Ayah 9:121وَلَا يُنْفِقُوْنَ [ اور وہ خرچ نہیں کرتے ] نَفَقَةً صَغِيْرَةً [ کوئی چھوٹا خرچہ ] وَّلَا كَبِيْرَةً [ اور نہ ہی کوئی بڑا (خرچہ )] وَّلَا يَـقْطَعُوْنَ [ اور وہ نہیں کاٹتے (یعنی طے کرتے ) ] وَادِيًا [ کسی وادی کو ] اِلَّا [ مگر ( یہ کہ ) ] كُتِبَ [ لکھا گیا ] لَھُمْ [ ان کے لیے ] لِيَجْزِيَھُمُ [ تاکہ جزادے ان کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] اَحْسَنَ [ اس کی بہترین جو ] مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ [ وہ عمل کرتے تھے ]
نوٹ ۔ 1: گذشتہ آیات میں مسلسل غزوہ تبوک کا ذکر چلا آ رہا ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے نفیر عام کا اعلان کیا تھا کہ ہر شخص اس میں شریک ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں شرکت نہ کرنے والوں سے باز پرس ہوئی ۔ منافقوں کے جھوٹے عذر قبول کیے گئے اور مومنوں کی توبہ قبول کی گئی ، ان سب واقعات سے تاثر یہ ملتا ہے کہ ہر قتال فی سبیل اللہ کی مہم میں شریک ہونا ہر مسلمان پر فرض عین ہے اور شرکت نہ کرنا حرام ہے ۔ حالانکہ شرعی حکم یہ نہیں ہے۔ بلکہ عام حالات میں قتال میں شرکت فرض کفایہ ہے الا یہ کہ مسلمانوں کا امر نفیر عام کا حکم دے ۔ اسی بات کی وضاحت کے لیے آیت نمبر 122 میں ارشاد ہوا کہ مسلمانوں کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ کسی مہم پر سب کے سب نکل کھڑے ہوں ۔
اس حوالہ سے فرض کفایہ کی حقیقت سمجھ لیں ، جو فرائض شخصی نہیں بلکہ اجتماعی ہیں، انھیں شریعت نے فرض کفایہ قرار دیا ہے تاکہ تقسیم کار کے اصول پر مختلف جماعتیں فرائض ادا کرتی رہیں ، اور تمام اجتماعی فرائض ادا ہوتے رہیں ۔ مثلا نماز جنازہ اور اس کی تکفین ، مساجد کی تعمیر و نگرانی ، سرحدوں کی حفاظت قتال یعنی جنگ وغیرہ ، یہ سب فرض دینی تعلیم بھی ہے اور مذکورہ آیت میں اس کے فرض ہونے کا ذکر اس طرح فرمایا ہے کہ قتال جیسے اہم فرض میں بھی اس اہم فرض کو چھوڑنا نہیں چاہیے بلکہ جتنے افراد کی ضرورت ہے ، وہ لوگ قتال فی سبیل اللہ کے لیے نکلیں اور باقی لوگ علم دین سیکھنے اور سکھانے کا فریضہ سرانجام دیتے رہیں ۔ (معارف القرآن سے ماخوذ)
Ayah 9:122وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ [ اور نہیں ہیں مومن لوگ ] لِيَنْفِرُوْا [ کہ وہ نکلیں ] كَاۗفَّةً ۭ [ سب کے سب ] فَلَوْلَا نَفَرَ [ تو کیوں نہیں نکلا ] مِنْ كُلِّ فِرْقَــةٍ [ ہر ایک فرقۃ سے ] مِّنْھُمْ [ ان میں سے ] طَاۗىِٕفَةٌ [ ایک گروہ ] لِّيَتَفَقَّهُوْا [ تاکہ وہ سوجھ بوجھ حاصل کریں ] فِي الدِّيْنِ [ دین میں ] وَلِيُنْذِرُوْا [ اور تاکہ وہ خبردار کریں ] قَوْمَھُمْ [ اپنی قوم کو ] اِذَا [ جب ] رَجَعُوْٓا [ وہ لوٹیں ] اِلَيْهِمْ [ ان کی طرف ] لَعَلَّھُمْ [ شایدوہ لوگ ] يَحْذَرُوْنَ [ بچتے رہیں ]
نوٹ ۔ 2 : مذکورہ آیت نمبر ۔ 122 سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ دین کا علم حاصل کرنا فرض کفایہ ہے ۔ لیکن دوسری طرف رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان موجود ہے کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور ہر مسلمان عورت پر فرض ہے ۔ اس لحاظ سے دین کا علم حاصل کرنا فرض عین معلو ہوتا ہے ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ حدیث مذکورہ آیت سے ٹکراتی ہے اور اسی سے وہ لوگ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ احادیث کی صرف اسناد کی تحقیق کافی نہیں ہے ۔ اور اب ضرورت ہے کہ احادیث کے متن کی بھی تحقیق کی جائے ، یہ بات کہنے والے لوگ نہ تو کم علم ہوتے ہیں اور نہ ہی ناسمجھ ہوتے ہیں ، اس کے باوجود اتنی ناسمجھی کی بات کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ایسے مقامات کے سطحی تاثر کو ان کے دل کا چور لپک کر قبول کرلیتا ہے ، اس لیے وہ نہ تو خود بات کی گہرائی میں اترتے ہیں اور نہ ہی جستجو کرتے ہیں کہ ایسے مقامات کی ہمارے بزرگوں نے کیا تشریح کی ہے، حقیقت یہ ہے کہ حدیث میں اور آیت میں علم کی مختلف سطح کے حوالے سے بات کی گئی ہے ۔ آج کل کی اصطلاح میں اس کو یوں سمجھیں کہ پرائمری کی سطح تک دین کا علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے اس لیے یہ فرض عین کے زمرے میں آتا ہے اس کے آگے اس میں گریجویش اور ماسڑس کرنا فرض کفایہ ہے جس کا ذکر آیت مذکورہ میں آیا ہے، اب اس کو وضاحت سے سمجھ لیں ، یہ وضاحت معارف القرآن سے ماخوذ ہے۔
ہر مسلمان مرد وعورت پر فرض ہے کہ وہ اسلامی عقائد کا علم حاصل کرے ، طہارت ونجاست کے احکام سیکھے ، وہ تمام عبادات جو فرض یا واجب ہیں ان کا علم حاصل کرے، جن چیزوں کو حرام یامکروہ قرار دیا گیا ہے ان کا علم حاصل کرے ، جس کے پاس بقدر نصاب مال ہے اس پر فرض عین ہے کہ زکوۃ کے احکام معلوم کرے ، جس کو حج کی استطاعت ہے اس پر فرض عین ہے کہ وہ حج کے احکام سیکھیں ، جب نکاح کرے تو فرض عین ہے کہ نکاح و طلاق کے احکام معلوم کرے ، جن لوگوں کو خریدو فروخت ، مزدوری واجرت اور صنعت کے کام کرنے ہوتے ہیں ان پر فرض عین ہے کہ وہ بیع واجارہ کے احکام سیکھیں ، جب نکاح کرے تو فرض عین ہے کہ نکاح و طلاق کے احکام معلوم کرے،
اس کے آگے پورے قرآن مجید کے معانی ومفاہیم کو سمجھنا ، ان میں معتبر اور غیر معتبر کی پہنچان پیدا کرنا ، ان میں صحابہ ، تابعین اور ائمہ کے اقوال سے واقف ہونا، یہ اتنا بڑا کام ہے کہ پوری عمر لگا کر بھی ان کا حق ادا نہیں ہوتا ۔ اس لیے شریعت نے اس علم کے حصول کو فرض کفایہ قرار دیا ہے کہ بقدر ضرورت کچھ لوگ یہ علوم حاصل کرلیں تو باقی مسلمان سبکدوش ہوجائیں گے ۔
Ayah 9:123يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ [اے لوگو ! جو ] اٰمَنُوْا [ایمان لائے ] قَاتِلُوا [تم لوگ جنگ کرو ] الَّذِيْنَ [ ان سے جو ] يَلُوْنَكُمْ [ قریب ہیں تمہارے ] مِّنَ الْكُفَّارِ [کافروں میں سے ] وَلْيَجِدُوْا [ اور چاہیے کہ وہ پائیں ] فِيْكُمْ [ تم لوگوں میں ] غِلْظَةً ۭ [سختی ] وَاعْلَمُوْٓا [ اور جان لو ] اَنَّ [کہ ] اللّٰهَ [ اللہ ] مَعَ الْمُتَّقِيْنَ [ تقوی کرنے والوں کے ساتھ ہے ]
Ayah 9:124وَاِذَا مَآ [ اور جب کبھی بھی ] اُنْزِلَتْ [ اتاری جاتی ہے ] سُوْرَةٌ [کوئی سورة ] فَمِنْھُمْ مَّنْ [ تو ان میں وہ بھی ہیں جو ] يَّقُوْلُ [ کہتے ہیں ] اَيُّكُمْ [ تم میں کا کون ہے ] زَادَتْهُ [زیادہ کیا جس کو ] هٰذِهٖٓ [ اس (سورۃ ) نے ] اِيْمَانًا ۚ [ بلحاظ ایمان کے ] فَاَمَّا الَّذِيْنَ [ پس لوگ وہ ہیں جو ] اٰمَنُوْا [ایمان لائے ] فَزَادَتْھُمْ [ تو اس نے زیادہ کیا ان کو ] اِيْمَانًا [بلحاظ ایمان کے ] وَّھُمْ [اور وہ لوگ ] يَسْتَبْشِرُوْنَ ] خوشی مناتے ہیں ]
