14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 14:1

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ بِاِذْنِ رَبِّهِمْ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ Open ayah 14:1 in the Quran reader

ا ل ر اے محمدؐ، یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاؤ، ان کے رب کی توفیق سے، اُس خدا کے راستے پر جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے

[الۗرٰ ۔۔] [ كِتٰبٌ: (یہ) ایک کتاب ہے ] [ انزَلْنٰهُ : ہم نے اتارا اس کو ] [اِلَيْكَ : آپ ﷺ کی طرف ] [ لِتُخْرِجَ : تاکہ آپ ﷺ نکالیں ] [ النَاسَ : لوگوں کو ] [مِنَ الظُّلُمٰتِ : اندھیروں سے ] [اِلَي النُّوْرِ : روشنی کی طرف ] [بِاِذْنِ رَبِھِمْ : اپنے رب کی اجازت سے ] [اِلٰي صِرَاطِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ : حمد کئے ہوئے بالا دست کے راستے کی طرف ] ترکیب : (آیت۔ 1) کِتٰبٌ خب رہے اور اس کا مبتدا محذوف ہے۔ نوٹ۔ 1: ظُلُمٰت سے مراد عقائد و اعمال کی تاریکیاں اور نور سے مراد ایمان اور عمل صالح کی روشنی ہے۔ گمراہی کے ہزاروں راستے ہیں لیکن ہدایت کی راہ ایک ہی ہے۔ اس وجہ سے ظُلُمٰت جمع ہے اور نور واحد۔ بِاِذْنِ رَبِّھِمْ کا مطلب یہ ہے کہ تاریکیوں سے نکل کر روشنی کی طرف آنا جن کو بھی میسر ہوگا وہ خدا کی دی ہوئی توفیق سے ہی میسر ہوگا۔ وہی اپنی سنت کے مطابق جن کو ہدایت کا اہل پائے گا ان کو ہدایت بخشے گا اور جن کو اس کا اہل نہیں پائے گا ان کو گمراہی میں بھٹکتا چھوڑ دے گا۔ مطلب یہ ہے کہ پیغمبر کی ذمہ داری اس معاملے میں دعوت و تبلیغ کی ہے۔ لوگوں کو ہدایت کی راہ پر لا کھڑا کرنا اس کی ذمہ داری نہیں ہے۔ (تدبر قرآن) نوٹ۔ 2: رسول اللہ 1 کی بعثت پوری اقوامِ دنیا کے لئے ہے۔ ایسی صورت میں یہ بھی ہوسکتا تھا کہ قرآن ہر قوم کی زبان میں الگ الگ ہوتا۔ لیکن اس کو تو کوئی ادنیٰ سمجھ کا آدمی بھی درست نہیں سمجھ سکتا۔ اس لئے ضروری ہوا کہ قرآن کسی ایک ہی زبان میں آئے پھر دوسری زبانوں میں اس کے ترجمے پھیلائے جائیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کی زبانوں میں سے عربی کا انتخاب فرمایا۔ اس کی وجہ ہے۔ عربی آسمان کی زبان ہے۔ فرشتوں کی زبان عربی ہے۔ لوح محفوظ کی زبان عربی ہے اور جنت کی زبان بھی عربی ہے۔ رسول اللہ 1 کا فرمان ہے کہ تم لوگ تین وجہ سے عرب سے محبت کرو۔ ایک یہ کہ میں عربی ہوں، دوسرے یہ کہ قرآن عربی ہے اور تیسرے یہ کہ اہل جنت کی زبان عربی ہے۔ تفسیر قرطبی وغیرہ نے یہ روایت نقل کی ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی زبان جنت میں عربی تھی۔ زمین پر نازل ہونے کے بعد عربی ہی میں تغیرات ہو کر سریانی زبان پیدا ہوئی۔ اس سے ان روایات کی بھی تائید ہوتی ہے جو حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ وغیرہ سے منقول ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جتنی کتابیں نازل فرمائی ہیں ان کی اصلی زبان عربی ہی تھی۔ جبرئیل امین نے قومی زبانوں میں ترجمہ کر کے پیغمبروں کو بتلایا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فطری طور پر عربی زبان سے ایک مناسبت عطا فرمائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابۂ کرام ؓ جس ملک میں پہنچے تھوڑے ہی عرصہ بعد بغیر جبرو اکراہ کے پورے ملک کی زبان عربی ہوگئی۔ آج جو عربی ممالک کہلاتے ہیں، جیسے عراق، شام، مصر وغیرہ، ان میں سے کسی کی زبان عربی نہیں تھی۔ اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے رسول کریم 1 کی امت میں تعلیم و تعلّم، تصنیف و تالیف اور تبلیغ و اشاعت کا ایسا جذبہ پیدا فرما دیا کہ اس کی نظیر پچھلی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس کے نتیجہ میں عجمی اقوام میں نہ صرف قرآن و سنت کے علوم حاصل کرنے کا جذبہ پیدا ہوا بلکہ عربی زبان کو حاصل کرنے اور اس کی ترویج و اشاعت میں عجمیوں کا قدم عرب سے پیچھے نہیں رہا۔ یہ ایک حیرت انگیز حقیقت ہے کہ اس وقت عربی لغت اور اس کی گرامر پر جتنی کتابیں دنیا میں موجود ہیں وہ بیشتر عجمیوں کی لکھی ہوئی ہیں۔ قرآن و سنت کی جمع و تدوین اور تفسیر میں بھی ان کا حصّہ عربوں سے کم نہیں رہا۔ اس طرح رسول کریم 1 کی زبان اور آپ ﷺ کی کتاب عربی ہونے کے باوجود پورے عالم پر محیط ہوگئی اور دعوت و تبلیغ کی حد تک عرب و عجم کا فرق مٹ گیا اور رسول کو قوم کی زبان میں بھیجنے کی جو حکمت تھی وہ حاصل ہوگئی۔ (معارف القرآن سے ماخوذ)
Ayah 14:2

اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیْدِۙ Open ayah 14:2 in the Quran reader

اور زمین اور آسمانوں کی ساری موجودات کا مالک ہے اور سخت تباہ کن سزا ہے قبول حق سے انکار کرنے والوں کے لیے

[اللّٰهِ الَّذِي : جو وہ اللہ ہے ] [ لَهٗ : جس کے لئے ہی ہے ] [مَا : وہ جو ] [فِي السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں ہے ] [ وَمَا : اور وہ جو ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ہے ] [وَوَيْلٌ: اور ہلاکت ہے ] [لِلْكٰفِرِيْنَ : کافروں کے لئے ] [ مِنْ عَذَابٍ شَدِيْدِۨ: ایک شدید عذاب سے ] (آیت۔ 2) اَلْعَزِیْزَ الْحَمِیْدِ کا بدل ہونے کی وجہ سے اللہ حالت جر میں آیا ہے۔
Ayah 14:3

اِ۟لَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 14:3 in the Quran reader

جو دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں، جو اللہ کے راستے سے لوگوں کو روک رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ راستہ (ان کی خواہشات کے مطابق) ٹیٹرھا ہو جائے یہ لوگ گمراہی میں بہت دور نکل گئے ہیں

[الَّذِينَ : وہ لوگ جو ] [ يَسْتَحِبُّوْنَ : ترجیح دیتے ہیں ] [ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا : دنیوی زندگی کو ] [عَلَي الْاٰخِرَةِ : آخرت پر ] [ وَيَصُدُّوْنَ : اور وہ لوگ روکتے ہیں ] [عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ : اللہ کی راہ سے ] [ وَيَبْغُوْنَھَا : اور تلاش کرتے ہیں اس میں ] [ عِوَجًا : کجی کو ] [ اُولٰۗىِٕكَ : یہ لوگ ] [ فِيْ ضَلٰلٍۢ بَعِيْدٍ : دور والی گمراہی میں ہیں ] (آیت۔ 3) یَبْخُوْنَھَا کی ضمیر مفعولی سَبِیْلِ کے لئے ہے۔
Ayah 14:4

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِیُبَیِّنَ لَهُمْ١ؕ فَیُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 14:4 in the Quran reader

ہم نے اپنا پیغام دینے کے لیے جب کبھی کوئی رسول بھیجا ہے، اُس نے اپنی قوم ہی کی زبان میں پیغام دیا ہے تاکہ وہ انہیں اچھی طرح کھول کر بات سمجھائے پھر اللہ جسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے، وہ بالا دست اور حکیم ہے

