ہیں تو کیا رسولوں پر صاف صاف بات پہنچا دینے کے سوا اور بھی کوئی ذمہ داری ہے؟

[وَقَالَ : اور کہیں گے ] [ الَّذِينَ : وہ لگ جنھوں نے ] [ اَشْرَكُوْا : شرک کیا ] [ لَوْ : اگر ] [ شَاۗءَ؛چاہتا ] [ اللّٰهُ؛اللہ ] [ مَا عَبَدْنَا : تو ہم بندگی نہ کرتے ] [ مِنْ دُوْنِهٖ : اس کے علاوہ ] [ مِنْ شَيْءٍ : کسی بھی چیز کی ] [ نَحْنُ : (نہ) ہم ] [ وَلَآ اٰبَاۗؤُنَا : اور نہ ہی ہمارے آباء اجداد ] [ وَلَا حَرَّمْنَا : اور ہم حرام نہ کرتے ] [ مِنْ دُوْنِهٖ : اس کے (حکم کے) علاوہ ] [ مِنْ شَيْءٍ ۭ: کسی بھی چیز کو ] [ كَذٰلِكَ؛اسی طرح ] [ فَعَلَ؛کیا ] [ الَّذِينَ : انھوں نے جو ] [ مِنْ قَبْلِهِمْ ۚ : ان سے پہلے تھے ] [فَهَلْ : تو کیا ہے ] [ عَلَي الرُّسُلِ : رسولوں پر ] [ اِلَّا : سوائے اس کے کہ ] [ الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ : واضح طور پر پہنچا دینا ] نوٹ۔ 1: آیت نمبر۔ 35 میں کہا گیا ہے کہ واضح طور پر پہنچا دینے کے سوا رسولوں پر اور کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ یہی بات ایک دوسرے پیرائے میں اس طرح کہی گئی ہے کہ ہم نے آپ کو صرف خوشخبری دینے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر بھیجا ہے (25:52) ۔ قرآن مجید میں ان دونوں اسلوب کی اور بھی آیات ہیں۔ ایسی آیات کی بنیاد پر منکرین حدیث استدلال کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا کام صرف یہ تھا کہ وہ قرآن پہنچا دیں۔ حالانکہ منکرین حدیث خود کو اہل قرآن کہتے ہیں، لیکن یہ استدلال بتارہا ہے کہ قرآن مجید کا پوری طرح مطالعہ نہیں کیا گیا ہے، کیونکہ قرآن مجید کے بہت سے وضاحت طلب امور کی وضاحت خود قرآن میں مجود ہے اور اس مسئلہ کی بھی پوری وضاحت قرآن میں دی ہوئی ہے۔ اگر تمام متعلقہ آیات کو سامنے رکھ کر کوئی سمجھنا چاہے تو بات بڑی آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے جو درج ذیل ہے : رسول اللہ ﷺ کا مقصد بعث یعنی مشن یہ تھا کہ وہ اللہ کے دین کو پورے نظام حیات پر غالب کردیں۔ قرآن مجید یہ بات اللہ تعالیٰ نے تین مرتبہ دہرائی ہے۔ (9:33 ۔ 48:28 ۔ 61:9) ۔ اس مشن کی تکمیل کے لئے اللہ تعالیٰ نے جس طریقۂ کار کا تعین کیا تھا وہ یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کو اللہ کی آیات پڑھ کر سناتے تھے۔ یہ ابلاغ سے اور اس میں انداز وتبشیر از خود شامل ہے۔ لوگوں کا تزکیہ کرتے تھے۔ کتاب کی تعلیم دیتے تھے اور حکمت کی تعلیم دیتے تھے۔ آپ ﷺ کے ان فرائض چہارگانہ کا ذکر بھی قرآن میں چار ہی مرتبہ آیا ہے۔ (2:129 ۔ 2:151 ۔ 3:164 ۔ 62:2) ۔ تعلیم کتاب کا مطلب یہ ہے کہ قرآن میں جو احکام و ہدایات ہیں اس نے اللہ تعالیٰ کی مرضی کیا ہے اور ان پر ہم نے کس طرح عمل کرنا ہے۔ یہ مطلب کسی کا خود ساختہ نہیں ہے بلکہ اس کی سند قرآن میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ” اور ہم نے نازل کیا آپ ﷺ کی طرف اس ذکر کو (یعنی وحی غیر متلو) تاکہ آپ ﷺ واضح کردیں لوگوں کے لئے اس کو جو نازل کیا گیا ان لوگوں کی طرف (یعنی قرآن) (16:44) ۔ نہ صرف قرآن کے مذکورہ مقامات کو نظر انداز کیا گیا ہے بلکہ مذکورہ غلط استدلال جن آیات کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے، ان کے سیاق وسباق سے بھی اغماض برتا گیا ہے، کیونکہ ان کے سیاق وسباق سے پوری طرح واضح ہے کہ ان میں خطاب ان لوگوں سے ہے جو ایمان لانے سے انکار کردیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے ابلاغ اور انداز وتبشیر کے بعد رسول اللہ ﷺ کا کام ختم ہوجاتا ہے اور ان سے اب آپ ﷺ بری الذمہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ دوزخ میں جانے والوں کے متعلق آپ ﷺ سے نہیں پوچھا جائے گا (2:119) ۔ لیکن جو لوگ ایمان لے آئے ان کے لئے آپ ﷺ کا کام ختم نہیں ہوا بلکہ شروع ہوا تھا۔ ان کا تزکیہ کرنا۔ ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دینا تاکہ وہ لوگ اللہ کے دین کو غالب کرنے کی جدوجہد میں رسول اللہ ﷺ کے دست و بازو بنیں اور آپ ﷺ کے مشن کی تکمیل ہو۔ اس سارے Process کے قومی اور عملی ریکارڈ کا نام حدیث ہے اور یہ اہل ایمان کے لئے ہے۔
Ayah 16:36

وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْهِ الضَّلٰلَةُ١ؕ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 16:36 in the Quran reader

ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیج دیا، اور اُس کے ذریعہ سے سب کو خبردار کر دیا کہ "اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو" اس کے بعد ان میں سے کسی کو اللہ نے ہدایت بخشی اور کسی پر ضلالت مسلط ہو گئی پھر ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہو چکا ہے

[وَلَقَدْ بَعَثْنَا : اور یقینا ہم نے بھیجا ہے ] [ فِيْ كُلِ اُمَّةٍ؛ہر ایک امت میں ] [ رَّسُوْلًا : ایک رسول ] [ ان : کہ ] [ اعْبُدُوا : تم لوگ بندگی کرو ] [ اللّٰهَ : اللہ کی ] [ وَاجْتَنِبُوا : اور تم لوگ بچو ] [ الطَّاغُوْتَ ۚ : سرکشی کے ذریعوں سے ] [فَمِنْهُمْ مَنْ : تو ان میں وہ بھی ہیں جن کو ] [ هَدَى: ہدایت دی ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ وَمِنْهُمْ مَنْ : اور ان میں وہ بھی ہیں ] [ حَقَّتْ : ثابت ہوئی ] [ عَلَيْهِ : جس پر ] [ الضَّلٰلَةُ ۭ : گمراہی ] [فَسِيْرُوْا : پس تم لوگ چلو پھرو ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [ فَانظُرُوْا : پھر دیکھو ] [ كَيْفَ : کیا ] [كَان : تھا ] [عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِيْنَ : جھٹلانے والوں کا انجام ]
Ayah 16:37

اِنْ تَحْرِصْ عَلٰى هُدٰىهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ یُّضِلُّ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 16:37 in the Quran reader

اے محمدؐ، تم چاہے اِن کی ہدایت کے لیے کتنے ہی حریص ہو، مگر اللہ جس کو بھٹکا دیتا ہے پھر اسے ہدایت نہیں دیا کرتا اور اس طرح کے لوگوں کی مدد کوئی نہیں کر سکتا

