Ayah 16:41[وَالَّذِينَ : اور وہ لوگ جنھوں نے ] [ هَاجَرُوْا : ہجرت کی ] [ فِي اللّٰهِ : اللہ (کی راہ) میں ] [ مِنْۢ بَعْدِ مَا : اس کے بعد کہ جو ] [ ظُلِمُوْا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ : ہم لازماً ٹھکانہ دیں گے ان کو ] [ فِي الدُّنْيَا : دنیا میں ] [ حَسَـنَةً ۭ : ایک اچھے (گھر) کا ] [ وَلَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ : اور یقینا آخرت کا بدلہ ] [ اَكْبَرُ ۘ: سب سے بڑا ہے ] [ لَوْ : کاش ] [ كَانوْا يَعْلَمُوْنَ : وہ لوگ جانتے ہوتے ]
ترکیب : (آیت۔ 41) لَنُبَوِّئَنَّ کا مفعول اوّل ھُمْ کی ضمیر ہے اور اس کا مفعول ثانی محذوف ہے جو کہ دَارًا ہوسکتا ہے۔ حَسَنَۃً اس کی صفت ہے۔ یَعْلَمُوْنَ کی ضمیر فاعلی، آیت۔ 39 میں مذکور کٰذِبِیْنَ کے لئے ہے۔
Ayah 16:42[الَّذِينَ : (اور) جو ] [ صَبَرُوْا : ثابت قدم رہے ] [ وَعَلٰي رَبِهِمْ : اور اپنے رب پر ہی ] [ يَتَوَكَّلُوْنَ : بھروسہ کرتے رہے ]
(آیت۔ 42) اس پوری آیت کا فقرہ گذشتہ آیت میں مذکور وَالَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا کی صفت ہے،
Ayah 16:43[وَمَآ اَرْسَلْنَا : اور ہم نے نہیں بھیجا ] [ مِنْ قَبْلِكَ : آپ ﷺ سے پہلے ] [ اِلَّا : مگر ] [ رِجَالًا : کچھ مردوں کو ] [ نُّوْحِيْٓ: ہم وحی کرتے تھے ] [ اِلَيْهِمْ : جن کی طرف ] [ فَسْـــَٔـلُوْٓا : پس تم لوگ پوچھو ] [ اَهْلَ الذِّكْرِ : یاد دہانی والوں (یعنی اہل کتاب) سے ] [ ان : اگر ] [ كُنْتم لَا تَعْلَمُوْنَ : تم لوگ نہیں جانتے ]
(آیت۔ 43) رِجَالًا نکرہ مخصوصہ ہے۔ اس کی پہلی خصوصیت نُوْحِیْ اِلَیْھِمْ ہے اور دوسری خصوصیت بِالْبَیِّنٰتِ وَالزُّبُرِ ہے۔
Ayah 16:44[بِالْبَيِّنٰتِ : (جن کو بھیجا) واضح (نشانیوں کے) ساتھ ] [ وَالزُّبُرِ ۭ: اور صحیفوں کے ساتھ ] [ وَانزَلْنَآ : اور ہم نے اتارا ] [ اِلَيْكَ : آپ ﷺ کی طرف ] [ الذِّكْرَ : اس یاد دہانی (یعنی وحئی غیر متلو) کو ] [ لِتُبَيِّنَ : تاکہ آپ ﷺ واضح کریں ] [ لِلنَاسِ : لوگوں کے لئے ] [ مَا : اس کو جو ] [ نُزِّلَ : نازل کیا گیا ] [ اِلَيْهِمْ : ان کی طرف (یعنی ان کے واسطے)] [ وَلَعَلَهُمْ : اور شاید وہ لوگ ] [ يَتَفَكَّرُوْنَ : غور و فکر کریں ]
(آیت۔ 44) وَمَا نُزِّلَ اِلَیْھِمْ میں۔ اِلَیْھِمْ دراصل لَھُمْ کے معنی میں ہے۔
نوٹ۔ 1: آیت۔ 44 کے دوسرے جز میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو مامور فرمایا ہے کہ آپ ﷺ قرآن کی نازل شدہ آیات کی وضاحت لوگوں کے سامنے کردیں۔ یہ اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ قرآن کریم کے حقائق اور احکام کو صحیح طور پر سمجھنا رسول اللہ ﷺ کے بیان پر موقوف ہے۔ اگر ہر انسان صرف عربی زبان اور عربی ادب سے واقف ہو کر قرآن کے احکام کو اللہ کی منشاء و مرضی کے مطابق سمجھنے پر قادر ہوتا تو رسول اللہ ﷺ کو وضاحت کی خدمت سپرد کرنے کے کوئی معنی نہیں رہتے۔
رسول اللہ ﷺ کا قرآن کی وضاحت پر مامور ہونے کا حاصل یہ ہوا کہ آپ ﷺ سے جو بھی قول و فعل ثابت ہے وہ سب قرآن ہی کے ارشادات ہیں۔ بعض تو ظاہری طور پر کسی آیت کی تفسیر و توضیح ہوتے ہیں اور بعض جگہ بظاہر قرآن میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہوتا مگر آپ ﷺ کے قلب مبارک میں بطور وحی اس کا القاء کیا جاتا ہے، وہ بھی ایک حیثیت سے قرآن ہی کے حکم میں ہوتا ہے، کیونکہ قرآن کی تصریح کے مطابق آپ ﷺ کی کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں ہوتی بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہوتی ہے۔
(53:3 ۔ 4) ۔ اس سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ کی تمام عبادات و معاملات بوحی خداوندی اور بحکم قرآن ہیں۔ جہاں کہیں آپ ﷺ نے اپنے اجتہاد سے کوئی کام کیا ہے تو وحی الٰہی سے یا اس پر کوئی نکیرنہ کرنے سے اس کی تصحیح اور پھر تائید کردی جاتی ہے اس لئے وہ بھی بحکم وحی ہوجاتا ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 16:45[اَفَاَمِنَ : تو کیا امن میں ہوئے ] [ الَّذِينَ : وہ لوگ جنھوں نے ] [ مَكَرُوا : خفیہ تدبیر کی ] [ السَيِّاٰتِ : برائیوں کے لئے ] [ ان : کہ ] [ يَّخْسِفَ : دھنسا دے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ بِهِمُ : ان کے ساتھ ] [ الْاَرْضَ : زمین کو ] [ اَوْ : یا ] [ يَاْتِيَهُمُ : پہنچے ان کے پاس ] [الْعَذَابُ : عذاب ] [ مِنْ حَيْثُ : جہاں سے ] [ لَا يَشْعُرُوْنَ : وہ لوگ شعور (بھی) نہ رکھتے ہوں ]
خ س
[خُسُوْفًا : (ض) کسی جگہ کا دھنس جانا (لازم) ۔ کسی کو دھنسا دینا (متعدی) ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 45 ۔]
Ayah 16:46[اَوْ : یا ] [ يَاْخُذَهُمْ : یہ کہ وہ (یعنی اللہ) پکڑے ان کو ] [ فِيْ تَقَلُّبِهِمْ : ان کے گھومنے پھرنے میں ] [ فَمَا هُمْ : پھر وہ لوگ نہ ہوں ] [ بِمُعْجِزِيْنَ : عاجز کرنے والے ]
