13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 13:1

الٓمّٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ١ؕ وَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 13:1 in the Quran reader

ا ل م ر یہ کتاب الٰہی کی آیات ہیں، اور جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ عین حق ہے، مگر (تمہاری قوم کے) اکثر لوگ مان نہیں رہے ہیں

[الۗمّۗرٰ ۔۔] [تِلْكَ : یہ ] [ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ : کتاب کی آیات ہیں ] [ وَالَّذِيٓ: اور جو ] [ انزِلَ : اتارا گیا ] [ اِلَيْكَ : آپ (علیہ السلام) کی طرف ] [ مِنْ رَّبِكَ : آپ (علیہ السلام) کے رب (کی طرف) سے ] [ الْحَقُّ : (وہ ہی) حق ہے ] [ وَلٰكِنَّ : اور لیکن ] [ اَكْثَرَ النَاسِ : لوگوں کے اکثر ] [ لَا يُؤْمِنُوْنَ : ایمان نہیں لاتے ] ترکیب : (آیت۔ 1) ۔ الحق خبر معرفہ ہے۔ اس سے پہلے ھُوَ محذوف ہے۔ (آیت۔ 2) تَرَوَنَھا کی ضمیر مفعولی اَلسَّمٰوٰتِ کے لئے ہے۔
Ayah 13:2

اَللّٰهُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ Open ayah 13:2 in the Quran reader

وہ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں کو ایسے سہاروں کے بغیر قائم کیا جو تم کو نظر آتے ہو ں، پھر وہ اپنے تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہوا، اور اُس نے آفتاب و ماہتاب کو ایک قانون کا پابند بنایا اِس سارے نظام کی ہر چیز ایک وقت مقرر تک کے لیے چل رہی ہے اور اللہ ہی اِس سارے کام کی تدبیر فرما رہا ہے وہ نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتا ہے، شاید کہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو

[اللّٰهُ : اللہ ] [ الَّذِي : وہ ہے جس نے ] [ رَفَعَ : بلند کیا ] [ السَّمٰوٰتِ : آسمانوں کو ] [ بِغَيْرِ عَمَدٍ : ستونوں کے بغیر ] [ تَرَوْنَهَا : تم لوگ دیکھتے ہو جن کو ] [ ثُمَّ : پھر ] [اسْتَوٰى: وہ متمکن ہوا ] [ عَلَي الْعَرْشِ : عرش پر ] [ وَسَخَّرَ : اور اس نے مطیع کیا ] [ الشَّمْسَ : سورج کو ] [وَالْقَمَرَ : اور چاند کو ] [ كُلٌّ: سب ] [ يَّجْرِيْ : رواں ہیں ] [ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى : ایک معین مدت کے لئے ] [ يُدَبِرُ : وہ تدبیر کرتا ہے ] [ الْاَمْرَ : تمام کاموں کی ] [ يُفَصِّلُ : وہ کھول کھول کر بیان کرتا ہے ] [الْاٰيٰتِ : نشانیوں کو ] [ لَعَلَّكُمْ : شائد تم لوگ ] [ بِلِقَاۗءِ رَبِكُمْ : اپنے رب کی ملاقات پر ] [ تُوْقِنُوْنَ : یقین کرو ]
Ayah 13:3

وَ هُوَ الَّذِیْ مَدَّ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْهٰرًا١ؕ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیْهَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 13:3 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے یہ زمین پھیلا رکھی ہے، اس میں پہاڑوں کے کھو نٹے گاڑ رکھے ہیں اور دریا بہا دیے ہیں اُسی نے ہر طرح کے پھلوں کے جوڑے پیدا کیے ہیں، اور وہی دن پر رات طاری کرتا ہے ان ساری چیزوں میں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں

[وَهُوَ : اور وہ ] [الَّذِي : وہ ہے جس نے ] [ مَدَّ : پھیلایا ] [ الْاَرْضَ : زمین کو ] [وَجَعَلَ : اور اس نے بنایا ] [فِيْهَا : اس میں ] [رَوَاسِيَ : پہاڑوں کو ] [وَانهٰرًا : اور نہروں کو ] [ وَمِنْ كُلِ الثَّمَرٰتِ : اور سب پھلوں میں سے ] [جَعَلَ : اس نے بنایا ] [فِيْهَا : ان میں ] [زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ : دو جوڑے ] [ يُغْشِي : وہ ڈھانپتا ہے ] [ الَّيْلَ : رات سے ] [ النَّهَارَ : دن کو ] [ ان : بیشک ] [ فِيْ ذٰلِكَ : اس میں ] [ لَاٰيٰتٍ : یقینا نشانیاں ہیں ] [لِقَوْمٍ : ایسے لوگوں کے لئے جو ] [ يَّتَفَكَّرُوْنَ : سوچ بچار کرتے ہیں ] نوٹ۔ 1: آیت۔ 3 میں اس حقیقت کی نشاندہی کی گئی ہے کہ اس کائنات کے ہر گوشہ میں، ہر چیز میں، آسمان اور زمین، سورج اور چاند، رات اور دن وغیرہ میں جس طرح کا تضاد اور پھر ساتھ ہی جس طرح کی موافقت پائی جاتی ہے وہ صاف صاف شہادت ہے کہ یہ کائنات مختلف دیوتائوں کی ازم گاہ نہیں ہے بلکہ اس پر ایک ہی قادر مطلق کا ارادہ کارفرما ہے۔ مِنْ کُلِّ الثَّمٰرٰتِ کے الفاظ سے تضاد اور موافقت کے اس قانون کی ہمہ گیری کی طرف کارفرما ہے اسی طرح ایک ایک پھل اور ایک ایک دانے کے اندر بھی کارفرما ہے، خواہ انسان کو اس کا علم ہو یا نہ ہو۔ گندم کے ایک دانے کو دیکھیں تو وہ بھی دو حصوں میں منقسم نظر آتا ہے، تاہم دونوں میں پوری وابستگی اور پیوستگی پائی جاتی ہے۔ کائنات کے ہر گوشہ کی یہ شہادت اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ یہ دنیا بھی تنہا نہیں ہے بلکہ اس کا بھی جوڑا ہے، اور وہ ہے آخرت۔ اپنے اس جوڑے کے ساتھ مل کر ہی یہ اپنی غایت کو پہنچتی ہے ورنہ اس کا وجود بےمقصد ہو کر رہ جاتا ہے۔ (تدبر قرآن)
Ayah 13:4

وَ فِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِیْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَیْرُ صِنْوَانٍ یُّسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ١۫ وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِی الْاُكُلِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 13:4 in the Quran reader

اور دیکھو، زمین میں الگ الگ خطے پائے جاتے ہیں جو ایک دوسرے سے متصل واقع ہیں انگور کے باغ ہیں، کھیتیاں ہیں، کھجور کے درخت ہیں جن میں سے کچھ اکہرے ہیں اور کچھ دوہرے سب کو ایک ہی پانی سیراب کرتا ہے مگر مزے میں ہم کسی کو بہتر بنا دیتے ہیں اور کسی کو کمتر ان سب چیزوں میں بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں

[وَفِي الْاَرْضِ : اور زمین میں ] [ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ: باہم متصل قطعات ہیں ] [ وَّجَنّٰتٌ: اور باغات ہیں ] [ مِّنْ اَعْنَابٍ : انگوروں میں سے ] [وَّزَرْعٌ: اور کھیتی ہے ] [ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَان : اور ایک جڑے کئی شاخوں والے کھجور ہیں ] [ وَّغَيْرُ صِنْوَان : اور کئی بغیر شاخوں والے ہیں ] [ يُّسْقٰى: ان کو پلایا جاتا ہے ] [ بِمَاۗءٍ وَّاحِدٍ : ایک (ہی) پانی ] [وَنُفَضِّلُ : اور (پھر) ہم فضیلت دیتے ہیں ] [ بَعْضَهَا : ان کے بعض کو ] [عَلٰي بَعْضٍ : بعض پر ] [ فِي الْاُكُلِ : پھلوں (کے ذائقے) میں ] [ ان : بیشک ] [ فِيْ ذٰلِكَ : اس میں ] [لَاٰيٰتٍ : یقینا نشانیاں ہیں ] [ لِقَوْمٍ : اپنے لوگوں کے لئے جو ] [ يَّعقلوْنَ : عقل استعمال کرتے ہیں ] ص ن و ثلاثی مجرد ہے فعل نہیں آتا۔ [اِصْنَائً : (افعال) درخت کا جڑ سے دو شاخیں نکالنا۔] [صِنْوٌ: کسی درخت کی جڑ سے پھوٹنے والی مختلف شاخوں میں سے ہر ایک کو صِنْوٌ کہتے ہیں۔ تثنیہ صِنْوَانٌ۔ جمع صِنْوَانٌ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 4]
Ayah 13:5

وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 13:5 in the Quran reader

اب اگر تمہیں تعجب کرنا ہے تو تعجب کے قابل لوگوں کا یہ قول ہے کہ "جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے تو کیا ہم نئے سرے سے پیدا کیے جائیں گے؟" یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب سے کفر کیا ہے یہ وہ لوگ ہیں جن کی گردنوں میں طوق پڑے ہوئے ہیں یہ جہنمی ہیں اور جہنم میں ہمیشہ رہیں گے

