9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 9:1

بَرَآءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَؕ Open ayah 9:1 in the Quran reader

اعلان برات ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اُن مشرکین کو جن سے تم نے معاہدے کیے تھے

بَرَاۗءَةٌ [ (یہ اعلان ) براءت ہے ] مِّنَ اللّٰهِ [ اللہ کی طرف سے ] وَرَسُوْلِهٖٓ [ اور اس کے رسول کی طرف سے ] اِلَى الَّذِيْنَ [ ان لوگوں کے لیے جن سے ] عٰهَدْتُّمْ [ تم لوگوں نے معاہدہ کیا ] مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ [ مشرکوں میں سے ] ترکیب : (آیت ۔ 1) براء ۃ خبر ہے ۔ اس کا مبتدا محذوف ہے ۔ جو کہ ھذہ ہوسکتا ہے ۔
Ayah 9:2

فَسِیْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُخْزِی الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:2 in the Quran reader

پس تم لوگ ملک میں چار مہینے اور چل پھر لو اور جان رکھو کہ تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو، اور یہ کہ اللہ منکرین حق کو رسوا کرنے والا ہے

فَسِيْحُوْا [ پس چل پھر لو ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ [ چار مہینے ] وَّاعْلَمُوْٓا [ اور جان لو ] اَنَّكُمْ [ کہ تم لوگ ] غَيْرُ مُعْجِزِي اللّٰهِ ۙ [ اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو ] وَاَنَّ [ اور یہ کہ ] اللّٰهَ [ اللہ ] مُخْزِي الْكٰفِرِيْنَ [ کافروں کو رسوا کرنے والا ہے ] س ی ح : (ض) سیحا (1) پانی کا زمین پر بہنا ۔ زمین پر چلنا پھرنا ۔ (2) عبادت کے لیے پھرنا ۔ سح ، فعل امر ہے۔ تو چل پھر ۔ زیرمطالعہ آیت ۔ 2 ۔ سائح ۔ اسم الفاعل ہے۔ عبادت کے لیے پھرنے والا ۔ روزہ دار ۔ اَلتَّاۗىِٕبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّاۗىِٕحُوْنَ [ توبہ کرنے والے ، عبادت کرنے والے ، حمد کرنے والے، روزہ رکھنے والے ] 9: 112 ۔ ( آیت ۔ 2) اربعۃ پر نصب اس کے ظرف زمان ہونے کی وجہ سے ہے ۔
Ayah 9:3

وَ اَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِیْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ١ۙ۬ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ فَاِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:3 in the Quran reader

اطلاع عام ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے حج اکبر کے دن تمام لوگوں کے لیے کہ اللہ مشرکین سے بری الذمہ ہے اور اُس کا رسول بھی اب اگر تم لوگ توبہ کر لو تو تمہارے ہی لیے بہتر ہے اور جو منہ پھیرتے ہو تو خوب سمجھ لو کہ تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو اور اے نبیؐ، انکار کرنے والوں کو سخت عذاب کی خوشخبری سنا دو

وَاَذَانٌ [ اور (یہ ) اعلان ہے ] مِّنَ اللّٰهِ [ اللہ کی طرف سے ] وَرَسُوْلِهٖٓ [ اور اس کے رسول کی طرف سے ] اِلَى النَّاسِ [ لوگوں کے لیے ] يَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ [ بڑے حج کے دن ] اَنَّ [ کہ ] اللّٰهَ [ اللہ ] بَرِيْۗءٌ [ بری الذمہ ہے ] مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ ڏ [ مشرکوں سے ] وَرَسُوْلُهٗ ۭ [ اور اس کے رسول (بھی) ] فَاِنْ [ تو اگر ] تُبْتُمْ [ تم لوگ توبہ کرلو ] فَهُوَ [ تو یہ ] خَيْرٌ [ بہتر ہے ] لَّكُمْ ۚ [ تمہارے لیے ] وَاِنْ [ اور اگر ] تَوَلَّيْتُمْ [ تو لوگوں نے منہ موڑا ] فَاعْلَمُوْٓا [ تو جان لو ] اَنَّكُمْ [ کہ تم لوگ ] غَيْرُ مُعْجِزِي اللّٰهِ ۭ [ اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو ] وَبَشِّرِ [ اور آپ کو خوشخبری دیں ] الَّذِيْنَ [ ان لوگوں کو جنھوں نے ] كَفَرُوْا [ کفر کیا ] بِعَذَابٍ اَلِــيْمٍ [ ایک درد ناک عذاب کی ] (آیت ۔ 3) اذان کا مبتدا بھی محذوف ہے جو کہ ھذا ہوسکتا ہے۔ ورسولہ کی رفع بتارہی ہے کہ یہ مبتدا ہے اور اس کی خبر بریء محذوف ہے۔ نوٹ۔ 1: آیت ۔ 3 میں حج اکبر کی اصطلاح آئی ہے، اس کو سمجھ لیں ۔ ذوالحجہ کی مقررہ تاریخوں میں جو حج کیا جاتا ہے ۔ اسے حج اکبر کہتے ہیں اور عمرے کو حج اصغر کہتے ہیں ۔ کسی سال اگر یوم عرفہ جمعہ کے دن ہو تو ہم لوگ اسے حج اکبر کہتے ہیں ، یہ اصطلاح یقینا غلط ہے لیکن اس کی فضیلت سے کسی کو انکار نہیں ہے۔ عرب لوگ اسے اجتماع سعدین کہتے ہیں اور اس کا احترام کرتے ہیں ۔ کسی سال اگر عید جمعہ کے دن ہو تو اسے بھی اجتماع سعدین کہتے ہیں اور اس کی فضیلت کے بھی قائل ہیں ۔ موجودہ صورتحال کا مجھے علم نہیں ہے لیکن چند سال پہلے تک سعودی عرب میں مقامی لوگوں پر یہ پابندی تھی کہ ان میں سے کوئی شخص حج کرلیتا تھا تو آئندہ سال تک وہ حج نہیں کرسکتا تھا تاکہ باہر سے آنے والے حاجیوں کے لیے گنجائش اور سہولت ہو۔ لیکن جس سال اجتماع سعدین ہوتا تھا ۔ اس سال یہ پابندی اٹھالی جاتی تھی ۔
Ayah 9:4

اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ ثُمَّ لَمْ یَنْقُصُوْكُمْ شَیْئًا وَّ لَمْ یُظَاهِرُوْا عَلَیْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوْۤا اِلَیْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:4 in the Quran reader

بجز اُن مشرکین کے جن سے تم نے معاہد ے کیے پھر انہوں نے اپنے عہد کو پورا کرنے میں تمہارے ساتھ کوئی کمی نہیں کی اور نہ تمہارے خلاف کسی کی مدد کی، تو ایسے لوگوں کے ساتھ تم بھی مدت معاہدہ تک وفا کرو کیونکہ اللہ متقیوں ہی کو پسند کرتا ہے

اِلَّا الَّذِيْنَ [ سوائے ان کے جن سے ] عٰهَدْتُّمْ [ تم نے معاہدہ کیا ] مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ [ مشرکوں میں سے ] ثُمَّ [ پھر ] لَمْ يَنْقُصُوْكُمْ [ انہوں نے کمی نہیں کی تم سے ] شَيْــــًٔـا [ کچھ بھی ] وَّلَمْ يُظَاهِرُوْا [ اور انہوں نے مدد نہیں کی ] عَلَيْكُمْ [ تمہارے خلاف ] اَحَدًا [ کسی ایک کی بھی ] فَاَتِمُّــوْٓا [ تو پورا کرو ] اِلَيْهِمْ [ ان سے ] عَهْدَهُمْ [ ان کے عہد کو ] اِلٰى مُدَّتِهِمْ ۭ [ ان کی مدت تک ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] يُحِبُّ [ پسند کرتا ہے ] الْمُتَّقِيْنَ [ تقوی کرنے والوں کو ]
Ayah 9:5

فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَ خُذُوْهُمْ وَ احْصُرُوْهُمْ وَ اقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ١ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:5 in the Quran reader

پس جب حرام مہینے گزر جائیں تو مشرکین کو قتل کرو جہاں پاؤ اور انہیں پکڑو اور گھیرو اور ہر گھات میں اُن کی خبر لینے کے لیے بیٹھو پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو انہیں چھوڑ دو اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

