10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 10:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِ Open ayah 10:1 in the Quran reader

ا ل ر، یہ اُس کتاب کی آیات ہیں جو حکمت و دانش سے لبریز ہے

الۗرٰ ۣ تِلْكَ [یہ ] اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِيْمِ [حکمت والی کتاب کی آیات ہیں ]
Ayah 10:2

اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْهُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؔؕ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:2 in the Quran reader

کیا لوگوں کے لیے یہ ایک عجیب بات ہو گئی کہ ہم نے خود اُنہی میں سے ایک آدمی کو اشارہ کیا کہ (غفلت میں پڑے ہوئے) لوگوں کو چونکا دے اور جو مان لیں ان کو خوشخبری دیدے کہ ان کے لیے اُن کے رب کے پاس سچی عزت و سرفرازی ہے؟ (کیا یہی وہ بات ہے جس پر) منکرین نے کہا کہ یہ شخص تو کھلا جادوگر ہے؟

اَ [کیا ] كَانَ [ یہ ہوا ] لِلنَّاسِ [ لوگوں کے لیے ] عَجَبًا [ عجب ] اَنْ [ کہ ] اَوْحَيْنَآ [ وحی کیا ہم نے ] اِلٰى رَجُلٍ [ ایک شخص کی طرف ] مِّنْھُمْ [ ان میں سے ] اَنْ [کہ ] اَنْذِرِ [ تو خبردار کر ] النَّاسَ [ لوگوں کو ] وَبَشِّرِ [اور خوشخبری دے ] الَّذِيْنَ [ ان لوگوں کو جو ] اٰمَنُوْٓا [ ایمان لائے ] اَنَّ [ کہ ] لَھُمْ [ ان کے لیے ہے ] قَدَمَ صِدْقٍ [ سچائی کا رتبہ ] عِنْدَ رَبِّهِمْ ڼ [ ان کے رب کے پاس ] قَالَ [ تو کہا ] الْكٰفِرُوْنَ [ کافروں نے ] اِنَّ [ بیشک ] ھٰذَا [یہ (تو) ] لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ [ یقینا ایک کھلا جادوگر ہے ] ترکیب : (آیت ۔ 2) کان کا اسم اس میں شامل ھو کی ضمیر ہے اور عجبا اس کی خبر ہے ، ان کا اسم صدق ہے اس لیے اس کے مضاف قدم پر نصب آئی ہے۔ اس کی خبر واجب یا ثابت محذوف ہے اور لہم قائم مقام خبر ہے ۔
Ayah 10:3

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 10:3 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب وہی خدا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر تخت حکومت پر جلوہ گر ہوا اور کائنات کا انتظام چلا رہا ہے کوئی شفاعت (سفارش) کرنے والا نہیں اِلّا یہ کہ اس کی اجازت کے بعد شفاعت کرے یہی اللہ تمہارا رب ہے لہٰذا تم اُسی کی عبادت کرو پھر کیا تم ہوش میں نہ آؤ گے؟

اِنَّ [ بیشک ] رَبَّكُمُ [ تم لوگوں کی پرورش کرنے والا ] اللّٰهُ الَّذِيْ [ وہ اللہ ہے جس نے ] خَلَقَ [ پیدا کیا ] السَّمٰوٰتِ [آسمانوں کو ] وَالْاَرْضَ [ اور زمین کو ] فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ [ چھ دنوں میں ] ثُمَّ [پھر ] اسْتَوٰى [ وہ متمکن ہوا ] عَلَي الْعَرْشِ [ عرش پر ] يُدَبِّرُ [ وہ تدبیر کرتا ہے ] الْاَمْرَ ۭ [ تمام معاملات کی ] مَا [ نہیں ہے ] مِنْ شَفِيْعٍ [ کوئی بھی شفاعت کرنے والا ] اِلَّا [ مگر ] مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ ۭ [ اس کی اجازت کے بعد ] ذٰلِكُمُ اللّٰهُ [ یہ اللہ ] رَبُّكُمْ [ تم لوگوں کی پرورش کرنے والا ہے ] فَاعْبُدُوْهُ ۭ [ پس تم لوگ اس کی بندگی کرو ] اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ [ تو کیا تم لوگ نصیحت نہیں حاصل کرتے ]
Ayah 10:4

اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ اِنَّهٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ Open ayah 10:4 in the Quran reader

اسی کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے، یہ اللہ کا پکا وعدہ ہے بے شک پیدائش کی ابتدا وہی کرتا ہے، پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا، تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ان کو پورے انصاف کے ساتھ جزا دے، اور جنہوں نے کفر کا طریقہ اختیار کیا وہ کھولتا ہوا پانی پییں اور دردناک سزا بھگتیں اُس انکار حق کی پاداش میں جو وہ کرتے رہے

اِلَيْهِ [ اس کی طرف ہی ] مَرْجِعُكُمْ [ تمہیں لوٹنا ہے ] جَمِيْعًا ۭ [ سب کے سب کو ] وَعْدَ اللّٰهِ [ (بیشک ) اللہ کا وعدہ (ثابت) ہے ] حَقًّا ۭ [ حق ہوتے ہوئے ] اِنَّهٗ [ بیشک وہ ] يَبْدَؤُا [ابتدا کرتا ہے ] الْخَلْقَ [ پیدا کرنے کی ] ثُمَّ [ پھر ] يُعِيْدُهٗ [ وہ دوبارہ (پیدا) کرے گا اسکو ] لِيَجْزِيَ [ تاکہ وہ بدلہ دے ] الَّذِيْنَ [ ان لوگوں کو جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] وَعَمِلُوا [ اور انھوں نے عمل کیے ] الصّٰلِحٰتِ [ نیک ] بِالْقِسْطِ ۭ [ انصاف سے ] وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جنھوں نے ] كَفَرُوْا [ کفر کیا ] لَھُمْ [ ان کے لیے ] شَرَابٌ [ پینے کی چیز ہے ] مِّنْ حَمِيْمٍ [ کھولتے (پانی ) سے ] وَّعَذَابٌ اَلِيْمٌۢ [ اور ایک دردناک عذاب ہے ] بِمَا [ اور بسبب اس کے جو ] كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ [ وہ لوگ کفر کرتے تھے ] (آیت ۔ 4) وعداللہ کی نصب بتارہی ہے کہ اس سے پہلے ان محذوف ہے ۔ اس کی خبر بھی محذوف ہے جو ثابت یا واجب ہوسکتی ہے۔ حقا حال ہے ۔
Ayah 10:5

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّ١ۚ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 10:5 in the Quran reader

وہی ہے جس نے سُورج کو اجیالا بنایا اور چاند کو چمک دی اور چاند کے گھٹنے بڑھنے کی منزلیں ٹھیک ٹھیک مقرر کر دیں تاکہ تم اُس سے برسوں اور تاریخوں کے حساب معلوم کرو اللہ نے یہ سب کچھ (کھیل کے طور پر نہیں بلکہ) با مقصد ہی بنایا ہے وہ اپنی نشانیوں کو کھول کھول کر پیش کر رہا ہے اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں

ھُوَ [وہ ] الَّذِيْ [ وہی ہے جس نے ] جَعَلَ [ بنایا ] الشَّمْسَ [ سورج کو ] ضِيَاۗءً [ روشنیاں ] وَّالْقَمَرَ [ا ورچاند کو ] نُوْرًا [ نور ] وَّقَدَّرَهٗ [ اور اس نے مقرر کیا اس کو ] مَنَازِلَ [ بلحاظ منزلوں کے ] لِتَعْلَمُوْا [ تاکہ تم لوگ جان لو ] عَدَدَ السِّـنِيْنَ [ سالوں کی گنتی کو ] وَالْحِسَابَ ۭ [اور حساب کو ] مَا [ نہیں ] خَلَقَ [ پیدا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] ذٰلِكَ [ یہ ] اِلَّا [ مگر ] بِالْحَقِّ ۚ [ حق کے ساتھ ] يُفَصِّلُ [ وہ کھول کھول کر بیان کرتا ہے ] الْاٰيٰتِ [ نشانیوں کو ] لِقَوْمٍ [ ایسے لوگوں کے لیے جو ] يَّعْلَمُوْنَ [ علم رکھتے ہیں ] نوٹ ۔ 1: لفظ ضیاء میں روشنی کے ساتھ تپش کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے اور نور ، خنک (یعنی ٹھنڈی ) روشنی کو کہتے ہیں اور یہ ایک امر واقعہ ہے کہ سورج کی روشنی میں تپش ہوتی ہے اور چاند کی روشنی ٹھنڈی ہوتی ہے ۔ (تدبر قرآن) ۔ ضیاء لفظ ضوء کی جمع ہے ۔ اس میں شاید اس طرف اشارہ ہے کہ روشنی کے ساتھ رنگ اور قسمیں جو دنیا میں پائی جاتی ہیں ، آفتاب ان تمام اقسام کا جامع ہے جو بارش کے بعد قوس قزح میں ظاہر ہوتے ہیں ۔ (معارف القرآن) نوٹ ۔ 2: شمسی وقمری سال اور مہینے قدیم زمانہ سے معروف ہیں لیکن چاند کے ذریعے مہینہ اور تاریخ کا حساب مشاہدہ اور تجربہ سے معلوم ہے ۔ جبکہ شمس کی منزلوں کے حسابات سوائے ریاضی والوں کے کوئی دوسرا نہیں سمجھ سکتا ۔ اس لیے عوام الناس کی آسانی کی خاطر عموما احکام اسلامیہ میں قمری مہینوں اور تاریخوں کا اعتبار کیا گیا ہے ۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ شمسی حساب رکھنا یا استعمال کرنا جائز ہے ۔ کوئی شخص اگر نماز ، روزہ ، حج زکوۃ ، عدت وغیرہ میں قمری حساب کو شریعت کے مطابق استعمال کرے ، تو پھر اسے اختیار ہے کہ اپنے کاروبار اور تجارت وغیرہ میں شمسی حساب استعمال کرے ۔ البتہ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمانوں میں مجموعی طور پر قمری حساب جاری رہے تاکہ رمضان اور حج وغیرہ کے اوقات معلوم ہوتے رہیں ۔ ایسا نہ ہو کہ شمسی مہینوں کے علاوہ کوئی مہینہ معلوم ہی نہ ہو ، اس لیے قمری حساب کو باقی رکھنا مسلمانوں کے ذمہ فرض کفایہ ہے ۔ اور یہ سنت رسول اللہ ﷺ ہے۔ اس کا اتباع باعث ثواب اور باعث برکت ہے۔ (معارف القرآن )
Ayah 10:6