[وَمَآ اَرْسَلْنَا : اور ہم نے نہیں بھیجا ] [ مِنْ رَّسُوْلٍ : کوئی بھی رسول ] [ اِلَّا : مگر ] [ بِلِسَان قَوْمِهٖ : اپنی قوم کی زبان (بولنے) والا ] [ لِيُبَيِّنَ : تاکہ وہ خوب واضح کر دے ] [لَهُمْ : ان کے لئے ] [ فَيُضِلُّ : پھر گمراہ کرتا ہے ] [اللّٰهُ : اللہ ] [ مَنْ : اس کو جس کو ] [ يَّشَاۗءُ : وہ چاہتا ہے ] [ وَيَهْدِيْ : اور وہ ہدایت دیتا ہے ] [ مَنْ : اس کو جس کو ] [ يَّشَاۗءُ : وہ چاہتا ہے ] [ وَهُوَ : اور وہ ہی ] [ الْعَزِيْزُ : بالا دست ہے ] [ الْحَكِيْمُ : حکمت والا ہے ]
Ayah 14:5

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَیّٰىمِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 14:5 in the Quran reader

ہم اِس سے پہلے موسیٰؑ کو بھی اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیج چکے ہیں اسے بھی ہم نے حکم دیا تھا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لا اور انہیں تاریخ الٰہی کے سبق آموز واقعات سنا کر نصیحت کر اِن واقعات میں بڑی نشانیاں ہیں ہر اُس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو

[وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا : اور ہم بھیج چکے ہیں ] [ مُوْسٰى: موسٰی (علیہ السلام) کو ] [ بِاٰيٰتِنَآ : اپنی نشانیوں کے ساتھ ] [ ان : کہ ] [اَخْرِجْ : آپ (علیہ السلام) نکالیں ] [ قَوْمَكَ : اپنی قوم کو ] [ مِنَ الظُّلُمٰتِ : اندھیروں سے ] [ اِلَى النُّوْرِ : روشنی کی طرف ] [ وَذَكِّرْهُمْ : اور آپ (علیہ السلام) نصیحت کریں ان کو ] [بِاَيّٰىمِ اللّٰهِ : اللہ کے دنوں کے ساتھ ] [ ان : بیشک ] [فِيْ ذٰلِكَ : اس میں ] [لَاٰيٰتٍ : یقینا نشانیاں ہیں ] [ لِكُلِ صَبَّارٍ : ہر ایک بہت ثابت قدم کے لئے ] [ شَكُوْرٍ : بہت شکر گزار کے لئے ] نوٹ۔ 1: مسند احمد کی مرفوع حدیث میں اَیَّامِ اللّٰہِ کی تفسیر خدا کی نعمتوں سے مروی ہے۔ (ابن کثیر) ۔ ایام کا لفظ جب اس طرح آتا ہے جیسے یہاں آیا ہے تو اس سے اہم تاریخی دن مراد ہوتے ہیں۔ مثلاً ایام العرب سے عرب کی جنگیں مراد ہوں گی۔ اسی طرح اَیَّامِ اللّٰہِ سے مراد وہ تاریخی دن ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے نافرمان قوموں پر عذاب نازل فرمائے اور اہل ایمان کو ان کے ظلم و ستم سے نجات دی۔ (تدبر قرآن)
Ayah 14:6

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ اَنْجٰىكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ وَ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 14:6 in the Quran reader

یاد کرو جب موسیٰؑ نے اپنی قوم سے کہا "اللہ کے اُس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے اس نے تم کو فرعون والوں سے چھڑایا جو تم کو سخت تکلیفیں دیتے تھے، تمہارے لڑکوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ بچا رکھتے تھے اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی

[وَاِذْ : اور جب ] [ قَالَ : کہا ] [ مُوْسٰى: موسٰی (علیہ السلام) نے ] [لِقَوْمِهِ : اپنی قوم سے ] [اذْكُرُوْا : تم لوگ یاد کرو ] [ نِعْمَةَ اللّٰهِ : اللہ کی نعمت کو ] [ عَلَيْكُمْ : تم لوگوں پر ] [ اِذْ : جب ] [ انجٰىكُمْ : اس نے نجات دی تم کو ] [ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ : فرعون کے پیرو کاروں سے ] [ يَسُوْمُوْنَكُمْ : وہ لوگ تکلیف دیتے تھے تم کو ] [ سُوْۗءَ الْعَذَابِ : عذاب کی برائی سے ] [وَيُذَبِحُوْنَ : اور وہ ذبح کیا کرتے تھے ] [اَبْنَاۗءَكُمْ : تمہارے بیٹوں کو ] [ وَيَسْتَحْيُوْنَ : اور زندہ رکھتے تھے ] [ نِسَاۗءَكُمْ : تمہاری عورتوں کو ] [ وَفِيْ ذٰلِكُمْ : اور اس میں ] [بَلَاۗءٌ مِّنْ رَّبِكُمْ عَظِيْمٌ: تمہارے رب کی طرف سے ایک بڑی آزمائش تھی ]
Ayah 14:7

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَئِنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ Open ayah 14:7 in the Quran reader

اور یاد رکھو، تمہارے رب نے خبردار کر دیا تھا کہ اگر شکر گزار بنو گے تو میں تم کو اور زیادہ نوازوں گا اور اگر کفران نعمت کرو گے تو میری سزا بہت سخت ہے"

[وَاِذْ : اور جب ] [تَاَذَّنَ : جتا دیا ] [ رَبُّكُمْ : تمہارے رب نے ] [ لَىِٕنْ : یقینا اگر ] [شَكَرْتم : تم لوگ شکر کرو گے ] [ لَاَزِيْدَنَّكُمْ : تو میں لازماً زیادہ کروں گا تم کو (ہر لحاظ سے)] [ وَلَىِٕنْ : اور البتہ اگر ] [كَفَرْتم : تم لوگ ناشکری کرو گے ] [ ان : تو بیشک ] [عَذَابِيْ : میرا عذاب ] [لَشَدِيْدٌ: یقینا شدید ہے ]
Ayah 14:8

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنْ تَكْفُرُوْۤا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 14:8 in the Quran reader

اور موسیٰؑ نے کہا کہ "اگر تم کفر کرو اور زمین کے سارے رہنے والے بھی کافر ہو جائیں تو اللہ بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے"

[وَقَالَ : اور کہا ] [مُوْسٰٓى: موسٰی (علیہ السلام) ] [ ان : اگر ] [تَكْفُرُوْٓا : تم لوگ ناشکری کرو گے ] [انتم : تم لوگ ] [وَمَنْ : اور وہ (بھی) جو ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ہیں ] [ جَمِيْعًا : سب کے سب ] [فَان : تو بیشک ] [اللّٰهَ : اللہ ] [لَغَنِيٌّ: یقینا بےنیاز ہے ] [ حَمِيْدٌ: حمد کیا ہوا ہے ]
Ayah 14:9

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۛؕ۬ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ۛؕ لَا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرَدُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فِیْۤ اَفْوَاهِهِمْ وَ قَالُوْۤا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ وَ اِنَّا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 14:9 in the Quran reader

کیا تمہیں اُن قوموں کے حالات نہیں پہنچے جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں؟ قوم نوحؑ، عاد، ثمود اور اُن کے بعد آنے والی بہت سی قومیں جن کا شمار اللہ ہی کو معلوم ہے؟ اُن کے رسول جب اُن کے پاس صاف صاف باتیں اور کھلی کھلی نشانیاں لیے ہوئے آئے تو اُنہوں نے اپنے منہ میں ہاتھ دبا لیے اور کہا کہ "جس پیغام کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے اور جس چیز کی تم ہمیں دعوت دیتے ہو اُس کی طرف سے ہم سخت خلجان آمیز شک میں پڑے ہوئے ہیں"