فَاِذَا [ پھر جب ] انْسَلَخَ [ گزر جائیں ] الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ [ محترم (یعن پناہ والے ) مہینے ] فَاقْتُلُوا [ تو قتل کرو ] الْمُشْرِكِيْنَ [ مشرکوں کو ] حَيْثُ [ جہاں ] وَجَدْتُّمُــوْهُمْ [ تم لوگ پاؤ ان کو ] وَخُذُوْهُمْ [ اور پکڑو ان کو ] وَاحْصُرُوْهُمْ [ اور گھیروان کو ] وَاقْعُدُوْا [ اور بیٹھو ] لَهُمْ [ ان کے لیے ] كُلَّ مَرْصَدٍ ۚ [ ہر گھات لگانے کی جگہ پر ] فَاِنْ [ پھر اگر ] تَابُوْا [ وہ لوگ توبہ کریں ] وَاَقَامُوا [ اور قائم کریں ] الصَّلٰوةَ [ نماز ] وَاٰتَوُا [ اور ادا کریں ] الزَّكٰوةَ [ زکوۃ ] فَخَــلُّوْا [ تو چھوڑ دو ] سَـبِيْلَهُمْ ۭ [ ان کا راستہ ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] غَفُوْرٌ [ بخشنے والا ہے ] رَّحِيْمٌ [ رحم کرنے والا ہے ] ر ص د : (ن) ۔ رصدا ۔ گھات میں بیٹھنا ۔ رصد ۔ اسم الفاعل کے مفہوم میں صفت ہے ۔ (واحد جمع ، مذکر ، مؤنث ، سب کے لیے یکساں آتا ہے ] گھات میں بیٹھنے والے ۔ فَمَنْ يَّسْتَمِعِ الْاٰنَ يَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًا (پس جو کان لگائے گا اب تو وہ پائے گا اپنے لیے ایک گھات میں بیٹھا ہوا انگارہ ] 72:9 ۔ مرصد ۔ اسم الظرف ہے۔ گھات لگانے کی جگہ ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 5 ۔ مرصاد ۔ مفعال کے وزن پر اسم الآلہ ہے ۔ گھات میں بیٹھنے کا آلہ ۔ پھر گھات لگانے کی مستقل جگہ کے لیے آتا ہے ۔ اِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا [ بیشک جہنم ہے گھات لگانے کی ایک مستقل جگہ ] 78:21 ۔ (افعال) ارصادا ۔ گھات لگانے کے لیے کسی کو بٹھاننا ۔ نگران مقرر کرنا ۔ وَاِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ مِنْ قَبْلُ [ اور نگران مقرر کرنے کو اس کے لیے یعنی اس کی طرف سے جس نے لڑائی کی اللہ سے اور اس کے رسول سے اس سے پہلے ] 9:107 ۔ نوٹ ۔ 2: آیت نمبر 5 میں حکم دیا گیا ہے کہ مشرکوں کو جہاں بھی پاؤ ، انھیں قتل کرو، انھیں پکڑو ، انھیں گھیرو اور ہر جگہ ان کے لیے گھات لگا کر بیٹھو ۔ اسلام کے مخالفین ، اسلام کو ایک انتہا پسند اور تشدد پسند مذہب قرار دینے کے لیے اس آیت کا بہت حوالہ دیتے ہیں ، جس ان کی توجہ اس بات کی طرف مبذول کرائی جاتی ہے کہ اس حکم سے پہلے یہ شرط بھی ہے کہ جب پناہ کے یعنی نوٹس کے چار مہینے گزر جائیں تو وہ کہتے ہیں کہ پھر بھی یہ سخت زیادتی اور تشدد ہے ۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے سورة التوبہ کی آیات کی ترتیب نزولی اور ترتیب مصحف کے فرق کو اور اس وقت کے تاریخی پس منظر کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے ۔ اس لاعلمی کی وجہ سے ہمارے سادہ لوح مسلمان بھائی مخالفین کے اعتراض سے متاثر ہوجاتے ہیں اور سمجھتے ہیں ، خواہ زبان سے نہ بھی کہیں ، کہ ان کی بات درست ہے ۔ اس سورة کی ترتیب نزولی کو سمجھنے سے پہلے یہ بات بھی نوٹ کرلیں کہ رسول اللہ ﷺ جب تبوک کے لیے 9 ھ میں روانہ ہوئے تھے تو رجب کا مہینہ تھا اور مدینہ واپس آئے تو رمضان کا مہینہ تھا ۔ اس سفر میں پورے پچاس روز صرف ہوئے بیس دن تبوک میں قیام میں اور تیس دن آمد ورفت میں ۔ سورۃ التوبہ تین خطبوں پر مشتمل ہے جو وقفہ قفہ سے یکے بعد دیگرے نازل ہوئے ۔ سب سے پہلے رکوع ۔ 6 کی ابتداء سے رکوع ۔ 9 کے اختتام کی آیات رجب 9 ھ میں نازل ہوئیں ۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک کی تیاری کررہے تھے۔ اس میں اہل ایمان کو جہاد پر اکسایا گیا ہے اور ان لوگوں پر ملامت کی گئی ہے جو غزوہ تبوک میں شرکت سے جی چرا رہے تھے ۔ اس کے بعد رکوع ۔ 10 سے سورة کے آخر تک کی آیات غزوہ تبوک سے واپسی پر نازل ہوئیں ۔ ان میں کچھ ٹکڑے ایسے بھی ہیں جو انہیں ایام میں مختلف مواقع پر اترے اور سب سے آخر میں سورة کے آغاز سے رکوع ۔ 5 کے آخر تک کی آیات ذی القعد 9 ھ میں نازل ہوئیں ، جن میں مشرکوں کو چار مہینے کا نوٹس دیا گیا کہ اگر اسلام ان کے لیے قابل قبول نہیں ہے تو جہاں ان کا جی چاہے چلے جائیں اور عرب کا علاقہ خالی کردیں ۔ ساتھ ہی مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ نوٹس کی مدت گزرنے کے بعد مشرکوں کو تلاش کرو ، گھیرو اور پکڑکر اپنے باختیار حاکموں کے حوالے کردو ، ان کے سامنے اگر اس کا مشرک ہونا ثابت ہوگیا تو وہ اس کے قتل کا حکم دے گا ۔ اس سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ اسلام ہر مرحلہ پر نظم وضبط اور ڈسپلن کا مطالبہ کرتا ہے اور کسی بھی حال میں انارکی کی اجازت نہیں دیتا اور اب اس ” سخت زیادتی اور تشدد “ والے حکم کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے اس کے تاریخی پس منظر کو سمجھنا ہوگا ۔ 6 ھ میں صلح حدیبیہ کے نتیجے میں مسلمانوں کو موقع ملا کہ وہ امن اور سکون سے اسلام کی تبلیغ کرسکیں ، چناچہ دو سال کی قلیل مدت میں عرب کے گوشے گوشے میں اسلام پھیل گیا ۔ پھر 8 ھ میں فتح مکہ نے مشرکوں کی کمر توڑ دی ، عرب کے دیگر علاقوں میں جو مشرک باقی بچے تھے انھوں نے اپنی ساری طاقت مجتمع کر کے حنین کے میدان میں جھونک دی ، وہاں شکت کھانے کے بعد جزیرہ نماء عرب میں مشرکوں کا قلع قمع ہوگیا ۔ صرف چند پراگندہ عناصر عرب کے مختلف گوشوں میں باقی رہ گئے تھے ، ان گنے چنے لوگوں نے اب روم کی سرحد پر آباد عیسائی قبائل اور مدینہ کے منافقین کے ساتھ مل کر خفیہ سازشوں اور ریشہ دوانی کی راہ اختیار کی ۔ اس کے نتیجے میں غزوہ تبوک کی تیاری کے زمانے میں سویلم کے گھر میں منافقین کا ایک گروہ جمع ہوکر مسلمانوں کو جنگ میں شرکت سے باز رکھنے کی کوشش کررہا تھا ۔ رسول اللہ ﷺ نے اس گھر کو جلانے کا حکم دیا لیکن اس کے مکینوں اور وہاں جمع ہونے والے افراد کو قتل کا حکم نہیں دیا ۔ انھیں کی ریشہ دوانی سے مسجد ضرار قائم ہوئی ۔ تبوک سے واپسی پر آپ نے اسے ڈھانے اور جلانے کا حکم دیا لیکن اسے بنانے والوں کو قتل نہیں کرایا ۔ اس پس منظر کو ذہن میں رکھ کر دیکھیں کہ اب اللہ تعالیٰ اس فساد کی جڑ کو اکھاڑنے کا حکم دے رہا ہے کہ ان کو چار مہینے کا نوٹس دو کہ یا تو اپنی حرکت سے باز آجائیں یا اپنا مال و دولت لے کر اپنے آقائوں کے دیس میں منتقل ہوجائیں ورنہ انھیں قتل کیا جائے گا ۔ اب فیصلہ کریں کہ کون صحیح الدماغ انسان اسے سخت زیادتی اور تشدد والا حکم قرار دے گا ، الا یہ کہ اس کی نیت میں فطور ہو۔ کسی ریاست میں رہتے ہوئے ، بیرونی طاقتوں سے ساز باز کرکے، ریاست کے خلاف ریشہ دوانی کرنے والے مجرموں کو جو سزا دی جاتی ہے اور ان کے ساتھ عملا جو سلوک ہوتا ہے ۔ وہ پوری دنیا جانتی ہے ۔ ایسے مجرموں سے اسلام نے جو فراخدلانہ سلوک کیا ہے اس کی کوئی مثال بھی پوری تاریخ انسانیت سے دنیا ممکن نہیں ہے۔ پھر بھی الزام اسلام پر ہے کہ یہ تشدد پسند ہے ۔ ناطقہ سربگریباں ہے، اسے کیا کہیے ۔
Ayah 9:6

وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتّٰى یَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ اَبْلِغْهُ مَاْمَنَهٗ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 9:6 in the Quran reader

اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص پناہ مانگ کر تمہارے پاس آنا چاہے (تاکہ اللہ کا کلام سنے) تو اُسے پناہ دے دو یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے پھر اُسے اس کے مامن تک پہنچا دو یہ اس لیے کرنا چاہیے کہ یہ لوگ علم نہیں رکھتے

وَاِنْ [ اور اگر ] اَحَدٌ [ کوئی ایک ] مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ [ مشرکوں میں سے ] اسْتَجَارَكَ [ پناہ مانگے آپ سے ] فَاَجِرْهُ [ تو آپ پناہ دیں اس کو ] حَتّٰي [ یہاں تک کہ ] يَسْمَعَ [ وہ سن لے ] كَلٰمَ اللّٰهِ [ اللہ کے کلام کو ] ثُمَّ [ پھر ] اَبْلِغْهُ [ آپ پہنچا دیں اس کو ] مَاْمَنَهٗ [ اس کی امن کی جگہ پر ] ذٰلِكَ [ یہ ] بِاَنَّهُمْ [ اس سبب سے کہ وہ لوگ ] قَوْمٌ [ ایک ایسی قوم ہیں جو ] لَّا يَعْلَمُوْنَ [ علم نہیں رکھتے ]
Ayah 9:7

كَیْفَ یَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِیْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:7 in the Quran reader

اِن مشرکین کے لیے اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک کوئی عہد آخر کیسے ہوسکتا ہے؟ بجز اُن لوگوں کے جن سے تم نے مسجد حرام کے پاس معاہدہ کیا تھا، تو جب تک وہ تمہارے ساتھ سیدھے رہیں تم بھی ان کے ساتھ سیدھے رہو کیونکہ اللہ متقیوں کو پسند کرتا ہے

كَيْفَ [ کیسے ] يَكُوْنُ [ ہوگا ] لِلْمُشْرِكِيْنَ [ مشرکوں کے لیے ] عَهْدٌ [ کوئی عہد ] عِنْدَ اللّٰهِ [ اللہ کے پاس ] وَعِنْدَ رَسُوْلِهٖٓ [ اور اس کے رسول کے پاس ] اِلَّا [ سوائے ] الَّذِيْنَ [ ان کے جن سے ] عٰهَدْتُّمْ [ تم لوگوں نے معاہدہ کیا ] عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۚ [ مسجد حرام کے پاس ] فَمَا [ پس جب تک ] اسْتَقَامُوْا [ وہ لوگ سیدھے رہیں ] لَكُمْ [ تمہارے لیے ] فَاسْتَقِيْمُوْا [ تو تم لوگ سیدھے رہو ] لَهُمْ ۭ [ ان کے لیے ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] يُحِبُّ [ پسند کرتا ہے ] الْمُتَّقِيْنَ [ تقوی کرنے والوں کو ] ترکیب : (آیت ۔ 7) فما استقاموا میں ماظرفیہ ہے۔
Ayah 9:8

كَیْفَ وَ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ لَا یَرْقُبُوْا فِیْكُمْ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ یُرْضُوْنَكُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ تَاْبٰى قُلُوْبُهُمْ١ۚ وَ اَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَۚ Open ayah 9:8 in the Quran reader

مگر اِن کے سوا دوسرے مشرکین کے ساتھ کوئی عہد کیسے ہوسکتا ہے جبکہ اُن کا حال یہ ہے کہ تم پر قابو پا جائیں تو نہ تمہارے معاملہ میں کسی قرابت کا لحاظ کریں نہ کسی معاہدہ کی ذمہ داری کا وہ اپنی زبانوں سے تم کو راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر دل ان کے انکار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں

كَيْفَ [ کیسے (ہوگا کوئی عہد) ] وَ [ اس حال میں کہ ] اِنْ [ اگر ] يَّظْهَرُوْا [ وہ لوگ غالب ہوں ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر ] لَا يَرْقُبُوْا [ تو وہ لحاظ نہیں کریں گے ] فِيْكُمْ [ تم میں ] اِلًّا [ کسی رشتہ داری کا ] وَّلَا ذِمَّةً ۭ [ اور نہ کسی عہد کا ] يُرْضُوْنَكُمْ [ وہ راضی کرتے ہیں تم لوگوں کو ] بِاَفْوَاهِهِمْ [ اپنے مونہوں سے (یعنی باتوں سے) ] وَ [ حالانکہ ] تَاْبٰي [ انکار کرتے ہیں ] قُلُوْبُهُمْ ۚ [ ان کے دل ] وَاَكْثَرُهُمْ [ اور ان کے اکثر ] فٰسِقُوْنَ [ عہد سے نکلنے والے ہیں ] ء ل ل : (ن) الا ۔ کسی حالت کا اتنا صاف اور واضح ہونا کہ انکار ممکن نہ ہو ۔ رشتہ دار ہونا ۔ ال ، رشتہ داری ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 8 ۔ ذم م ۔ (ن) ۔ ذما : کسی کی مذمت کرنا ۔ برا بھلا کہنا ۔ مذموم ۔ اسم المفعول ہے۔ مذمت کیا ہوا ۔ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا [ نتیجتا تو بیٹھ رہے گا ملامت کیا ہوا ، دھتکارا ہوا ] 17:22 ۔ ذمۃ ، ایسی ذمہ داری یا عہد جس کو پورا کرنا قابل مذمت ہو۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 8 ۔ (آیت ۔ 8) كَيْفَ کے بعد پچھلا پورا جملہ یکون للمشرکین عہد محذوف ہے ۔
Ayah 9:9

اِشْتَرَوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:9 in the Quran reader

انہوں نے اللہ کی آیات کے بدلے تھوڑی سی قیمت قبول کر لی پھر اللہ کے راستے میں سدراہ بن کر کھڑے ہو گئے بہت برے کرتوت تھے جو یہ کرتے رہے

اِشْتَرَوْا [ انھوں نے خریدا ] بِاٰيٰتِ اللّٰهِ [ اللہ کی آیات کے بدلے ] ثَـمَنًا قَلِيْلًا [ تھوڑی سی قیمت کو ] فَصَدُّوْا [ پھر انھوں نے روکا ] عَنْ سَبِيْلِهٖ ۭ [ اس کی راہ سے ] اِنَّهُمْ [ بیشک وہ لوگ ] سَاۗءَ [ کتنا برا ہے ] مَا [ جو ] كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ : وہ لوگ کرتے ہیں ]
Ayah 9:10

لَا یَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ Open ayah 9:10 in the Quran reader

کسی مومن کے معاملہ میں نہ یہ قرابت کا لحاظ کرتے ہیں اور نہ کسی عہد کی ذمہ داری کا اور زیادتی ہمیشہ انہی کی طرف سے ہوئی ہے

لَا يَرْقُبُوْنَ [ وہ لوگ لحاظ نہیں کرتے ] فِيْ مُؤْمِنٍ [ کسی مومن (کے بارے ) میں ] اِلًّا [ کسی رشتہ داری کا ] وَّلَا ذِمَّةً ۭ [ اور نہ کسی عہد کا ] وَاُولٰۗىِٕكَ [ اور وہ لوگ ] هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ [ ہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں ]
Ayah 9:11

فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 9:11 in the Quran reader

پس اگر یہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں اور جاننے والوں کے لیے ہم اپنے احکام واضح کیے دیتے ہیں

فَاِنْ [ پھر اگر ] تَابُوْا [ وہ توبہ کریں ] وَاَقَامُوا [ اور قائم کریں ] الصَّلٰوةَ [ نماز ] وَاٰتَوُا [ اور اداکریں ] الزَّكٰوةَ [ زکوۃ ] فَاِخْوَانُكُمْ [ تو (وہ ) تمہارے بھائی ہیں ] فِي الدِّيْنِ ۭ [ دین میں ] وَنُفَصِّلُ [ اور ہم کھول کھول کر بیان کرتے ہیں ] الْاٰيٰتِ [ آیات کو ] لِقَوْمٍ [ ایسے لوگوں کے لیے جو ] يَّعْلَمُوْنَ [ علم رکھتے ہیں ] (آیت ۔ 11) فَاِخْوَانُكُمْ ، خبر ہے اور اس کا مبتدا ہم محذوف ہے ۔
Ayah 9:12

وَ اِنْ نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ فَقَاتِلُوْۤا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ١ۙ اِنَّهُمْ لَاۤ اَیْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَنْتَهُوْنَ Open ayah 9:12 in the Quran reader

اور اگر عہد کرنے کے بعد یہ پھر اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین پر حملے کرنے شروع کر دیں تو کفر کے علمبرداروں سے جنگ کرو کیونکہ ان کی قسموں کا اعتبار نہیں شاید کہ (پھر تلوار ہی کے زور سے) وہ باز آئیں گے

وَاِنْ [ اور اگر ] نَّكَثُوْٓا [ وہ توڑ دیں ] اَيْمَانَهُمْ [ اپنی قسموں کو ] مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ [ اپنے عہد کے بعد سے ] وَطَعَنُوْا [ اور طعنہ دیں ] فِيْ دِيْنِكُمْ [ تمہارے دین میں ] فَقَاتِلُوْٓا [ تو تم لوگ جنگ کرو ] اَىِٕمَّةَ الْكُفْرِ ۙ [ کفر کے سرداروں سے ] اِنَّهُمْ [ بیشک وہ لوگ (ایسے ) ہیں ] لَآ اَيْمَانَ [ کہ کسی طرح کی کوئی بھی قسم نہیں ہے ] لَهُمْ [ ان کے لیے ] لَعَلَّهُمْ [ شاید وہ لوگ ] يَنْتَهُوْنَ [ باز آجائیں ] نوٹ۔ 1: جنگ (War) کے لیے قرآن مجید کی اصطلاح ” قتال “ ہے اور آیات ۔ 12، 13، 14، میں اسی لفظ کے مختلف صیغے استعمال ہوئے ہیں ۔ کیونکہ وہاں جنگ کا حکم دینا مقصود تھا ۔ لیکن آیت ۔ 16 میں یہ بتانا مقصود ہے کہ قیامت میں جھنہم سے نجات اور جنت میں داخلہ کے لیے صرف ایمان کا زبانی اقرار کافی نہیں ہے، بلکہ اس کی کچھ اور بھی شرائط ہیں ۔ اس آیت میں پہلی شرط کی نشاندہی کرنے کے لیے لفظ قتال کے بجائے لفظ جہاد کا فعل ماضی لایا گیا ہے ۔ اس فرق کو سمجھنے کے لیے لفظ جہاد کو پورا مفہوم واضح ہونا ضروری ہے ۔ جہاد کا مطلب ہے کسی مقصد کے لیے جدوجہد کرنا ۔ جبکہ قرآن کی ایک اصطلاح کے طور پر اس کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے جدوجہد کرنا اور قرآن میں یہ لفظ عموما اسی مفہوم میں آیا ہے ۔ خواہ فی سبیل اللہ کے الفاظ لفظ مذکور ہوں یا نہ ہوں ۔ اس کے تین مرحلے ہیں ۔ پہلا مرحلہ یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کے ساتھ جدوجہد کرکے اسے اللہ کے احکام کی پابندی کا عادی بنائے ، اسے جہاد مع النفس کہتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ نے اسے افضل جہاد قرار دیا ہے ۔ یہ فرض عین ہے اور جنت میں داخلہ کی شرط کے طور پر یہی مرحلہ مراد ہے ۔ اپنے آپ کو اللہ کی اطاعت کا عادی بنا لینے کے بعد انسان کو مطمئن نہیں ہوجانا چاہیے بلکہ اب دوسروں کو جہنم سے بچانے کے لیے اسلام کی دعوت و تبلیغ کی جہدوجہد میں حصہ لینا چاہیے، اس میں اپنا وات ، اپنی صلاحیت اور اپنا پیسہ صرف کرنا چاہیے ۔ یہ جہاد فی سبیل اللہ کا دوسرا مرحلہ ہے اور یہ فرض عین نہیں بلکہ فرض کفایہ ہے ۔ (دیکھیں آیت نمبر ۔ 4: 95، نوٹ ۔ 2) پھر اگر ضرورت پڑے تو اسلام کی سربلندی کے لیے جنگ میں حصہ لینا چاہیے ۔ یہ جہاد فی سبیل اللہ کا تیسرا مرحلہ ہے اور اسے قتال فی سبیل اللہ کہتے ہیں ۔ یہ بھی فرض کفایہ ہے ، الا یہ کہ اسلامی حکومت کے امیر کی طرف سے ( General Mobilisation) کا حکم ہو ۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں تمام غزوات میں شرکت فرض کفایہ تھی سوائے غزوہ تبوک کے جس میں شرکت فرض عین ہوگئی تھی ، یہی وجہ ہے کہ اس میں شرکت نہ کرنے والوں سے باز پرس ہوئی تھی ۔
Ayah 9:13

اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ وَ هَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَ هُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ اَتَخْشَوْنَهُمْ١ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:13 in the Quran reader

کیا تم نہ لڑو گے ایسے لوگوں سے جو اپنے عہد توڑتے رہے ہیں اور جنہوں نے رسول کو ملک سے نکال دینے کا قصد کیا تھا اور زیادتی کی ابتدا کرنے والے وہی تھے؟ کیا تم ان سے ڈرتے ہو؟ اگر تم مومن ہو تو اللہ اِس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو

اَ [ کیا ] لَا تُقَاتِلُوْنَ [ تم لوگ جنگ نہیں کرو گے ] قَوْمًا [ ایسی قوم سے ] نَّكَثُوْٓا [ جس نے توڑا ] اَيْمَانَهُمْ [ اپنی قسموں کو ] وَهَمُّوْا [ اور ارادہ کیا ] بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ [ ان رسول کو نکالنے کا ] وَهُمْ [ اور انھوں نے ] بَدَءُوْكُمْ [ ابتدا کی تم سے (زیادتی کرنے کی ) ] اَوَّلَ مَرَّةٍ ۭ [ پہلی مرتبہ ] اَ [ کیا ] تَخْشَوْنَهُمْ ۚ [ تم لوگ ڈرتے ہو ان سے ] فَاللّٰهُ [ تو اللہ ] اَحَقُّ [ زیادہ حقدار ہے ] اَنْ [ کہ ] تَخْشَوْهُ [ تم لوگ ڈرو اس سے ] اِنْ [ اگر ] كُنْتُمْ [ تم لوگ ہو ] مُّؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والے ]
Ayah 9:14

