10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 10:81

فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ بِهِ١ۙ السِّحْرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَیُبْطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:81 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے اپنے آنچھر پھینک دیے تو موسیٰؑ نے کہا “یہ جو کچھ تم نے پھینکا ہے یہ جادو ہے، اللہ ابھی اِسے باطل کیے دیتا ہے، مفسدوں کے کام کو اللہ سدھرنے نہیں دیتا

فَلَمَّآ [ پھر جب ] اَلْقَوْا [ انھوں نے ڈالا ] قَالَ [ تو کہا ] مُوْسٰى [ موسیٰ نے ] مَا جِئْتُمْ بِهِ ۙ [ تم لوگ لائے ہو جس کو ] السِّحْرُ ۭ [ (تو وہ تو ) جادو ہے ] اِنَّ اللّٰهَ [ یقینا اللہ ] سَيُبْطِلُهٗ ۭ [ باطل کرے گا (ناکارہ کرے گا) اس کو ] اِنَّ اللّٰهَ [ یقینا اللہ ] لَا يُصْلِحُ [ اصلاح نہیں کرتا ] عَمَلَ الْمُفْسِدِيْنَ [ نظم بگاڑنے والوں کے عمل کو ] (آیت ۔ 81) السحر سے پہلے فھو محذوف ہے۔
Ayah 10:82

وَ یُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 10:82 in the Quran reader

اور اللہ اپنے فرمانوں سے حق کو حق کر دکھاتا ہے، خواہ مجرموں کو وہ کتنا ہی ناگوار ہو"

وَيُحِقُّ [ اور حق کرتا ہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] الْحَقَّ [ حق کو ] بِكَلِمٰتِهٖ [ اپنے فرمانوں سے ] وَلَوْ [ اور اگرچہ ] كَرِهَ [ کراہیت کریں ] الْمُجْرِمُوْنَ [ جرم کرنے والے ]
Ayah 10:83

فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوْسٰۤى اِلَّا ذُرِّیَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ عَلٰى خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهِمْ اَنْ یَّفْتِنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 10:83 in the Quran reader

(پھر دیکھو کہ) موسیٰؑ کو اس کی قوم میں سے چند نوجوانوں کے سوا کسی نے نہ مانا، فرعون کے ڈر سے اور خود اپنی قوم کے سر بر آوردہ لوگوں کے ڈر سے (جنہیں خوف تھا کہ) فرعون ان کو عذاب میں مبتلا کرے گا اور واقعہ یہ ہے کہ فرعون زمین میں غلبہ رکھتا تھا اور وہ اُن لوگوں میں سے تھا جو کسی حد پر رکتے نہیں ہیں

فَمَآاٰمَنَ [ پس بات نہیں مانی ] لِمُوْسٰٓى [ موسیٰ کی ] اِلَّا [ مگر ] ذُرِّيَّةٌ [ کچھ اولاد (یعنی نوجوانوں ) نے ] مِّنْ قَوْمِهٖ [ ان کی قوم میں سے ] عَلٰي خَوْفٍ [ ایسے خوف کے باوجود ] مِّنْ فِرْعَوْنَ [ فرعون سے ] وَمَلَا۟ىِٕهِمْ [ اور ان کے سرداروں سے ] اَنْ [ کہ ] يَّفْتِنَھُمْ ۭ [ وہ آزمائش میں ڈالیں ان کو ] وَاِنَّ [ اور بیشک ] فِرْعَوْنَ [ فرعون ] لَعَالٍ [ یقینا سرکشی کرنے والا ہے ] فِي الْاَرْضِ ۚ [ زمین میں ] وَاِنَّهٗ [ اور بیشک وہ ] لَمِنَ الْمُسْرِفِيْنَ [ یقینا حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے ہے ]
Ayah 10:84

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ فَعَلَیْهِ تَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ Open ayah 10:84 in the Quran reader

موسیٰؑ نے اپنی قوم سے کہا کہ “لوگو، اگر تم واقعی اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو اس پر بھروسہ کرو اگر مسلمان ہو"

وَقَالَ [ اور کہا ] مُوْسٰى [ موسیٰ نے ] يٰقَوْمِ [ اے میری قوم ] اِنْ [ اگر ] كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ [ تم لوگ ایمان رکھتے ہو ] بِاللّٰهِ [ اللہ پر ] فَعَلَيْهِ [ تو اس پر ہی ] تَوَكَّلُوْٓا [ بھروسہ رکھو ] اِنْ [ اگر ] كُنْتُمْ [ تم لوگ ہو ] مُّسْلِمِيْنَ [ فرمانبرداری کرنے والے ]
Ayah 10:85

فَقَالُوْا عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 10:85 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا “ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا، اے ہمارے رب، ہمیں ظالم لوگوں کے لیے فتنہ نہ بنا

فَقَالُوْا [ تو انھوں نے کہا ] عَلَي اللّٰهِ [ اللہ پر ہی ] تَوَكَّلْنَا ۚ [ ہم نے بھروسہ کیا ] رَبَّنَا [ اے ہمارے رب ] لَا تَجْعَلْنَا [ تو نہ بنانا ہم کو ] فِتْنَةً [ آزمائش ] لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ [ظلم کرنے والے لوگوں کے لئے ]
Ayah 10:86

