Ayah 12:1[الۗر :…] [ تِلْكَ : یہ ] [اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ : واضح کتاب کی آیتیں ہیں ]
Ayah 12:2[انآ : بیشک ہم نے ] [ انزَلْنٰهُ : اتارا اس کو ] [ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا : عربی قرآن ہوتے ہوئے ] [ لَعَلَّكُمْ : شائد تم لوگ ] [ تَعقلوْنَ : عقل سے کام لو ]
Ayah 12:3[نَحْنُ : ہم ] [ نَقُصُّ : بیان کرتے ہیں ] [ عَلَيْكَ : آپ ﷺ پر ] [اَحْسَنَ الْقَصَصِ : بہترین بیان کرنا ] [بِمَآ : اس کے ساتھ جو ] [اَوْحَيْنَآ : ہم نے وحی کیا ] [ اِلَيْكَ : آپ ﷺ کی طرف ] [ھٰذَا الْقُرْاٰنَ : اس قرآن کو ] [وَان : اور بیشک ] [ كُنْتَ : آپ ﷺ تھے ] [ مِنْ قَبْلِهٖ : اس سے پہلے ] [ لَمِنَ الْغٰفِلِيْنَ : یقینا بیخبر رہنے والوں میں سے ]
ترکیب : (آیت۔ 3) قَصَصٌ مصدر ہے اس لئے اَحْسَنَ الْقَصَصِ کو نَقُصُّ کا مفعول مطلق مانا جائے گا۔ اگر اَحْسَنَ الْقِصَصِ (قِصَّۃٌ کی جمع) ہوتا تو پھر اس کو مفعول بہ مانا جاسکتا تھا۔ اِنْ کُنْتَ کا اِنْ مخففہ ہے۔ (آیت۔ 4) یٰاَبَتِ دراصل یٰاَبِیْ کا خاص استعمال ہے۔ عرب لوگ زیادہ تر یٰاَبِیْ کی جگہ یٰاَبَتِ بولتے ہیں۔ اس میں تا زائدہ ہے اور مفہوم میں پیارے یا محترم کا اضافہ ہوتا ہے یعنی ” اے میرے محترم باپ “۔ رَاَیْتُھُمْ میں رَاَیْتُ کا مفعول ھُم ہے جبکہ سٰجِدِیْنَ حال ہونے کی وجہ سے نصب میں آیا ہے۔ (آیت۔ 6) اَبَوَانِ ۔ اَبَوَیْنِ یعنی دو باپ زیادہ تر ماں باپ کے لئے آتا ہے لیکن یہاں اس کا بدل اِبْرٰھِیْمَ وَ اِسْحٰقَ آیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ یہاں اَبْوَیْنِ سے مراد باپ دادا ہیں۔
Ayah 12:4[اِذْ : جب ] [ قَالَ : کہا ] [يُوْسُفُ : یوسف (علیہ السلام) نے ] [ لِاَبِيْهِ : اپنے والد سے ] [ يٰٓاَبَتِ : اے میرے محترم باپ ] [انى : بیشک میں نے ] [رَاَيْتُ : دیکھا ] [ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا : گیارہ ستاروں کو ] [ وَّالشَّمْسَ : اور سورج کو ] [ وَالْقَمَرَ : اور چاند کو ] [ رَاَيْتُهُمْ : میں نے دیکھا ان کو ] [ لِيْ : اپنے لئے ] [سٰجِدِيْنَ : سجدہ کرنے والے ہوتے ہوئے ]
Ayah 12:5[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [يٰبُنَيَّ : اے میرے چھوٹے سے بیٹے ] [لَا تَقْصُصْ : تم بیان مت کرنا ] [ رُءْيَاكَ : اپنی خواب کو ] [ عَلٰٓي اِخْوَتِكَ : اپنے بھائیوں پر ] [ فَيَكِيْدُوْا : ورنہ وہ خفیہ تدبیر کریں گے ] [ لَكَ : تیرے لئے ] [ كَيْدًا : جیسے خفیہ تدبیر کرتے ہیں ] [ ان : یقینا ] [الشَّيْطٰنَ : شیطان ] [لِلْانسَان : انسان کے لئے ] [عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ: ایک کھلا دشمن ہے ]
Ayah 12:6[وَكَذٰلِكَ : اور اس طرح ] [ يَجْتَبِيْكَ : چن لے گا تم کو ] [ رَبُّكَ : تمہارا رب ] [ وَيُعَلِمُكَ : اور وہ سکھائے گا تم کو ] [ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ : باتوں کا انجام نکالنا (یعنی خوابوں کی تعبیر بتانا)] [وَيُـــتم : اور وہ تمام کرے گا ] [ نِعْمَتَهٗ : اپنی نعمت کو ] [ عَلَيْكَ : تم پر ] [وَعَلٰٓي اٰلِ يَعْقُوْبَ : اور یعقوب (علیہ السلام) کے پیروکاروں پر ] [ كَمَآ : جیسے کہ ] [ اَتمــهَا : اس نے تمام کیا اس کو ] [عَلٰٓي اَبَوَيْكَ : تمہارے دونوں باپوں (یعنی باپ دادا) پر ] [ مِنْ قَبْلُ : پہلے سے ] [ اِبْرٰهِيْمَ : ابراہیم (علیہ السلام) پر ] [ وَاِسْحٰقَ : اور اسحاق (علیہ السلام) پر ] [ ان : بیشک ] [ رَبَّكَ : آپ ﷺ کا رب ] [ عَلِيْمٌ: جاننے والا ہے ] [ حَكِيْمٌ: حکمت والا ہے ]
Ayah 12:7[لَقَدْ كَان : بیشک (موجود) رہی ہیں ] [ فِيْ يُوْسُفَ : یوسف (علیہ السلام) (کے قصّے) میں ] [وَاِخْوَتِهٖٓ : اور ان (علیہ السلام) کے بھائیوں (کے قصّے) میں ] [اٰيٰتٌ: کچھ نشانیاں ] [ لِلسَّاۗىِٕلِيْنَ : پوچھنے والوں کے لئے ]
ترکیب : (آیت۔ 7) کان کی خبر مَوْجُوْدًا محزوف ہے اور اٰیٰتٌ اس کا اسم ہے۔ اس میں آفاقی صداقت کا بیان ہے کیونکہ جب یہ واقعہ ہوا تھا اس وقت بھی اس میں نشانیاں تھیں، نزول قرآن کے وقت بھی تھیں، آج بھی ہیں اور ہمیشہ رہیں گی۔ اس لئے کَانَ کا ترجمہ حال میں بھوکا۔ (آیت۔ 9) طَرَحَ کا ایک مفعول آتا ہے۔ اِطْرَحُوْا کا مفعول ہ کی ضمیر ہے جبکہ اَرْظًا ظرف ہونے کی وجہ سے یَخْلُ محزوم ہوا ہے اس لئے یَخْلُوْ کی واو گری ہوئی ہے۔ اسی طرح تَکُوْنُوْا بھی جو اب امر ہونے کی وجہ سے محزوم ہے اور تَکُوْنُوْنَ کا نون اعرابی گرا ہوا ہے۔ ان دونوں کا ترجمہ جواب امر کے لحاظ سے ہوگا۔
Ayah 12:8[اِذْ : جب ] [ قَالُوْا : انھوں نے کہا ] [ لَيُوْسُفُ : بیشک یوسف (علیہ السلام) ] [ وَاَخُوْهُ : اور ان کا بھائی ] [اَحَبُّ : زیادہ محبوب ہیں ] [ اِلٰٓي اَبِيْنَا : ہمارے والد کو ] [مِنَا : ہم سے ] [ وَ : حالانکہ ] [ نَحْنُ : ہم ] [عُصْبَةٌ: ایک مضبوط گروہ ہیں ] [ ان : بیشک ] [اَبَانا : ہمارے والد ] [ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنِۨ: یقینا ایک واضح بھول میں ہیں ]
