10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 10:41

وَ اِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّیْ عَمَلِیْ وَ لَكُمْ عَمَلُكُمْ١ۚ اَنْتُمْ بَرِیْٓئُوْنَ مِمَّاۤ اَعْمَلُ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:41 in the Quran reader

اگر یہ تجھے جھٹلاتے ہیں تو کہہ دے کہ “میرا عمل میرے لیے ہے اور تمہارا عمل تمہارے لیے، جو کچھ میں کرتا ہوں اس کی ذمہ داری سے تم بَری ہو اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس کی ذمہ داری سے میں بَری ہوں"

وَاِنْ [اور اگر ] كَذَّبُوْكَ [ وہ لوگ جھٹلاتے ہیں آپ کو ] فَقُلْ [ تو آپ کہہ دیجئے ] لِّيْ [ میرے لیے ] عَمَلِيْ [ میرا عمل ہے ] وَلَكُمْ [ اور تمہارے لیے ] عَمَلُكُمْ ۚ [ تمہارا عمل ہے ] اَنْتُمْ [ تم لوگ ] بَرِيْۗـــــُٔوْنَ [بری ہو ] مِمَّآ [اس سے جو ] اَعْمَلُ [ میں عمل کرتا ہوں ] وَاَنَا [ اور میں ] بَرِيْۗءٌ [ بری ہوں ] مِّمَّا [ اس سے جو ] تَعْمَلُوْنَ [ تم لوگ کرتے ہو ]
Ayah 10:42

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:42 in the Quran reader

ان میں بہت سے لوگ ہیں جو تیری باتیں سنتے ہیں، مگر کیا تو بہروں کو سنائیگا خواہ وہ کچھ نہ سمجھتے ہوں؟

وَمِنْھُمْ مَّنْ [ اور ان میں وہ بھی ہیں جو ] يَّسْتَمِعُوْنَ [ کان لگاتے ہیں ] اِلَيْكَ ۭ [ آپ کی طرف ] اَفَاَنْتَ [ تو کیا آپ ] تُسْمِعُ [ سنائیں گے ] الصُّمَّ [ بہروں کو ] وَ [ اس حال میں کہ ] لَوْ [ اگر ] كَانُوْا لَا يَعْقِلُوْنَ [ وہ لوگ عقل استعمال نہیں کرتے ہیں ] نوٹ ۔ 1: زیر مطالعہ آیات 42 ۔ 43 کے مخاطب اول رسول اللہ ﷺ تھے اور آپ کے توسط سے قیامت تک پیدا ہونے والے تمام مسلمان اس کے مخاطب ہیں، اس میں کہا گیا ہے کہ بہروں اور اندھوں کی رہنمائی نہیں کی جاسکتی ، حالانکہ ایسے لوگوں کے نہ تو کان بہرے ہوتے ہیں اور نہ آنکھیں اندھی ہوتی ہیں ۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے گزشتہ اسباق میں آیت 2:7 کے نوٹ ، 3: اور آیت 7:179 کے نوٹ ۔ 2 کا دوبارہ مطالعہ کریں ۔ آیات زیر مطالعہ کا منشا و مراد یہ یاد دلانا ہے کہ دعوت و تبلیغ کا کام ، اپنے اپنے ظروف و احوال میں، ہر شخص کا فرض ہے۔ اس جہاد کا نتیجہ تمہارے اختیار میں نہیں ہے ، یہ اللہ کا کام ہے، اس لئے نتیجہ نہ نکلنے کی صورت میں دل برداشتہ نہ ہو اور اپنا فرض ادا کرتے رہو ۔ البتہ ابتدائی کوشش کے بعد اگر واضح ہوجائے کہ کوئی شخص بات کو سمجھنا ہی نہیں چاہتا تو اس سے خوبصورتی سے اعراض کرلو اور ایسے لوگوں کو تلاش کرو جن میں حقیقت کو سمجھنے کی طلب ہو ۔ کیونکہ پانی اسے دیتے ہیں جسے پیاس ہو۔
Ayah 10:43

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْظُرُ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 10:43 in the Quran reader

اِن میں بہت سے لوگ ہیں جو تجھے دیکھتے ہیں، مگر کیا تو اندھوں کو راہ بتائے گا خواہ انہیں کچھ نہ سُوجھتا ہو؟

وَمِنْھُمْ مَّنْ [ اور ان میں وہ بھی ہیں جو ] يَّنْظُرُ [ دیکھتے ہیں ] اِلَيْكَ ۭ [ آپ کی طر] اَفَاَنْتَ [ تو کیا آپ ] تَهْدِي [ راہ دکھائیں گے ] الْعُمْيَ [ اندھوں کو ] وَ [ اس حال میں کہ ] لَوْ [ اگر ] كَانُوْا لَا يُبْصِرُوْنَ [ وہ لوگ بصارت نہیں کرتے ہیں ]
Ayah 10:44

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا وَّ لٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 10:44 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں پر ظلم نہیں کرتا، لوگ خود ہی اپنے اُوپر ظلم کرتے ہیں

اِنَّ اللّٰهَ [ یقینا اللہ ] لَا يَظْلِمُ [ ظلم نہیں کرتا ] النَّاسَ [ لوگوں پر ] شَيْـــًٔـا [ کچھ بھی ] وَّلٰكِنَّ [ اور لیکن ] النَّاسَ [ لوگ ] اَنْفُسَھُمْ [ اپنے آپ پر ] يَظْلِمُوْنَ [ ظلم کرتے ہیں ]
Ayah 10:45

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ كَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ یَتَعَارَفُوْنَ بَیْنَهُمْ١ؕ قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ Open ayah 10:45 in the Quran reader

(آج یہ دُنیا کی زندگی میں مست ہیں) اور جس روز اللہ اِن کو اکٹھا کرے گا تو (یہی دُنیا کی زندگی اِنہیں ایسی محسُوس ہوگی) گویا یہ محض ایک گھڑی بھر آپس میں جان پہچان کرنے کو ٹھیرے تھے (اس وقت تحقیق ہو جائے گا کہ) فی الواقع سخت گھاٹے میں رہے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی ملاقات کو جھٹلایا اور ہرگز وہ راہِ راست پر نہ تھے

وَيَوْمَ [ اور جس دن ] يَحْشُرُھُمْ [ وہ اکٹھا کرے گا ان کو ] وہ اکٹھا کرے گا ان کو ] كَاَنْ [ گویا کہ ] لَّمْ يَلْبَثُوْٓا [ وہ لوگ ٹھہرے ہی نہیں ] اِلَّا [ مگر ] سَاعَةً [ ایک گھڑی ] مِّنَ النَّهَارِ [ دن میں سے ] يَتَعَارَفُوْنَ [ ایک دوسرے کو پہچانیں گے ] بَيْنَھُمْ ۭ [ اپنے مابین ] قَدْ خَسِرَ [ گھاٹے میں پڑچکے ہیں ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جنھوں نے ] كَذَّبُوْا [ جھٹلایا ] بِلِقَاۗءِ اللّٰهِ [ اللہ کی ملاقات ] کو [ وَمَا كَانُوْا [ اور وہ نہیں تھے ] مُهْتَدِيْنَ [ہدایت پانے والے ] ترکیب : (آیت ۔ 45) کان لم میں کان دراصل کان ہے ، آگے لم سے ملانے کے لئے نون خفیفہ ہوا ہے ۔ نوٹ ۔ 2: زیرمطالعہ آیت ۔ 45 ۔ میں ہے کہ لوگ باہم ایک دوسرے کو پہچانیں گے یعنی جب قیامت میں مردے قبروں سے اٹھائے جائیں گے تو وہ ایک دوسرے کو پہچانیں گے ۔ امام بغوی نے اس کی تفسیر میں فرمایا کہ یہ پہچان شروع میں ہوگی ، بعد میں قیامت کے ہولناک واقعات سامنے آئیں گے تو یہ پہچان منقطع ہوجائے گی اور بعض روایات می ہے کہ پہچان تو پھر بھی رہے گی مگر ہیبت کے مارے بات نہ کرسکیں گے۔ (معارف القرآن )
Ayah 10:46