Ayah 16:47اَوْ : یا ] [ يَاْخُذَهُمْ : یہ کہ وہ پکڑے ان کو ] [ عَلٰي تَخَــوُّفٍ ۭ : خوف زدہ ہونے کے باوجود ] [فَان : تو بیشک ] [ رَبَّكُمْ : تم لوگوں کا رب ] [ لَرَءُوْفٌ: یقینا بےانتہاء شفقت کرنے والا ہے ] [ رَّحِيْمٌ: ہر حال میں رحم کرنے والا ہے ]
Ayah 16:48[اَوَلَمْ يَرَوْا : اور کیا انھوں نے غور ہی نہیں کیا ] [ اِلٰى مَا : اس کی طرف جو ] [ خَلَقَ اللّٰهُ : پیدا کیا اللہ نے ] [ مِنْ شَيْءٍ : کوئی بھی چیز ] [ يَّتَفَيَّؤُا : (کہ) ڈھلتے ہیں ] [ ظِلٰلُهٗ : ان کے سائے ] [ عَنِ الْيَمِيْنِ : دا ہنی طرف سے ] [ وَالشَّمَاۗىِٕلِ : اور بائیں طرفوں سے ] [ سُجَّدًا : سجدہ کرنے والے ہوتے ہوئے ] [ للّٰهِ : اللہ کے لئے ] [ وَهُمْ : اور وہ سب ] [ دٰخِرُوْنَ : حقیر ہونے والے ہوتے ہیں ]
د خ ر
[دَخْرًا : (ف۔ س) ذلیل ہونا۔ حقیر ہونا۔]
[ دَاخِرٌ اسم الفاعل ہے۔ ذلیل و حقیر ہونے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 48]
Ayah 16:49[وَللّٰهِ : اور اللہ کے لئے ہی ] [ يَسْجُدُ : سجدہ کرتا ہے ] [ مَا : وہ جو ] [ فِي السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں ہے ] [ وَمَا : اور وہ جو ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ہے ] [ مِنْ دَاۗبَّةٍ : کوئی بھی چلنے والا ] [ وَّالْمَلٰۗىِٕكَةُ : اور فرشتے (بھی)] [ وَهُمْ؛اور وہ سب ] [ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ : بڑائی نہیں چاہتے ]
Ayah 16:50[يَخَافُوْنَ : وہ ڈرتے ہیں ] [ رَبَّهُمْ : اپنے رب سے ] [ مِّنْ فَوْقِهِمْ : اپنے اوپر سے ] [ وَيَفْعَلُوْنَ : اور وہ کرتے ہیں ] [ مَا : وہ جو ] [ يُؤْمَرُوْنَ : انھیں حکم دیا جاتا ہے ]
Ayah 16:51[وَقَالَ : اور کہا ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ لَا تَتَّخِذُوْٓا : تم لوگ مت بنائو ] [ اِلٰـهَيْنِ اثْـنَيْنِ ۚ: دو الٰہ ] [ انمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ هُوَ : وہ ] [ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۚ : واحد الٰہ ہے ] [ فَاِيَّايَ : پس صرف مجھ سے ہی ] [ فَارْهَبُوْنِ : پھر خوف کرو میرا ]
Ayah 16:52[وَلَهٗ : اور اس کا ہی ہے ] [ مَا : وہ جو ] [ فِي السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں ہے ] [ وَالْاَرْضِ : اور زمین میں ہے ] [ وَلَهُ : اور اس کے لئے ہی ہے ] [ الدِّيْنُ : مکمل نظام حیات ] [ وَاصِبًا : لازمی ہوتے ہوئے ] [ اَفَغَيْرَ اللّٰهِ : تو کیا اللہ کے علاوہ (کسی) سے ] [ تَتَّقُوْنَ : تم لوگ ڈرتے ہو ]
و ص ب
[وُصُوْبًا : (ض) دائمی ہونا۔ لازم ہونا۔]
[ وَِاصِبٌ فاعل کے وزن پر صفت ہے۔ دائمی۔ لازمی۔ زیر مطالعہ آیت۔ 52]
ترکیب : (آیت۔ 52) اَفَغَیْرَ کی نصب بتارہی ہے کہ یہ تَتَّقُوْنَ کا مفعول مقدم ہے۔
Ayah 16:53[وَمَا : اور جو ] [ بِكُمْ : تمہارے لئے ہے ] [ مِّنْ نِّعْمَةٍ : کوئی بھی نعمت ] [ فَمِنَ اللّٰهِ : تو (وہ) اللہ (کے پاس) سے ہے ] [ ثُمَّ : پھر ] [ اِذَا : جب بھی ] [ مَسَّكُمُ : چھوتی ہے تمہیں ] [ الضُّرُّ : سختی ] [ فَاِلَيْهِ : تو اس کی طرف ہی ] [ تَجْــــَٔــرُوْنَ : تم لوگ گڑ گڑاتے ہو ]
ج ء ر
[جَأْرًا : (ف) وحشی جانور کا گھبراہٹ میں زور سے آواز نکالنا۔ چلانا۔ گڑ گڑانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 53 ]
Ayah 16:54[ثُمَّ : پھر ] [ اِذَا : جب کبھی ] [ كَشَفَ : وہ ہٹاتا ہے ] [ الضُّرَّ : سختی کو ] [ عَنْكُمْ : تم لوگوں سے ] [ اِذَا : تب ہی ] [ فَرِيْقٌ: ایک فریق ] [ مِّنْكُمْ : تم میں سے ] [ بِرَبِهِمْ : اپنے رب کے ساتھ ] [ يُشْرِكُوْنَ : شریک کرتے ہیں ]
(آیت۔ 54) فَرِیْقٌ اسم جمع ہے اس لئے بِرَبِّھِمْ میں جمع کی ضمیر اور یُشْرِکُوْنَ جمع کے صیغے میں آیا ہے۔
Ayah 16:55[لِيَكْفُرُوْا : نتیجۃً وہ ناشکری کرتے ہیں ] [ بِمَآ : اس کی جو ] [ اٰتَيْنٰهُمْ ۭ: ہم نے دیا ان کو ] [ فَتمتَّعُوْا ۣ : تو تم لوگ فائدہ اٹھا لو ] [فَسَوْفَ : پھر عنقریب ] [ تَعْلَمُوْنَ : تم لوگ جان لو گے ]
(آیت۔ 55) لِیَکْفُرُوْا کے لام کو لام کَی کے بجائے لام عاقبت ماننا زیادہ بہتر ہے۔ تَمَتَّعُوْا میں دو امکانات ہیں۔ یہ فعل ماضی میں جمع مذکر غائب کا صیغہ بھی ہوسکتا ہے اور فعل امر میں جمع مذکر مخاطب کا صیغہ بھی ہوسکتا ہے۔ آگے تَعْلَمُوْنَ آیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ یہ فعل امر ہے۔ اگر یَعْلَمُوْنَ آتا تو پھر اسے فعل ماضی مانا جاتا۔
Ayah 16:56[وَيَجْعَلُوْنَ : اور وہ بناتے ہیں ] [ لِمَا : اس کے لئے جس کا ] [ لَا يَعْلَمُوْنَ : وہ لوگ علم نہیں رکھتے ] [ نَصِيْبًا : ایک حصہ ] [ مِّمَا : اس میں سے جو ] [ رَزَقْنٰهُمْ ۭ : ہم نے روزی دی ان کو ] [ تَاللّٰهِ : اللہ کی قسم ] [ لَتُسْـــَٔـلُنَّ : تم لوگوں سے لازماً پوچھا جائے گا ] [ عَمَا : اس کے بارے میں جو ] [ كُنْتم تَفْتَرُوْنَ : تم لوگ گھڑا کرتے تھے ]