[وَان : اور اگر ] [تَعْجب : آپ ﷺ تعجب کریں ] [ فَعَجب : تو عجیب ہے ] [ قَوْلُهُمْ : ان لوگوں کی بات (کہ)] [ءَ : کیا ] [اِذَا : جب ] [ كُنَا : ہم ہوجائیں گے ] [ تُرٰبًا : مٹی ] [ءَ : (تو) کیا ] [انا : ہم ] [لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ : ضرور ایک نئی مخلوق میں ہوں گے ] [اُولٰۗىِٕكَ : وہ لوگ ہیں ] [الَّذِينَ : جنھوں نے ] [ كَفَرُوْا : انکار کیا ] [ بِرَبِهِمْ : اپنے رب کا ] [ وَاُولٰۗىِٕكَ : اور وہ ہیں (کہ)] [الْاَغْلٰلُ : طوق ہیں ] [ فِيْٓ اَعْنَاقِهِمْ : ان کی گردنوں میں ] [ وَاُولٰۗىِٕكَ : اور وہ لوگ ] [اَصْحٰبُ النَارِ : آگ والے ہیں ] [هُمْ : وہ ] [ فِيْهَا : اس میں ] [ خٰلِدُوْنَ : ہمیشہ رہنے والے ہیں ] نوٹ۔ 1: آیت۔ 5 میں ہے کہ ان کی گردنوں میں طوق ہیں۔ گردن میں طوق ہونا قیدی ہونے کی علامت ہے۔ ان کی گردنوں میں طوق ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی جہالت، ہٹ دھرمی، خواہشاتِ نفس اور آبائو اجداد کی اندھی تقلید کے اسیر بنے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ آزادانہ غور و فکر نہیں کرسکتے۔ ان کو ان کے تعصبات نے جکڑ رکھا ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 13:6

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَشَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 13:6 in the Quran reader

یہ لوگ بھلائی سے پہلے برائی کے لیے جلدی مچا رہے ہیں حالانکہ ان سے پہلے (جو لوگ اس روش پر چلے ہیں ان پر خدا کے عذاب کی) عبرت ناک مثالیں گزر چکی ہیں حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب لوگوں کی زیادتیوں کے باوجود ان کے ساتھ چشم پوشی سے کام لیتا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ تیرا رب سخت سزا دینے والا ہے

[وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ : اور وہ لوگ جلدی مانگتے ہیں آپ ﷺ سے ] [ بِالسَّيِّئَةِ : برائی کو ] [قَبْلَ الْحَسَنَةِ : بھلائی سے پہلے ] [ وَ : حالانکہ ] [ قَدْ خَلَتْ : گزر چکی ہیں ] [مِنْ قَبْلِهِمُ : ان کے پہلے سے ] [ الْمَثُلٰتُ : عبرتناک سزائیں ] [ وَان : اور بیشک ] [رَبَّكَ : آپ ﷺ کا رب ] [ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ : یقینا مغفرت والا ہے ] [ لِلنَاسِ : لوگوں کے لئے ] [ عَلٰي ظُلْمِهِمْ : ان کے ظلم کے باوجود ] [ وَان : اور بیشک ] [ رَبَّكَ : آپ ﷺ کا رب ] [ لَشَدِيْدُ الْعِقَابِ : یقینا پکڑنے کا سخت ہے ]
Ayah 13:7

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ۠ Open ayah 13:7 in the Quran reader

یہ لوگ جنہوں نے تمہاری با ت ماننے سے انکار کر دیا ہے، کہتے ہیں کہ "اِس شخص پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتری؟ تم تو محض خبردار کر دینے والے ہو، اور ہر قوم کے لیے ایک رہنما ہے

[وَيَقُوْلُ : اور کہتے ہیں ] [ الَّذِينَ : وہ لوگ جنھوں نے ] [ كَفَرُوْا : کفر کیا ] [ لَوْلَآ : کیوں نہیں ] [ انزِلَ : اتاری گئی ] [ عَلَيْهِ : ان ﷺ پر ] [ اٰيَةٌ: کوئی نشانی ] [ مِّنْ رَّبِهٖ : ان ﷺ کے رب (کی طرف) سے ] [انمَآ : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [انتَ : آپ ﷺ ] [ مُنْذِرٌ: خبردار کرنے والے ہیں ] [وَّلِكُلِ قَوْمٍ هَادٍ : اور ہر قوم کے لئے ایک ہدایت دینے والا ہے ] نوٹ۔ 2: آیت۔ 7 میں جو یہ ارشاد ہے کہ ہر قوم کے لئے ایک ہادی ہے، اس سے ثابت ہوا کہ کوئی قوم اور کوئی خطۂ ملک اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ہدایت کرنے والوں سے خالی نہیں ہوسکتا، خواہ وہ نبی ہو یا اس کے قائم مقام نبی کی دعوت کو پھیلانے والا ہو۔ جیسا سورة یٰسین میں نبی کی طرف سے کسی قوم کی طرف دو شخصوں کو دعوت و ہدایت کے لئے بھیجنے کا ذکر ہے، جو خود نبی نہیں تھے اور پھر تیسرے آدمی کو ان کی تائید کے لئے بھیجنا مذکور ہے۔ اس لئے اس آیت سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہندوستان میں بھی کوئی نبی و رسول پیدا ہوا ہو۔ البتہ دعوت کو پہنچانے والے علماء کا یہاں آنا بھی ثابت ہے اور پھر یہاں ایسے ہادیوں کا پیدا ہونا سب کو معلوم ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 13:8

اَللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَ مَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَ مَا تَزْدَادُ١ؕ وَ كُلُّ شَیْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ Open ayah 13:8 in the Quran reader

اللہ ایک ایک حاملہ کے پیٹ سے واقف ہے جو کچھ اس میں بنتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اس میں کمی یا بیشی ہوتی ہے اس سے بھی وہ باخبر رہتا ہے ہر چیز کے لیے اُس کے ہاں ایک مقدار مقر رہے

[اللّٰهُ : اللہ ] [ يَعْلَمُ : جانتا ہے ] [ مَا : اس کو جو ] [ تَحْمِلُ : اٹھاتی ہے ] [ كُلُّ انثٰى: ہر مؤنث ] [ وَمَا : اور اس کو جو ] [ تَغِيْضُ : سکیڑتی ہیں ] [ الْاَرْحَامُ : بچہ دانیاں ] [ وَمَا : اور اس کو جو ] [ تَزْدَادُ : وہ بڑھاتی ہیں ] [ وَكُلُّ شَيْءٍ : اور ہر چیز ] [ عِنْدَهٗ : اس کے پاس ] [بِمِقْدَارٍ : ایک مقدار سے ہے ]
Ayah 13:9

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْكَبِیْرُ الْمُتَعَالِ Open ayah 13:9 in the Quran reader

وہ پوشیدہ اور ظاہر، ہر چیز کا عالم ہے وہ بزرگ ہے اور ہر حال میں بالا تر رہنے والا ہے

[عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ : (وہ) ظاہر اور پوشیدہ کا جاننے والا ہے ] [الْكَبِيْرُ : جو سب سے بڑا ہے ] [ الْمُتَعَالِ : جو سب سے بلند ہے ]
Ayah 13:10

سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَهَرَ بِهٖ وَ مَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۭ بِالَّیْلِ وَ سَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ Open ayah 13:10 in the Quran reader

تم میں سے کوئی شخص خواہ زور سے با ت کرے یا آہستہ، اور کوئی رات کی تاریکی میں چھپا ہوا ہو یا دن کی روشنی میں چل رہا ہو، اس کے لیے سب یکساں ہیں

[سَوَاۗءٌ: برابر ہے ] [ مِّنْكُمْ : تم لوگوں میں سے ] [مَنْ : وہ جس نے ] [ اَسَرَّ : چھپایا ] [الْقَوْلَ : بات کو ] [ وَمَنْ : اور وہ جس نے ] [جَهَرَ : نمایاں کیا ] [ بِهٖ : اس کو ] [ وَمَنْ هُوَ : اور جو وہ ہے (کہ)] [ مُسْتَخْفٍۢ: چھپنے والا ہے ] [ بِالَّيْلِ : رات میں ] [ وَسَارِبٌۢ: اور چلنے پھرنے والا ہے ] [ بِالنَّهَارِ : دن میں ] س ر ب [سُرُوْبًا : (ن) پانی کا جاری ہونا۔ گھستے چلے جانا۔] [سَرَبًا : (س) پانی کا برتن سے بہہ نکلنا۔ نشیب میں اترنا۔ فَاتَّخَذَ سَبِیْلَہٗ فِی الْبَحْرِ شَرَبًا (تو اس نے یعنی مچھلی نے بنایا اپنا راستہ پانی میں، نشیب میں گھستے ہوئے) 18:61 ۔] [شَارِبٌ: اسم الفاعل ہے۔ بہنے والا۔ چلنے پھرنے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 10 ۔] [سَرَابٌ: بہتے پانی کی طرح نظر آنے والی ریت۔ دھوکہ۔ فریب۔ اَعْمَالُھُمْ کَرَابٍ بِقِیْعَۃٍ یَّحْبَدُہُ الظَّمْاٰنُ مَائً (ان کے اعمال ایک چمکتی ریت کی مانند ہیں پیاسا اس کو گمان کرتا ہے پانی) 24:39 ۔]
Ayah 13:11

لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ Open ayah 13:11 in the Quran reader