وَ نَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 10:86 in the Quran reader

اور اپنی رحمت سے ہم کو کافروں سے نجات دے"

وَنَجِّنَا [ اور تم نجات دے ہم کو ] بِرَحْمَتِكَ [ اپنی رحمت سے ] مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ [ کفر کرنے والے لوگوں سے ]
Ayah 10:87

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى وَ اَخِیْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا وَّ اجْعَلُوْا بُیُوْتَكُمْ قِبْلَةً وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:87 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰؑ اور اس کے بھائی کو اشارہ کیا کہ “مصر میں چند مکان اپنی قوم کے لیے مہیا کرو اور اپنے ان مکانوں کو قبلہ ٹھیرا لو اور نماز قائم کرو اور اہل ایمان کو بشارت دے دو"

وَاَوْحَيْنَآ [ اور ہم نے وحی کی ] اِلٰى مُوْسٰى [ موسیٰ کی طرف ] وَاَخِيْهِ [ اور ان کے بھائی کی طرف ] اَنْ [ کہ ] تَبَوَّاٰ [ تم دونوں ٹھکانہ بناؤ] لِقَوْمِكُمَا [ اپنی قوم کے لئے ] بِمِصْرَ [ مصر میں ] بُيُوْتًا [کچھ گھروں کو ] وَّاجْعَلُوْا [ اور تم لوگ بناؤ ] بُيُوْتَكُمْ [ اپنے گھروں کو ] قِبْلَةً [ قبلہ ] وَّاَقِيْمُوا [اور قائم کرو ] الصَّلٰوةَ ۭ [ نماز کو ] وَبَشِّرِ [ اور آپ بشارت دیجئے ] الْمُؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والوں کو ] نوٹ ۔ 1: آیت 87 میں ایک خاص حکم کا ذکر ہے۔ بنی اسرائیل نمازیں صرف اپنی عبادت گاہوں میں ادا کرتے تھے اور پچھلی امتوں کے لئے بھی یہی حکم تھا ، کیونکہ ان کی نماز گھروں میں ادا نہیں ہوتی تھی ، یہ خصوصی سہولت امت محمدیہ ﷺ کو عطا ہوئی کہ ہر جگہ جہاں چاہیں ۔ نماز ادا کریں ، فرعون نے بنی اسرائیل کی تمام عبادت گاہوں کو مسمار کردیا تھا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ بنی اسرائیل کے لئے مصر میں نئے مکانات بنائے جائیں اور ان کا رخ قبلہ کی طرف ہوتا کہ وہ ان ہی مکانات میں نماز ادا کرسکیں ۔ اس وقت خصوصی حالات کے تحت عارضی اجازت دی گئی تھی کہ گھروں میں ہی نماز ادا کرلیا کریں ، دوسری رائے یہ ہے کہ اس ضرورت کے وقت بھی ان کو مخصوص گھروں میں نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی تھی ، عام گھروں میں نماز پڑھنے کی اجازت اس وقت بھی نہیں تھی ، حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے اصحاب کا قبلہ خانہ کعبہ تھا۔ اس آیت کے شروع میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو تثنیہ کے صیغے میں خطاب کیا گیا کیونکہ مکانات میں نماز کی اجازت دینا ان ہی کا کام تھا ۔ اس کے بعد اقامت صلوۃ کا حکم جمع کے صیغے میں دیا گیا کیونکہ اس حکم میں پیغمبر اور امت ، سب شامل ہیں، اس کے بعد بشارت دینے کا حکم واحد کے صیغے میں صرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیا گیا کیونکہ اصل صاحب شریعت نبی آپ ہی تھے۔ (معارف القرآن )
Ayah 10:88

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاَهٗ زِیْنَةً وَّ اَمْوَالًا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِكَ١ۚ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:88 in the Quran reader

موسیٰؑ نے دعا کی “اے ہمارے رب، تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں زینت اور اموال سے نواز رکھا ہے اے رب، کیا یہ اس لیے ہے کہ وہ لوگوں کو تیری راہ سے بھٹکائیں؟ اے رب، ان کے مال غارت کر دے اور ان کے دلوں پر ایسی مہر کر دے کہ ایمان نہ لائیں جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں"

وَقَالَ [ اور کہا ] مُوْسٰى [ موسیٰ نے ] رَبَّنَآ [ اے ہمارے رب ] اِنَّكَ [ بیشک ] اٰتَيْتَ [ تو نے دیا ] فِرْعَوْنَ [ فرعون کو ] وَمَلَاَهٗ [ اور اس کے سرداروں کو ] زِينَةً [ زینت ] وَّاَمْوَالًا [اور مال ] فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۙ [ دنیوی زندگی میں ] رَبَّنَا [ اے ہمارے رب ] لِيُضِلُّوْا [ تاکہ وہ گمراہ کریں (لوگوں کو ) ] عَنْ سَبِيْــلِكَ ۚ [ تیری راہ سے ] رَبَّنَا [ اے ہمارے رب ] اطْمِسْ [ تو تہس نہس کردے ] عَلٰٓي اَمْوَالِهِمْ [ ان کے مالوں کو ] وَاشْدُدْ [ اور تو سخت کردے ] عَلٰي قُلُوْبِهِمْ [ ان کے دلوں کو ] فَلَا يُؤْمِنُوْا [ نتیجتا وہ ایمان نہ لائیں ] حَتّٰى [ یہاں تک کہ ] يَرَوُا [وہ دیکھیں ] الْعَذَابَ الْاَلِيْمَ [ دردناک عذاب کو ]
Ayah 10:89