[اَلَمْ يَاْتِكُمْ : کیا نہیں پہنچی تم لوگوں کو ] [ نَبَؤُا الَّذِينَ : ان لوگوں کی خبر جو ] [مِنْ قَبْلِكُمْ : تم سے پہلے تھے ] [ قَوْمِ نُوْحٍ : (جیسے) قوم نوح (علیہ السلام) ] [ وَّعَادٍ : اور عاد ] [ وَّثَمُوْدَ : اور ثمود ] [وَالَّذِينَ : اور وہ لوگ جو ] [ مِنْۢ بَعْدِهِمْ : ان کے بعد ہوئے ] [لَا يَعْلَمُهُمْ : نہیں جانتا ان کو (کوئی)] [اِلَّا : مگر ] [اللّٰهُ : اللہ ] [جَاۗءَتْهُمْ : آئے ان کے پاس ] [رُسُلُهُمْ : ان کے رسول ] [بِالْبَيِّنٰتِ : واضح (نشانیوں) کے ساتھ ] [فَرَدُّوْٓا : تو انھوں نے لوٹائے ] [اَيْدِيَهُمْ : اپنے ہاتھ ] [ فِيْٓ اَفْوَاهِهِمْ : اپنے مونہوں میں ] [ وَقَالُوْٓا : اور کہا ] [ انا كَفَرْنَا : بیشک ہم نے انکار کیا ] [بِمَآ : اس کا ] [ اُرْسِلْتم : آپ (علیہ السلام) بھیجے گئے ] [ بِهٖ : جس کے ساتھ ] [وَانا : اور بیشک ہم ] [ لَفِيْ شَكٍّ : یقینا ایک شک میں ہیں ] [مِّمَا : اس سے ] [ تَدْعُوْنَنَآ : آپ (علیہ السلام) بلاتے ہیں ہم کو ] [ اِلَيْهِ : جس کی طرف ] [ مُرِيْبٍ : جو شبہ میں ڈالنے والا ہے ] ترکیب : آیت۔ 9 نَبَؤُ مضاف ہے۔ اس کے آگے الف کا اضافہ قرآن کا املا ہے۔ اَلَّذِیْنَ اس کا مضاف الیہ ہے اور محلاًّ حالت جر میں ہے۔ اَلَّذِیْنَ کا بدل ہونے کی وجہ سے قَوْمِ حالت جر میں آیا ہے جبکہ قَوْمِ کا مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے نُوْحٍ مجرور ہے۔ عَادٍ اور ثَمُوْدَ بھی اَلَّذِیْنَ کا بدل ہونے کی وجہ سے مجرور ہیں۔ مُرِیْبٍ کو شَکٍّ کی صفت بھی مانا جاسکتا ہے لیکن ہماری ترجیح ہے کہ اس کو شَکٍّ کا بدل مانا جائے۔
Ayah 14:10

قَالَتْ رُسُلُهُمْ اَفِی اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَدْعُوْكُمْ لِیَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرَكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ قَالُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ؕ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 14:10 in the Quran reader

اُن کے رسولوں نے کہا "کیا خدا کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے؟ وہ تمہیں بلا ر =ہا ہے تاکہ تمہارے قصور معاف کرے اور تم کو ایک مدت مقرر تک مہلت دے" اُنہوں نے جواب دیا "تم کچھ نہیں ہو مگر ویسے ہی انسان جیسے ہم ہیں تم ہمیں اُن ہستیوں کی بندگی سے روکنا چاہتے ہو جن کی بندگی باپ دادا سے ہوتی چلی آ رہی ہے اچھا تو لاؤ کوئی صریح سند"

[قَالَتْ : کہا ] [ رُسُلُهُمْ : ان کے رسولوں نے ] [ اَ : کیا ] [ فِي اللّٰهِ : اللہ (کے بارے) میں ] [ شَكٌّ: شک ہے ] [ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : جو زمین اور آسمانوں کو وجود بخشنے والا ہے ] [يَدْعُوْكُمْ : وہ بلاتا ہے تم لوگوں کو ] [ لِيَغْفِرَ : تاکہ وہ بخش دے ] [ لَكُمْ : تمہارے لئے ] [ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ : تمہارے گناہوں میں سے (کچھ) کو ] [ وَيُؤَخِّرَكُمْ : اور تاکہ وہ پیچھے کرے (یعنی مہلت دے) تم لوگوں کو ] [اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى: ایک مقررہ مدت تک ] [قَالُوْٓا : ان لوگوں نے کہا ] [ان انتم : آپ (علیہ السلام) لوگ نہیں ہیں ] [ اِلَّا : مگر ] [بَشَرٌ: ایک بشر ] [مِّثْلُنَا : ہمارے جیسے ] [تُرِيْدُوْنَ : آپ (علیہ السلام) لوگ چاہتے ہیں ] [ ان : کہ ] [ تَصُدُّوْنَا : روک دیں ہم کو ] [عَمَا : اس سے جس کی ] [ كَان يَعْبُدُ : بندگی کرتے تھے ] [اٰبَاۗؤُنَا : ہمارے آبا و اجداد ] [فَاْتُوْنَا : تو لائیں ہمارے پاس ] [بِسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ : کوئی واضح دلیل ]
Ayah 14:11

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَمُنُّ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نَّاْتِیَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 14:11 in the Quran reader

ان کے رسولوں نے ان سے کہا "واقعی ہم کچھ نہیں ہیں مگر تم ہی جیسے انسان لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے نوازتا ہے اور یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے کہ تمہیں کوئی سند لا دیں سند تو اللہ ہی کے اذن سے آسکتی ہے اور اللہ ہی پر اہل ایمان کو بھروسہ کرنا چاہیے

[قَالَتْ : کہا ] [لَهُمْ : ان کو ] [رُسُلُهُمْ : ان کے رسولوں نے ] [ ان نَحْنُ : ہم نہیں ] [ اِلَّا : مگر ] [بَشَرٌ: ایک بشر ] [مِّثْلُكُمْ : تمہارے جیسے ] [وَلٰكِنَّ : اور لیکن ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ يَمُنُّ : احسان کرتا ہے ] [ عَلٰي مَنْ : اس پر جس پر ] [ يَّشَاۗءُ : وہ چاہتا ہے ] [ مِنْ عِبَادِهٖ : اپنے بندوں میں سے ] [ وَمَا كَان : اور (ممکن) نہیں ہے ] [لَنَآ : ہمارے لئے ] [ ان : کہ ] [نَاتِيَكُمْ : ہم لائیں تمہارے پاس ] [ بِسُلْطٰنٍ : کوئی دلیل ] [ اِلَّا : مگر ] [بِاِذْنِ اللّٰهِ : اللہ کی اجازت سے ] [وَعَلَي اللّٰهِ : اور اللہ پر ہی ] [ فَلْيَتَوَكَّلِ : چاہے کہ بھروسہ کریں ] [الْمُؤْمِنُوْنَ : ایمان لانے والے ]
Ayah 14:12

وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنَا سُبُلَنَا١ؕ وَ لَنَصْبِرَنَّ عَلٰى مَاۤ اٰذَیْتُمُوْنَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۠ Open ayah 14:12 in the Quran reader

اور ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسہ کریں جبکہ ہماری زندگی کی راہوں میں اس نے ہماری رہنمائی کی ہے؟ جو اذیتیں تم لوگ ہمیں دے رہے ہو اُن پر ہم صبر کریں گے اور بھروسا کرنے والوں کا بھروسا اللہ ہی پر ہونا چاہیے"

[وَمَا لَنَآ : اور ہمیں کیا ہے ] [ اَلَّا نَتَوَكَّلَ : کہ ہم بھروسہ نہ کریں ] [عَلَي اللّٰهِ : اللہ پر ] [وَ : اس حال میں کہ ] [ قَدْ هَدٰىنَا : اس نے ہدایت دی ہے ہم کو ] [ سُبُلَنَا : ہماری راہوں کی ] [وَلَنَصْبِرَنَّ : اور ہم لازماً ثابت قدم رہیں گے ] [ عَلٰي مَآ : اس پر جو ] [ اٰذَيْتموْنَا : تم لوگ اذیت دیتے ہو ہم کو ] [ وَعَلَي اللّٰهِ : اور اللہ پر ہی ] [ فَلْيَتَوَكَّلِ : چاہیے کہ بھروسہ کریں ] [الْمُتَوَكِّلُوْنَ : بھروسہ کرنے والے ] نوٹ۔ 1: مذکورہ آیات میں رسولوں اور ان کی قوموں کے لئے جمع کے صیغے آئے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ سب قومیں اور ان کے رسول ایک ہی وقت میں ایک ہی جگہ موجود تھے جب یہ مکالمہ ہوا تھا۔ بلکہ ہر قوم کے مقام پر اور اس کے وقت پر اس کے پاس ان کا رسول آیا تھا۔ ان قوموں کے مابین زمان و مکان کا بہت فاصلہ ہے اس کے باوجودہر زمانے میں اللہ کے رسولوں کا پیغام ایک ہی رہا ہے اور ان کو جواب بھی ایک ہی ملا ہے۔ اس حقیقت کو ظاہر کرنے کے لئے یہ مکالمہ جمع کے صیغے میں بیان کیا گیا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ نبوت و رسالت کا انکار کرنے والوں کی ایک دلیل ہمیشہ مشترک رہی ہے اور وہ یہ کہ کوئی بشر نبی نہیں ہوسکتا۔ اور چونکہ نبوت و رسالت کے مدعی بشر ہوتے تھے اس لئے ان کی قومیں ان کا انکار کرتی تھیں، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہر زمانے میں ہر نبی اور رسول نے اس دلیل کے جواب میں ہمیشہ اپنی بشریت کا اعتراف اور اقرار کیا۔ کسی ایک بھی نبی یا رسول نے کبھی مافوق البشر ہونے کا دعوٰی نہیں کیا۔ اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ انسانوں میں ہی سے کسی کو اس منصب پر فائز کرتا ہے۔ (حافظ احمد یار صاحب کے کیسٹ سے ماخوذ) ۔
Ayah 14:13