ہر شخص کے آگے اور پیچھے اس کے مقرر کیے ہوئے نگراں لگے ہوئے ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی دیکھ بھال کر رہے ہیں حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی اور جب اللہ کسی قوم کی شامت لانے کا فیصلہ کر لے تو پھر وہ کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتی، نہ اللہ کے مقابلے میں ایسی قوم کا کوئی حامی و مدد گار ہو سکتا ہے

[لَهٗ : اس کے لئے ہیں ] [مُعَقِّبٰتٌ: پہرہ دینے والے (فرشتے)] [مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ : اس کے سامنے سے ] [وَمِنْ خَلْفِهٖ : اور اس کے پیچھے سے ] [ يَحْفَظُوْنَهٗ : وہ حفاظت کرتے ہیں اس کی ] [مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ : اللہ کے حکم سے ] [ان : بیشک ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ لَا يُغَيِّرُ : نہیں بدلتا ] [مَا : اس کو جو ] [ بِقَوْمٍ : کسی قوم کے ساتھ ہے ] [ حَتّٰى: یہاں تک کہ ] [يُغَيِّرُوْا : وہ لوگ بدلیں ] [مَا : اس کو جو ] [بِانفُسِهِمْ : ان کی نفسیات میں ہے ] [ وَاِذَآ : اور جب کبھی ] [ اَرَادَ : ارادہ کرتا ہے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ بِقَوْمٍ : کسی قوم سے ] [ سُوْۗءًا : کسی برائی کا ] [ فَلَا مَرَدَّ : تو کوئی بھی لوٹانے کی جگہ (یعنی امکان) نہیں ہے ] [ لَهٗ : اس کو ] [ وَمَا لَهُمْ : اور نہیں ہے ان کے لئے ] [ مِّنْ دُوْنِهٖ : اس کے علاوہ [ مِنْ وَّالٍ : کوئی بھی حمایتی ] ترکیب : (آیت۔ 11) لَہٗ ۔ یَدَیْہِ اور خَلْفِہٖ کی ضمیریں گذشتہ آیت میں مَنْ کے لئے ہیں۔ مُعَقِّبٰتٌ صفت ہے۔ اس کا موصوف مَلَاگکَۃ محذوف ہے۔ یَحْفَظُوْنَہٗ کی ضمیر فاعلی ھُمْ مَلَاگکَہ کے لئے ہے۔ یہ مؤنث غیر حقیقی ہے اس لئے مذکر کا صیغہ بھی جائز ہے۔ (آیت۔ 12) خَوْفًا اور طَمَعًا حال نہیں بن سکتے اس لئے یہاں یہ مفعول لَہٗ ہیں۔ (آیت۔ 14) اگر وَالَّذِیْنَ کو یَدْعُوْنَ کا فاعل مانیں تو اس کا مفعول محذوف مانا جائے گا اور لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ کی ضمیر فاعلی مفعول محذوف کے لئے ہوگی۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وَالَّذِیْنَ کو مفعول مقدم مانا جائے۔ ایسی صورت میں یَدْعُوْنَ کا فاعل اس کی ضمیر فاعلی ہوگی اور لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ کی ضمیر فاعلی وَالَّذِیْنَ کے لئے ہوگی۔ ترجمہ میں ہم دوسری صورت کو ترجیح دیں گے۔
Ayah 13:12

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَۚ Open ayah 13:12 in the Quran reader

وہی ہے جو تمہارے سامنے بجلیاں چمکاتا ہے جنہیں دیکھ کر تمہیں اندیشے بھی لاحق ہوتے ہیں اور امیدیں بھی بندھتی ہیں وہی ہے جو پانی سے لدے ہوئے بادل اٹھاتا ہے

[هُوَ : وہ ] [الَّذِي : وہ ہے جو ] [ يُرِيْكُمُ : دکھاتا ہے تم لوگوں کو ] [الْبَرْقَ : بجلی کی چمک ] [ خَوْفًا : خوف کے لئے ] [ وَّطَمَعًا : اور امید کے لئے ] [ وَّيُنْشِئُ : اور وہ اٹھاتا ہے ] [السَّحَابَ الثِّقَالَ : بھاری بادلوں کو ]
Ayah 13:13

وَ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ مِنْ خِیْفَتِهٖ١ۚ وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِهَا مَنْ یَّشَآءُ وَ هُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ شَدِیْدُ الْمِحَالِؕ Open ayah 13:13 in the Quran reader

بادلوں کی گرج اس کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتی ہے اور فرشتے اس کی ہیبت سے لرزتے ہوئے اُس کی تسبیح کرتے ہیں وہ کڑکتی ہوئی بجلیوں کو بھیجتا ہے اور (بسا اوقات) اُنہیں جس پر چاہتا ہے عین اس حالت میں گرا دیتا ہے جبکہ لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑ رہے ہوتے ہیں فی الواقع اس کی چال بڑی زبردست ہے

[وَيُسَبِحُ : اور تسبیح کرتی ہے ] [ الرَّعْدُ : بادل کی گرج ] [ بِحَمْدِهٖ : اس کی حمد کے ساتھ [ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ : اور فرشتے (بھی)] [ مِنْ خِيْفَتِهٖ : اس کے خوف سے ] [ وَيُرْسِلُ : اور وہ بھیجتا ہے ] [ الصَّوَاعِقَ : گرنے والی بجلیاں ] [ فَيُصِيْبُ بِهَا : پھر وہ لگاتا ہے ان کو ] [ مَنْ : اسے جس کو ] [ يَّشَاۗءُ : وہ چاہتا ہے ] [وَ : اس حال میں کہ ] [هُمْ : وہ لوگ ] [ يُجَادِلُوْنَ : مناظرہ کرتے ہیں ] [ فِي اللّٰهِ : اللہ میں ] [ وَهُوَ : اور وہ [ شَدِيْدُ الْمِحَالِ : تدبیر کرنے کا سخت ہے ] م ح ل [مِحَالًا : (ف۔ س) کسی کے خلاف تدبیر کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 13 ۔]
Ayah 13:14

لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَى الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ١ؕ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 13:14 in the Quran reader

اسی کو پکارنا برحق ہے رہیں وہ دوسری ہستیاں جنہیں اس کو چھوڑ کر یہ لوگ پکارتے ہیں، وہ اُن کی دعاؤں کا کوئی جواب نہیں دے سکتیں اُنہیں پکارنا تو ایسا ہے جیسے کوئی شخص پانی کی طرف ہاتھ پھیلا کر اُس سے درخواست کرے کہ تو میرے منہ تک پہنچ جا، حالانکہ پانی اُس تک پہنچنے والا نہیں بس اِسی طرح کافروں کی دعائیں بھی کچھ نہیں ہیں مگر ایک تیر بے ہدف!

[لَهٗ : اس کے لئے ہی ہے ] [دَعْوَةُ الْحَقِّ : حق کی پکار ] [ وَالَّذِينَ : اور جن لوگوں کو ] [يَدْعُوْنَ : یہ لوگ پکارتے ہیں ] [مِنْ دُوْنِهٖ : اس کے علاوہ ] [لَا يَسْتَجِيْبُوْنَ : وہ جواب نہیں دیتے ] [ لَهُمْ : ان کے لئے ] [بِشَيْءٍ : کسی چیز کا ] [ اِلَّا : سوائے اس کے کہ ] [كَبَاسِطِ كَفَّيْهِ : (وہ) اپنی دونوں ہتھیلیوں کو پھیلانے والے کی مانند ہے ] [ اِلَى الْمَاۗءِ : پانی کی طرف ] [ لِيَبْلُغَ : کہ وہ پہنچے ] [ فَاهُ : اس کے منہ کو ] [وَ : حالانکہ ] [مَا : نہیں ہے ] [هُوَ : وہ ] [بِبَالِغِهٖ : پہنچنے والا اس کو ] [وَمَا : اور نہیں ہے ] [دُعَاۗءُ الْكٰفِرِيْنَ : کافروں کی دعا ] [اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ : مگر گمراہی ہو ]
Ayah 13:15

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۩ Open ayah 13:15 in the Quran reader

وہ تو اللہ ہی ہے جس کو زمین و آسمان کی ہر چیز طوعاً و کرہاً سجدہ کر رہی ہے اور سب چیزوں کے سائے صبح و شام اُس کے آگے جھکتے ہیں

[وَللّٰهِ : اور اللہ کے لئے ہی ] [ يَسْجُدُ : سجدہ کرتے ہیں ] [ مَنْ : وہ جو ] [ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : زمین اور آسمانوں میں ہیں ] [ طَوْعًا : تابعدار ہوتے ہوئے ] [ وَّكَرْهًا : اور ناپسند کرتے ہوئے ] [ وَّظِلٰلُهُمْ : اور ان کے سائے (بھی)] [ بِالْغُدُوِّ : صبح میں ] [ وَالْاٰصَالِ : اور شام میں ]
Ayah 13:16

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ اَمْ هَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَ النُّوْرُ١ۚ۬ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَیْهِمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 13:16 in the Quran reader

اِن سے پوچھو، آسمان و زمین کا رب کون ہے؟ کہو، اللہ پھر ان سے کہو کہ جب حقیقت یہ ہے تو کیا تم نے اُسے چھوڑ کر ایسے معبودوں کو اپنا کارساز ٹھیرا لیا جو خود اپنے لیے بھی کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے؟ کہو، کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہوا کرتا ہے؟ کیا روشنی اور تاریکیاں یکساں ہوتی ہیں؟ اور اگر ایسا نہیں تو کیا اِن ٹھیرائے ہوئے شریکوں نے بھی اللہ کی طرح کچھ پیدا کیا ہے کہ اُس کی وجہ سے اِن پر تخلیق کا معاملہ مشتبہ ہو گیا؟ کہو، ہر چیز کا خالق صرف اللہ ہے اور وہ یکتا ہے، سب پر غالب!

