9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 9:41

اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا وَّ جَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 9:41 in the Quran reader

نکلو، خواہ ہلکے ہو یا بوجھل، اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ، یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو

اِنْفِرُوْا [ تم لوگ نکلو ] خِفَافًا [ ہلکے ہوتے ہوئے ] وَّثِــقَالًا [ اور بوجھل ہوتے ہوئے ] وَّجَاهِدُوْا [ اور جدوجہد کرو ] بِاَمْوَالِكُمْ [ اپنے مالوں سے ] وَاَنْفُسِكُمْ [ اور اپنی جانوں سے ] فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کی راہ میں ] ذٰلِكُمْ [ یہ ] خَيْرٌ [ بہتر ہے ] لَّكُمْ [ تمہارے لیے ] اِنْ [ اگر ] كُنْتُمْ [ اور بوجھل ہوتے ہوئے ] تَعْلَمُوْنَ [ جانتے ہو ]
Ayah 9:42

لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِیْبًا وَّ سَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوْكَ وَ لٰكِنْۢ بَعُدَتْ عَلَیْهِمُ الشُّقَّةُ١ؕ وَ سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ١ۚ یُهْلِكُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ۠ Open ayah 9:42 in the Quran reader

اے نبیؐ، اگر فائدہ سہل الحصول ہوتا اور سفر ہلکا ہوتا تو وہ ضرور تمہارے پیچھے چلنے پر آمادہ ہو جاتے، مگر ان پر تو یہ راستہ بہت کٹھن ہو گیا اب وہ خدا کی قسم کھا کھا کر کہیں گے کہ اگر ہم چل سکتے تو یقیناً تمہارے ساتھ چلتے وہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں

لَوْ [ اگر ] كَانَ [ وہ ہوتا ] عَرَضًا قَرِيْبًا [ کوئی قریبی سامان ] وَّسَفَرًا قَاصِدًا [ اور کوئی درمیانی سفر ] لَّاتَّبَعُوْكَ [ تو وہ ضرور پیروی کرتے آپ کی ] وَلٰكِنْۢ [ اور لیکن ] بَعُدَتْ [ دور ہوا ] عَلَيْهِمُ [ ان پر ] الشُّقَّةُ [ مشکل سفر ] وَسَيَحْلِفُوْنَ [ اور وہ لوگ قسم کھائیں گے ] بِاللّٰهِ [ اللہ کی ] لَوِ [ اگر ] اسْـتَـطَعْنَا [ ہمیں استطاعت ہوتی ] لَخَرَجْنَا [ تو ہم ضرور نکلتے ] مَعَكُمْ ۚ [ تم لوگوں کے ساتھ ] يُهْلِكُوْنَ [ وہ لوگ ہلاکت میں ڈالتے ہیں ] اَنْفُسَهُمْ ۚ [ اپنی جانوں کو ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] يَعْلَمُ [ جانتا ہے ] اِنَّهُمْ [ کہ بیشک وہ لوگ ] لَكٰذِبُوْنَ [ یقینا جھوٹے ہیں ]
Ayah 9:43

عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ١ۚ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ تَعْلَمَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 9:43 in the Quran reader

اے نبیؐ، اللہ تمہیں معاف کرے، تم نے کیوں انہیں رخصت دے دی؟ (تمہیں چاہیے تھا کہ خود رخصت نہ دیتے) تاکہ تم پر کھل جاتا کہ کون لوگ سچے ہیں اور جھوٹوں کو بھی تم جان لیتے

عَفَا [ درگزر کیا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] عَنْكَ ۚ [ آپ سے ] لِمَ [ کیوں ] اَذِنْتَ [ آپ نے اجازت دی ] لَهُمْ [ انھیں ] حَتّٰي [ یہاں تک کہ ] يَتَبَيَّنَ [ واضح ہوجاتے ] لَكَ [ آپ کے لیے ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جنھوں نے ] صَدَقُوْا [ سچ کہا ] وَتَعْلَمَ [ اور آپ جان لیتے ] الْكٰذِبِيْنَ [ جھوٹوں کو ]
Ayah 9:44

لَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:44 in the Quran reader

جو لوگ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو کبھی تم سے یہ درخواست نہ کریں گے کہ انہیں اپنی جان و مال کے ساتھ جہاد کرنے سے معاف رکھا جائے اللہ متقیوں کو خوب جانتا ہے

لَا يَسْتَاْذِنُكَ [ اجازت نہیں مانگتے آپ سے ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جو ] يُؤْمِنُوْنَ [ ایمان لاتے ہیں ] بِاللّٰهِ [ اللہ پر ] وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ [ اور آخری دن پر ] اَنْ [ کہ ] يُّجَاهِدُوْا [ کہ وہ جہاد (نہ) کریں ] بِاَمْوَالِهِمْ [ اپنے مالوں سے ] وَاَنْفُسِهِمْ ۭ [ اور اپنی جانوں سے ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] عَلِيْمٌۢ [ جاننے والا ] بِالْمُتَّقِيْنَ [ تقوی کرنے والوں کو ]
Ayah 9:45

اِنَّمَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ ارْتَابَتْ قُلُوْبُهُمْ فَهُمْ فِیْ رَیْبِهِمْ یَتَرَدَّدُوْنَ Open ayah 9:45 in the Quran reader

ایسی درخواستیں تو صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو اللہ اور روز آخر پر ایمان نہیں رکھتے، جن کے دلوں میں شک ہے اور وہ اپنے شک ہی میں متردد ہو رہے ہیں

اِنَّمَا [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] يَسْـتَاْذِنُكَ [ اجازت مانگتے ہیں آپ سے ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جو ] لَا يُؤْمِنُوْنَ [ ایمان نہیں لاتے ] بِاللّٰهِ [ اللہ پر ] وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ [ اور آخری دن پر ] وَارْتَابَتْ [ اور شک میں پڑے ] قُلُوْبُهُمْ [ ان کے دل ] فَهُمْ [ تو وہ لوگ ] فِيْ رَيْبِهِمْ [ اپنے شبہ میں ] يَتَرَدَّدُوْنَ [ ڈانوا ڈول رہتے ہیں ]
Ayah 9:46

وَ لَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَهٗ عُدَّةً وَّ لٰكِنْ كَرِهَ اللّٰهُ انْۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَ قِیْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:46 in the Quran reader

اگر واقعی ان کا ارادہ نکلنے کا ہوتا تو وہ اس کے لیے کچھ تیاری کرتے لیکن اللہ کو ان کا اٹھنا پسندہی نہ تھا، اس لیے اس نے انہیں سست کر دیا اور کہہ دیا کہ بیٹھ رہو بیٹھنے والوں کے ساتھ

وَلَوْ [ اور اگر ] اَرَادُوا [ وہ ارادہ رکھتے ] الْخُرُوْجَ [ نکلنے کا ] لَاَعَدُّوْا [ تو ضرور تیار کرتے ] لَهٗ [ اس کے لیے ] عُدَّةً [ کچھ سامان ] وَّلٰكِنْ [ اور لیکن ] كَرِهَ [ ناپسند کیا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] انْۢبِعَاثَهُمْ [ ان کے اٹھنے کو ] فَثَبَّطَهُمْ [ تو اس نے چپکا کے رکھ دیا ان کو ] وَقِيْلَ [ اور ان سے کہا گیا ] اقْعُدُوْا [ کہ تم لوگ بیٹھو ] مَعَ الْقٰعِدِيْنَ [ بیٹھنے والوں کے ساتھ ] ث ب ط : (ن) ثبطا ۔ کسی کو کسی کام سے باز رکھنا ۔ روک دینا ۔ (تفعیل ) تشبیطا ۔ بالکل یا قطعی طور پر روک دینا ۔ ہلنے نہ دینا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 46 ۔ نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 46 میں ہے کہ غزوہ تبوک میں شرکت کے لیے منافقوں کا اٹھنا اللہ نے پسند نہیں کیا ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ جہاد کے جذبے سے خالی تھے اور دین کی سربلندی کے لیے جانفشانی کرنے کی ان کے اندر کوئی خواہش نہیں تھی تو بددلی کے ساتھ یا کسی شرارت کی نیت سے ان کو اٹھنا اللہ کو پسند نہ تھا کیونکہ یہ چیز متعدد خرابیوں کا موجب ہوتی ۔ اگلی آیات میں اسی کی وضاحت ہے ۔ (تفیہم القرآن )
Ayah 9:47

لَوْ خَرَجُوْا فِیْكُمْ مَّا زَادُوْكُمْ اِلَّا خَبَالًا وَّ لَاۡاَوْضَعُوْا خِلٰلَكُمْ یَبْغُوْنَكُمُ الْفِتْنَةَ١ۚ وَ فِیْكُمْ سَمّٰعُوْنَ لَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:47 in the Quran reader

اگر وہ تمہارے ساتھ نکلتے تو تمہارے اندر خرابی کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ کرتے وہ تمہارے درمیان فتنہ پردازی کے لیے دوڑ دھوپ کرتے، اور تمہارے گروہ کا حال یہ ہے کہ ابھی اُس میں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو اُن کی باتیں کان لگا کر سنتے ہیں، اللہ اِن ظالموں کو خوب جانتا ہے

لَوْ [ اگر ] خَرَجُوْا [ وہ لوگ نکلتے ] فِيْكُمْ [ تم میں (یعنی تمہارے ساتھ ) ] مَّا زَادُوْكُمْ [ تو وہ زیادہ نہ کرتے تم کو ] اِلَّا [ مگر ] خَبَالًا [ بلحاظ ذہنی انتشار کے ] وَّلَا۟اَوْضَعُوْا [ اور وہ ضرور دوڑاتے (افواہیں ) ] خِلٰلَكُمْ [ تمہارے درمیان ] يَبْغُوْنَكُمُ [ تلاش کرتے ہوئے تم میں ] الْفِتْنَةَ ۚ [ فتنہ ] وَفِيْكُمْ [ اور تم لوگوں میں ] سَمّٰعُوْنَ [ جاسوس ہیں ] لَهُمْ ۭ [ ان کے لیے ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] عَلِيْمٌۢ [ جاننے والا ہے ] بِالظّٰلِمِيْنَ [ ظالموں کو ] ( آیت ۔ 47) ولا اوضعو میں لائے نفی نہیں ہے ۔ لا میں لام تاکید ہے اور الف زائدہ ہے جو پڑھا نہیں جاتا ۔ (قرآنی رسم الخط کا ایک حصہ ہے )
Ayah 9:48

لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَ قَلَّبُوْا لَكَ الْاُمُوْرَ حَتّٰى جَآءَ الْحَقُّ وَ ظَهَرَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:48 in the Quran reader

اس سے پہلے بھی اِن لوگوں نے فتنہ انگیزی کی کوششیں کی ہیں اور تمہیں ناکام کرنے کے لیے یہ ہر طرح کی تدبیروں کا الٹ پھیر کر چکے ہیں یہاں تک کہ ان کی مرضی کے خلاف حق آ گیا اور اللہ کا کام ہو کر رہا

لَقَدِ ابْتَغَوُا [ بیشک وہ لوگ تلاش کرچکے ہیں ] الْفِتْنَةَ [ فتنہ کو ] مِنْ قَبْلُ [ اس سے پہلے ] وَقَلَّبُوْا [ اور انھوں نے باربار الٹا ] لَكَ [ آپ کے لیے ] [ الْاُمُوْرَ : کئی معاملات ] حَتّٰي [ یہاں تک کہ ] جَاۗءَ [ آیا ] الْحَقُّ [ حق ] وَظَهَرَ [ اور غالب ہوا ] اَمْرُ اللّٰهِ [ اللہ کا حکم ] وَ [ اس حال میں کہ ] هُمْ [ وہ ] كٰرِهُوْنَ [ کراہیت کرنے والے تھے ]
Ayah 9:49

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّیْ وَ لَا تَفْتِنِّیْ١ؕ اَلَا فِی الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:49 in the Quran reader

ان میں سے کوئی ہے جو کہتا ہے کہ "مجھے رخصت دے دیجیے اور مجھ کو فتنے میں نہ ڈالیے" سن رکھو! فتنے ہی میں تو یہ لوگ پڑے ہوئے ہیں اور جہنم نے ان کافروں کو گھیر رکھا ہے

وَمِنْهُمْ مَّنْ [ اور ان میں سے وہ بھی ہیں جو ] يَّقُوْلُ [ کہتے ہیں ] ائْذَنْ لِّيْ [ آپ اجازت دیں مجھے ] وَلَا تَفْتِنِّىْ ۭ [ اور آپ آزمائش میں نہ ڈالیں مجھے ] اَلَا [ سنو !] فِي الْفِتْنَةِ [ آزمائش میں ہی ] سَقَطُوْا ۭ [ وہ لوگ گرے ] وَاِنَّ [ اور یقینا ] جَهَنَّمَ [ جھنم ] لَمُحِيْطَةٌۢ [ ضرور گھیرنے والی ہے ] بِالْكٰفِرِيْنَ [ کافروں کو ] ترکیب : (آیت ۔ 49) لا تفنی میں نون ثقیلہ نہیں ہے ، یہ فعل نہی لا تفتن ہے ۔ اور ضمیر مفعولینی کو اس میں ملا کر لکھا گیا ہے ۔
Ayah 9:50

اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْكَ مُصِیْبَةٌ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَاۤ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَ یَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 9:50 in the Quran reader

تمہارا بھلا ہوتا ہے تو انہیں رنج ہوتا ہے اور تم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یہ منہ پھیر کر خوش خوش پلٹتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں کہ اچھا ہوا ہم نے پہلے ہی اپنا معاملہ ٹھیک کر لیا تھا

اِنْ [ اگر ] تُصِبْكَ [ آن لگے آپ کو ] حَسَنَةٌ [ کوئی اچھائی ] تَسُؤْهُمْ ۚ [ تو وہ بری لگتی ہے ان کو ] وَاِنْ [ اور اگر ] تُصِبْكَ [ آن لگے آپ کو ] مُصِيْبَةٌ [ کوئی مصیبت ] يَّقُوْلُوْا [ تو وہ کہتے ہیں ] قَدْ اَخَذْنَآ [ ہم نے پکڑ (یعنی سنبھال ) لیا ہے ] اَمْرَنَا [ اپنا معاملہ ] مِنْ قَبْلُ [ اس سے پہلے سے ] وَيَتَوَلَّوْا [ اور وہ لوٹتے ہیں ] وَّ [ اس حال میں کہ ] هُمْ [ وہ لوگ ] فَرِحُوْنَ [ اترانے والے ہیں ]
Ayah 9:51

قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا١ۚ هُوَ مَوْلٰىنَا١ۚ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 9:51 in the Quran reader

ان سے کہو "ہمیں ہرگز کوئی (برائی یا بھلائی) نہیں پہنچتی مگر وہ جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دی ہے اللہ ہی ہمارا مولیٰ ہے، اور اہل ایمان کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے"