اِنَّ فِی اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ Open ayah 10:6 in the Quran reader

یقیناً رات اور دن کے الٹ پھیر میں اور ہر اُس چیز میں جو اللہ نے زمین اور آسمانوں میں پیدا کی ہے، نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو (غلط بینی و غلط روی سے) بچنا چاہتے ہیں

اِنَّ [ یقینا ] فِي اخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ [ دن اور رات کے اختلاف میں ] وَمَا [ اور اس میں جو ] خَلَقَ [پیدا کیا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] فِي السَّمٰوٰتِ [ آسمانوں میں ] وَالْاَرْضِ [ اور زمین میں ] لَاٰيٰتٍ [ ضرور نشانیاں ہیں ] لِّقَوْمٍ [ایسے لوگوں کے لیے جو ] يَّتَّقُوْنَ [ تقوی کرتے ہیں ] ( آیت ۔ 6) ان کا اسم ہونے کی وجہ سے لایت حالت نصب میں ہے، اس کی خبر موجود محذوف ہے ۔ اور فی اختلاف سے لے کر والارض تک قائم مقام خبر ہے ۔
Ayah 10:7

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ اطْمَاَنُّوْا بِهَا وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَۙ Open ayah 10:7 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی ہی پر راضی اور مطمئن ہو گئے ہیں، اور جو لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں

اِنَّ [ بیشک ] الَّذِيْنَ [ جو لوگ ] لَا يَرْجُوْنَ [ امید نہیں رکھتے ] لِقَاۗءَنَا [ ہماری ملاقات کی ] وَ [ اس حال میں کہ ] رَضُوْا [ وہ راضی ہوئے ] بِالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا [ دنیوی زندگی سے ] وَاطْمَاَنُّوْا [ اور مطمئن ہوئے ] بِهَا [ اس پر ] وَالَّذِيْنَ [ اور جو لوگ ] ھُمْ [ وہ ہیں جو ] عَنْ اٰيٰتِنَا [ ہماری نشانیوں سے ] غٰفِلُوْنَ [ غفلت برتنے والے ہیں ]
Ayah 10:8

اُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:8 in the Quran reader

اُن کا آخری ٹھکانہ جہنم ہو گا اُن برائیوں کی پاداش میں جن کا اکتساب وہ (اپنے اس غلط عقیدے اور غلط طرز عمل کی وجہ سے) کرتے رہے

اُولٰۗىِٕكَ [ یہ وہی لوگ ہیں ] مَاْوٰىھُمُ [ جن کا ٹھکانہ ] النَّارُ [ آگ ہے ] بِمَا [بسبب اس کے جو ] كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ [ وہ کماتے تھے ]
Ayah 10:9

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَهْدِیْهِمْ رَبُّهُمْ بِاِیْمَانِهِمْ١ۚ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 10:9 in the Quran reader

اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جو لوگ ایمان لائے (یعنی جنہوں نے اُن صداقتوں کو قبول کر لیا جو اس کتاب میں پیش کی گئی ہیں) اور نیک اعمال کرتے رہے انہیں اُن کا رب اُن کے ایمان کی وجہ سے سیدھی راہ چلائے گا، نعمت بھری جنتوں میں ان کے نیچے نہریں بہیں گی

اِنَّ [بیشک ] الَّذِيْنَ [ جو لوگ ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] وَعَمِلُوا [ اور انھوں نے عمل کیے ] الصّٰلِحٰتِ [ نیک ] يَهْدِيْهِمْ [ ہدایت دے گا ان کو ] رَبُّھُمْ [ ان کا رب ] بِاِيْمَانِهِمْ ۚ [ ان کے ایمان کی وجہ سے ] تَجْرِيْ [ بہیں گی ] مِنْ تَحْتِهِمُ [ ان کے نیچے سے ] الْاَنْهٰرُ [ نہریں ] فِيْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ [ نعمتوں کے باغات میں ]
Ayah 10:10

دَعْوٰىهُمْ فِیْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ١ۚ وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 10:10 in the Quran reader

وہاں ان کی صدا یہ ہوگی کہ “پاک ہے تو اے خدا، " اُن کی دعا یہ ہوگی کہ “سلامتی ہو " اور ان کی ہر بات کا خاتمہ اس پر ہوگا کہ “ساری تعریف اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے "

دَعْوٰىھُمْ [ ان کا پکارنا ] فِيْهَا [ اس میں ] سُبْحٰنَكَ [ (کہ ) پاکی تیری ہے ] اللّٰهُمَّ [ اے اللہ ] وَتَحِيَّتُھُمْ [ اور (ہوگا ) ان کا دعادینا ] فِيْهَا [ اس میں ] سَلٰمٌ ۚ [ سلام ] وَاٰخِرُ دَعْوٰىھُمْ [ اور (ہوگا) ان کا آخری پکارنا ] اَنِ [کہ ] الْحَمْدُ [ تمام شکرو سپاس ] لِلّٰهِ [ اللہ کے لیے ہی ہے ] رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ [ جو تمام جہانوں کا پرورش کرنے والا ہے ] (آیت ۔ 10) دعوہم کے پہلے یکون محذوف ہے اور یہ کان تامۃ ہے۔ دعوہم اس کا فاعل ہے اور محلا حالت رفع میں ہے ۔ فیھا کی ضمیر جنت النعیم کے لیے ہے ۔ واخر دعوہم سے پہلے بھی کان تامۃ کا یکون محذوف ہے اور اس کا فاعل ہونے کی وجہ سے آخر دعوہم کے مضاف اخر پر رفع آئی ہے۔
Ayah 10:11

وَ لَوْ یُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَیْرِ لَقُضِیَ اِلَیْهِمْ اَجَلُهُمْ١ؕ فَنَذَرُ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 10:11 in the Quran reader

اگر کہیں اللہ لوگوں کے ساتھ برا معاملہ کرنے میں بھی اتنی ہی جلدی کرتا جتنی وہ دنیا کی بھلائی مانگنے میں جلدی کرتے ہیں تو ان کی مہلت عمل کبھی کی ختم کر دی گئی ہوتی (مگر ہمارا یہ طریقہ نہیں ہے) اس لیے ہم اُن لوگوں کو جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے اُن کی سرکشی میں بھٹکنے کے لیے چھُوٹ دے دیتے ہیں

وَلَوْ [ اور اگر ] يُعَجِّلُ [ جلدی کرتا ] اللّٰهُ [ اللہ ] لِلنَّاسِ [ لوگوں کے لیے ] الشَّرَّ [ برائی میں ] اسْتِعْجَالَھُمْ [ جیسا کہ ان کا جلدی مچانا ہے ] بِالْخَيْرِ [بھلائی میں ] لَقُضِيَ [ تو ضرور پورا کردیا جاتا ] اِلَيْهِمْ [ ان کی طرف ] اَجَلُھُمْ ۭ [ ان کی مدت کو ] فَنَذَرُ [ توہم چھوڑ دیتے ہیں ] الَّذِيْنَ [ ان لوگوں کو جو ] لَا يَرْجُوْنَ [ امید نہیں رکھتے ] لِقَاۗءَنَا [ ہماری ملاقات کی ] فِيْ طُغْيَانِهِمْ [ ان کی سرکشی میں ] يَعْمَهُوْنَ [ بھٹکتے ہوئے ]
Ayah 10:12

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖۤ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآئِمًا١ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَاۤ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:12 in the Quran reader

انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس پر کوئی سخت وقت آتا ہے تو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ہم کو پکارتا ہے، مگر جب ہم اس کی مصیبت ٹال دیتے ہیں تو ایسا چل نکلتا ہے کہ گویا اس نے کبھی اپنے کسی بُرے وقت پر ہم کو پکارا ہی نہ تھا اس طرح حد سے گزر جانے والوں کے لیے ان کے کرتوت خوشنما بنا دیے گئے ہیں

وَاِذَا [اور جب کبھی ] مَسَّ [ چھوتی ہے ] الْاِنْسَانَ [ انسان کو ] الضُّرُّ [ تکلیف ] دَعَانَا [ تو وہ پکارتا ہے ہم کو ] لِجَنْۢبِهٖٓ [ اپنی کروٹ کے بل ] اَوْ [ یا ] قَاعِدًا [ بیٹھے ہوئے ] اَوْ [ یا ] قَاۗىِٕمًا ۚ [ کھڑے ہوئے ] فَلَمَّا [ پھر جب ] كَشَفْنَا [ ہٹا دیتے ہیں ہم ] عَنْهُ [ اس سے ] ضُرَّهٗ [ اس کی تکلیف کو ] مَرَّ [ تو وہ گزرتا ہے (یعنی چل دیتا ہے ) ] كَاَنْ [ جیسے کہ ] لَّمْ يَدْعُنَآ [ اس نے پکارا ہی نہیں ہم کو ] اِلٰى ضُرٍّ [ اس تکلیف کے لیے ] مَّسَّهٗ ۭ [ جس نے چھوا اس کو ] كَذٰلِكَ [ اس طرح ] زُيِّنَ [ مزین کیا گیا ] لِلْمُسْرِفِيْنَ [ حد سے تجاوز کرنے والوں کے لیے ] مَا [ اس کو جو ] كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ [وہ لوگ عمل کرتے تھے ]
Ayah 10:13