[ان : اگر ] [ تَحْرِصْ : آپ ﷺ شدید خواہش کریں ] [ عَلٰي هُدٰىهُمْ : ان لوگوں کو ہدایت پر ] [ فَان : تو بیشک ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ لَا يَهْدِيْ : ہدایت نہیں دیتا ] [ مَنْ : اس کو جس کو ] [ يُّضِلُّ : وہ گمراہ کرتا ہے ] [ وَمَا لَهُمْ : اور ان کے لئے نہیں ہے ] [ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ : کوئی بھی مدد کرنے والا ]
Ayah 16:38

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ لَا یَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ یَّمُوْتُ١ؕ بَلٰى وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:38 in the Quran reader

یہ لوگ اللہ کے نام سے کڑی کڑی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ "اللہ کسی مرنے والے کو پھر سے زندہ کر کے نہ اٹھائے گا" اٹھائے گا کیوں نہیں، یہ تو ایک وعدہ ہے جسے پورا کرنا اس نے اپنے اوپر واجب کر لیا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں

[وَاَقْسَمُوْا : اور انھوں نے قسم کھائی ] [ بِاللّٰهِ : اللہ کی ] [ جَهْدَ اَيْمَانهِمْ ۙ: اپنی قسموں کا زور لگاتے ہوئے ] [ لَا يَبْعَثُ : نہیں اٹھائے گا ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ مَنْ : اس کو جو ] [ يَّمُوْتُ ۭ: بےجان ہوتا ہے ] [ بَلٰى: کیوں نہیں ] [ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا : اس پر ہے سچا وعدہ ] [ وَّلٰكِنَّ : اور لیکن ] [ اَكْثَرَ النَاسِ : لوگوں کے اکثر ] [ لَا يَعْلَمُوْنَ : جانتے نہیں ہیں ]
Ayah 16:39

لِیُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِیْ یَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰذِبِیْنَ Open ayah 16:39 in the Quran reader

اور ایسا ہونا اس لیے ضروری ہے کہ اللہ اِن کے سامنے اُس حقیقت کو کھول دے جس کے بارے میں یہ اختلاف کر رہے ہیں اور منکرین حق کو معلوم ہو جائے کہ وہ جھوٹے تھے

[لِيُـبَيِّنَ : تاکہ وہ واضح کر دے ] [ لَهُمُ الَّذِي : ان کے لئے جو ] [ يَخْتَلِفُوْنَ : اختلاف کرتے ہیں ] [ فِيْهِ : اس (اٹھائے جانے) میں ] [ وَلِيَعْلَمَ : اور تاکہ جان لیں ] [ الَّذِينَ : وہ لوگ جنھوں نے ] [ كَفَرُوْٓا : انکار کیا ] [ انهُمْ : کہ وہ ہی ] [ كَانوْا كٰذِبِيْنَ : جھوٹے تھے ]
Ayah 16:40

اِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَیْءٍ اِذَاۤ اَرَدْنٰهُ اَنْ نَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 16:40 in the Quran reader

(رہا اس کا امکان تو) ہمیں کسی چیز کو وجود میں لانے کے لیے اس سے زیادہ کچھ کرنا نہیں ہوتا کہ اسے حکم دیں "ہو جا" اور بس وہ ہو جاتی ہے

[انمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ قَوْلُــنَا : ہمارا کہنا ہے ] [ لِشَيْءٍ : کسی چیز کے لئے ] [ اِذَآ : جب بھی ] [ اَرَدْنٰهُ : ہم ارادہ کرتے ہیں اس کا ] [ ان : کہ ] [ نَّقُوْلَ : ہم کہتے ہیں ] [ لَهٗ : اس سے ] [ كُنْ : تو ہوجا ] [ فَيَكُوْنُ : تو وہ ہوجاتی ہے ]