قَاتِلُوْهُمْ یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَیْدِیْكُمْ وَ یُخْزِهِمْ وَ یَنْصُرْكُمْ عَلَیْهِمْ وَ یَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 9:14 in the Quran reader

ان سے لڑو، اللہ تمہارے ہاتھوں سے ان کو سزا دلوائے گا اور انہیں ذلیل و خوار کرے گا اور ان کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرے گا اور بہت سے مومنوں کے دل ٹھنڈے کرے گا

قَاتِلُوْهُمْ [ جنگ کرو ان سے ] يُعَذِّبْهُمُ [ تو عذاب دے گا ان کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] بِاَيْدِيْكُمْ [ تمہارے ہاتھوں سے ] وَيُخْزِهِمْ [ اور وہ رسوا کرے گا ان کو ] وَيَنْصُرْكُمْ [ اور وہ مدد کرے گا تمہاری ] عَلَيْهِمْ [ ان کے خلاف ] وَيَشْفِ [ اور وہ شفادے گا ] صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والے لوگوں کے سینوں کو ] شی : (ض) ۔ شفاء ۔ کوئی مرض دور کرکے صحت دینا ۔ شفادینا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 14 ۔ شفاء ۔ اسم ذات بھی ہے ۔ صحت یابی ۔ شفا، فِيْهِ شِفَاۗءٌ لِّلنَّاسِ [ اس میں شفا ہے لوگوں کے لیے ] 16:69 ۔ (آیت ۔ 14 ۔ 15) قاتلوہم فعل امر ہے ۔ اس کا جواب امر ہونے کی وجہ سے آگے یعذب ، یخز ، ینصر ، یشف اور یذھب مجزوم ہیں اور ان کے ساتھ واو عاطفہ ہیں ۔ جبکہ ویتوب اللہ کا واو عاطفہ نہیں بلکہ استینافیہ ہے، کیونکہ یتوب مجزوم نہیں ہوا ہے۔
Ayah 9:15

وَ یُذْهِبْ غَیْظَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:15 in the Quran reader

اور ان کے قلوب کی جلن مٹا دے گا، اور جسے چاہے گا توبہ کی توفیق بھی دے گا اللہ سب کچھ جاننے والا اور دانا ہے

وَيُذْهِبْ [ اور وہ لے جائے گا ] غَيْظَ قُلُوْبِهِمْ ۭ [ انے دلوں کے غیظ وغضب کو ] وَيَتُوْبُ [ اور توبہ قبول کرے گا ] اللّٰهُ [ اللہ ] عَلٰي مَنْ [ اس کی جس کی ] يَّشَاۗءُ ۭ [ وہ چاہے گا ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] عَلِيْمٌ [ جاننے والا ہے ] حَكِيْمٌ [ حکمت والا ہے ]
Ayah 9:16

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ لَمْ یَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لَا رَسُوْلِهٖ وَ لَا الْمُؤْمِنِیْنَ وَلِیْجَةً١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 9:16 in the Quran reader

کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی چھوڑ دیے جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں سے کون وہ لوگ ہیں جنہوں نے (اس کی راہ میں) جاں فشانی کی اور اللہ اور رسول اور مومنین کے سوا کسی کو جگری دوست نہ بنایا، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے

اَمْ [ یا ] حَسِبْتُمْ [ تو لوگوں نے گمان کیا ] اَنْ [ کہ ] [ تُتْرَكُوْا : تمہیں چھوڑ دیا جائے گا ] وَ [ حالانکہ ] لَمَّا يَعْلَمِ [ ابھی تک نہیں جانا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] الَّذِيْنَ [ ان کو جنھوں نے ] جٰهَدُوْا [ جہاد کیا ] مِنْكُمْ [ تم میں سے ] وَلَمْ يَتَّخِذُوْا [ اور انھوں نے نہیں بنایا ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے سوا ] وَلَا رَسُوْلِهٖ [ اور نہ اس کے رسول کے سوا ] وَلَا الْمُؤْمِنِيْنَ [ اور نہ مومنوں کے سوا ] وَلِيْجَةً ۭ [ کسی کو دل کا بھیدی ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] خَبِيْرٌۢ [ باخبر ہے [ بِمَا [ اس سے جو ] تَعْمَلُوْنَ تم لوگ کرتے ہو ]
Ayah 9:17

مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِیْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ۖۚ وَ فِی النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 9:17 in the Quran reader

مشرکین کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ اللہ کی مسجدوں کے مجاور و خادم بنیں درآں حالیکہ اپنے اوپر وہ خود کفر کی شہادت دے رہے ہیں ان کے تو سارے اعمال ضائع ہو گئے اور جہنم میں انہیں ہمیشہ رہنا ہے

مَا كَانَ [ نہیں ہے ] لِلْمُشْرِكِيْنَ [ مشرکین ] اَنْ [ کہ ] يَّعْمُرُوْا [ وہ لوگ آباد کریں ] مَسٰجِدَ اللّٰهِ [ اللہ کی مسجدوں کو ] شٰهِدِيْنَ [ گواہ ہوتے ہوئے ] عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ [ اپنے اوپر ] بِالْكُفْرِ ۭ [ کفر کے ] اُولٰۗىِٕكَ [ وہ لوگ ہیں ] حَبِطَتْ [ (کہ ) اکارت ہوئے ] اَعْمَالُهُمْ ښ [ جن کے اعمال ] وَفِي النَّارِ [ اور آگ میں ہی ] هُمْ [ وہ لوگ ] خٰلِدُوْنَ [ ہمیشہ رہنے والے ہیں ]
Ayah 9:18

اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰۤى اُولٰٓئِكَ اَنْ یَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 9:18 in the Quran reader

اللہ کی مسجدوں کے آباد کار (مجاور و خادم) تو وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو اللہ اور روز آخر کو مانیں اور نما ز قائم کریں، زکوٰۃ دیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈریں انہی سے یہ توقع ہے کہ سیدھی راہ چلیں گے

اِنَّمَا [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] يَعْمُرُ [ آباد کرتا ہے ] مَسٰجِدَ اللّٰهِ [ اللہ کی مسجدوں کو ] مَنْ [ وہ جو ] اٰمَنَ [ ایمان لایا ] بِاللّٰهِ [ اللہ پر ] وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ [ اور آخری دن پر ] وَاَقَامَ [ اور اس نے قائم کی ] الصَّلٰوةَ [ نماز ] وَاٰتَى الزَّكٰوةَ [ اور زکوۃ دی ] وَلَمْ يَخْشَ [ اور وہ نہیں ڈرا ] اِلَّا [ مگر ] اللّٰهَ [ اللہ سے ] فَعَسٰٓى [ تو امید ہے ] اُولٰۗىِٕكَ [ وہ لوگ ] اَنْ [ کہ ] يَّكُوْنُوْا [ ہوجائیں ] مِنَ الْمُهْتَدِيْنَ [ ہدایت پانے والوں میں سے ]
Ayah 9:19

اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَآجِّ وَ عِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ جٰهَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 9:19 in the Quran reader

کیا تم لوگوں نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کی مجاوری کرنے کو اس شخص کے کام کے برابر ٹھیرا لیا ہے جو ایمان لایا اللہ پر اور روز آخر پر اور جس نے جانفشانی کی اللہ کی راہ میں؟ اللہ کے نزدیک تو یہ دونوں برابر نہیں ہیں اور اللہ ظالموں کی رہنمائی نہیں کرتا

اَ [ کیا ] جَعَلْتُمْ [ تم لوگوں نے بنایا ] سِقَايَةَ الْحَاۗجِّ [ حاجیوں کی سبیل کو ] وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ [ اور مسجد حرام کی آبادی کو ] كَمَنْ [ اس کے جیسا جو ] اٰمَنَ [ جو ایمان لایا ] بِاللّٰهِ [ اللہ پر ] وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ [ اور آخری دن پر ] وَجٰهَدَ [ اور اس نے جدوجہد کی ] فِيْ سَبِيْلِ اللّٰه ِ ۭ [ اللہ کی راہ میں ] لَا يَسْتَوٗنَ [ اور برابر نہیں ہوتے ] عِنْدَ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کے پاس ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] لَا يَهْدِي [ ہدایت نہیں دیتا ] الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ : ظالم لوگوں کو ] ترکیب : (آیت ۔ 19) الحاج پر لام جنس ہے ۔ اس لیے ترجمہ جمع میں ہوگا ۔ نوٹ ۔ 1: صحیح مسلم میں ہے کہ ایک دفعہ چند مسلمان آپس میں جھگڑ رہے تھے، کوئی کہتا تھا میرے نزدیک اسلام لانے کے بعد حاجیوں کو پانی پلانے سے زیادہ کوئی عبادت نہیں ، دوسرے نے کہا کہ بہترین عمل مسجد حرام کی خدمت ہے۔ تیسرا بولا کہ جہاد فی سبیل اللہ سب سے افضل ہے ، حضرت عمر ؓ نے ان کو ڈانٹا کہ تم جمعہ کے وقت منبر رسول ﷺ کے پاس بیٹھ کر بحث کررہے ہو ، ذرا صبر کرو ، جب حضور ﷺ فارغ ہوجائیں گے تو یہ چیز دریافت کرلی جائے گی ، جب آس سے سوال کیا تو یہ آیات نازل ہوئیں ۔ (یعنی آیات ۔ 19 تا 22) ۔ (ترجمہ شیخ الہند) سمجھنے والی بات یہ ہے کہ خدمت خلق اپنی جگہ ایک بڑی نیکی ہے ۔ اس کی بلند ترین منزل یہ ہے کہ اللہ کے مہمانوں یعنی حاجیوں کی خدمت کی جائے ۔ اسی طرح کسی بھی مسجد کی خدمت کرنا بڑی نیکی کا کام ہے ۔ اس کی بلند ترین منزل مسجد حرام کی خدمت ہے۔ مذکورہ آیات میں ان میں سے کسی بھی نیکی کی نفی نہیں ہے ۔ البتہ مختلف نیکیوں میں نسبت وتناسب کے لحاظ سے یہ بتایا گیا ہے کہ ان بلند ترین نیکیوں کے مقابلہ میں بھی جہاد فی سبیل اللہ کی نیکی عظیم تر ہے۔ یہ درست ہے کہ کسی کی زندگی میں قتال فی سبیل اللہ کے بہت کم مواقع آتے ہیں ۔ لیکن جہاد فی سبیل اللہ کے مواقع ہر شخص کی زندگی میں قدم قدم پر اس کے سامنے آتے رہتے ہیں ۔ ایک متقی پرہیزگار انسان کے سامنے بھی معاملات میں ایسے مواقع آتے رہتے ہیں اور جب اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کسی لالچ کو ٹھکرائے بغیر یا کوئی نقصان برادشت کیے بغیر ممکن نہیں ہوتی ۔ یہ جہاد مع النفس کا لامتناہی سلسلہ ہے جو موت پر ہی ختم ہوتا ہے اور اسی کو رسول اللہ ﷺ نے افضل جہاد کہا ہے ۔ اسی طرح اپنی اپنی صلاحیت اور استعداد کے مطابق اسلام کی دعوت و تبلیغ اور نشر و اشاعت میں حصہ لینے کے مواقع کی کمی نہیں ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جہاد فی سبیل اللہ کے صحیح مفہوم کو سمجھیں پھر اس کی عظمت کو اپنے دل و دماغ پر نقش کریں ۔
Ayah 9:20