نوٹ۔ 1: آیت۔ 56 میں ” لَا یَعْلَمُوْنَ “ کے حقیقی مفہوم تک رسائی حاصل کرنے کے لئے ذہن میں کچھ باتیں واضح ہونا ضروری ہیں۔ مادہ ” ع ل م “ سے مختلف اسماء و افعال قرآن مجید میں بکثرت استعمال ہوئے ہیں۔ اور یہ زیادہ تر لغوی مفہوم کے بجائے اصطلاحی مفہوم میں استعمال ہوئے ہیں۔ قرآن کی اصطلاح میں ” علم “ ایسی معلومات کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ سے اپنے انبیاء و رسل کو دی ہوں۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ” اور اگر آپ ﷺ نے پیروی کی ان لوگوں کی خواہشات کی اس کے بعد کہ جو آپ ﷺ کے پاس آیا علم میں سے۔ “ (2:145) ۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ اللہ نے اپنے انبیاء و رسل کو جو کچھ بتایا ہے اور بتانا ہے اس میں سے کچھ آیا ہے باقی ابھی آنا ہے۔
اسی طرح سے قرآن میں جہاں کہیں علم کی نفی آئی ہے بالعموم وہاں مطلب یہ ہے کہ کوئی ایسی بات جس کی کوئی سند سابقہ انبیاء و رسل کی تعلیمات میں اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات یعنی قرآن و حدیث میں موجود نہ ہو۔ جیسے فرمایا ” اور تو پیچھے مت پڑ اس کے تیرے لئے جس کا کوئی علم نہیں ہے۔ “ (17:36) ۔ ” اور اگر وہ دونوں یعنی والدین تجھ سے جہاد کریں اس پر کہ تو شریک ٹھہرائے میرے لئے، نہیں ہے تیرے لئے جس کا کوئی علم، تو ان کی اطاعت مت کر “ (31:15) ۔ یہ اور ایسے متعدد مقامات پر علم نہ ہونے کا مطلب ہے قرآن و حدیث میں سند نہ ہونا۔
واضح رہے کہ قرآن مجید میں بعض مقامات پر یہ لفظ اصطلاحی کے بجائے لغوی مفہوم میں بھی آیا ہے۔ جیسے قارون کا قول نقل کرتے ہوئے فرمایا ” اس نے کہا کچھ نہیں سوائے اس کے کہ مجھے ملا ہے یہ ایک علم کی بنیاد پر جو میرے پاس ہے۔ “ (28:78) ۔ یہاں علم کا مطلب ہے تجربہ اور مہارت یعنی ہنرمندی۔ کوئی اگر آیت کے سیاق وسباق کو نظر میں رکھے تو وہ آسانی سے تمیز کرسکتا ہے کہ کہاں یہ لفظ لغوی مفہوم میں آیا ہے۔
اس لحاظ سے آیت۔ 56 کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ انسان شکرانے، نذرونیاز اور چڑھاوے میں غیر اللہ کے لئے جو حصہ مقرر کرلیتا ہے، ان ہستیوں کے وجود اور صفات کی اس کے پاس قرآن و حدیث میں کوئی سند نہیں ہے۔
Ayah 16:57[وَيَجْعَلُوْنَ : اور وہ لوگ بناتے ہیں ] [ للّٰهِ : اللہ کے لئے ] [ الْبَنٰتِ : بیٹیاں،] [ سُبْحٰنَهٗ ۙ: پاکیزگی اس کی ہے،] [ وَلَهُمْ : اور ان کے لئے ] [ مَا : وہ ہے جو ] [ يَشْتَهُوْنَ : وہ چاہتے ہیں ]
Ayah 16:58[وَاِذَا؛اور جب کبھی ] [ بُشِّرَ : خوشخبری دی جاتی ہے ] [ اَحَدُهُمْ؛ان کے کسی ایک کو ] [ بِالْانثٰى: مؤنث (یعنی بیٹی) کی ] [ ظَلَّ؛تو ہوجاتا ہے ] [ وَجْهُهٗ : اس کا چہرہ ] [ مُسْوَدًّا؛سیاہ ] [ وَّهُوَ؛اور وہ ] [ كَظِيْمٌ: غم زدہ ہے ]
نوٹ۔ 1: تفسیر روح البیان میں ہے کہ مسلمان کو چاہیے کہ لڑکی پیدا ہونے سے زیادہ خوشی کا اظہار کرے تاکہ اہل جاہلیت کے فعل پر ردّ ہوجائے۔ ایک حدیث میں ہے کہ وہ عورت مبارک ہوتی ہے جس کے پہلے پیٹ سے لڑکی پیدا ہو۔ آیت نمبر۔ 42:49 میں بیٹوں سے پہلے بیٹیوں کا ذکر کرنے سے اس کی طرف اشارہ پایاجاتا ہے کہ پہلے لڑکی پیدا ہونا افضل ہے (معارف القرآن)
Ayah 16:59[يَتَوَارٰى: وہ چھپتا ہے ] [ مِنَ الْقَوْمِ : لوگوں سے ] [ مِنْ سُوْۗءِ مَا : اس کی برائی (کے سبب) سے ] [ بُشِّرَ؛اس کو خوشخبری دی گئی ] [ بِهٖ ۭ؛جس کی ] [ اَيُمْسِكُهٗ : چاہے وہ تھام لے اس کو ] [ عَلٰي هُوْنٍ : رسوائی کے باوجود ] [ اَمْ يَدُسُّهٗ : یا وہ دھنسا دے اس کو ] [ فِي التُّرَابِ ۭ: مٹی میں ] [ اَلَا : خبردار ] [ سَاۗءَ : کتنا برا ہے ] [ مَا : وہ جو ] [ يَحْكُمُوْنَ : یہ لوگ فیصلہ کرتے ہیں ]
د س س
[دَسًّا : (ن) کسی چیز کو کسی چیز کے نیچے چھپا دینا۔ کسی چیز میں ٹھونس دینا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 59]
Ayah 16:60[لِلَّذِيْنَ : ان کے لئے جو ] [ لَا يُؤْمِنُوْنَ : ایمان نہیں لاتے ] [ بِالْاٰخِرَةِ : آخرت پر ] [ مَثَلُ السَّوْءِ ۚ: بُرائی کی مثال ہے ] [ وَللّٰهِ : اور اللہ کے لئے ] [ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى ۭ : بلند ترین مثال ہے ] [ وَهُو : اور وہ ہی ] [ الْعَزِيْزُ : بالادست ہے ] [ الْحَكِيْمُ : حکمت والا ہے ]
Ayah 16:61[وَلَوْ : اور اگر ] [ يُؤَاخِذُ : پکڑے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ النَاسَ : لوگوں کو ] [ بِظُلْمِهِمْ : ان ظلم کے سبب سے ] [ مَا تَرَكَ : تو وہ نہ چھوڑے ] [ عَلَيْهَا : اس پر ] [ مِنْ دَاۗبَّةٍ : کوئی بھی چلنے والا ] [ وَّلٰكِنْ : اور لیکن ] [ يُّؤَخِّر : وہ مہلت دیتا ہے ] [ُهُمْ؛ان کو ] [ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ: ایک معین مدت تک ] [ فَاِذَا؛پھر جب ] [ جَاۗءَ؛آ جائے ] [ اَجَلُهُمْ؛ان کا وقت ] [ لَا يَسْتَاْخِرُوْنَ : تو وہ لوگ پیچھے نہیں ہوں گے ] [ سَاعَةً : ایک گھڑی (لمحہ) بھر ] [ وَّلَا يَسْتَقْدِمُوْنَ : اور نہ ہی آگے ہوں گے ]