قَالَ قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِیْمَا وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِیْلَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:89 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا “تم دونوں کی دعا قبول کی گئی ثابت قدم رہو اور اُن لوگوں کے طریقے کی ہرگز پیروی نہ کرو جو علم نہیں رکھتے"

قَالَ [ کہا (اللہ نے ) ] قَدْ اُجِيْبَتْ [ قبول کی گئی ہے ] دَّعْوَتُكُمَا [ تم دونوں کی دعا ] فَاسْتَــقِيْمَا [ پس ڈٹے رہو ] وَلَا تَتَّبِعٰۗنِّ [ اور تم دونوں ہرگز پیروی مت کرنا ] سَبِيْلَ الَّذِيْنَ [ ان کے راستے کی جو ] لَايَعْلَمُوْنَ [ علم نہیں رکھتے ]
Ayah 10:90

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَ جُنُوْدُهٗ بَغْیًا وَّ عَدْوًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ١ۙ قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِیْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِیْلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:90 in the Quran reader

اور ہم بنی اسرائیل کو سمندر سے گزار لے گئے پھر فرعون اور اس کے لشکر ظلم اور زیادتی کی غرض سے ان کے پیچھے چلے حتیٰ کہ جب فرعون ڈوبنے لگا تو بول اٹھا "میں نے مان لیا کہ خداوند حقیقی اُس کے سوا کوئی نہیں ہے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے، اور میں بھی سر اطاعت جھکا دینے والوں میں سے ہوں"

وَجٰوَزْنَا [ اور ہم نے پار کیا ] بِبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ [ بنی اسرائیل کو ] الْبَحْرَ [ سمندر کے ] فَاَتْبَعَھُمْ [تو پیچھے لگا ان کے ] فِرْعَوْنُ [فرعون ] وَجُنُوْدُهٗ [ اور اس کا لشکر ] بَغْيًا [ سرکشی کرتے ہوئے ] وَّعَدْوًا ۭ [ اور دشمنی کرتے ہوئے ] حَتّٰٓي [ یہاں تک کہ ] اِذَآ [جب ] اَدْرَكَهُ [ آلگا اس کو ] الْغَرَقُ ۙ [ ڈوبنا ] قَالَ [ تو اس نے کہا ] اٰمَنْتُ [ میں ایمان لایا ] اَنَّهٗ [ اس کا کہ ] لَآ اِلٰهَ [ کوئی بھی الہ نہیں ہے ] اِلَّا الَّذِيْٓ [ سوائے اس کے ] اٰمَنَتْ [ایمان لائے ] بِهٖ [ جس پر ] بَنُوْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ [ بنی اسرائیل ] وَاَنَا [ اور میں ہوں ] مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ [ فرمانبرداری کرنے والوں میں سے ]
Ayah 10:91

آٰلْئٰنَ وَ قَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَ كُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:91 in the Quran reader

(جواب دیا گیا) “اب ایمان لاتا ہے! حالانکہ اِس سے پہلے تک تو نافرمانی کرتا رہا اور فساد برپا کرنے والوں میں سے تھا

اٰۗلْئٰنَ [ کیا اب ] وَقَدْ عَصَيْتَ [ اور تو نافرمانی کرچکا ہے ] قَبْلُ [ پہلے ] وَكُنْتَ [ اور تو تھا ] مِنَ الْمُفْسِدِيْنَ [ نظم بگاڑنے والوں میں سے ]
Ayah 10:92

فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰیَةً١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ۠ Open ayah 10:92 in the Quran reader

اب تو ہم صرف تیری لاش ہی کو بچائیں گے تاکہ تو بعد کی نسلوں کے لیے نشان عبرت بنے اگرچہ بہت سے انسان ایسے ہیں جو ہماری نشانیوں سے غفلت برتتے ہیں"

فَالْيَوْمَ [پس آج ] نُنَجِّيْكَ [ بچا رکھیں گے تجھ کو ] بِبَدَنِكَ [ تیرے بدن کے ساتھ ] لِتَكُوْنَ [ تاکہ تو ہوجائے ] لِمَنْ [ ان کے لئے جو ] خَلْفَكَ [ تیرے پیچھے (آنے والے ) ہیں ] اٰيَةً ۭ [ ایک نشانی ] وَاِنَّ [ اور بیشک ] كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ [ لوگوں میں سے اکثر ] عَنْ اٰيٰتِنَا [ ہماری نشانیوں سے ] لَغٰفِلُوْنَ [غفلت برتنے والے ہیں ] ب د ن : (ن) بدنا ، موٹے یا فربہ جسم والا ہونا ۔ بدن ، اسم ذات بھی ہے ۔ جسم ، زیر مطالعہ آیت 92 ۔ بدنۃ ، ج : بدن ، قربانی کے فربہ جانور جو مکہ میں ذبح کئے جائیں ۔ وَالْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَاۗىِٕرِ اللّٰهِ [ اور قربانی کے فربہ جانور ہم نے بنایا ان کو تمہارے لیے اللہ کے شعائر میں سے ] 22:36 ۔
Ayah 10:93