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا١ۙ وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ مَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 10:13 in the Quran reader

لوگو، تم سے پہلے کی قوموں کو (جو اپنے اپنے زمانہ میں برسر عروج تھیں) ہم نے ہلاک کر دیا جب انہوں نے ظلم کی روش اختیار کی اور اُن کے رسُول اُن کے پاس کھُلی کھُلی نشانیاں لے کر آئے اور انہوں نے ایمان لا کر ہی نہ دیا اس طرح ہم مجرموں کو ان کے جرائم کا بدلہ دیا کرتے ہیں

وَلَقَدْ اَهْلَكْنَا [ اور بیشک ہم نے ہلاک کیا ہے ] الْقُرُوْنَ [ زمانوں (کے لوگوں ) کو ] مِنْ قَبْلِكُمْ [ تم لوگوں سے پہلے ] لَمَّا [ جب ] ظَلَمُوْا ۙ [ انھوں نے ظلم کیا ] وَ [ حالانکہ ] جَاۗءَتْھُمْ [آئے ان کے پاس ] رُسُلُھُمْ [ ان کے رسول ] بِالْبَيِّنٰتِ [واضح (نشانیوں ) کے ساتھ ] وَ [ اور (پھر بھی)] مَا كَانُوْا [ وہ نہیں تھے ] لِيُؤْمِنُوْا ۭ [ کہ ایمان لاتے ] كَذٰلِكَ [ اس طرح ] نَجْزِي [ ہم بدلہ دیتے ہیں ] الْقَوْمَ الْمُجْرِمِيْنَ [جرم کرنے والے لوگوں کو ] نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 13 میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے ” قرون “ کو ہلاک کیا یہ قرن کی جمع ہے۔ جس کے معنی ہیں ” زمانہ “ پھر عام طور پر اس سے مراد ایک عہد کے لوگ ہوتے ہیں ۔ لیکن قرآن مجید میں جس انداز سے مختلف مقامات پر اس لفظ کو استعمال کیا گیا ہے اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ” قرن “ سے مراد وہ قوم ہے جو اپنے دور میں عروج پر ہو اور کلی یا جزئی طور پر امامت پر سرفراز ہو ۔ ایسی قوم کی ہلاکت لازما یہی معنی نہیں رکھتی کہ اس کی نسل کو بالکل ختم ہی کردیا جائے ۔ بلکہ اس کا مقام عروج پر ہو اور کلی یا جزئی طور پر امامت پر سرفراز ہو۔ ایسی قوم کی ہلاکت لازما یہی معنی نہیں رکھتی کہ اس کی نسل کو بالکل ختم ہی کردیا جائے ۔ بلکہ اس کا مقام عروج و امامت سے گرا دیا جانا ، اس کے تہذیب و تمدن کا تباہ ہونا اور اس کے اجزاء کا پارہ پارہ ہوکر دوسری قوموں میں گم ہوجانا ، یہ بھی ہلاکت کی ہی ایک صورت ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 10:14

ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:14 in the Quran reader

اب ان کے بعد ہم نے تم کو زمین میں ان کی جگہ دی ہے تاکہ دیکھیں تم کیسے عمل کرتے ہو

ثُمَّ [ پھر ] جَعَلْنٰكُمْ [ ہم نے بنایا تم لوگوں کو ] خَلٰۗىِٕفَ [خلیفہ ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] مِنْۢ بَعْدِهِمْ [ ان کے بعد سے ] لِنَنْظُرَ [ تاکہ ہم دیکھیں ] كَيْفَ [ کیسا ] تَعْمَلُوْنَ [ تم لوگ عمل کرتے ہو ]
Ayah 10:15

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ هٰذَاۤ اَوْ بَدِّلْهُ١ؕ قُلْ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اُبَدِّلَهٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِیْ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 10:15 in the Quran reader

جب انہیں ہماری صاف صاف باتیں سُنائی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے، کہتے ہیں کہ “اِس کے بجائے کوئی اور قرآن لاؤ یا اس میں کچھ ترمیم کرو " اے محمدؐ، ان سے کہو “میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبّدل کر لوں میں تو بس اُس وحی کا پیرو ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا ڈر ہے"

وَاِذَا [ اور جب بھی ] تُتْلٰى عَلَيْهِمْ [ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں انھیں ] اٰيَاتُنَا [ ہماری آیتیں ] بَيِّنٰتٍ ۙ [ واضح ہوتے ہوئے ] قَالَ [ تو کہتے ہیں ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جو ] لَا يَرْجُوْنَ [ امید نہیں رکھتے ] لِقَاۗءَنَا [ ہماری ملاقات کی ] ائْتِ [ آپ لائیں ] بِقُرْاٰنٍ [ کوئی قرآن ] غَيْرِ ھٰذَآ [ اس کے علاوہ ] اَوْ [ یا ] بَدِّلْهُ ۭ [ آپ تبدیل کریں اس کو ] قُلْ [ آپ کہہ دیجیے ] مَا يَكُوْنُ لِيْٓ [ نہیں ہوگا (ممکن ) میرے لیے ] اَنْ [ کہ ] اُبَدِّلَهٗ [ میں تبدیل کروں اس کو ] مِنْ تِلْقَاۗئِ نَفْسِيْ ۚ [ اپنے نفس کی طرف سے ] اِنْ اَتَّبِعُ [ میں پیروی نہیں کرتا ] اِلَّا [ مگر ] مَا [ اس کی جو ] يُوْحٰٓى [ وحی کیا جاتا ہے ] اِلَيَّ ۚ [ میری طرف ] اِنِّىْٓ [بیشک میں ] اَخَافُ [ ڈرتاہوں ] اِنْ [اگر ] عَصَيْتُ [ میں نافرمانی کروں ] رَبِّيْ [ اپنے رب کی ] عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ [ایک عظیم دن کے عذاب سے ]
Ayah 10:16

قُلْ لَّوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوْتُهٗ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَدْرٰىكُمْ بِهٖ١ۖ٘ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:16 in the Quran reader

اور کہو “اگر اللہ کی مشیّت نہ ہوتی تو میں یہ قرآن تمہیں کبھی نہ سناتا اور اللہ تمہیں اس کی خبر تک نہ دیتا آخر اس سے پہلے میں ایک عمر تمہارے درمیان گزار چکا ہوں، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟

قُلْ [ آپ کہیے ] لَّوْ [ اگر ] شَاۗءَ [ چاہتا ] اللّٰهُ [اللہ ] مَا تَلَوْتُهٗ عَلَيْكُمْ [ تو میں اسے پڑھ کر نہ سناتا تم لوگوں کو ] وَلَآ اَدْرٰىكُمْ [ اور وہ باخبر نہ کرتا تم کو ] بِهٖ ڮ [ اس سے ] فَقَدْ لَبِثْتُ [ تو میں رہ چکا ہوں ] فِيْكُمْ [ تم لوگوں میں ] عُمُرًا [ ایک عمر ] مِّنْ قَبْلِهٖ ۭ [ اس سے پہلے ] اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ [ تو کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ]
Ayah 10:17

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:17 in the Quran reader

پھر اُس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہو گا جو ایک جھوٹی بات گھڑ کر اللہ کی طرف منسُوب کرے یا اللہ کی واقعی آیات کو جھُوٹا قرار دے یقیناً مجرم کبھی فلاح نہیں پا سکتے "

فَمَنْ [ پس کون ] اَظْلَمُ [ زیادہ ظالم ہے ] مِمَّنِ [ اس سے جس نے ] افْتَرٰي [گھڑا ] عَلَي اللّٰهِ [ اللہ پر ] كَذِبًا [ ایک جھوٹ ] اَوْ [ یا ] [ كَذَّبَ (جھٹلایا ) بِاٰيٰتِهٖ (اس کی آیتوں کو ) اِنَّهٗ (بیشک یہ حقیقت ہے) لَا (نہیں) يُفْلِحُ (فلاح پاتے ) الْمُجْرِمُوْنَ (سب جرم کرنے والے ) نوٹ۔ 2: آیت ۔ 17 جن ظالموں کا ذکر ہے ان میں مسلیمہ کذاب بھی شامل ہے ۔ اسے ہلاک کیا گیا تو اس کی جماعت پراگندہ ہوگئی ۔ حضرت ابوبکر ؓ کے پاس اس کے لوگ تو بہ کرتے ہوئے آئے اور اسلام قبول کیا ۔ حضرت ابوبکر ؓ نے ان سے کہا کہ مسلیمہ کا کوئی قرآن تو سناؤ ، انھوں نے معافی ۔ ابوبکر ؓ نے اصرار کیا کہ ضرور سنانا ہوگا تاکہ لوگ مواز نہ کرکے ہدایت والی وحی کی فضیلت کو پہچان سکیں ، انھوں نے جو کچھ سنایا اس کے چند نمونے درج ذیل ہیں، (1) یا ضفد ع بنت صفد عین نقی کم تنقعین لا الماء تکدرین ولا الشارب تمنعین ، یعنی اے مینڈک ، اے مینڈکوں کی بیٹی تو ٹرا جتنا تو ٹراتی ہے ، (اس سے ) نہ تو پانی گدلا ہوگا اور نہ پینے والا باز رہے گا ۔ (2) والعاجنات عجنا والخابزات خبزا والاقمات لقما اھالۃ وسمنا ان قریشا قوم یعتدون ، یعنی قسم ہے آٹا گوندھنے والیوں کی جیسا کہ گوندھتے ہیں اور روٹی پکانے والیوں کی جیسا کہ پکاتے ہیں اور لقمہ بنانے والیوں کی جیسا کہ لقمہ بناتے ہیں ، چور چور کرتے ہوئے اور گھی ملاتے ہوئے بیشک قریش ایک ایسی قوم ہے جو زیادتی کرتی ہے ۔ (3) الفیل ما الفیل وما ادرک مالفیل لہ ذنب قصیر وخر طوم طویل ، یعنی ہاتھی اور کیا ہاتھی اور تجھ کو کیا خبر کہ ہاتھی کیا ہے اس کی چھوٹی دم ہے اور لمبی سونڈ ہے۔ حضرت عمرو بن العاص ؓ اسلام لانے سے پہلے مسیلمہ کے دوست تھے ۔ وہ اس سے ملنے گئے تو اس نے پوچھا تمہارے آدمی یعنی نبی کریم ﷺ پر آج کل کیا وحی اتری ہے ۔ انھوں نے کہا میں نے ان کے اصحاب کو ایک بڑی ہی زبردست سورت پڑھتے سنا ہے ۔ اس نے پوچھا وہ کیا ، تو انہوں نے سورة العصر پڑھ کر سنائی ، اس پر اس نے کہا مجھ پر بھی ایک ایسی ہی وحی اتری ہے ۔ انھوں نے پوچھا وہ کیا تو اس نے کہا یا وبریا وبر انما انت اذنان وصدروسائرک حقر ونقر ، یعنی اے جانور ، اے جانور تو تو بس دوکان ہے اور سینہ ہے (یعنی تیرے دونوں کان اور سینہ نمایاں ہیں ) اور تیرا باقی جسم حقیر اور ذلیل ہے ۔ (ابن کثیر سے ماخوذ)
Ayah 10:18