وَ اِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ اللّٰهُ شَهِیْدٌ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:46 in the Quran reader

جن بُرے نتائج سے ہم انہیں ڈرا رہے ہیں ان کا کوئی حصہ ہم تیرے جیتے جی دکھا دیں یا اس سے پہلے ہی تجھے اُٹھا لیں، بہرحال اِنہیں آنا ہماری ہی طرف ہے اور جو کچھ یہ کر رہے ہیں اس پر اللہ گواہ ہے

وَاِمَّا [ اور اگر ] نُرِيَنَّكَ [ ہم دکھا دیں آپ کو ] بَعْضَ الَّذِيْ [ اس کے بعض کو جو ] نَعِدُھُمْ [ ہم نے وعدہ کیا ان سے ] اَوْ [ یا ] نَتَوَفَّيَنَّكَ [ ہم وفات بھی دیں آپ کو ] فَاِلَيْنَا [ تو ہماری طرف ہی ] مَرْجِعُھُمْ [ لوٹنا ہے ان کو ] ثُمَّ [پھر ] اللّٰهُ [اللہ ] شَهِيْدٌ [گواہ ہے ] عَلٰي مَا [ اس پر جو ] يَفْعَلُوْنَ [ وہ لوگ کرتے ہیں ] (آیت ۔ 46) اما میں ان شرطیہ اور ما زائدہ ہے ۔
Ayah 10:47

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ رَسُوْلُهُمْ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:47 in the Quran reader

ہر امّت کے لیے ایک رسُول ہے پھر جب کسی امّت کے پاس اُس کا رسُول آ جاتا ہے تو اس کا فیصلہ پُورے انصاف کے ساتھ چکا دیا جاتا ہے اور اس پر ذرہ برابر ظلم نہیں کیا جاتا

وَلِكُلِّ اُمَّةٍ [ اور ہر ایک امت کے لیے ] رَّسُوْلٌ ۚ [ ایک رسول ہے ] فَاِذَا [ پس جب بھی ] جَاۗءَ [ آتا ہے ] رَسُوْلُھُمْ [ ان کا رسول ] قُضِيَ [ تو فیصلہ کردیا جاتا ہے ] بَيْنَھُمْ [ ان کے مابین ] بِالْقِسْطِ [ انصاف سے ] وَھُمْ [ اور ان پر ] لَا يُظْلَمُوْنَ [ ظلم نہیں کیا جاتا ]
Ayah 10:48

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:48 in the Quran reader

کہتے ہیں اگر تمہاری یہ دھمکی سچّی ہے تو آخر یہ کب پُوری ہو گی؟

وَيَقُوْلُوْنَ [ اور وہ لوگ کہتے ہیں ] مَتٰى [ کب ] هٰذَا الْوَعْدُ [ یہ وعدہ ہے ] اِنْ [ اگر ] كُنْتُمْ [ تم لوگ ہو ] صٰدِقِيْنَ [ سچ کہنے والے ]
Ayah 10:49

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ؕ اِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَلَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 10:49 in the Quran reader

کہو “میرے اختیار میں خود اپنا نفع و ضرر بھی نہیں، سب کچھ اللہ کی مشیّت پر موقوف ہے ہر امّت کے لیے مُہلت کی ایک مدّت ہے، جب یہ مدّت پُوری ہو جاتی ہے تو گھڑی بھر کی تقدیم و تاخیر بھی نہیں ہوتی"

قُلْ [ آپ کہئے ] لَّآ اَمْلِكُ [ میں اختیار نہیں رکھتا ] لِنَفْسِيْ [ اپنی جان کے لیے ] ضَرًّا [ کسی تکلیف کا ] وَّلَا نَفْعًا [ اور نہ کسی نفع کا ] اِلَّا [ مگر ] مَا [وہ جو ] شَاۗءَ [ چاہے ] اللّٰهُ ۭ [ اللہ ] لِكُلِّ اُمَّةٍ [ ہر ایک امت کے لیے ] اَجَلٌ ۭ [ خاتمے کا ایک وقت ہے ] اِذَا [جب بھی ] جَاۗءَ [ آئے گا ] اَجَلُھُمْ [ ان کا وقت ] فَلَا يَسْتَاْخِرُوْنَ [ تو وہ لوگ نہ پیچھے ہوں گے ] سَاعَةً [ ایک گھڑی ] وَّلَا يَسْتَقْدِمُوْنَ [ اور نہ آگے ہوں گے ]
Ayah 10:50

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُهٗ بَیَاتًا اَوْ نَهَارًا مَّا ذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:50 in the Quran reader

اِن سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر اللہ کا عذاب اچانک رات کو یا دن کو آ جائے (تو تم کیا کر سکتے ہو؟) آخر یہ ایسی کونسی چیز ہے جس کے لیے مجرم جلدی مچائیں؟

قُلْ [ آپ کہئے ] اَ [ کیا ] رَءَيْتُمْ [ تم لوگوں نے غور کیا ] اِنْ [ (کہ ) اگر ] اَتٰىكُمْ [ آئے تمہارے پاس ] عَذَابُهٗ [ اس کا عذاب ] بَيَاتًا [ رات بسر کرتے ہوئے ] اَوْ [ یا ] نَهَارًا [ دن کے وقت ] مَّاذَا [ وہ چیز ] يَسْتَعْجِلُ [ جلدی چاہتے ہیں ] مِنْهُ [ جس میں ] الْمُجْرِمُوْنَ [ مجرم لوگ ] (آیت ۔ 50) بیاتا کو ظرف بھی مانا جاسکتا ہے لیکن بہتر ہے کہ اس کو حال مانا جائے ، جبکہ نھارا ظرف ہے۔
Ayah 10:51

اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ١ؕ آٰلْئٰنَ وَ قَدْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 10:51 in the Quran reader

کیا جب وہ تم پر آ پڑے اسی وقت تم اسے مانو گے؟ اب بچنا چاہتے ہو؟ حالانکہ تم خود ہی اس کے جلدی آنے کا تقاضا کر رہے تھے!

