11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 11:1

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰیٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ خَبِیْرٍۙ Open ayah 11:1 in the Quran reader

ا ل ر فرمان ہے، جس کی آیتیں پختہ اور مفصل ارشاد ہوئی ہیں، ایک دانا اور باخبر ہستی کی طرف سے

[الۗرٰ ۣ، قف ] كِتٰبٌ [ (یہ ) ایک کتاب ہے ] اُحْكِمَتْ [محکم کیا گیا ] اٰيٰتُهٗ [ اسکی آیتوں کو ] ثُمَّ [پھر ] فُصِّلَتْ [ ان کو کھولا گیا ] مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ [ ایک باخبر حکمت والے کے خزانے سے ] ترکیب : (آیت ۔ 1) کتب خبر ہے۔ اس کا مبتدا ھذا محذوف ہے ۔ احکمت اور فصلت کا نائب فاعل ایتہ ہے۔ لدن مضاف ہے اور حکیم خبیر اس کا مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے حالت جر میں ہیں ۔
Ayah 11:2

اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنَّنِیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌۙ Open ayah 11:2 in the Quran reader

کہ تم بندگی نہ کرو مگر صرف اللہ کی میں اُس کی طرف سے تم کو خبردار کرنے والا بھی ہوں اور بشارت دینے والا بھی

اَلَّا تَعْبُدُوْٓا [ کہ تم لوگ بندگی مت کرو ] اِلَّا [مگر ] اللّٰهَ ۭ [ اللہ کی ] اِنَّنِيْ [ بیشک میں ] لَكُمْ [ تمہارے لیے ] مِّنْهُ [ اس (کی طرف ) سے ] نَذِيْرٌ [ایک خبر دار کرنے والا ہوں ] وَّبَشِيْرٌ [ اور ایک بشارت دینے والا ہوں ] نوٹ ۔ 1: آیت 2: 78 کی لغت میں لفظ ” امۃ “ کے دو مفہوم دئیے گئے ہیں ۔ (1) دین (2) کسی دین کے پیروکار لوگ ۔ اب نوٹ کرلیں کہ اس کا ایک تیسرا مفہوم بھی ہے ۔ کسی دین یا اس کے پیروکاروں کے عروج کی مدت یا عرصہ۔ اس مفہوم میں یہ لفظ قرآن مجید میں دو جگہ آیا ہے ۔ ایک زیر مطالعہ آیت ۔ 8 اور پھر سورة یوسف کی آیت ۔ 45 میں ۔
Ayah 11:3

وَّ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ یُؤْتِ كُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ١ؕ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ كَبِیْرٍ Open ayah 11:3 in the Quran reader

اور یہ کہ تم اپنے رب سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آؤ تو وہ ایک مدت خاص تک تم کو اچھا سامان زندگی دے گا اور ہر صاحب فضل کو اس کا فضل عطا کرے گا لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو تو میں تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں

وَّاَنِ [ اور یہ کہ ] اسْتَغْفِرُوْا [ تم لوگ مغفرت مانگو ] رَبَّكُمْ [ اپنے رب سے ] ثُمَّ [پھر ] تُوْبُوْٓا [ تم لوگ رجوع کرو ] اِلَيْهِ [ اس کی طرف ] يُمَتِّعْكُمْ [ تو وہ فائدہ اٹھانے دے گا تم کو ] مَّتَاعًا حَسَنًا [ اچھے سامان سے ] اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى [ ایک مقرر وقت تک ] وَّيُؤْتِ [ اور وہ دے گا ] كُلَّ ذِيْ فَضْلٍ [ ہر فضیلت والے کو ] فَضْلَهٗ ۭ [ اس کی فضیلت ] وَاِنْ [ اور اگر ] تَوَلَّوْا [ تم لوگوں نے منہ موڑا ] فَاِنِّىْٓ [ تو بیشک میں ] اَخَافُ [ ڈرتا ہوں ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر ] عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيْرٍ [ ایک بڑے دن کے عذاب سے ] (آیت ۔ 3) فعل امر استغفروا اور توبوا کا جواب امر ہونے کی وجہ سے یمتع اور یؤت مجزوم ہوئے ہیں ۔ فضلہ کی ضمیر کو ذی فضل کے لئے ماننا زیادہ بہتر ہے ( پروفیسر احمد یار صاحب مرحوم) ۔ اس لئے ہم ترجمہ اسی لحاظ سے کریں گے ۔
Ayah 11:4

اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 11:4 in the Quran reader

تم سب کو اللہ کی طرف پلٹنا ہے اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے

اِلَى اللّٰهِ [ اللہ کی طرف ہی ] مَرْجِعُكُمْ ۚ [ تم لوگوں کو لوٹنا ہے ] وَھُوَ [ اور وہ ] عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ [ ہر چیز پر ] قدیر [ قدرت رکھنے والا ہے ]
Ayah 11:5

اَلَاۤ اِنَّهُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَهُمْ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْهُ١ؕ اَلَا حِیْنَ یَسْتَغْشُوْنَ ثِیَابَهُمْ١ۙ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ۚ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 11:5 in the Quran reader

دیکھو! یہ لوگ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں تاکہ اس سے چھپ جائیں خبردار! جب یہ کپڑوں سے اپنے آپ کو ڈھانپتے ہیں، اللہ ان کے چھپے کو بھی جانتا ہے اور کھلے کو بھی، وہ تو اُن بھیدوں سے بھی واقف ہے جو سینوں میں ہیں

اَلَآ [ سن لو ] اِنَّھُمْ [ بیشک وہ لوگ ] يَثْنُوْنَ [ دوہرا کرتے ہیں ] صُدُوْرَھُمْ [ اپنے سینوں کو ] لِيَسْتَخْفُوْا [ تاکہ وہ چھپ جائیں ] مِنْهُ ۭ [ اس سے ] اَلَا [ سن لو ] حِيْنَ [ جس وقت ] يَسْتَغْشُوْنَ [وہ چھپنا چاہتے ہیں ] ثِيَابَھُمْ ۙ [ اپنے کپڑوں (کے ذریعہ ) سے ] يَعْلَمُ [ تو وہ تو جانتا ہے ] مَا [ اس کو جو ] يُسِرُّوْنَ [ وہ لوگ چھپاتے ہیں ] وَمَا [ اور اس کو جو ] يُعْلِنُوْنَ ۚ [ اعلانیہ کرتے ہیں ] اِنَّهٗ [ بیشک وہ ] عَلِيْمٌۢ [ وہ جاننے والا ہے ] بِذَاتِ الصُّدُوْرِ [ سینوں والی (بات) کو ]
Ayah 11:6

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَ مُسْتَوْدَعَهَا١ؕ كُلٌّ فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 11:6 in the Quran reader

زمین میں چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو اور جس کے متعلق وہ نہ جانتا ہو کہ کہاں وہ رہتا ہے اور کہاں وہ سونپا جاتا ہے، سب کچھ ایک صاف دفتر میں درج ہے

وَمَا [ اور نہیں ہے ] مِنْ دَاۗبَّةٍ [ کسی قسم کا کوئی چلنے والا ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] اِلَّا [ مگر ] عَلَي اللّٰهِ [ اللہ پر ] رِزْقُهَا [ اس کا رزق ہے ] وَيَعْلَمُ [ اور وہ جانتا ہے ] مُسْتَــقَرَّهَا [ اس کے ٹھہرنے کی جگہ کو ] وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ [ اور اس کو بطور امانت رکھے جانے کی جگہ کو ] كُلٌّ [ سب کچھ ] فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ [ ایک واضح کتاب میں ہے ] نوٹ ۔ 2: آیت ۔ 6 میں ہے کہ سب کا رزق اللہ کے ذمہ ہے ۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ بعض جانور اور انسان بھوکے پیاسے مرجاتے ہیں ۔ علماء نے اس کے متعدد جواب دیئے ہیں ۔ ایک جواب یہ بھی ہے کہ رزق کی ذمہ داری اسی وقت تک ہے جب تک عمر پوری نہیں ہوجاتی ۔ جب عمر پوری ہوگئی تو اس کو بہر حال مرنا ہے ۔ اس کا عام سبب امراض ہوتے ہیں ۔ کبھی جلنا یا غرق ہونا یا چوٹ یا زخم بھی سبب ہوتے ہیں ۔ اسی طرح ایک سبب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ رزق بند کردیا جائے جس سے موت واقع ہوجائے ۔ (معارف القرآن )
Ayah 11:7