Ayah 16:62[وَيَجْعَلُوْنَ : اور وہ بناتے ہیں ] [ للّٰهِ : اللہ کے لئے ] [ مَا : وہ جس کو ] [ يَكْرَهُوْنَ : یہ لوگ (خود) ناپسند کرتے ہیں ] [ وَتَصِفُ : اور بیان کرتی ہیں ] [ اَلْسِـنَتُهُمُ : ان کی زبانیں ] [ الْكَذِبَ؛جھوٹ ] [ ان : کہ ] [ لَهُمُ : ان کے لئے ہے ] [ الْحُسْنٰى ۭ: بہترین ] [ لَا جَرَمَ : کوئی شک نہیں ] [ ان : کہ ] [ لَهُمُ : ان کے لئے ] [ النَارَ : آگ ہے ] [ وَانهُمْ : اور یہ کہ وہ لوگ ] [ مُّفْرَطُوْنَ : زیادہ کئے جانے والے ہیں ]
Ayah 16:63[تَاللّٰهِ : اللہ کی قسم ] [ لَقَدْ اَرْسَلْنَآ : ہم یقینا بھیج چکے ہیں (رسولوں کو)] [ اِلٰٓى اُمَمٍ : کچھ امتوں کی طرف ] [ مِّنْ قَبْلِكَ : آپ ﷺ سے پہلے ] [ فَزَيَّنَ : پھر مزیّن کیا ] [ لَهُمُ : ان کے لئے ] [ الشَّيْطٰنُ : شیطان نے ] [ اَعْمَالَهُمْ : ان کے اعمال کو ] [ فَهُوَ : تو وہ ہی ] [ وَلِيُّهُمُ : ان کا کارساز ہے ] [ الْيَوْمَ : آج کے دن (بھی)] [ وَلَهُمْ : اور ان سب کے لئے ] [ عَذَابٌ اَلِيْمٌ: ایک دردناک عذاب ہے ]
ترکیب : (آیت۔ 63) اَرْسَلْنَا کا مفعول رُسُلًا محذوف ہے۔
Ayah 16:64[وَمَآ انزَلْنَا : اور ہم نے نہیں اتارا ] [ عَلَيْكَ : آپ ﷺ پر ] [ الْكِتٰبَ : اس کتاب کو ] [ اِلَّا : مگر اس واسطے ] [ لِتُـبَيِّنَ : کہ آپ ﷺ واضح کردیں ] [ لَهُمُ : ان کے لئے ] [ الَّذِي : اس کو ] [ اخْتَلَفُوْا : انھوں نے اختلاف کیا ] [ فِيْهِ ۙ: جس میں ] [ وَهُدًى: اور ہدایت کے واسطے ] [ وَّرَحْمَةً : اور رحمت کے واسطے ] [ لِقَوْمٍ : ایسے لوگوں کے لئے ] [ يُّؤْمِنُوْنَ : جو ایمان رکھتے ہیں ]
(آیت۔ 24) ۔ ھُدًی اور رَحْمَۃً کو یہاں حال کے بجائے مفعول لَہٗ ماننا بہتر ہے۔
Ayah 16:65[وَاللّٰهُ : اور اللہ نے ] [ انزَلَ : اتارا ] [ مِنَ السَّمَاۗءِ : آسمان سے ] [ مَاۗءً : کچھ پانی ] [ فَاَحْيَا بِهِ : پھر اس نے زندہ کیا اس سے ] [ الْاَرْضَ : زمین کو ] [ بَعْدَ مَوْتِهَا ۭ: اس کی موت کے بعد ] [ ان : بیشک ] [ فِيْ ذٰلِكَ : اس میں ] [ لَاٰيَةً : یقینا ایک نشانی ہے ] [ لِقَوْمٍ : ایسے لوگوں کے لئے ] [ يَّسْمَعُوْنَ : جو کان دھرتے ہیں ]
نوٹ۔ 1: آیت۔ 65 میں ہے کہ آسمان سے پانی برستا ہے تو مردہ زمین جی اٹھتی ہے۔ اس کے آگے یہ نہیں فرمایا کہ اس میں ان کے لئے نشانی ہے جو دیکھتے ہیں بلکہ فرمایا کہ ان کے لئے نشانی ہے جو سن کر سمجھتے ہیں۔ اس سماعت کا تعلق گذشتہ آیت۔ 64 سے ہے جس میں قرآن کو ہدایت اور رحمت کہا گیا ہے۔ اس طرح مطلب یہ ہوا کہ جس طرح آسمان سے برسنے والے پانی سے مردہ زمین جی اٹھتی ہے اسی طرح آسمان سے برسنے والی اس وحی یعنی قرآن سے ان کے مردہ دل جی اٹھتے ہیں جو اس کو سن کر سمجھتے ہیں (تفسیر ابن کثیر سے ماخوذ) ۔
Ayah 16:66[وَان : اور بیشک ] [ لَكُمْ : تمہارے لئے ] [ فِي الْانعام : چوپایوں میں ] [ لَعِبْرَةً ۭ: یقینا ایک عبرت ہے ] [ نُسْقِيْكُمْ : ہم پلاتے ہیں تم لوگوں کو ] [ مِّمَا : اس میں سے جو ] [ فِيْ بُطُوْنِهٖ : ان کے پیٹوں میں ہے ] [ مِنْۢ بَيْنِ فَرْثٍ : خون اور گوبر کے درمیان سے ] [ وَّدَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا : (خون اور گوبر کی) ملاوٹ سے پاک دودھ ] [ سَاۗىِٕغًا : خوشگوار ہوتے ہوئے ] [ لِلشّٰرِبِيْنَ : پینے والوں کے لئے ]
ر ث
[فَرَثًا : (س) شکم سیر ہونا۔]
[ فَرْثٌ گوبر (جب تک اوجھڑی میں رہے) زیر مطالعہ آیت۔ 66 ۔ ]
(آیت۔ 66) اَلْاَنْعَام اسمِ جنس ہے۔ اس لئے بُطُوْنِہٖ میں واحد مذکر کی ضمیر چہٖ بھی جائز ہے۔ نُسْقِیْ کا مفعول اوّل کُمْ کی ضمیر ہے اور اس کا مفعول ثانی لَبَنًا خَالِصًا ہے جبکہ سَاگغًا حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔
Ayah 16:67[وَمِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِيْلِ وَالْاَعْنَابِ : انگور اور کھجور کے پھلوں سے ] [ تَتَّخِذُوْنَ : تم لوگ بناتے ہو ] [ مِنْهُ : جس سے ] [ سَكَرًا : کچھ نشہ آور چیز ] [ وَّرِزْقًا حَسَـنًا ۭ: اور کچھ اچھا رزق ] [ ان : بیشک ] [ فِيْ ذٰلِكَ : اس میں ] [ لَاٰيَةً : یقینا ایک نشانی ہے ] [ لِقَوْمٍ : ایسے لوگوں کے لئے ] [ يَّعقلوْنَ : جو عقل سے کام لیتے ہیں ]
نوٹ۔ 2: آیت 67 ۔ میں نشہ اور رزق حسن کو الگ الگ بیان کیا گیا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے نشہ کوئی اچھی چیز نہیں ہے۔ چناچہ مکہ میں جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابۂ کرام میں سے تاڑنے والے تاڑ گئے تھے کہ نشہ نے حرام ہونا ہے۔ چناچہ مدینہ میں اس کے حرام ہونے کا حکم آگیا۔ (حافظ احمد یار صاحب مرحوم)
صحابۂ کرام کا رویہ یہ تھا کہ وہ لوگ قرآن میں اللہ کی منشا و مرضی تلاش کرتے تھے۔ اس لئے اس آیت میں ان کو صاف نظر آگیا کہ نشہ ہمارے رب کو پسند نہیں ہے۔ جبکہ ہمارے ترقی پسند مسلمان بھائی قرآن میں اپنی مرضی کا جواز تلاش کرتے ہیں۔ اس لئے ان کو اسی آیت میں نشہ کے جائز ہونے کا جواز نظر آتا ہے اور اس کے حرام ہونے کا حکم نظر نہیں آتا کیونکہ اس میں حرام کا لفظ استعمال نہیں ہوا بلکہ رِجْسٌ (نجاست) کا لفظ آیا ہے۔ فکر ہر کس بقدر ہمت اوست۔
