Ayah 15:1[الۗر۔۔] [ تِلْكَ : یہ ] [ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ : اس کتاب کی آیتیں ہیں ] [ وَقُرْاٰنٍ مُّبِيْنٍ : اور واضح قرآن کی ]
ترکیب : (آیت۔ 1) ۔ اٰیٰتُ مضاف ہے۔ اَلْکِتٰبِ اس کا پہلا مضاف الیہ ہے۔ اور قُرْاٰنٍ مُّبِیْنٍ اس کا دوسرا مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے حالت جرّ میں آیا ہے۔
Ayah 15:2[رُبَمَا : بہت ہی ] [ يَوَدُّ : خواہش کریں گے ] [الَّذِينَ : وہ لوگ جنھوں نے ] [ كَفَرُوْا : انکار کیا ] [ لَوْ : کاش ] [ كَانوْا : وہ ہوتے ] [مُسْلِمِيْنَ : فرمانبرداری کرنے والے ]
Ayah 15:3[ذَرْ : آپ ﷺ چھوڑ دیں ] [هُمْ : ان لوگوں کو ] [ يَاْكُلُوْا : کہ وہ کھائیں ] [ وَيَتمتَّعُوْا : اور فائدہ اٹھائیں ] [ وَيُلْهِهِمُ : اور غافل کرے ان کو ] [ الْاَمَلُ : امید ] [فَسَوْفَ : تو عنقریب ] [يَعْلَمُوْنَ : وہ جان لیں گے ]
ء م ل
[اَمَلًا : (ن) امید کرنا۔] [اَمَلٌ: اسم ذات بھی ہے۔ امید۔ زیر مطالعہ آیت۔ 3 ۔]
(آیت۔ 3) ذَرْ فعل امر ہے۔ اس کا جواب امر ہونے کی وجہ سے یَاْکُلُوْا۔ یَتَمَتَّعُوْا۔ اور یَلَھِ مجزوم آئے ہیں۔
Ayah 15:4[وَمَآ اَهْلَكْنَا : اور ہم نے ہلاک نہیں کیا ] [مِنْ قَرْيَةٍ : کسی بھی بستی کو ] [اِلَّا : مگر ] [وَ : اس حال میں کہ ] [لَهَا : اس کے لئے تھی ] [كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ: ایک معلوم کتاب ]
(آیت۔ 4) ۔ اَھْلَکْنَا کا مفعول ہونے کی وجہ سے مِنْ قَرْیَۃٍ محلّا حالت نصب میں ہے۔
نوٹ۔ 1: کِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر قوم کے لئے پہلے سے طے کرلیتا ہے کہ اس کو سننے، سمجھنے اور سنبھلنے کے لئے اتنی مہلت دی جائے گی اور اس حد تک اسے اپنی من مانی کرنے کا موقع دیا جاتا رہے گا۔ یہ مہلت جب تک باقی رہتی ہے وہ ڈھیل دیتا رہتا ہے اور سرکشی کرتے ہی فوراً اس نے کبھی بھی کسی قوم کو نہیں پکڑا (تفہیم القرآن سے ماخوذ)
Ayah 15:5[مَا تَسْبِقُ : آگے نہیں نکلتی ] [ مِنْ اُمَّةٍ : کوئی بھی امت ] [اَجَلَهَا : اپنے وقت سے ] [وَمَا يَسْتَاْخِرُوْنَ : اور نہ وہ پیچھے رہتے ہیں ]
(آیت۔ 5) تَسْبِقُ کا فاعل ہونے کی وجہ سے مِنْ اُمَّۃٍ محلَّا حالت رفع میں ہے۔
Ayah 15:6[وَقَالُوْا : اور انھوں نے کہا ] [يٰٓاَيُّھَا الَّذِي : اے وہ (شخص)] [ نُزِّلَ : نازل کیا گیا ] [ عَلَيْهِ : جس پر ] [ الذِّكْرُ : اس نصیحت کو ] [ انكَ : بیشک تو ] [لَمَجْنُوْنٌ: یقینا مجنون ہے ]
Ayah 15:7[لَوْ مَا : کیوں نہیں ] [ تَاْتِيْنَا : تو آتا ہمارے پاس ] [ بِالْمَلٰۗىِٕكَةِ : فرشتوں کے ساتھ ] [ ان : اگر [ كُنْتَ : تو ہے ] [ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ : سچ کہنے والوں میں سے ]