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 14:13 in the Quran reader

آخر کار منکرین نے اپنے رسولوں سے کہہ دیا کہ "یا تو تمہیں ہماری ملت میں واپس آنا ہوگا ورنہ ہم تمہیں اپنے ملک سے نکال دیں گے" تب اُن کے رب نے اُن پر وحی بھیجی کہ "ہم اِن ظالموں کو ہلا ک کر دیں گے

[وَقَالَ : اور کہا ] [ الَّذِينَ : ان لوگوں نے جنھوں نے ] [ كَفَرُوْا : انکار کیا ] [لِرُسُلِهِمْ : اپنے رسولوں سے ] [ لَنُخْرِجَنَّكُمْ : ہم لازماً نکالیں گے آپ (علیہ السلام) لوگوں کو ] [ مِّنْ اَرْضِنَآ : اپنی زمین سے ] [ اَوْ : یا (پھر)] [ لَتَعُوْدُنَّ : آپ (علیہ السلام) لوگ لازماً لوٹیں گے ] [ فِيْ مِلَّتِنَا : ہمارے مذہب میں ] [ فَاَوْحٰٓى: تو وحی کیا ] [ اِلَيْهِمْ : ان (علیہ السلام) کی طرف ] [رَبُّهُمْ : ان (علیہ السلام) کے رب نے ] [ لَنُهْلِكَنَّ : ہم لازماً ہلاک کریں گے ] [ الظّٰلِمِيْنَ : ظلم کرنے والوں کو ]
Ayah 14:14

وَ لَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَ خَافَ وَعِیْدِ Open ayah 14:14 in the Quran reader

اور اُن کے بعد تمہیں زمین میں آباد کریں گے یہ انعام ہے اُس کا جو میرے حضور جواب دہی کا خوف رکھتا ہو اور میری وعید سے ڈرتا ہو"

[وَلَنُسْكِنَنَّكُمُ : اور ہم لازماً سکونت دیں گے آپ (علیہ السلام) لوگوں کو ] [ الْاَرْضَ : اس زمین میں ] [مِنْۢ بَعْدِهِمْ : ان کے بعد ] [ذٰلِكَ : یہ ] [ لِمَنْ : اس کے لئے ہے جو ] [خَافَ : ڈرا ] [مَقَامِيْ : میرے سامنے کھڑا ہونے سے ] [وَخَافَ : اور ڈرا ] [وَعِيْدِ : میری وارننگ سے ]
Ayah 14:15

وَ اسْتَفْتَحُوْا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 14:15 in the Quran reader

اُنہوں نے فیصلہ چاہا تھا (تو یوں اُن کا فیصلہ ہوا) اور ہر جبار دشمن حق نے منہ کی کھائی

[وَاسْتَفْتَحُوْا : اور انھوں (علیہ السلام) نے فتح مانگی ] [ وَخَابَ : اور نامراد ہوا ] [ كُلُّ جبارٍ عَنِيْدٍ : ہر ایک زبردست، ہٹ دھرم ]
Ayah 14:16

مِّنْ وَّرَآئِهٖ جَهَنَّمُ وَ یُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِیْدٍۙ Open ayah 14:16 in the Quran reader

پھر اس کے بعد آگے اس کے لیے جہنم ہے وہاں اُسے کچ لہو کا سا پانی پینے کو دیا جائے گا

[مِّنْ وَّرَاۗىِٕهٖ : اس کے پیچھے ] [ جَهَنَّمُ : دوزخ ہے ] [ وَيُسْقٰى: اور اس کو پلایا جائے گا ] [ مِنْ مَاۗءٍ صَدِيْدٍ : پیپ والے پانی میں سے ]
Ayah 14:17

یَّتَجَرَّعُهٗ وَ لَا یَكَادُ یُسِیْغُهٗ وَ یَاْتِیْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ مَا هُوَ بِمَیِّتٍ١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهٖ عَذَابٌ غَلِیْظٌ Open ayah 14:17 in the Quran reader

جسے وہ زبردستی حلق سے اتارنے کی کوشش کرے گا اور مشکل ہی سے اتار سکے گا موت ہر طرف سے اس پر چھائی رہے گی مگر وہ مرنے نہ پائے گا اور آگے ایک سخت عذاب اس کی جان کا لاگو رہے گا

[يَّتَجَرَّعُهٗ : وہ مشکل سے گھونٹ گھونٹ پیئے گا اس کو ] [وَلَا يَكَادُ : اور لگے گا نہیں کہ ] [ يُسِيْغُهٗ : وہ گلے سے اتارے گا اس کو ] [وَيَاْتِيْهِ : اور آئے گی اس کے پاس ] [ الْمَوْتُ : موت ] [مِنْ كُلِ مَكَان : ہر جگہ سے ] [ وَّ : اس حال میں کہ ] [مَا هُوَ : وہ نہیں ہوگا ] [ بِمَيِّتٍ : مردہ ] [وَمِنْ وَّرَاۗىِٕهٖ : اور اس کے پیچھے ] [ عَذَابٌ غَلِيْظٌ: ایک غلیظ عذاب ہے ] ج ر ع [جَرْعًا : (ف) پانی یکبارگی پی جانا۔] [تَجَرُّعًا : (تفعل) بتکلف گھونٹ گھونٹ پینا، زیر مطالعہ آیت 17 ۔] س و غ [سَوْغًا : (ن) آسانی سے گلے سے اترنا۔ خوشگوار ہونا۔] [سَائعٌ: فَاعِلٌ کے وزن پر صفت ہے۔ خوشگوار ہونے والا یعنی خوشگوار۔ لَبَنًا خَالِصًا سَاگغًا لِّلشّٰرِبِیْنَ (خالص دودھ، خوشگوار ہوتے ہوئے پینے والوں کے لئے) 16:66 ۔] [اِسَاغَۃً : (افعال) آسانی سے گلے سے اتارنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 17 ۔]
Ayah 14:18

مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِ اِ۟شْتَدَّتْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ Open ayah 14:18 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنے رب سے کفر کیا ہے ان کے اعمال کی مثال اُس راکھ کی سی ہے جسے ایک طوفانی دن کی آندھی نے اڑا دیا ہو وہ اپنے کیے کا کچھ بھی پھل نہ پا سکیں گے یہی پرلے درجے کی گم گشتگی ہے

[مَثَلُ الَّذِينَ : ان کی مثال جنھوں نے ] [ كَفَرُوْا : کفر کیا ] [ بِرَبِهِمْ : اپنے رب کا (یہ ہے کہ)] [ اَعْمَالُهُمْ : ان کے اعمال ] [ كَرَمَادِۨ : راکھ کی مانند ہیں ] [اشْـتَدَّتْ : شدّت اختیار کی ] [بِهِ : جن پر ] [ الرِّيْحُ : ہوا نے ] [ فِيْ يَوْمٍ عَاصِفٍ : ایک تیز آندھی والے دن میں ] [لَا يَقْدِرُوْنَ : وہ قدرت نہیں رکھیں گے ] [ مِمَا : اس میں سے جو ] [ كَسَبُوْا : انھوں نے کمایا ] [ عَلٰي شَيْءٍ : کسی چیز پر ] [ ذٰلِكَ : یہ ] [ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِيْدُ : ہی دور والی گمراہی ہے ] ر م د [رَمْدًا : (ض) آگ کا بجھ کر ٹھنڈا ہوجانا۔ راکھ ہوجانا۔] [رَمَادٌ: اسم ذات ہے۔ راکھ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 18 ۔]
Ayah 14:19