اَ [ کیا ] ثُمَّ [پھر ] اِذَا [جب ] مَا [وہ جو ] وَقَعَ [ واقع ہوگا ] اٰمَنْتُمْ [ تم لوگ ایمان لاؤگے ] بِهٖ ۭ [ اس پر ] اٰۗلْــٰٔنَ [ کیا اب ] وَ [ حالانکہ ] قَدْ كُنْتُمْ [ تم لوگ ] بِهٖ [ اس کی ] تَسْتَعْجِلُوْنَ [ اور وہ لوگ خبر مانگتے ہیں آپ سے (یعنی پوچھتے ہیں) ]
Ayah 10:52

ثُمَّ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ١ۚ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:52 in the Quran reader

پھر ظالموں سے کہا جائے گا کہ اب ہمیشہ کے عذاب کا مزا چکھو، جو کچھ تم کماتے رہے ہو اس کی پاداش کے سوا اور کیا بدلہ تم کو دیا جا سکتا ہے؟

ثُمَّ (پھر) قِيْلَ (کہا جائے) لِلَّذِيْنَ (ان لوگوں کو جو) ظَلَمُوْا (ان سب نے ظلم کیا) ذُوْقُوْا (تم سب چکھو ) عَذَابَ (عذاب) الْخُلْدِ (ہمیشگی کا ) هَلْ (نہیں) تُجْزَوْنَ (تم سب بدلہ دیے جاؤ گے ) اِلَّا ( مگر ) بِمَا (اس وجہ سے جو) كُنْتُمْ (ہو تم) تَكْسِبُوْنَ (تم سب عمل کرتے ہو ) (آیت ۔ 52) ثم قیل گذشتہ آیت کے اذا سے تسلسل میں ہے اس لیے اس کا ترجمہ بھی مستقبل میں ہوگا ۔
Ayah 10:53

وَ یَسْتَنْۢبِئُوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ١ؔؕ قُلْ اِیْ وَ رَبِّیْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ١ؔؕۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ۠ Open ayah 10:53 in the Quran reader

پھر پُوچھتے ہیں کیا واقعی یہ سچ ہے جو تم کہہ رہے ہو؟ کہو “میرے رب کی قسم، یہ بالکل سچ ہے اور تم اتنا بل بوتا نہیں رکھتے کہ اسے ظہُور میں آنے سے روک دو"

[وَيَسْتَنْۢبِـــُٔـوْنَكَ (اور وہ سب دریافت کرتے ہیں آپ سے )] [اَ : کیا ] حَقٌّ [ حق ہے ] ھُوَ ڼ [ یہ (قرآن ) ] قُلْ [ آپ کہئے ] اِيْ [ ہاں ] وَرَبِّيْٓ [ میرے رب کی قسم ہے ] اِنَّهٗ [ بیشک یہ ] لَحَقٌّ ې [ یقینا حق ہے ] وَمَآ اَنْتُمْ [ اور تم لوگ نہیں ہو ] بِمُعْجِزِيْنَ [ عاجز کرنے والے (اس کو ) ] (آیت ۔ 53) احق ھو میں حق خبر مقدم اور ھو مبتدا مؤخر ہے ۔ ای عربی میں نعم کے معنی میں آتا ہے ۔ وربی کا واو قسمیہ ہے۔
Ayah 10:54

وَ لَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِی الْاَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهٖ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:54 in the Quran reader

اگر ہر اُس شخص کے پاس جس نے ظلم کیا ہے، رُوئے زمین کی دولت بھی ہو تو اُس عذاب سے بچنے کے لیے وہ اسے فدیہ میں دینے پر آمادہ ہو جائے گا جب یہ لوگ اس عذاب کو دیکھ لیں گے تو دل ہی دل میں پچھتائیں گے مگر ان کے درمیان پُورے انصاف سے فیصلہ کیا جائے گا کوئی ظلم ان پر نہ ہو گا

وَلَوْ [ اور اگر ] اَنَّ [(ہوتا ) کہ ] لِكُلِّ نَفْسٍ [ ہراس جان کے لئے ] ظَلَمَتْ [ جس نے ظلم کیا ] مَا [ وہ (سب کچھ ) جو ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ہے ] لَافْـــتَدَتْ [ تو وہ ضرور خود کو چھڑاتی ] بِهٖ ۭ [ اسے دے کر ] وَاَسَرُّوا [ اور وہ چھپائیں گے ] النَّدَامَةَ [ ندامت کو ] لَمَّا [ جب ] رَاَوُا [ وہ دیکھیں گے ] الْعَذَابَ ۚ [ اس عذاب کو ] وَقُضِيَ [ اور فیصلہ کیا جائے گا ] بَيْنَھُمْ [ انکے مابین ] بِالْقِسْطِ [ انصاف سے ] وَھُمْ [ اور ان پر ] لَا يُظْلَمُوْنَ [ ظلم نہیں کیا جائے گا ]
Ayah 10:55

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:55 in the Quran reader

سنو! آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ کا ہے سُن رکھو! اللہ کا وعدہ سچّا ہے مگر اکثر انسان جانتے نہیں ہیں

اَلَآ [ سن لو ] اِنَّ [ یقینا ] لِلّٰهِ [ اللہ ہی کا ہے ] مَا [ وہ (سب کچھ ) جو ] فِي السَّمٰوٰتِ [ آسمانوں میں ہے ] وَالْاَرْضِ ۭ [ اور زمین میں ہے ] اَلَآ [ خبردار رہو ] اِنَّ [ یقینا ] وَعْدَ اللّٰهِ [ اللہ کا وعدہ ] حَقٌّ [ حق ہے ] وَّلٰكِنَّ [ اور لیکن ] اَكْثَرَھُمْ [ ان کی اکثریت ] لَا يَعْلَمُوْنَ [ جانتی نہیں ہے ]
Ayah 10:56

هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 10:56 in the Quran reader

وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے اور اسی کی طرف تم سب کو پلٹنا ہے

ھُوَ [ وہ ] يُـحْيٖ [ زندگی دیتا ہے ] وَيُمِيْتُ [ اور موت دیتا ہے ] وَاِلَيْهِ [ اور اس کی طرف [تُرْجَعُوْنَ [ تم لوگ لوٹائے جاؤگے ]
Ayah 10:57

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ١ۙ۬ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:57 in the Quran reader

لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آ گئی ہے یہ وہ چیز ہے جو دلوں کے امراض کی شفا ہے اور جو اسے قبول کر لیں ان کے لیے رہنمائی اور رحمت ہے

يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ [ اے لوگوں ] قَدْ جَاۗءَتْكُمْ [ آچکی ہے تمہارے پاس ] مَّوْعِظَةٌ [ ایک نصیحت ] مِّنْ رَّبِّكُمْ [ تمہارے رب (کی طرف ) سے ] وَشِفَاۗءٌ [ اور ایک شفا ] لِّمَا [ اس کے لیے جو ] فِي الصُّدُوْرِ ڏ [ سینوں میں ہے ] وَهُدًى [ اور ہدایت ] وَّرَحْمَةٌ [ اور رحمت ] لِّلْمُؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والوں کے لیے ]
Ayah 10:58

قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْا١ؕ هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 10:58 in the Quran reader

اے نبیؐ، کہو کہ “یہ اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی ہے کہ یہ چیز اس نے بھیجی، اس پر تو لوگوں کو خوشی منانی چاہیے، یہ اُن سب چیزوں سے بہتر ہے جنہیں لوگ سمیٹ رہے ہیں"