Ayah 15:8[مَا نُنَزِّلُ : ہم نہیں اتارتے ] [ الْمَلٰۗىِٕكَةَ : فرشتوں کو ] [ اِلَّا : مگر ] [ بِالْحَقِّ : حق کے ساتھ ] [ وَمَا كَانوْٓا : اور وہ نہ ہوئے ] [ اِذًا : پھر تو ] [ مُّنْظَرِيْنَ : مہلت دیئے ہوئے ]
Ayah 15:9[انا نَحْنُ : بیشک ہم نے ہی ] [ نَزَّلْنَا : اتارا ] [ الذِّكْرَ : اس نصیحت کو ] [وَانا : اور بیشک ہم ] [ لَهٗ : اس کی ] [ لَحٰفِظُوْنَ : یقینا حفاظت کرنے والے ہیں ]
نوٹـ1: حفاظت قرآن کے وعدے میں حفاظت حدیث بھی داخل ہے کیونکہ تمام اہل علم اس پر متفق ہیں کہ قرآن نہ تو صرف الفاظ قرآنی کا نام ہے اور نہ ہی صرف معانی ئِ قرآنی کا، بلکہ دونوں کے مجموعے کو قرآن کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ معانی اور مضامین قرآنیہ تو دوسری کتابوں میں بھی موجود ہیں اور اسلامی تصانیف میں تو عموماً مضامین قرآنیہ ہی ہوتے ہیں، مگر ان کو قرآن نہیں کہا جاتا کیونکہ الفاظ قرآن کے نہیں ہیں۔ اسی طرح اگر کوئی شخص قرآن کریم کے متفرق الفاظ اور جملے لے کر ایک مقالہ یا رسالہ لکھ دے تو اس کو بھی قرآن نہیں کہا جائے گا خواہ اس میں ایک لفظ بھی قرآن کے باہر کا نہ ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن صرف اس مصحف ربانی کا نام ہے جس کے الفاظ اور معانی ساتھ ساتھ محفوظ ہیں۔
جب یہ معلوم ہوا کہ قرآن صرف الفاظ قرآن کا نام نہیں بلکہ معانی بھی اس کا ایک جز ہیں، تو حفاظت قرآن کی جو ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں لی ہے اس میں جس طرح الفاظ قرآنی کی حفاظت کا وعدہ ہے اسی طرح معانی اور مضامین قرآن کی حفاظت اور معنوی تحریف سے اس کو محفوظ رکھنے کا وعدہ بھی شامل ہے۔
اور یہ ظاہر ہے کہ معانی ئِ قرآن وہی ہیں جن کی تعلیم دینے کے لئے رسول اللہ ﷺ کو مبعوث فرمایا گیا۔ جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا گیا ” تاکہ آپ ﷺ واضح کردیں لوگوں کے لئے اس کو جو نازل کیا گیا ان لوگوں کی طرف “ (16:24) ۔ اور یہی معنی اس آیت کے ہیں کہ ” اور وہ ؐ تعلیم دیتے ہیں تم لوگوں کو کتاب کی اور حکمت کی۔ “ (2:151) ، اور اسی لئے آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں تو معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اور جب رسول اللہ ﷺ کو معانی ئِ قرآن کے بیان اور تعلیم کے لئے بھیجا گیا تو آپ ﷺ نے امت کو جن اقوال و افعال کے ذریعہ تعلیم دی ان ہی کا نام حدیث ہے۔ جب حدیث رسول ﷺ درحقیقت تفسیر قرآن اور معانی ئِ قرآن ہیں، جن کی حفاظت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی ہے تو پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ قرآن کے صرف الفاظ محفوظ رہ جائیں اور معانی یعنی احادیث رسول ﷺ ضائع ہوجائیں۔