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ۙ اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 9:20 in the Quran reader

اللہ کے ہاں تو انہی لوگوں کا درجہ بڑا ہے جو ایمان لائے اور جنہوں نے اس کی راہ میں گھر بار چھوڑے اور جان و مال سے جہاد کیا وہی کامیاب ہیں

اَلَّذِيْنَ [ جو لوگ ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] وَهَاجَرُوْا [ اور ہجرت کی ] وَجٰهَدُوْا [ اور جدوجہد کی ] فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ [ اللہ کی راہ میں ] بِاَمْوَالِهِمْ [ اپنے مالوں سے [ وَاَنْفُسِهِمْ ۙ [ اور اپنی جانوں سے ] اَعْظَمُ [ (وہ) سب سے عظیم ہیں ] دَرَجَةً [ بلحاظ درجہ کے ] عِنْدَ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کے پاس ] وَاُولٰۗىِٕكَ [ اور وہ لوگ ] هُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ [ ہی کامیاب ہونے والے ہیں ]
Ayah 9:21

یُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ رِضْوَانٍ وَّ جَنّٰتٍ لَّهُمْ فِیْهَا نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:21 in the Quran reader

ان کا رب انہیں اپنی رحمت اور خوشنودی اور ایسی جنتوں کی بشارت دیتا ہے جہاں ان کے لیے پائیدار عیش کے سامان ہیں

يُبَشِّرُهُمْ [ خوشبخری دیتا ہے ان کو ] رَبُّهُمْ [ ان کا رب ] بِرَحْمَةٍ [ رحمت کی ] مِّنْهُ [ اپنے پاس سے ] وَرِضْوَانٍ [ اور رضا مندی کی ] وَّجَنّٰتٍ : اور باغات کی ] لَّهُمْ [ ان کے لیے ] فِيْهَا [ ان میں ] نَعِيْمٌ مُّقِيْمٌ [ قائم رہنے والی خوشحالی ہے ] (آیت ۔ 21) برحمۃ کی با پر عطف ہونے کی وجہ رضوان اور جنت حالت جر میں آئے ہیں ۔
Ayah 9:22

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 9:22 in the Quran reader

ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے یقیناً اللہ کے پاس خدمات کا صلہ دینے کو بہت کچھ ہے

خٰلِدِيْنَ [ ایک حالت میں رہنے والے ہیں ] فِيْهَآ [ ان میں ] اَبَدًا ۭ [ ہمیشہ ہمیش ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] عِنْدَهٗٓ [ اس کے پاس ہی ] اَجْرٌ عَظِيْمٌ [ عظیم اجر ہے ]
Ayah 9:23

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰبَآءَكُمْ وَ اِخْوَانَكُمْ اَوْلِیَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْاِیْمَانِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 9:23 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنے باپوں اور بھائیوں کو بھی اپنا رفیق نہ بناؤ اگر وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیں تم میں سے جو ان کو رفیق بنائیں گے وہی ظالم ہوں گے

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ [ اے لوگو ! جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] لَا تَتَّخِذُوْٓا [ تم لوگ مت بناؤ] اٰبَاۗءَكُمْ [ اپنے آباواجداد کو ] وَاِخْوَانَكُمْ [ اور اپنے بھائیوں کو ] اَوْلِيَاۗءَ [ کار ساز ] اِنِ [ اگر ] اسْتَحَبُّوا [ وہ لوگ ترجیح دیں ] الْكُفْرَ [ کفر کو ] عَلَي الْاِيْمَانِ ۭ [ ایمان پر ] وَمَنْ [ اور جو ] يَّتَوَلَّهُمْ [ دوستی کرے گا ان سے ] مِّنْكُمْ [ تم میں سے ] فَاُولٰۗىِٕكَ [ تو وہ لوگ ] هُمُ الظّٰلِمُوْنَ : ہی ظلم کرنے والے ہیں ]
Ayah 9:24

قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اِ۟قْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:24 in the Quran reader

اے نبیؐ، کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے، اور تمہارے بھائی، اور تمہاری بیویاں اور تمہارے عزیز و اقارب اور تمہارے وہ مال جو تم نے کما ئے ہیں، اور تمہارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑ جانے کا تم کو خوف ہے اور تمہارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں، تم کو اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے، اور اللہ فاسق لوگوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا

قُلْ [ آپ کہہ دیجیے ] اِنْ [ اگر ] كَانَ [ ہیں ] اٰبَاۗؤُكُمْ [ تمہارے آباواجداد ] وَاَبْنَاۗؤُكُمْ [ اور تمہارے بیٹے ] وَاِخْوَانُكُمْ [ اور تمہارے بھائی ] وَاَزْوَاجُكُمْ [ اور تمہاری بیویاں ] وَعَشِيْرَتُكُمْ [ اور تمہارے رشتہ دار ] وَاَمْوَالُۨ [ اور تمہارے وہ مال ] اقْتَرَفْتُمُوْهَا [ تم نے کمایا جن کو ] وَتِجَارَةٌ [ اور وہ تجارت ] تَخْشَوْنَ [ تم لوگ ڈرتے ہو ] كَسَادَهَا [ جس کی مندی سے ] وَمَسٰكِنُ [ اور وہ مکانات ] تَرْضَوْنَهَآ [ تم لوگ پسند کرتے ہو جن کو ] اَحَبَّ [ زیادہ پیارے ہیں ] اِلَيْكُمْ [ تمہارے لیے ] مِّنَ اللّٰهِ [ اللہ سے ] وَرَسُوْلِهٖ [ اور اس کے رسول سے ] وَجِهَادٍ [ اور جدوجہد کرنے سے ] فِيْ سَبِيْلِهٖ [ اس کی راہ میں ] فَتَرَبَّصُوْا [ تو انتظار کرو ] حَتّٰي [ یہاں تک کہ ] يَاْتِيَ [ لے آئے ] اللّٰهُ [ اللہ ] بِاَمْرِهٖ ۭ [ اپنا فیصلہ ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] لَا يَهْدِي [ ہدایت نہیں دیتا ] الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ [ نافرمان لوگوں کو ] ک س د : (ن، ک ) کساد ۔ بازار کا مندا ہونا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 24 ۔ (آیت ۔ 24) اباؤکم سے مسکن تک کان کے اسم ہیں اس لیے یہ سب حالت رفع میں ہیں ۔ احب باب افعال کا فعل ماضی نہیں ہے بلکہ محبۃ سے افعل کے وزن پر افعل تفضیل ہے اور کان کی خبر ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں آیا ہے ۔
Ayah 9:25

لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِیْ مَوَاطِنَ كَثِیْرَةٍ١ۙ وَّ یَوْمَ حُنَیْنٍ١ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَیْئًا وَّ ضَاقَتْ عَلَیْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَۚ Open ayah 9:25 in the Quran reader

اللہ اس سے پہلے بہت سے مواقع پر تمہاری مدد کر چکا ہے ابھی غزوہ حنین کے روز (اُس کی دستگیری کی شان تم دیکھ چکے ہو) اس روز تمہیں اپنی کثرت تعداد کا غرہ تھا مگر وہ تمہارے کچھ کام نہ آئی اور زمین اپنی وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہو گئی اور تم پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے

لَقَدْ نَصَرَكُمُ [ یقینا مدد کرچکا ہے تم لوگوں ] اللّٰهُ [ اللہ ] فِيْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَةٍ ۙ [ بہت سے جنگ کے میدانوں میں ] وَّيَوْمَ حُنَيْنٍ ۙ [ اور حنین کے دن (بھی ) ] اِذْ [ جب ] اَعْجَبَتْكُمْ [ بھلی لگی تم کو ] كَثْرَتُكُمْ [ تمہاری کثرت ] فَلَمْ تُغْنِ [ تو وہ کام نہ آئی ] عَنْكُمْ [ تمہارے ] شَيْــــًٔـا [ کچھ بھی ] وَّضَاقَتْ [ اور تنگ ہوئی ] عَلَيْكُمُ [ تم پر ] الْاَرْضُ [ زمین ] بِمَا [ ساتھ اس کے جو ] رَحُبَتْ [ وہ کشادہ تھی ] ثُمَّ [ پھر ] وَلَّيْتُمْ [ تم لوگوں نے پیٹھ پھیری ] مُّدْبِرِيْنَ [ پیٹھ دینے والا ہوتے ہوئی ] وط ن (ص) ۔ وطنا ۔ کسی جگہ اقامت کرنا ۔ وطن بنانا ۔ موطن ۔ ج : مواطن ، مفعل کے وزن پر اسم الظرف ہے ۔ وطن لیکن اصطلاحا جنگ کے میدان کے لیے آتا ہے ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 25 ۔ ر ح ب (ک) ۔ رحبا ۔ کسی جگہ کا کشادہ ہونا ۔ زیر مطالعہ آیت 25 ۔ مرحب ۔ مفعل کے وزن پر اسم الظرف ہے۔ کشادگی کا وقت یا موقعہ ۔ زیادہ تر خوش آمدید کے معنی میں آتا ہے۔ لَا مَرْحَبًۢا بِهِمْ [ کوئی خوش آمدید نہیں ہے ان کے لیے ] 38: 59 ۔
Ayah 9:26

ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا وَ عَذَّبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:26 in the Quran reader

پھر اللہ نے اپنی سکینت اپنے رسول پر اور مومنین پر نازل فرمائی اور وہ لشکر اتارے جو تم کو نظر نہ آتے تھے اور منکرین حق کو سزا دی کہ یہی بدلہ ہے اُن لوگوں کے لیے جو حق کا انکار کریں