نوٹ۔ 3: رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ مکھیوں کی تمام قسمیں جہنم میں جائیں گی جو وہاں جہنمیوں پر بطور عذاب مسلط کردی جائیں گی۔ مگر شہد کی مکھی جہنم میں نہیں جائے گی (معارف القرآن) ۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ باقی مکھیاں اپنے لئے جیتی ہیں جبکہ شہد کی مکھی دوسروں کے لئے جیتی ہے۔
نوٹ۔ 4: شہد کی افادیت کے متعلق جو کچھ تفاسیر میں ہے اور حکیم لوگوں نے جو نسخے تجویز کئے ہیں ان کو ہماری خوش اعتقادی پر محمول کر کے نظر انداز کردیا جاتا ہے، کیونکہ ان کا کوئی سائنٹفک ثبوت نہیں ہے۔ لیکن ایسے لوگوں کی تسلی کے لئے ہماری خوش اعتقادی کا اب سائنٹفک ثبوت بھی سامنے آگیا ہے۔ مغربی ممالک میں شہد سے مختلف بیماریوں کے علاج کے جو تجربے کئے گئے ہیں ان کے متعلق کینیڈا کے ایک ہفت روزہ ” ویکلی ورلڈ نیوز “ نے اپنی 17 ۔ جنوری 1995 ء کی اشاعت میں ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے۔ اس کے کچھ اقتباسات درج ہیں :
جوڑوں کا درد : ایک حصہ شہد دو حصے نیم گرم پانی میں حل کریں اور بعد میں اس میں ایک چھوٹے چمچ کے برابر دارچینی کا پائوڈر ملا لیں۔ جسم کے درد والے حصہ پر اس مرکب کی ہلکی ہلکی مالش کریں۔ اس سے چند ہی منٹوں میں درد میں فوری طور پر افاقہ ہوگا یا پھر Arthritis کے مریض یہ بھی کرسکتے ہیں کہ روزانہ صبح و شام ایک پیالی گرم پانی دو چمچ شہد اور ایک چھوٹا چمچ دار چینی کا پائوڈر ملا کر یہ مرکب باقاعدگی سے پئیں۔ درد چاہے کیسا ہی کیوں نہ ہو اس سے افاقہ ہوگا۔
اس علاج کے سلسلے میں کو پن ہیگن یونیورسٹی میں حال ہی میں ایک تجربہ کیا گیا۔ ایک ڈاکٹر نے Arthritis کے تقریباً دو ہزار مریضوں کو روزانہ ناشتے سے قبل ایک شربت باقاعدگی سے پلانا شروع کیا جو صرف ایک چمچ شہد اور نصف چمچ دار چینی کے پائوڈر پر مشتمل تھا۔ ایک آدھ ہفتے میں ہی 731 مریضوں کا درد ختم ہوگیا اور ایک ماہ میں تو وہ سارے مریض جو درد کی وجہ سے چلنے پھرنے سے قاصر تھے، چلنے پھرنے لگے۔
کولسٹرول میں کمی : سولہ اونس چائے کے پانی میں دو چمچ شہد اور تین چمچ دار چینی کا پائوڈر ملا کر پلانے سے دو گھنٹے میں مریض کے خون میں موجود کو لسٹرول میں دس فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس سلسلے میں ہونے والی ریسرچ میں کہا گیا ہے کہ دن میں تین دفعہ اس طرح پینے سے کو لسٹرول کی سطح کم ہوجاتی ہے۔ ڈاکٹر الیکزانڈر اندریو اور اردک ویگوئیل میں نے ایک مشہور میڈیکل جرنل میں یہ انکشاف کیا ہے کہ اگر روزانہ اس طرح چائے بنا کر پی جائے تو خون میں کو لسٹرول کی مقدار چاہے خطرے کی حدود کو چھو رہی ہو تو وہ بھی کنٹرول ہوجاتی ہے۔ اور چربی کی مقدار بھی اپنی حد میں رہتی ہے۔ اس جرنل میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ روز مرہ غذا میں خالص شہد کے باقاعدہ استعمال سے کو لسٹرول کی شکایت کبھی بھی پید انہیں ہوسکتی۔
امراضِ قلب : روزانہ صبح ناشتے میں بریڈ یا روٹی کے ساتھ جام یا جیلی لینے کی بجائے شہد اور دارچینی کے پائوڈر کا پیسٹ بنا کرلینے سے جسم میں اور خون کی نالیوں میں جمع ہونے والی چربی پگھل جاتی ہے اور اس طرح امراضِ قلب کے حملے سے انسان محفوظ رہتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ جن لوگوں کو ایک دفعہ ہارٹ اٹیک ہوچکا ہو وہ بھی دوسرے اٹیک سے محفوظ ہوجاتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس کے باقاعدہ استعمال سے دل کی دھڑکن معمول پر رہتی ہے اور تنفس کی تکلیف میں بھی افاقہ ہوتا ہے۔ امریکہ، کینیڈا اور دیگر ممالک میں کئے جانے والے تجربات کی روشنی میں ایک اہم بات سامنے آئی ہے کہ بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ خون کی نالیوں میں جو سختی آجاتی ہے اور ان کی لچک ختم ہوجاتی ہے۔ شہد اور دارچینی کے باقاعدہ استعمال سے یہ صورتحال ختم ہوجاتی ہے۔ ان کا لچکیلاپن بحال ہوجاتا ہے اور برقرار رہتا ہے۔
وبائی بیکٹیریا سے جسم کی حفاظت : ماہرین ڈاکٹر اور تجربات کرنے والے سائنسدانوں کا بیان ہے کہ شہد اور دار چینی استعمال کرنے والوں کے جسموں میں موجود بیماریوں سے مقابلہ کرنے کی قوت مدافعت میں تین گنا اضافہ ہوجاتا ہے۔ جس سے انہیں وبائی بیکٹیریا اور بیماریوں کے دیگر جراثیم سے تحفظ حاصل ہوجاتا ہے۔ شہد میں اللہ تعالیٰ نے بیشمار مقوی اجزاء اور وٹا من رکھے ہیں جو اس قسم کے جراثیم کا فوری طور پر خاتمہ کردیتے ہیں۔
طویل العمری (لمبی عمر) : چین اور مشرق وسطیٰ کے حکماء کا دعویٰ ہے کہ شہد اور دارچینی کے پائو ڈر کی چائے پینے والے کبھی بھی بوڑھے نہیں ہوتے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ تین کپ پانی میں چار چمچ شہد ایک چمچ دار چینی کا پائوڈر ڈال کر اسے ابالا جائے اور اس کی چائے بنائی جائے۔ دن میں تین چار دفعہ اس طرح کی چائے پینے سے جلد کے خلیے جوان رہتے ہیں اور عمر بڑھنے کے باوجود جلد میں ڈھیلا پن نہیں آتا۔ اس سے لمبی عمر پانے کے امکانات بھی پیدا ہوجاتے ہیں اور سو سال کی عمر میں بھی آدمی جوانوں کی طرح کام کرسکتا ہے۔