وَ لَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:93 in the Quran reader

ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانا دیا اور نہایت عمدہ وسائل زندگی انہیں عطا کیے پھر انہوں نے باہم اختلاف نہیں کیا مگراُس وقت جبکہ علم اُن کے پاس آ چکا تھا یقیناً تیرا رب قیامت کے روز اُن کے درمیان اُس چیز کا فیصلہ کر دے گا جس میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں

وَلَقَدْ بَوَّاْنَا [ اور ہم ٹھکانہ دے چکے ہیں ] بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ [ بنی اسرائیل کو ] مُبَوَّاَ صِدْقٍ [ ایک سچائی کا ٹھکانہ ] وَّرَزَقْنٰھُمْ [ اور ہم نے رزق دیا ان کو ] مِّنَ الطَّيِّبٰتِ ۚ [پاکیزہ (چیزوں ) میں سے ] فَمَا اخْتَلَفُوْا [تو انھوں نے اختلاف نہیں کیا ] حَتّٰى [ یہاں تک کہ ] جَاۗءَھُمُ [ آیا ان کے پاس ] الْعِلْمُ ۭ [ علم ] اِنَّ [ یقینا ] رَبَّكَ [آپ کا رب ] يَقْضِيْ [ فیصلہ کرے گا ] بَيْنَھُمْ [ ان کے درمیان ] يَوْمَ الْقِيٰمَةِ [ قیامت کے دن ] فِيْمَا [ اس میں ] كَانُوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ [ جس میں وہ اختلاف کرتے تھے ] ترکیب : (آیت ۔ 93) مبوا صدق میں مبوا دراصل اسم المفعول مبوا ہے جو ظرف کے معنی میں آیا ہے اس لئے حالت نصب میں ہے اور مضاف ہونے کی وجہ سے تنوین ختم ہوئی ہے۔ نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 93 کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے اپنے دین میں جو تفرقے کئے اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ ان کو حقیقت کا علم نہیں تھا اور ناوافقیت کی بنا پر انھوں نے ایسا کہا ، حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ ان کے اپنے نفس کی شرارتوں کا نتیجہ تھا ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تو انہیں واضح طور پر بتادیا گیا تھا کہ دین یہ ہے ۔ اس کے باوجود انھوں نے اللہ کی دی ہوئی بنیادوں کو چھوڑ کر کچھ دوسری بنیادوں پر اپنے فرقوں کی بنیادیں کھڑی کرلیں ۔ (تفہیم القرآن ) ۔
Ayah 10:94

فَاِنْ كُنْتَ فِیْ شَكٍّ مِّمَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ فَسْئَلِ الَّذِیْنَ یَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَقَدْ جَآءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَۙ Open ayah 10:94 in the Quran reader

اب اگر تجھے اُس ہدایت کی طرف سے کچھ بھی شک ہو جو ہم نے تجھ پر نازل کی ہے تو اُن لوگوں سے پوچھ لے جو پہلے سے کتاب پڑھ رہے ہیں فی الواقع یہ تیرے پاس حق ہی آیا ہے تیرے رب کی طرف سے، لہٰذا تو شک کرنے والوں میں سے نہ ہو

فَاِنْ [ پھر اگر ] كُنْتَ [ آپ ہیں ] فِيْ شَكٍّ [شک میں ] مِّمَّآ [ اس کے بارے میں جس کو ] اَنْزَلْنَآ [ ہم نے اتارا ] اِلَيْكَ [ آپ کی طرف ] فَسْــــَٔـلِ [ تو آپ پوچھیں ] الَّذِيْنَ [ ان سے جو ] يَقْرَءُوْنَ [ پڑھتے ہیں ] الْكِتٰبَ [ کتاب کو ] مِنْ قَبْلِكَ ۚ [ آپ سے پہلے سے ] لَقَدْ جَاۗءَكَ [ یقینا آچکا ہے آپ کے پاس ] الْحَقُّ [ حق ] مِنْ رَّبِّكَ [ آپ کے رب (کی طرف ) سے ] فَلَا تَكُوْنَنَّ [ تو آپ ہرگز مت ہوں ] مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ [ شک کرنے والوں میں سے ]
Ayah 10:95

وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَتَكُوْنَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 10:95 in the Quran reader

اور ان لوگوں میں نہ شامل ہو جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا ہے، ورنہ تو نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا

وَلَا تَكُوْنَنَّ [ اور آپ ہرگز مت ہوں ] مِنَ الَّذِيْنَ [ ان لوگوں میں سے جنھوں نے ] كَذَّبُوْا [ جھٹلایا ] بِاٰيٰتِ اللّٰهِ [ اللہ کی نشانیوں کو ] فَتَكُوْنَ [ ورنہ آپ ہوجائیں گے ] مِنَ الْخٰسِرِيْنَ [ خسارہ اٹھانے والوں میں ] (آیت ۔ 95) فتکون کا فاسببیہ ہے۔ نوٹ ۔ 2: آیات 94 ۔ 95 میں ایک خاص انداز خطاب اختیار کیا گیا ہے جس کے لئے پنجابی کی ایک کہاوت ہے کہ کہنا بیٹی کو تو سنانا بہو کو ، اس پر اتفاق رائے ہے کہ ان آیات میں یہی انداز خطاب اختیار کیا گیا ہے ۔ البتہ اس بات پر دو آراء ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو خطاب کرکے دراصل کس کو سنانا مقصود ہیں ۔ (1) حضرت قتادہ کا قول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نہ میں شک کرتا ہوں اور نہ مجھے پوچھنے کی ضرورت ہے۔ اس آیت میں امت کو ثابت قدم رہنے کی ترغیب دی گئی ہے ۔ (ابن کثیر) اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں دراصل امت کے ایسے افراد کو سنانا مقصود ہے جو ایمان کا اقرار تو کرتے ہیں لیکن دل میں کچھ شکوک و شبہات بھی ہوتے ہیں ۔ اللہ کے احکام کو تسلیم تو کرتے ہیں لیکن اپنے عمل سے اس کی تکذیب کرتے ہیں ، جیسے تسلیم کرتے ہیں کہ نماز فرض ہے لیکن پڑھتے نہیں ہیں وغیرہ ۔ (2) دوسری رائے یہ ہے کہ ان لوگوں کو سنانا مقصود ہے جو سب کچھ سمجھنے کے باوجود محض اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے انکار اور تکذیب کرتے ہیں ۔ ان کی اس روش پر اظہار ناراضگی کے لئے اللہ تعالیٰ نے براہ راست ان کو خطاب کرنے کے بجائے رسول اللہ ﷺ سے خطاب کرکے ان کو سنایا ہے ( تدبر قرآن سے ماخوذ ) ۔ زیادہ بہتر یہ ہے کہ ان آیات کی دونوں آراء کو جامع سمجھا جائے ] نوٹ ۔ 3: حضرت یونس (علیہ السلام) کا زمانہ 860 ق م سے 784 قبل مسیح کے درمیان بتایا جاتا ہے ۔ اگر چہ اسرائیلی نبی تھے ، مگر ان کو اشور (اسریا) والوں کی ہدایت کے لیے عراق بھیجا گیا تھا ۔ اسی لئے اشوریوں کو یہاں قوم یونس کہا گیا ہے ۔ اس قوم کا مرکز نینوی کا مشہور شہر تھا ۔ اس قوم کے عروج کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ اس کا دارالسلطنت نینوی تقریبا ساٹھ میل میں پھیلا ہوا تھا ۔ جب یہ قوم ایمان لے آئی تو اس کی مہلت عمر میں اضافہ کردیا گیا ۔ بعد میں اس نے پھر گمراہیاں اختیار کرنا شروع کردیں ، ناحوم نبی (720 تا 698 ق م) نے آخری وارننگ دی ۔ خبردار کیا مگر کوئی اثر نہ ہوا ، پھر صفنیاہ نبی مبعوث ہوئے مگر (640 تا 409 ق م) وہ بھی کارگر نہ ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے میڈیا والوں کو ان پر مسلط کردیا ۔ اشوری فوج شکست کھا کر نینوی میں محصور ہوگئی ۔ کچھ مدت تک اس نے سخت مقابلہ کیا ۔ پھر دجلہ کی طغیانی نے شہر کی فیصل توڑ دی اور حملہ آور اندر گھس گئے ۔ پورا شہر جلا کر خاک کردیا ۔ اشور کا بادشاہ اپنے محل میں آگ لگا کر جل مرا ۔ اس کے ساتھ ہی اشوری سلطنت اور تہذیب بھی ہمیشہ کے لئے ختم ہوگئی ۔ زمانہ حال میں آثار قدیمہ کی جو کھدائیاں اس علاقے میں ہوئی ہیں ان میں آتش زدگی کے نشانات کثرت سے پائے جاتے ہیں ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 10:96

اِنَّ الَّذِیْنَ حَقَّتْ عَلَیْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 10:96 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں پر تیرے رب کا قول راست آگیا ہے ان کے سامنے خواہ کوئی نشانی آ جائے

اِنَّ [ بیشک ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ ] حَقَّتْ [ حق ہوا ] عَلَيْهِمْ [ جن پر ] كَلِمَتُ رَبِّكَ [ آپ کے رب کا فرمان ] لَا يُؤْمِنُوْنَ [ وہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے ]
Ayah 10:97

وَ لَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ اٰیَةٍ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:97 in the Quran reader