(معارف القرآن)
Ayah 15:10[وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا : اور یقینا ہم بھیج چکے ہیں (رسولوں کو)] [ مِنْ قَبْلِكَ : آپ ﷺ سے پہلے ] [ فِيْ شِيَعِ الْاَوَّلِيْنَ : پہلے لوگوں میں ]
Ayah 15:11[وَمَا يَاْتِيْهِمْ : اور نہیں آتا ان کے پاس ] [ مِّنْ رَّسُوْلٍ : کوئی بھی رسول ] [اِلَّا : سوائے اس کے کہ ] [ كَانوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ : وہ لوگ اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے ]
Ayah 15:12[كَذٰلِكَ : اس طرح ] [نَسْلُكُهٗ : ڈال دیتے ہیں ہم اس کو ] [ فِيْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِيْنَ : مجرموں کے دلوں میں ]
س ل ک
[سَلْکًا : (ن) (1) کسی راستہ پر چلنا۔ کسی چیز میں داخل ہونا۔ پڑنا۔ (لازم)
(2) کسی راستہ پر چلانا۔ کسی چیز میں داخل کرنا۔ ڈالنا۔ (متعدی) زیر مطالعہ آیت۔ 12]
Ayah 15:13[لَا يُؤْمِنُوْنَ : یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے ] [بِهٖ : اس پر ] [وَقَدْ : اور گزر چکی ہے ] [خَلَتْ سُـنَّةُ الْاَوَّلِيْنَ : پہلے لوگوں کی عادت ]
Ayah 15:14[وَلَوْ : اور اگر ] [ فَتَحْنَا : ہم کھول دیں ] [عَلَيْهِمْ : ان پر ] [ بَابًا : ایک دروازہ ] [ مِّنَ السَّمَاۗءِ : آسمان میں سے ] [ فَظَلُّوْا : پھر وہ لگیں ] [ فِيْهِ : اس میں ] [ يَعْرُجونَ : اوپر چڑھنے ]
ع ر ج
[عُرُوْجًا : (ن۔ ض) اوپر چڑھنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 14 ۔] [مِعْرَجْ : ج مَعَارِجُ ۔ چڑھنے کا آلہ۔ سیڑھی۔ مِنَ اللّٰہِ ذِی الْمَعَارِجِ (اللہ کی طرف سے جو سیڑھیوں والا ہے یعنی مالک ہے) 70:3 ۔] [عَرَجًا : (س) لنگڑانا۔ لنگڑا کر چلنا۔] [اَعْرَجُ : اَفْعَلُ الوان و عیوب پر صفت ہے۔ لنگڑا۔ لَیْسَ عَلَی الْاَعْمٰی حَرَجٌ وَلَا عَلَی الْاَعْرَجِ حَرَجٌ (اندھے پر کوئی گناہ نہیں ہے اور نہ ہی لنگڑے پر کوئی گناہ ہے) 24:61 ۔]
Ayah 15:15[لَقَالُوْٓا : تو ضرور کہیں گے ] [ انمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ سُكِّرَتْ : موند دی گئیں ] [ اَبْصَارُنَا : ہماری نگاہیں ] [بَلْ : بلکہ ] [ نَحْنُ : ہم ] [ قَوْمٌ مَّسْحُوْرُوْنَ : جادو کئے ہوئے لوگ ہیں ]
Ayah 15:16[وَلَقَدْ جَعَلْنَا : اور بیشک ہم نے بنائی ہیں ] [ فِي السَّمَاۗءِ : آسمان میں ] [بُرُوْجًا : (سیاروں کی) منزلیں ] [ وَّزَيَّنّٰهَا : اور ہم نے مزین کیا ان کو ] [ لِلنّٰظِرِيْنَ : دیکھنے والوں کے لئے ]