[قُلْ : آپ ﷺ کہئے ] [مَنْ : کون ] [ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : زمین اور آسمانوں کا رب ہے ] [ قُلِ اللّٰهُ : آپ ﷺ کہئے (وہ) اللہ ہی ہے ] [ قُلْ : آپ ﷺ کہئے ] [اَفَاتَّخَذْتم : تو کیا تم لوگوں نے بنائے ] [مِّنْ دُوْنِهٖٓ: اس کے علاوہ ] [ اَوْلِيَاۗءَ : کچھ ایسے کارساز [ لَا يَمْلِكُوْنَ : جو مالک نہیں ہیں ] [ لِانفُسِهِمْ : اپنی جانوں کے لئے (بھی)] [ نَفْعًا : کیس نفع کے ] [ وَّلَا ضَرًّا : اور نہ ہی کسی نقصان کے ] [ قُلْ : آپ ﷺ کہئے ] [ هَلْ : کیا ] [ يَسْتَوِي : برابر ہوتا ہے ] [الْاَعْمٰى: اندھا ] [وَالْبَصِيْر : اور دیکھنے والا ] [اَمْ : یا ] [ هَلْ : کیا [ تَسْتَوِي : برابر ہوتے ہیں ] [الظُّلُمٰتُ : اندھیرے ] [وَالنُّوْرُ : اور نور ] [اَمْ : یا ] [ جَعَلُوْا : ان لوگوں نے بنایا ] [للّٰهِ : اللہ کے لئے ] [ شُرَكَاۗءَ : کچھ ایسے شریک ] [ خَلَقُوْا : جنھوں نے پیدا کیا ] [ كَخَلْقِهٖ : اس کی مخلوق کی مانند ] [ فَتَشَابَهَ : پھر باہم ملتی جلتی ہوگئیں ] [ الْخَلْقُ : تمام مخلوقیں ] [ عَلَيْهِمْ : ان پر ] [ قُلِ : آپ ﷺ کہئے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ خَالِقُ كُلِ شَيْءٍ : ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے ] [ وَّهُوَ : اور وہ ] [ الْوَاحِدُ : یکتا ہے ] [ الْقَهَارُ : زبردست ہے ]
Ayah 13:17

اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِیَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَّابِیًا١ؕ وَ مِمَّا یُوْقِدُوْنَ عَلَیْهِ فِی النَّارِ ابْتِغَآءَ حِلْیَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ١ؕ۬ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَآءً١ۚ وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْكُثُ فِی الْاَرْضِ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَؕ Open ayah 13:17 in the Quran reader

اللہ نے آسمان سے پانی برسایا اور ہر ندی نالہ اپنے ظرف کے مطابق اسے لے کر چل نکلا پھر جب سیلاب اٹھا تو سطح پر جھاگ بھی آ گئے اور ویسے ہی جھاگ اُن دھاتوں پر بھی اٹھتے ہیں جنہیں زیور اور برتن وغیرہ بنانے کے لیے لوگ پگھلایا کرتے ہیں اِسی مثال سے اللہ حق اور باطل کے معاملے کو واضح کرتا ہے جو جھاگ ہے وہ اڑ جایا کرتا ہے اور جو چیز انسانوں کے لیے نافع ہے وہ زمین میں ٹھیر جاتی ہے اس طرح اللہ مثالوں سے اپنی بات سمجھاتا ہے

[انزَلَ : اس نے اتارا ] [ مِنَ السَّمَاۗءِ : آسمان سے ] [ مَاۗءً : کچھ پانی ] [فَسَالَتْ : تو بہہ نکلیں ] [ اَوْدِيَةٌۢ: وادیاں ] [ بِقَدَرِهَا : اپنے اندازے (یعنی گنجائش) کے مطابق ] [فَاحْتملَ : تو اٹھایا ] [ السَّيْلُ : بہتے پانی نے ] [ زَبَدًا رَّابِيًا : ابھرنے والا کچھ جھاگ ] [ وَمِمَا : اور اس (دھات) میں سے ] [ يُوْقِدُوْنَ : وہ لوگ چمکاتے (یعنی پگھلاتے) ہیں ] [عَلَيْهِ : جس کو ] [ فِي النَارِ : آگ میں ] [ ابْتِغَاۗءَ حِلْيَةٍ : کسی زیور کی تلاش میں ] [اَوْ مَتَاعٍ : یا کسی سامان کی ] [زَبَدٌ: کچھ جھاگ ہوا ] [ مِّثْلُهٗ : اس کے جیسا ] [ كَذٰلِكَ : اس طرح ] [ يَضْرِبُ : بیان کرتا ہے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ الْحَقَّ : حق کو ] [وَالْبَاطِلَ : اور باطل کو ] [فَاَمَا : پس وہ جو ] [ الزَّبَدُ : جھاگ سے ] [ فَيَذْهَبُ : تو وہ جاتا ہے ] [ جُفَاۗءً : رائیگاں ہوتے ہوئے ] [ وَاَمَا : اور وہ جو ہے ] [ مَا : جو ] [ يَنْفَعُ : نفع دیتا ہے ] [ النَاسَ : لوگوں کو ] [ فَيَمْكُثُ : تو وہ ٹھہرتا ہے ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [ كَذٰلِكَ : اس طرح ] [ يَضْرِبُ : بیان کرتا ہے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [الْاَمْثَالَ : مثالوں کو ] س ی ل [سَیْلًا : (ض) پانی کا بہہ نکلنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 17 ۔] [سَیْلٌ: اسم ذات بھی ہے۔ بہتا پانی۔ سیلاب۔ زیر مطالعہ آیت۔ 17] [اِسَالَۃً : (افعال) رقیق چیز کو بہانا۔ جمی ہوئی چیز کو پگھلانا۔ وَاَسَلْنَا لَہٗ عَیْنَ الْقِطْرِ (اور ہم نے پگھلایا ان (علیہ السلام) کے لئے تانبے کے چشمے کو) 34:12] ز ب د [زَبْدًا : (ض) دودھ کا مکھن نکالنا۔ پانی کا جھاگ نکالنا۔] [زَبَدٌ: اسم ذات ہے۔ دھاتوں کا میل۔ پانی کا جھاگ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 17] جء [جَفْئًا : (ف) ہانڈی کا ابل کر کناروں سے بہہ نکلنا۔ کسی چیز کا رائیگاں جانا۔ بےفائدہ ہوجانا۔] [جُفَائٌ: فعال کے وزن پر صفت ہے۔ بےفائدہ۔ رائیگاں۔ زیر مطالعہ آیت۔ 17] م ک ث [مَکْثًا : (ن) کسی جگہ رکنا۔ ٹھہرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 17 ۔] [مُکْثٌ: اسم فعل ہے۔ رکنے کا عمل۔ ٹھہرائو۔ لتقراہ علی الناس علی مکث (تاکہ آپ ﷺ پڑھ کر سنائیں اے لوگوں کو ٹھہرائو پر یعنی رک رک کر) 17:106 ۔] [مَاکِثٌ: اسم الفاعل ہے۔ رکنے والا۔ ٹھہرنے والا۔ مَاکِثِیْنَ فِیْہِ اَبَدًا (ٹھہرنے والے ہیں اس میں ہمیشہ) 18:3 ۔]
Ayah 13:18

لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰى١ؔؕ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ١ۙ۬ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ۠ Open ayah 13:18 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنے رب کی دعوت قبول کر لی ہے اُن کے لیے بھلائی ہے اور جنہوں نے اسے قبول نہ کیا وہ اگر زمین کی ساری دولت کے بھی مالک ہوں اور اتنی ہی اور فراہم کر لیں تو وہ خدا کی پکڑ سے بچنے کے لیے اس سب کو فدیہ میں دے ڈالنے پر تیا ر ہو جائیں گے یہ وہ لوگ ہیں جن سے بری طرح حساب لیا جائے گا اور اُن کا ٹھکانہ جہنم ہے، بہت ہی برا ٹھکانا

[لِلَّذِيْنَ : ان کے لئے جنھوں نے ] [اسْتَجَابُوْا : حکم مانا ] [ لِرَبِهِمُ : اپنے رب کا ] [الْحُسْنٰى: کل بھلائی ہے ] [وَالَّذِينَ : اور جنھوں نے ] [لَمْ يَسْتَجِيْبُوْا : حکم نہیں مانا ] [ لَهٗ : اس کا ] [لَوْ : اگر ] [ ان : یہ کہ ] [ لَهُمْ : ان کے لئے (ہوتا)] [ مَا : وہ جو ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ہے ] [ جَمِيْعًا : سب کا سب ] [ وَّمِثْلَهٗ : اور اس کے جیسا ] [ مَعَهٗ : اس کے ساتھ (اور ہوتا)] [لَافْتَدَوْا : تو ضرور خود کو چھڑاتے ] [ بِهٖ : اسے دے کر ] [اُولٰۗىِٕكَ : وہ لوگ ہیں ] [ لَهُمْ : جن کے لئے ہے ] [سُوْۗءُ الْحِسَابِ : برا حساب ] [وَمَاوٰىهُمْ : اور ان کی اترنے کی جگہ ] [جَهَنَّمُ : جہنم ہے ] [وَبِئْسَ : اور (وہ) کتنی بری ] [ الْمِهَادُ : آرام گاہ ہے ]
Ayah 13:19

اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِۙ Open ayah 13:19 in the Quran reader

بھلا یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ شخص جو تمہارے رب کی اِس کتاب کو جو اس نے تم پر نازل کی ہے حق جانتا ہے، اور وہ شخص جو اس حقیقت کی طرف سے اندھا ہے، دونوں یکساں ہو جائیں؟ نصیحت تو دانش مند لوگ ہی قبول کیا کرتے ہیں

[اَفَمَنْ : تو کیا جو ] [ يَّعْلَمُ : جانتا ہے ] [انمَآ : کہ وہ جو ] [ انزِلَ : اتارا گیا ] [ اِلَيْكَ : آپ ﷺ کی طرف ] [مِنْ رَّبِكَ : آپ ﷺ رب (کی طرف) سے ] [الْحَقُّ : کل حق ہے ] [ كَمَنْ : اس کی مانند ہے ] [ هُوَ : (کہ) وہ ] [ اَعْمٰى : اندھا ہے ] [ انمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ يَتَذَكَّرُ : نصیحت حاصل کرتے ہیں ] [ اُولُوا الْاَلْبَابِ : اوہام سے پاک عقل والے ] ترکیب : (آیت۔ 19) اَنَّمَا اُنْزِلَ میں اَنَّمَا کلمۂ حصر نہیں ہے بلکہ یہ اَنَّ مَا ہے۔ یہ قرآن مجید کا یہ مخصوص املا ہے کہ یہاں اسکو ملا کر لکھا گیا ہے۔ جبکہ اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ میں اِنَّمَا کلمہ حصر ہے۔ (آیت۔ 22) اِبْتِغَاء مفعول لَہٗ ہے اور اس کو حال ماننے کی بھی گنجائش ہے۔ ہم ترجمہ مفعول لَہٗ کے لحاظ سے کریں گے۔ جبکہ سِرًّا اور عَلَانِیَۃً حال ہیں۔
Ayah 13:20

الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ Open ayah 13:20 in the Quran reader

اور اُن کا طرز عمل یہ ہوتا ہے کہ اللہ کے ساتھ اپنے عہد کو پورا کرتے ہیں، اُسے مضبوط باندھنے کے بعد توڑ نہیں ڈالتے

[الَّذِينَ : جو لوگ ] [ يُوْفُوْنَ : پورا کرتے ہیں ] [ بِعَهْدِ اللّٰهِ : اللہ کے عہد کو ] [ وَلَا يَنْقُضُوْن : اور وہ نہیں توڑتے ] [َ الْمِيْثَاقَ : اس وعدہ کو ]
Ayah 13:21

وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِؕ Open ayah 13:21 in the Quran reader

اُن کی روش یہ ہوتی ہے کہ اللہ نے جن جن روابط کو برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے انہیں برقرار رکھتے ہیں، اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور اس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ کہیں ان سے بری طرح حساب نہ لیا جائے

[وَالَّذِينَ : اور جو لوگ ] [ يَصِلُوْنَ : ملاتے ہیں ] [ مَآ : اس کو ] [اَمَرَ : حکم دیا ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ بِهٖٓ : جس کا ] [ان : کہ ] [ يُّوْصَلَ : وہ ملایا جائے ] [ وَيَخْشَوْنَ : اور مرعوب ہوتے ہیں ] [ رَبَّهُمْ : اپنے رب سے ] [ وَيَخَافُوْنَ : اور اندیشہ رکھتے ہیں ] [ سُوْۗءَ الْحِسَابِ : برے حساب کا ]
Ayah 13:22

وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ Open ayah 13:22 in the Quran reader

اُن کا حال یہ ہوتا ہے کہ اپنے رب کی رضا کے لیے صبر سے کام لیتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے علانیہ اور پوشیدہ خرچ کرتے ہیں، اور برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں آخرت کا گھر انہی لوگوں کے لیے ہے

وَالَّذِينَ : اور جو لوگ ] [ صَبَرُوا : ثابت قدم رہے ] [ ابْتِغَاۗءَ وَجْهِ رَبِهِمْ : اپنے رب کی توجہ کی جستجو میں ] [ وَاَقَامُوا : اور انھوں نے قائم کی ] [ الصَّلٰوةَ : نماز ] [ وَانفَقُوْا : اور انھوں نے خرچ کیا ] [ مِمَا : اس میں سے جو ] [ رَزَقْنٰهُمْ : ہم نے عطا کیا ان کو ] [ سِرًّا : چھپاتے ہوئے ] [ وَّعَلَانيَةً : اور اعلانیہ ] [ وَّيَدْرَءُوْنَ : اور ہٹاتے ہیں ] [ بِالْحَسَنَةِ : بھلائی سے ] [ السَّيِّئَةَ : برائی کو ] [ اُولٰۗىِٕكَ : وہ لوگ ہیں ] [ لَهُمْ : جن کے لئے ہے ] [عُقْبَى الدَّارِ : اس (آخری) گُم گھر کا انجام ]
Ayah 13:23

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍۚ Open ayah 13:23 in the Quran reader

یعنی ایسے باغ جو اُن کی ابدی قیام گاہ ہوں گے وہ خود بھی ان میں داخل ہوں گے اور ان کے آباؤ اجداد اور اُن کی بیویوں اور اُن کی اولاد میں سے جو جو صالح ہیں وہ بھی اُن کے ساتھ وہاں جائیں گے ملائکہ ہر طرف سے اُن کے استقبال کے لیے آئیں گے

[جَنّٰتُ عَدْنٍ : عدن کے باغات ہیں ] [ يَّدْخُلُوْنَهَا : وہ لوگ داخل ہوں گے ان میں ] [ وَمَنْ : اور وہ (بھی) جو ] [صَلَحَ : نیک ہوا ] [مِنْ اٰبَاۗىِٕهِمْ : ان کے آبائو اجداد میں سے ] [ وَاَزْوَاجِهِمْ : اور ان کے جوڑوں میں سے ] [وَذُرِّيّٰــتِهِمْ : اور ان کی اولادوں میں سے ] [ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ : اور فرشتے ] [ يَدْخُلُوْنَ : داخل ہوں گے ] [ عَلَيْهِمْ : ان پر ] [مِّنْ كُلِ بَابٍ : ہر دروازے سے ]
Ayah 13:24

سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ Open ayah 13:24 in the Quran reader

اور اُن سے کہیں گے کہ "تم پر سلامتی ہے، تم نے دنیا میں جس طرح صبر سے کام لیا اُس کی بدولت آج تم اِس کے مستحق ہوئے ہو" پس کیا ہی خوب ہے یہ آخرت کا گھر!

[سَلٰمٌ: (وہ کہیں گے) سلامتی ہو ] [عَلَيْكُمْ : تم لوگوں پر ] [بِمَا : بسبب اس کے جو ] [صَبَرْتم : تم لوگ ثابت قدم رہے ] [ فَنِعْمَ : تو کتنا اچھا ہے ] [عُقْبَى الدَّارِ : اس (آخری) گھر کا انجام ] نوٹ۔ 1: ان آیات میں اللہ کا حکم ماننے والوں کی کچھ صفات کا ذکر ہے۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ لوگ برائی کے جواب میں برائی نہیں کرتے بلکہ ان کے ساتھ بھی بھلائی کرتے ہیں جو ان کے ساتھ برائی کرے۔ اس مفہوم کی وضاحت میں ہمیں متعدد احادیث ملتی ہیں۔ مثلاً رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ تم اپنے طرز عمل کو لوگوں کے طرز عمل کا تابع بنا کر مت رکھو۔ یہ کہنا غلط ہے کہ اگر لوگ بھلائی کریں گے تو ہم بھلائی کریں گے اور لوگ ظلم کریں گے تو ہم بھی ظلم کریں گے۔ تم اپنے نفس کو ایک قاعدے کا پابند بنائو۔ اگر لوگ نیکی کریں تو تم نیکی کرو۔ اور اگر لوگ تم سے بدسلوکی کریں تو تم ظلم نہ کرو۔ اسی معنی میں وہ حدیث ہے جس میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے رب نے مجھے نو باتوں کا حکم دیا ہے اور ان میں سے چار باتیں آپ ﷺ نے یہ فرمائیں کہ میں خواہ کسی سے خوش ہوں یا ناراض ہر حالت میں انصاف کی بات کہوں، جو میرا حق مارے میں اس کا حق ادا کروں، جو مجھے محروم کرے میں اس کو عطا کروں اور جو مجھ پر ظلم کرے میں ان کو معاف کر دوں۔ اور اس معنی میں وہ حدیث ہے جس میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو تجھ سے خیانت کرے تو اس سے خیانت نہ کر۔ (تفہیم القرآن) ۔
Ayah 13:25

وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ۙ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 13:25 in the Quran reader

رہے وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد توڑ ڈالتے ہیں، جو اُن رابطوں کو کاٹتے ہیں جنہیں اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے، اور جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، وہ لعنت کے مستحق ہیں اور ان کے لیے آخرت میں بہت برا ٹھکانا ہے