Ayah 12:9[اقْــتُلُوْا : تم لوگ قتل کرو ] [ يُوْسُفَ : یوسف (علیہ السلام) کو ] [ اَوِ : یا ] [اطْرَحُوْهُ : پھینک دو ان (علیہ السلام) کو ] [اَرْضًا : کسی زمین میں ] [ يَّخْلُ : تو خالی ہوجائے گا ] [لَكُمْ : (صرف) تمہارے لئے ] [وَجْهُ اَبِيْكُمْ : تمہارے والد کا چہرہ (یعنی توجہ)] [وَتَكُوْنُوْا : اور تم لوگ ہوجانا ] [ مِنْۢ بَعْدِهٖ : اس کے بعد سے ] [ قَوْمًا صٰلِحِيْنَ : ایک نیک قوم ]
ط ر ح
[طَرْحًا : (ف) پھینکنا۔ دور کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 9] [
Ayah 12:10[قَالَ : کہا ] [ قَاۗىِٕلٌ: ایک کہنے والے نے ] [ مِّنْهُمْ : ان میں سے ] [لَا تَـقْتُلُوْا : تم لوگ قتل مت کرو ] [يُوْسُفَ : یوسف (علیہ السلام) کو ] [وَاَلْقُوْهُ : اور ڈال دو ان (علیہ السلام) کو ] [ فِيْ غَيٰبَتِ الْجب : کنویں کی گہرائی میں ] [يَلْتَقِطْهُ : تو اٹھا لے گا ان (علیہ السلام) کو ] [ بَعْضُ السَّـيَّارَةِ : قافلہ والوں کا کوئی (شخص)] [ ان : اگر ] [ كُنْتم : تم لوگ ] [ فٰعِلِيْنَ : کچھ کرنے والے ہو ]
ج ب ب
[جَبًّا : (ن) کسی چیز کو اس کے اصل سے کاٹ دینا۔] [جُبٌّ: کنواں۔ گہرا گڑھا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 10]
ل ق ط
[لَقْطًا : (ن) زمین سے کسی چیز کو اٹھانا۔] [ اِلْتِقَاطًا : (افعال) گری پڑی چیز کو اٹھانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 10]
(آیت۔ 10) غَیٰبَتٌ عربی میں گول تا ہے غَیٰبَۃٌ لکھتے ہیں۔ اس کو لمبی تا سے لکھنا قرآن مجید کا مخصوص املا ہے۔ یَلْتَقِطْ جواب امر ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے۔
Ayah 12:11[قَالُوْا : انھوں نے کہا ] [يٰٓاَبَانا : اے ہمارے والد ] [مَالَكَ : آپ کو کیا ہے ] [لَا تَاْمَنَا : (کہ) آپ اعتبار نہیں کرتے ہم پر ] [ عَلٰي يُوْسُفَ : یوسف (علیہ السلام) پر (یعنی ان کے بارے میں)] [ وَ : حالانکہ ] [ انا : بیشک ہم ] [لَهٗ : ان (علیہ السلام) کے لئے ] [ لَنٰصِحُوْنَ : یقینا خیر خواہی کرنے والے ہیں ]
Ayah 12:12[اَرْسِلْهُ : آپ بھیجیں ان کو ] [مَعَنَا : ہمارے ساتھ ] [غَدًا : کل ] [يَّرْتَعْ : تو وہ کھائیں پئیں گے ] [ وَيَلْعَبْ : اور کھیلیں گے ] [وَانا : اور بیشک ہم ] [ لَهٗ : ان کے لئے ] [ لَحٰفِظُوْنَ : یقینا حفاظت کرنے والے ہیں ]
ر ت ع
[رَتْعًا : (ف) (1) جانوروں کا چرنا (2) انسانوں کا جی بھر کے کھانا پینا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 12]
Ayah 12:13[قَالَ : کہا (یعقوب (علیہ السلام) نے)] [ انى: بیشک ] [ لَيَحْزُنُنِيْٓ : مجھ کو یقینا غمگین کرتی ہے ] [ان : (یہ بات) کہ ] [ تَذْهَبُوْا بِهٖ : تم لے جائو ان کو ] [وَاَخَافُ : اور میں درتا ہوں ] [ ان : کہ ] [ يَّاْكُلَهُ : کھالے ان کو ] [الذِّئْبُ : بھیڑیا ] [وَ : اس حال میں کہ ] [انتم : تم لوگ ] [ عَنْهُ : ان سے ] [ غٰفِلُوْنَ : غافل ہو ]
Ayah 12:14[قَالُوْا : انھوں نے کہا ] [ لَىِٕنْ : یقینا اگر ] [اَكَلَهُ : کھالے گا ان کو ] [الذِّئْبُ : بھیڑیا ] [وَ : حالانکہ ] [ نَحْنُ : ہم ] [عُصْبَةٌ : ایک مضبوط گروہ ہیں ] [انآ : تو بیشک ہم ] [ اِذًا : پھر تو ] [ لَّخٰسِرُوْنَ : یقینا خسارہ پانے والے ہیں ]
Ayah 12:15[فَلَمَا : پھر جب ] [ذَهَبُوْا بِهٖ : وہ لوگ لے گئے ان (علیہ السلام) کو ] [وَاَجْمَعُوْٓا : اور انھوں نے اتفاق کیا ] [ ان : کہ ] [ يَّجْعَلُوْهُ : وہ ڈالیں ان (علیہ السلام) کو ] [ فِيْ غَيٰبَتِ الْجب : کنویں کی گہرائی میں ] [وَاَوْحَيْنَآ : اور ہم نے وحی کی ] [اِلَيْهِ : ان (علیہ السلام) کی طرف (کہ)] [ لَتُنَبِئَنَّهُمْ : آپ (علیہ السلام) لازماً آگاہ کریں گے ان کو ] [ بِاَمْرِهِمْ ھٰذَا : ان کے اس کام پر ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [هُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ : وہ شعور نہ رکھتے ہوں گے ]
نوٹ۔ 1: آیت 15 میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف وحی کی۔ یہاں وحی سے مراد اصطلاحی وحی نہیں ہے بلکہ اس سے مراد دل میں بات ڈال دینا ہے۔ صالحین کو ظالموں اور شریروں کے ہاتھوں جب بھی کوئی آزمائش پیش آتی ہے تو اللہ تعالیٰ جہاں ظالموں کو ڈھیل دیتا ہے، وہیں مظلوم کے دل پر بھی غیب سے سکنیت اور طمانیت نازل فرماتا ہے۔ اسکا تجربہ کم و بیش ہر اس شخص کو ہوتا ہے جس کو اللہ کی راہ میں کوئی تکلیف اٹھانے کی سعادت حاصل ہوئی ہو۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دل میں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بات ڈال دی گئی کہ یہ آزمائش وقتی اور عارضی ہے۔ وہ وقت آئے گا کہ تم ان لوگوں کو ان کی کارستانی سے آگاہ کرو گے اور تم اس وقت ایسے منصب پر ہو گے کہ یہ گمان بھی نہ کرسکیں گے کہ یہ ان کا وہی بھائی ہے جس کو انھوں نے کنویں میں پھینکا تھا۔ (تدبر قرآن)