نوٹ۔ 1: بعض کا قول ہے کہ بروجا سے مراد سورج اور چاند کی منزلیں ہیں۔ عطیہ (رح) کہتے ہیں کہ یہ وہ جگہیں ہیں جہاں چوکی پہرے ہیں۔ جہاں سے سرکش شیطانوں کو مار پڑتی ہے کہ وہ بلند و بالا فرشتوں کی گفتگو نہ سن سکیں۔ فرشتوں کی باتوں کو چوری چوری سننے کے لئے جنات اوپر کو چڑھتے ہیں اور وہ ایک کے اوپر ایک ہوتے ہیں، جو آگے بڑھتا ہے شعلہ اس کو جلانے کے لئے لپکتا ہے۔ سننے والے کا کام شعلہ کبھی تو اس سے پہلے ہی ختم کردیتا ہے کہ وہ اپنے ساتھی کے کان میں کچھ کہہ دے۔ اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جلنے سے پہلے وہ اپنے نیچے والے ساتھی کے کان میں کہہ دے۔ پھر وہ اپنے سے نیچے والے کو اور اسی طرح مسلسل پہنچا دے اور وہ بات زمین تک آجائے اور جادوگر یا کاہن کے کان اس سے آشنا ہوجائیں۔ پھر وہ اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا کر لوگوں میں دون کی لیتا ہے (ابن کثیر (رح) ) ۔ جب وہ ایک آدھ سماوی بات سچی نکلتی ہے تو ان کے معتقدین اسے ان کی سچائی کے ثبوت میں پیش کرتے ہیں اور جو خبریں جھوٹی ثابت ہوتی ہیں ان سے اغماض برتا جاتا ہے۔ (ترجمہ شیخ الہند (رح) )
Ayah 15:17[وَحَفِظْنٰهَا : اور ہم نے محفوظ کیا ان کو ] [مِنْ كُلِ شَيْطٰنٍ رَّجِيْمٍ : ہر دھتکارے ہوئے شیطان سے ]
Ayah 15:18[اِلَّا : سوائے اس کے کہ ] [ مَنِ : جس نے ] [ اسْتَرَقَ : چپکے سے چرایا ] [السَّمْعَ : سننے کو ] [ فَاَتْبَعَهٗ : تو پیچھے لگتا ہے اس کے ] [ شِهَابٌ مُّبِيْنٌ: ایک روشن انگارہ ]
ش ھ ب
[شَھَبًا : (س۔ ک) سیاہی مائل سفید ہونا۔] [شَھْبًا : (ف) گرمی کا کسی کو جھلس دینا۔] [شِھَابٌ : ج شُھُبٌ۔ شعلہ۔ انگارہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 18]
Ayah 15:19[وَالْاَرْضَ : اور (ہم نے پیدا کیا) زمین کو ] [ مَدَدْنٰهَا : ہم نے (ہی) پھیلایا اس کو ] [وَاَلْقَيْنَا : اور ہم نے ڈالا ] [ فِيْهَا : اس میں ] [ رَوَاسِيَ : پہاڑوں کو ] [ وَانۢبَتْنَا : اور ہم نے اگایا ] [ فِيْهَا : اس میں ] [ مِنْ كُلِ شَيْءٍ مَّوْزُوْنٍ : ہر ایک موزوں چیز میں سے ]
ترکیب : (آیت۔ 19) مَدَدْنَا کا مفعول ھَا کی ضمیر ہے اس لئے اَلْاَرْضَ کو اس کا مفعول مقدم ماننے کی گنجائش نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اَلْاَرْضَ سے پہلے ایک فعل محذوف مانا جاتا ہے۔
Ayah 15:20[وَجَعَلْنَا : اور ہم نے بنایا ] [ لَكُمْ : تمہارے لئے ] [فِيْهَا : اس میں ] [ مَعَايِشَ : زندگی کے سامان ] [ وَمَنْ : اور اس کے لئے ] [ لَّسْتم : تم لوگ نہیں ہو ] [ لَهٗ : جس کو ] [ بِرٰزِقِيْنَ : رزق دینے والے ]
(آیت۔ 20) ۔ وَمَنْ دراصل لِمَنْ ہے اور وجعلنا سے متعلق ہے۔ ترجمہ اسی لحاظ سے ہوگا۔