وہ کبھی ایمان لا کر نہیں دیتے جب تک کہ درد ناک عذاب سامنے آتا نہ دیکھ لیں

وَلَوْ [ اور اگرچہ (یعنی خواہ ) ] جَاۗءَتْھُمْ [ آئے ان کے پاس ] كُلُّ اٰيَةٍ [ ہر ایک نشانی ] حَتّٰى [ یہاں تک کہ ] يَرَوُا [ وہ دیکھیں ] الْعَذَابَ الْاَلِيْمَ ] درد ناک عذاب کو ] (آیت ۔ 97) حتی کا تعلق گزشتہ آیت کے لایؤمنون سے ہے ۔
Ayah 10:98

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 10:98 in the Quran reader

پھر کیا ایسی کوئی مثال ہے کہ ایک بستی عذاب دیکھ کر ایمان لائی ہو اور اس کا ایمان اس کے لیے نفع بخش ثابت ہوا ہو؟ یونسؑ کی قوم کے سوا (اس کی کوئی نظیر نہیں) وہ قوم جب ایمان لے آئی تھی تو البتہ ہم نے اس پر سے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ٹال دیا تھا اور اس کو ایک مدت تک زندگی سے بہرہ مند ہونے کا موقع دے دیا تھا

فَلَوْلَا كَانَتْ [ پس کیوں نہ ہوئی ] قَرْيَةٌ [ کوئی ایسی بستی ] اٰمَنَتْ [ جو ایمان لاتی ] فَنَفَعَهَآ [ پھر نفع دیتا ان کو ] اِيْمَانُهَآ [ ان کا ایمان ] اِلَّا [ سوائے ] قَوْمَ يُوْنُسَ ۭ [ یونس کی قوم کے ] لَمَّآ [ جب ] اٰمَنُوْا [وہ لوگ ایمان لائے ] كَشَفْنَا [ تو ہم نے کھول دیا ] عَنْھُمْ [ ان سے ] عَذَابَ الْخِزْيِ [ رسوائی کے عذاب کو ] فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا [ دنیوی زندگی میں ] وَمَتَّعْنٰھُمْ [ اور ہم نے فائدہ پہنچا یا ان کو ] اِلٰى حِيْنٍ [ ایک مدت تک ] (آیت ۔ 98) فنفعھا ایمانھا میں ھا کی ضمیریں قریۃ کے لئے ہیں ۔ لفظی رعایت سے یہ ضمیریں واحد مؤنث آئی ہیں جبکہ یہاں قریۃ سے مراد اہل قریہ ہیں، اس لئے یہاں ھا سے مراد ھم ہے، جس کو ترجمہ میں ظاہر کیا جائے گا ،
Ayah 10:99

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِیْعًا١ؕ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:99 in the Quran reader

اگر تیرے رب کی مشیت یہ ہوتی (کہ زمین میں سب مومن و فرمانبردار ہی ہوں) تو سارے اہل زمین ایمان لے آئے ہوتے پھر کیا تو لوگوں کو مجبور کرے گا کہ وہ مومن ہو جائیں؟

وَلَوْ [ اور اگر ] شَاۗءَ [ چاہتا ] رَبُّكَ [ آپ کا رب ] لَاٰمَنَ [ تو ضرور ایمان لاتے ] مَنْ [ جو ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ہیں ] كُلُّھُمْ [ ان کے کل ] جَمِيْعًا ۭ [ سب کے سب ] اَفَاَنْتَ [ تو کیا آپ ] تُكْرِهُ [ زبردستی کریں گے ] النَّاسَ [ لوگوں سے ] حَتّٰى [ یہاں تک کہ ] يَكُوْنُوْا [ وہ ہوجائیں ] مُؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والے ]
Ayah 10:100

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:100 in the Quran reader

کوئی متنفس اللہ کے اذن کے بغیر ایمان نہیں لا سکتا، اور اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے وہ ان پر گندگی ڈال دیتا ہے

وَمَا كَانَ [ اور (ممکن ) نہیں ہے ] لِنَفْسٍ [ کسی جان کے لئے ] اَنْ [ کہ ] تُؤْمِنَ [ وہ ایمان لائے ] اِلَّا [ مگر ] بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کی اجازت سے ] وَيَجْعَلُ [ اور وہ ڈالتا ہے ] الرِّجْسَ [ گندگی کو ] عَلَي الَّذِيْنَ [ ان لوگوں پر جو ] لَا يَعْقِلُوْنَ [ عقل نہیں کرتے ] (آیت ۔ 100) تومن واحد مؤنث کا صیغہ ہے اس کی ضمیر فاعلیھی ، نفس کے لئے ہے ۔
Ayah 10:101

قُلِ انْظُرُوْا مَا ذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا تُغْنِی الْاٰیٰتُ وَ النُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:101 in the Quran reader

اِن سے کہو “زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے اسے آنکھیں کھول کر دیکھو" اور جو لوگ ایمان لانا ہی نہیں چاہتے ان کے لیے نشانیاں اور تنبیہیں آخر کیا مفید ہو سکتی ہیں

قُلِ [ آپ کہئے ] انْظُرُوْا [ تم لوگ دیکھو ] مَاذَا [ اس کو جو ] فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ [ آسمانوں اور زمین میں ہے ] وَمَا تُغْنِي [ اور کام نہیں آتیں ] الْاٰيٰتُ [ نشانیاں ] وَالنُّذُرُ [ اور ڈرانے والے ] عَنْ قَوْمٍ [ ایسے لوگوں کے ] لَّا يُؤْمِنُوْنَ [ جو ایمان نہیں لاتے ] (آیت ۔ 101) النذر جمع مکسر ہے نذیر کا ۔
Ayah 10:102