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ وَّ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ لَئِنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 11:7 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا جبکہ اس سے پہلے اس کا عرش پانی پر تھا تاکہ تم کو آزما کر دیکھے تم میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے اب اگر اے محمدؐ، تم کہتے ہو کہ لوگو، مرنے کے بعد تم دوبارہ اٹھائے جاؤ گے، تو منکرین فوراً بول اٹھتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو گری ہے

وَهُوَ [اور وہ ] الَّذِيْ [ وہ ہے جس نے ] خَلَقَ [ پیدا کیا ] السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ [ آسمانوں کو اور زمین کو ] فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ [ چھ دنوں میں ] وَّ [ اس حال میں کہ ] كَانَ [ تھا ] عَرْشُهٗ [ اس کا عرش ] عَلَي الْمَاۗءِ [ پانی پر ] لِيَبْلُوَكُمْ [ تاکہ وہ آزمائے تم لوگوں کو ] اَيُّكُمْ [(کہ) تم میں کا کون ] اَحْسَنُ [ زیادہ اچھا ہے ] عَمَلًا ۭ [بلحاظ عمل کے ] وَلَىِٕنْ [ اور البتہ اگر ] قُلْتَ [ آپ کہیں گے ] اِنَّكُمْ [ کہ تم لوگ ] مَّبْعُوْثُوْنَ [ اٹھائے جانے والے ہو ] مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ [ موت کے بعد ] لَيَقُوْلَنَّ [ تو لازما کہیں گے ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جنھوں نے ] كَفَرُوْٓا [ کفر کیا ] اِنْ [ نہیں ہے ] ھٰذَآ [ یہ ] اِلَّا [ مگر ] سِحْــرٌ مُّبِيْنٌ [ ایک کھلا جادو ] (آیت ۔ 7) لیقولن کا فاعل الذین اسم ظاہر آگیا ہے اس لئے یہاں پر لیقولن واحد آیا ہے ۔ نوٹ ۔ 3: آیت ۔ 7 میں ہے کہ اس کا عرش پانی پر تھا ۔ یہ جملہ معترضہ ہے جو غالبا لوگوں کے اس سوال کے جواب میں فرمایا گیا کہ آسمان اور زمین اگر پہلے نہ تھے تو پہلے کیا تھا ؟ اس سوال کو نقل کئے بغیر اس کا مختصر جواب دیا گیا ہے کہ پہلے پانی تھا ۔ ہم نہیں کہہ سکتے اس پانی سے مراد کیا ہے ۔ یہی پانی جسے ہم اس نام سے جانتے ہیں یا یہ لفظ محض استعارے کے طور پر مادے کی اس مائع (Fluid) حالت کے لئے استعمال کیا گیا ہے جو موجودہ صورت میں ڈھالے جانے سے پہلے تھی ۔ رہا یہ ارشاد کہ اس کا عرش پانی پر تھا ، تو اس کا مفہوم ہماری سمجھ میں یہ آتا ہے کہ اس کی سلطنت پانی پر تھی۔ ( تفیہم القرآن )
Ayah 11:8

وَ لَئِنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰۤى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ لَّیَقُوْلُنَّ مَا یَحْبِسُهٗ١ؕ اَلَا یَوْمَ یَاْتِیْهِمْ لَیْسَ مَصْرُوْفًا عَنْهُمْ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 11:8 in the Quran reader

اور اگر ہم ایک خاص مدت تک ان کی سزا کو ٹالتے ہیں تو وہ کہنے لگتے ہیں کہ آخر کس چیز نے اُسے روک رکھا ہے؟ سنو! جس روز اُس سزا کا وقت آگیا تو وہ کسی کے پھیرے نہ پھر سکے گا اور وہی چیز ان کو آ گھیرے گی جس کا وہ مذاق اڑا رہے ہیں

وَلَىِٕنْ [ اور البتہ اگر ] اَخَّرْنَا [ ہم ملتوی رکھیں ] عَنْهُمُ [ ان سے ] الْعَذَابَ [ عذاب کو ] اِلٰٓى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ [ ایک گنتی کئے ہوئے عرصہ تک ] لَّيَقُوْلُنَّ [ تو وہ لوگ لازما کہیں گے ] مَا [ کیا چیز ] يَحْبِسُهٗ ۭ [ روکتی ہے اس کو ] اَلَا [ سن لو ] يَوْمَ [ جس دن ] يَاْتِيْهِمْ [ وہ آئے گا ان کے پاس ] لَيْسَ [ تو وہ نہیں ہے ] مَصْرُوْفًا [ پھیرا جانے والا ] عَنْهُمْ [ ان سے ] وَحَاقَ [ اور چھا جائے گا ] بِهِمْ [ ان پر ] مَّا [ وہ ] كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ [جس کا وہ لوگ مذاق اڑاتے ہیں ] (آیت ۔ 8) لیقولن کا فاعل اسم ظاہر نہیں ہے بلکہ اس میں شامل ضمیر ہے اس لئے یہاں پر یہ جمع کے صیغے میں آیا ہے۔ لیس کا اسم اس میں شامل ھو کی ضمیر ہے جو العذاب کے لئے ہے ۔ اور مصروفا اس کی خبر ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔
Ayah 11:9

وَ لَئِنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُ١ۚ اِنَّهٗ لَیَئُوْسٌ كَفُوْرٌ Open ayah 11:9 in the Quran reader

اگر کبھی ہم انسان کو اپنی رحمت سے نوازنے کے بعد پھر اس سے محروم کر دیتے ہیں تو وہ مایوس ہوتا ہے اور ناشکری کرنے لگتا ہے

وَلَىِٕنْ [اور البتہ اگر ] اَذَقْنَا [ ہم چکھا دیں ] الْاِنْسَانَ [ انسان کو ] مِنَّا [ اپنی (طرف) سے ] رَحْمَةً [ کوئی رحمت ] ثُمَّ [ پھر ] نَزَعْنٰهَا [ ہم کھینچ لیں اس کو ] مِنْهُ ۚ [ اس سے ] اِنَّهٗ [ بیشک وہ ] لَيَـــُٔــوْسٌ [ یقینا بےانتہا مایوس ہے ] كَفُوْرٌ [ بےانتہاناشکرا ہے ] نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 9 ۔ 10 میں یہ بات قابل غور ہے کہ دنیا کی آسائش اور تکلیف دونوں کے بارے میں قرآن کریم نے اذقنا یعنی چکھانے کا لفظ استعمال کرکے اس طرف اشارہ کردیا کہ اصل اسائش اور تکلیف آخرت کی ہے ۔ دنیا کی آسائش اور تکلیف نہ تو مکمل ہیں اور نہ دائمی ہیں ، بلکہ نمونے اور چکھنے کے درجہ میں ہیں تاکہ انسان کو آخرت کی آسائش اور تکلیف کا کچھ اندازہ ہو سکے اور اس لئے بھی یہاں کی راحت زیادہ خوش ہونے کی چیز نہیں ہے اور نہ تکلیف پر زیادہ غم کرنا چاہیے (معارف القرآن ) ۔ اور دنیا میں اچھے برے حالات میں جو صحیح رویہ ہے ، اس کی نشاندہی اگلی آیت ۔ 11 میں کی گئی ہے۔
Ayah 11:10

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ ذَهَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْ١ؕ اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌۙ Open ayah 11:10 in the Quran reader

اور اگر اُس مصیبت کے بعد جو اُس پر آئی تھی ہم اسے نعمت کا مزا چکھاتے ہیں تو کہتا ہے میرے تو سارے دلدر پار ہو گئے، پھر وہ پھولا نہیں سماتا اور اکڑنے لگتا ہے