قُلْ [ آپ کہہ دیجئے ] لَّنْ يُّصِيْبَنَآ [ ہرگز نہیں لگے گا ہم کو ] اِلَّا [ مگر ] مَا [ وہ جو ] كَتَبَ [ لکھا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] لَنَا ۚ [ ہمارے لیے ] هُوَ [ وہ ] مَوْلٰىنَا ۚ [ ہمارا کارساز ہے ] وَعَلَي اللّٰهِ [ اور اللہ پر ہی ] فَلْيَتَوَكَّلِ [ پس چاہیے کہ بھروسہ کریں ] الْمُؤْمِنُوْنَ [ ایمان لانے والے ]
Ayah 9:52

قُلْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحْدَى الْحُسْنَیَیْنِ١ؕ وَ نَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ اَنْ یُّصِیْبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِهٖۤ اَوْ بِاَیْدِیْنَا١ۖ٘ فَتَرَبَّصُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ Open ayah 9:52 in the Quran reader

ان سے کہو، "تم ہمارے معاملہ میں جس چیز کے منتظر ہو وہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ دو بھلائیوں میں سے ایک بھلائی ہے اور ہم تمہارے معاملہ میں جس چیز کے منتظر ہیں وہ یہ ہے کہ اللہ خود تم کو سزا دیتا ہے یا ہمارے ہاتھوں دلواتا ہے؟ اچھا تو اب تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی تمہارے ساتھ منتظر ہیں"

قُلْ [ آپ کہیے ] هَلْ [ کیا ] تَرَبَّصُوْنَ [ تم لوگ انتظار کرتے ہو ] بِنَآ [ ہمارے بارے میں ] اِلَّآ [ سوائے ] اِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ ۭ [ دو بہترین اچھائیوں کی ایک کے ] وَنَحْنُ [ اور ہم ] نَتَرَبَّصُ [ انتظار کرتے ہیں ] بِكُمْ [ تمہارے بارے میں ] اَنْ [ کہ ] يُّصِيْبَكُمُ [ آن لگے تم لوگوں کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] بِعَذَابٍ [ کسی عذاب کے ساتھ ] مِّنْ عِنْدِهٖٓ [ اپنے پاس سے ] اَوْ [ یا ] بِاَيْدِيْنَا ڮ [ ہمارے ہاتھوں سے ] فَتَرَبَّصُوْٓا [ تو انتظار کرو ] اِنَّا [ بیشک ہم ] مَعَكُمْ [ تمہارے ساتھ ] مُّتَرَبِّصُوْنَ [ انتظار کرنے والے ہیں ] (آیت ۔ 52) بنا، مادہ ” ب ن ی “ کا کوئی صیغہ نہیں ہے بلکہ ضمیر نا پر حرف جارہ ب داخل ہوا ہے ۔ الحسنیین ، حسن کا تثنیہ نہیں ہے بلکہ یہ افعل تفضیل حسنی کا تثنیہ ہے ۔
Ayah 9:53

قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا لَّنْ یُّتَقَبَّلَ مِنْكُمْ١ؕ اِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 9:53 in the Quran reader

ان سے کہو "تم اپنے مال خواہ راضی خوشی خرچ کرو یا بکراہت، بہر حال وہ قبول نہ کیے جائیں گے کیونکہ تم فاسق لوگ ہو"

قُلْ [ آپ کہہ دیجیے ] اَنْفِقُوْا [ تم لوگ خرچ کرو ] طَوْعًا [ تابعدار ہوتے ہوئے ] اَوْ [ یا ] كَرْهًا [ ناپسند کرتے ہوئے ] لَّنْ يُّتَقَبَّلَ [ ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا ] مِنْكُمْ ۭ [ تم لوگوں سے ] اِنَّكُمْ كُنْتُمْ [ بیشک تم لوگ ہو ] قَوْمًا [ ایک ایسی قوم جو ] فٰسِقِيْنَ [ نافرمانی کرنے والی ہے ]
Ayah 9:54

وَ مَا مَنَعَهُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقٰتُهُمْ اِلَّاۤ اَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ بِرَسُوْلِهٖ وَ لَا یَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَ هُمْ كُسَالٰى وَ لَا یُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:54 in the Quran reader

ان کے دیے ہوئے مال قبول نہ ہونے کی کوئی وجہ اس کے سوا نہیں ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے کفر کیا ہے، نماز کے لیے آتے ہیں تو کسمساتے ہوئے آتے ہیں اور راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں تو بادل ناخواستہ خرچ کرتے ہیں

وَمَا مَنَعَهُمْ [ اور نہیں روکا ان کو ] اَنْ [ کہ ] تُقْبَلَ [ قبول کیا جائے ] مِنْهُمْ [ ان سے ] نَفَقٰتُهُمْ [ ان کے خرچوں کو ] اِلَّآ [ سوائے اس کے ] اَنَّهُمْ [ کہ انھوں نے ] كَفَرُوْا [ انکار کیا ] بِاللّٰهِ [ اللہ کا ] وَبِرَسُوْلِهٖ [ اور اس کے رسول کا ] وَلَا يَاْتُوْنَ [ اور وہ نہیں آتے ] الصَّلٰوةَ [ نماز کے پاس ] اِلَّا [ مگر ] وَ [ اس حال میں کہ ] هُمْ [ وہ ] كُسَالٰى [ انتہائی کاہل ہیں ] وَلَا يُنْفِقُوْنَ [ اور وہ خرچ نہیں کرتے ] اِلَّا [ مگر ] وَ [ اس حال میں کہ ] هُمْ [ وہ ] كٰرِهُوْنَ [ کراہیت کرنے والے ہیں ]
Ayah 9:55

فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:55 in the Quran reader

اِن کے مال و دولت اور ان کی کثرت اولاد کو دیکھ کر دھوکہ نہ کھاؤ، اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ اِنہی چیزوں کے ذریعہ سے ان کو دنیا کی زندگی میں بھی مبتلائے عذاب کرے اور یہ جان بھی دیں تو انکار حق ہی کی حالت میں دیں

فَلَا تُعْجِبْكَ [ تو چاہیے کہ حیرت میں نہ ڈالیں آپ کو ] اَمْوَالُهُمْ [ ان کے اموال ] وَلَآ اَوْلَادُهُمْ ۭ [ اور نہ ہی ان کی اولاد ] اِنَّمَا [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] يُرِيْدُ [ چاہتا ہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] لِيُعَذِّبَهُمْ [ کہ وہ عذاب دے ان کو ] بِهَا [ ان سے ] فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا [ دنیوی زندگی میں ] وَتَزْهَقَ [ اور نکلیں ] اَنْفُسُهُمْ [ ان کی جانیں ] وَ [ اس حال میں کہ ] هُمْ [ وہ ] كٰفِرُوْنَ [ کفر کرنے والے ہوں ] زھ ق : (ف) زھقا ۔ روح کا جسم سے نکل جانا ۔ کسی چیز کا مٹ جانا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 55 ۔ زاھق ۔ اسم الفاعل ہے ۔ جانے والا ۔ مٹنے والا۔ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ [ تو جب ہی وہ مٹنے والا ہے ] 21:18 ۔ زھوق ۔ فعول کے وزن پر مبالغہ ہے ۔ بےانتہا مٹنے والا ۔ نیست ونابود ہونے والا ۔ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا [ یقینا باطل ہے ہی نیست ونابود ہونے والا ] 17:81 ۔ (آیت ۔ 55) لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا میں ھا کی ضمیر اموالہم اور اولادہم کے لیے ہے۔ نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 55 سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ منافقوں اور کافروں کو مال و دولت سے اس دنیا میں بھی عذاب دیتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کی محبت میں انہماک انسان کے لیے اس دنیا ہی میں ایک عذاب اور مصیبت بن جاتا ہے ۔ دولت حاصل کرنے کے لیے کیسی کیسی محنت ومشقت اور جسمانی وجذباتی کوفت اٹھانی پڑتی ہے کہ نہ دن کو چین نہ رات کی نیند ، نہ اپنے تن بدن کی خبر اور نہ اپنے بیوی بچوں میں دل بہلانے کی فرصت ، پھر اگر دولت حاصل ہوگئی تو اس کو بڑھانے کی فکر بھی دن رات کا ایک عذاب ہے اور اگر ذرا سانقصان ہوجائے تو غموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے اور اگر ساری چیزیں خواہش کے مطابق حاصل ہوجائیں تو اس کے گھٹ جانے کا اندیشہ ایک مستقل عذاب ہے ۔ یہ سب عذاب ہی عذاب ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بیوقوف انسان نے راحت کے سامان کو ہی راحت سمجھ لیا ہے اور حقیقی راحت یعنی قلبی سکون و اطمینان کی اس کو ہوا بھی نہیں لگی ۔ اس لیے وہ سامان راحت کو ہی راحت سمجھ کر اس میں مگن رہتا ہے جو حقیقت میں اس کے لیے دنیا کے چین و آرام کا بھی دشمن ہے اور آخرت کے عذاب کا مقدمہ بھی ہے ۔ (معارف القرآن )
Ayah 9:56

وَ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ یَّفْرَقُوْنَ Open ayah 9:56 in the Quran reader

وہ خدا کی قسم کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم تمہی میں سے ہیں، حالانکہ وہ ہرگز تم میں سے نہیں ہیں اصل میں تو وہ ایسے لوگ ہیں جو تم سے خوف زدہ ہیں

وَيَحْلِفُوْنَ [ اور وہ قسمیں کھاتے ہیں ] بِاللّٰهِ [ اللہ کی ] اِنَّهُمْ [ کہ وہ ] لَمِنْكُمْ ۭ [ ضرور تم میں سے ہیں ] وَمَا هُمْ [ اور وہ نہیں ہیں ] مِّنْكُمْ [ تم میں سے ] وَلٰكِنَّهُمْ [ اور لیکن وہ ] قَوْمٌ [ ایک ایسی قوم ہیں جو ] يَّفْرَقُوْنَ [ ڈرتے ہیں ]
Ayah 9:57

لَوْ یَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوْا اِلَیْهِ وَ هُمْ یَجْمَحُوْنَ Open ayah 9:57 in the Quran reader