قُلْ [آپ کہئے ] بِفَضْلِ اللّٰهِ [ اللہ کے فضل سے ] وَبِرَحْمَتِهٖ [ اور اس کی رحمت سے (یہ آئی ہیں ) ] فَبِذٰلِكَ [ پس اس سبب سے ] فَلْيَفْرَحُوْا ۭ [ پھر انہیں چاہیے کہ وہ خوش ہوں ] ھُوَ [یہ ] خَيْرٌ [بہت رہے ] مِّمَّا [ اس سے جو ] يَجْمَعُوْنَ [ یہ لوگ جمع کرتے ہیں ]
Ayah 10:59

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًا١ؕ قُلْ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَى اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 10:59 in the Quran reader

اے نبیؐ، ان سے کہو “تم لوگوں نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ جو رزق اللہ نے تمہارے لیے اتارا تھا اس میں سے تم نے خود ہی کسی کو حرام اور کسی کو حلال ٹھیرا لیا!" اِن سے پوچھو، اللہ نے تم کو اس کی اجازت دی تھی؟ یا تم اللہ پر افترا کر رہے ہو؟

قُلْ [ آپ کہئے ] اَ [ کیا ] رَءَيْتُمْ [ تم لوگوں نے غور کیا ] مَّآ [ اس پر جو ] اَنْزَلَ [ اتارا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] لَكُمْ [ تمہارے لیے ] مِّنْ رِّزْقٍ [ کچھ رزق میں سے ] فَجَــعَلْتُمْ [ پھر تم لوگوں نے بنایا ] مِّنْهُ [ اس میں سے ] حَرَامًا [ کچھ کو حرام ] وَّحَلٰلًا ۭ [ اور کچھ کو حلال ] قُلْ [ آپ کہئے ] اٰۗللّٰهُ [ کیا اللہ نے ] اَذِنَ [ اجازت دی ] لَكُمْ [ تم لوگوں کو ] اَمْ [ یا ] عَلَي اللّٰهِ ] اللہ پر ] تَفْتَرُوْنَ [ تم لوگ گھڑتے ہو (جھوٹ ) ] نوٹ ۔ 3: زیرمطالعہ آیت ۔ 59 میں رزق کا لفظ آیا ہے ۔ اردو زبان میں رزق کا اطلاق کھانے پینے کی چیزوں پر ہوتا ہے ۔ اسی وجہ سے لوگ خیال کرتے ہیں کہ یہاں گرفت صرف اس قانون سازی پر کی گئی ہے جو دسترخوان کی چھوٹی سی دنیا میں مذہبی ادہام یارسم و رواج کی بنا پر لوگوں نے کر ڈالی ہے۔ اس غلط فہمی میں عوام ہی نہیں علماء تک مبتلاء ہیں ۔ حالانکہ عربی زبان میں رزق محض خوراک کے معنی تک محدود نہیں بلکہ عطاء بخشش اور نصیب کے معنی میں عام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ بھی انسان کو دیا ہے وہ سب اس کا رزق ہے حتی کہ اولاد تک رزق ہے۔ مشہور دعا ہے اللہم ارنا الحق وارزقنا اتباعہ یعنی اے اللہ تم ہمیں دکھا حق کو حق ہوتے ہوئے اور تو ہمیں توفیق دے اس کی پیروی کرنے کی ، یہاں رزق کا لفظ توفیق دینے کے معنی میں آیا ہے ۔ پس رزق کو محض دسترخوان کی سرحدوں تک محدود سمجھنا اور یہ خیال کرنا کہ اللہ تعالیٰ کو صرف ان پابندیوں اور آزدیوں پر اعتراض ہے جو کھانے پینے کی چیزوں کے معاملہ میں لوگوں نے بطور خود اختیار کرلی ہیں ، سخت غلطی ہے ۔ اور یہ کوئی معمولی غلطی نہیں ہے ۔ اس کی بدولت اللہ کے دین کی ایک بہت بڑی اصولی تعلیم لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہوگئی ہے ۔ یہ اسی غلطی کا نتیجہ ہے کہ کھانے پینے کی چیزوں میں حلت و حرمت کا معاملہ تو ایک دینی معاملہ سمجھا جاتا ہے ۔ لیکن تمدن کے وسیع تر معاملات میں اگر یہ اصول طے کرلیا جائے کہ انسان خود اپنے لئے حدود مقرر کرنے کا حق رکھتا ہے اور اسی بنا پر اللہ اور اس کی کتاب سے بےنیاز ہوکر قانون سازی کی جانے لگے ، تو عامی تو درکنار ، علماء دین تک کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ یہ چیز بھی دین سے اسی طرح ٹکراتی ہے جس طرح کھانے پینے کی چیزوں میں خود جائز و ناجائز کا فیصلہ کرنا ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 10:60

وَ مَا ظَنُّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 10:60 in the Quran reader

جو لوگ اللہ پر یہ جھوٹا افترا باندھتے ہیں ان کا کیا گمان ہے کہ قیامت کے روز ان سے کیا معاملہ ہو گا؟ اللہ تو لوگوں پر مہربانی کی نظر رکھتا ہے مگر اکثر انسان ایسے ہیں جو شکر نہیں کرتے

وَمَا ظَنُّ [ اور کیا گمان ہے ] الَّذِيْنَ [ ان لوگوں کا جو ] يَفْتَرُوْنَ [ گھڑتے ہیں ] عَلَي اللّٰهِ [ اللہ پر ] الْكَذِبَ [ جھوٹ ] يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ۭ [ قیامت کے دن کے بارے میں ] اِنَّ [ بیشک ] اللّٰهَ [ اللہ ] لَذُوْ فَضْلٍ [ یقینا فضل والا ہے ] عَلَي النَّاسِ [ لوگوں پر ] وَلٰكِنَّ [ اور لیکن ] اَكْثَرَھُمْ [ ان کی اکثریت ] لَا يَشْكُرُوْنَ [ شکر نہیں کرتی ]
Ayah 10:61

وَ مَا تَكُوْنُ فِیْ شَاْنٍ وَّ مَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّ لَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَیْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ وَ مَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ وَ لَاۤ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرَ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 10:61 in the Quran reader

اے نبیؐ، تم جس حال میں بھی ہوتے ہو اور قرآن میں سے جو کچھ بھی سُناتے ہو، اور لوگو، تم بھی جو کچھ کرتے ہو اُس سب کے دوران میں ہم تم کو دیکھتے رہتے ہیں کوئی ذرہ برابر چیز آسمان اور زمین میں ایسی نہیں ہے، نہ چھوٹی نہ بڑی، جو تیرے رب کی نظر سے پوشیدہ ہو اور ایک صاف دفتر میں درج نہ ہو