چہرے کے کیل مہا سے وغیرہ : تین چمچ برابر شہد کو ایک چمچ کے برابر دارچینی کے پائوڈر میں ملا کر پیسٹ بنالیں۔ رات کو سوتے وقت چہرے کے کیلوں پر اچھی طرح مل لیں۔ صبح اٹھ کر چنے کے بیسن سے یا سادہ پانی سے چہرہ دھو لیں۔ اس عمل کو دو ہفتے تک دھرائیں۔ اس سے پرانے سے پرانے اور مستقل مہا سے بھی صاف ہوجائیں گے۔
کینسر : جاپان اور آسٹریلیا میں کئے جانے والے حالیہ تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ پیٹ اور گلے کے غدود کا کینسر شہد اور دارچینی کی مدد سے روکا جاسکتا ہے۔ اس طرح کے کینسر کا شکار ہونے والے مریضوں کو روزانہ دن میں تین بار شہد اور دارچینی کا مرکب دیا جاتا ہے۔ جس سے انہیں دیگر دوائوں کے مقابل کہیں جلد افاقہ محسوس ہوا۔ معلومات کے مطابق ان مریضوں کو روزانہ دن میں تین بار ایک چمچ شہد اور ایک چمچ دارچینی کا پائوڈر ملا کر ایک ماہ تک دیا جاتا رہا جس کا مثبت نتیجہ سامنے آیا۔ معالج کا کہنا ہے کہ ایسے مریضوں کو صرف ڈاکٹروں کے مشوروں پر ہی عمل کرنا چاہیے لیکن پھر بھی اس نے کہا کہ میں ایسے ڈاکٹروں کو مشورہ دوں گا کہ وہ اس طرح کے علاج کو بلاجھجھک اپنا سکتے ہیں کیونکہ اس کے نتائج نہایت حواصلہ افزاء ہیں۔
خالص شہد کا ٹیسٹ : پانی سے بھرے شیشے کے برتن میں چند قطرے ڈالیں اگر جوں کے توں جا کر تہہ میں بیٹھ جائیں تو خالص اور اگر پھیل جائیں تو نقلی اور نہ خالص۔
نقصان : شہد اور گھی مساوی وزن میں استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ شہد کے ساتھ مچھلی، خربوزہ، سرکہ اور مولی نہ کھائیں۔ اگر طبیعت میں گرمی ہو تو موسم گرما میں شہد میں دودھ، پانی اور دہی ملا کر استعمال کریں۔
Ayah 16:68[وَاَوْحٰى: اور وحی کیا ] [ رَبُّكَ : آپ ﷺ کے رب نے ] [ اِلَى النَّحْلِ : شہد کی مکھی کی طرف ] [ ان : کہ ] [ اتَّخِذِيْ : تو بنا ] [ مِنَ الْجبالِ : پہاڑوں میں سے ] [ بُيُوْتًا : کچھ گھر ] [ وَّمِنَ الشَّجَرِ : وَمِمَا : اور اس میں سے جو ] [ يَعْرِشُوْنَ : یہ لوگ چھت ڈالتے ہیں ]
Ayah 16:69[ثُمَّ : پھر ] [ كُلِيْ : تو کھا ] [ مِنْ كُلِ الثَّمَرٰتِ : سارے پھلوں میں سے ] [ فَاسْلُكِيْ : پھر تو چل ] [ سُبُلَ رَبِكِ : اپنے رب کے راستوں میں ] [ ذُلُلًا ۭ: جو سدھائے ہوئے ہیں ] [ يَخْرُجُ؛نکلتی ہے ] [ مِنْۢ بُطُوْنِهَا : ان کے پیٹوں سے ] [ شراب : پینے کی ایک چیز ] [ مُّخْتَلِفٌ: مختلف ہیں ] [ اَلْوَانهٗ : اس کے رنگ ] [ فِيْهِ : اس میں ] [ شِفَاۗءٌ: شفا ہے ] [ لِلنَاسِ ۭ: لوگوں کے لئے ] [ ان : بیشک ] [ فِيْ ذٰلِكَ : اس میں ] [ لَاٰيَةً : ایک نشانی ہے ] [ لِقَوْمٍ : ایسے لوگوں کے لئے ] [ يَّتَفَكَّرُوْنَ : جو غور و فکر کرتے ہیں ]
Ayah 16:70[وَاللّٰهُ : اور اللہ ہی نے ] [ خَلَقَكُمْ : پیدا کیا تم لوگوں کو ] [ ثُمَّ : پھر ] [ يَتَوَفّٰىكُمْ : وہ وفات دیتا ہے تم کو ] [ ڐوَمِنْكُمْ مَنْ : اور تم میں سے وہ بھی ہے جو ] [ يُّرَدُّ : لوٹا دیا جاتا ہے ] [ اِلٰٓى اَرْذَلِ الْعُمُرِ : عمر کے سب سے گھٹیا (حصہ) کی طرف ] [ لِكَيْ لَا يَعْلَمَ : تاکہ وہ نہ جانے ] [ بَعْدَ عِلْمٍ : جاننے کے بعد ] [ شَـيْــــًٔـا : کچھ بھی ] [ ۭان : بیشک ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ عَلِيْمٌ: جاننے والا ہے ] [ قَدِيْرٌ: قدرت والا ہے ]
Ayah 16:71[وَاللّٰهُ : اور اللہ ہی نے ] [ فَضَّلَ : فضیلت دی ] [ بَعْضَكُمْ : تمہارے بعض کو ] [ عَلٰي بَعْضٍ : بعض پر ] [ فِي الرِّزْقِ ۚ : روزی میں ] [فَمَا الَّذِينَ : تو نہیں ہیں لوگ جن کو ] [ فُضِّلُوْا : فضیلت دی گئی ] [ بِرَاۗدِّيْ رِزْقِهِمْ : اپنی روزی کو لوٹانے والے ] [ عَلٰي مَا : اس پر جس کے ] [ مَلَكَتْ اَيْمَانهُمْ : مالک ہوئے ان کے داہنے ہاتھ ] [ فَهُمْ : کہ نتیجتاً وہ سب ] [ فِيْهِ : اس میں ] [ سَوَاۗءٌ ۭ: برابر ہوں ] [ اَفَبِنِعْمَةِ ا للّٰهِ : تو کیا اللہ کی نعمت کا ] [ يَجْحَدُوْنَ : وہ لوگ جانتے بوجھتے انکار کرتے ہیں ]
ترکیب : (آیت۔ 71) فَمَا الَّذِیْنَ کا مَا نافیہ ہے۔ اَلَّذِیْنَ فُضِّلُوْا اس کا اسم ہے۔ جبکہ مرکب اضافی بِرَادِّیْ رِزْقِھِمْ اس کی خبر ہے۔ رَادِّیْ دراصل رَادُّوْنَ تھا۔ اس پر بِ داخل ہوا تو حالت جر میں یہ رَادِّیْنَ ہوگیا۔ پھر مضاف ہونے کی وجہ سے نون اعرابی گرا تو رَادِّیْ استعمال ہوا۔ فَھُمْ کا فَا سببیہ ہے اور فِیْہِ کی ضمیر رزق کے لئے ہے۔
نوٹ۔ 1: زمانۂ حال میں لوگوں نے آیت۔ 71 کو اسلام کے فلسفۂ معیشت کی اصل اور قانونِ معیشت کی ایک اہم دفعہ قرار دیا ہے۔ ان کے نزدیک آیت کا منشا یہ ہے کہ جن لوگوں کو اللہ نے رزق میں فضیلت عطا کی ہے ان کو اپنا رزق اپنے نوکروں کی طرف ضرور لوٹا دینا چاہیے۔ اگر نہ لوٹائیں گے تو اللہ کی نعمت کے منکر قرار پائیں گے۔ حالانکہ اس پورے سلسلۂ کلام میں قانون معیشت کے بیان کا کوئی موقع نہیں ہے۔ اوپر سے تمام تقریر شرک کے ابطال اور توحید کے اثبات میں ہوتی چلی آرہی ہے اور آگے بھی مسلسل یہی مضمون چل رہا ہے۔ اس کے بیچ میں یکایک قانون معیشت کی ایک دفعہ بیان کردینے کا کیا تک ہے۔ آیت کو اس کے سیاق وسباق میں رکھ کر دیکھا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اس کے بالکل برعکس مضمون بیان ہو رہا ہے۔ یہاں استدلال یہ ہے کہ تم خود اپنے مال میں اپنے نوکروں کو جب برابر کا درجہ نہیں دیتے تو پھر کس طرح سمجھتے ہو کہ جو احسانات اللہ نے تم پر کئے ہیں اس کے شکریہ میں اللہ کے ساتھ اس کے غلاموں کا بھی حصہ ہے اور یہ سمجھ بیٹھو کہ اختیارات اور حقوق میں اللہ کے یہ غلام بھی برابر کے حصہ دار ہیں۔