اگر وہ کوئی جائے پناہ پالیں یا کوئی کھوہ یا گھس بیٹھنے کی جگہ، تو بھاگ کر اُس میں جا چھپیں

لَوْ [ اگر ] يَجِدُوْنَ [ وہ لوگ پائیں ] مَلْجَاً [ کوئی پناہ گاہ ] اَوْ مَغٰرٰتٍ [ یا کچھ غار ] اَوْ مُدَّخَلًا [ یا کوئی گھسنے کی جگہ ] لَّوَلَّوْا [ تو ضرور لوٹیں گے ] اِلَيْهِ [ اس کی طرف ] وَ [ اس حال میں کہ ] هُمْ [ وہ ] يَجْمَحُوْنَ [ سرکشی کرتے ہوں ] ل ج ء : (ف) لجئا ۔ کسی جگہ میں پناہ لینا ۔ ملجا ۔ اسم الظرف ہے۔ پناہ لینے کی جگہ ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 57 ۔ ج م ح : (ف) جمحا : گھوڑے کا سوار کے قابو سے باہر ہونا ۔ سرکش ہونا۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 57 ۔
Ayah 9:58

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّلْمِزُكَ فِی الصَّدَقٰتِ١ۚ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْهَا رَضُوْا وَ اِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْهَاۤ اِذَا هُمْ یَسْخَطُوْنَ Open ayah 9:58 in the Quran reader

اے نبیؐ، ان میں سے بعض لوگ صدقات کی تقسیم میں تم پر اعتراضات کرتے ہیں اگر اس مال میں سے انہیں کچھ دے دیا جائے تو خو ش ہو جائیں، اور نہ دیا جائے تو بگڑنے لگتے ہیں

وَمِنْهُمْ مَّنْ [ اور ان میں وہ بھی ہیں جو ] يَّلْمِزُكَ [ نکتہ چینی کرتے ہیں آپ پر ] فِي الصَّدَقٰتِ ۚ [ صدقات (کے بارے ) میں ] فَاِنْ [ پھر اگر ] اُعْطُوْا [ عطا کیا جائے ان کو ] مِنْهَا [ ان میں سے ] رَضُوْا [ تو وہ راضی ہوں ] وَاِنْ [ اور اگر ] لَّمْ يُعْطَوْا [ عطا نہ کیا جائے ان کو ] مِنْهَآ [ ان میں سے ] اِذَا [ تو جب ہی ] هُمْ [ وہ ] يَسْخَطُوْنَ [ غصہ کرتے ہیں ] ل م ز : (ض) لمزا ۔ عیب جوئی کرنا ۔ نکتہ چینی کرنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 58 ۔ لمزۃ ۔ صفت ہے اور اس پر تائے مبالغہ ہے۔ بہت عیب جوئی کرنے والا ۔ وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ [ تباہی سے ہر ایک غیبت کرنے والے عیب جوئی کرنے والے کی ] 104: 1 ۔
Ayah 9:59

وَ لَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١ۙ وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَ رَسُوْلُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِلَى اللّٰهِ رٰغِبُوْنَ۠ Open ayah 9:59 in the Quran reader

کیا اچھا ہوتا کہ اللہ اور رسولؐ نے جو کچھ بھی انہیں دیا تھا اس پر وہ راضی رہتے اور کہتے کہ "اللہ ہمارے لیے کافی ہے، وہ اپنے فضل سے ہمیں بہت کچھ دے گا اور اس کا رسول بھی ہم پر عنایت فرمائے گا، ہم اللہ ہی کی طرف نظر جمائے ہوئے ہیں"

وَلَوْ [ اور اگر ] اَنَّهُمْ [ یہ کہ وہ لوگ ] رَضُوْا [ راضی ہوتے ] مَآ [ اس سے جو ] اٰتٰىهُمُ [ دیا ان کو ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] وَرَسُوْلُهٗ ۙ [ اور اس کے رسول نے ] وَقَالُوْا [ اور وہ کہتے ] حَسْبُنَا [ کافی ہے ہم کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] سَـيُؤْتِيْنَا [ دے گا ہم کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] مِنْ فَضْلِهٖ [ اپنے فضل سے ] وَرَسُوْلُهٗٓ ۙ [ اور اس کا رسول بھی ] اِنَّآ [ بیشک ہم ] اِلَى اللّٰهِ [ اللہ کی طرف ہی ] رٰغِبُوْنَ [ رغبت کرنے والے ہیں ]
Ayah 9:60

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:60 in the Quran reader

یہ صدقات تو دراصل فقیروں اور مسکینوں کے لیے ہیں اور اُن لوگوں کے لیے جو صدقات کے کام پر مامور ہوں، اور اُن کے لیے جن کی تالیف قلب مطلوب ہو نیز یہ گردنوں کے چھڑانے اور قرض داروں کی مدد کرنے میں اور راہ خدا میں اور مسافر نوازی میں استعمال کرنے کے لیے ہیں ایک فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور دانا و بینا ہے