بائبل اور تلمود اس ذکر سے خالی ہیں کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یوسف (علیہ السلام) کو کوئی تسلی بھی دی گئی تھی۔ اس کے بجائے تلمود میں جو روایت بیان ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ جب حضرت یوسف کنویں میں ڈالے گئے تو وہ بہت بلبلائے اور چیخ چیخ کر بھائیوں سے فریاد کی۔ قرآن کا بیان پڑھئے تو محسوس ہوگا کہ ایسے نوجوان کا بیان ہو رہا ہے جو آگے چل کر تاریخ کی عظیم ترین سخصیتوں میں شمار ہونے والا ہے (تفہیم القرآن)
نوٹ۔ 2: حضرت یوسف (علیہ السلام) کے متعلق خبر سن کر حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے جس تاثر کا اظہار کیا اس کا ذکر آیت۔ 18 میں ہے۔ اسکا بھی بائبل اور تلمود سے موازنہ بہت سبق آموز ہے۔
بائبل کا بیان ہے کہ ” تب یعقوب (علیہ السلام) نے اپنا پیراہن چاک کیا اور ٹاٹ اپنی کمر سے لپیٹا اور بہت دنوں تک اپنے بیٹے کے لئے ماتم کرتا رہا۔ “ اور تلمود کا بیان ہے کہ ” یعقوب (علیہ السلام) بیٹے کا قمیص پہچانتے ہی اوندھے منھ زمین پر گرپڑا اور دیر تک بےحس و حرکت پڑا رہا پھر اٹھ کر زور سے چیخا کہ ہاں یہ میرے بیٹے ہی کا قمیص ہے… اور وہ سالہا سال تک یوسف (علیہ السلام) کا ماتم کرتا رہا۔ “ اس نقشے میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) وہی کچھ کرتے نظر آتے ہیں جو ایک ام انسان بحیثیت باپ کے ایسے موقع پر کرے گا۔ لیکن قرآن جو نقشہ پیش کر رہا ہے اس سے ہمارے سامنے ایک ایسے غیر معمولی انسان کی تصویر آتی ہے جو کمال درجہ کا بردبار اور باوقار ہے۔ وہ اتنی بڑی غم انگیز خبر سن کر بھی اپنے دماغ کا توازن نہیں کھوتا۔ وہ اپنی فراست سے معاملہ کی ٹھیک ٹھیک نوعیت کو بھانپ جاتا ہے کہ یہ ایک بناوٹی بات ہے جو ان حاسد بیٹوں نے بنا کر پیش کی ہے۔ اور پھر ایک عالی ظرف انسان کی طرح صبر جمیل کرتا ہے اور اللہ پر بھروسہ کرتا ہے۔ صبر جمیل سے مراد ایسا صبر ہے جس میں شکایت نہ ہو، فریاد نہ ہو اور جزع فزع نہ ہو۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 12:16[وَجَاۗءُوْٓا : اور وہ آئے ] [ اَبَاهُمْ : اپنے والد کے پاس ] [عِشَاۗءً : عشا کے وقت ] [ يَّبْكُوْنَ : روتے ہوئے ]
ترکیب : (آیت ۔ 16) جَائُ وْ کا مفعول اَبَاھُمْ ہے جبکہ عِشَائً ظرف زمان ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہیں۔
Ayah 12:17[قَالُوْا : انھوں نے کہا ] [ يٰٓاَبَانآ : اے ہمارے والد ] [ انا : بیشک ] [ذَهَبْنَا : ہم گئے (کہ)] [ نَسْتَبِقُ : ہم دوڑ لگاتے ہیں ] [ وَتَرَكْنَا : اور ہم نے چھوڑا ] [يُوْسُفَ : یوسف (علیہ السلام) کو ] [ عِنْدَ مَتَاعِنَا : اپنے سامان کے پاس ] [ فَاَكَلَهُ : تو کھالیا اس کو ] [الذِّئْبُ : بھیڑیئے نے ] [ وَمَآ انتَ : اور آپ نہیں ہیں ] [بِمُؤْمِنٍ لَّنَا : ہماری بات ماننے والے ] [ وَلَوْ : اور اگرچہ ] [ كُنَا : ہم ہوں ] [ صٰدِقِيْنَ : سچ کہنے والے ]
Ayah 12:18[وَجَاۗءُوْ : اور وہ آئے ] [ عَلٰي قَمِيْصِهٖ : ان (علیہ السلام) کی قمیص پر ] بِدَمٍ كَذِبٍ : کچھ جھوٹے خون کے ساتھ ] [ قَالَ : کہا (یعقوب (علیہ السلام) نے)] [بَلْ : بلکہ ] [ سَوَّلَتْ : خوشنما بنا کر پیش کیا ] [لَكُمْ : تمہارے لئے ] [انفُسُكُمْ : تمہارے نفسوں نے ] [ اَمْرًا : ایک کام کو ] [ فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ: تو (اب) خوبصورت صبر کرنا ہے ] [وَاللّٰهُ : اور اللہ ] [ الْمُسْتَعَان : ہی مدد چاہے جانے والا ہے ] [ عَلٰي مَا : اس پر جو ] [ تَصِفُوْنَ : تم لوگ بتاتے ہو ]
س و ل
[سَوَالًا : (ف) پوچھنا۔ سوال کرنا ] [تَوِیْلًا : (تفعیل) کسی قبیح چیز کو خوشنما بنا کر پیش کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 18 ۔]
(آیت۔ 18) فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ کسی مبرا محذوف کی خبر ہے۔ وَاللّٰہُ مبتدا ہے اور اَلْمُسْتَعَانُ اس کی خبر معرفہ تاکید کے لئے آئی ہے۔
Ayah 12:19[وَجَاۗءَتْ : اور آیا ] [ سَيَّارَةٌ: ایک قافلہ ] [فَاَرْسَلُوْا : پھر انھوں نے بھیجا ] [ وَارِدَهُمْ : اپنے بہشتی کو ] [فَاَدْلٰى: تو اس نے کنویں میں لٹکایا ] [ دَلْوَهٗ : اپنا ڈول ] [قَالَ : اس نے کہا ] [ يٰبُشْرٰي : ارے ! خوشخبری ] [ھٰذَا : یہ ] [ غُلٰمٌ: ایک لڑکا ہے ] [ وَاَسَرُّوْهُ : اور انھوں نے چھپایا ان (علیہ السلام) کو ] [ بِضَاعَةً : بطور تجارت کے سامان کے ] [ وَاللّٰهُ : اور اللہ ] [عَلِيْمٌۢ: جاننے والا ہے ] [ بِمَا : اس کو جو ] [ يَعْمَلُوْنَ : یہ لوگ کرتے ہیں ]
ب ض ع
[بَضْعًا : (ف) کسی چیز کا کچھ حصہ کاٹ کر الگ کرنا۔] [بِضَاعَۃً : مال کا وہ حصہ جو تجارت کے لئے الگ کرلیا گیا ہو۔ سرمایہ۔ پونجی۔ تجارت کا سامان۔ زیر مطالعہ آیت۔ 19] [بِضْعٌ: کسی چیز کے چند حصّے۔ یہ تین سے نو تک کی تعداد کے لئے بولا جاتا ہے۔ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَ (تو وہ رہے جیل میں چند سال) 12:42]