[وَالَّذِينَ : اور وہ لوگ جو ] [ يَنْقُضُوْنَ : توڑتے ہیں ] [ عَهْدَ اللّٰهِ : اللہ کے عہد کو ] [ مِنْۢ بَعْدِ مِيْثَاقِهٖ : اس کے پختہ ہونے کے بعد ] [ وَيَقْطَعُوْنَ : اور وہ لوگ کاٹتے ہیں ] [ مَآ : اس کو ] [ اَمَرَ : حکم دیا ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ بِهٖٓ : جس کا ] [ان : کہ ] [ يُّوْصَلَ : وہ جوڑا جائے ] [وَيُفْسِدُوْنَ : اور وہ لوگ نظم بگاڑتے ہیں ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [ اُولٰۗىِٕكَ : وہ لوگ ہیں ] [ لَهُمُ : جن کے لئے ہے ] [ اللَّعْنَةُ : کل لعنت ] [وَلَهُمْ : اور ان کے لئے ہے ] [ سُوْۗءُ الدَّارِ : اس (آخری) گھر کی برائی ]
Ayah 13:26

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ وَ فَرِحُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۠ Open ayah 13:26 in the Quran reader

اللہ جس کو چاہتا ہے رزق کی فراخی بخشتا ہے اور جسے چاہتا ہے کہ نپا تلا رزق دیتا ہے یہ لوگ دنیوی زندگی میں مگن ہیں، حالانکہ د نیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں ایک متاع قلیل کے سوا کچھ بھی نہیں

[اللّٰهُ : اللہ ] [يَبْسُطُ : کشادہ کرتا ہے ] [ الرِّزْقَ : رزق کو ] [ لِمَنْ : اس کے لئے جس کو ] [يَّشَاۗءُ : وہ جانتا ہے ] [وَيَــقْدِرُ : اور وہ اندازہ لگاتا ہے (یعنی ناپ تول کردیتا ہے جس کو چاہتا ہے)] [وَفَرِحُوْا : اور وہ لوگ خوش ہوئے ] [ بِالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا : دنیوی زندگی پر ] [وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا : اور دنیوی زندگی نہیں ہے ] [فِي الْاٰخِرَةِ : آخرت (کے مقابلہ) میں ] [ اِلَّا : مگر ] [ مَتَاعٌ: ایک برتنے کا سامان ]
Ayah 13:27

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ اَنَابَۖۚ Open ayah 13:27 in the Quran reader

یہ لوگ جنہوں نے (رسالت محمدیؐ کو ماننے سے) انکار کر دیا ہے کہتے ہیں "اِس شخص پر اِس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتری" کہو، اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اُسی کو دکھاتا ہے جو اُس کی طرف رجوع کرے

[وَيَقُوْلُ : اور کہتے ہیں ] [ الَّذِينَ : وہ لوگ جنھوں نے ] [ كَفَرُوْا : کفر کیا ] [ لَوْلَآ : کیوں نہیں ] [ انزِلَ : اتاری جاتی ] [ عَلَيْهِ : ان ﷺ پر ] [ اٰيَةٌ : کوئی نشانی ] [مِّنْ رَّبِهٖ : ان کے رب (کی طرف) سے ] [قُلْ : آپ ﷺ کہئے ] [ ان : بیشک اللہ ] [اللّٰهَ : اللہ ] [يُضِلُّ : گمراہ کرتا ہے ] [مَنْ : اس کو جس کو ] [ يَّشَاۗءُ : وہ چاہتا ہے ] [ وَيَهْدِيْٓ: اور وہ ہدایت دیتا ہے ] [اِلَيْهِ : اپنی طرف ] [ مَنْ : اس کو جس نے ] [ انابَ : رخ کیا (اس کی طرف)]
Ayah 13:28

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُؕ Open ayah 13:28 in the Quran reader

ایسے ہی لوگ ہیں وہ جنہوں نے (اِس نبی کی دعوت کو) مان لیا اور اُن کے دلوں کو اللہ کی یاد سے اطمینان نصیب ہوتا ہے خبردار رہو! اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوا کرتا ہے

[الَّذِينَ : جو لوگ ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ وَتَطْمَىِٕنُّ : اور اطمینان پاتے ہیں ] [ قُلُوْبُهُمْ : ان کے دل ] [ بِذِكْرِ اللّٰهِ : اللہ کی یاد سے ] [ اَلَا : سن لو ] [ بِذِكْرِ اللّٰهِ : اللہ کی یاد سے ہی ] [ تَـطْمَىِٕنُّ : اطمینان پاتے ہیں ] [ الْقُلُوْبُ : دل ]
Ayah 13:29

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَ حُسْنُ مَاٰبٍ Open ayah 13:29 in the Quran reader

پھر جن لوگوں نے دعوت حق کو مانا اور نیک عمل کیے وہ خوش نصیب ہیں اور ان کے لیے اچھا انجام ہے

[الَّذِينَ : جو لوگ ] [اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ وَعَمِلُوا : اور انھوں نے عمل کئے ] [ الصّٰلِحٰتِ : نیکیوں کے ] [طُوْبٰى: تو انتہائی فرحت ہے ] [ لَهُمْ : ان کے لئے ] [ وَحُسْنُ مَاٰبٍ : اور لوٹنے کی جگہ کا حسن ہے ]
Ayah 13:30

كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِیْۤ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَاۤ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَاۡ عَلَیْهِمُ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ هُمْ یَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ١ؕ قُلْ هُوَ رَبِّیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ مَتَابِ Open ayah 13:30 in the Quran reader

اے محمدؐ، اِسی شان سے ہم نے تم کو رسول بنا کر بھیجا ہے، ایک ایسی قوم میں جس سے پہلے بہت سی قومیں گزر چکی ہیں، تاکہ تم اِن لوگوں کو وہ پیغام سناؤ جو ہم نے تم پر نازل کیا ہے، اِس حال میں کہ یہ اپنے نہایت مہربان خدا کے کافر بنے ہوئے ہیں اِن سے کہو کہ وہی میرا رب ہے، اُس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اُسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہی میرا ملجا و ماویٰ ہے

[كَذٰلِكَ : اس طرح ] [ اَرْسَلْنٰكَ : ہم نے بھیجا آپ ﷺ کو ] [ فِيْٓ اُمَّةٍ : ایک ایسی امت میں ] [قَدْ خَلَتْ : گزر چکی ہیں ] [ مِنْ قَبْلِهَآ : جس سے پہلے ] [ اُمَمٌ: کچھ امتیں ] [ لِتَتْلُوَا۟ عَلَيْهِمُ : تاکہ آپ ﷺ پڑھ کر سنائیں ان کو ] [ الَّذِيٓ: وہ جو ] [ اَوْحَيْنَآ : ہم نے وحی کیا ] [ اِلَيْكَ : آپ ﷺ کی طرف ] [ وَ : حالانکہ ] [هُمْ : وہ لوگ ] [ يَكْفُرُوْنَ : انکار کرتے ہیں ] [ بِالرَّحْمٰنِ : رحمن کا ] [قُلْ : آپ ﷺ کہئے [ هُوَ : وہ ] [ رَبِيْ : میرا رب ہے ] [ لَآ اِلٰهَ : کوئی الٰہ نہیں ہے ] [ اِلَّا : مگر ] [هُوَ : وہ (ہی)] [ عَلَيْهِ : اس پر ہی ] [ تَوَكَّلْتُ : میں نے بھروسہ کیا ] [ وَاِلَيْهِ : اور اس کی طرف ہی ] [ مَتَابِ : میرا لوٹنا ہے ] ترکیب : (آیت۔ 30) مَتَابِ کی کسرہ بنا رہی ہے کہ اس کے آگے یائے متکلم محذوف ہے۔ یعنی یہ مَتَابِیْ ہے۔
Ayah 13:31

وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى١ؕ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا١ؕ اَفَلَمْ یَایْئَسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا تُصِیْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى یَاْتِیَ وَعْدُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 13:31 in the Quran reader

اور کیا ہو جاتا اگر کوئی ایسا قرآن اتار دیا جاتا جس کے زور سے پہاڑ چلنے لگتے، یا زمین شق ہو جاتی، یا مُردے قبروں سے نکل کر بولنے لگتے؟ (اس طرح کی نشانیاں دکھا دینا کچھ مشکل نہیں ہے) بلکہ سارا اختیار ہی اللہ کے ہاتھ میں ہے پھر کیا اہل ایمان (ابھی تک کفار کی طلب کے جواب میں کسی نشانی کے ظہور کی آس لگا ئے بیٹھے ہیں اور وہ یہ جان کر) مایوس نہیں ہو گئے کہ اگر اللہ چاہتا تو سارے انسانوں کو ہدایت دے دیتا؟ جن لوگوں نے خدا کے ساتھ کفر کا رویہ اختیار کر ر کھا ہے اُن پر ان کے کرتوتوں کی وجہ سے کوئی نہ کوئی آفت آتی ہی رہتی ہے، یا ان کے گھر کے قریب کہیں نازل ہوتی ہے یہ سلسلہ چلتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آن پورا ہو یقیناً اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا

[وَلَوْ : اور اگر ] [ ان : یہ کہ ] [ قُرْاٰنًا : کوئی ایسا قرآن (ہوتا)] [سُيِّرَتْ : چلائے جاتے ] [بِهِ : جس سے ] [ الْجبالُ : پہاڑ ] [ اَوْ : یا ] [ قُطِّعَتْ : ٹکڑے ٹکڑے کی جاتی ] [ بِهِ : جس سے ] [الْاَرْضُ : زمین ] [ اَوْ : یا ] [كُلِمَ : بلوائے جاتے ] [ بِهِ : جس سے ] [ الْمَوْتٰى: مردے ] [بَلْ : بلکہ ] [للّٰهِ : اللہ کے لئے ہی ہیں ] [الْاَمْرُ : تمام معاملات [ جَمِيْعًا : سب کے سب ] [اَفَلَمْ يَايْــــــَٔـسِ : تو کیا جانتا ہی نہیں ] [الَّذِينَ : ان لوگوں نے جو ] [ اٰمَنُوْٓا : ایمان لائے ] [ ان : کہ ] [ لَوْ : اگر ] [ يَشَاۗءُ : چاہتا ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [لَهَدَى: تو ضرور ہدایت دیتا ] [ النَاسَ : لوگوں کو ] [جَمِيْعًا : سب کے سب کو ] [ وَلَا يَزَالُ : اور ہمیشہ ] [الَّذِينَ : جنھوں نے ] [ كَفَرُوْا : کفر کیا،] [ تُصِيْبُهُمْ : آ لگتی رہے گی ان کو ] [ بِمَا : بسبب اس کے جو ] [صَنَعُوْا : انھوں نے کارستانی کی ] [قَارِعَةٌ : کوئی آفت ] [اَوْ : یا (ہمیشہ) ] [ تَحُلُّ : اترتی رہے گی ] [ قَرِيْبًا : نزدیک ہی ] [ مِّنْ دَارِهِمْ : ان کے گھر سے ] [حَتّٰى: یہاں تک کہ ] [ يَاْتِيَ : آئے ] [ وَعْدُ اللّٰهِ : اللہ کا وعدہ ] [ ان : بیشک ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ لَا يُخْلِفُ : خلاف نہیں کرتا ] [ الْمِيْعَادَ : وعدے کے ] ق ر ع [قَرْعًا : (ف) کھٹکھٹانا۔] [قَارِعَۃٌ: کھٹکھٹانے والی۔ آفت۔ زیر مطالعہ آیت۔ 31 ۔] [ (آیت۔ 31) پروفیسر حافظ احمد یار صاحب مرحوم کا کہنا ہے کہ یَگسَ کے بعد مِنْ کا صلہ آئے تو معنی ہوتے ہیں ” مایوس ہونا “ اگر اَنْ کا صلہ آئے تو معنی ہوتے ہیں ” جاننا “۔ اس کی سند المنجد کے علاوہ کچھ تفاسیر ہیں جن میں اس کی سند کے لئے اشعار جاہلیہ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اور قرآن مجید میں یہ واحد مقام ہے جہاں یَگسَ اَنْ کے صلہ کے ساتھ ” جاننا “ کے معنی میں آیا ہے۔ ترجمہ میں ہم حافظ صاحب کی رائے کو ترجیح دیں گے۔
Ayah 13:32

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَیْتُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 13:32 in the Quran reader

تم سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا جا چکا ہے، مگر میں نے ہمیشہ منکر ین کو ڈھیل دی اور آخر کار ان کو پکڑ لیا، پھر دیکھ لو کہ میری سزا کیسی سخت تھی

[وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ : اور بیشک مذاق اڑایا جا چکا ہے ] [ بِرُسُلٍ : رسولوں کا ] [ مِّنْ قَبْلِكَ : آپ ﷺ سے پہلے ] [ فَاَمْلَيْتُ : تو میں نے مہلت دی ] [ لِلَّذِيْنَ : ان کو جنھوں نے ] [كَفَرُوْا : کفر کیا ] [ ثُمَّ : پھر ] [اَخَذْتُهُمْ : میں نے پکڑا ان کو ] [ فَكَيْفَ : تو کیسا ] [ كَان : تھا ] [عِقَابِ : میرا پکڑنا ] (آیت۔ 32) عِمَّابِ بھی دراصل عقابی ہے۔
Ayah 13:33

اَفَمَنْ هُوَ قَآئِمٌ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ۚ وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ قُلْ سَمُّوْهُمْ١ؕ اَمْ تُنَبِّئُوْنَهٗ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی الْاَرْضِ اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ١ؕ بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ وَ صُدُّوْا عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 13:33 in the Quran reader

پھر کیا وہ جو ایک ایک متنفس کی کمائی پر نظر رکھتا ہے (اُس کے مقابلے میں یہ جسارتیں کی جا رہی ہیں کہ) لوگوں نے اُس کے کچھ شریک ٹھیرا رکھے ہیں؟ اے نبیؐ، اِن سے کہو (اگر واقعی وہ خدا کے اپنے بنائے ہوئے شریک ہیں تو) ذرا اُن کے نا م لو کہ وہ کون ہیں؟ کیا تم اللہ کو ایک نئی بات کی خبر دے رہے ہو جسے وہ اپنی زمین میں نہیں جانتا؟ یا تم لوگ بس یونہی جو منہ میں آتا ہے کہہ ڈالتے ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے دعوت حق کو ماننے سے انکار کیا ہے ان کے لیے اُن کی مکاریاں خوشنما بنا دی گئی ہیں اور وہ راہ راست سے روک دیے گئے ہیں، پھر جس کو اللہ گمراہی میں پھینک دے اُسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں ہے

[اَفَمَنْ هُوَ : تو کیا وہ جو ] [ قَاۗىِٕمٌ: نگرانی کرنے والا ہے ] [عَلٰي كُلِ نَفْسٍۢ: ہر ایک جان کی ] [ بِمَا : اس کے ساتھ جو ] [ كَسَبَتْ : اس نے کمایا (کسی کے مانند ہوسکتا ہے)] [ وَجَعَلُوْا : اور (پھر بھی) انھوں نے بنائے ] [للّٰهِ : اللہ کے لئے ] [شُرَكَاۗءَ : کچھ شریک ] [ قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [سَمُّوْهُمْ : تم لوگ نام (یعنی صفات) بتائوان کی ] [اَمْ : یا ] [ تُنَبِــــــُٔـوْنَهٗ : تم لوگ خبر دیتے ہو اس کو ] [ بِمَا : اس کی جو ] [ لَا يَعْلَمُ : وہ نہیں جانتا (یعنی جس کا وجود نہیں ہے)] [فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [ اَمْ : یا ] [ بِظَاهِرٍ : (فریفتہ ہو) ظاہری پر ] [مِّنَ الْقَوْلِ : بات سے ] [ بَلْ : بلکہ ] [ زُيِّنَ : سجایا گیا ] [ لِلَّذِيْنَ : ان کے لئے جنھوں نے ] [كَفَرُوْا : کفر کیا ] [مَكْرُهُمْ : ان کی پالبازی کو ] [ وَصُدُّوْا : اور وہ لوگ روک دئے گئے ] [ عَنِ السَّبِيْل : اس راستے سے ] [وَمَنْ : اور جس کو ] [ يُّضْلِلِ : گمراہ کرتا ہے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ فَمَا : تو نہیں ہے ] [لَهٗ : اس کے لئے ] [ مِنْ هَادٍ : کوئی بھی ہدایت دینے والا ] نوٹ۔ 1: آیت۔ 33 کے ترجمہ میں ہم نے نام کے ساتھ صفات کا اضافہ کیا ہے۔ اس کو سمجھنے کے لئے آیت۔ 2:21 کا نوٹ۔ 1، دوبارہ دیکھ لیں۔ نوٹ۔ 2: آیت۔ 33 میں شرک کو مکاری یعنی چالبازی اس لئے کہا گیا ہے کہ جن اجرام فلکی یا فرشتوں یا ارواح یا بزرگ انسانوں کو خدائی اختیارات میں شریک قرار دیا گیا ہے ان میں سے کسی نے بھی کبھی ان اختیارات وصفات کا دعوٰی نہیں کیا۔ یہ تو چالاک انسانوں کا کام ہے کہ انھوں نے عوام پر اپنی خدائی کا سکّہ جمانے کے لئے اور ان کی کمائی میں حصّہ بٹانے کے لئے کچھ بناوٹی خدا تصنیف کئے، لوگوں کو ان کا معتقد بنایا اور اپنے آپ کو ان کا نمائندہ ٹھہرا کر اپنا اُلّو سیدھا کرنا شروع کردیا۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 13:34

لَهُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَقُّ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 13:34 in the Quran reader

ایسے لوگوں کے لیے دنیا کی زندگی ہی میں عذاب ہے، اور آخرت کا عذاب اُس سے بھی زیادہ سخت ہے کوئی ایسا نہیں جو اُنہیں خدا سے بچانے والا ہو

[لَهُمْ : ان کے لئے ] [ عَذَابٌ: ایک عذاب ہے ] [ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا : دنیوی زندگی میں ] [ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ : اور یقینا آخرت کا عذاب [ اَشَقُّ : سب سے زیادہ دشوار ہے ] [وَمَا : اور نہیں ہے ] [ لَهُمْ : ان کے لئے ] [ مِّنَ اللّٰهِ : اللہ سے ] [مِنْ وَّاقٍ : کوئی بھی بچانے والا ]
Ayah 13:35

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اُكُلُهَا دَآئِمٌ وَّ ظِلُّهَا١ؕ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ۖۗ وَّ عُقْبَى الْكٰفِرِیْنَ النَّارُ Open ayah 13:35 in the Quran reader

خدا ترس انسانوں کے لیے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، اس کے پھل دائمی ہیں اور اس کا سایہ لازوال یہ انجام ہے متقی لوگوں کا اور منکرین حق کا انجام یہ ہے کہ ان کے لیے دوزخ کی آگ ہے

[مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِيْ : اس جنت کی مثال جس کا ] [ وُعِدَ : وعدہ کیا گیا ] [الْمُتَّقُوْنَ : متقی لوگوں سے (یہ ہے کہ)] [ تَجْرِيْ : بہتی ہیں ] [ مِنْ تَحْتِهَا : اس کے نیچے سے ] [ الْانهٰرُ : نہریں ] [ اُكُلُهَا : اس کا پھل ] [ دَاۗىِٕمٌ: ہمیشہ رہنے والا ہے ] [ وَّظِلُّهَا : اور اس کا سایہ (بھی)] [ تِلْكَ : یہ ] [ عُقْبَى الَّذِينَ : ان کا انجام ہے جنھوں نے ] [ اتَّقَوْا : تقوٰی کیا ] [وَّعُقْبَى الْكٰفِرِيْنَ : اور کافروں کا انجام ] [ النَارُ : آگ ہے ] دوم [دَوَامًا : (ن) ساکن رہنا۔ ہمیشہ رہنا ] [مَادَامَ : افعال ناقصہ میں سے ہے۔ دیکھیں آیت۔ 2:57، نوٹ۔ 1 ۔] [دَائمٌ: ساکن رہنے والا۔ ہمیشہ رہنے والا۔ زیرِ مطالعہ آیت 35 ۔]
Ayah 13:36

وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ یُّنْكِرُ بَعْضَهٗ١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَ لَاۤ اُشْرِكَ بِهٖ١ؕ اِلَیْهِ اَدْعُوْا وَ اِلَیْهِ مَاٰبِ Open ayah 13:36 in the Quran reader

اے نبیؐ، جن لوگوں کو ہم نے پہلے کتاب دی تھی وہ اِس کتاب سے جو ہم نے تم پر نازل کی ہے، خوش ہیں اور مختلف گروہوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کی بعض باتوں کو نہیں مانتے تم صاف کہہ دو کہ "مجھے تو صرف اللہ کی بندگی کا حکم دیا گیا ہے اور اس سے منع کیا گیا ہے کہ کسی کو اس کے ساتھ شریک ٹھیراؤں لہٰذا میں اسی کی طرف دعوت دیتا ہوں اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے"

[وَالَّذِينَ : اور وہ لوگ ] [ اٰتَيْنٰهُمُ : ہم نے دی جن کو ] [ الْكِتٰبَ : کتاب ] [ يَفْرَحُوْنَ : خوش ہوتے ہیں ] [ بِمَآ : اس سے جو ] [انزِلَ : اتارا گیا ] [ اِلَيْكَ : آپ ﷺ کی طرف ] [ وَمِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ : اور گروہوں میں سے وہ بھی ہیں جو ] [ يُّنْكِرُ : انکار کرتے ہیں ] [ بَعْضَهٗ : اس کے بعض کا ] [ قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [انمَآ : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [اُمِرْتُ : مجھے حکم دیا گیا ] [ ان : کہ ] [ اَعْبُدَ : میں بندگی کروں ] [ اللّٰهَ : اللہ کی ] [ وَلَآ اُشْرِكَ : اور میں شریک نہ کروں (کسی کو)] [ بِهٖ : اس کے ساتھ ] [ اِلَيْهِ : اس کی طرف ہی [ اَدْعُوْا : میں بلاتا ہوں ] [وَاِلَيْهِ : اور اس کی طرف ہی ] [ مَاٰبِ : میری لوٹنے کی جگہ ہے ]
Ayah 13:37

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِیًّا١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا وَاقٍ۠ Open ayah 13:37 in the Quran reader

اِسی ہدایت کے ساتھ ہم نے یہ فرمان عربی تم پر نازل کیا ہے اب اگر تم نے اِس علم کے باوجود جو تمہارے پاس آ چکا ہے لوگوں کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ کے مقابلے میں نہ کوئی تمہارا حامی و مددگار ہے اور نہ کوئی اس کی پکڑسے تم کو بچا سکتا ہے

[وَكَذٰلِكَ : اور اس طرح ] [ انزَلْنٰهُ : ہم نے اتارا اس کو ] [ حُكْمًا : حکم ہوتے ہوئے [عَرَبِيًّا : عربی زبان میں ] [ وَلَىِٕنِ : اور یقینا اگر ] [ اتَّبَعْتَ : آپ ﷺ نے پیروی کی [اَهْوَاۗءَهُمْ : ان کی خواہشات کی ] [ بَعْدَمَا : اس کے بعد کہ جو ] [ جَاۗءَكَ : آیا آپ ﷺ کے پاس ] [ مِنَ الْعِلْمِ : علم میں سے ] [ مَا : تو نہیں ہوگا ] [ لَكَ : آپ ﷺ کے لئے ] [مِنَ اللّٰهِ : اللہ سے ] [مِنْ وَّلِيٍّ : کوئی بھی حمایت کرنے والا ] [ وَّلَا وَاقٍ : اور نہ کوئی بھی بچانے والا ]
Ayah 13:38

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّ ذُرِّیَّةً١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ Open ayah 13:38 in the Quran reader

تم سے پہلے بھی ہم بہت سے رسول بھیج چکے ہیں اور اُن کو ہم نے بیوی بچوں والا ہی بنایا تھا اور کسی رسول کی بھی یہ طاقت نہ تھی کہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی نشانی خود لا دکھاتا ہر دور کے لیے ایک کتاب ہے

[وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا : اور ہم بھیج چکے ہیں ] [ رُسُلًا : کچھ رسولوں کو ] [ مِّنْ قَبْلِكَ : آپ ﷺ سے پہلے ] [ وَجَعَلْنَا : اور ہم نے بنائیں ] [ لَهُمْ : ان کے لئے ] [ اَزْوَاجًا : بیویاں ] [ وَّذُرِّيَّةً : اور اولاد ] [ وَمَا كَان : اور (ممکن) نہیں تھا ] [لِرَسُوْلٍ : کسی رسول کے لئے ] [ ان : کہ ] [ يَاْتِيَ : وہ لائے ] [ بِاٰيَةٍ : کوئی نشانی ] [ اِلَّا : مگر ] [ بِاِذْنِ اللّٰهِ : اللہ کی اجازت سے ] [ لِكُلِ اَجَلٍ : ہر ایک کا وقت (خاتمہ کا)] [ كِتَابٌ: لکھا ہوا ہے ]
Ayah 13:39

یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ١ۖۚ وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ Open ayah 13:39 in the Quran reader

اللہ جو کچھ چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جس چیز کو چاہتا ہے قائم رکھتا ہے، ام الکتاب اُسی کے پاس ہے

[يَمْحُوا : مٹاتا ہے ] [اللّٰهُ : اللہ ] [ مَا : اسے جو ] [ يَشَاۗءُ : وہ چاہتا ہے ] [ وَيُثْبِتُ : اور باقی رہنے دیتا ہے (جو وہ چاہتا ہے)] [وَعِنْدَهٗٓ: اور اس کے پاس ہی ] [ اُمُّ الْكِتٰبِ : اہل کتاب ہے ] م ح و [مَحْوًا : (ن) کسی چیز اور نشان کو مٹا دینا۔ زیرِ مطالعہ آیت 39 ۔] نوٹ۔ 1: آیت۔ 39 کی تشریح یہ ہے کہ بہت سی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اعمال سے انسان کی عمر اور رزق میں کمی بیشی ہوئی ہے۔ بخاری میں ہے کہ صلہ رحمی عمر میں زیادتی کا سبب بنتی ہے۔ مسند احمد کی روایات میں ہے کہ بعض اوقات آدمی کوئی ایسا گناہ کرتا ہے کہ اس کے سبب سے رزق سے محروم کردیا جاتا ہے اور ماں باپ کی خدمت وا طاعت سے عمر بڑھ جاتی ہے اور تقدیر الٰہی کو کوئی چیز بجز دعا کے ٹال نہیں سکتی۔ ان تمام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو عمر یا رزق وغیرہ کسی کی تقدیر میں لکھ دیا ہے وہ بعض اعمال کی وجہ سے کم یا زیادہ ہوسکتے ہیں اور دعا کی وجہ سے تقدیر بدلی جاسکتی ہے (معارف القرآن)
Ayah 13:40

وَ اِنْ مَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ وَ عَلَیْنَا الْحِسَابُ Open ayah 13:40 in the Quran reader

اور اے نبیؐ، جس برے انجام کی دھمکی ہم اِن لوگوں کو دے رہے ہیں اُس کوئی حصہ خواہ ہم تمہارے جیتے جی دکھا دیں یا اس کے ظہور میں آنے سے پہلے ہم تمہیں اٹھا لیں، بہر حال تمہارا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے

[وَان مَا : اور اگر ] [ نُرِيَنَّكَ : ہم دکھا دیں آپ کو ] [ بَعْضَ الَّذِي : اس کے بعض کو جو ] [نَعِدُهُمْ : ہم وعدہ کرتے ہیں ان سے ] [ اَوْ : یا ] [نَتَوَفَّيَنَّكَ : ہم اٹھا لیں آپ ﷺ کو ] [فَانمَا : پس کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [عَلَيْكَ : آپ ﷺ پر ہے ] [ الْبَلٰغُ : پہنچانا ] [ وَعَلَيْنَا : اور ہم پر ہے ] [ الْحِسَابُ : حساب لینا ]