وَلَىِٕنْ [ اور البتہ اگر ] اَذَقْنٰهُ [ ہم چکھائیں اس کو ] نَعْمَاۗءَ [ کوئی آسائش ] بَعْدَ ضَرَّاۗءَ [ ایسی تکلیف کے بعد ] مَسَّتْهُ [ اس کو چھوا جس نے ] لَيَقُوْلَنَّ [ تو وہ لازما کہے گا ] ذَهَبَ [ گئیں ] السَّـيِّاٰتُ [ برائیاں ] عَنِّيْ ۭ [ مجھ سے ] اِنَّهٗ [ بیشک وہ ] لَفَرِحٌ [ یقینا بہت خوش ہے ] فَخُــوْرٌ [ بےانتہا فخر کرنے والا ] ترکیب : (آیت ۔ 10) نعماء اور ضراء دونوں میں غیر منصرف ہیں ۔ اذقنا کا مفعول ثانی ہونے کی وجہ سے نعماء حالت نصب میں ہے جبکہ بعد کا مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے ضراء حالت جر میں ہے ۔ اور ضراء نکرہ مخصوصہ ہے ، مستہ اس کی خصوصیت ہے ۔
Ayah 11:11

اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 11:11 in the Quran reader

اس عیب سے پاک اگر کوئی ہیں تو بس وہ لوگ جو صبر کرنے والے اور نیکو کار ہیں اور وہی ہیں جن کے لیے درگزر بھی ہے اور بڑا اجر بھی

اِلَّا الَّذِيْنَ [ سوائے ان لوگوں کے جو ] صَبَرُوْا [ ثابت قدم رہے ] وَعَمِلُوا [ اور عمل کئے ] الصّٰلِحٰتِ ۭ [ نیکیوں کے ] اُولٰۗىِٕكَ [ وہ لوگ ہیں ] لَهُمْ [ جن کے لئے ] مَّغْفِرَةٌ [ مغفرت ہے ] وَّاَجْرٌ كَبِيْرٌ [ اور بڑا اجر ہے ] نوٹ ۔ 2: آیت ۔ 11 میں صبر کے ایک مفہوم پر روشنی پڑتی ہے ۔ صبر کی صفت اس تھڑولا پن کی ضد ہے جس کا ذکر آیات ۔ 9 ۔ 10 میں کیا گیا ہے ۔ صابر وہ شخص ہے جو زمانہ کے بدلتے ہوئے حالات میں اپنے ذہن کے توازن کو برقرار رکھے ۔ اور ایک معقول رویہ پر ہر حال میں قائم رہے۔ اگر کبھی حالات ساز گار ہوں تو کامیابی کے نشے میں مست ہو کر بہکنے نہ لگے ۔ اگر کبھی مصائب و مشکلات ہوں تو انسانی سطح سے نیچے نہ اترے ۔ اللہ کی آزمائش خواہ نعمت کی صورت میں آئے یا مصیبت کی صورت میں ، وہ بہرحال بردباری پر قائم رہے ۔ (تفہیم القرآن ) اسی رویہ کو آج جذباتی بلوغت (emotional Maturity) کہتے ہیں ۔
Ayah 11:12

فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ ضَآئِقٌۢ بِهٖ صَدْرُكَ اَنْ یَّقُوْلُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌؕ Open ayah 11:12 in the Quran reader

تو اے پیغمبرؐ! کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اُن چیزوں میں سے کسی چیز کو (بیان کر نے سے) چھوڑ دو جو تمہاری طرف وحی کی جا رہی ہیں اور اِس بات پر دل تنگ ہو کہ وہ کہیں گے "اس شخص پر کوئی خزانہ کیوں نہ اتارا گیا" یا یہ کہ "اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہ آیا" تم تو محض خبردار کرنے والے ہو، آگے ہر چیز کا حوالہ دار اللہ ہے

فَلَعَلَّكَ [ پس شائد کہ آپ ] تَارِكٌۢ [ چھوڑنے والے ہوں ] بَعْضَ مَا [ اس کے بعض کو جو ] يُوْحٰٓى [ وحی کیا گیا ] اِلَيْكَ [آپ کی طرف ] وَضَاۗىِٕقٌۢ [ اور تنگ ہونے والا ہو ] بِهٖ صَدْرُكَ [ آپ کا سینہ اس سے ] اَنْ [ کہ ] يَّقُوْلُوْا [ وہ لوگ کہیں گے ] لَوْلَآ [ کیوں نہیں ] اُنْزِلَ [ اتارا گیا ] عَلَيْهِ [ ان پر ] كَنْزٌ [ کوئی خزانہ ] اَوْ [ یا ] جَاۗءَ [ (کیوں نہیں ) آیا ] مَعَهٗ [ ان کے ساتھ ] مَلَكٌ ۭ [ کوئی فرشتہ ] اِنَّمَآ اَنْتَ [ کچھ نہیں آپ تو بس ] نَذِيْرٌ ۭ [ خبردار کرنے والے ہیں ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ [ ہر چیز پر ] وَّكِيْلٌ [ نگہبان ہے ] (آیت ۔ 12) اسم الفاعل تارک نے بعض کو نصب دی ہے ۔ صدرک مبتدا مؤخر ہے اور ضائق اس کی خبر مقدم ہے ۔
Ayah 11:13

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَیٰتٍ وَّ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 11:13 in the Quran reader

کیا یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے یہ کتاب خود گھڑ لی ہے؟ کہو، "اچھا یہ بات ہے تو اس جیسی گھڑی ہوئی دس سورتیں تم بنا لاؤ اور اللہ کے سوا اور جو جو (تمہارے معبود) ہیں اُن کو مدد کے لیے بلا سکتے ہو تو بلا لو اگر تم (انہیں معبود سمجھنے میں) سچے ہو

اَمْ [ یا ] يَقُوْلُوْنَ [ وہ لوگ کہیں گے ] افْتَرٰىهُ ۭ [ اس نے گھڑا ہے اس کو (یعنی قرآن کو ) ] قُلْ [ آپ کہئے ] فَاْتُوْا [ تو تم لوگ لے آؤ] بِعَشْرِ سُوَرٍ [ دس سورتیں ] مِّثْلِهٖ [ اس کے مانند ] مُفْتَرَيٰتٍ [ گھڑی ہوئی ] وَّادْعُوْا [ اور تم لوگ بلالو ] مَنِ [ اس کو جس کو ] اسْتَطَعْتُمْ [ (بلانے کی ) تم استطاعت رکھتے ہو ] مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ ] اِنْ [ا گر ] كُنْتُمْ [ تم لوگ ] صٰدِقِيْنَ [ سچ کہنے والے ہو ]
Ayah 11:14

فَاِلَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 11:14 in the Quran reader

اب اگر وہ (تمہارے معبود) تمہاری مدد کو نہیں پہنچتے تو جان لو کہ یہ اللہ کے علم سے نازل ہوئی ہے اور یہ کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے پھر کیا تم (اس امر حق کے آگے) سر تسلیم خم کر تے ہو؟"

فَاِنْ لَّمْ يَسْتَجِيْبُوْا [ پھر اگر وہ لوگ جواب نہ دیں ] لَكُمْ [ تم کو ] فَاعْلَمُوْٓا [ تو جان لو ] اَنَّمَآ اُنْزِلَ [ کہ اس کو تو بس اتارا گیا ] بِعِلْمِ اللّٰهِ [ اللہ کے علم سے ] وَاَنْ [ اور یہ کہ ] لَّآ اِلٰهَ [ کوئی بھی الہ نہیں ہے ] اِلَّا [ مگر ] هُوَ ۚ [ وہ ] فَهَلْ [ تو کیا ] اَنْتُمْ [ تم لوگ ] مُّسْلِمُوْنَ [ فرمانبرداری کرنے والے ہو ] (آیت ۔ 14) فالم دراصل فان لم ہے ۔
Ayah 11:15

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ Open ayah 11:15 in the Quran reader

جو لوگ بس اِسی دنیا کی زندگی اور اس کی خو ش نمائیوں کے طالب ہوتے ہیں ان کی کار گزاری کا سارا پھل ہم یہیں ان کو دے دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی

مَنْ [ جو ] كَانَ [ وہ ہے ] يُرِيْدُ [ جو چاہتا ہے ] الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا [ دنیوی زندگی کو ] وَزِيْنَتَهَا [ اور اس کی زینت کو ] نُوَفِّ [ تم ہم پورا پورا دیں گے ] اِلَيْهِمْ [ ان کی طرف ] اَعْمَالَهُمْ [ ان کے اعمال (کے اجر) کو ] فِيْهَا [ اس (دنیا) میں ] وَهُمْ [ اور وہ لوگ ] فِيْهَا [ اس (دنیا ) میں ] لَا يُبْخَسُوْنَ [ حق سے کم نہ دیئے جائیں گے ] (آیت ۔ 15) من شرطیہ ہے ۔ کان یرید ۔ کو ماضی استمراری ماننے کی گنجائش ہے لیکن ہماری ترجیح ہے کہ کان کو فعل ناقص مانیں ۔ اس کا اسم اس میں شامل ضمیر ہے اور یرید سے آگے جملہ فعلیہ اس کی خبر ہے ۔ اس طرح یہ جملہ اسمیہ ہوگا اور اس کا ترجمہ حال میں ہوگا ۔ من کا جواب شرط ہونے کی وجہ سے نوف مجزوم ہوا ہے ، دونوں جگہ فیھا کی ضمیر الحیوۃ الدنیا کے لئے ہے۔
Ayah 11:16

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ١ۖ٘ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 11:16 in the Quran reader

مگر آخرت میں ایسے لوگوں کے لیے آگ کے سوا کچھ نہیں ہے (وہاں معلوم ہو جائے گا کہ) جو کچھ انہوں نے دنیا میں بنایا وہ سب ملیامیٹ ہو گیا اور اب ان کا سارا کیا دھرا محض باطل ہے

اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ [ یہ وہ لوگ ہیں ] لَيْسَ [ نہیں ہے ] لَهُمْ [ جن کے لئے ] فِي الْاٰخِرَةِ [ آخرت میں ] اِلَّا [ مگر ] النَّارُ ڮ [آگ ] وَحَبِطَ [ اور اکارت ہوا ] مَا [ وہ جو ] صَنَعُوْا [ انھوں نے کاریگری کی ] فِيْهَا [ اس (دنیا ) میں ] وَبٰطِلٌ [ اور باطل ہونے والا ہے ] مَّا [ وہ جو ] كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ [ یہ لوگ کرتے تھے ]
Ayah 11:17

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَ یَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ١ۚ فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ١ۗ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 11:17 in the Quran reader

پھر بھلا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک صاف شہادت رکھتا تھا، اس کے بعد ایک گواہ بھی پروردگار کی طرف سے (اس شہادت کی تائید میں) آ گیا، اور پہلے موسیٰؑ کی کتاب رہنما اور رحمت کے طور پر آئی ہوئی بھی موجود تھی (کیا وہ بھی دنیا پرستوں کی طرح اس سے انکار کرسکتا ہے؟) ایسے لوگ تو اس پر ایمان ہی لائیں گے اور انسانی گروہوں میں سے جو کوئی اس کا انکار کرے تو اس کے لیے جس جگہ کا وعدہ ہے وہ دوزخ ہے پس اے پیغمبرؐ، تم اِس چیز کی طرف سے کسی شک میں نہ پڑنا، یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے مگر اکثر لوگ نہیں مانتے

اَفَمَنْ [ تو کیا وہ لوگ جو ] كَانَ [ ہوں ] عَلٰي بَيِّنَةٍ [ ایک شفاف (فطرت) پر ] مِّنْ رَّبِّهٖ [ اپنے (کی جانب ) سے ] وَيَتْلُوْهُ [ اور اس کے ساتھ ساتھ چلتا ہو ] شَاهِدٌ [ ایک گواہی دینے والا (قرآن ) ] مِّنْهُ [ اس (کی طرف) سے ] وَمِنْ قَبْلِهٖ [ اور اس سے پہلے ] كِتٰبُ مُوْسٰٓى [ موسیٰ کی کتاب ہو ] اِمَامًا [ رہنما ہوتے ہوئے ] وَّرَحْمَةً ۭ [ اور رحمت ہوتے ہوئے (ان کے برابر ہوں گے جوان سے محروم ہیں ) ] اُولٰۗىِٕكَ [ یہ لوگ ہی ] يُؤْمِنُوْنَ [ ایمان لاتے ہیں ] بِهٖ ۭ [ اس (قرآن ) پر ] وَمَنْ [اور جو کوئی ] يَّكْفُرْ [ انکار کرے گا ] بِهٖ [ اس (قرآن ) کا ] مِنَ الْاَحْزَابِ [ تمام گروہوں میں سے ] فَالنَّارُ [ تو آگ ] مَوْعِدُهٗ ۚ [ اس کے وعدہ کی جگہ سے ] فَلَا تَكُ [ پس آپ مت ہوں ] فِيْ مِرْيَةٍ [ کسی شک میں ] مِّنْهُ ۤ [ اس (قرآن ) سے ] اِنَّهُ [ یقینا یہ ] الْحَقُّ [ ہی حق ہے ] مِنْ رَّبِّكَ [ آپ کے رب (کی جانب ) سے ] وَلٰكِنَّ [اور لیکن ] اَكْثَرَ النَّاسِ [ لوگوں کی اکثریت ] لَا يُؤْمِنُوْنَ [ ایمان نہیں لائے گی ] ترکیب : (آیت ۔ 17) اس آیت کے معنی مراد کو سمجھنے کے متعدد امکانات موجود ہیں ۔ کیونکہ من کو جمع کے مفہوم میں بھی لیا جاسکتا ہے اور واحد بھی ۔ اس وقت ایک غیر معین شخص بھی مراد ہوسکتا ہے ۔ اور رسول اللہ ﷺ بھی ۔ بینۃ صفت ہے ۔ اس کا موصوف محذوف ہے جو شریعت یا سبیل بھی ہوسکتا ہے اور فطرت کی بدیہات بھی ۔ پھر آگے آنے والی ضمیروں کے مراجع کے تعین میں بھی اختلاف ممکن ہے اسی لئے اس آیت کے مختلف تراجم اور تفسیری اقوال ملتے ہیں ۔ ان میں سے کسی کو بھی غلط نہیں کہہ سکتے ۔ صرف اپنی ترجیح بیان کرسکتے ہیں ۔ من جمع کے مفہوم میں ہے کیونکہ آگے اولئک آرہا ہے ۔ یہ من استفہامیہ ہے اور اس کے سوال کا جواب محذوف ہے جسے ترجمہ میں ظاہر کرنا ضروری ہے ۔ بینۃ کا موصوف محذوف فطرت کی بدیہات ہیں ۔ یتلوہ کی ضمیر بینۃ کے لئے ہے کیونکہ مؤنث غیر حقیقی کے لئے مذکر اور مؤنث دونوں میں سے کوئی بھی ضمیر آسکتی ہے ۔ منہ کی ضمیر رب کے لئے ہے ، قبلہ کی ضمیر شاھد کے لئے ہے ۔ کتب موسیٰ مبتدا مؤخر ہے، اس کی خبر محذوف ہے اور من قبلہ قائم مقام خبر مقدم ہے جبکہ امام اور رحمۃ حال ہیں ۔ یؤمنون بہ اور یکفربہ کی ضمیریں شاھد کے لئے ہیں۔ الاحزاب پر لام جنس ہے ۔
Ayah 11:18

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ؕ اُولٰٓئِكَ یُعْرَضُوْنَ عَلٰى رَبِّهِمْ وَ یَقُوْلُ الْاَشْهَادُ هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ۚ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 11:18 in the Quran reader

اور اُس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ گھڑے؟ ایسے لوگ اپنے رب کے حضور پیش ہوں گے اور گواہ شہادت دیں گے کہ یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ گھڑا تھا سنو! خدا کی لعنت ہے ظالموں پر