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ اَتُنَبِّئُوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 10:18 in the Quran reader

یہ لوگ اللہ کے سوا اُن کی پرستش کر رہے ہیں جو ان کو نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع، اور کہتے یہ ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں اے محمدؐ، ان سے کہو “کیا تم اللہ کو اُس بات کی خبر دیتے ہو جسے وہ نہ آسمانوں میں جانتا ہے نہ زمین میں؟" پاک ہے وہ اور بالا و برتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں

وَيَعْبُدُوْنَ (اور وہ سب عبادت کرتے ہیں ) مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ (اللہ کے علاوہ کی) [مَا : جو ] لَا يَضُرُّھُمْ [ تکلیف نہیں دیتا ہے ان کو ] وَلَا يَنْفَعُھُمْ [ اور نہ ہی نفع دیتا ہے ان کو ] وَيَقُوْلُوْنَ [ اور وہ کہتے ہیں ] هٰٓؤُلَاۗءِ [یہ لوگ ] شُفَعَاۗؤُنَا [ شفاعت کرنے والے ہیں ہماری ] عِنْدَاللّٰهِ ۭ [ اللہ کے پاس ] قُلْ [ آپ کہیے ] اَ [ کیا ] تُنَبِّـــــُٔوْنَ [ تم لوگ خبر دیتے ہو [ اللّٰهَ [ اللہ کو ] بِمَا [ اس کی جو ] لَا يَعْلَمُ [ وہ نہیں جانتا ] فِي السَّمٰوٰتِ [ آسمانوں میں ] وَلَا فِي الْاَرْضِ ۭ [ اور نہ ہی زمین میں ] سُبْحٰنَهٗ [ پاکیزگی اس کی ہے ] وَتَعٰلٰى [ اور وہ بلند ہے ] عَمَّا [ اس سے جس کو ] يُشْرِكُوْنَ [ یہ لوگ شریک کرتے ہیں ]
Ayah 10:19

وَ مَا كَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْا١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ فِیْمَا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:19 in the Quran reader

ابتداءً سارے انسان ایک ہی امّت تھے، بعد میں انہوں نے مختلف عقیدے اور مسلک بنا لیے، اور اگر تیرے رب کی طرف سے پہلے ہی ایک بات طے نہ کر لی گئی ہوتی تو جس چیز میں وہ باہم اختلاف کر رہے ہیں اس کا فیصلہ کر دیا جاتا

وَمَا كَانَ [ اور نہیں تھے ] النَّاسُ [ لوگ ] اِلَّآ [ مگر ] اُمَّةً وَّاحِدَةً [ ایک امت ] فَاخْتَلَفُوْا ۭ [ پھر انھوں نے اختلاف کیا ] وَلَوْلَا [ اور اگر نہ ہوتا ] كَلِمَةٌ [ایک فرمان ] سَبَقَتْ [ جو طے ہوا ] مِنْ رَّبِّكَ [ آپ کے رب (کی طرف ) سے ] لَقُضِيَ [ تو ضرور فیصلہ کردیا جاتا ] بَيْنَھُمْ [ ان کے مابین ] فِيْمَا [ اس میں ] فِيْهِ [ جس میں ] يَخْتَلِفُوْنَ [ یہ لوگ اختلات کرتے ہیں ] نوٹ۔ 3: آیت ۔ 19 میں ہے کہ تمام لوگ ایک ہی امت تھے ، شرک وکفر کا نام نہیں تھا ، پھر توحید میں اختلاف کرکے مختلف قومیں بنیں ۔ سب مسلمان ہونے کا زمانہ کتنا تھا ، اور کب تک رہا ؟ روایات حدیث وسیر سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانے تک یہی صورت تھی ، نوح (علیہ السلام) کے زمانے میں شرک وکفر ظاہر ہوا جس کا انھیں مقابلہ کرنا پڑا ، یہ بھی ظاہر ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے حضرت نوح (علیہ السلام) تک ایک طویل زمانہ ہے۔ دنیا میں انسانوں کی آبادی کافی پھیل چکی تھی ، ان تمام انسانوں میں رنگ وروپ اور طرز معاشرت کا اختلاف ہونا بھی ایک طبعی امر ہے اور مختلف خطوں میں پھیل جانے کے بعد وطن کا اختلاف بھی یقینی ہے ۔ لیکن قرآن نے اس نسبی ، قبائل اور وطنی اختلاف کو ، جو امور فطریہ ہیں ، وحدت امت میں خلل انداز قرار نہیں دیا اور ان اختلاف کے باوجود اولاد آدم کو امت واحدہ قرار دیا ۔ ہاں جب ایمان کے خلاف کفر وشرک پھیلا تو کافر ومشرک کو الگ قوم اور الگ ملت قرار دے کر فاختلفوا ارشاد فرمایا ، اس طرح واضح کردیا کہ اولاد آدم کو مختلف قوموں میں بانٹنے والی چیز صرف ایمان واسلام سے انحراف ہے ۔ نسبی اور وطنی رشتوں سے قومیں الگ الگ نہیں ہوتیں ۔ (معارف القرآن )
Ayah 10:20

وَ یَقُوْلُوْنَ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ۚ فَقُلْ اِنَّمَا الْغَیْبُ لِلّٰهِ فَانْتَظِرُوْا١ۚ اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ۠ Open ayah 10:20 in the Quran reader

اور یہ جو وہ کہتے ہیں کہ اِس نبیؐ پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتاری گئی، تو ان سے کہو “غیب کا مالک و مختار تو اللہ ہی ہے، اچھا، انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں "

وَيَقُوْلُوْنَ [ اور وہ کہتے ہیں ] لَوْلَآ [ کیوں نہیں ] اُنْزِلَ [اتاری گئی ] عَلَيْهِ [ ان پر ] اٰيَةٌ [ کوئی نشانی ] مِّنْ رَّبِّهٖ ۚ [ ان کے رب (کی طرف) سے ] فَقُلْ [ تو آپ کہیں ] اِنَّمَا [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] الْغَيْبُ [ غیب تو ] لِلّٰهِ [ اللہ کے لیے ہے ] فَانْتَظِرُوْا ۚ [ پس تم لوگ انتظار کرو ] اِنِّىْ [ بیشک میں (بھی) ] مَعَكُمْ [تمہارے ساتھ ] مِّنَ الْمُنْتَظِرِيْنَ [ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں ]
Ayah 10:21

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِّنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُمْ اِذَا لَهُمْ مَّكْرٌ فِیْۤ اٰیَاتِنَا١ؕ قُلِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَكْرًا١ؕ اِنَّ رُسُلَنَا یَكْتُبُوْنَ مَا تَمْكُرُوْنَ Open ayah 10:21 in the Quran reader

لوگوں کا حال یہ ہے کہ مصیبت کے بعد جب ہم ان کو رحمت کا مزا چکھاتے ہیں تو فوراً ہی وہ ہماری نشانیوں کے معاملہ میں چال بازیاں شروع کر دیتے ہیں ان سے کہو “اللہ اپنی چال میں تم سے زیادہ تیز ہے، اس کے فرشتے تمہاری سب مکّاریوں کو قلم بند کر رہے ہیں "

وَاِذَآ [اور جب ] اَذَقْــنَا [ ہم چکھاتے ہیں ] النَّاسَ [ لوگوں کو ] رَحْمَةً [ کچھ رحمت ] مِّنْۢ بَعْدِ ضَرَّاۗءَ [ اس تکلیف کے بعد جس نے ] مَسَّتْھُمْ [چھوا ان کو ] اِذَا [ جب ہی ] لَھُمْ [ ان کے لئے ] مَّكْرٌ [ کوئی تدبیر (یعنی حیلہ بہانہ ) ہے ] فِيْٓ اٰيَاتِنَا ۭ [ ہماری نشانیوں میں ] قُلِ [ آپ کہیے ] اللّٰهُ [ اللہ ] اَسْرَعُ [ سب سے تیز ہے ] مَكْرًا ۭ [ بلحاظ تدبیر کرنے کے ] اِنَّ [ یقینا ] رُسُلَنَا [ ہمارے رسول (یعنی فرشتے ) ] يَكْتُبُوْنَ [ لکھتے ہیں ] مَا [ اس کو جو ] تَمْكُرُوْنَ [ تم لوگ بہانے بناتے ہو ] ترکیب : (آیت ۔ 21) بعد کا مضاف الیہ ضراء ہے اور نکرہ مخصوصہ ۔ ضراء غیر منصرف ہے اس لیے نصب اور جر دونوں حالت میں ضراء آتا ہے، مکرا تمیز ہے ۔ ،
Ayah 10:22