ثُمَّ [ پھر ] اَنْزَلَ [ اتاری ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] سَكِيْنَتَهٗ [ اپنی سکینت ] عَلٰي رَسُوْلِهٖ [ اپنے رسول پر ] وَعَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ [ اور مومنوں پر ] وَاَنْزَلَ [ اور اس نے اتارے ] جُنُوْدًا [ ایسے لشکر ] لَّمْ تَرَوْهَا ۚ [ تم لوگوں نے نہیں دیکھا جن کو ] وَعَذَّبَ [ اور اس نے عذاب دیا ] الَّذِيْنَ [ ان کو جنھوں نے ] كَفَرُوْا ۭ [ کفر کیا ] وَذٰلِكَ [ اور یہ (ہی ) ] جَزَاۗءُ الْكٰفِرِيْنَ [ کافروں کا بدلہ ہے ]
Ayah 9:27

ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:27 in the Quran reader

پھر (تم یہ بھی دیکھ چکے ہو کہ) اس طرح سزا دینے کے بعد اللہ جس کو چاہتا ہے توبہ کی توفیق بھی بخش دیتا ہے، اللہ در گزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

ثُمَّ [ پھر ] يَتُوْبُ [ توبہ قبول کرے گا ] اللّٰهُ [ اللہ ] مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ [ اس کے بعد ] عَلٰي مَنْ [ اس کی جس کی ] يَّشَاۗءُ ۭ [ وہ چاہے گا ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] غَفُوْرٌ [ بخشنے والا ہے ] رَّحِيْمٌ [ رحم کرنے والا ہے ]
Ayah 9:28

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا١ۚ وَ اِنْ خِفْتُمْ عَیْلَةً فَسَوْفَ یُغْنِیْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۤ اِنْ شَآءَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:28 in the Quran reader

اے ایمان لانے والو، مشرکین ناپاک ہیں لہٰذا اس سال کے بعد یہ مسجد حرام کے قریب نہ پھٹکنے پائیں اور اگر تمہیں تنگ دستی کا خوف ہے تو بعید نہیں کہ اللہ چاہے تو تمہیں ا پنے فضل سے غنی کر دے، اللہ علیم و حکیم ہے

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ [ اے لوگو ! جو ] اٰمَنُوْٓا [ ایمان لائے ] اِنَّمَا [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] الْمُشْرِكُوْنَ [ مشرک لوگ ] نَجَسٌ [ نجس ہیں ] فَلَا يَقْرَبُوا [ پس وہ لوگ نزدیک مت ہوں ] الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ [ مسجد حرام کے ] بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا ۚ [ اپنے اس سال کے بعد ] وَاِنْ [ اور اگر ] خِفْتُمْ [ خوف ہو تم کو ] عَيْلَةً [ تنگ دستی کا ] فَسَوْفَ [ تو عنقریب ] يُغْنِيْكُمُ [ غنی کردے گا تم کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] مِنْ فَضْلِهٖٓ [ اپنے فضل سے ] اِنْ [ اگر ] شَاۗءَ ۭ [ اس نے چاہا ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] عَلِيْمٌ [ جاننے والا ہے ] حَكِيْمٌ [ حکمت والا ہے ] ع ی ل : (ض) عیلا ۔ تنگ دست ہونا ۔ محتاج ہونا۔ عیلۃ ۔ مصدر بھی ہے اور اسم ذات بھی ہے ۔ تنگ دستی ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 28 ۔ عائل : فاعل کے وزن پر صفت ہے ۔ تنگ دست ہونے والا یعنی تنگ دست ۔ وَوَجَدَكَ عَاۗىِٕلًا فَاَغْنٰى [ اور اس نے پایا آپ کو تنگ دست تو اس نے غنی کیا ] 93: 8 ۔ ترکیب : (آیت ۔ 28) المشرکون مبتدا ہے اور جمع ہے اس کی خبر نجس واحد آئی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نجس مصدر ہے اور مصدر کی جمع نہیں آتی ۔ یہ واحد اور جمع کے لیے یکساں آتا ہے ۔
Ayah 9:29

قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ لَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰى یُعْطُوا الْجِزْیَةَ عَنْ یَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ۠ Open ayah 9:29 in the Quran reader

جنگ کرو اہل کتاب میں سے اُن لوگوں کے خلاف جو اللہ اور روز آخر پر ایمان نہیں لاتے اور جو کچھ اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے اسے حرام نہیں کرتے اور دین حق کو اپنا دین نہیں بناتے (ان سے لڑو) یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور چھوٹے بن کر رہیں

قَاتِلُوا [ تم لوگ جنگ کرو ] الَّذِيْنَ [ ان سے جو ] لَا يُؤْمِنُوْنَ [ ایمان نہیں لاتے ] بِاللّٰهِ [ اللہ پر ] وَلَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ [ اور نہ ہی آخری دن پر ] وَلَا يُحَرِّمُوْنَ [ اور نہ ہی وہ حرام ٹھہراتے ہیں ] مَا [ اسے جس کو ] حَرَّمَ [ حرام کیا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] وَرَسُوْلُهٗ [ اور اس کے رسول نے ] وَلَا يَدِيْنُوْنَ [ اور نہ ہی وہ ضابطہ حیات بناتے ہیں ] دِيْنَ الْحَقِّ [ حق کے ضابطہ کو ] مِنَ الَّذِيْنَ [ ان لوگوں میں سے ] اُوْتُوا [ جن کو دی گئی ] الْكِتٰبَ [ کتاب ] حَتّٰي [ یہاں تک کہ ] يُعْطُوا [ وہ دے دیں ] الْجِزْيَةَ [ جزیہ ] عَنْ يَّدٍ [ ہاتھ سے ] وَّ [ اس حال میں کہ ] هُمْ [ وہ لوگ ] صٰغِرُوْنَ [ چھوٹے ہونے والے ہیں ] ع ط و۔ (ن) عطوا ۔ ہاتھ بڑھانا ۔ لینا ۔ (افعال ) اعطاء ۔ ہاتھ بڑھا کردینا ۔ خوش دلی سے دینا ۔ حق سے زیادہ دینا ۔ عطا کرنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 29 ۔ عطاء ۔ اسم ذات ہے ۔ عطیہ ۔ بخشش ۔ وَمَا كَانَ عَطَاۗءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا [ اور نہیں آپ کے رب کی بخشش روکی ہوئی ] ۔ 17:20 ۔ (تفاعل ) تعاطیا ۔ کسی کی طرف ہاتھ بڑھانا [ لینے یا پکڑنے کے لیے ] فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ [ پھر انہوں نے پکارا اپنے ساتھی کو تو اس نے ہاتھ بڑھایا پھر کاٹا ] ۔ 54:29 ۔ (آیت ۔ 29) قاتلوا کے بعد الذین کی وضاحت لایؤمنون سے لیے کر اوتوا الکتب تک ہے ۔ حتی کا تعلق قاتلوا سے ہے یعنی جنگ کرو یہاں تک کہ۔ نوٹ ۔ 1: ابتداء جزیہ کا حکم یہود و نصاری کے لیے تھا لیکن آگے چل کر نبی کریم ﷺ نے مجوس سے جزیہ لے کر انھیں ذمی بنایا ۔ پھر صحابہ کرام ؓ اجمعین نے بیرون عرب کی تمام قوموں پر اس حکم کو عام کردیا ۔ (تفہیم القرآن ) نوٹ ۔ 2: جزیہ ادا کرنے سے غیر مسلم رعایا کے جان ومال کی حفاظت کی ذمہ داری اسلامی حکومت پر عائد ہوجاتی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی انھیں کچھ رعایتیں بھی حاصل ہوجاتی ہیں ۔ مثلا اسلامی ریاست میں لازمی فوجی خدمت سے یہ لوگ مستثنی ہوتے ہیں ۔ اسلام کے مالی احکام بھی ان پر لاگو نہیں ہوتے مثلا زکوۃ ، عشر ، فطرانہ قربانی وغیرہ ۔
Ayah 9:30

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ عُزَیْرُ اِ۟بْنُ اللّٰهِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ١ۚ یُضَاهِئُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ۚ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 9:30 in the Quran reader

یہودی کہتے ہیں کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے، اور عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے یہ بے حقیقت باتیں ہیں جو وہ اپنی زبانوں سے نکالتے ہیں اُن لوگوں کی دیکھا دیکھی جو ان سے پہلے کفر میں مبتلا ہوئے تھے خدا کی مار اِن پر، یہ کہاں سے دھوکہ کھار ہے ہیں

وَقَالَتِ [ اور کہا ] الْيَهُوْدُ [ یہود نے کہ ] عُزَيْرُۨ [ عزیر ] ابْنُ اللّٰهِ [ اللہ کے بیٹے ہیں ] وَقَالَتِ [ اور کہا ] النَّصٰرَى [ نصاری نے کہ ] الْمَسِيْحُ [ مسیح ] ابْنُ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کے بیٹے ہیں ] ذٰلِكَ [ یہ ] قَوْلُهُمْ [ ان کی بات ] بِاَفْوَاهِهِمْ ۚ [ ان کے مونہوں سے ] يُضَاهِــــُٔـوْنَ [ مشابہت کرتے ہیں ] قَوْلَ الَّذِيْنَ [ ان لوگوں کی بات سے جنھوں نے ] كَفَرُوْا [ کفر کیا ] مِنْ قَبْلُ ۭ [ اس سے پہلے ] قٰتَلَهُمُ [ ہلاک کرے ان کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] اَنّٰى [ کہاں سے ] يُؤْفَكُوْنَ [ یہ پھیرے جاتے ہیں ] ض ھ ی : (ف) ضھی ۔ زمین کا بنجر ہونا ۔ (مفاعلہ) مضاھاۃ ۔ کسی کے مشابہ ہونا۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 30 ۔ ترکیب : (آیت ۔ 30) يُضَاهِــــُٔـوْنَ کا مادہ ” ض ھ ی “ ہے ۔ اس سے باب مفاعلہ کا مضارع یضاھون بنتا ہے لیکن ہماری قراءت میں يُضَاهِــــُٔـوْنَ پڑھا جاتا ہے ۔ اس کا ہمزہ اصلی نہیں ہے۔
Ayah 9:31

اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ١ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوْۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ سُبْحٰنَهٗ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:31 in the Quran reader

انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا ہے اور اسی طرح مسیح ابن مریم کو بھی حالانکہ ان کو ایک معبود کے سوا کسی کی بندگی کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا، وہ جس کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں، پاک ہے وہ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں

اِتَّخَذُوْٓا [ انھوں نے بنایا ] اَحْبَارَهُمْ [ اپنے علماء کو ] [ وَرُهْبَانَهُمْ : اور اپنے درویشوں کو ] اَرْبَابًا [ بہت سے رب ] مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ ] وَالْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ ۚ [ اور ابن مریم مسیح کو (بھی ) ] وَمَآ اُمِرُوْٓا [ اور ان کو حکم نہیں دیا گیا ] اِلَّا [ سوائے اس کے ] لِيَعْبُدُوْٓا [ کہ وہ بندگی کریں ] اِلٰــهًا وَّاحِدًا ۚ [ واحد الہ کی ] لَآ اِلٰهَ [ کوئی الہ نہیں ہے ] اِلَّا [ سوائے ] هُوَ ۭ [ اس کے ] سُبْحٰنَهٗ [ پاکیزگی اس کی ہے ] عَمَّا [ اس سے جو ] يُشْرِكُوْنَ [ یہ لوگ شرک کرتے ہیں ] نوٹ ۔ 1: حضرت عدی بن حاتم ؓ ایمان لانے سے پہلے عیسائی تھے ۔ انھوں نے آیت ۔ 31 کے حوالے سے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تھا کہ اس آیت میں ہم پر علماء اور درویشوں کو رب بنا لینے کے الزام کی حقیقت کیا ہے۔ کیونکہ ان کا خیال تھا کہ یہود و نصاری اپنے علماء اور درویشوں کو رب نہیں بناتے ۔ جواب میں رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ کیا ایسا نہیں ہے کہ جس کو وہ لوگ حرام قرار دیتے ہیں اسے تم لوگ حرام مان لیتے ہو اور جس کو وہ لوگ حلال قرار دیتے ہیں اسے حلال مان لیتے ہو، حضرت عدی ؓ کے کہا کہ یہ تو ہم کرتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا یہی ان کو رب بنانا ہے۔
Ayah 9:32

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ یَاْبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 9:32 in the Quran reader

یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں مگر اللہ اپنی روشنی کو مکمل کیے بغیر ماننے والا نہیں ہے خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو

يُرِيْدُوْنَ [ وہ لوگ ارادہ کرتے ہیں ] اَنْ [ کہ ] يُّطْفِــــُٔـوْا [ بجھا دیں ] نُوْرَ اللّٰهِ [ اللہ کے نور کو ] بِاَفْوَاهِهِمْ [ اپنے مونہوں سے ] وَيَاْبَى [ اور انکار کرتا ہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] اِلَّآ اَنْ [ مگر یہ کہ ] يُّتِمَّ [ وہ پورا کرکے رہے گا ] نُوْرَهٗ [ اپنے نور کو ] وَلَوْ [ اور اگرچہ ] كَرِهَ [ کراہیت کریں ] الْكٰفِرُوْنَ [ کافر لوگ ]
Ayah 9:33

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ۙ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:33 in the Quran reader

وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پوری جنس دین پر غالب کر دے خواہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو

هُوَ [ وہ ] الَّذِيْٓ [ وہ ہے جس نے ] اَرْسَلَ [ بھیجا ] رَسُوْلَهٗ [ اپنے رسول کو ] بِالْهُدٰي [ ہدایت کے ساتھ ] وَدِيْنِ الْحَقِّ [ اور حق کے دین کے ساتھ ] لِيُظْهِرَهٗ [ تاکہ وہ غالب کرے اس کو ] عَلَي الدِّيْنِ [ ضابطہ حیات پر ] كُلِّهٖ ۙ [ اس کے کل پر ] وَلَوْ [ اور اگرچہ ] كَرِهَ [ کراہیت کریں ] الْمُشْرِكُوْنَ [ مشرک لوگ ]
Ayah 9:34

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَ الرُّهْبَانِ لَیَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:34 in the Quran reader

اے ایمان لانے والو، اِن اہل کتاب کے اکثر علماء اور درویشوں کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کے مال باطل طریقوں سے کھاتے ہیں اور انہیں اللہ کی راہ سے روکتے ہیں دردناک سزا کی خوش خبری دو ان کو جو سونے اور چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور انہیں خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ [ اے لوگوجو ] اٰمَنُوْٓا [ ایمان لائے ] اِنَّ [ بیشک ] كَثِيْرًا [ بہت سے ] مِّنَ الْاَحْبَارِ [ علماء میں سے ] وَالرُّهْبَانِ [ اور درویشوں میں سے ] لَيَاْكُلُوْنَ [ کھاتے ہیں ] اَمْوَالَ النَّاسِ [ لوگوں کے مال ] بِالْبَاطِلِ [ باطل (طریقوں ) سے ] وَيَصُدُّوْنَ [ اور روکتے ہیں ] عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کی راہ میں ] وَالَّذِيْنَ [ اور جو لوگ ] يَكْنِزُوْنَ [ ذخیرہ کرتے ہیں ] الذَّهَبَ [ سونے کا ] وَالْفِضَّةَ [ اور چاندی کا ] وَلَا يُنْفِقُوْنَهَا [ اور وہ لوگ خرچ نہیں کرتے ان کو ] فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۙ [ اللہ کی راہ میں ] فَبَشِّرْهُمْ [ تو آپ خوشخبری دیں ان کو ] بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ [ ایک درد ناک عذاب کی ] ک ن ز (ض) ۔ کنزا ، کوئی چیز جمع کرکے محفوظ کرنا ۔ ذخیرہ کرنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 34 ۔ کنز ۔ ج : کنوز ۔ اسم ذات بھی ہے۔ ذخیرہ ۔ خزانہ ۔ لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْهِ كَنْزٌ [ کیوں نہیں اتارا گیا ان پر کوئی خزانہ ] 11:12 ۔ وَاٰتَيْنٰهُ مِنَ الْكُنُوْزِ [ اور ہم نے دیا اس کو خزانوں میں سے ] 28:76 (آیت ۔ 34 ۔ 35) لاینفقونھا ۔ یحمی علیھا اور فتکوی بھا میں ھا کی ضمیریں الذھب اور الفضۃ کے لیے ہیں ۔ ذھب کا لفظ مذکر مؤنث دونوں طرح استعمال ہوتا ہے ۔ یحمی باب افعال کا مضارع مجہول ہے ۔ ثلاثی مجرد کا نہیں ہوسکتا کیونکہ وہاں پر یہ فعل لازم ہے۔ نوٹ ۔ 2، آیت ۔ 34 ۔ 35 میں جب سونے چاندی کی مذمت اتری اور صحابہ کرام ؓ اجمعین میں اس کا چرچا ہوا تو حضرت عمر ؓ نے کہا میں پوچھ آتا ہوں ۔ ان کے سوال پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے زکوۃ اسی لیے مقرر فرمائی ہے کہ بعد کا مال پاک ہوجائے ۔ میراث کا مقرر کرنا بتارہا ہے کہ جمع کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ حضرت عمر یہ سن کر مارے خوشی کے تکبریں کہنے لگے ۔ (ابن کثیر )
Ayah 9:35

یَّوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَ جُنُوْبُهُمْ وَ ظُهُوْرُهُمْ١ؕ هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ Open ayah 9:35 in the Quran reader

ایک دن آئے گا کہ اسی سونے چاندی پر جہنم کی آگ دہکائی جائے گی اور پھر اسی سے ان لوگوں کی پیشانیوں اور پہلوؤں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا، لو اب اپنی سمیٹی ہوئی دولت کا مزہ چکھو

يَّوْمَ [ جس دن ] يُحْمٰي [ خوب گرم کیا جائے گا ] عَلَيْهَا [ ان کو (یعنی اموال کو ) ] فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ [ جہنم کی آگ میں ] فَتُكْوٰي [ پھر داغا جائے گا ] بِهَا [ ان سے ] جِبَاهُهُمْ [ ان کی پیشانیوں کو ] وَجُنُوْبُهُمْ [ اور ان کے پہلوؤں کو ] وَظُهُوْرُهُمْ ۭ [ اور ان کی پیٹھوں کو ] هٰذَا [ یہ ] مَا [ وہ ہے جو ] كَنَزْتُمْ [ تم نے ذخیرہ کیا ] لِاَنْفُسِكُمْ [ اپنی جانوں کے لیے ] فَذُوْقُوْا [ تو چکھو ] مَا [ اس کو جو ] كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ [ تم لوگ ذخیرہ کرتے تھے ] ک و ی : (ض) ۔ کیا ۔ لوہے وغیرہ سے کسی کو داغنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 35 ۔ ج ب ھ ۔ (ف) : جبھا ۔ پیشانی پر مارنا۔ جبھۃ ۔ ج : جباہ ۔ پیشانی ۔ زیرمطالعہ آیت ۔ 35 ۔
Ayah 9:36

اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙ۬ فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِكِیْنَ كَآفَّةً كَمَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ كَآفَّةً١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:36 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ مہینوں کی تعداد جب سے اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اللہ کے نوشتے میں بارہ ہی ہے، اور ان میں سے چار مہینے حرام ہیں یہی ٹھیک ضابطہ ہے لہٰذا ان چار مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو اور مشرکوں سے سب مل کر لڑو جس طرح وہ سب مل کر تم سے لڑتے ہیں اور جان رکھو کہ اللہ متقیوں ہی کے ساتھ ہے

اِنَّ [ بیشک ] عِدَّةَ الشُّهُوْرِ [ مہینوں کی گنتی ] عِنْدَ اللّٰهِ [ اللہ کے پاس ] اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا [ بارہ مہینے ہے ] فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ [ اللہ کے لکھے ہوئے میں ] يَوْمَ [ (اس دن سے ) جس دن ] خَلَقَ [ اس نے پیدا کیا ] السَّمٰوٰتِ [ آسمانوں کو ] وَالْاَرْضَ [ اور زمین کو ] مِنْهَآ [ ان میں سے ] اَرْبَعَةٌ [ چار ] حُرُمٌ ۭ [ محترم ہیں ] ذٰلِكَ [ یہ ] الدِّيْنُ الْقَيِّمُ ڏ [ پکا ضابطہ ہے ] فَلَا تَظْلِمُوْا [ پس تم لوگ ظلم مت کرو ] فِيْهِنَّ [ ان میں ] اَنْفُسَكُمْ [ اپنی جانوں پر ] وَقَاتِلُوا [ اور جنگ کرو ] الْمُشْرِكِيْنَ [ مشرکوں سے ] كَاۗفَّةً [ اکٹھا ہوکر ] كَمَا [ جیسے ] يُقَاتِلُوْنَكُمْ [ وہ جنگ کرتے ہیں تم سے ] كَاۗفَّةً ۭ [ اکٹھا ہوکر ] وَاعْلَمُوْٓا [ اور جان لو ] اَنَّ اللّٰهَ [ کہ اللہ ] مَعَ الْمُتَّقِيْنَ [ تقوی کرنے والوں کے ساتھ ہے ]
Ayah 9:37

اِنَّمَا النَّسِیْٓءُ زِیَادَةٌ فِی الْكُفْرِ یُضَلُّ بِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُحِلُّوْنَهٗ عَامًا وَّ یُحَرِّمُوْنَهٗ عَامًا لِّیُوَاطِئُوْا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ فَیُحِلُّوْا مَا حَرَّمَ اللّٰهُ١ؕ زُیِّنَ لَهُمْ سُوْٓءُ اَعْمَالِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 9:37 in the Quran reader