Ayah 15:21[وَ ان : اور نہیں ہے ] [ مِّنْ شَيْءٍ : کوئی بھی چیز ] [ اِلَّا : مگر ] [ عِنْدَنَا : ہمارے پاس ] [ خَزَاۗىِٕنُهٗ : اس کے خزانے ہیں ] [وَمَا نُنَزِّلُهٗٓ: اور ہم نہیں اتارتے اس کو (کسی چیز کو)] [ اِلَّا : مگر ] [ بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ : ایک معلوم اندازے کے ساتھ ]
(آیت۔ 21) ننزلہ کی ضمیر مفعولی خزاگن کے لئے نہیں ہے بلکہ من شیء کے لئے ہے۔
Ayah 15:22[وَاَرْسَلْنَا : اور ہم نے بھیجا ] [ الرِّيٰحَ : ہوائوں کو ] [لَوَاقِحَ : باردار کرنے والی ہوتے ہوئے (بادلوں کو)] [ فَانزَلْنَا : پھر ہم نے اتارا ] [ مِنَ السَّمَاۗءِ : آسمان سے ] [ مَاۗءً : کچھ پانی ] [فَاَسْقَيْنٰكُمُوْهُ : پھر ہم نے پلایا تم لوگوں کو وہ (پانی)] [ وَمَآ انتم : اور تم لوگ نہیں ہو ] [ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ : اس کے دوخانے ہیں خزانچی ]
خ ز ن
[خَزْنًا : (ن) کسی چیز کا ذخیرہ کرنا۔ جمع کرنا۔] [خَزِیْنَۃٌ: ج خَزَاگنُ ۔ ذخیرہ کرنے کی جگہ۔ خزانہ زیر مطالعہ آیت۔ 21 ۔] [خَازِنٌ: ج خَزَنَۃٌ۔ خزانہ کا محاظ اور ذمہ دار۔ داروغہ۔ خزانچی زیر مطالعہ آیت۔ 22 ۔ وَقَالَ الَّذِیْنَ فِی النَّارِ لِخَزَنَۃِ جَھَنَّمَ (اور کہا انھوں نے جو آگ میں ہیں جہنم کے داروغوں سے) 40:49 ۔]
ل ق ح
[لَقْحًا : (ف) نر کھجور کا شگوفہ مادہ کھجور میں ڈالنا۔ حاملہ کرنا۔ باردار کرنا۔] [لَاقِحٌ: ج لَوَاقِحُ باردار کرنے والا یا کرنے والی۔ یہ مذکر مؤنث دونوں کے لئے آتا ہے۔ زیر مطالعہ آیت۔ 22 ۔]
(آیت۔ 22) لواقح اسم الفاعل ہے۔ اس کا مفعول محذوف ہے جو سحابا ہے کیونکہ آیت کا اگلا جملہ اس کی تائید کر رہا ہے۔
Ayah 15:23[وَانا لَنَحْنُ : اور بیشک یقینا ہم ہی ] [ نُـحْيٖ : زندگی دیتے ہیں ] [ وَنُمِيْتُ : اور ہم ہی موت دیتے ہیں ] [ وَنَحْنُ : اور ہم ہی ] [ الْوٰرِثُوْنَ : حقیقی وارث ہیں ]
Ayah 15:24[وَلَقَدْ عَلِمْنَا : اور یقینا ہم جان چکے ہیں ] [الْمُسْتَقْدِمِيْنَ : آگے بڑھنے والوں کو ] [مِنْكُمْ : تم میں سے ] [وَلَقَدْ عَلِمْنَا : اور یقینا ہم جان چکے ہیں ] [ الْمُسْتَاْخِرِيْنَ : پیچھے رہنے والوں کو ]
نوٹ۔ 1: آیت نمبر 24 میں مستقدمین اور مستاخرین سے کون لوگ مراد ہیں، اس کے متعلق مفسرین کی آراء مختلف ہیں۔ اکثریت کی رائے یہ ہے کہ مستقدمین وہ لوگ ہیں جو نماز کی صفوں میں، جہاد کی صفوں میں اور دوسرے نیک کاموں میں آگے رہنے والے ہیں اور مستاخرین وہ لوگ ہیں جو ان چیزوں میں پچھلی صفوں میں رہنے والے اور دیر کرنے والے ہیں۔ قرطبی نے اپنی تفسیر میں فرمایا کہ اسی آیت سے نماز میں صف اوّل اور شروع وقت میں نماز ادا کرنے کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر لوگوں کو معلوم ہوجاتا کہ اذان کہنے اور نماز کی صف اوّل میں کھڑے ہونے کی کتنی بڑی فضیلت ہے تو تمام آدمی اس کوشش میں لگ جاتے کہ پہلی ہی صف میں کھڑے ہوں اور سب کے لیے جگہ نہ ہوتی تو قرعہ اندازی کرنی پڑتی۔ (معارف القرآن)