وَمَا تَكُوْنُ [ اور آپ نہیں ہوتے ] فِيْ شَاْنٍ [ کسی کام میں ] وَّمَا تَتْلُوْا [ اور آپ نہیں پڑھتے ] مِنْهُ [ اس سے ] مِنْ قُرْاٰنٍ [ کچھ قرآن میں سے ] وَّلَا تَعْمَلُوْنَ [ اور تم لوگ عمل نہیں کرتے ] مِنْ عَمَلٍ [ کوئی بھی عمل ] اِلَّا [ مگر (یہ کہ ) ] كُنَّا [ہم ہوتے ہیں ] عَلَيْكُمْ [ تو لوگوں پر ] شُهُوْدًا [ موجود ] اِذْ [ جب ] تُفِيْضُوْنَ [ تم لوگ پھیلاتے ہو (یعنی تبلیغ کرتے ہو) ] فِيْهِ ۭ [ اس میں ] وَمَا يَعْزُبُ [ اور پوشیدہ نہیں ہوپاتی ] عَنْ رَّبِّكَ [ آپ کے رب سے ] مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ [ کسی بھی ذرہ کے ہم وزن (کوئی چیز ) ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] وَلَا فِي السَّمَاۗءِ [ اور نہ ہی آسمان میں ] وَلَآ اَصْغَرَ [ اور نہ ہی زیادہ چھوٹی ] مِنْ ذٰلِكَ [ اس سے ] وَلَآ اَكْبَرَ [ اور نہ ہی زیادہ بڑی ] اِلَّا [مگر (یہ کہ ) ] فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ [ (سب کچھ ) ایک واضح کتاب میں ہے ] ش ء ن : (ف) شانا ۔ قدرومنزلت والا کام کرنا ، اپنی فطرت کے مطابق کام کرنا ۔ شان ، اسم ذات بھی ہے ۔ کام ، مصروفیت ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 61 ۔ ع ز ب ــ: (ن) عزبا ، پوشیدہ ہونا ۔ غائب ہونا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 61 ۔ ترکیب : (آیت ۔ 61) ما تکون اور ماتتلوا کے ما کو نافیہ ماننا بہتر ہے کیونکہ آگے لا تعملون بھی آیا ہے اور اس کے آگے الا بھی آیا ہے ۔ ذرۃ پر عطف ہونے کی وجہ سے اصغر اور اکبر حالت جز میں ہیں ۔ فی کتب مبین قائم مقام خبر ہے۔ اس کا مبتدا اور خبر دونوں محذوف ہیں ۔
Ayah 10:62

اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ Open ayah 10:62 in the Quran reader

سُنو! جو اللہ کے دوست ہیں، جو ایمان لائے اور جنہوں نے تقویٰ کا رویہ اختیار کیا،

اَلَآ [ سن لو ] اِنَّ [ یقینا ] اَوْلِيَاۗءَ اللّٰهِ [ اللہ کے دوست (وہ ہیں ) ] لَا خَوْفٌ [ کوئی خوف نہیں ہے ] عَلَيْهِمْ [ جن پر ] وَلَا ھُمْ [ اور نہ ہی وہ لوگ ] يَحْزَنُوْنَ [پچھتاتے ہیں ] نوٹ ۔ 1: زیر مطالعہ آیات 62 تا 64 میں اللہ تعالیٰ نے ولی اللہ لوگوں کے متعلق کچھ باتیں ہمیں بتائی ہیں ۔ ان کو سمجھنے سے پہلے یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ ولی اللہ لوگوں کے متعلق جو عام تصور ہے وہ درست نہیں ہے۔ ” عوام نے جو اولیاء اللہ کی علامت کشف و کرامات یا غیب کی چیزیں معلوم ہونے کو سمجھ رکھا ہے ، یہ غلط اور دھوکہ ہے، ہزاروں اولیاء اللہ ہیں جن سے اس طرح کی کوئی چیز ثابت نہیں اور اس کے خلاف ایسے لوگوں سے کشف اور غیب کی خبریں منقول ہیں جن کا ایمان بھی درست نہیں ۔ “ (معارف القرآن بحوالہ تفسیر مظہری ) ۔ ان غلط تصورات سے ذہن کو صاف کرکے جب ہم مذکورہ آیات کا مطالعہ کرتے ہیں تو ولی اللہ کی حقیقت واضح طور پر سمجھ میں آجاتی ہے۔ مذکورہ آیات سے ایک تو یہ بات قطعی طور پر معلوم ہوئی کہ یقینا ایک ایسے مرتبہ اور مقام کا وجود ہے جسے ہم لوگ ولی اللہ کہتے ہیں اور جس کے لیے آیت میں اللہ تعالیٰ نے جمع کے صیغے میں اولیاء اللہ کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ اس لیے ہم لوگوں کا ولی اللہ کا تصور کوئی دیوملائی تصور نہیں ہے ۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ ولی اللہ کی پہچان کیا ہے ۔ پہچان یہ ہے کہ اولیاء اللہ خوف اور حزن (پچھتاوے) سے محفوظ ہوتے ہیں ، اب پہلے ان صفات کی نوعیت اور اہمیت کو سمجھ لیں پھر ہم دیکھیں گے کہ انہیں حاصل کرنے کا طریقہ کیا بتایا گیا ہے ۔ خوف درحقیقت ایک داخلی کیفیت ہے اور اس کا تعلق مستقبل کے اندیشوں سے ہے کہ کہیں ایسا نہ ہوجائے ، کہیں ویسا نہ ہوجائے ، پتہ نہیں کیا ہونا ہے وغیرہ وغیرہ ، کوئی بظاہر کتنا بھی پرسکون اور خوش وخرم نظر آئے لیکن اگر اندرہی اندر وہ اس قسم کے اندیشوں میں مبتلا رہتا ہو تو وہ خوف سے محفوظ نہیں ہے ۔ اس کیفیت کا اثر یہ ہوتا ہے کہ انسان اضطراب (ANXIETY) اور اعصابی تناؤ (TENSION) کا شکار رہتا ہے ۔ ان سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی فہرست خاصی طویل ہے اس طرح حزن یعنی پچھتاوا بھی ایک داخلی کیفیت ہے اور اس کا تعلق ماضی سے ہے ۔ کاش ایسا نہ ہوتا ، کاش میں ایسا نہ کرتا وغیرہ وغیرہ ، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ لفظ ” لو “ (کاش) شیطان کے عمل کا دروازہ کھولتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ سمجھ میں آئی ہے کہ پچھتاوے جب ہماری سوچ پر غالب آجاتے ہیں تو ہم قنوطیت (FRUSTRATION) کا شکار ہوجاتے ہیں جو کہ گناہ ہے (15:56) ۔ اس دور کے ماہرین نفسیات متفق ہیں کہ قنوطیت انسان کی قوت کار کو سلب کرکے اسے ناکارہ بنادیتی ہے اور اس کی شخصیت کی کشش اور جاذبیت کو ختم کرکے لوگوں کو اس سے دور کردیتی ہے چناچہ ولی اللہ کی دوسری پہچان کی دوسری صفت یہ ہے کہ یہ لوگ پچھتاتے نہیں ہیں ۔ اس کے آگے پھر ان دونوں صفات کو حاصل کرنے والے راستے کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور پھر تقوی اختیار کرتے رہے ۔ نوٹ کریں کہ تقوی کے لیے یہاں ماضی استمراری کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ ولی اللہ کے مقام تک رسائی کے لئے صرف تقوی نہیں بلکہ تقوی پر تسلسل درکار ہے ۔ کیونکہ جو چیز غلام کو آقا کا دوست بناتی ہے وہ آقا کی خوشنودی کے تجسس یعنی تقوی کا دوام ہے۔ چناچہ جو لوگ تقوی کو اپنا طرز زندگی (LIFESTYLE) بنا لیتے ہیں ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت ہے، اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ، ان بشارتوں کی ابتداء تو وہی ہے جس کا ذکر آچکا ہے ، یعنی خوف اور حزن سے نجات ، اس کے بعد پھر اس دنیا میں بشارتوں کا ایک سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جو آخرت کی منزلوں یعنی قبر اور حشر وغیرہ میں جاری رہتا ہے ، یہاں تک کہ انسان اپنے گھر یعنی جنت میں داخل ہوجاتا ہے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے جس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ۔ نیز یہ بھی نوٹ کرلیں کہ کامیابی کے LATEST اور MOST MODERN معیار خواہ کچھ بھی ہوں ، اللہ تعالیٰ کے نزدیک شاندار کامیابی یہی ہے کہ انسان اس مقام و مرتبہ کو پالے۔ اس مطالعہ سے یہ حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ ولی اللہ کا مرتبہ ومقام فردا فردا ہر ایک مسلمان کی دسترس میں ہے۔ اس کے لیے نہ تو عالم فاضل ہونا ضروری ہے اور نہ تارک الدنیا ہونا یا کسی خانقاہ میں بیٹھنا ضروری ہے کیونکہ اس منزل تک پہنچانے والا راستہ تقوی کا دوام ہے ۔ اور تقوی کا صحیح ٹیسٹ بھر پور زندگی کے منجھدار میں ہوتا ہے ۔ اس لیے عام زندگی بسر کرنے والا جو مسلمان بھی چاہے وہ کوشش کرکے ولی اللہ کا مقام حاصل کرسکتا ہے ۔ اگر کسی کو منزل نہ بھی ملے تب بھی اس راہ کا راہی تو بن ہی سکتا ہے اور یہ بھی بڑی بات ہے ۔
Ayah 10:63

الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ Open ayah 10:63 in the Quran reader

ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے

الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ [ اور تقوی اختیار کرتے رہے ]
Ayah 10:64

لَهُمُ الْبُشْرٰى فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُؕ Open ayah 10:64 in the Quran reader

دُنیا اور آخرت دونوں زندگیوں میں ان کے لیے بشارت ہی بشارت ہے اللہ کی باتیں بدل نہیں سکتیں یہی بڑی کامیابی ہے

لَھُمُ [ ان کے لیے ] الْبُشْرٰي [بشارت ہے ] فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا [ دنیوی زندگی میں ] وَفِي الْاٰخِرَةِ ۭ [ اور آخرت میں ] لَا تَبْدِيْلَ [ کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہے ] لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ ۭ] اللہ کے فرمانوں میں ] ذٰلِكَ [یہ ] ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ [ ہی عظیم کامیابی ہے ]
Ayah 10:65

وَ لَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ؕ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 10:65 in the Quran reader

اے نبیؐ، جو باتیں یہ لوگ تجھ پر بناتے ہیں وہ تجھے رنجیدہ نہ کریں، عزّت ساری کی ساری خدا کے اختیار میں ہے، اور وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے

وَلَا يَحْزُنْكَ [ اور چاہیے کہ افسردہ مت کرے آپ کو ] قَوْلُھُمْ ۘ [ ان لوگوں کی بات ] اِنَّ [یقینا ] الْعِزَّةَ [کل عزت ] لِلّٰهِ [ اللہ ہی کی (دی ہوئی ) ہے ] جَمِيْعًا ۭ [ سب کی سب ] ھُوَ السَّمِيْعُ [وہ ہی سننے والا ہے ] الْعَلِيْمُ [ جاننے والا ہے ]
Ayah 10:66

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا یَتَّبِعُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 10:66 in the Quran reader

آگاہ رہو! آسمان کے بسنے والے ہوں یا زمین کے، سب سے سب اللہ کے مملوک ہیں اور جو لوگ اللہ کے سوا کچھ (اپنے خودساختہ) شریکوں کو پکار رہے ہیں وہ نِرے وہم و گمان کے پیرو ہیں اور محض قیاس آرائیاں کرتے ہیں

اَلَآ [ سن لو ] اِنَّ [ یقینا ] لِلّٰهِ [ اللہ ہی کا ہے ] مَنْ [ وہ جو ] فِي السَّمٰوٰتِ [ آسمانوں میں ہے ] وَمَنْ [ اور وہ جو ] فِي الْاَرْضِ ۭ [ زمین میں ہے ] وَمَا [ اور کس کی ] يَتَّبِعُ [ پیروی کرتے ہیں ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جو ] يَدْعُوْنَ [ پکارتے ہیں ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ ] شُرَكَاۗءَ ۭ [ شریکوں کو ] اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ [ وہ پیروی نہیں کرتے ] اِلَّا [ مگر ] الظَّنَّ [ گمان کی ] وَاِنْ ھُمْ [ اور وہ نہیں ہیں ] اِلَّا [ سوائے اس کے کہ ] يَخْرُصُوْنَ (سب اٹکل دوڑاتے ) (آیت ۔ 66) وما یتبع کا ماموصولہ ہے،۔ ان یتبعون اس کا صلہ ہے۔
Ayah 10:67

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 10:67 in the Quran reader

وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی کہ اس میں سکون حاصل کرو اور دن کو روشن بنایا اس میں نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو (کھلے کانوں سے پیغمبر کی دعوت کو) سنتے ہیں

[ھُوَ (وہی " ہے " ) الَّذِيْ (جو) جَعَلَ (بنائے اس نے) لَكُمُ (تمہارے لیے) الَّيْلَ (رات کو ) لِتَسْكُنُوْا (تاکہ تم سب آرام کرو )] [فِيْهِ [ اس میں ] وَالنَّهَارَ [ اور دن کو ] مُبْصِرًا ۭ [ بینا کرنے والا ہوتے ہوئے ] اِنَّ [یقینا ] فِيْ ذٰلِكَ [ اس میں ] لَاٰيٰتٍ [ لازما نشانیاں ہیں ] لِّقَوْمٍ [ایسے لوگوں کے لیے جو ] يَّسْمَعُوْنَ [ سن کر سمجھتے ہیں ]
Ayah 10:68

قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ الْغَنِیُّ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍۭ بِهٰذَا١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:68 in the Quran reader

لوگوں نے کہہ دیا کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے سبحان اللہ! وہ تو بے نیاز ہے، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اس کی ملک ہے تمہارے پاس اس قول کے لیے آخر کیا دلیل ہے؟ کیا تم اللہ کے متعلق وہ باتیں کہتے ہو جو تمہارے علم میں نہیں ہیں؟

قَالُوا [ انھوں نے کہا ] اتَّخَذَ [ بنایا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] وَلَدًا [ ایک بیٹا ] سُبْحٰنَهٗ ۭ [ (حالانکہ ) اس کی پاکیزگی ہے (ہر ضرورت سے ) ] ھُوَ الْغَنِيُّ ۭ [ وہ ہی بےنیاز ہے ] لَهٗ [ اس کا ہی ہے ] مَا [وہ جو ] فِي السَّمٰوٰتِ [ آسمانوں میں ہے ] وَمَا [اور وہ جو ] فِي الْاَرْضِ ۭ [ زمین میں ہے ] اِنْ [ نہیں ہے ] عِنْدَكُمْ [ تم لوگوں کے پاس ] مِّنْ سُلْطٰنٍۢ [ کوئی بھی دلیل ] بِهٰذَا ۭ [ اس کے لیے ] اَ [ کیا ] تَقُوْلُوْنَ [ تم لوگ کہتے ہو ] عَلَي اللّٰهِ [ اللہ پر ] مَا [ وہ جو ] لَا تَعْلَمُوْنَ [ تم لوگ نہیں جانتے ہو ]
Ayah 10:69

قُلْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 10:69 in the Quran reader

اے محمدؐ، کہہ دو کہ جو لوگ اللہ پر جھوٹے افترا باندھتے ہیں وہ ہرگز فلاح نہیں پا سکتے

قُلْ [ آپ کہئے ] اِنَّ [ بیشک ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جو ] يَفْتَرُوْنَ [ گھڑتے ہیں ] عَلَي اللّٰهِ [ اللہ پر ] الْكَذِبَ [ جھوٹ ] لَا يُفْلِحُوْنَ [ وہ مراد نہیں پاتے ]
Ayah 10:70

مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِیْقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِیْدَ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 10:70 in the Quran reader

دنیا کی چند روزہ زندگی میں مزے کر لیں، پھر ہماری طرف اُن کو پلٹنا ہے پھر ہم اس کفر کے بدلے جس کا ارتکاب وہ کر رہے ہیں ان کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے

مَتَاعٌ [ برتنے کا سامان ہے ] فِي الدُّنْيَا [ دنیا میں ] ثُمَّ [ پھر ] اِلَيْنَا [ ہماری طرف ہی ] مَرْجِعُھُمْ [ ان کا لوٹنا ہے ] ثُمَّ [ پھر ] نُذِيْقُھُمُ [ ہم چکھائیں گے ان کو ] الْعَذَابَ الشَّدِيْدَ [ سخت عذاب ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ [ یہ لوگ کفر کرتے ہیں ]
Ayah 10:71

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍ١ۘ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكُمْ مَّقَامِیْ وَ تَذْكِیْرِیْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَعَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ فَاَجْمِعُوْۤا اَمْرَكُمْ وَ شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ لَا یَكُنْ اَمْرُكُمْ عَلَیْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوْۤا اِلَیَّ وَ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 10:71 in the Quran reader

اِن کو نوحؑ کا قصہ سناؤ، اُس وقت کا قصہ جب اُس نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ “اے برادران قوم، اگر میرا تمہارے درمیان رہنا اور اللہ کی آیات سنا سنا کر تمہیں غفلت سے بیدار کرنا تمہارے لیے ناقابل برداشت ہو گیا ہے تو میرا بھروسہ اللہ پر ہے، تم اپنے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کو ساتھ لے کر ایک متفقہ فیصلہ کر لو اور جو منصوبہ تمہارے پیش نظر ہو اس کو خوب سوچ سمجھ لو تاکہ اس کا کو ئی پہلو تمہاری نگاہ سے پوشیدہ نہ رہے، پھر میرے خلاف اس کو عمل میں لے آؤ اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو

وَاتْلُ عَلَيْهِمْ [اور آپ پڑھ کر سنائیں ان لوگوں کو ] نَبَاَ نُوْحٍ ۘ [ نوح کی خبر ] اِذْ [ جب ] قَالَ [ انھوں نے کہا ] لِقَوْمِهٖ [ اپنی قوم سے ] يٰقَوْمِ [ اے میری قوم ] اِنْ [ اگر ] كَانَ [ ہے ] كَبُرَ [ بھاری ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر ] مَّقَامِيْ [ میرا کھڑا ہونا ] وَتَذْكِيْرِيْ [ اور میرا نصیحت کرنا ] بِاٰيٰتِ اللّٰهِ [ اللہ کی آیات سے ] فَعَلَي اللّٰهِ [ تو اللہ پر ہی ] تَوَكَّلْتُ [ میں نے (تو ) بھروسہ کیا ] فَاَجْمِعُوْٓا [پھر تم لوگ جمع کرو ] اَمْرَكُمْ [ اپنے مشورہ کو ] وَشُرَكَاۗءَكُمْ [ اور اپنے شریکوں کو ] ثُمَّ [ پھر ] لَا يَكُنْ [ چاہیے کہ نہ ہو ] اَمْرُكُمْ [ تمہارا مشورہ ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر ] غُمَّةً [ کسی مبہم حال میں ] ثُمَّ [ پھر ] اقْضُوْٓا [ تم لوگ فیصلہ کرو ] اِلَيَّ [ میری طرف (یعنی میرے متعلق ) ] وَلَا تُنْظِرُوْنِ [ اور تم لوگ مہلت مت دو مجھ ]
Ayah 10:72

فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَمَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۙ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:72 in the Quran reader

تم نے میری نصیحت سے منہ موڑا (تو میرا کیا نقصان کیا) میں تم سے کسی اجر کا طلب گار نہ تھا، میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ (خواہ کوئی مانے یا نہ مانے) میں خود مسلم بن کر رہوں"

فَاِنْ [ پھر اگر ] تَوَلَّيْتُمْ [ تم لوگ منھ موڑتے ہو ] فَمَا سَاَلْتُكُمْ [ تو میں نہیں مانگتا تم سے ] مِّنْ اَجْرٍ ۭ [ کسی قسم کا کوئی اجر ] اِنْ اَجْرِيَ [ نہیں ہے میرا اجر ] اِلَّا [ مگر ] عَلَي اللّٰهِ ۙ [ اللہ پر ] وَاُمِرْتُ [ اور مجھے حکم دیا گیا ] اَنْ [کہ ] اَكُوْنَ [ میں ہوجاؤں ] مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ [ فرمانبرداری کرنے والوں میں سے ]
Ayah 10:73

فَكَذَّبُوْهُ فَنَجَّیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ جَعَلْنٰهُمْ خَلٰٓئِفَ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 10:73 in the Quran reader

انہوں نے اسے جھٹلایا اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے اسے اور اُن لوگوں کو جو اس کے ساتھ کشتی میں تھے، بچا لیا اور انہی کو زمین میں جانشین بنایا اور ان سب لوگوں کو غرق کر دیا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا پس دیکھ لو کہ جنہیں متنبہ کیا گیا تھا (اور پھر بھی انہوں نے مان کر نہ دیا) اُن کا کیا انجام ہوا

فَكَذَّبُوْهُ [ تو انھوں نے جھٹلایا ان کو ] فَنَجَّيْنٰهُ [ پس ہم نے نجات دی ان کو ] وَمَنْ [ اور ان لوگوں کو جو ] مَّعَهٗ [ ان کے ساتھ تھے ] فِي الْفُلْكِ [ کشتی میں ] وَجَعَلْنٰھُمْ [ اور ہم نے بنایا ان لوگوں کو ] خَلٰۗىِٕفَ [ جانشین ] وَاَغْرَقْنَا [ اور ہم نے غرق کیا ] الَّذِيْنَ [ ان کو جنھوں نے ] كَذَّبُوْا [ جھٹلایا ] بِاٰيٰتِنَا ۚ [ ہماری نشانیوں کو ] فَانْظُرْ [ تو آپ دیکھیں ] كَيْفَ [ کیسا ] كَانَ [تھا ] عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِيْنَ [ خبردار کئے جانے والوں کا انجام ]
Ayah 10:74

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 10:74 in the Quran reader

پھر نوحؑ کے بعد ہم نے مختلف پیغمبروں کو اُن کی قوموں کی طرف بھیجا اور وہ اُن کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے، مگر جس چیز کو انہوں نے پہلے جھٹلا دیا تھا اسے پھر مان کر نہ دیا اس طرح ہم حد سے گزر جانے والوں کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیتے ہیں