Ayah 12:20[وَشَرَوْهُ : اور انھوں نے سودا کیا ان (علیہ السلام) کا ] [ بِثَمَنٍۢ بَخْسٍ : کم قیمت پر ] [ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ : جو کچھ گنتی کے درہم تھے ] [ وَكَانوْا : اور وہ تھے ] [ فِيْهِ : ان (علیہ السلام) میں ] [مِنَ الزَّاهِدِيْنَ : رغبت نہ رکھنے والوں میں سے ]
ز ھـ د
[زُھْدًا : (ف۔ س) کسی چیز میں رغبت نہ رکھنا۔] [زَاھِدٌ: اسم الفاعل ہے۔ رغبت نہ رکھنے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 20] [
(آیت۔ 20) دَرَاھِمُ غیر منصرف ہے یہاں بِنَّمَنٍ بِخْسٍ کا بدل ہونے کی وجہ سے دَرَاھِمَ حالت جر میں ہے۔ مَعْدُوْدَۃٍ اس کی صفت ہے۔
Ayah 12:21[وَقَالَ : اور کہا ] [ الَّذِي : اس نے جس نے ] [ اشْتَرٰىهُ : خریدا ان (علیہ السلام) کو ] [مِنْ مِّصْرَ : مصر سے ] [لِامْرَاَتِهٖٓ: اپنی عورت سے ] [ اَكْرِمِيْ : تو عزت دے ] [ مَثْوٰىهُ : اس (علیہ السلام) کے ٹھکانہ کو ] [ عَسٰٓى: ہوسکتا ہے ] [ ان : کہ ] [ يَّنْفَعَنَآ : وہ نفع دے ہم کو ] [ اَوْ : یا ] [ نَتَّخِذَهٗ : ہم بنالیں اس (علیہ السلام) کو ] [ وَلَدًا : بیٹا ] [وَكَذٰلِكَ : اور اس طرح ] [ مَكَّنَا : ہم نے جما دیا ] [ لِيُوْسُفَ : یوسف (علیہ السلام) کو ] [فِي الْاَرْضِ : اس سرزمین میں ] [وَلِنُعَلِمَهٗ : اور تاکہ ہم تعلیم دیں ان (علیہ السلام) کو ] [مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ : خوابوں کی تعبیر میں سے ] [ وَاللّٰهُ : اور اللہ ] [غالب : غالب ہے ] [عَلٰٓي اَمْرِهٖ : اپنے کام پر ] [ وَلٰكِنَّ : اور لیکن ] [اَكْثَرَ النَاسِ : لوگوں کی اکثریت ] [لَا يَعْلَمُوْنَ : جانتی نہیں ہے ]
ک رم
[کَرَامَۃً : (ک) (1) بزرگ ہونا۔ معزز ہونا۔ (2) مہربانی سے فائدہ دینا۔ بخش کرنا۔ فیاض ہونا۔] [کَرِیْمٌ: ج کَرِامٌ۔ فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت ہے۔ (1) بزرگ۔ معزز۔ مہربان (2) باعزت۔ (3) مفید۔ نفیس و پاکیزہ۔ (1) فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ کَرِیْمٌ (تو بیشک میرا رب غنی ہے، بزرگ و برر ہے) 27:40 ۔ وَجَائَ ھُمْ رَسُوْلٌ کَرِیْمٌ (اور آیا ان کے پاس ایک معزز و مہربان رسول) 44:17 ۔ (2) لَھُمْ مَّعْفِرَۃٌ وَ رِزْقٌ کَرِیْمٌ (ان کے لئے مغفرت اور باعزت رزق ہے) 8:74 ۔ (3) فَاَنْبَتْنَا فِیْھَا مِنْ کُلِّ زَوْجٍ کَرِیْمٍ (پھر ہم اگایا اس میں ہر ایک نفیس و پاکیزہ جوڑے میں سے) 31:10 ۔ وَ ظِلٍّ مِّنْ یَّحْمُوْمٍ لَا بَارِدٍ وَّ لَا کَرِیْمٌ (اور کچھ چھائوں میں، دھویں میں سے جو نہ ٹھنڈا کرے اور نہ مہربان ہو) 56:43 ۔ 44 ۔ وَاِنَّ عَلَیْکُمْ لَحٰفِظِیْنَ کِرَامًا کَاتِبِیْنَ (اور بیشک تم لوگوں پر یقینا کچھ نگہبان ہیں جو معزز ہیں، لکھنے والے ہیں) 82:11 ۔] [اَکْرَامُ : افعل تفضیل ہے۔ زیادہ معزز۔ زیادہ مہربان۔ اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَثْقٰکُمْ (بیشک تم میں کا زیادہ معزز اللہ کے یہاں تم میں کا زیادہ پرہیزگار ہے) 49:13 ۔] [اِکْرَامًا : (افعال) کسی کو عزت دینا۔ کسی پر مہربانی کرنا۔ اِذَامَا ابْتَلٰچہُ رَبُّہٗ فَاَکْرَمَہٗ وَ نَعَّمَہٗ (جب کبھی بھی اس کا آزماتا ہے اس کا رب تو وہ مہربانی کرتا ہے اس پر اور نعمت دیتا ہے اس کو) 89:15 ۔] [اَکْرِمْ : فعل امر ہے۔ تو عزت دے۔ تو مہربان ہو۔ زیر مطالعہ آیت۔ 21] [مُکْرِمٌ: اسم الفاعل ہے۔ عزت دینے والا۔ مہربانی کرنے والا۔ فَمَالَہٗ مِنْ مُّکْرِمٍ (تو نہیں ہے اس کے لئے کوئی بھی عزت دینے والا) 22:18 ۔] [مُکْرَمٌ: اسم المفعول ہے۔ عزت دیا ہوا۔ بَلْ عِبَادٌ شُکْرَمُوْنَ (بلکہ وہ عزت دیئے ہوئے بندے ہیں) 21:26 ۔] [تَکْرِیْمًا : (تفعیل : عزت دینا۔ مہربانی کرنا۔ وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْ اٰدَمَ (اور بیشک ہم نے عزت دی ہے آدم (علیہ السلام) کی اولاد کو) 17:70 ۔] [مُکَرَّمٌ: اسم المفعول ہے۔ عزت دیا ہوا۔ فِیْ صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ (عزت دیئے ہوئے صحیفوں میں) 80:13 ۔]
نوٹ۔ 1: بائبل میں اس شخص کا نام فوطیقار لکھا ہے جس یوسف (علیہ السلام) نے کو خریدا تھا۔ قرآن مجید نے آگے چل کر عزیز کے لقب سے اس کا ذکر کیا ہے۔ وہ شاہی خزانے کا یا باڈی گارڈوں کا افسر تھا۔ تلمود میں اس کی بیوی کا نام زلیخا لکھا ہے۔ مگر یہ جو ہمارے ہاں عام شہرت ہے کہ بعد میں اس عورت سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا نکاح ہوا، اس کی کوئی اصل نہیں ہے، نہ قرآن میں اور نہ اسرائیلی تاریخ میں۔ فوطیغار حصرت یوسف (علیہ السلام) کو دیکھ کر ہی سمجھ گیا تھا کہ یہ لڑکا کسی شریف خاندان کا چشم و چراغ ہے۔ اس لئے اس نے یوسف (علیہ السلام) سے غلاموں کا سا برتائو نہیں کیا اور بائبل کے بیان کے مطابق انہیں اپنے گھر اور اپنی املاک کا مختار بنادیا۔