Ayah 15:25[وَان : اور بیشک ] [ رَبَّكَ : آپ ﷺ کا رب ] [ هُوَ : وہ ہی ] [ يَحْشُرُهُمْ : جمع کرے گا ان کو ] [انهٗ : یقینا وہ ہی ] [حَكِيْمٌ: حکمت والا ہے ] [عَلِيْمٌ : علم والا ہے ]
Ayah 15:26[وَلَقَدْ خَلَقْنَا : اور یقینا ہم نے پیدا کیا ہے ] [ الْانسَان : انسان کو ] [مِنْ صَلْصَالٍ : ایسی کھنکتی مٹی سے جو ] [مِّنْ حَمَا مَّسْنُوْنٍ : گیلے گارے سے تھی ]
Ayah 15:27[وَالْجَاۗنَّ : اور جن کو !] [ خَلَقْنٰهُ : ہم نے پیدا کیا اس کو ] [مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے ] [مِنْ نَارِ السَّمُوْمِ : لُو کی آگ سے ]
Ayah 15:28[وَاِذْ : اور جب ] [قَالَ : کہا ] [ رَبُّكَ : آپ ﷺ کے رب نے ] [ لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ : فرشتوں سے ] [انى: کہ میں ] [خَالِقٌۢ: تخلیق کرنے والا ہوں ] [ بَشَرًا : ایک بشر ] [مِّنْ صَلْصَالٍ : ایسی کھنکتی مٹی سے جو ] [ مِّنْ حَمَا مَّسْنُوْنٍ : گیلے گارے سے ہے ]
Ayah 15:29[فَاِذَا : پھر جب ] [ سَوَّيْتُهٗ : میں نوک پلک درست کرلوں اس کی ] [ وَنَفَخْتُ : اور میں پھونک دوں ] [ فِيْهِ : اس میں ] [ مِنْ رُّوْحِيْ : اپنی روح میں سے ] [ فَقَعُوْا : تو تم لوگ گرپڑنا ] [ لَهٗ : اس کے لئے ] [ سٰجِدِيْنَ : سجدہ کرنے والے ہوتے ہوئے ]
Ayah 15:30[فَسَجَدَ : پھر سجدہ کیا ] [ الْمَلٰۗىِٕكَةُ : فرشتوں نے ] [ كُلُّهُمْ : ان کے ہر ایک نے ] [ اَجْمَعُوْنَ : سب کے سب نے ]
Ayah 15:31[اِلَّآ : سوائے ] [اِبْلِيْسَ : ابلیس کے ] [اَبٰٓى: اس نے انکار کیا ] [ان : کہ ] [يَكُوْنَ : وہ ہو ] [مَعَ السّٰجِدِيْنَ : سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ]
Ayah 15:32[قَالَ : کہا (اللہ تعالیٰ نے)] [ يٰٓـاِبْلِيْسُ : اے ابلیس ] [ مَا لَكَ : تجھے کہا ہے ] [اَلَّا تَكُوْنَ : کہ تو نہ ہوا ] [ مَعَ السّٰجِدِيْنَ : سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ]
Ayah 15:33[قَالَ : اس نے کہا ] [لَمْ اَكُنْ : میں نہیں تھا ] [ لِاَسْجُدَ : کہ میں سجدہ کروں ] [لِبَشَرٍ : کہ میں سجدہ کروں ] [خَلَقْتَهٗ : تو نے تخلیق کیا جس کو ] [مِنْ صَلْصَالٍ : ایسی کھنکتی مٹی سے جو ] [ مِّنْ حَمَا مَّسْنُوْنٍ : گیلے گارے سے ہے ]
(ص ل ل)
[صلیلا : (ص) (1) کسی چیز کا آواز کرنا۔ (2) کسی چیز کا سڑنا۔] [صلال : فعال کے وزن پر صفت ہے (قرآن مجید میں اس کے ایک لام کو ص میں بدل کر صلصال لکھا گیا ہے) ۔ سڑی ہوئی خشک مٹی جو بجتی ہے یعنی آواز کرتی ہے۔ زیر مطالعہ آیت۔ 26 ۔]