شاید لوگوں کو غلط فہمی اَفَبِنِعْمَۃِ اللّٰہِ یَجْحَدُوْنَ کے الفاظ سے ہوئی ہے۔ انھوں نے اس کا مطلب یہ سمجھا کہ اپنے زیر دستوں کی طرف رزق نہ پھیر دینا ہی اللہ کی نعمت کا انکار ہے۔ حالانکہ جو شخص قرآن میں کچھ بھی نظر رکھتا ہے وہ جانتا ہے کہ اللہ کی نعمت کا شکریہ غیر اللہ کو ادا کرنا قرآن کی نگاہ میں اللہ کی نعمتوں کا انکار ہے۔ فرض کریں کہ آپ ایک ضرورت مند پر ترس کھا کر اس کی مدد کرتے ہیں اور وہ اٹھ کر آپ کے سامنے ایک دوسرے آدمی کا شکریہ ادا کرتا ہے، تو آپ یہ ضرور سمجھیں گے کہ یہ ایک احسان فراموش آدمی ہے۔ کیونکہ اس شخص کی اس حرکت کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے اس کی جو مدد کی ہے وہ اپنی فیاضی کی وجہ سے نہیں کی ہے بلکہ اس دوسرے شخص کی خاطر کی ہے اور آپ کوئی رحیم اور شفیق انسان نہیں ہیں بلکہ محض ایک دوست نواز اور یار باش آدمی ہیں۔ چند دوستوں کے توسل سے کوئی آئے تو آپ اس کی مدد اپنے دوستوں کی خاطر کردیتے ہیں ورنہ آپ سے کسی کو کچھ فیض حاصل نہیں ہوسکتا۔ اس لئے قرآن میں یہ بات بطور ایک قاعدۂ کلیہ کے پیش کی گئی ہے کہ محسن کے احسان کا شکریہ غیر محسن کو ادا کرنا دراصل محسن کے احسان کا انکار کرنا ہے۔
نعمت الٰہی کے انکار کا یہ مفہوم سمجھ لینے کے بعد اَفَبِنِعْمَۃِ اللّٰہِ یَجْحَدُوْنَ کا یہ مطلب صاف سمجھ میں آجاتا ہے کہ جب لوگ خود اپنی زندگی میں مالک اور نوکر کا فرق ہر وقت ملحوظ رکھتے ہیں تو پھر کیا ایک اللہ ہی کے معاملہ میں ان کو اس بات پر اصرار ہے کہ اس کے بندوں کو اس کا شریک قرار دیں اور جو نعمتیں اس سے پائی ہیں ان کا شکریہ اس کے بندوں کو ادا کریں۔ (تفہیم القرآن سے ماخوذ)
Ayah 16:72[وَاللّٰهُ : اور اللہ ہی نے ] [ جَعَلَ : بنایا ] [ لَكُمْ : تمہارے لئے ] [ مِّنْ انفُسِكُمْ : تمہارے اپنے آپ (یعنی جنس) سے ] [ اَزْوَاجًا؛کچھ جوڑے ] [ وَّجَعَلَ : اور اس نے بنائے ] [ لَكُمْ : تمہارے لئے ] [ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ : تمہارے جوڑوں (بیویوں) سے ] [ بَنِيْنَ : بیٹے ] [ وَحَفَدَةً : اور پوتے ] [ وَّرَزَقَكُمْ : اور اس نے دیا تم کو ] [ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ ۭ: پاکیزہ (چیزوں) سے ] [ اَفَبِالْبَاطِلِ : تو کیا باطل پر ] [ يُؤْمِنُوْنَ : وہ ایمان لاتے ہیں ] [ وَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ : اور اللہ کی نعمت کا ] [ هُمْ : وہ لوگ ہی ] [ يَكْفُرُوْنَ : انکار کرتے ہیں ]
حد
[حَفْدًا : (ض) کام جلد کرنا۔ مستعدی سے خدمت کرنا۔]
[ حَافِدٌ ج حَفَدَۃٌ۔ مستعدی سے خدمت کرنے والا ۔ پوتے نواسے وغیرہ (کیونکہ پرانے زمانے میں یہ مستعدی سے بزرگوں کی خدمت کرتے تھے) زیر مطالعہ آیت۔ 72 ۔]
Ayah 16:73[وَيَعْبُدُوْنَ : اور وہ بندگی کرتے ہیں ] [ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ : اللہ کے علاوہ ] [ مَا : اس کی جو ] [ لَا يَمْلِكُ : اختیار نہیں رکھتے ] [ لَهُمْ : ان کے لئے ] [ رِزْقًا : روزی دینے کا ] [ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : زمین اور آسمانوں سے ] [ شَـيْـــًٔـا : کسی چیز کا ] [ وَّلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ : اور نہ وہ استطاعت رکھتے ہیں ]
(آیت۔ 73) یَمْلِکُ کا مفعول رِزْقًا ہے۔ یہ مصدر ہے اور اس نے اپنے مفعول شَیْئًا کو نصب دی ہے۔ (دیکھیں آیت۔ 2:54، نوٹ۔ 1)
Ayah 16:74[فَلَا تَضْرِبُوْا : پس تم لوگ مت بیان کرو ] [ للّٰهِ : اللہ کے لئے ] [ الْاَمْثَالَ ۭ : مثالیں ] [ ان : بیشک ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [يَعْلَمُ : جانتا ہے ] [ وَانتم : اور تم لوگ ] [ لَا تَعْلَمُوْنَ : نہیں جانتے ]
نوٹ۔ 2: آیت۔ 74 میں ہے کہ اللہ کے لئے مثالیں مت بیان کرو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کو دنیوی بادشاہوں پر مت قیاس کرو کہ جس طرح کوئی ان کے مصاحبوں اور درباری ملازمین کے توسط کے بغیر ان تک اپنی درخواست نہیں پہنچا سکتا، اسی طرح اللہ کے متعلق بھی تم یہ گمان کرنے لگو کہ وہ اپنے قصر شاہی میں ملائکہ اور اولیاء کے درمیان گھرا بیٹھا ہے اور کسی کا کوئی کام ان کے واسطوں کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 16:75[ضَرَبَ : بیان کی ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ مَثَلًا : ایک مثال ] [ عَبْدًا مَّمْلُوْكًا : ایک غلام بندے کی ] [ لَّا يَـقْدِرُ : وہ قدرت نہیں رکھتا ] [ عَلٰي شَيْءٍ : کسی چیز پر ] [ وَّمَنْ : اور اس کی ] [ رَّزَقْنٰهُ : ہم نے عطا کی جس کو ] [ مِنَا : اپنے پاس سے ] [ رِزْقًا حَسَـنًا : کچھ اچھی روزی ] [ فَهُوَ : تو وہ ] [ يُنْفِقُ : خرچ کرتا ہے ] [ مِنْهُ : اس میں سے ] [ سِرًّا : چھپاتے ہوئے ] [ وَّجَهْرًا ۭ : اور نمایاں کرتے ہوئے ] [هَلْ : کیا ] [ يَسْتَوٗنَ ۭ : وہ سب برابر ہوتے ہیں ] [اَلْحَمْدُ : تمام شکر و سپاس ] [ للّٰهِ ۭ: اللہ کے لئے ہے ] [ بَلْ : بلکہ (یعنی لیکن)] [ اَكْثَرُهُمْ : ان کے اکثر ] [ لَا يَعْلَمُوْنَ : جانتے نہیں ہیں ]