فَهَلْ یَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَیَّامِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ قُلْ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 10:102 in the Quran reader

اب یہ لوگ اِس کے سوا اور کس چیز کے منتظر ہیں کہ وہی برے دن دیکھیں جو اِن سے پہلے گزرے ہوئے لوگ دیکھ چکے ہیں؟ اِن سے کہو “اچھا، انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں"

فَهَلْ يَنْتَظِرُوْنَ [ تو وہ لوگ کیا انتظار کرتے ہیں ] اِلَّا [سوائے ] مِثْلَ اَيَّامِ الَّذِيْنَ [ ان لوگوں کے دنوں کے جیسے کا ] خَلَوْا [ جو گزرے ] مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ [ ان سے پہلے ] قُلْ [ آپ کہہ دیجئے ] فَانْتَظِرُوْٓا [ پس تم لوگ انتظار کرو ] اِنِّىْ [ بیشک میں (بھی) ] مَعَكُمْ [ تمہارے ساتھ ] مِّنَ الْمُنْتَظِرِيْنَ [انتظار کرنے والوں میں سے ہوں ]
Ayah 10:103

ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كَذٰلِكَ١ۚ حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 10:103 in the Quran reader

پھر (جب ایسا وقت آتا ہے تو) ہم اپنے رسولوں کو اور اُن لوگوں کو بچا لیا کرتے ہیں جو ایمان لائے ہوں ہمارا یہی طریقہ ہے ہم پر یہ حق ہے کہ مومنوں کو بچا لیں

ثُمَّ [پھر ] نُنَجِّيْ [ ہم بچا لیتے ہیں ] رُسُلَنَا [ اپنے رسولوں کو ] وَالَّذِيْنَ [ اور ان کو جو ] اٰمَنُوْا [ایمان لائے ] كَذٰلِكَ ۚ [ اسی طرح (ہے ) ] حَقًّا [ حق ہوتے ہوئے ] عَلَيْنَا [ ہم پر ] نُنْجِ [ (کہ ) ہم بچا لیں ] الْمُؤْمِنِيْنَ [ایمان لانے والوں کو ] (آیت ۔ 103) ننج دراصل مضارع میں جمع متکلم کا صیغہ ننجی ہے ی حرف علت ہے ، لفظ میں آخری ہونے کی وجہ سے ساکن ہوئی ۔ پھر المومنین میں لام بھی ساکن ہے ۔ دوساکن جمع ہوئے ۔ اس لئے ی گرگئی ہے ۔
Ayah 10:104

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ دِیْنِیْ فَلَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ اَعْبُدُ اللّٰهَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۖۚ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 10:104 in the Quran reader

اے نبیؐ! کہہ دو کہ لوگو، اگر تم ابھی تک میرے دین کے متعلق کسی شک میں ہو تو سن لو کہ تم اللہ کے سوا جن کی بندگی کرتے ہو میں ان کی بندگی نہیں کرتا بلکہ صرف اسی خدا کی بندگی کرتا ہوں جس کے قبضے میں تمہاری موت ہے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ایمان لانے والوں میں سے ہوں

قُلْ [ آپ کہئے [يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ ] اے لوگو ] اِنْ [ اگر ] كُنْتُمْ [ تم لوگ ہو ] فِيْ شَكٍّ [ کسی شک میں ] مِّنْ دِيْنِيْ [ میرے دین سے ] فَلَآ اَعْبُدُ [ تو میں (تو ) بندگی نہیں کرتا ] الَّذِيْنَ [ ان لوگوں کی جن کی ] تَعْبُدُوْنَ [ تم لوگ بندگی کرتے ہو ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ ] وَلٰكِنْ [ اور لیکن ( یعنی بلکہ ) ] اَعْبُدُ [ میں بندگی کرتا ہوں ] اللّٰهَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ ښ [ اس اللہ کی جو پورا پورا لے لیتا ہے تم کو (یعنی موت دیتا ہے ) وَاُمِرْتُ [اور مجھے حکم دیا گیا ] اَنْ [ کہ ] اَكُوْنَ [ میں ہوجاؤں ] مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والوں میں سے ]
Ayah 10:105

وَ اَنْ اَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ۚ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 10:105 in the Quran reader

اور مجھ سے فرمایا گیا ہے کہ تو یکسو ہو کر اپنے آپ کو ٹھیک ٹھیک اِس دین پر قائم کر دے، اور ہرگز ہرگز مشرکوں میں سے نہ ہو

وَاَنْ [ اور یہ کہ ] اَقِمْ [ تو سیدھا رکھ ] وَجْهَكَ [ اپنے چہرے کو ] لِلدِّيْنِ [ دین کے لئے ] حَنِيْفًا ۚ [ یکسوہوتے ہوئے ] وَلَا تَكُوْنَنَّ [ اور تو ہرگز مت ہونا ] مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ [ شرک کرنے والوں میں سے ]
Ayah 10:106