هُوَ الَّذِیْ یُسَیِّرُكُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا كُنْتُمْ فِی الْفُلْكِ١ۚ وَ جَرَیْنَ بِهِمْ بِرِیْحٍ طَیِّبَةٍ وَّ فَرِحُوْا بِهَا جَآءَتْهَا رِیْحٌ عَاصِفٌ وَّ جَآءَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اُحِیْطَ بِهِمْ١ۙ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ لَئِنْ اَنْجَیْتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 10:22 in the Quran reader

وہ اللہ ہی ہے جو تم کو خشکی اور تری میں چلاتا ہے چنانچہ جب تم کشتیوں میں سوار ہو کر بادِ موافق پر فرحاں و شاداں سفر کر رہے ہوتے ہو اور پھر یکایک بادِ مخالف کا زور ہوتا ہے اور ہر طرف سے موجوں کے تھپیڑے لگتے ہیں اور مسافر سمجھ لیتے ہیں کہ طوفان میں گھر گئے، اُس وقت سب اپنے دین کو اللہ ہی کے لیے خالص کر کے اس سے دُعائیں مانگتے ہیں کہ “اگر تو نے ہم کو اس بلا سے نجات دے دی تو ہم شکر گزار بندے بنیں گے"

ھُوَ [ وہ ] الَّذِيْ [وہ ہے جو ] يُسَيِّرُكُمْ [ گھماتا پھراتا ہے تم لوگوں کو ] فِي الْبَرِّ [ خشکی میں ] وَالْبَحْرِ ۭ [ اور سمندر میں ] حَتّٰى [ یہاں تک کہ ] اِذَا [جب ] كُنْتُمْ [ تم لوگ ہوتے ہو ] فِي الْفُلْكِ ۚ [ کشتی میں ] وَجَرَيْنَ [ اور وہ بہتی ہیں ] بِهِمْ [ ان کے ساتھ ] بِرِيْحٍ طَيِّبَةٍ [ ایک ساز گار ہوا کے ذریعہ سے ] وَّ [ اس حال میں کہ ] فَرِحُوْا [ وہ خوش ہوتے ہیں ] بِهَا [ اس سے ] جَاۗءَتْهَا [(اور جب ) آتی ہے اس (کشتی ) کے پاس ] رِيْحٌ عَاصِفٌ [ ایک تیز وتندہوا ] وَّجَاۗءَھُمُ [ اور آتی ہے ان لوگوں کے پاس ] الْمَوْجُ [موج ] مِنْ كُلِّ مَكَانٍ [ ہر جگہ سے ] وَّظَنُّوْٓا [ اور انھوں نے سمجھ لیا ] اَنَّھُمْ [ کہ وہ لوگ ہیں ] اُحِيْطَ [ احاطہ کیا گیا ] بِهِمْ ۙ [ جن کا ] دَعَوُا [تو انھوں نے پکارا ] اللّٰهَ [ اللہ کو ] مُخْلِصِيْنَ [ خالص کرنے والے ہوتے ہوئے ] لَهُ [ اس کے ] الدِّيْنَ ڬ [ دین کو ] لَىِٕنْ [ یقینا اگر ] اَنْجَيْـتَنَا [ تو نے نجات دی ہم کو ] مِنْ هٰذِهٖ [ اس سے ] لَنَكُوْنَنَّ [ تو ہم لازما ہوں گے ] مِنَ الشّٰكِرِيْنَ [ شکر کرنے والوں میں سے ] ع ص: (ض) ، عصفا (1) جھونکا دینا ۔ تیزی تیزی سے چلنا ۔ (2) برباد کرنا ۔ چورا چورا کردینا ۔ فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًا [ پھر قسم ہے جھونکا دینے والیوں کی جیسا جھونکا دینے کا حق ہے ] 77:2 ۔ عصف ، اسم ذات بھی ہے ، خشک پتوں کا چورا ، بھوسا ۔ فَجَــعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ [ پھر اس نے بنادیا ان کو کھائے ہوئے بھوسے کی مانند ] 105:5 ۔ عاصف ۔ فاعل کے وزن پر صفت ہے ۔ جھونکا دینے والا یعنی (1) تیز وتند (2) آندھی ۔ زیر مطالعہ آیت 22 ۔ م و ج : (ن) موجا سمندر کا جوش مارنا ، لہروں کا ایک دوسرے پر چڑھنا ، ریلا مارنا ۔ وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ يَّمُوْجُ فِيْ بَعْضٍ [ اور ہم نے چھوڑیں گے ان کے بعض کو اس دن وہ ریلا ماریں گے بعض میں ] 18: 99 ۔ موج ، اسم جنس ہے ۔ واحد موجۃ جمع اور واحد دونوں کے لیے جوج آتا ہے ۔ لہر ، موج ، زیر مطالعہ آیت ۔ 22 ۔ (آیت ۔ 22) جاء تھا سے پہلے واذا محذوف ہے اور ھا کی ضمیر الفلک کے لئے ہے۔
Ayah 10:23

فَلَمَّاۤ اَنْجٰىهُمْ اِذَا هُمْ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْیُكُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ١ۙ مَّتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:23 in the Quran reader

مگر جب وہ ان کو بچا لیتا ہے تو پھر وہی لوگ حق سے منحرف ہو کر زمین میں بغاوت کرنے لگتے ہیں لوگو، تمہاری یہ بغاوت اُلٹی تمہارے ہی خلاف پڑ رہی ہے دنیا کے چند روزہ مزے ہیں (لُوٹ لو)، پھر ہماری طرف تمہیں پلٹ کر آنا ہے، اُس وقت ہم تمہیں بتا دیں گے کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو

فَلَمَّآ [ پھر جب ] اَنْجٰىھُمْ [ ہم نجات دیتے ہیں ان کو ] اِذَا [ جب ہی ] ھُمْ [ وہ لوگ ] يَبْغُوْنَ [ سرکشی کرتے ہیں ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] بِغَيْرِ الْحَقِّ ۭ [ حق کے بغیر ] يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ [ اے لوگوں ] اِنَّمَا [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] بَغْيُكُمْ [ تمہاری سرکشی ] عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ ۙ [ تمہاری اپنی جانوں پر ہے ] مَّتَاعَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۡ [ (تو فائدہ اٹھا لو) دنیوی زندگی کے سامان سے ] ثُمَّ اِلَيْنَا [ پھر ہماری طرف ہی ] مَرْجِعُكُمْ [ تمہارا لوٹنا ہے ] فَنُنَبِّئُكُمْ [ تو ہم بتادیں گے تم کو ] بِمَا [ وہ جو ] كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ [تم لوگ کرتے تھے ] (آیت ۔ 23) متاع کی نصب بتارہی ہے کہ اس سے پہلے فعل محذوف ہے جو فتمتعوا ہوسکتا ہے ۔
Ayah 10:24

اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا یَاْكُلُ النَّاسُ وَ الْاَنْعَامُ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَهَا وَ ازَّیَّنَتْ وَ ظَنَّ اَهْلُهَاۤ اَنَّهُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَیْهَاۤ١ۙ اَتٰىهَاۤ اَمْرُنَا لَیْلًا اَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنٰهَا حَصِیْدًا كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 10:24 in the Quran reader

دنیا کی یہ زندگی (جس کے نشے میں مست ہو کر تم ہماری نشانیوں سے غفلت برت رہے ہو) اس کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے ہم نے پانی برسایا تو زمین کی پیداوار، جسے آدمی اور جانور سب کھاتے ہیں، خوب گھنی ہو گئی، پھر عین اُس وقت جبکہ زمین اپنی بہار پر تھی اور کھیتیاں بنی سنوری کھڑی تھیں اور ان کے مالک یہ سمجھ رہے تھے کہ اب ہم ان سے فائدہ اُٹھانے پر قادر ہیں، یکایک رات کو یا دن کو ہمارا حکم آ گیا اور ہم نے اسے ایسا غارت کر کے رکھ دیا کہ گویا کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں اس طرح ہم نشانیاں کھول کھول کر پیش کرتے ہیں اُن لوگوں کے لیے جو سوچنے سمجھنے والے ہیں