وَمَنْ [ اور کون ] اَظْلَمُ [ زیادہ ظالم ہے ] مِمَّنِ [ اس سے جس نے ] افْتَرٰي [ گھڑا ] عَلَي اللّٰهِ [ اللہ پر ] كَذِبًا ۭ [ ایک جھوٹ ] اُولٰۗىِٕكَ [ وہ لوگ ہیں ] يُعْرَضُوْنَ [ جو پیش کئے جائیں گے ] عَلٰي رَبِّهِمْ [ اپنے رب پر ] وَيَقُوْلُ [ اور کہیں گے ] الْاَشْهَادُ [گواہی دینے والے ] هٰٓؤُلَاۗءِ الَّذِيْنَ [ یہ وہ ہیں جنھوں نے ] كَذَبُوْا [ جھوٹ کہا ] عَلٰي رَبِّهِمْ ۚ [ اپنے رب پر ] اَلَا [ سن لو ] لَعْنَةُ اللّٰهِ [ اللہ کی لعنت ہے ] عَلَي الظّٰلِمِيْنَ [ ظلم کرنے والوں پر ] (آیت ۔ 18) یعرضون باب افعال کا نہیں بلکہ ثلاثی مجرد کا مجہول ہے ۔
Ayah 11:19

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 11:19 in the Quran reader

اُن ظالموں پر جو خدا کے راستے سے لوگوں کو روکتے ہیں، اس کے راستے کو ٹیٹرھا کرنا چاہتے ہیں اور آخرت کا انکار کرتے ہیں

الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جو ] يَصُدُّوْنَ [ روکتے ہیں ] عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ [ اللہ کی راہ سے ] وَيَبْغُوْنَهَا [ اور تلاش کرتے ہیں اس کو ] عِوَجًا ۭ [ کجی کو ] وَهُمْ [ اور وہ لوگ ] بِالْاٰخِرَةِ [ آخرت کا ] هُمْ كٰفِرُوْنَ [ ہی انکار کرنے والے ہیں ]
Ayah 11:20

اُولٰٓئِكَ لَمْ یَكُوْنُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ١ۘ یُضٰعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ مَا كَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ وَ مَا كَانُوْا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 11:20 in the Quran reader

وہ زمین میں اللہ کو بے بس کرنے والے نہ تھے اور نہ اللہ کے مقابلہ میں کوئی ان کا حامی تھا انہیں اب دوہرا عذاب دیا جائے گا وہ نہ کسی کی سن ہی سکتے تھے اور نہ خود ہی انہیں کچھ سوجھتا تھا

اُولٰۗىِٕكَ [ وہ لوگ ] لَمْ يَكُوْنُوْا [ ہرگز نہیں ہیں ] مُعْجِزِيْنَ [ عاجز کرنے والے (مومنین کو ) ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] وَمَا كَانَ [ اور نہیں ہے ] لَهُمْ [ان کے لئے ] مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ ] مِنْ اَوْلِيَاۗءَ ۘ [ کوئی بھی کارساز ] يُضٰعَفُ [ کئی گنا کیا جائے گا ] لَهُمُ [ ان کے لئے ] الْعَذَابُ ۭ [ عذاب کو ] مَا كَانُوْا يَسْتَطِيْعُوْنَ [ وہ استطاعت نہیں رکھتے تھے ] السَّمْعَ [ سن کر سمجھنے کی ] وَمَا كَانُوْا يُبْصِرُوْنَ [ اور وہ لوگ دیکھ کر سمجھتے نہیں تھے ] (آیت ۔ 20) معجزین اسم المفعول ہے جو فعل کا عمل کررہا ہے اور اس کا مفعول محذوف ہے جو اللہ کی راہ کے راہی یعنی مومینین ہوسکتا ہے ۔
Ayah 11:21

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 11:21 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خود گھاٹے میں ڈالا اور وہ سب کچھ ان سے کھویا گیا جو انہوں نے گھڑ رکھا تھا

اُولٰۗىِٕكَ [ وہ لوگ ] الَّذِيْنَ [ وہ ہیں جنھوں نے ] خَسِرُوْٓا [ گھاٹے میں ڈالا ] اَنْفُسَهُمْ [ اپنے آپ کو ] وَضَلَّ [ اور گم ہوا ] عَنْهُمْ [ ان سے ] مَّا [ وہ جو ] كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ [ وہ لوگ گھڑا کرتے تھے ]
Ayah 11:22

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 11:22 in the Quran reader

نا گزیر ہے کہ وہی آخرت میں سب سے بڑھ کر گھاٹے میں رہیں

لَا جَرَمَ [ کوئی شک نہیں ] اَنَّهُمْ [ کہ وہ لوگ ] فِي الْاٰخِرَةِ [ آخرت میں ] هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ [ وہی سب سے زیادہ گھاٹا پانے والے ہیں ]
Ayah 11:23

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَخْبَتُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ١ۙ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 11:23 in the Quran reader

رہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور اپنے رب ہی کے ہو کر رہے، تو یقیناً وہ جنتی لوگ ہیں اور جنت میں وہ ہمیشہ رہیں گے

اِنَّ [بیشک ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] وَعَمِلُوا [اور عمل کئے ] الصّٰلِحٰتِ [ نیکیوں کے ] وَاَخْبَتُوْٓا [ اور عاجزی اختیار کی ] اِلٰي رَبِّهِمْ ۙ [ اپنے رب کی طرف ] اُولٰۗىِٕكَ [ وہی لوگ ] اَصْحٰبُ الْجَــنَّةِ ۚ [ جنت والے ہیں ] هُمْ [ وہ لوگ ] فِيْهَا [ اس میں ] خٰلِدُوْنَ [ ہمیشہ رہنے والے ہیں ] خ ب ت : (ض) ۔ خبتا (1) کسی کا چرچا مٹ جانا ۔ (2) پست اور نرم ہونا۔ (افعال ) اخباتا ، پست اور نرم زمین میں اترنا ، پستی اور عاجزی اختیار کرنا۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 23، مخبت ۔ اسم الفاعل ہے ۔ عاجزی کرنے والا ۔ وبشر المخبتین (اور آپ خوشخبری سنا دیں عاجزی کرنے والوں کو ] 22:34
Ayah 11:24

مَثَلُ الْفَرِیْقَیْنِ كَالْاَعْمٰى وَ الْاَصَمِّ وَ الْبَصِیْرِ وَ السَّمِیْعِ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 11:24 in the Quran reader

اِن دونوں فریقوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک آدمی تو ہو اندھا بہرا اور دوسرا ہو دیکھنے اور سننے والا، کیا یہ دونوں یکساں ہو سکتے ہیں؟ کیا تم (اِس مثال سے) کوئی سبق نہیں لیتے؟

مَثَلُ الْفَرِيْقَيْنِ [ دو فریقوں کی مثال ] كَالْاَعْمٰى [ (ایک ) اندھے جیسا ] وَالْاَصَمِّ [ اور بہرے جیسا ] [وَالْبَصِيْرِ [دیکھنے والے جیسا ] [ وَالسَّمِيْعِ ۭ [ اور سمیع جیسا ] هَلْ [ کیا ] يَسْتَوِيٰنِ [ یہ دونوں برابر ہوں گے ] مَثَلًا ۭ [ بلحاظ مثال کے ] اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ [ تو کیا تم لوگ یاد دہانی حاصل نہیں کرتے ]
Ayah 11:25

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ١٘ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 11:25 in the Quran reader

(اور ایسے ہی حالات تھے جب) ہم نے نوحؑ کو اُس کی قوم کی طرف بھیجا تھا (اُس نے کہا) "میں تم لوگوں کو صاف صاف خبردار کرتا ہوں