(ح م ع)
[حما : (ف): کنویں سے کیچڑ نکالنا۔ ] [حما : اسم ذات بھی ہے۔ کیچڑ۔ گارا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 26 ۔] [حمئۃ : دلدل۔ حتی اذا بلغ مغرب الشمس وجدھا تغرب فی عین حملۃ (یہاں تک کہ جب وہ پہنچے سورج کے غروب ہونے کی جگہ پر تو انھوں نے پایا کہ وہ غروب ہوتا ہے ایک دلدل والے چشمے میں) 18:86 ۔]
نوٹ۔ 1: یہاں قرآن اس امر کی صاف تصریح کرتا ہے کہ انسان حیوانی منازل سے ترقی کرتا ہوا بشریت کے حدود میں نہیں آیا، جیسا کہ نئے دور کے ڈارون سے متاثر کچھ مفسرین قرآن ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، بلکہ اس کی تخلیق کی ابتدا براہ راست ارضی مادوں سے ہوئی ہے جن کی کیفیت اللہ تعالیٰ نے صَلْصَالِ مِّنْ حَمَاِ مَّسْنُوْنِ کے الفاظ میں بیان فرمائی ہے۔ یہ الفاظ صاف ظاہر کرتے ہیں کہ خمیر اٹھی ہوئی مٹی کا ایک پتلا بنایا گیا تھا جو بننے کے بعد خشک ہوا اور پھر اس کے اندر روح پھونکی گئی۔ (فتہیم القرآن)
Ayah 15:34[قَالَ : کیا (اللہ تعالیٰ نے)] [فَاخْرُجْ : پھر تو نکل ] [مِنْهَا : اس (جگہ) سے ] [فَانكَ : پس تو بیشک ] [رَجِيْمٌ: دھتکارا ہوا ہے ]
Ayah 15:35[وَّان : اور بیشک ] [عَلَيْكَ : تجھ پر ] [ اللَّعْنَةَ : لعنت ہے ] [ اِلٰى يَوْمِ الدِّيْنِ : بدلے کے دن تک ]
نوٹ۔ 1: یہاں قرآن اس امر کی صاف تصریح کرتا ہے کہ انسان حیوانی منازل سے ترقی کرتا ہوا بشریت کے حدود میں نہیں آیا، جیسا کہ نئے دور کے ڈارون سے متاثر کچھ مفسرین قرآن ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، بلکہ اس کی تخلیق کی ابتدا براہ راست ارضی مادوں سے ہوئی ہے جن کی کیفیت اللہ تعالیٰ نے صَلْصَالِ مِّنْ حَمَاِ مَّسْنُوْنِ کے الفاظ میں بیان فرمائی ہے۔ یہ الفاظ صاف ظاہر کرتے ہیں کہ خمیر اٹھی ہوئی مٹی کا ایک پتلا بنایا گیا تھا جو بننے کے بعد خشک ہوا اور پھر اس کے اندر روح پھونکی گئی۔ (فہیم القرآن)
Ayah 15:36[قَالَ : (ابلیس نے) کہا ] [ رَبِ : اے میرے رب ] [ فَانظِرْنِيْٓ: پس تو مہلت دے مجھ کو ] [ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ : لوگوں کو اٹھائے جانے کے دن تک ]
Ayah 15:37[قَالَ : (اللہ نے) کہا ] [ فَانكَ : پس بیشک تو ] [ مِنَ الْمُنْظَرِيْنَ : مہلت دیئے ہوئوں میں سے ہے ]
Ayah 15:38[اِلٰى يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ : اس معلوم وقت کے دن تک ]