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۙ Open ayah 14:19 in the Quran reader

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے آسمان و زمین کی تخلیق کو حق پر قائم کیا ہے؟ وہ چاہے تو تم لوگوں کو لے جائے اور ایک نئی خلقت تمہاری جگہ لے آئے

[اَ : کیا ] [ لَمْ تَر : تو نے غور نہیں کیا ] [َ ان : کہ ] [اللّٰهَ : اللہ نے ] [ خَلَقَ : پیدا کیا ] [السَّمٰوٰتِ : آسمانوں کو ] [وَالْاَرْضَ : اور زمین کو ] [بِالْحَقِّ : حق (یعنی مقصد) کے ساتھ ] [ان : اگر ] [ يَّشَاْ : وہ چاہے ] [ يُذْهِبْكُمْ : تو وہ لے جائے تم لوگوں کو ] [وَيَاْتِ : اور لے آئے ] [بِخَلْقٍ جَدِيْدٍ : کوئی نئی مخلوق ]
Ayah 14:20

وَّ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 14:20 in the Quran reader

ایسا کرنا اس پر کچھ بھی دشوار نہیں ہے

[وَمَا ذٰلِكَ : اور یہ نہیں ہے ] [عَلَي اللّٰهِ : اللہ پر ] [ بِعَزِيْزٍ : کوئی مشکل ]
Ayah 14:21

وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِیْعًا فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ لَهَدَیْنٰكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَجَزِعْنَاۤ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ۠ Open ayah 14:21 in the Quran reader

اور یہ لوگ جب اکٹھے اللہ کے سامنے بے نقاب ہوں گے تو اُس وقت اِن میں سے جو دنیا میں کمزور تھے و ہ اُن لوگوں سے جو بڑے بنے ہوئے تھے، کہیں گے "دنیا میں ہم تمہارے تابع تھے، اب کیا تم اللہ کے عذاب سے ہم کو بچانے کے لیے بھی کچھ کرسکتے ہو؟"وہ جواب دیں گے "اگر اللہ نے ہمیں نجات کی کوئی راہ دکھائی ہوتی تو ہم ضرور تمہیں بھی دکھا دیتے اب تو یکساں ہے، خواہ ہم جزع فزع کریں یا صبر، بہرحال ہمارے بچنے کی کوئی صورت نہیں"

[وَبَرَزُوْا : اور وہ لوگ سامنے آئیں گے ] [ للّٰهِ : اللہ کے لئے ] [ جَمِيْعًا : سب کے سب ] [فَقَالَ : پھر کہیں گے ] [ الضُّعَفٰۗؤُا : ضعیف لوگ ] [لِلَّذِيْنَ : ان سے جنھوں نے ] [اسْـتَكْبَرُوْٓا : بڑائی چاہی [انا كُنَا : بیشک ہم تھے ] [ لَكُمْ : تمہاری ] [تَبَعًا : پیروی کرنے والے ] [ فَهَلْ : تو کیا ] [انتم : تم لوگ ] [مُّغْنُوْنَ : دور کرنے والے ہو ] [عَنَا : ہم سے ] [مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ : اللہ کے عذاب میں سے ] [مِنْ شَيْءٍ : کچھ بھی ] [ قَالُوْا : وہ لوگ کہیں گے ] [ لَوْ : اگر ] [هَدٰىنَا : ہدایت دیتا ہم کو ] [اللّٰهُ : اللہ ] [لَهَدَيْنٰكُمْ : تو ہم ضرور ہدایت دیتے تم کو ] [سَوَاۗءٌ: برابر ہے ] [ عَلَيْنَآ : ہم پر ] [ اَ : چاہے ] [ جَزِعْنَآ : ہم غم کا اظہار کریں ] [اَمْ : یا ] [ صَبَرْنَا : ہم صبر کریں ] [ مَا لَنَا : ہمارے لئے نہیں ہے ] [ مِنْ مَّحِيْصٍ : کوئی بھی بچنے کی جگہ ] نوٹ۔ 1: آیت نمبر۔ 21 میں جو مکالمہ نقل کیا گیا ہے اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ قیامت میں یہ عذر قبول نہیں کیا جائے گا کہ میں بےقصور ہوں۔ فلاں نے مجھے بہکا دیا تھا۔ اس لئے مجھے کچھ نہ کہو بلکہ اس کو پکڑو۔ اس آیت سے بھی اور قرآن کی متعدد دوسری آیات سے بھی یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ غلط عقائد و نظریات کے داعی اور غلط راہ دکھانے والوں کے ساتھ ان کی اندھی تقلید کرنے والے بھی مجرم قرار دیئے جائیں گے۔ اس اصول کی وجہ بھی اور دلیل بھی اگلی آیت میں شیطان کا قول نقل کر کے دی گئی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اگر بہکانے والوں کو پکڑا جائے اور بہکنے والوں کو چھوڑ دیا جائے تو پھر کوئی بھی انسان دوزخ میں نہیں جائے گا کیونکہ انسانوں کو بہکانے والے شیاطین ہیں، اور دلیل یہ ہے کہ بہکانے والے انسان ہوں یا شیطان، کسی کو اپنی بات منوانے کا اختیار نہیں ہے۔ وہ صرف دعوت دیتے ہیں۔ اسے قبول کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ان کو حاصل ہے جن کو دعوت دی جاتی ہے۔ اس لئے کوئی اپنی مرضی اور اختیار سے غلط دعوت قبول کرتا ہے تو اس کا ذمہ دار وہ خود ہے۔ اس مسئلہ پر اسلام کا جائزہ کورس کے پہلے سبق میں تفصیل سے بحث کی گئی ہے۔
Ayah 14:22

وَ قَالَ الشَّیْطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَ وَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لِیَ عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّاۤ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ١ۚ فَلَا تَلُوْمُوْنِیْ وَ لُوْمُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِیَّ١ؕ اِنِّیْ كَفَرْتُ بِمَاۤ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 14:22 in the Quran reader

اور جب فیصلہ چکا دیا جائے گا تو شیطان کہے گا "حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جو وعدے تم سے کیے تھے و ہ سب سچے تھے اور میں نے جتنے وعدے کیے ان میں سے کوئی بھی پورا نہ کیا میرا تم پر کوئی زور تو تھا نہیں، میں نے اِس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ اپنے راستے کی طرف تمہیں دعوت دی اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا اب مجھے ملامت نہ کرو، اپنے آپ ہی کو ملامت کرو یہاں نہ میں تمہاری فریاد رسی کر سکتا ہوں اور نہ تم میر ی اس سے پہلے جو تم نے مجھے خدائی میں شریک بنا رکھا تھا میں اس سے بری الذمہ ہوں، ایسے ظالموں کے لیے درد ناک سزا یقینی ہے"

[وَقَالَ : اور کہے گا ] [ الشَّيْطٰنُ : شیطان ] [ لَمَا : جب ] [ قُضِيَ : فیصلہ کردیا جائے گا ] [ الْاَمْرُ : تمام معاملات کا ] [ ان : بیشک ] [ اللّٰهَ : اللہ نے ] [وَعَدَكُمْ : وعدہ کیا تم لوگوں سے ] [ وَعْدَ الْحَقِّ : حق کا وعدہ ] [ وَوَعَدْتُّكُمْ : اور میں نے وعدہ کیا تم سے ] [ فَاَخْلَفْتُكُمْ : پھر میں نے وعدہ خلافی کی تم سے ] [ وَمَا كَان : اور نہیں تھا ] [لِيَ : میرے لئے ] [عَلَيْكُمْ : تم لوگوں پر ] [ مِّنْ سُلْطٰنٍ : کوئی بھی اختیار ] [ اِلَّآ ان : سوائے اس کے کہ ] [دَعَوْتُكُمْ : میں نے دعوت دی تمہیں ] [ فَاسْتَجبتم لِيْ : پھر قبول کیا تم لوگوں نے میری (دعوت)] [ فَلَا تَلُوْمُوْنِيْ : پس تم لوگ ملامت مت کرو مجھ کو ] [وَلُوْمُوْٓا : اور ملامت کرو ] [انفُسَكُمْ : اپنے آپ کو ] [ مَآ انا : میں نہیں ہوں ] [بِمُصْرِخِكُمْ : تمہاری فریاد رسی کرنے والا ] [وَمَآ انتم : اور تم لوگ نہیں ہو ] [ بِمُصْرِخِيَّ : میری فریاد رسی کرنے والے ] [ انى: بیشک میں نے ] [ كَفَرْتُ : انکار کیا ] [بِمَآ : اس کا جس میں ] [ اَشْرَكْتموْنِ : تم نے شریک کیا مجھ کو ] [مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے ] [ ان : بیشک ] [الظّٰلِمِيْنَ : ظالم لوگ ] [ لَهُمْ : ان کے لئے ہی ہے ] [ عَذَابٌ اَلِيْمٌ: ایک درد ناک عذاب ]
Ayah 14:23