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا [ اور بیشک ہم بھیج چکے ہیں ] نُوْحًا [ نوح کو ] اِلٰي قَوْمِهٖٓ ۡ [ ان کی قوم کی طرف ] اِنِّىْ [(انھوں نے کہا) کہ میں ] لَكُمْ [ تمہارے لئے ] نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ [ ایک واضح خبردار کرنے والا ہوں ] نوٹ ۔ 1: آیت 25 سے 49 تک مسلسل حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر ہے ۔ درمیان میں ایک آیت نمبر 35 ایسی ہے جس کے متعلق دورائے ہیں ۔ ایک رائے یہ ہے کہ یہ آیت بھی اسی سلسلہ کلام کی ایک کڑی ہے ۔ ایسی صورت میں افتراہ کی ضمیر مفعول ی حضرت نوح (علیہ السلام) کی نصیحت (نضحی ) کے لئے مانی جائے گی اور قل کا خطاب حضرت نوح (علیہ السلام) کے لئے ہوگا ۔ دوسری رائے یہ ہے کہ سلسلہ کلام کو منقطع کرکے مشرکین مکہ کے ایک اعتراض کا حوالہ دیا گیا ہے اور اس کا جواب دینے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ ایسی صورت میں افتراہ کی ضمیر مفعولی قرآن کے لئے مانی جائے گی اور قل کا خطاب رسول اللہ ﷺ کے لئے ہوگا ۔ ترجمہ میں ہم نے دوسری رائے کو ترجیح دی ہے اس دوسری رائے کی جو توضیح تفیہم القرآن میں دی ہوئی ہے وہ یہ ہے ۔ ” انداز کلام سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی زبان سے نوح (علیہ السلام) کا یہ قصہ سنتے ہوئے مخالفین نے اعتراض کیا ہوگا کہ محمد ﷺ یہ قصے بنا بنا کر اس لئے پیش کرتا ہے کہ انہیں ہم پر چسپاں کرے ۔ جو چوٹیں وہ ہم پر براست نہیں کرنا چاہتا ان کے لئے ایک قصہ گھڑتا ہے اور اس طرح ” درحدیث دیگراں “ کے انداز میں ہم پر چوٹ کرتا ہے ۔ لہذا سلسلہ کلام توڑ کر ان کے اعتراض کا جواب اسی فقرے میں دیا گیا ہے “ اس کے علاوہ ایک بات اور ہے ۔ قرآن مجید میں قل کا خطاب بلالعموم رسول اللہ ﷺ کے لئے اور آپ کے توسط سے امت مسلمہ کے لئے آیا ہے ۔ اس لئے اس مقام پر قل کا خطاب حضرت نوح (علیہ السلام) کے لئے ماننا قرآن کے عمومی مزاج سے مطابقت نہیں رکھتا۔
Ayah 11:26

اَنْ لَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ اَلِیْمٍ Open ayah 11:26 in the Quran reader

کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو ورنہ مجھے اندیشہ ہے کہ تم پر ایک روز دردناک عذاب آئے گا"

اَنْ [ کہ ] لَّا تَعْبُدُوْٓا [ تم لوگ بندگی مت کرو ] اِلَّا [ مگر ] اللّٰهَ ۭ [ اللہ کی ] اِنِّىْٓ [ بیشک میں ] اَخَافُ [ ڈرتا ہوں ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر ] عَذَابَ يَوْمٍ اَلِيْمٍ [ ایک درد ناک دن کے عذاب سے ] ترکیب : (آیت ۔ 26) الیم مضاف الیہ یوم کی صفت ہے ۔ یہ اگر مضاف عذاب کی صفت ہوتا تو الالیم آتا ۔
Ayah 11:27

فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَ مَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِیْنَ هُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِ١ۚ وَ مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 11:27 in the Quran reader

جواب میں اُس کی قوم کے سردار، جنہوں نے اس کی بات ماننے سے انکار کیا تھا، بولے "ہماری نظر میں تو تم اس کے سوا کچھ نہیں ہو کہ بس ایک انسان ہو ہم جیسے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہماری قوم میں سے بس اُن لوگوں نے جو ہمارے ہاں اراذل تھے بے سوچے سمجھے تمہاری پیروی اختیار کر لی ہے اور ہم کوئی چیز بھی ایسی نہیں پاتے جس میں تم لوگ ہم سے کچھ بڑھے ہوئے ہو، بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں"

فَقَالَ [ تو کہا ] الْمَلَاُ الَّذِيْنَ [ ان کے سرداروں نے جنھوں نے ] كَفَرُوْا [ کفر کیا ] مِنْ قَوْمِهٖ [ انکی قوم میں سے ] مَا نَرٰىكَ [ ہم نہیں دیکھتے آپ کو ] اِلَّا [ مگر ] بَشَرًا [ ایک بشر ] مِّثْلَنَا [ اپنے جیسا ] وَمَا نَرٰىكَ [ اور ہم نہیں دیکھتے آپ کو ] اتَّبَعَكَ [ (کہ ) پیروی کی آپ کی ] اِلَّا الَّذِيْنَ [ سوائے ان لوگوں کے ] هُمْ [ (کہ ) وہ لوگ ] اَرَاذِلُـنَا [ ہمارے حقیر ہیں ] بَادِيَ الرَّاْيِ ۚ [ بادی النظر میں ] وَمَا نَرٰي [ اور ہم نہیں دیکھتے ] لَكُمْ [ تمہارے لئے ] عَلَيْنَا [ ہم پر ] مِنْ فَضْلٍۢ [ کسی قسم کی کوئی فضیلت ] بَلْ [بلکہ ] نَظُنُّكُمْ [ ہم گمان کرتے ہیں تم لوگوں کو ] كٰذِبِيْنَ [ جھوٹ کہنے والے ] رذل (س) ۔ رذالۃ ، حقیر ہونا ۔ گھٹیا ہونا۔ ارذل ، ج : اراذل ، افعل التفضیل ہے ۔ زیادہ یا سب سے زیادہ حقیر ۔ گھٹیا ۔ (آیت )ڐوَمِنْكُمْ مَّنْ يُّرَدُّ اِلٰٓى اَرْذَلِ الْعُمُرِ [ اور تم میں وہ بھی ہیں جن کو لوٹادیا جاتا ہے عمر کے سب سے گھٹیا ( حصہ) کی طرف ] 16:70 ۔ اور زیر مطالعہ آیت ۔ 27 ۔ (آیت ۔ 27) بادی دراصل اسم الفاعل باد ہے ۔ مضاف ہونے کی وجہ سے تنوین ختم ہوئی تو ی واپس آگئی اور حال ہونے کی وجہ سے یہ حالت نصب میں ہے اس کو اتبعک اور اراذلنا ، دونوں کا حال ماننے کی گنجائش ہے ۔ ہم اسے اراذلنا کا حال مانیں گے ۔
Ayah 11:28

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّیَتْ عَلَیْكُمْ١ؕ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَ اَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ Open ayah 11:28 in the Quran reader

اس نے کہا "اے برادران قوم، ذرا سوچو تو سہی کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک کھلی شہادت پر قائم تھا اور پھر اس نے مجھ کو اپنی خاص رحمت سے بھی نواز دیا مگر وہ تم کو نظر نہ آئی تو آخر ہمارے پاس کیا ذریعہ ہے کہ تم ماننا نہ چاہو اور ہم زبردستی اس کو تمہارے سر چپیک دیں؟

قَالَ [ انھوں نے کہا ] يٰقَوْمِ [اے میری قوم ] اَ [ کیا ] رَءَيْتُمْ [ تم لوگوں نے غور کیا ] اِنْ [ (کہ ) اگر ] كُنْتُ [ میں ہوں ] عَلٰي بَيِّنَةٍ [ ایک واضح (دین ) پر ] مِّنْ رَّبِّيْ [ اپنے رب (کی طرف) سے ] وَاٰتٰىنِيْ [ اور اس نے دی مجھ کو ] رَحْمَةً [ ایک رحمت ] مِّنْ عِنْدِهٖ [ اپنے پاس سے ] فَعُمِّيَتْ [ پھر وہ پوشیدہ کی گئی ] عَلَيْكُمْ ۭ [ تم پر ] اَنُلْزِمُكُمُوْهَا [ تو (پھر بھی ) کیا ہم چمٹا دیں تم لوگوں سے اس کو ] وَ (اور) اَنْتُمْ (تم سب) لَهَا (اس کیلیے ) كٰرِهُوْنَ (سب ناپسند کرنے والے تھے ) ل زم ۔ (س) ۔ لزاما ۔ کسی سے چمٹ جانا ۔ لازم ہونا ۔ (آیت ) فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ يَكُوْنُ لِزَامًا [ تم لوگ جھٹلاچکے ہو تو عنقریب وہ یعنی عذاب چمٹ جائے گا ] 25:77 ۔ (افعال) الزاما ۔ کسی کو کسی سے چمٹا دینا ۔ لازم کرنا زیر مطالعہ آیت ۔ 28 ۔ (آیت ۔ 28) نلزمکموھا میں ھا کی ضمیر بینۃ کے لئے ہے۔
Ayah 11:29