وَ لَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكَ وَ لَا یَضُرُّكَ١ۚ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:106 in the Quran reader

اور اللہ کو چھوڑ کر کسی ایسی ہستی کو نہ پکار جو تجھے نہ فائدہ پہنچا سکتی ہے نہ نقصان اگر تو ایسا کرے گا تو ظالموں میں سے ہوگا

وَلَا تَدْعُ [ اور تو مت پکار ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [اللہ کے علاوہ ] مَا [ اس کو جو ] لَا يَنْفَعُكَ [ نفع نہیں دیتا ہے تجھ کو ] [وَلَا يَضُرُّكَ ۚ [ اور نہ نقصان دیتا ہے تجھ کو ] [ فَاِنْ [ پھر اگر ] فَعَلْتَ [ تو نے کیا (ایسا) ] فَاِنَّكَ [ تو بیشک تو ] اِذًا [ جب تو ] مِّنَ الظّٰلِمِيْنَ [ ظلم کرنے والوں میں سے ہے ]
Ayah 10:107

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اِنْ یُّرِدْكَ بِخَیْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهٖ١ؕ یُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 10:107 in the Quran reader

اگر اللہ تجھے کسی مصیبت میں ڈالے تو خود اس کے سوا کوئی نہیں جو اس مصیبت کو ٹال دے، اور اگر وہ تیرے حق میں کسی بھلائی کا ارادہ کرے تو اس کے فضل کو پھیرنے والا بھی کوئی نہیں ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے اور وہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

وَاِنْ [ اور اگر ] يَّمْسَسْكَ [ چھوئے تجھ کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] بِضُرٍّ [ کسی تکلیف سے ] فَلَا كَاشِفَ [ تو کوئی بھی کھولنے والا نہیں ہے ] لَهٗٓ [ اس کو ] اِلَّا [ مگر ] ھُوَ ۚ [ وہ (یعنی اللہ ) ] وَاِنْ [ اور اگر ] يُّرِدْكَ [ وہ ارادہ کرے تیرے لیے ] بِخَيْرٍ [ کسی بھلائی کا ] فَلَا رَاۗدَّ [ تو کوئی بھی لوٹانے والا نہیں ہے ] لِفَضْلِهٖ ۭ [ اس کے فضل کو ] يُصِيْبُ [ وہ پہنچاتا ہے ] بِهٖ [ اسے (یعنی فضل ) ] مَنْ [ اس کو جس کو ] يَّشَاۗءُ [ وہ چاہتا ہے ] مِنْ عِبَادِهٖ ۭ [ اپنے بندوں میں سے ] وَھُوَ [ اور وہ ہی ] الْغَفُوْرُ [ بےانتہا بخشنے والا ہے ] الرَّحِيْمُ [ ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ]
Ayah 10:108

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 10:108 in the Quran reader

اے محمدؐ، کہہ دو کہ “لوگو، تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق آ چکا ہے اب جو سیدھی راہ اختیار کرے اس کی راست روی اسی کے لیے مفید ہے، اور جو گمراہ رہے اس کی گمراہی اسی کے لیے تباہ کن ہے اور میں تمہارے اوپر کوئی حوالہ دار نہیں ہوں"

قُلْ [ آپ کہئے ] يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ [ اے لوگو ] قَدْ جَاۗءَكُمُ [ آچکا ہے تمہارے پا س ] الْحَقُّ [ حق ] مِنْ رَّبِّكُمْ ۚ [تمہارے رب (کے پاس) سے ] فَمَنِ [ پس جس نے ] اهْتَدٰى [ ہدایت پائی ] فَاِنَّمَا [ تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] يَهْتَدِيْ [ وہ ہدایت پاتا ہے ] لِنَفْسِهٖ ۚ [ اپنے آپ کے لئے ] وَمَنْ ضَلَّ [ اور جو گمراہ ہوا ] فَاِنَّمَا [ تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] يَضِلُّ [ وہ گمراہ ہوتا ہے ] عَلَيْهَا ۭ [ اس پر (یعنی اپنی جان پر )] وَمَآ اَنَا [ اور میں نہیں ہوں ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر ] بِوَكِيْلٍ [ کوئی اختیار والا ]
Ayah 10:109

وَ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ اصْبِرْ حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ١ۖۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ۠ Open ayah 10:109 in the Quran reader

اور اے نبیؐ، تم اس ہدایت کی پیروی کیے جاؤ جو تمہاری طرف بذریعہ وحی بھیجی جا رہی ہے، اور صبر کرو یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کر دے، اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے

وَاتَّبِعْ [ اور آپ پیروی کریں ] مَا [ اس کی جو ] يُوْحٰٓى [ وحی کیا گیا ] اِلَيْكَ [ آپ کی طرف ] وَاصْبِرْ [ اور آپ صبر کریں ] حَتّٰى [ یہاں تک کہ ] يَحْكُمَ [ فیصلہ کرے ] اللّٰهُ [ اللہ ] وَھُوَ [ اور وہ ] خَيْرُ الْحٰكِمِيْنَ [ فیصلہ کرنے والوں کا بہترین ہے ]