نسی تو کفر میں ایک مزید کافرانہ حرکت ہے جس سے یہ کافر لوگ گمراہی میں مبتلا کیے جاتے ہیں کسی سال ایک مہینے کو حلال کر لیتے ہیں اور کسی سال اُس کو حرام کر دیتے ہیں، تاکہ اللہ کے حرام کیے ہوئے مہینوں کی تعداد پوری بھی کر دیں اور اللہ کا حرام کیا ہوا حلال بھی کر لیں ان کے برے اعمال ان کے لیے خوشنما بنا دیے گئے ہیں اور اللہ منکرین حق کو ہدایت نہیں دیا کرتا

اِنَّمَا [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] النَّسِيْۗءُ [ مہینے آگے پیچھے کرنے کا رواج ] زِيَادَةٌ [ زیادتی (یعنی اضافہ ) ہے ] فِي الْكُفْرِ [ کفر میں ] يُضَلُّ [ گمراہ کیا جاتا ہے ] بِهِ [ اس سے ] الَّذِيْنَ [ ان کو جنھوں نے ] كَفَرُوْا [ کفر کیا ] يُحِلُّوْنَهٗ [ وہ حلال کرتے ہیں اس کو ] عَامًا [ ایک سال ] وَّيُحَرِّمُوْنَهٗ [ اور حرام کرتے ہیں اس کو ] عَامًا [ ایک سال ] لِّيُوَاطِــــُٔــوْا [ تاکہ وہ برابر کریں ] عِدَّةَ مَا [ اس کی گنتی کو جو ] حَرَّمَ [ حرام کیا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] فَيُحِلُّوْا [ نتیجتا وہ حلال کرتے ہیں ] مَا [ اس کو جسے ] حَرَّمَ [ حرام کیا ] اللّٰهُ ۭ [ اللہ نے ] زُيِّنَ [ سجایا گیا ] لَهُمْ [ ان کے لیے ] سُوْۗءُ اَعْمَالِهِمْ [ ان کے اعمال کی برائی کو ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] لَا يَهْدِي [ ہدایت نہیں دیتا ] الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ [ کافر لوگوں کو ] ن س ء : (ف) ۔ نسئا (1) چوپایہ کو ہانکنا ۔ (2) دودھ میں پانی ملانا ۔ نسیء ۔ ملاوٹ یا گڑ بڑ کرنے کا عمل ۔ عرب میں محترم مہینوں کو آگے پیچھے کرنے کا رواج ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 37 ۔ منساۃ ۔ اسم الا کہ ہے۔ چرواہے کا ڈنڈا ۔ لاٹھی ۔ مَا دَلَّهُمْ عَلٰي مَوْتِهٖٓ اِلَّا دَاۗبَّةُ الْاَرْضِ تَاْكُلُ مِنْسَاَتَهٗ ۚ [ ان کو یعنی جنوں کو خبردار نہیں کیا ان کی موت پر مگر دیمک نے جو کھاتی تھی ان کی لاٹھی کو ] 34:14 ۔ و ط ء ۔ (س) : وطئا ۔ کسی چیز کو پیر کے نیچے روندنا ۔ پامال کرنا ۔ وَاَوْرَثَكُمْ اَرْضَهُمْ وَدِيَارَهُمْ وَاَمْوَالَهُمْ وَاَرْضًا لَّمْ تَـــطَـــــُٔـوْهَا [ اور اس نے وارث بنایا تم لوگوں کو ان کی زمین کا اور ان کے گھروں کا اور ان کے مالوں کا اور ایک ایسی زمین کا جس کو تم نے قدموں سے نہیں روندا ] 33:27 ۔ موطا ، اسم الظرف ہے ، روندنے کی جگہ ۔ وَلَا يَـطَــــــُٔوْنَ مَوْطِئًا [ اور وہ نہیں روندتے کسی روندنے کی جگہ کو ] 9 : 120 ۔ (مفاعلہ ) مواطئۃ ، موافقت پیدا کرنا ۔ اشعار کا وزن برابر کرنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 37 ۔
Ayah 9:38

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِیْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَى الْاَرْضِ١ؕ اَرَضِیْتُمْ بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَةِ١ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 9:38 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہیں کیا ہو گیا کہ جب تم سے اللہ کی راہ میں نکلنے کے لیے کہا گیا تو تم زمین سے چمٹ کر رہ گئے؟ کیا تم نے آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کو پسند کر لیا؟ ایسا ہے تو تمہیں معلوم ہو کہ دنیوی زندگی کا یہ سب سروسامان آخرت میں بہت تھوڑا نکلے گا

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ [ اے لوگو ! جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] مَا لَكُمْ [ تمہیں کیا ہے ] اِذَا [ جب ] قِيْلَ [ کہاجاتا ہے ] لَكُمُ [ تم لوگوں سے ] انْفِرُوْا [ کہ تم لوگ نکلو ] فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ [ اللہ کی راہ میں ] اثَّاقَلْتُمْ [ تو تم لوگ بوجھل ہوتے ہو ] اِلَى الْاَرْضِ ۭ [ زمین کی طرف ] اَ [ کیا ] رَضِيْتُمْ [ تم لوگ راضی ہوئے ] بِالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا [ دنیوی زندگی پر ] مِنَ الْاٰخِرَةِ ۚ [ آخرت سے (زیادہ ) ] فَمَا [ تو نہیں ہے ] مَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا [ دنیوی زندگی کا سامان ] فِي الْاٰخِرَةِ [ آخرت (کے مقابلہ ) میں ] اِلَّا [ مگر ] قَلِيْلٌ [ بہت تھوڑا ]
Ayah 9:39

اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ وَ لَا تَضُرُّوْهُ شَیْئًا١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 9:39 in the Quran reader

تم نہ اٹھو گے تو خدا تمہیں دردناک سزا دے گا، اور تمہاری جگہ کسی اور گروہ کو اٹھائے گا، اور تم خدا کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکو گے، وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

اِلَّا تَنْفِرُوْا [ اگر تم لوگ نہیں نکلو گے ] يُعَذِّبْكُمْ [ تو وہ عذاب دے گا تم لوگوں کو ] عَذَابًا اَلِـــيْمًا ڏ [ ایک دردناک عذاب ] وَّيَسْتَبْدِلْ [ اور وہ تبدیل کرے گا ] قَوْمًا [ کسی قوم کو ] غَيْرَكُمْ [ تمہارے علاوہ ] وَ [ اور (یعنی تو) ] لَا تَضُرُّوْهُ [ تم لوگ نقصان نہیں پہنچاؤگے اس کو ] شَـيْــــًٔـا ۭ [ کچھ بھی ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ [ ہر چیز پر ] قَدِيْرٌ [ قادر ہے ] ترکیب : (آیت ۔ 39) الا دراصل ان شرطیہ اور لائے نفی کو ملا کر لکھا گیا ہے ۔ لا تنفروا۔ فعل نہی نہیں ہے ۔ یہ دراصل لائے نفی کے ساتھ مضارع لا تنفرون تھا ۔ جو ان کی شرط ہونے کی وجہ سے مجزوم ہوا ہے۔ یعذبکم جواب شرط ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے ۔ ان شرطیہ پر عطف ہونے کی وجہ سے یستبدل مجزوم ہے اور لا تضروہ اس کا جواب شرط ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے۔ اس میں ضمیر مفعولی کو اللہ کے لیے بھی مانا جاسکتا ہے اور قوما کے لیے بھی ۔
Ayah 9:40

اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا١ۚ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلَیْهِ وَ اَیَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِیْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى١ؕ وَ كَلِمَةُ اللّٰهِ هِیَ الْعُلْیَا١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:40 in the Quran reader

تم نے اگر نبیؐ کی مدد نہ کی تو کچھ پروا نہیں، اللہ اُس کی مدد اس وقت کر چکا ہے جب کافروں نے اسے نکال دیا تھا، جب وہ صرف دو میں کا دوسرا تھا، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنی ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ "غم نہ کر، اللہ ہمارے ساتھ ہے" اُس وقت اللہ نے اس پر اپنی طرف سے سکون قلب نازل کیا اور اس کی مدد ایسے لشکروں سے کی جو تم کو نظر نہ آتے تھے اور کافروں کا بول نیچا کر دیا اور اللہ کا بول تو اونچا ہی ہے، اللہ زبردست اور دانا و بینا ہے

اِلَّا تَنْصُرُوْهُ [ اگر تم لوگ مدد نہیں کرو گے ان کی ] فَقَدْ نَــصَرَهُ [ تو مدد کرچکا ہے ان کی ] اللّٰهُ [ اللہ ] اِذْ [ جب ] اَخْرَجَهُ [ نکالا ان کو ] الَّذِيْنَ [ ان لوگوں نے جنھوں نے ] كَفَرُوْا [ کفر کیا ] ثَانِيَ اثْنَيْنِ [ دو کا دوسرا ہوتے ہوئے ] اِذْ [ جب ] هُمَا [ وہ دونوں ] فِي الْغَارِ [ غار میں تھے ] اِذْ [ جب ] يَقُوْلُ [ وہ کہتے تھے ] لِصَاحِبِهٖ [ اپنے ساتھی سے ] لَا تَحْزَنْ [ غمگین مت ہو ] اِنَّ اللّٰهَ [ یقینا اللہ ] مَعَنَا ۚ [ ہمارے ساتھ ہے ] فَاَنْزَلَ [ تو اتارا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] سَكِيْنَتَهٗ [ اپنی سکینت ] عَلَيْهِ [ ان پر ] وَاَيَّدَهٗ [ اور تائید کی ان کی ] بِجُنُوْدٍ [ اپنے لشکروں سے ] لَّمْ تَرَوْهَا [ تم لوگوں نے نہیں دیکھا جن کو ] وَجَعَلَ [ اور اس نے بنایا ] كَلِمَةَ الَّذِيْنَ [ ان کی بات کو جنھوں نے ] كَفَرُوا [ کفر کیا ] السُّفْلٰى ۭ [ سب سے پست ] وَكَلِمَةُ اللّٰهِ [ اور اللہ کا فرمان ] ھِىَ الْعُلْيَا ۭ [ ہی سب سے بلند ہے ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] عَزِيْزٌ [ بالا دست ہے ] حَكِيْمٌ [ حکمت والا ہے ] غ ور ۔ (ن) غورا ۔ نشیب میں اترنا ، پانی کا زمین میں جذب ہونا ۔ اَوْ يُصْبِحَ مَاۗؤُهَا غَوْرًا [ یا ہوجائے اس کا پانی زمین میں جذب ] 18:41 ۔ مغارۃ ۔ اسم الظرف ہے۔ نیچے اترنے کی جگہ یعنی غار ۔ لَوْ يَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْ مَغٰرٰتٍ [ اگر وہ پائیں کوئی پناہ گاہ یا کچھ غار ] 9:57 ۔ غار ۔ اسم ذات ہے ۔ غار ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 40،