وَ اُدْخِلَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ؕ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ Open ayah 14:23 in the Quran reader

بخلاف اس کے جو لوگ دنیا میں ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں وہ ایسے باغوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی وہاں وہ اپنے رب کے اذن سے ہمیشہ رہیں گے، اور وہاں ان کا استقبال سلامتی کی مبارک باد سے ہوگا

[وَاُدْخِلَ : اور داخل کئے گئے ] [ الَّذِينَ : وہ لوگ جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [وَعَمِلُوا : اور انھوں نے عمل کئے ] [ الصّٰلِحٰتِ : نیکیوں کے ] [ جَنّٰتٍ : ایسے باغات میں ] [ تَجْرِيْ : بہتی ہیں ] [ مِنْ تَحْتِهَا : جن کے نیچے سے ] [ الْانهٰرُ : نہریں ] [ خٰلِدِيْنَ : ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے ] [فِيْهَا : ان میں ] [ بِاِذْنِ رَبِهِمْ : اپنے رب کی اجازت سے ] [ تَحِيَّتُهُمْ : اس کا دعا دینا ہے ] [ فِيْهَا : ان میں ] [ سَلٰمٌ: سلام ]
Ayah 14:24

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَیِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِی السَّمَآءِۙ Open ayah 14:24 in the Quran reader

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کلمہ طیبہ کو کس چیز سے مثال دی ہے؟ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اچھی ذات کا درخت، جس کی جڑ زمین میں گہری جمی ہوئی ہے اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں

[اَ : کیا ] [ لَمْ تَرَ : آپ ﷺ نے غور نہیں کیا ] [ كَيْفَ : کیسے ] [ ضَرَبَ : بیان کی ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [مَثَلًا : ایک مثال جو ] [كَلِمَةً طَيِّبَةً : ایک ایسی پاکیزہ بات کی ہے جو ] [كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ : ایک پاکیزہ درخت کی مانند ہے ] [اَصْلُهَا : اس کی جڑ ] [ ثَابِتٌ: جمی رہنے والی ہے ] [وَّفَرْعُهَا : اور اس کی شاخ ] [ فِي السَّمَاۗءِ : آسمان میں ہے ] نوٹ۔ 1: کَلِمَۃً طَیِّبَۃً سے کلمہ توحید اور اس پر مبنی عقائد و نظریات ہیں۔ شَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ وہ درخت جو پھل دینے والا، سایہ دار اور نفع بخش ہو۔ درخت چونکہ زمین اور فضا دونوں سے غذا اور قوت حاصل کرتا ہے اس لئے فرمایا کہ اَصْلُھَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُھَا فِی السَّمَائِ یعنی زمین میں اس کی جڑیں اتری ہوئی ہونے کے سبب سے زمین سے بھی اسے پوری غذا مل رہی ہے اور شاخیں فضا میں پھیلی ہوئی ہونے کی وجہ سے فضا بھی اس کی پرورش میں پورا پورا حصہ لے رہی ہے۔ کلمہ توحید کی تمثیل ایک ایسے درخت سے دے کر قرآن نے ایک حقیقت تو یہ واضح فرمائی کہ اس کی جڑیں انسانی عقل و فطرت کے اندر بھی گہری اتری ہوئی ہیں اور عند اللہ بھی یہ سب سے زیادہ قدرو قیمت رکھنے والی حقیقت ہے۔ دوسری حقیقت یہ واضح فرمائی کہ اس کو انسانی فطرت کے اندر سے بھی برابر غذا اور قوت حاصل ہوتی رہتی ہے اور اوپر سے بھی برابر ترشحات (یعنی سکینت) نازل ہوتے رہتے ہیں۔ تیسری حقیقت یہ واضح فرمائی کہ اس کی برکات ابدی اور دائمی ہیں۔ اس کا فیض ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ جس کے سینہ میں یہ نور موجود ہے وہ ہمیشہ آسودہ اور شاد کام رہتا ہے۔ (تدبر قرآن) نوٹ۔ 2: زندگی کی گہما گہمی میں کبھی کبھار اللہ کے کسی ایسے بندے سے ملاقات ہوجاتی ہے جس نے توحید پر مبنی عقائد و نظریات سے اپنے سینے کو آباد کیا ہوا ہے اور ان کے برکات وثمرات سے فیض یاب بھی ہو رہا ہے، تو اس وقت ایک شعر ضرور ذہن میں آتا ہے۔ وہ پیش خدمت ہے۔ جگر مرحوم کا شعر ہے جسمیں ایک لفظ تبدیل کردیا گیا ہے۔ شعر : ہستی مومن اللہ اللہ فرش نشیں و عرش نشیمن
Ayah 14:25

تُؤْتِیْۤ اُكُلَهَا كُلَّ حِیْنٍۭ بِاِذْنِ رَبِّهَا١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 14:25 in the Quran reader

ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے اپنے پھل دے رہا ہے یہ مثالیں اللہ اس لیے دیتا ہے کہ لوگ اِن سے سبق لیں

[تُؤْتِيْٓ: وہ دیتا ہے ] [ اُكُلَهَا : اپنے پھل ] [ كُلَّ حِيْنٍۢ: ہر وقت ] [ بِاِذْنِ رَبِهَا : اپنے رب کی اجازت سے ] [ وَيَضْرِبُ : اور بیان کرتا ہے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [الْاَمْثَالَ : مثالیں ] [لِلنَاسِ : لوگوں کے لئے ] [لَعَلَهُمْ : شاید وہ لوگ ] [ يَتَذَكَّرُوْنَ : نصیحت حاصل کریں ]
Ayah 14:26

وَ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِیْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِیْثَةِ اِ۟جْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ Open ayah 14:26 in the Quran reader

اور کلمہ خبیثہ کی مثال ایک بد ذات درخت کی سی ہے جو زمین کی سطح سے اکھاڑ پھینکا جاتا ہے، اُس کے لیے کوئی استحکام نہیں ہے

[وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيْثَةٍ : اور کسی ردّی بات کی مثال ] [ كَشَجَرَةٍ خَبِيْثَةِۨ : ایک ایسے ردّی درخت کی مانند ہے ] [اجْتُثَّتْ : جس کو اکھاڑا گیا ] [ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ زمین کے اوپر سے ] [مَا لَهَا : نہیں ہے اس کے لئے ] [ مِنْ قَرَارٍ : کوئی بھی ٹھہرائو ]
Ayah 14:27

یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ یُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِیْنَ١ۙ۫ وَ یَفْعَلُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ۠ Open ayah 14:27 in the Quran reader

ایمان لانے والوں کو اللہ ایک قول ثابت کی بنیاد پر دنیا اور آخرت، دونوں میں ثبات عطا کرتا ہے، اور ظالموں کو اللہ بھٹکا دیتا ہے اللہ کو اختیار ہے جو چاہے کرے

[يُثَبِتُ : جما دیتا ہے ] [اللّٰهُ : اللہ ] [الَّذِينَ : ان لوگوں کو جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ : جم جانے والی بات ہے ] [فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا : دنیوی زندگی میں ] [وَفِي الْاٰخِرَةِ : اور آخرت میں (بھی)] [وَيُضِلُّ : اور گمراہ کرتا ہے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ الظّٰلِمِيْنَ : ظلم کرنے والوں کو ] [وَيَفْعَلُ : اور کرتا ہے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [مَا : وہ جو ] [ يَشَاۗءُ : وہ چاہتا ہے ]
Ayah 14:28

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّ اَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِۙ Open ayah 14:28 in the Quran reader

تم نے دیکھا اُن لوگوں کو جنہوں نے اللہ کی نعمت پائی اور اُسے کفران نعمت سے بدل ڈالا اور (اپنے ساتھ) اپنی قوم کو بھی ہلاکت کے گھر میں جھونک دیا