اب تک حضرت یوسف (علیہ السلام) کی تربیت صحرا میں نیم خانہ بدوشی اور گلہ بانی کے ماحول میں ہوئی تھی۔ مگر اس وقت کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک مصر میں اللہ تعالیٰ ان سے جو کام لینا چاہتا تھا اور اس کے لئے جس تجربہ اور بصیرت کی ضرورت تھی، اس کے نشو و نما کا کوئی موقع بدوی زندگی میں نہ تھا اس لئے اس نے اپنی قدرت کاملہ سے یہ انتظام فرمایا کہ انھیں سلطنت مصر کے ایک بڑے عہدہ دار کے ہاں پہنچا دیا جس نے انھیں اپنی جاگیر کا مختارکار بنادیا۔ اس طرح یہ موقع پیدا ہوا کہ انھیں ایک جاگیر کے انتظام سے وہ تجربہ حاصل ہوجائے جو آئندہ ایک بڑی سلطنت کا نظم و نسق چلانے کے لئے درکار تھا۔ واللہ غالب علی اسرہ میں اسی طرف اشارہ ہے۔ (تفہیم القرآن)
یہاں سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی زندگی کا نیا دور شروع ہوتا ہے۔ اب تک وہ نفرت اور حسد کا شکار تھے، اس سے جان چھوٹی تو عشق و ہوس نے ان پر دام پھینکنے کی کوشش کی اور یہ امتحان پہلے امتحان سے بھی زیادہ سخت ثابت ہوا (تدبر قرآن)
نوٹ۔ 2: قرآن کریم نے یہ واضح نہیں فرمایا کہ جو بربان حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سامنے آئی وہ کیا چیز تھی۔ اسی لئے اس میں مفسرین حضرات کے مختلف اقوال ہیں۔ امام تفسیر ابن جریر (رح) نے ان تمام اقوال کو نقل کرنے کے بعد جو بات فرمائی ہے وہ سب اہل تحقیق کے نزدیک پسندیدہ ہے کہ جتنی بات قرآن کریم نے بتلا دی ہے صرف اسی پر اکتفا کیا جائے۔ اس کے تعین میں وہ سب احتمال ہوسکتے ہیں جو حضرات مفسرین نے ذکر کئے ہیں، لیکن قطعی طور پر کسی کو متعین نہیں کیا جاسکتا۔ (معارف القرآن)
Ayah 12:22[وَلَمَا : اور جب ] [ بَلَغَ : وہ پہنچے ] [ اَشُدَّهٗٓ: اپنی پختگی کو ] [ اٰتَيْنٰهُ : تو ہم نے دیا ان کو ] [ حُكْمًا : فیصلہ کرنے (کی صلاحیت)] [ وَّعِلْمًا : اور علم ] [وَكَذٰلِكَ : اور اس طرح ] [ نَجْزِي : جزا دیتے ہیں ] [ الْمُحْسِنِيْنَ : بلا کم وکاست کام کرنے والوں کو ]
Ayah 12:23[وَرَاوَدَتْهُ : اور پھسلایا ان (علیہ السلام) کو ] [ الَّتِيْ : اس عورت نے ] [ هُوَ : وہ (یعنی یوسف (علیہ السلام) )] [فِيْ بَيْتِهَا : جس کے گھر میں تھے ] [عَنْ نَّفْسِهٖ : اپنے نفس (کو تھامنے) سے ] [ وَغَلَّقَتِ : اور اس نے بند کئے ] [الْاَبْوَابَ : دروازے ] [وَقَالَتْ : اور کہا ] [هَيْتَ لَكَ : یہاں آئو ] [ قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ مَعَاذَ اللّٰهِ : اللہ کی پناہ ] [انهٗ : بیشک وہ ] [رَبِيْٓ: میرا آقا ہے ] [ اَحْسَنَ : اس نے خوبصورت بنایا ] [مَثْوَايَ : میرے ٹھکانے کو ] [ انهٗ : حقیقت یہ ہے کہ ] [ لَا يُفْلِحُ : فلاح نہیں پاتے ] [ الظّٰلِمُوْنَ : ظلم کرنے والے ]
غ ل ق
[غَلَقًا : (س) تنگ دل ہونا۔] [تَغْلِیْقًا : (تفعیل) تنگ کرنا۔ بند کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 23]
ھـ ی ت
ثلاثی مجرد سے فعل نہیں آتا۔
[تَھْیِیْتًا : (تفعیل) چلانا۔ پکارنا۔] [ھَیْتَ : یہ عربی محاورہ ہے اور اس کے ساتھ مخاطب کی ضمیریں آتی ہیں۔ یعنی ھَیْتَ لَکَ ۔ لَکِ ۔ لَکُمَا۔ لَکُمْ اور لٰکُنَّ ۔ ان سب کے ایک ہی معنی ہیں۔ یہاں آئو۔ آئو۔ زیر مطالعہ آیت۔ 23 ۔] [
Ayah 12:24[وَلَقَدْ هَمَّتْ : اور بیشک وہ ارادہ کرچکی تھی ] [ بِهٖ : ان (علیہ السلام) کا ] [وَهَمَّ : اور وہ (علیہ السلام) (بھی) ارادہ کرتے ] [ بِهَا : اس عورت کا ] [لَوْلَآ : اگر نہ ہوتا ] [ ان : کہ ] [ رَّاٰ : انھوں (علیہ السلام) نے دیکھا ] [ بُرْهَان رَبِهٖ : اپنے رب کی روشن دلیل کو ] [ كَذٰلِكَ : اسی طرح ہوا ] [لِنَصْرِفَ : تاکہ ہم دور رکھیں ] [عَنْهُ : ان (علیہ السلام) سے ] [السُّوْۗءَ : بُرائی کو ] [وَالْفَحْشَاۗءَ : بےحیائی کو ] [انهٗ : بیشک ] [مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِيْنَ : میرے پاک کئے ہوئے بندوں میں سے ]
ترکیب : (آیت۔ 24) لَوْلَا اَنْ رَّاٰ بُرْھَانَ رَبِّہٖ جملہ شرطیہ ہے اور وَھَمَّ بِھَا اس کا جواب شرط ہے۔ جو کہ مقدم ہے۔ قاعدہ یہی ہے کہ لَوْلَا کا جواب شرط عموما اس کے بعد آتا ہے لیکن کبھی پہلے بھی آسکتا ہے۔ قرآن مجید میں اس کی اور بھی مثالیں ہیں۔ مثلا لَوْکَانَ اِنْ رَّبَطْنَا عَلٰی قَلْبِھَا کا جواب شرط اِنْ کَادَتْ لَتُبْدِیْ بِہٖ مقدم ہے۔ اس بنیاد پر استادِ محترم پروفیسر حافظ احمد یار صاحب مرحوم کا کہنا ہے کہ ہمارے قرآن مجید کے نسخوں میں وَھَمَّ بِھَا کے بعد جو وقف کی علامت (ج) بنی ہوتی ہے یہ بالکل غلط ہے۔ اس کا صحیح مقام ھَمَّتْ بِہٖ کے بعد ہے۔ اس لئے ھَمَّ بِھَا کا ترجمہ ہم جواب شرط کے طور پر کریں گے۔
Ayah 12:25[وَاسْتَبَقَا : اور وہ دونوں دوڑے ] [الْبَابَ : دروازے کو ] [وَقَدَّتْ : اور اس عورت نے چیرا ] [ قَمِيْصَهٗ : ان (علیہ السلام) کی قمیص کو ] [مِنْ دُبُرٍ : پیچھے سے ] [ وَّاَلْفَيَا : اور دونوں نے پایا ] [سَيِّدَهَا : عورت کے آقا کو ] [لَدَا الْبَابِ : دروازے کیپ اس ] [ قَالَتْ : اس عورت نے کہا ] [ مَا : کیا ] [ جَزَاۗءُ مَنْ : اس کی سزا ہے جس نے ] [ اَرَادَ : ارادہ کیا ] [ بِاَهْلِكَ : تیرے گھر والوں سے ] [ سُوْۗءًا : ایک برائی کا ] [ اِلَّآ ان : سوائے اس کے کہ ] [ يُّسْجَنَ : وہ قید کیا جائے ] [اَوْ : یا ] [عَذَابٌ اَلِيْمٌ: (سوائے) ایک دردناک عذاب (کے)]