اِنَّمَا [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] مَثَلُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا [ دنیوی زندگی کی مثال ] كَمَاۗءٍ [ ایسے پانی جیسی ہے ] اَنْزَلْنٰهُ [ ہم نے اتارا جس کو ] مِنَ السَّمَاۗءِ [ آسمان سے ] فَاخْتَلَطَ [ تو رل مل گیا ] بِهٖ [ اس کے ذریعہ سے ] نَبَاتُ الْاَرْضِ [ زمین کا سبزہ ] مِمَّا [ جس میں سے ] يَاْكُلُ [ کھاتے ہیں ] النَّاسُ [ لوگ ] وَالْاَنْعَامُ ۭ [ اور چوپائے ] حَتّٰٓي [ یہاں تک کہ ] اِذَآ [جب ] اَخَذَتِ [ پکڑا ] الْاَرْضُ [ زمین نے ] زُخْرُفَهَا [ اپنے سنگھار کو ] وَازَّيَّنَتْ [ اور وہ سج گئی ] وَظَنَّ [ اور خیال کیا ] اَهْلُهَآ [ اس کے لوگوں نے ] اَنَّھُمْ [ کہ وہ ] قٰدِرُوْنَ [ قدرت رکھنے والے ہیں ] عَلَيْهَآ ۙ [ اس پر ] اَتٰىھَآ [(تو) آیا اس کے پاس ] اَمْرُنَا [ ہمارا حکم ] لَيْلًا [ رات کے وقت ] اَوْ [ یا ] نَهَارًا [ دن کے وقت ] فَجَعَلْنٰھَا [ پھر بنادیا ہم نے اس کو ] حَصِيْدًا [ کٹی ہوئی کھیتی ] كَاَنْ [ جیسے کہ ] لَّمْ تَغْنَ [وہ تھی ہی نہیں ] بِالْاَمْسِ ۭ [ کل کو ] كَذٰلِكَ [ اس طرح ] نُفَصِّلُ [ ہم کھول کھول کر بیان کرتے ہیں ] الْاٰيٰتِ [نشانیوں کو ] لِقَوْمٍ [ ایسے لوگوں کے لیے جو ] يَّتَفَكَّرُوْنَ [ غور وفکر کرتے ہیں ] (آیت ۔ 24) لیلا او نھارا ، ظرف زمان ہیں۔ تغن دراصل مؤنث کا صیغہ تغنی ہے ۔ لم کی وجہ سے یا گری ہوئی ہے ۔
Ayah 10:25

وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ١ؕ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 10:25 in the Quran reader

(تم اِس نا پائیدار زندگی کے فریب میں مبتلا ہو رہے ہو) اور اللہ تمہیں دار السلام کی طرف دعوت دے رہا ہے (ہدایت اُس کے اختیار میں ہے) جس کو وہ چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھا دیتا ہے

وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] يَدْعُوْٓا [ بلاتا ہے ] اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ ۭ [ سلامتی کے گھر کی طرف ] وَيَهْدِيْ [ اور وہ ہدایت دیتا ہے ] مَنْ [ اس کو جس کو ] يَّشَاۗءُ [وہ چاہتا ہے ] ااِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَــقِيْمٍ [ ایک سیدھے راستے کی طرف ]
Ayah 10:26

لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِیَادَةٌ١ؕ وَ لَا یَرْهَقُ وُجُوْهَهُمْ قَتَرٌ وَّ لَا ذِلَّةٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:26 in the Quran reader

جن لوگوں نے بھَلائی کا طریقہ اختیار کیا ان کے لیے بھَلائی ہے اور مزید فضل ان کے چہروں پر رُو سیاہی اور ذلّت نہ چھائے گی وہ جنت کے مستحق ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے

لِلَّذِيْنَ [ ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ] اَحْسَـنُوا [ بلاکم وکاست کام کیا ] الْحُسْنٰى [ سب سے خوبصورت (اجر) ہے ] وَزِيَادَةٌ ۭ [(بھی ) ہے ] وَلَا يَرْهَقُ [ اور نہیں چھائے گی ] وُجُوْهَھُمْ [ان کے چہروں پر ] قَتَرٌ [ کوئی سیاہی ] وَّلَا ذِلَّةٌ ۭ [ اور نہ ہی کوئی ذلت ] اُولٰۗىِٕكَ [ یہ لوگ ] اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ۚ [ جنت والے ہیں ] ھُمْ [ وہ لوگ ] فِيْهَا [ اس میں ] خٰلِدُوْنَ [ ہمیشہ رہنے والے ہیں ] ر ھ ق ـ: (س) رھقا ۔ زبردستی کسی پر حاوی ہوجانا ۔ (1) زبردستی کرنا ۔ (2) کسی پر چڑھائی کرنا ، کسی کو ڈھانپ لینا ، چھا جانا ، زیر مطالعہ آیت ۔ 26 ۔ رھق ، اسم ذات ہے۔ زبردستی ، چودھراہٹ ، دادا گیری ، فَزَادُوْهُمْ رَهَقًا [ تو انہوں نے زیادہ کیا ان کو بلحاظ سرچڑھنے کے ] 6: 72 ۔ (افعال ) ارھاقا ۔ کسی کو کسی پر چڑھا دینا ۔ ڈھانپ دینا ۔ ڈال دینا ۔ وَلَا تُرْهِقْنِيْ مِنْ اَمْرِيْ عُسْرًا [ اور آپ مت ڈالیں مجھ پر میرے کام کی وجہ سے ، مشکل کو ] 18:73 ۔
Ayah 10:27

وَ الَّذِیْنَ كَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآءُ سَیِّئَةٍۭ بِمِثْلِهَا١ۙ وَ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ كَاَنَّمَاۤ اُغْشِیَتْ وُجُوْهُهُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّیْلِ مُظْلِمًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:27 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے بُرائیاں کمائیں ان کی بُرائی جیسی ہے ویسا ہی وہ بدلہ پائیں گے، ذلّت ان پر مسلّط ہو گی، کوئی اللہ سے ان کو بچانے والا نہ ہو گا، ان کے چہروں پر ایسی تاریکی چھائی ہوئی ہو گی جیسے رات کے سیاہ پردے ان پر پڑے ہوئے ہوں، وہ دوزخ کے مستحق ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے

وَالَّذِيْنَ [ اور جنھوں نے ] كَسَبُوا [ کمائیں ] السَّيِّاٰتِ [ برائیاں ] جَزَاۗءُ سَـيِّئَةٍۢ [ (تو) کسی برائی کا بدلہ ] بِمِثْلِهَا ۙ [ اسی کے جیسا ہے ] وَتَرْهَقُھُمْ [ اور چھائے گی ان پر ] ذِلَّةٌ ۭ [ ایک ذلت ] مَا لَھُمْ [ نہیں ہے ان کے لیے ] مِّنَ اللّٰهِ [ اللہ سے ] مِنْ عَاصِمٍ ۚ [ کوئی بھی بچانے والا ] كَاَنَّمَآ [ جیسے کہ بس ] اُغْشِيَتْ [ ڈھانپ دیئے گئے ] وُجُوْهُھُمْ [ ان کے چہرے ] قِطَعًا [ ایک ٹکڑے سے ] مِّنَ الَّيْلِ [ رات میں سے ] مُظْلِمًا ۭ [ اندھیری ہوتے ہوتے ] اُولٰۗىِٕكَ [ یہ لوگ ] اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ [ آگ والے ہیں ] ھُمْ [ وہ ] فِيْهَا [ اس میں ] خٰلِدُوْنَ [ ہمیشہ رہنے والے ہیں ] (آیت ۔ 27) اغثیت کا نائب فاعل وجوھہم ہے اور قطعا اس کا مفعول ثانی ہے ، جبکہ مظلما حال ہے۔
Ayah 10:28

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَ شُرَكَآؤُكُمْ١ۚ فَزَیَّلْنَا بَیْنَهُمْ وَ قَالَ شُرَكَآؤُهُمْ مَّا كُنْتُمْ اِیَّانَا تَعْبُدُوْنَ Open ayah 10:28 in the Quran reader

جس روز ہم ان سب کو ایک ساتھ (اپنی عدالت میں) اکٹھا کریں گے، پھر ان لوگوں سے جنہوں نے شرک کیا ہے کہیں گے کہ ٹھیر جاؤ تم بھی اور تمہارے بنائے ہوئے شریک بھی، پھر ہم ان کے درمیان سے اجنبیّت کا پردہ ہٹا دیں گے اور ان کے شریک کہیں گے کہ “تم ہماری عبادت تو نہیں کرتے تھے

وَيَوْمَ [ اور جس دن ] نَحْشُرُھُمْ [ ہم اکٹھا کریں گے ان کو ] جَمِيْعًا [ سب کے سب کو ] ثُمَّ نَقُوْلُ [ پھر ہم کہیں گے ] لِلَّذِيْنَ [ ان سے جنھوں نے ] اَشْرَكُوْا [شرک کیا ] مَكَانَكُمْ [ (تم لوگ کھڑے ہو) اپنی جگہ پر ] اَنْتُمْ [ تم بھی ] وَشُرَكَاۗؤُكُمْ ۚ [ اور تمہارے شریک بھی ] فَزَيَّلْنَا [ پھر ہم الگ الگ کریں گے ] بَيْنَھُمْ [ (ان کو ) ان کے مابین سے ] وَقَالَ [ اور کہیں گے ] شُرَكَاۗؤُھُمْ [ ان کے شریک لوگ ] مَّا كُنْتُمْ [ نہیں تھے تم کہ ] اِيَّانَا [ صرف ہماری ہی ] تَعْبُدُوْنَ [ بندگی کرتے تھے ] (آیت ۔ 28) مکانکم مفعول ہے اور اس کا فعل محذوف ہے ۔
Ayah 10:29

فَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغٰفِلِیْنَ Open ayah 10:29 in the Quran reader

ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی گواہی کافی ہے کہ (تم اگر ہماری عبادت کرتے بھی تھے تو) ہم تمہاری اس عبادت سے بالکل بے خبر تھے "

فَكَفٰى [ تو کافی ہے ] بِاللّٰهِ [ اللہ ] شَهِيْدًۢا [ بطور گواہ کے ] بَيْنَنَا [ ہمارے درمیان ] وَبَيْنَكُمْ [ اور تمہارے درمیان ] اِنْ [ یقینا ] كُنَّا [ ہم تھے ] عَنْ عِبَادَتِكُمْ [ تمہاری عبادت سے ] لَغٰفِلِيْنَ [بالکل غافل ] (آیت ۔ 29) ان کنا میں ان مخففہ ہے جس کے معنی ہیں یقینا۔
Ayah 10:30