[اَ : کیا ] [ لَمْ تَرَ : آپ ﷺ نے غور نہیں کیا ] [ اِلَى الَّذِينَ : ان کی طرف جنھوں نے ] [بَدَّلُوْا : تبدیل کیا ] [ نِعْمَةَ اللّٰهِ : اللہ کی نعمت کو ] [كُفْرًا : ناشکری کرتے ہوئے ] [ وَّاَحَلُّوْا : اور انھوں نے اتارا ] [ قَوْمَهُمْ : اپنی قوم کو ] [ دَارَ الْبَوَارِ : تباہی کے گھریں ]
Ayah 14:29

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 14:29 in the Quran reader

یعنی جہنم، جس میں وہ جھلسے جائیں گے اور وہ بد ترین جائے قرار ہے

[جَهَنَّمَ : جو جہنم ہے ] [ يَصْلَوْنَهَا : وہ لوگ گریں گے اس میں ] [ وَبِئْسَ : اور کتنا برا ہے ] [الْقَرَارُ : یہ ٹھہرنا ]
Ayah 14:30

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِیْرَكُمْ اِلَى النَّارِ Open ayah 14:30 in the Quran reader

اور اللہ کے کچھ ہمسر تجویز کر لیے تاکہ وہ انہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں اِن سے کہو، اچھا مزے کر لو، آخرکار تمہیں پلٹ کر جانا دوزخ ہی میں ہے

[وَجَعَلُوْا : اور انھوں نے بنائے ] [ للّٰهِ : اللہ کے لئے ] [ اندَادًا : مدّمقابل ] [ لِيُضِلُّوْا : تاکہ وہ گمراہ کریں (لوگوں کو)] [ عَنْ سَبِيْلِهٖ : اس کے راستے سے ] [ قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [تمتَّعُوْا : تم لوگ فائدہ اٹھا لو ] [ فَان : پھر بیشک ] [مَصِيْرَكُمْ : تمہارا لوٹنا ] [ اِلَى النَارِ : آگ کی طرف ہے ]
Ayah 14:31

قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خِلٰلٌ Open ayah 14:31 in the Quran reader

اے نبیؐ، میرے جو بندے ایمان لائے ہیں اُن سے کہہ دو کہ نماز قائم کریں اور جو کچھ ہم نے اُن کو دیا ہے، اُس میں سے کھلے اور چھپے (راہ خیر میں) خرچ کریں قبل اِس کے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خرید و فروخت ہوگی اور نہ دوست نوازی ہوسکے گی

[قُلْ : آپ ﷺ کہہ دیجئے ] [لِعِبَادِيَ الَّذِينَ : میرے ان بندوں سے جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے کہ ] [يُقِيْمُوا : چاہیے کہ وہ لوگ قائم رکھیں ] [الصَّلٰوةَ : نماز کو ] [وَيُنْفِقُوْا : اور چاہیے کہ وہ لوگ خرچ کریں ] [ مِمَا : اس میں سے جو ] [ رَزَقْنٰهُمْ : ہم نے عطا کیا ان کو ] [سِرًّا : چھپاتے ہوئے ] [وَّعَلَانيَةً : اور ظاہر ہوتے ہوئے ] [مِّنْ قَبْلِ : اس سے پہلے ] [ان : کہ ] [يَاْتِيَ : آئے ] [يَوْمٌ: ایک ایسا دن ] [ لَّا بَيْعٌ: کوئی سودا نہیں ہے ] [ فِيْهِ : جس میں ] [ وَلَا خِلٰلٌ: اور نہ ہی یارانے ] ترکیب : (آیت۔ 31) یُقِیْمُوْا اور یُنْفِقُوْا کے نون اعرابی گرے ہوئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان کے لام امر محذوف ہیں اور یہ فعل امر غائب کے صیغے ہیں۔
Ayah 14:32

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَۚ Open ayah 14:32 in the Quran reader

اللہ وہی تو ہے جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا اور آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کے ذریعہ سے تمہاری رزق رسانی کے لیے طرح طرح کے پھل پیدا کیے جس نے کشتی کو تمہارے لیے مسخر کیا کہ سمندر میں اُس کے حکم سے چلے اور دریاؤں کو تمہارے لیے مسخر کیا

[اللّٰهُ : اللہ ] [الَّذِي : وہ ہے جس نے ] [ خَلَقَ : پیدا کیا ] [ السَّمٰوٰتِ : آسمانوں کو ] [ وَالْاَرْضَ : اور زمین کو ] [ وَانزَلَ : اور اس نے اتارا ] [ مِنَ السَّمَاۗءِ : آسمانوں سے ] [مَاۗءً : کچھ پانی ] [فَاَخْرَجَ : پھر اس نے نکالا ] [ بِهٖ : اس سے ] [ مِنَ الثَّمَرٰتِ : پھلوں میں سے ] [رِزْقًا : رزق ہوتے ہوئے ] [ لَكُمْ : تمہارے لئے ] [ وَسَخَّــرَ : اور اس نے مطیع کیا ] [ لَكُمُ : تمہارے لئے ] [الْفُلْكَ : کشتی کو ] [لِتَجْرِيَ : تاکہ وہ بہے ] [ فِي الْبَحْرِ : سمندر میں ] [ بِاَمْرِهٖ : اس کے حکم سے ] [ وَسَخَّرَ : اور اس نے مطیع کیا ] [ لَكُمُ : تمہارے لئے ] [الْانهٰرَ : نہروں کو ]
Ayah 14:33

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ دَآئِبَیْنِ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَۚ Open ayah 14:33 in the Quran reader

جس نے سورج اور چاند کو تمہارے لیے مسخر کیا کہ لگاتار چلے جا رہے ہیں اور رات اور دن کو تمہارے لیے مسخر کیا

[وَسَخَّــرَ : اور اس لئے بیگار میں لگایا ] [ لَكُمُ : تمہارے لئے ] [الشَّمْسَ : سورج کو ] [وَالْقَمَرَ : اور چاند کو ] [دَاۗىِٕـبَيْنِ : مسلسل چلنے والے ہوتے ہوئے ] [وَسَخَّرَ : اور اس نے بیگار میں لگایا ] [لَكُمُ : تمہارے لئے ] [ الَّيْلَ : رات کو ] [وَالنَّهَارَ : اور دن کو ]
Ayah 14:34

وَ اٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ١ؕ وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ۠ Open ayah 14:34 in the Quran reader

جس نے وہ سب کچھ تمہیں دیا جو تم نے مانگا اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو کر نہیں سکتے حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی بے انصاف اور ناشکرا ہے

[وَاٰتٰىكُمْ : اور اس نے دیا تم لوگوں کو ] [ مِّنْ كُلِ مَا : اس کے سب میں سے جو ] [سَاَلْتموْهُ : تم لوگوں نے مانگا اس سے ] [ وَان : اور اگر ] [ تَعُدُّوْا : تم لوگ گنتی کرو گے ] [نِعْمَتَ اللّٰهِ : اللہ کی نعمت کی ] [لَا تُحْصُوْهَا : تو شمار پورا نہ کر پائو گے اس کا ] [ان : بیشک ] [الْانسَان : انسان ] [لَظَلُوْمٌ: یقینا بےانتہا ظلم کرنے والا ہے ] [ كَفَّارٌ: انتہائی ناشکرا ہے ] ح ص ی [حَصْیًا : (ض) (1) کنکری سے مارنا۔ (2) کنکری پر گنتی کرنا۔] [اِحْصَائً : (افعال) (1) کسی چیز کی گنتی کو پورا کرنا۔ شمار مکمل کرنا۔ (2) کسی کام کا حق پورا کرنا۔ نباہنا۔ (3) پھیرلینا۔ احاطہ کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 34 ۔ عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْہُ فَتَابَہَ عَلَیْکُمْ (اس نے یعنی اللہ نے جانا کہ تم لوگ ہرگز نہ نباہ سکو گے اس کو تو اس نے شفقت کی تم لوگوں پر) 73:20 ۔ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَۃً وَّ لَا کَبِیْرَۃً اِلَّا اَحْصٰھَا (یہ نہیں چھوڑتی کوئی چھوٹی اور نہ کوئی بڑی سوائے اس کے کہ گھیر لیا اس کو) 18:49 ۔] (آیت۔ 34) ۔ لَا تُخَصُوْھَا میں جو لَا ہے یہ لائے نہی نہیں سے بلکہ لائے نفی ہے۔ اور تحصوا دراصل ان کا جواب شرط ہونے کی وجہ سے مجزوم ہوا ہے۔ نوٹ۔ 1: وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِ مَا سَاَلْتموْهُ کا مطلب قاضی بیضاوی نے یہ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہر وہ چیز دے دی جو مانگنے کے قابل ہے خواہ انسان نے مانگی ہو یا نہ مانگی ہو۔ (معارف القرآن)
Ayah 14:35