ق د د
[قَدًّا : (ن) کسی چیز کو لمبائی میں کاٹنا یا چیرنا زیر مطالعہ آیت۔ 25] [قِدَّۃً : ج قِدَادً ۔ کسی چیز کا ٹکڑا۔ مختلف اترائے لوگ۔ کُنَّا طَرَاگقٌ قِدَدًا (ہم مختلف اترائے طریقوں پر تھے) 72:11 ۔]
س ج ن
[سَجْنًا : (ن) کسی کو قید کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 25] [سِجْنٌ: اسم ذات ہے۔ قید خانہ۔ قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ (انھوں (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب قید خانہ زیادہ پسندیدہ ہے میرے لیے) 12:33] [مَسْجُوْنٌ: اسم المفعول ہے۔ قید کیا ہوا۔ لَاَجْعَلَنَّکَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ (میں لازماً بنا دوں گا تجھ کو قید کئے ہوئے لوگوں میں سے) 26:29] [سِجِیْنٌ: دائمی سخت جگہ۔ جہنم کی ایک وادی۔ بدکاروں کا اعمال نامہ رکھنے کی جگہ۔ اِنَّ کِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِیْ سِجِّیْنٍ (بیشک بدکاروں کی کتاب یقینا سِجِّیْن میں ہے) 83:7 ۔]
Ayah 12:26[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [هِىَ : اس عورت نے ہی ] [رَاوَدَتْنِيْ : پھسلایا مجھ کو ] [عَنْ نَّفْسِيْ : اپنا نفس (تھامنے) سے ] [ وَشَهِدَ : اور گواہی دی ] [ شَاهِدٌ: ایک گواہی دینے والے نے ] [مِّنْ اَهْلِهَا : اس عوتت کے گھر والوں میں سے ] [ ان : اگر ] [ كَان : یہ ہے (کہ)] [ قَمِيْصُهٗ : اس کی قمیص ] [قُدَّ : چیری گئی ] [ مِنْ قُبُلٍ : سامنے سے ] [ فَصَدَقَتْ : عورت نے سچ کہا ] [ وَهُوَ : اور یہ مرد ] [ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ : جھوٹ کہنے والوں میں سے ہے ]
Ayah 12:27[وَان : اور اگر ] [ كَان : یہ ہے (کہ)] [قَمِيْصُهٗ : اس کی قمیص ] [ قُدَّ : چیری گئی ] [ مِنْ دُبُرٍ : پیچھے سے ] [ فَكَذَبَتْ : تو عورت نے جھوٹ کہا ] [ وَهُوَ : اور یہ مرد ] [ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ : سچ کہنے والوں میں سے ہے ]
Ayah 12:28[فَلَمَا : پھر جب ] [ رَاٰ : اس (شوہر نے دیکھا)] [ قَمِيْصَهٗ : اس کی قمیص کو ] [ قُدَّ : کہ چیری گئی ] [ مِنْ دُبُرٍ : پیچھے سے ] [ قَالَ : تو اس نے کہا ] [ انهٗ : بیشک یہ ] [مِنْ كَيْدِكُنَّ : تم عورتوں کی چالبازی میں سے ہے ] [ ان : بیشک ] [ كَيْدَكُنَّ : تم عورتوں کی چالبازی ] [ عَظِيْمٌ : عظیم ہے ]
نوٹ۔ 1: یہ واقعہ تلمود میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ فوطیفار نے جب اپنی بیوی کی شکایت سنی تو اس نے یوسف (علیہ السلام) کو خوب پٹوایا، پھر ان کے خلاف عدالت میں استغاثہ دائر کیا۔ عدالت نے یوسف (علیہ السلام) کی قمیص کا جائزہ لے کر فیصلہ کیا کہ قصور عورت کا ہے کیونکہ قمیص پیچھے سے پھٹی ہے نہ کہ آگے سے۔ لیکن ہر صاحب عقل بآسانی یہ بات سمجھ سکتا ہے کہ قرآن کی روایت تلمود کی روایت سے زیادہ قرین قیاس ہے۔ آخر کس طرح یہ باور کرلیا جائے کہ ایک اتنا بڑا ذی وجاہت آدمی اپنی بیوی پر اپنے غلام کی دست درازی کا معاملہ عدالت میں لے گیا ہوگا۔ (کیونکہ آقا کو غلام پر ہر طرح کا اختیار حاصل ہوتا تھا۔ مرتب) یہ ایک نمایاں ترین مثال ہے قرآن اور اسرائیلی روایات کے فرق کی۔ اس سے مغربی مشرقین کے اس الزام کی لغویت صاف واضح ہوجاتی ہے کہ محمد ( ﷺ) نے یہ قصّے بنی اسرائیل سے نقل کئے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ قرآن نے تو اسرائیلی روایات کی اصلاح کی ہے اور اصل واقعات دنیا کو بتائے ہیں۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 12:29[يُوْسُفُ : (اے) یوسف ] [ اَعْرِضْ : آپ (علیہ السلام) اعراض کریں ] [عَنْ ھٰذَا : اس سے ] [ ۫وَاسْتَغْفِرِيْ : اور (اے عورت) تو مغفرت مانگ ] [ لِذَنْۢبِكِ : اپنے گناہ کے لئے ] [انكِ : بیشک تو (ہی)] [ كُنْتِ : ہے ] [ مِنَ الْخٰطِــِٕيْنَ : خطا کرنے والوں میں سے ]
Ayah 12:30[وَقَالَ : اور کہا ] [نِسْوَةٌ: کچھ عورتوں نے ] [فِي الْمَدِيْنَةِ : اس شہر میں ] [ امْرَاَتُ الْعَزِيْزِ : (کہ) عزیز کی عورت ] [ تُرَاوِدُ : پھسلاتی ہے ] [فَتٰىهَا : اپنے نو عمر خادم کو ] [عَنْ نَّفْسِهٖ : اپنے نفس (کو تھامنے) سے ] [قَدْ شَغَفَهَا : وہ دل پر چھا گیا ہے اس کے ] [ حُبًّا : بلحاظ محبت کے ] [انا : بیشک ہم ] [لَنَرٰىهَا : ضرور دیکھتی ہیں اس کو ] [ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ : ایک کھلی گمراہی میں ]
ش غ
[شَعْفًا : (ف) (1) دل کی جھلی کو صدمہ پہنچانا (2) کسی کے دل پر چھا جنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 30]
ترکیب : (آیت۔ 39) ۔ نِسْوَۃٌ عاقل کی جمع مکسر ہے۔ اس کے لئے قَالَتْ اور قَالَ دونوں جائز ہیں۔ شَغَفَھُا کا فاعل اس میں شامل ھُوَ کی ضمیر ہے جو فَتٰی کے لئے ہے۔ ھَا کی ضمیر مفعولی اَمْرَاَتُ الْعَزِیْزِ کے لئے ہے جبکہ حُبًّا تمیز ہے۔