هُنَالِكَ تَبْلُوْا كُلُّ نَفْسٍ مَّاۤ اَسْلَفَتْ وَ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 10:30 in the Quran reader

اُس وقت ہر شخص اپنے کیے کا مزا چکھ لے گا، سب اپنے مالک حقیقی کی طرف پھیر دیے جائیں گے اور وہ سارے جھوٹ جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے گم ہو جائیں گے

هُنَالِكَ [ وہاں ] تَبْلُوْا [ جانچ لے گی ] كُلُّ نَفْسٍ [ ہر جان ] مَّآ [ اس کو جو ] اَسْلَفَتْ [ اس نے آگے بھیجا ] وَرُدُّوْٓا [ اور وہ لوٹائے جائیں گے ] اِلَى اللّٰهِ [ اللہ کی طرف ] مَوْلٰىھُمُ الْحَقِّ [ جو ان کا حقیقی آقا ہے ] وَضَلَّ [اور گم ہوجائے گا ] عَنْھُمْ [ ان سے ] مَّا [ وہ جو ] كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ [ وہ گھڑتے تھے ] (آیت ۔ 30) اللہ کا بدل ہونے کی وجہ سے مولہم میں مولی محلا حالت جر میں ہے اس لیے اس کی صفت الحق حالت جر میں آئی ہے ۔
Ayah 10:31

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اَمَّنْ یَّمْلِكُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ مَنْ یُّخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ مَنْ یُّدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ فَسَیَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ١ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 10:31 in the Quran reader

اِن سے پُوچھو، کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے؟ یہ سماعت اور بینائی کی قوتیں کس کے اختیار میں ہیں؟ کون بے جان میں سے جاندار کو اور جاندار میں سے بے جان کو نکالتا ہے؟ کون اِس نظم عالم کی تدبیر کر رہا ہے؟ وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ کہو، پھر تم (حقیقت کے خلاف چلنے سے) پرہیز نہیں کرتے؟

قُلْ [ آپ کہئے ] مَنْ [کون ] يَّرْزُقُكُمْ [ رزق دیتا ہے تم کو ] مِّنَ السَّمَاۗءِ [ آسمان سے ] وَالْاَرْضِ [ اور زمین سے ] اَمَّنْ [ یا کون ] يَّمْلِكُ [ اختیار رکھتا ہے ] السَّمْعَ [ سماعت پر ] وَالْاَبْصَارَ [ اور بصارتوں پر ] وَمَنْ [اور کون ] يُّخْرِجُ [نکالتا ہے ] الْـحَيَّ [ زندہ کو ] مِنَ الْمَيِّتِ [ مردہ سے ] وَيُخْرِجُ [ اور (کون) نکالتا ہے ] الْمَيِّتَ [ مردہ کو ] مِنَ الْحَيِّ [ زندہ سے ] وَمَنْ [ اور کون ] يُّدَبِّرُ [ تدبیر کرتا ہے ] الْاَمْرَ ۭ [ تمام معاملات کی ] فَسَيَقُوْلُوْنَ [ تو وہ کہیں گے کہ ] اللّٰهُ ۚ [ اللہ ] فَقُلْ [ تو آپ کہیں ] اَفَلَا تَتَّقُوْنَ [ تو کیا تم لوگ ڈرتے نہیں ]
Ayah 10:32

فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ١ۖۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 10:32 in the Quran reader

تب تو یہی اللہ تمہارا حقیقی رب ہے پھر حق کے بعد گمراہی کے سوا اور کیا باقی رہ گیا؟ آخر یہ تم کدھر پھرائے جا رہے ہو؟

فَذٰلِكُمُ [ پس یہ ] اللّٰهُ [ اللہ ہے ] رَبُّكُمُ الْحَقُّ ۚ [ جو تمہارا حقیقی پرورش کرنے والا ہے ] فَمَاذَا [ پھر کیا ہے ] بَعْدَ الْحَقِّ [ حق کے بعد ] اِلَّا الضَّلٰلُ ښ [ سوائے گمراہی کے ] فَاَنّٰى [ تو کہاں سے ] تُصْرَفُوْنَ [ تم لوگ پھیرے جاتے ہو ] نوٹ ۔ 1: آیت 32 میں تصرفون اور آیت 35 میں توفکون یہ دونوں مضارع ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ کہاں سے تم لوگ لوٹ جاتے ہو بلکہ یہ کہا ہے کہ لوگوں کو لوٹایا جاتا ہے ۔ اس میں صاف ظاہر ہے کہ گمراہ کرنے والا کوئی شخص یا گروہ ہوتا ہے جو لوگوں کو صحیح رخ سے ہٹا کر غلط رخ پر پھیر دیتا ہے ۔ اسی بنا پر لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ تم اندھے بن کر غلط رہنمائی کرنے والوں کے پیچھے کیوں چلے جارہے ہو، اپنی عقل کیوں نہیں استعمال کرتے ، (تفہیم القرآن )
Ayah 10:33

كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ فَسَقُوْۤا اَنَّهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:33 in the Quran reader

(اے نبیؐ، دیکھو) اس طرح نافرمانی اختیار کرنے والوں پر تمہارے رب کی بات صادق آ گئی کہ وہ مان کر نہ دیں گے

كَذٰلِكَ [ اس طرح ] حَقَّتْ [ حق ہوا ] كَلِمَتُ رَبِّكَ [ آپ کے رب کا فرمان ] عَلَي الَّذِيْنَ [ ان لوگوں پر جنھوں نے ] فَسَقُوْٓا [ نافرمانی کی ] اَنَّھُمْ [ کہ وہ لوگ ] لَا يُؤْمِنُوْنَ [ ایمان نہیں لاتے ]
Ayah 10:34

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 10:34 in the Quran reader

اِن سے پُوچھو، تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ہے جو تخلیق کی ابتدا بھی کرتا ہو اور پھر اس کا اعادہ بھی کرے؟ کہو وہ صرف اللہ ہے جو تخلیق کی ابتدا بھی کرتا ہے اور اس کا اعادہ بھی، پھر تم یہ کس اُلٹی راہ پر چلائے جا رہے ہو؟

قُلْ [ آپ کہئے ] هَلْ [ کیا ] مِنْ شُرَكَاۗىِٕكُمْ [ تمہارے شریکوں میں سے ] مَّنْ [ کوئی ] يَّبْدَؤُا [ ابتدا کرتا ہے ] الْخَلْقَ [ پیدا کرنے کی ] ثُمَّ [ پھر ] يُعِيْدُهٗ ۭ [ واپس لاتا ہے اس کو ] قُلِ [ آپ کہئے ] اللّٰهُ [ اللہ ] يَبْدَؤُا (پہلی بار پیدا کرتا ہے ) الْخَلْقَ (مخلوق کو ) ثُمَّ (پھر) يُعِيْدُهٗ (وہی دوبارہ بناتا ہو اسے ) فَاَنّٰى (تو کہاں ) تُؤْفَكُوْنَ (تم سب پھیرے جاتے ہو )
Ayah 10:35

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَهْدِیْ لِلْحَقِّ١ؕ اَفَمَنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ یُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا یَهِدِّیْۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّهْدٰى١ۚ فَمَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ Open ayah 10:35 in the Quran reader

اِن سے پُوچھو تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہو؟ کہو وہ صرف اللہ ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے پھر بھلا بتاؤ، جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے وہ اِس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ جو خود راہ نہیں پاتا اِلّا یہ کہ اس کی رہنمائی کی جائے؟ آخر تمہیں ہو کیا گیا ہے، کیسے اُلٹے الٹے فیصلے کرتے ہو؟