وَ یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مَالًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 11:29 in the Quran reader

اور اے برادران قوم، میں اِس کام پر تم سے کوئی مال نہیں مانگتا، میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے اور میں اُن لوگوں کو دھکے دینے سے بھی رہا جنہوں نے میری بات مانی ہے، وہ آپ ہی اپنے رب کے حضور جانے والے ہیں مگر میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو

[وَ (اور) يٰقَوْمِ (اے میری قوم) لَآ (نہیں) اَسْـــَٔـلُكُمْ (میں مانگتا تم سے )] [عَلَيْهِ [ اس پر ] مَالًا ۭ [ کوئی مال ] اِنْ [ نہیں ہے ] اَجْرِيَ [ میرا اجر ] اِلَّا [ مگر ] عَلَي اللّٰهِ [ اللہ پر ] وَمَآ اَنَا [ اور میں نہیں ہوں ] بِطَارِدِ الَّذِيْنَ [ ان کو دھتکارنے والا جو ] اٰمَنُوْا ۭ [ ایمان لائے ] اِنَّهُمْ [ بیشک وہ لوگ ] مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ [ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں ] وَلٰكِنِّيْٓ [ اور لیکن میں ] اَرٰىكُمْ [ دیکھتاہوں تم کو ] قَوْمًا [ ایک قوم کہ ] تَجْـهَلُوْنَ [تم لوگ غلط عقائد رکھتے ہو ]
Ayah 11:30

وَ یٰقَوْمِ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ طَرَدْتُّهُمْ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 11:30 in the Quran reader

اور اے قوم، اگر میں اِن لوگوں کو دھتکار دوں تو خدا کی پکڑ سے کون مجھے بچانے آئے گا؟ تم لوگوں کی سمجھ میں کیا اتنی بات بھی نہیں آتی؟

وَيٰقَوْمِ [ اور اے میری قوم ] مَنْ [ کون ] يَّنْصُرُنِيْ [ مدد کرے گا میری ] مِنَ اللّٰهِ [ اللہ سے ( بچنے میں) ] اِنْ [اگر ] طَرَدْتُّهُمْ ۭ [ دھتکار دوں ان کو ] اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ [ تو کیا تم لوگ یاد دہانی حاصل نہیں کرتے ]
Ayah 11:31

وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ اِنِّیْ مَلَكٌ وَّ لَاۤ اَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ تَزْدَرِیْۤ اَعْیُنُكُمْ لَنْ یُّؤْتِیَهُمُ اللّٰهُ خَیْرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١ۖۚ اِنِّیْۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:31 in the Quran reader

اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، نہ یہ کہتا ہوں کہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں، نہ یہ میرا دعویٰ ہے کہ میں فرشتہ ہوں اور یہ بھی میں نہیں کہہ سکتا کہ جن لوگوں کو تمہاری آنکھیں حقارت سے دیکھتی ہیں انہیں اللہ نے کوئی بھلائی نہیں دی ان کے نفس کا حال اللہ ہی بہتر جانتا ہے اگر میں ایسا کہوں تو ظالم ہوں گا"

وَلَآ اَقُوْلُ [ اور میں نہیں کہتا ] لَكُمْ [ تم سے (کہ ) ] عِنْدِيْ [ میرے پاس ] خَزَاۗىِٕنُ اللّٰهِ [ اللہ کے خزانے ہیں ] وَلَآ اَعْلَمُ [ اور میں نہیں جانتا ] الْغَيْبَ [ غیب کو ] وَلَآ اَقُوْلُ [ اور میں نہیں کہتا ] اِنِّىْ [ کہ میں ] مَلَكٌ [ کوئی فرشتہ ہوں ] وَّلَآ اَقُوْلُ [ اور میں نہیں کہتا ] لِلَّذِيْنَ [ ان کے لئے جن کو ] تَزْدَرِيْٓ [ حقیر دیکھتی ہیں ] اَعْيُنُكُمْ [ تمہاری آنکھیں ] لَنْ يُّؤْتِيَهُمُ [ (کہ ) ہرگز نہیں دے گا ان کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] خَيْرًا ۭ [ کوئی بھلائی ] اَللّٰهُ [ اللہ ] اَعْلَمُ [ خوب جاننے والا ہے ] بِمَا [ اس کو جو ] فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ ښ [ ان کے جیوں میں ہے ] اِنِّىْٓ [ (اگر میں یہ کہوں تو ) بیشک میں ] اِذًا [ پھر تو ] لَّمِنَ الظّٰلِمِيْنَ [ یقینا میں ظلم کرنے والوں میں سے ہوں ] زری : (ض) ۔ زریا ۔ کسی پر عتاب کرنا۔ (افتعال ) ازدراء ۔ کسی کو حقیر سمجھنا زیر مطالعہ آیت ۔ 31 ۔
Ayah 11:32

قَالُوْا یٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا فَاَكْثَرْتَ جِدَا لَنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 11:32 in the Quran reader

آخر کار ان لوگوں نے کہا کہ "اے نوحؑ، تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور بہت کر لیا اب تو بس وہ عذاب لے آؤ جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو اگر سچے ہو"

قَالُوْا [ ان لوگوں نے کہا ] يٰنُوْحُ [ اے نوح ] قَدْ جٰدَلْتَنَا [ آپ بحث کرچکے ہم سے ] فَاَكْثَرْتَ [ پھر آپ نے کثرت کی ] جِدَالَنَا [ ہم سے بحث کرنے میں ] فَاْتِنَا [ تو (اب ) آپ لے آئیں ہمارے پاس ] بِمَا [ اس کو جس کا ] تَعِدُنَآ [ آپ وعدہ کرتے ہیں ہم سے ] اِنْ [ اگر ] كُنْتَ [ آپ ہیں ] مِنَ الصّٰدِقِيْنَ [ سچ کہنے والوں میں سے ]
Ayah 11:33

قَالَ اِنَّمَا یَاْتِیْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَآءَ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 11:33 in the Quran reader

نوحؑ نے جواب دیا "وہ تو اللہ ہی لائے گا، اگر چاہے گا، اور تم اتنا بل بوتا نہیں رکھتے کہ اسے روک دو

قَالَ [ انھوں نے کہا ] اِنَّمَا يَاْتِيْكُمْ بِهِ [ لائے گا تمہارے پاس اس کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] اِنْ [اگر ] شَاۗءَ [ اس نے چاہا ] وَمَآ اَنْتُمْ [ اور تم لوگ نہیں ہو ] بِمُعْجِزِيْنَ [عاجز کرنے والے ]
Ayah 11:34

وَ لَا یَنْفَعُكُمْ نُصْحِیْۤ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَانَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغْوِیَكُمْ١ؕ هُوَ رَبُّكُمْ١۫ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَؕ Open ayah 11:34 in the Quran reader

اب اگر میں تمہاری کچھ خیر خواہی کرنا بھی چاہوں تو میری خیر خواہی تمہیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی جبکہ اللہ ہی نے تمہیں بھٹکا دینے کا ارادہ کر لیا ہو، وہی تمہارا رب ہے اور اُسی کی طرف تمہیں پلٹنا ہے"