Ayah 12:31[فَلَمَا : پھر جب ] [سَمِعَتْ : اس عورت نے سنا ] [ بِمَكْرِهِنَّ : ان عورتوں کے مکر کے بارے میں ] [ اَرْسَلَتْ : تو اس نے پیامبر بھیجا ] [ اِلَيْهِنَّ : ان عورتوں کی طرف ] [وَاَعْتَدَتْ : اور س نے تیار کی ] [ لَهُنَّ : ان کے لئے ] [ مُتَّكَاً : ایک مجلس ] [ وَّاٰتَتْ : اور اس نے دی ] [ كُلَّ وَاحِدَةٍ : ہر ایک کو ] [ مِّنْهُنَّ : ان میں سے ] [سِكِّيْنًا : ایک چھری ] [ وَّقَالَتِ : اور اس نے کہا ] [ اخْرُجْ : تو نکل ] [عَلَيْ هِنَّ : ان پر ] [فَلَمَا : پھر جب ] [ رَاَيْنَهٗٓ: عورتوں نے دیکھا ان (علیہ السلام) کو ] [ اَكْبَرْنَهٗ : تو وہ ششدر رہ گئیں ان پر ] [ وَقَطَّعْنَ : اور انھوں نے کاٹ ڈالا ] [اَيْدِيَهُنَّ : اپنے ہاتھوں کو ] [وَقُلْنَ : اور انھوں نے کہا ] [ حَاشَ للّٰهِ : پاکیزگی اللہ کی ہے ] [مَا : نہیں ہے ] [ ھٰذَا : یہ ] [ بَشَرًا : کوئی بشر ] [ان : نہیں ہے ] [ ھٰذَآ : یہ ] [ اِلَّا : مگر ] [مَلَكٌ كَرِيْمٌ: کوئی بزرگ فرشتہ ]
و ک ء
[تَکَئًا : (س) ثلاتی مجرد میں اس کی واو کو تا میں بدل دیتے ہیں۔ اور یہ لفظ وَکِأَ ۔ یَوْکَأُ ۔ وَکَئًا کے بجائے تَکِأَ ۔ یَتْکَأُ ۔ تَکْئًا استعمال ہوتا ہے۔ معنی ہیں کسی چیز کا سہارا لینا۔] [تَوَکُّئًا : (تفعل) بتکلف سہارا لینا۔ قَالَ ھِیَ عَصَایَ اَتَوَکَّؤُا عَلَیْھَا (انھوں (علیہ السلام) نے کہا یہ میری لاٹھی ہے میں ٹیک لگاتا ہوں اس پر) 20:18] [اِتِّکَائً : (افتعال) اہتمام سے ٹیک لگا کر بیٹھنا۔ اس میں آرام و آسائش (LUXURY) کا مفہوم شامل ہے۔ وَسُرُرًا عَلَیْھَا یَتَّکُئُوْنَ (اور کچھ تخت جن پر وہ لوگ ٹیک لگا کر آرام سے بیٹھیں گے) 43:34 ۔] [مُتَّکِأٌ: اسم الفاعل ہے۔ آرام سے ٹیک لگا کر بیٹھنے والا۔ مُتَّکِگیْنَ عَلَیْھَا مُتَقٰبِلِیْنَ (رام سے ٹیک لگا کر بیٹھنے والے ان پر آمنے سامنے ہوتے ہوئے) 56:16 ۔] [مُتَّکَأٌ: اسم المفعول ہے۔ ظرف کے طور پر آتا ہے۔ (1) آرام سے ٹیک لگا کر بیٹھنے کی جگہ۔ پر تکلف مجلس۔ زیر مطالعہ آیت 31 ۔] [
Ayah 12:32[قَالَتْ : اس نے کہا ] [ فَذٰلِكُنَّ : تو یہ ہے ] [ الَّذِي : وہ ] [ لُمْتُنَّنِيْ : تم لوگوں نے ملامت کی مجھ پر ] [فِيْهِ : جس (کے بارے) میں ] [وَلَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ : اور بیشک میں نے پھسلایا ہے اس کو ] [عَنْ نَّفْسِهٖ : اپنے نفس کو (تھامنے سے)] [فَاسْتَعْصَمَ : تو وہ باز رہا ] [وَلَىِٕنْ : اور بیشک اگر ] [ لَمْ يَفْعَلْ : اس نے یہ کہا ] [ مَآ : وہ جو ] [ اٰمُرُهٗ : میں نے کہا اس کو ] [ لَيُسْجَنَنَّ : تو وہ لازماً قید کیا جائے گا ] [وَلَيَكُوْنًا : ور وہ لازماً ہوگا ] [ مِّنَ الصّٰغِرِيْنَ : حقیر ہونے والوں میں سے ]
(آیت۔ 32) لَیَکُوْنًا دراصل نون خفیفہ کے ساتھ لَیَکُوْنَنْ ہے۔ اس کو تنوین سی لکھنا قرآن کا املا ہے۔
Ayah 12:33[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ رَبِ : اے میرے رب ] [ السِّجْنُ : قید خانہ ] [اَحَبُّ : زیادہ پسندیدہ ہے ] [ اِلَيَّ : میرے لیے ] [مِمَا : اس سے ] [ يَدْعُوْنَنِيْٓ: یہ عورتیں بلاتی ہیں مجھ کو ] [اِلَيْهِ : جس کی طرف ] [وَاِلَّا تَصْرِفْ : اور اگر تو نے نہ پھیرا ] [ عَنِيْ : مجھ سے ] [ كَيْدَهُنَّ : ان کی چالبازی کو ] [اَصْبُ : ان کی چالبازی کو ] اِلَيْهِنَّ : ان عورتوں کی طرف ] [ وَاَكُنْ : اور میں ہو جائوں گا ] [ مِّنَ الْجٰهِلِيْنَ : جاہلوں میں سے ]
ص ب و
[صُبُوًّا : (ن) (1) کسی کے لئے مشتاق ہونا۔ کسی کی طرف مائل ہونا۔ زیر مطالعہ آیت 33 ۔
(2) بچپن کی طرف مائل ہونا۔ نابالغ ہونا۔] [صَبِیٌّ: فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت ہے۔ بچوں کی خصلت والا یعنی بچہ۔ نابالغ لڑکا۔ وَاٰتَیْنٰـہُ الْحُکْمَ صَبِیًّا (اور ہم نے دیا ان (علیہ السلام) کو حکمت لڑکپن میں) 19:12 ۔]
نوٹ۔ 1: آیت۔ 33 میں حکام مصر کی خواتین کے لئے یَدْعُوْننی، کَیْدَھِنَّ اور اِلَیْھِنَّ میں جمع کے صیغے آئے ہیں۔ پھر آیت۔ 35 میں حکام مصر کے لئے لَھُمْ اور رَاَوْا میں جمع کے صیغے آئے ہیں۔ اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ آیت۔ 31 میں دیئے گئے واقعہ کے بعد دوسری خواتین بھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پیچھے پڑگئیں۔ انھیں بہلانا پھسلانا شروع کردیا اور ولگوں میں اس بات کا چرچا پھیل گیا۔ اس صورتحال سے حکام مصر پریشان ہوگئے اور اپنی کو اتین کو کنٹرول کرنے سے زیادہ آسان راستہ انہیں یہ نظر آیا کہ بےگناہی کا یقین ہونے کے باوجود یوسف (علیہ السلام) کو کچھ عرصہ کے لئے جیل بھیج دیا جائے۔
(آیت۔ 33) وَاِلَّا دراصل وَ اِنْ لَا ہے۔ اور اَصْبُ مضارع میں واحد متکلم اَصْبُوْ تھا۔ جو اب شرط ہونے کی وجہ سے مضارع مجزوم ہوا تو واو گرگئی۔