Ayah 15:39[قَالَ : (ابلیس نے) کہا ] [ رَبِ : اے میرے رب ] [ بِمَآ : بسبب اس کے جو ] [اَغْوَيْتَنِيْ : تو نے گمراہ کیا مجھ کو ] [لَاُزَيِّنَنَّ : میں لازماً سجائوں گا ] [ لَهُمْ : ان کے لئے ] [فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [وَلَاُغْوِيَنَّهُمْ : اور میں لازماً گمراہ کروں گا ] [اَجْمَعِيْنَ : سب کے سب کو ]
نوٹ۔ 1: شیطان نے اپنے نوٹس (آیت۔ 39) سے ان بندوں کو مستثنیٰ کیا جنھیں اللہ اپنے لئے خالص فرما لے (آیت۔ 40) اس سے یہ غلط فہمی مترشح ہو رہی تھی کہ شاید اللہ تعالیٰ بغیر کسی معقول وجہ کے جس کو چاہے گا خالص کرے گا اور وہ شیطان کی دست رست سے بچ جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کر بات صاف کردی کہ جو خود بہکا ہوا ہوگا وہی تیری پیروی کرے گا (آیت۔ 41) ۔ بالفاظ دیگر جو بہکا ہوا نہ ہوگا وہ تیری پیروی نہ کرے گا اور وہ ہی ہمارا وہ مخصوص بندہ ہوگا جسے ہم خالص اپنا کرلیں گے۔ تجھے صرف فریب دینے کا اختیار دیا جا رہا ہے، ان پر اقتدار نہیں دیا جا رہا کہ تو ہاتھ پکڑ کر انہیں زبردستی اپنی راہ پر کھینچ لے جائے۔ (تفہیم القرآن)
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مخصوص اور منتخب بندوں پر شیطانی فریب کا اثر نہیں ہوتا، مگر اسی واقعہ میں آدم (علیہ السلام) اور بی بی حوا پر اس کا فریب چل گیا۔ اسی طرح صحابہ کرام ؓ کے بارے میں آیت نمبر 3:155 سے معلوم ہوتا ہے کہ ان پر بھی شیطان کا فریب ایک موقع پر چل گیا۔ اس لئے آیت مذکورہ میں اللہ کے مخصوص بندوں پر شیطان کا تسلط نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے قلوب و عقول پر شیطان کا ایسا تسلط نہیں ہوتا کہ وہ اپنی غلطی پر کسی وقت متنبہ ہی نہ ہوں جس کی وجہ سے ان کو توبہ نصیب نہ ہو۔ اور مذکورہ واقعات اس کے منافی نہیں کیونکہ آدم (علیہ السلام) اور بی بی حوا نے توبہ کی اور یہ توبہ قبول ہوئی۔ اسی طرح صحابۂ کرام ؓ نے بھی توبہ کی اور انہیں معاف کردیا گیا۔ (معارف القرآن)
نوٹ۔ 2: جزء مقسوم کے الفاظ سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ جہنم کے مختلف دروازوں سے داخل ہونے والوں کے درمیان ایک خاص نوعیت کی درجہ بندی ہوگی، اس درجہ بندی کی بنیاد کس چیز پر ہوگی، اس باب میں کوئی قطعی بات کہنا، جبکہ خود قرآن میں اس کی کوئی تصریح نہیں ہے، مشکل ہے۔ لیکن ذہن بار بار اس طرف جاتا ہے کہ قرآن نے جن چیزوں کا اصولی مہلکات کی حیثیت سے ذکر کیا ہے، وہ اگر شمار کی جائیں تو وہ سات عنوانات کے تحت آتی ہیں اور وہ یہ ہیں : (1) شرک (2) قطع رحم (3) قتل (4) زنا (5) جھوٹی شہادت (6) کمزوروں پر ظلم (7) بغی (یعنی بغاوت) (تدبر قرآن)
Ayah 15:40[اِلَّا : سوائے ] [عِبَادَكَ : تیرے بندوں کے ] [ مِنْهُمُ : ان میں سے ] [ الْمُخْلَصِيْنَ : (جو) ملاوٹ پاک کئے ہوئے ہیں ]