وَلَا يَنْفَعُكُمْ [ اور نفع نہیں دے گی تم کو ] نُصْحِيْٓ [ میری خیر خواہی ] اِنْ [ اگر ] اَرَدْتُّ [ میں ارادہ کروں ] اَنْ [ کہ ] اَنْصَحَ [ میں خیرخواہی کروں ] لَكُمْ [ تمہارے لئے ] اِنْ [ اگر (یعنی جبکہ ) ] كَانَ [ ہو ] اللّٰهُ [ اللہ ] يُرِيْدُ [ (کہ ) وہ ارادہ رکھتا ہو ] اَنْ [ کہ ] يُّغْوِيَكُمْ ۭ [ وہ گمراہ کرے تم کو ] هُوَ [ وہ ] رَبُّكُمْ ۣ [ تمہارا رب ہے ] وَاِلَيْهِ [ اور اس کی طرف ہی ] تُرْجَعُوْنَ [ تم لوگ لوٹائے جاؤ گے ]
Ayah 11:35

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 11:35 in the Quran reader

اے محمدؐ، کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اِس شخص نے یہ سب کچھ خود گھڑ لیا ہے؟ ان سے کہو "اگر میں نے یہ خود گھڑا ہے تو مجھ پر اپنے جرم کی ذمہ داری ہے، اور جو جرم تم کر رہے ہو اس کی ذمہ داری سے میں بری ہوں"

اَمْ [ یا ] يَقُوْلُوْنَ [ یہ لوگ کہتے ہیں ] افْتَرٰىهُ ۭ [ اس نے گھڑا اس کو (یعنی قرآن کو ) ] قُلْ [ آپ کہہ دیجئے ] اِنِ [ اگر ] افْتَرَيْتُهٗ [ میں گھڑتاہوں اس کو ] فَعَلَيَّ [ تو مجھ پر ] اِجْرَامِيْ [ میرا جرم کرنا ہے ] وَاَنَا [ اور میں ] بَرِيْۗءٌ [ بری ہوں ] مِّمَّا [ اس سے جو ] تُجْرِمُوْنَ [ تم لوگ جرم کرتے ہو ]
Ayah 11:36

وَ اُوْحِیَ اِلٰى نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ یُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَۚۖ Open ayah 11:36 in the Quran reader

نوحؑ پر وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں سے جو لوگ ایمان لا چکے بس وہ لا چکے، اب کوئی ماننے والا نہیں ہے ان کے کرتوتوں پر غم کھانا چھوڑو

[وَ اُوْحِیَ : اور وحی کی گئی ] [اِلٰی نُوْحٍ : نوح کی طرف ] [اَنَّہٗ : کہ حقیقت یہ ہے کہ ] [لَنْ یُّؤْمِنَ : ہرگز ایمان نہ لائیں گے ] [مِنْ قَوْمِکَ : آپ (علیہ السلام) کی قوم میں سے ] [اِلَّا : مگر ] [مَنْ : وہ جو ] [قَدْ اٰمَنَ : ایمان لا چکے ہیں ] [فَلَا تَبْتَئسْ : تو آپ (علیہ السلام) دل برداشتہ مت ہوں ] [بِمَا : بسبب اس کے جو ] [كَانوْا يَفْعَلُوْنَ : یہ لوگ کرتے رہتے ہیں ]
Ayah 11:37

وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 11:37 in the Quran reader

اور ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنانی شروع کر دو اور دیکھو، جن لوگوں نے ظلم کیا ہے اُن کے حق میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا، یہ سارے کے سارے اب ڈوبنے والے ہیں

[وَاصْنَعِ : اور آپ (علیہ السلام) بنائیں ] [الْفُلْكَ : کشتی ] [بِاَعْيُنِنَا : ہماری آنکھوں (کے سامنے) سے ] [وَوَحْيِنَا : اور ہماری وحی (کی مطابقت) سے ] [وَلَا تُخَاطِبْنِيْ : اور آپ (علیہ السلام) خطاب نہ کرئے گا مجھ سے ] [فِي الَّذِينَ : ان (کے بارے) میں جنھوں نے ] [ظَلَمُوْا : ظلم کیا ] [انهُمْ : بیشک وہ لوگ ] [مُّغْرَقُوْنَ : غرق کئے جانے والے ہیں ]
Ayah 11:38

وَ یَصْنَعُ الْفُلْكَ١۫ وَ كُلَّمَا مَرَّ عَلَیْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ١ؕ قَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَؕ Open ayah 11:38 in the Quran reader

نوحؑ کشتی بنا رہا تھا اور اس کی قوم کے سرداروں میں سے جو کوئی اس کے پاس سے گزرتا تھا وہ اس کا مذاق اڑاتا تھا اس نے کہا "اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو ہم بھی تم پر ہنس رہے ہیں

[وَيَصْنَعُ : اور (یعنی چنانچہ) وہ بناتے ہیں ] [الْفُلْكَ : کشتی ] [وَكُلَمَا : اور جب کبھی ] [مَرَّ : گزر ہوتا ] [عَلَيْهِ : ان (علیہ السلام) پر ] [مَلَاٌ: کچھ سرداروں کا ] [مِّنْ قَوْمِهٖ : ان (علیہ السلام) کی قوم میں سے ] [سَخِرُوْا : تو وہ مذاق ] [مِنْهُ : ان (علیہ السلام) سے ] [قَالَ : تو وہ (علیہ السلام) کہتے ] [ان : اگر ] [تَسْخَرُوْا : تم لوگ مذاق کرتے ہو ] [مِنَا : ہم سے ] [فَانا نَسْخَرُ : تو ہم مذاق کریں گے ] [مِنْكُمْ : تم سے ] [ كَمَا : جیسے ] [تَسْخَرُوْنَ : تم لوگ مذاق کرتے ہو ]
Ayah 11:39

فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 11:39 in the Quran reader

عنقریب تمہیں خود معلوم ہو جائے گا کہ کس پر وہ عذاب آتا ہے جو اُسے رسوا کر دے گا اور کس پر وہ بلا ٹوٹ پڑتی ہے جو ٹالے نہ ٹلے گی"

[فَسَوْفَ : تو عنقریب ] [تَعْلَمُوْنَۙ: تم لوگ جان لوگے ] [مَنْ : کون ہے ] [يَاْتِيْهِ : آئے گا جس کے پاس ] [عَذَابٌ: ایسا عذاب جو ] [يُّخْزِيْهِ : رسوا کرے گا اس کو ] [وَيَحِلُّ : اور اترے گا ] [عَلَيْهِ : اس پر ] [عَذَابٌ مُّقِيْمٌ: ایک قائم رہنے والا عذاب ]
Ayah 11:40

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ وَ مَنْ اٰمَنَ١ؕ وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 11:40 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور وہ تنو ر ابل پڑا تو ہم نے کہا "ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو، اپنے گھر والوں کو بھی سوائے اُن اشخاص کے جن کی نشان دہی پہلے کی جا چکی ہے اس میں سوار کرا دو اور ان لوگوں کو بھی بٹھا لو جو ایمان لائے ہیں" اور تھوڑے ہی لوگ تھے جو نوحؑ کے ساتھ ایمان لائے تھے

[حَتّٰٓي : یہاں تک کہ ] [اِذَا : جب ] [جَاۗءَ : آیا ] [اَمْرُنَا : ہمارا حکم ] [وَفَارَ : اور ابل پڑا ] [التَّنُّوْرُ : تنور ] [قُلْنَا : تو ہم نے کہا ] [احْمِلْ : آپ لاد لیں ] [فِيْهَا : اس (کشتی) میں ] [مِنْ كُلٍّ : ہر ایک چیز میں سے ] [زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ : دو جوڑوں کو ] [وَاَهْلَكَ : اور اپنے گھر والوں کو ] [اِلَّا مَنْ : سوائے اس کے ] [سَبَقَ : پہلے ہوچکا ] [عَلَيْهِ : جس کے خلاف ] [الْقَوْلُ : فیصلہ ] [وَمَنْ : او اس کو (بھی) جو ] [اٰمَنَ : ایمان لایا ] [وَمَآ اٰمَنَ : اور ایمان نہیں لائے ] [مَعَهٗٓ: ان کے ساتھ ] [اِلَّا : مگر ] [قَلِيْلٌ: تھوڑے سے (لوگ)] [التَّنُّوْر : ج تَنَانِیْرُ ۔ تنور۔ زیر مطالعہ آیت۔ 40، اس مادہ سے کوئی فعل نہیں استعمال ہوتا۔]