Ayah 12:34[فَاسْتَجَابَ : تو قبول کی ] [ لَهٗ : ان (علیہ السلام) کی بات ] [ رَبُّهٗ : ان (علیہ السلام) کے رب نے ] [ فَصَرَفَ : پس اس نے پھیر دیا ] [ عَنْهُ : ان (علیہ السلام) سے ] [ كَيْدَهُنَّ : ان عورتوں کی چالبازی کو ] [ انهٗ : بیشک وہ ] [هُوَ السَّمِيْعُ : ہی سننے والا ہے ] [الْعَلِيْمُ : جاننے والا ہے ]
Ayah 12:35[ثُمَّ : پھر ] [ بَدَا : آشکارا ہوا ] [ لَهُمْ : ان لوگوں کے لئے ] [ مِّنْۢ بَعْدِ مَا : اس کے بعد (بھی کہ) جو ] [ رَاَوُا : ان لوگوں نے دیکھا ] [الْاٰيٰتِ : نشانیوں کو (یعنی یوسف (علیہ السلام) کی بیگناہی کے ثبوتوں کو)] [ لَيَسْجُنُنَّهٗ : کہ وہ لازماً قید میں رکھیں گے ان (علیہ السلام) کو ] [ حَتّٰي حِيْنٍ : ایک مدت تک ]
Ayah 12:36[وَدَخَلَ : اور داخل ہوئے ] [ مَعَهُ : ان (علیہ السلام) کے ساتھ ] [ السِّجْنَ : قید خانہ میں ] [ فَتَيٰنِ : دو نوجون ] [ قَالَ : کہا ] [ اَحَدُهُمَآ : دونوں کے ایک نے ] [ انىٓ: کہ میں ] [اَرٰىنِيْٓ : دیکھتا ہوں خود کو ] [اَعْصِرُ : (کہ) میں نچوڑتا ہوں ] [ خَمْرًا : شراب ] [ وَقَالَ : اور کہا ] [ الْاٰخَرُ : دوسرے نے ] [ انىٓ : کہ میں ] [اَرٰىنِيْٓ: دیکھتا ہوں خود کو ] [اَحْمِلُ : (کہ) میں اٹھاتا ہوں ] [فَوْقَ رَاْسِيْ : اپنے سر کے اوپر ] [ خُبْزًا : کچھ روٹی ] [ تَاْكُلُ : کھاتے ہیں ] [ الطَّيْرُ : پرندے ] [ مِنْهُ : اس میں سے ] [ نَبِئْنَا : تو خبردے ہم کو ] [ بِتَاْوِيْـلِهٖ : اس کے انجام (یعنی تعبیر) کی ] [انا : بیشک ہم ] [ نَرٰىكَ : دیکھتے ہیں تجھ کو ] [مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ : خوب کاروں میں سے ]
Ayah 12:37[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ لَا يَاْتِيْكُمَا : نہیں آئے گا تم دونوں کے پاس ] [ طَعَامٌ: وہ کھانا ] [تُرْزَقٰنِهٖٓ : جو تم دونوں کو دیا جاتا ہے ] [اِلَّا : مگر (یہ کہ) ] [ نَبَّاْتُكُمَا : میں نے خبر دی تم دونوں کو ] [بِتَاْوِيْـلِهٖ : اس کے انجام کی ] [ قَبْلَ : اس سے پہلے ] [ ان : کہ ] [يَاْتِيَكُمَا : وہ آئے تمہارے پاس ] [ ذٰلِكُمَا : یہ ] [مِمَا : اس میں سے جس کا ] [ عَلَّمَنِيْ : علم دیا مجھ کو ] [ رَبِيْ : میرے رب نے ] [ انى: بیشک میں نے ] [تَرَكْتُ : چھوڑا ] [مِلَّةَ قَوْمٍ : اس قوم کے مذہب کو ] [لَّا يُؤْمِنُوْنَ : جو ایمان نہیں لاتے ] [بِاللّٰهِ : اللہ پر ] [ وَهُمْ : اور وہ لوگ ] [بِالْاٰخِرَةِ : آخرت کا ] [ هُمْ كٰفِرُوْنَ : ہی انکار کرنے والے ہیں ]
Ayah 12:38[وَاتَّبَعْتُ : اور میں نے پیروی کی ] [ مِلَّةَ اٰبَاۗءِيْٓ: اپنے آباء اجداد کے دین کی ] [اِبْرٰهِيْمَ : جو ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے ] [وَاِسْحٰقَ : اور اسحاق (علیہ السلام) کا ہے ] [ وَيَعْقُوْبَ : اور یعقوب (علیہ السلام) کا ہے ] [ مَا كَان : نہیں ہے ] [ لَنَآ : ہمارے لئے ] [ ان : کہ ] [ نُّشْرِكَ : ہم شریک کریں ] [ بِاللّٰهِ : اللہ کے ساتھ ] [ مِنْ شَيْءٍ : کسی بھی چیز کو ] [ذٰلِكَ : یہ ] [مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ : اللہ کے فضل میں سے ہے ] [ عَلَيْنَا : ہم پر ] [ وَعَلَي النَاسِ : اور لوگوں پر [ وَلٰكِنَّ : اور لیکن ] [اَكْثَرَ النَاسِ : لوگوں کی اکثر ] [ لَا يَشْكُرُوْنَ : شکر نہیں کرتے ]
ترکیب : (آیت 38) مِلَّۃَ کا مطاف الیہ ہونے کی وجہ سے اٰبَائِ حالت جر میں ہے اور اس کا بدل ہونے کی وجہ سے اِبْرٰھِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ حالت جر میں ہیں۔ (آیت۔ 39) صَاحِبَانِ کو حرف ندا نے نصب دی تو صَاحِبَیْنَ ہوا اور مضاف ہونے کی وجہ سے یٰصَاحِبَیْ ہوا۔ پھر آگے ملانے کے لئے یا کو کسرہ دی گئی۔ (آیت۔ 42) بِضْعَ ظرف ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے اور سِنِیْنَ تمیز ہے۔
Ayah 12:39[يٰصَاحِبَيِ السِّجْنِ : اے جیل کے دونوں ساتھیو ] [ءَ : کیا ] [اَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ : الگ الگ کئی پرورش کرنے والے ] [ خَيْرٌ: بہتر ہیں [ اَمِ : یا ] [ اللّٰهُ الْوَاحِدُ : واحد اللہ [ الْقَهَارُ : جو پوری طرح غالب ہے ]
Ayah 12:40[مَا تَعْبُدُوْنَ : تم لوگ بندگی نہیں کرتے ] [ مِنْ دُوْنِهٖٓ : اس کے علاوہ (کسی کی)] [اِلَّآ : مگر ] [اَسْمَاۗءً : کچھ ایسے ناموں کی ] [سَمَّيْتموْهَآ : تم لوگوں نے نام رکھے جن کے ] [ انتم : تم نے ] [وَاٰبَاۗؤُكُمْ : اور تمہارے آباء اجداد نے ] [مَآ انزَلَ : نہیں اتاری ] [اللّٰهُ : اللہ نے ] [بِهَا : جس کی ] [ مِنْ سُلْطٰنٍ : کوئی بھی سند ] [ ان : نہیں ہے [ الْحُكْمُ : فیصلے کا اختیار ] [ اِلَّا : مگر ] [ للّٰهِ : اللہ کا ] [ اَمَرَ : اس نے حکم دیا ] [اَلَّا تَعْبُدُوْٓا : کہ بندگی مت کرو ] [اِلَّآ : مگر ] [اِيَّاهُ : اس کی ہی ] [ذٰلِكَ : یہ ] [ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ : ہی سیدھا دین ہے ] [ وَلٰكِنَّ : اور لیکن ] [اَكْثَرَ النَاسِ : لوگوں کی اکثریت ] [ لَا يَعْلَمُوْنَ : علم نہیں رکھتی ]