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّ اجْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَؕ Open ayah 14:35 in the Quran reader

یاد کرو وہ وقت جب ابراہیمؑ نے دعا کی تھی کہ "پروردگار، اِس شہر کو امن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا

[وَاِذْ : اور جب ] [ قَالَ : کہا ] [ اِبْرٰهِيْمُ : ابراہیم (علیہ السلام) نے ] [ رَبِ : اے میرے رب ] [ اجْعَلْ : تو بنا ] [هٰذَا الْبَلَدَ : اس شہر کو ] [ اٰمِنًا : امن میں ہونے والا ] [وَّاجْنُبْنِيْ : اور تو دور کر دے مجھ کو ] [وَبَنِيَّ : اور میرے بیٹوں کو ] [ ان : کہ ] [نَّعْبُدَ : ہم عبادت کریں ] [الْاَصْنَامَ : بتوں کی ] ترکیب : (آیت۔ 35) ۔ وَاجْنُبْ کا مفعول ہونے کی وجہ سے بَنِیَّ حالت نصب میں ہے ۔ یہ لفظ بَنِیْنَ تھا۔ مضاف ہونے کی وجہ سے نون اعرابی گرا تو بَنِیْ باقی بچا پھر اس پر مضاف الیہ یائے متکلم داخل ہوئی تو بَنِیَّ استعمال ہوا۔ (آیت۔ 37) ۔ بِوَادٍ نکرہ مخصوصہ ہے اور اس کی خصوصیت یعنی صفت ہونے کی وجہ سے غَیْرِ حالت جر میں آیا ہے۔ (آیت۔ 40) ۔ تَقَبَّلْ کے مفعول دُعَائِ پر نہ تو لام تعریف ہے، نہ تنوین ہے اور یہ حالت جر میں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ دراصل مضاف دُعَائَ تھا۔ اس پر مضاف الیہ یائے متکلم داخل ہوا تو دُعَائِ یْ ہوگیا۔ یہاں یائے متکلم گری ہوئی ہے۔
Ayah 14:36

رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ١ۚ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 14:36 in the Quran reader

پروردگار، اِن بتوں نے بہتوں کو گمراہی میں ڈالا ہے (ممکن ہے کہ میری اولاد کو بھی یہ گمراہ کر دیں، لہٰذا اُن میں سے) جو میرے طریقے پر چلے وہ میرا ہے اور جو میرے خلاف طریقہ اختیار کرے تو یقیناً تو درگزر کرنے والا مہربان ہے

[رَبِ : اے میرے رب ] [انهُنَّ : بیشک انہوں نے ] [اَضْلَلْنَ : گمراہ کیا ] [كَثِيْرًا : بہتوں کو ] [مِّنَ النَاسِ : لوگوں میں سے ] [ فَمَنْ : پس جس نے ] [ تَبِعَنِيْ : پیروی کی میری ] [فَانهٗ : تو بیشک وہ ] [مِنِّىْ : مجھ میں سے ہے ] [ وَمَنْ : اور جس نے ] [عَصَانيْ : نافرمانی کی میری ] [فَانكَ : تو بیشک تو ] [غَفُوْرٌ: بےانتہا بخشنے والا ہے ] [رَّحِيْمٌ: ہر حال میں رحم کرنے والا ہے ]
Ayah 14:37

رَبَّنَاۤ اِنِّیْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِكَ الْمُحَرَّمِ١ۙ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِیْۤ اِلَیْهِمْ وَ ارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَشْكُرُوْنَ Open ayah 14:37 in the Quran reader

پروردگار، میں نے ایک بے آب و گیاہ وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھر کے پاس لا بسایا ہے پروردگار، یہ میں نے اس لیے کیا ہے کہ یہ لوگ یہاں نماز قائم کریں، لہٰذا تو لوگوں کے دلوں کو اِن کا مشتاق بنا اور انہیں کھانے کو پھل دے، شاید کہ یہ شکر گزار بنیں

[رَبَّنَآ : اے ہمارے رب ] [ انىٓ: بیشک میں نے ] [ اَسْكَنْتُ : بسا دیا ] [مِنْ ذُرِّيَّتِيْ : اپنی اولاد میں سے (ایک کو)] [بِوَادٍ : ایک ایسی وادی میں جو ] [غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ : کھیتی والی نہیں ہے ] [ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ : تیرے محترم گھر کے پاس ] [رَبَّنَا : اے ہمارے رب ] [لِيُقِيْمُوا : تاکہ وہ لوگ قائم رکھیں ] [الصَّلٰوةَ : نماز کو ] [فَاجْعَلْ : پس تو بنا دے ] [اَفْىِٕدَةً : کچھ دلوں کو ] [مِّنَ النَاسِ : لوگوں میں سے ] [ تَهْوِيْٓ: (کہ) وہ مائل ہوتے ہوں ] [ اِلَيْهِمْ : ان کی طرف ] [ وَارْزُقْهُمْ : اور تو رزق دے ان کو ] [ مِّنَ الثَّمَرٰتِ : پھلوں میں سے ] [ لَعَلَهُمْ : شائد وہ لوگ ] [ يَشْكُرُوْنَ : شکر ادا کریں ]
Ayah 14:38

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِیْ وَ مَا نُعْلِنُ١ؕ وَ مَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ Open ayah 14:38 in the Quran reader

پروردگار، تو جانتا ہے جو کچھ ہم چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں" اور واقعی اللہ سے کچھ بھی چھپا ہوا نہیں ہے، نہ زمین میں نہ آسمانوں میں

[رَبَّنَآ : اے ہمارے رب ] [انكَ : بیشک تو ] [ تَعْلَمُ : جانتا ہے ] [ مَا : اس کو جو ] [نُخْفِيْ : ہم چھپاتے ہیں ] [وَمَا : اور اس کو جو ] [ نُعْلِنُ : ہم آشکار کرنے ہیں ] [ وَمَا يَخْفٰى: اور پوشیدہ نہیں ہوتی ہے ] [ عَلَي اللّٰهِ : اللہ پر ] [ مِنْ شَيْءٍ : کوئی بھی چیز ] [فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [وَلَا فِي السَّمَاۗءِ : اور نہ ہی آسمان میں ]
Ayah 14:39

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ وَهَبَ لِیْ عَلَى الْكِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 14:39 in the Quran reader

"شکر ہے اُس خدا کا جس نے مجھے اِس بڑھاپے میں اسماعیلؑ اور اسحاقؑ جیسے بیٹے دیے، حقیقت یہ ہے کہ میرا رب ضرور دعا سنتا ہے

[اَلْحَمْدُ : تمام شکر و سپاس ] [ للّٰهِ الَّذِي : اس اللہ کے لئے ہے جس نے ] [ وَهَبَ : عطا کیا ] [ لِيْ : میرے لئے ] [عَلَي الْكِبَرِ : بڑھاپے کے باوجود ] [اِسْمٰعِيْلَ : اسماعیل ] [وَاِسْحٰقَ : اور اسحاق ] [ان : بیشک ] [رَبِيْ : میرا رب ] [لَسَمِيْعُ الدُّعَاۗءِ : یقینا دعا کو سننے والا ہے ]
Ayah 14:40

رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ۖۗ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ Open ayah 14:40 in the Quran reader

ا ے میرے پروردگار، مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد سے بھی (ایسے لوگ اٹھا جو یہ کام کریں) پروردگار، میری دعا قبول کر

[رَبِ : اے میرے رب ] [اجْعَلْنِيْ : تو بنا دے مجھ کو ] [ مُقِيْمَ الصَّلٰوةِ : نماز کو قائم رکھنے والا ] [وَمِنْ ذُرِّيَّتِيْ : اور میری اولاد میں سے (بھی)] [رَبَّنَا : اے ہمارے رب ] [وَتَقَبَّلْ : اور تو قبول کر ] [دُعَاۗءِ : میری دعا کو ]