قُلْ (کہہ دیں) هَلْ (کیا) مِّنْ (سے ) شُرَكَاۗىِٕكُمْ (تمہارے شریکوں ) مَنْ ( جس پر ) يَّهْدِيْٓ (ہدایت دیتا ہے ) اِلَى (تک) الْحَقِّ (حق ) قُلِ (کہ دو “ کہ ”) اللّٰهُ (اللہ)] يَهْدِيْ [ ہدایت دیتا ہے ] لِلْحَقِّ ۭ [ حق کے لیے ] اَفَمَنْ [ تو کیا وہ جو ] يَّهْدِيْٓ [ہدایت دیتا ہے ] اِلَى الْحَقِّ [ حق کی طرف ] اَحَقُّ [ زیادہ حقدار ہے ] اَنْ [کہ ] يُّتَّبَعَ [ اس کی پیروی کی جائے ] اَمَّنْ [ یا اس کی جو ] لَّا يَهِدِّيْٓ [ ہدایت نہیں پاتا ] اِلَّآ اَنْ [ سوائے اس کے کہ ] يُّهْدٰى ۚ [اس کو ہدایت دی جائے ] فَمَا لَكُمْ ۣ [ تو کیا ہے تمہیں ] كَيْفَ [ کیسا ] تَحْكُمُوْنَ [ تم لوگ حکم لگاتے ہو ] ترکیب : (آیت ۔ 35) لا یھدی دراصل لا یھتدی ہے جو قاعدہ کے مطابق تبدیل ہوکر لا یھدی استعمال ہوا ہے۔ نوٹ ۔ 2: آیت ۔ 35 میں جو سوال کیا گیا ہے وہ بہت اہم ہے اس لیے اس کی وضاحت سے سمجھ لیں ، اس دنیا میں انسان کی ضرورتوں کا دائرہ صرف اسی حد تک محدود نہیں ہے کہ اس کو زندگی بسر کرنے کا سامان ملتا رہے اور وہ آفات و مصائب سے محفوظ رہے بلکہ اس کی ایک ضرروت یہ بھی ہے کہ اسے دنیا میں زندگی بسر کرنے کا صحیح طریقہ معلوم ہو ، وہ جانے کہ اپنی ذات کے ساتھ ، اس سروسامان کے ساتھ جو اس کے تصرف میں ہیں ، ان انسانوں کے ساتھ جن سے اس کو سابقہ پیش آتا ہے ، وہ کیا اور کس طرح کا معاملہ کرے جس سے اس کی زندگی کامیاب ہو اور اس کی کوشش اور محنت غلط راہوں پر صرف ہوکر تباہی و بربادی پر منتج نہ ہو ، اسی صحیح طریقے کا نام حق ہے ، اب قرآن مجید ان سب لوگوں سے پوچھتا ہے جو رسول اللہ ﷺ کی تعلیم کو ماننے سے انکار کرتے ہیں ، کہ اللہ کے سوا تم جن کی بندگی کرتے ہو ان میں کوئی ہے جو تمہارے لیے ہدایت حق کا ذریعہ بنتا ہو یا بن سکتا ہو ، ظاہر ہے کہ اس کا جواب نفی کے سوا اور کچھ نہیں ہے، کیوں ـ؟ اس کی وجہ بھی سمجھ لیں ۔ انسان اللہ کے سواجن کی بندگی کرتا ان کی دو بڑی قسمیں ہیں ۔ ایک وہ دیوی ، دیوتا اور زندہ یا مردہ انسان جن کی طرف انسان کا رجوع صرف اس غرض کے لیے ہوتا ہے کہ فوق الفطری طریقے سے وہ اس کی حاجتیں پوری کریں اور اس کو آفات سے بچائیں ، کبھی کسی مشرک نے ہدایت حق کے لیے ان کی طرف رجوع نہیں کیا ، اور نہ کوئی مشرک یہ کہتا ہے کہ اس کے یہ معبود اسے معاشرت ، تمدن ، سیاست ، اخلاق ، عدالت وغیرہ کے اصول سکھاتے ہیں ۔ دوسرے نمبر وہ انسان ہیں جن کے بنائے اصولوں اور قوانین کی پیروی اور اطاعت کی جاتی ہے ۔ یہ لوگ رہنما تو ضرور ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ رہنمائے حق بھی ہیں ، کیا ان میں سے کسی کا بھی علم ان تمام حقائق پر حاوی ہے جن کا جاننا انسانی زندگی کے صحیح اصول وضع کرنے کے لئے ضروری ہے کیا ان میں سے کوئی بھی ان کمزوریوں ، تعصبات ، طبعی میلانات ورجحانات وغیرہ سے بالا تر ہے جو انسانی معاشرے کے لیے منصفانہ قوانین بنانے میں مانع ہوتے ہیں ۔ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر یہ لوگ ہدایت حق کا سرچشمہ کیسے ہوسکتے ہیں ۔ اسی بنا پر قرآن یہ سوال کرتا ہے کہ لوگو ! تمہارے ان مذہبی معبودوں خداؤں میں کوئی ایسا بھی ہے جو تمہاری رہنمائی کرنے والا ہو۔ آیت نمبر 31 تا 34 کے سوالات سے مل کر آیت نمبر 35 کا آخری سوال مذہب اور دین کے پورے مسئلے کا فیصلہ کرتا ہے ۔ انسان کی ساری ضرورتیں دو ہی نوعیت کی ہیں ۔ ایک یہ کہ کوئی اس کا پروردگار ہو، جو دعاؤں کا سننے والا اور حاجتوں کا پورا کرنے والا ہو ، اس کے لیے قرآن کا فیصلہ یہ ہے کہ اس ضرورت کو پورا کرنے والا اللہ کے سوا کوئی نہیں ہے ۔ دوسری ضرورت یہ ہے کہ کوئی ایسا رہنما ہو جو دنیا میں زندگی بسر کرنے کے اصول بتائے ، اس لیے بھی قرآن کا فیصلہ یہ ہے کہ یہ بھی صرف اللہ کا ہی کام ہے۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 10:36

وَ مَا یَتَّبِعُ اَكْثَرُهُمْ اِلَّا ظَنًّا١ؕ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:36 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ اِن میں سے اکثر لوگ محض قیاس و گمان کے پیچھے چلے جا رہے ہیں، حالاں کہ گمان حق کی ضرورت کو کچھ بھی پُورا نہیں کرتا جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اُس کو خوب جانتا ہے

وَمَا يَتَّبِعُ [ اور پیروی نہیں کرتے ] اَكْثَرُھُمْ [ ان کے اکثر ] اِلَّا [ مگر ] ظَنًّا ۭ [ گمان کی ] اِنَّ [ بیشک ] الظَّنَّ [ گمان ] لَا يُغْنِيْ [ بےپر واہ نہیں کرتا ] مِنَ الْحَقِّ [ حق سے ] شَـيْــــًٔـا ۭ [ کچھ بھی ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] عَلِيْمٌۢ [ جاننے والا ہے ] بِمَا [ اس کو جو ] يَفْعَلُوْنَ [ وہ لوگ کرتے ہیں ]
Ayah 10:37

وَ مَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ یُّفْتَرٰى مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ۫ Open ayah 10:37 in the Quran reader

اور یہ قرآن وہ چیز نہیں ہے جو اللہ کی وحی و تعلیم کے بغیر تصنیف کر لیا جائے بلکہ یہ تو جو کچھ پہلے آ چکا تھا اس کی تصدیق اور الکتاب کی تفصیل ہے اِس میں کوئی شک نہیں کہ یہ فرمانروائے کائنات کی طرف سے ہے

وَمَا كَانَ [ اور نہیں ہے ] هٰذَا الْقُرْاٰنُ [یہ قرآن ] اَنْ [ کہ ] يُّفْتَرٰي [ اس کو گھڑاجائے ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ (کسی) سے ] وَلٰكِنْ [ اور لیکن (یعنی بلکہ ) ] تَصْدِيْقَ الَّذِيْ [ اس کی تصدیق کرتا ہے جو ] بَيْنَ يَدَيْهِ [ اس سے پہلے ہے ] وَتَفْصِيْلَ الْكِتٰبِ [ اور تمام فرائض کو کھول کر بیان کرتا ہے ] لَا رَيْبَ [ کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہے ] فِيْهِ [ جس میں ] مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ [ تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے (ہونے میں)]
Ayah 10:38

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّثْلِهٖ وَ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:38 in the Quran reader

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبرؐ نے اسے خود تصنیف کر لیا ہے؟ کہو، “اگر تم اپنے اس الزام میں سچّے ہو تو ایک سُورۃ اس جیسی تصنیف کر لاؤ اور ایک خدا کو چھوڑ کر جس جس کو بُلا سکتے ہو مدد کے لیے بُلا لو"

اَمْ (کیا) يَقُوْلُوْنَ (وہ سب کہتے ہیں) افْتَرٰىهُ (" کہ " اس نے گھڑ لیا ہے اسے ) [قُلْ : آپ کہئے ] فَاْتُوْا [ تو تم لوگ لاؤ] بِسُوْرَةٍ [ ایک سورت ] مِّثْلِهٖ [ اس کے جیسی ] وَادْعُوْا [ اور بلالو ] مَنِ [ اس کو جس کی ] اسْتَــطَعْتُمْ [ تمہیں استطاعت ہے ] مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ ] اِنْ كُنْتُمْ [ اگر تم لوگ ہو ] صٰدِقِيْنَ [ سچ کہنے والے ]
Ayah 10:39

بَلْ كَذَّبُوْا بِمَا لَمْ یُحِیْطُوْا بِعِلْمِهٖ وَ لَمَّا یَاْتِهِمْ تَاْوِیْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:39 in the Quran reader

اصل یہ ہے کہ جو چیز اِن کے علم کی گرفت میں نہیں آئی اور جس کا مآل بھی ان کے سامنے نہیں آیا، اُس کو اِنہوں نے (خوامخواہ اٹکل پچّو) جھٹلا دیا اِسی طرح تو ان سے پہلے کے لوگ بھی جھٹلا چکے ہیں پھر دیکھ لو اُن ظالموں کا کیا انجام ہُوا

بَلْ [ بلکہ ] كَذَّبُوْا [ انھوں نے جھٹلایا ] بِمَا [ اس کو جس کا ] لَمْ يُحِيْطُوْا [ انھوں نے احاطہ نہیں کیا ] بِعِلْمِهٖ [ اس کے علم سے ] وَلَمَّا [ اور ابھی تک نہیں ] يَاْتِهِمْ [ پہنچا ان کے پاس ] تَاْوِيْلُهٗ ۭ [ اس کا انجام کار ] كَذٰلِكَ [ اسی طرح ] كَذَّبَ [ جھٹلایا ] الَّذِيْنَ [ انھوں نے جو ] مِنْ قَبْلِهِمْ [ ان سے پہلے تھے ] فَانْظُرْ [ تو آپ دیکھیں ] كَيْفَ كَانَ [ کیا تھا ] عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيْنَ [ ظلم کرنے والوں کا انجام ]
Ayah 10:40

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 10:40 in the Quran reader

اِن میں سے کچھ لوگ ایمان لائیں گے اور کچھ نہیں لائیں گے اور تیرا رب اُن مفسدوں کو خوب جانتا ہے

وَمِنْھُمْ مَّنْ [ اور ان میں وہ بھی ہیں جو ] يُّؤْمِنُ [ایمان لاتے ہیں ] بِهٖ [ اس پر ] وَمِنْھُمْ مَّنْ [ اور ان میں وہ بھی ہیں جو ] لَّا يُؤْمِنُ [ایمان نہیں لاتے ] بِهٖ ۭ [ اس پر ] وَرَبُّكَ [ اور آپ کا رب ] اَعْلَمُ [ سب سے زیادہ جاننے والا ہے ] بِالْمُفْسِدِيْنَ [ فساد پھیلانے والوں کو ]