ثُمَّ [ پھر ] بَعَثْنَا [ ہم نے بھیجے ] مِنْۢ بَعْدِهٖ [ ان کے بعد ] رُسُلًا [ کچھ رسول ] اِلٰى قَوْمِهِمْ [ ان لوگوں کی قوم کی طرف ] فَجَاۗءُوْھُمْ [ تو وہ آئے ان کے پاس ] بِالْبَيِّنٰتِ [ واضح (نشانیوں ) کے ساتھ ] فَمَا كَانُوْا [ تو نہیں تھے وہ لوگ ] لِيُؤْمِنُوْا [ کہ ایمان لاتے ] بِمَا [ بسبب اس کے ] كَذَّبُوْا [ انھوں نے جھٹلایا ] بِهٖ [ جس کو ] مِنْ قَبْلُ ۭ [ پہلے سے ] كَذٰلِكَ [ اس طرح ] نَطْبَعُ [ ہم چھاپ لگاتے ہیں ] عَلٰي قُلُوْبِ الْمُعْتَدِيْنَ [ حد سے تجاوز کرنے والوں کے دلوں پر ]
Ayah 10:75

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى وَ هٰرُوْنَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ بِاٰیٰتِنَا فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 10:75 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰؑ اور ہارونؑ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا، مگر انہوں نے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا اور وہ مجرم لوگ تھے

ثُمَّ [ پھر ] بَعَثْنَا [ ہم نے بھیجا ] مِنْۢ بَعْدِهِمْ [ ان کے بعد ] مُّوْسٰى [ موسیٰ کو ] وَھٰرُوْنَ [اور ہارون کو ] اِلٰى فِرْعَوْنَ [ فرعون کی طرف ] وَمَلَا۟ىِٕهٖ [اور اس کے سرداروں (کی طرف ) ] بِاٰيٰتِنَا [ اپنی نشانیوں کے ساتھ ] فَاسْتَكْبَرُوْا [ تو وہ بڑے بننے لگے ] وَكَانُوْا [ اور وہ تھے ] قَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ [ یقینا کھلا جادو ہے ]
Ayah 10:76

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْۤا اِنَّ هٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:76 in the Quran reader

پس جب ہمارے پاس سے حق ان کے سامنے آیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو کھلا جادو ہے

[فَلَمَّا [ پھر جب ] [ جَاۗءَھُمُ [ آچکا تھا انکے پاس ] [ الْحَقُّ [ حق ) مِّنْ (سے )] [ عِنْدِنَا (ہماری طرف ) قَالُوْٓا (سب نے کہا) اِنَّ (بیشک ) هٰذَا ] [ یہ [ لَسِحْرٌ [یقینا جادو ہے ] مُّبِيْنٌ [ (واضح)]
Ayah 10:77

قَالَ مُوْسٰۤى اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمْ١ؕ اَسِحْرٌ هٰذَا١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ Open ayah 10:77 in the Quran reader

موسیٰؑ نے کہا: “تم حق کو یہ کہتے ہو جبکہ وہ تمہارے سامنے آگیا؟ کیا یہ جادو ہے؟ حالانکہ جادو گر فلاح نہیں پایا کرتے"

قَالَ [ کہا ] مُوْسٰٓى [ موسیٰ نے ] اَ [ کیا ] تَقُوْلُوْنَ [ تم لوگ کہتے ہو (یہ ) ] لِلْحَقِّ [ حق کے لئے ] لَمَّا [ جب ] جَاۗءَكُمْ ۭ [ وہ آیا تمہارے پاس ] اَ [ کیا ] سِحْرٌ [ جادو ہے ] هٰذَا ۭ [ یہ ] وَلَا يُفْلِحُ [ اور مراد نہیں پاتے ] السّٰحِرُوْنَ [ جادو کرنے والے ] ترکیب : (آیت ۔ 77) اتقولون کے بعد ھذا محذوف ہے جو کہ گذشتہ آیت میں لسحر مبین کی طرف اشارہ ہے ۔ اس کے آگے سحر خبر مقدم اور ھذا مبتدا مؤخر ہے ۔
Ayah 10:78

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا وَ تَكُوْنَ لَكُمَا الْكِبْرِیَآءُ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:78 in the Quran reader

اُنہوں نے جواب میں کہا “کیا تواس لیے آیا ہے کہ ہمیں اُ س طریقے سے پھیر دے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور زمین میں بڑائی تم دونوں کی قائم ہو جائے؟ تمہارے بات تو ہم ماننے والے نہیں ہیں"

قَالُوْٓا [ انہوں نے کہا ] اَ [ کیا ] جِئْتَنَا [ تو آیا ہمارے پاس ] لِتَلْفِتَنَا [ تاکہ تو پھیر دے ہم کو ] عَمَّا [ اس سے ] وَجَدْنَا [ ہم نے پایا ] عَلَيْهِ [ جس پر ] اٰبَاۗءَنَا [ اپنے آباؤاجداد کو ] وَتَكُوْنَ [ اور تاکہ ہوجائے ] لَكُمَا [ تم دونوں کے لیے ] الْكِبْرِيَاۗءُ [ بڑائی ] فِي الْاَرْضِ ۭ [ زمین میں ] وَمَا نَحْنُ [ اور ہم نہیں ہیں ] لَكُمَا [ تم دونوں پر ] بِمُؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والے ] لت : (ض) لفتا ، کسی کو کسی چیز سے پھیر دینا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 78 ۔ (افتعال ) التفاتا ۔ اہتمام سے اپنی توجہ کسی طرف پھیرنا ۔ مڑکر دیکھنا ۔ وَلَا يَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ [اور چاہیے کہ مڑ کر نہ دیکھے تم میں سے کوئی ایک بھی ] 81: 11 (آیت ۔ 78) لتلفتنا کے لام کی پر عطف ہونے کی وجہ سے تکون حالت نصب میں آیا ہے اور یہ واحد مونث کا صیغہ ہے ، اس کا فاعل الکبریاء ہے جو مؤنث ہے۔
Ayah 10:79

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِیْ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 10:79 in the Quran reader

اور فرعون نے (اپنے آدمیوں سے) کہا کہ “ہر ماہر فن جادوگر کو میرے پاس حاضر کرو "

وَقَالَ [ اور کہا ] فِرْعَوْنُ [ فرعون نے ] ائْتُوْنِيْ [ لا ؤ میرے پاس ] بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِيْمٍ [ ہر ایک جاننے والے جادوگر کو ]
Ayah 10:80

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 10:80 in the Quran reader

جب جادو گر آ گئے تو موسیٰؑ نے ان سے کہا “جو کچھ تمہیں پھینکنا ہے پھینکو"

فَلَمَّا [ پس جب ] جَاۗءَ [ آئے ] السَّحَرَةُ [ جادوگر لوگ ] قَالَ [ تو کہا ] لَھُمْ [ ان سے ] مُّوْسٰٓى [ موسیٰ نے ] اَلْقُوْا [تم لوگ ڈالو ] مَآ [ اس کو جو ] اَنْتُمْ [ تم لوگ ] مُّلْقُوْنَ [ ڈالنے والے ہو ]