Ayah 16:76[وَضَرَبَ : اور بیان کی ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ مَثَلًا : ایک مثال ] [ رَّجُلَيْنِ : دو آدمیوں کی ] [ اَحَدُهُمَآ : ان دونوں کا ایک ] [ اَبْكَمُ : گونگا ہے ] [ لَا يَـقْدِرُ : قدرت نہیں رکھتا ] [ عَلٰي شَيْءٍ : کسی چیز پر ] [ وَّهُوَ : اور وہ ] [ كَلٌّ: بوجھ ہے ] [ عَلٰي مَوْلٰىهُ ۙ: اپنے آقا پر ] [ اَيْنَمَا : جہاں کہیں ] [ يُوَجِّهْهُ : وہ بھیجتا ہے اس کو ] [ لَا يَاْتِ : وہ نہیں لاتا ] [ بِخَيْرٍ ۭ: کوئی بھلائی ] [هَلْ : کیا ] [ يَسْتَوِيْ : برابر ہوتا ہے ] [ هُوَ ۙ : وہ ] [وَمَنْ : اور وہ شخص جو ] [ يَّاْمُرُ : حکم کرتا ہے ] [ بِالْعَدْلِ ۙ: انصاف کا ] [ وَهُوَ : اور وہ ] [ عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَــقِيْمٍ : ایک سیدھی راہ پر ہے ]
(آیت۔ 76) ھَلْ یَسْتَوِیْ میں فعل واحد کے صیغے میں آیا ہے کیونکہ اس کا فاعل اسم ظاہر ہے جو ھُوَ اور مَنْ ہے۔
Ayah 16:77[وَللّٰهِ : اور اللہ کے لئے ہی ہے ] [ غَيْبُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ: زمین اور آسمانوں کا غیب ] [ وَمَآ : اور نہیں ہے ] [ اَمْرُ السَّاعَةِ : قیامت کا حکم ] [ اِلَّا : مگر ] [ كَلَمْحِ الْبَصَرِ : چشمِ زدن کی مانند ] [ اَوْ : یا ] [ هُوَ : وہ ] [ اَقْرَبُ ۭ: زیادہ قریب ہو ] [ ان : بیشک ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ عَلٰي كُلِ شَيْءٍ : ہر چیز پر ] [ قَدِيْرٌ: قدرت رکھنے والا ہے ]
ل م ح
[لَمْحًا : (ف) ستارہ یا بجلی کا چمکنا۔ نظر کا اٹھنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 77 ۔]
ترکیب : (آیت۔ 75) ھَلْ یَسْتَوٗنَ فعل جمع کے صیغے میں آیا ہے کیونکہ اس کا فاعل اس میں شامل ھُمْ کی ضمیر ہے جو غلاموں اور انفاق کرنے والوں کے لئے ہے۔
Ayah 16:78[وَاللّٰهُ : اور اللہ ہی نے ] [ اَخْرَجَكُمْ : نکالا تم لوگوں کو ] [ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ : تمہاری مائوں کے پیٹوں سے ] [ لَا تَعْلَمُوْنَ : تم لوگ نہیں جانتے ] [ شَـيْـــًٔـا ۙ: کچھ بھی ] [ وَّجَعَلَ : اور اس نے بنائے ] [ لَكُمُ : تمہارے لئے ] [ السَّمْعَ : سماعت ] [ وَالْاَبْصَارَ : اور بصارتیں ] [ وَالْاَفْــِٕدَةَ ۙ: اور دل (ادراک کی صلاحیتیں)] [ لَعَلَّكُمْ : شاید کہ تم لوگ ] [ تَشْكُرُوْنَ : حق مانو ]
(آیت۔ 78) ۔ لَا تَعْلَمُوْنَ ، یہ پورا جملہ اَخْرَجَکُمْ کی ضمیر مفعولی کُمْ کا حال ہے۔
Ayah 16:79[اَلَمْ يَرَوْا : کیا انھوں نے غور نہیں کیا ] [ اِلَى الطَّيْرِ : پرندوں کی طرف ] [ مُسَخَّرٰتٍ : (کیسے وہ) سدھائے ہوئے ہیں ] [ فِيْ جو السَّمَاۗءِ ۭ: آسمان کی فضا میں ] [ مَا يُمْسِكُهُنَّ : نہیں تھامتا ان کو (کوئی)] [ اِلَّا : مگر ] [ اللّٰهُ ۭ: اللہ ] [ ان : بیشک ] [ فِيْ ذٰلِكَ : اس میں ] [ لَاٰيٰتٍ : یقینا نشانیاں ہیں ] [ لِقَوْمٍ : ایسے لوگوں کے لئے ] [ يُّؤْمِنُوْنَ : جو ایمان لاتے ہیں ]
Ayah 16:80[وَاللّٰهُ : اور اللہ ہی نے ] [ جَعَلَ : بنایا ] [ لَكُمْ : تمہارے لئے ] [ مِّنْۢ بُيُوْتِكُمْ : تمہارے گھروں سے ] [ سَكَنًا : آرام ] [ وَّجَعَلَ : اور اس نے بنائے ] [ لَكُمْ : تمہارے لئے ] [ مِّنْ جُلُوْدِ الْانعام : چوپایوں کی کھالوں سے ] [ بُيُوْتًا : کچھ گھر ] [ تَسْتَخِفُّوْنَهَا : تم لوگ ہلکا پاتے ہو جن کو ] [ يَوْمَ ظَعْنِكُمْ : اپنے کوچ کرنے کے دن ] [ وَيَوْمَ اِقَامَتِكُمْ ۙ: اور اپنی اقامت کرنے کے دن ] [ وَمِنْ اَصْوَافِهَا : اور ان کے اونوں سے ] [ وَاَوْبَارِهَا : اور ان کی پشموں سے ] [ وَاَشْعَارِهَآ : اور ان کے بالوں سے ] [ اَثَاثًا : (اس نے بنائے) کچھ گرہستی کے سامان ] [ وَّمَتَاعًا : اور کچھ برتنے کی چیزیں ] [ اِلٰى حِيْنٍ : ایک مدت تک ]
ظ ع ن
[ظَعْنًا : (ف) سفر پر روانہ ہونا۔ کوچ کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 80 ۔]
ص و
[ صَوَفًا : (س) مینڈھے کا بہت اون والا ہونا۔]
صُوْفٌ ج اَصْوَافٌ اسم ذات ہے۔ اون۔ زیر مطالعہ آیت۔ 80 ۔]
و ب ر
[ وَبَرًا : (س) بہت پشم والا ہونا۔]
[ وَبَرٌ ج اُوْبَارٌ۔ اسم ذات بھی ہے۔ پشم۔ خرگوش کے نرم بال۔ زیر مطالعہ آیت۔ 80]
ء ث ث
[ اَثَاثًا : (ن) گھنا اور گنجان ہونا۔ بکثرت ہونا۔]
[ اَثَاثٌ اسم ذات بھی ہے۔ گھر گرہستی کا وافر سامان۔ زیر مطالعہ آیت۔ 80 ۔]