ترکیب : (آیت ۔ 124) واذا ما میں ما ظرفیہ ہے ۔ زادت کا فاعل ھذہ ہے اور یہ اشارہ سورة کی طرف ہے، فزادتہم میں زادت کا فاعل اس میں شاملھی کی ضمیر ہے جو سورة کے لیے ہے،
Ayah 9:125وَاَمَّا الَّذِيْنَ [اور جو لوگ وہ ہیں ] فِيْ قُلُوْبِهِمْ [ جن کے دلوں میں ] مَّرَضٌ [ ایک روگ ہے ] فَزَادَتْھُمْ [ تو اس نے زیادہ کی ان کو ] رِجْسًا [ بلحاظ گندگی کے ] اِلٰى رِجْسِهِمْ [ ان کی (سابقہ ) گندگی کی طرف ] وَمَاتُوْا [ اور وہ مرے ] وَ [ اس حال میں کہ ] ھُمْ [ وہ لوگ ] كٰفِرُوْنَ [ کفر کرنے والے تھے ]
Ayah 9:126اَوَ [ اور کیا ] لَا يَرَوْنَ [ وہ لوگ غور نہیں کرتے ] اَنَّھُمْ [ کہ وہ ] يُفْتَنُوْنَ [ آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں ] فِيْ كُلِّ عَامٍ [ ہر سال ] مَّرَّةً [ ایک بار ] اَوْ [ یا ] مَرَّتَيْنِ [ دو بار ] ثُمَّ [ پھر (بھی) لَا يَتُوْبُوْنَ [ وہ لوگ توبہ نہیں کرتے ] وَلَا ھُمْ [ اور نہ ہی وہ لوگ ] يَذَّكَّرُوْنَ [ نصیحت حاصل کرتے ]
Ayah 9:127وَاِذَا مَآ [ اور جب کبھی بھی ] اُنْزِلَتْ [ اتاری جاتی ہے ] سُوْرَةٌ [ کوئی سورة ] نَّظَرَ [تو دیکھتے ہیں ] بَعْضُھُمْ [ ان کے بعض ] اِلٰى بَعْضٍ ۭ [ بعض کی طرف ] هَلْ يَرٰىكُمْ [ (پھر وہ کہتے ہیں ] کیا دیکھتا ہے تم لوگوں کو ] مِّنْ اَحَدٍ [ کوئی ایک بھی ] ثُمَّ [ پھر ] انْصَرَفُوْا ۭ [ وہ پلٹ جاتے ہیں ] صَرَفَ [ پھیرا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] قُلُوْبَھُمْ [ ان کے دلوں کو ] بِاَنَّھُمْ [ بسبب اس کے کہ وہ لوگ ] قَوْمٌ [ ایک ایسی قوم ہیں جو ] لَّا يَفْقَهُوْنَ [ سوجھ بوجھ نہیں رکھتے ]
(آیت ۔ 127) ھل یراکم سے پہلے فیقول محذوف ہے۔
Ayah 9:128لَقَدْ جَاۗءَكُمْ [ بیشک آگیا ہے تم لوگوں کے پاس ] رَسُوْلٌ [ ایک ایسا رسول ] مِّنْ اَنْفُسِكُمْ [تمھارے اپنوں میں سے ] عَزِيْزٌ [گراں ہے ] عَلَيْهِ [ جس پر ] مَا [ وہ جس سے ] عَنِتُّمْ [ تم لوگ مشکل میں پڑو ] حَرِيْصٌ [ شدید خواہشمند ہے ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر (اس کا جو تمہیں خوش کرے ) ] بِالْمُؤْمِنِيْنَ [ مومنوں پر ] رَءُوْفٌ [ نہایت شفیق ہے ] رَّحِيْمٌ [ ہمیشہ مہربان ہے ]
(آیت ۔ 128) اس آیت میں تین جملہ اسمیہ آئے ہیں ، پہلے جملہ میں عزیز خبر مقدم ہے ، علیہ متعلق خبر اور ما عنتم مبتدا مؤخر ہے ۔ دوسرا جملہ میں حریص خبر مقدم ہے، علیکم متعلق خبر اور اس کا مبتدا محذوف ہے جو ما فرحتم ہوسکتا، تیسرے جملہ میں بالمؤمنین متعلق خبر مقدم ، رء وف رحیم خبر اور اس کا مبتدا ھو محذوف ہے ۔
Ayah 9:129فَاِنْ [ پھر (بھی) اگر ] تَوَلَّوْا [ وہ لوگ منھ موڑیں ] فَقُلْ [ تو آپ کہہ دیں ] حَسْبِيَ اللّٰهُ [ مجھے کافی ہے اللہ ] لَآ اِلٰهَ [ کوئی الہ نہیں ہے ] اِلَّا [ مگر ] ھُوَ ۭ [وہ (ہی) ] عَلَيْهِ [ اس پر ہی ] تَوَكَّلْتُ [ میں نے بھروسہ کیا ] وَھُوَ [ اور وہ ] رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ [عظیم عرش کا مالک ہے ]
نوٹ ۔ 1: آخری دو آیتیں یعنی آیت نمبر 128 حضرت ابی بن کعب اور حضرت ابن عباس کے قول کے مطابق ، قرآن کی آخری آیتیں ہیں ۔ ان کے بعد کوئی آیت نازل نہیں ہوئی اور رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوگئی ۔ حضرت ابوالدرداء فرماتے ہیں کہ جو شخص صبح وشام یہ آیتیں سات مرتبہ پڑھ لیا کرے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے کام آسان فرما دیتے ہیں ۔ (معارف القرآن )