اِنَّمَا [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] الصَّدَقٰتُ [ صدقات ] لِلْفُقَرَاۗءِ [ فقیروں کے لیے ہیں ] وَالْمَسٰكِيْنِ [ اور مسکینوں کے لیے ہیں ] وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا [ اور اس پر کام کرنے والوں کے لیے ہیں ] وَالْمُؤَلَّفَةِ [ اور جوڑا ہوا ہونے کے لیے ہیں ] قُلُوْبُهُمْ [ ان کے دلوں کو ] وَفِي الرِّقَابِ [ اور گردنوں (کو چھڑانے ) میں ] وَالْغٰرِمِيْنَ [ اور تاوان میں پھنسنے والوں کے لیے ہیں ] وَفِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ [ اور اللہ کی راہ میں ( خرچ ) کے لیے ہیں ] وَابْنِ السَّبِيْلِ ۭ [ اور مسافروں کے لیے ہیں ] فَرِيْضَةً [ فرض ہوتے ہوئے ] مِّنَ اللّٰهِ ۭ [ اللہ (کی طرف ) سے ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] عَلِيْمٌ [ جاننے والا ہے ] حَكِيْمٌ [ حکمت والا ہے ] غ ر م ۔ (س) :ـ غرما ۔ (1) کسی چیز کا کسی سے چمٹ جانا ۔ (2) کسی جرم یا غلطی کے بغیر نقصان میں پھنسنا ۔ مفت کے تاوان میں پڑنا ۔ غرام ۔ اسم ذات ہے ۔ چمٹ جانے والی چیز ۔ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا (بیشک اس کا عذاب چمٹنے والی چیز ہے ] 25:65 ۔ مغرم ۔ اسم الظرف کا وزن مفعل ہے لیکن اسم ذات کے طور پر استعمال ہوتا ہے ۔ تاوان ۔ چٹی ۔ وَمِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ يَّتَّخِذُ مَا يُنْفِقُ مَغْرَمًا [ اور دیہاتیوں میں وہ بھی ہیں جو بناتے ہیں یعنی سمجھتے ہیں اس کو جو وہ خرچ کرتے ہیں ایک چٹی ] 8:98 ۔ غارم ۔ اسم الفاعل ہے ۔ تاوان میں پھنسنے والا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 60 ۔ (افعال ) اغراما ۔ کسی پر تاوان ڈالنا ۔ مغرم ۔ اسم المفعول ہے۔ تاوان ڈالا ہوا ۔ اِنَّا لَمُغْرَمُوْنَ [ بیشک ہم ضرور تاوان ڈالے گئے ہیں ] 56:66 ترکیب : (آیت ۔ 60) المسکین ، العملین ، المؤلفۃ، الغرمین ، اور ابن السبیل ، یہ سب للفقراء کے حرف جر ” ل “ پر عطف ہونے کی وجہ سے حالت جر میں ہیں ۔ المؤلفۃ ، اسم المفعول نے فعل کا عمل کیا ہے ۔ اور قلوبہم اس کا نائب فاعل ہونے کی وجہ سے حالت رفع میں ہے ۔ نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 60 وہ بنیادی آیت ہے جس سے زکوۃ کے احکام وضع کیے گئے ہیں اس کی تفصیل مختلف تفاسیر میں دیکھی جاسکتی ہے ۔ یہاں ہم صرف چند اہم نکات کی نشاندہی کررہے ہیں جو ہم نے معارف القرآن سے اخذ کیے ہیں ۔ ا۔ اگرچہ قرآن مجید کی آیات میں صدقات کا لفظ عام مفہوم میں استعمال ہوا ہے ۔ جس میں واجب یعنی زکوۃ اور نفلی یعنی خیرات ، دونوں طرح کے صدقات شامل ہیں مگر اس آیت میں باجماع صحابہ و تابعین صدقات فرض یعنی زکوۃ ہی کے مصارف کا بیان مراد ہے ۔ نفلی صدقات میں روایات کی تصریحات کی بنا پر بہت وسعت ہے اور وہ ان آٹھ مصارف میں منحصر نہیں ہیں جن کا اس آیت میں ذکر ہے۔ 2 ۔ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں زکوۃ میں سے کچھ مانگنے کے لیے حاضر ہوا تو آپ نے اسے جواب دیا کہ صدقات کی تقسیم کو اللہ تعالیٰ نے کسی نبی یا غیر نبی کے حوالہ نہیں کیا بلکہ خود ہی اس کے آٹھ مصرف متعین فرما دیے ہیں ۔ اگر تم ان میں داخل ہو تو تمہیں دے سکتا ہوں ۔ (اس سے ثابت ہوگیا کہ زکوۃ کے مصارف کے ضمن میں ” اجتہاد “ کا دروازہ ہمیشہ سے بند ہے ۔ روشن خیال اور ترقی پسند مسلمانوں کو خواہ کتنا ہی برا لگے ۔ مرتب ) ۔ زکوٰۃ کے مصرف معین کرنے کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے ذریعے زکوۃ کے نصاب اور ہر نصاب میں سے مقدار زکوۃ ہمیشہ کے لیے متعین کرکے بتا دیے اور آپ نے اسے صرف زبانی بتانے پر کفایت نہیں فرمائی بلکہ اس کے مفصل فرمان لکھوا کر حضرت عمر ؓ اور حضرت عمر و بن حزم ؓ کے سپرد فرمائے ۔ 3 ۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ ہر مذہب والے پر صدقہ کرو ۔ اور لیے نفلی صدقات غیر مسلموں کو بھی دیے جاسکتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی آپ کی یہ ہدایت بھی ہے کہ زکوۃ صرف مسلمانوں کے اغنیاء سے لی جائے اور ان ہی کے فقراء پر صرف کی جائے ۔ اس لیے زکوۃ غیر مسلموں کو نہیں دی جاسکتی ۔ 4 ۔ آج کل اسلامی مدارس اور انجمنوں کے مہتمم یا ان کی طرف سے بھیجے ہوئے سفیر صدقات زکوۃ وغیرہ مدارس اور انجمنوں کے لیے وصول کرتے ہیں ۔ ان کا وہ حکم نہیں جو عاملین صدقہ کا اس آیت میں مذکور ہے ، ان کو مدارس اور انجمن کی طرف سے جداگانہ تنخواہ دینا ضروری ہے۔ زکوۃ کی رقم سے ان کو تنخواہ نہیں دی جاسکتی ۔ 5 ۔ زکوۃ کا ایک مصرف مولفتہ القلوب ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی دلجوئی کے لیے زکوۃ سے حصہ دیا جاتا تھا ۔ ایک خیال یہ ہے کہ اس میں مسلم اور غیر مسلم دونوں طرح کے لوگ تھے ۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد جب اسلام کو قوت حاصل ہوگئی تو اس طرح کی تدبیروں کی ضرورت نہ رہی اور مصلحت ختم ہوگئی ۔ اس لیے ایسے لوگوں کا حصہ بھی ختم ہوگیا ۔ اس کو بعض فقہا نے اس مصرف کے منسوخ ہوجانے سے تعبیر کیا ہے۔ لیکن اکثریت کی رائے یہ ہے کہ مؤلفتہ القلوب کا مصرف منسوخ نہیں ہوا۔ حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں اس کو ساقط کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ضرورت باقی نہ رہنے کی وجہ سے لوگوں کا حصہ ساقط کیا گیا تھا لیکن کسی زمانہ میں پھر ایسی ضرورت پیش آجائجے تو پھر دیا جاسکتا ہے ۔ یہ خیال درست نہیں ہے کہ اس مصرف میں غیر مصرف میں غیر مسلموں کو بھی دیا گیا تھا ۔ امام قرطبی نے اپنی تفسیر میں ان سب لوگوں کے نام دیے ہیں جن کی دلجوئی کے لیے رسول اللہ ﷺ نے زکوۃ سے حصہ دیا تھا ۔ یہ سب کے سب مسلمان تھے ، ان میں کوئی کافر شامل نہیں تھا ۔ مسلم اور ترمذی کی روایت میں یہ ہے کہ آپ نے صفوان بن امیہ کو کافر ہونے کے زمانہ میں کچھ عطیات دیے تھے۔ لیکن یہ عطیات زکوۃ کے مال سے نہ تھے بلکہ غزوہ حنین کے مال غنیمت کا جو خمس بیت المال میں داخل ہوا تھا ، اس میں سے دیے گئے تھے ۔ 6 ۔ ہر وہ شخص جو کوئی نیک کام یا عبادت کرنا چاہتا ہے اور اس میں مال کی ضرورت ہے تو وہ بھی فی سبیل اللہ میں داخل ہے بشرطیکہ اس کے پاس اتنا مال نہ ہو جس سے اس کام کو پورا کرسکے ۔ جیسے دین کی تعلیم و تبلیغ اور اس کی نشرواشاعت ، لیکن کچھ لوگوں نے لفظ ” فی سبیل اللہ “ دیکھ کر زکوۃ کے مصارف میں ان تمام کاموں کو داخل کردیا جو کسی حیثیت سے نیکی یا عبادت ہیں جیسے مساجد ، مدارس ، شفاخانوں میں وغیرہ کی تعمیر ، کنویں ، پل اور سڑکیں بنانا ، رفاہی اداروں کے ملازمین کی تنخواہیں وغیرہ ، یہ سراسر غلط اور اجماع امت کے خلاف ہے ۔ اگر زکوۃ کے مصرف میں اتنا عموم ہوتا کہ تمام طاعات و عبادات اور ہر قسم کی نیکی پر خرچ کرنا اس میں داخل ہو تو پھر قرآن میں آٹھ مصرفوں کا بیان بالکل فضول ہوجاتا ہے ۔ معلوم ہوا کہ فی سبیل اللہ کے لغوی ترجمہ سے ناواقف لوگوں کو جو عموم سمجھ میں آتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی مراد نہیں ہے بلکہ وہ ہے رسول اللہ ﷺ کے بیان اور صحابہ کرام کی تصریحات سے ثابت ہے۔ 7 ۔ جمہور فقہا اس پر متفق ہیں کہ زکوۃ کے آٹھ مصارف میں بھی زکوۃ کی ادائیگی کے لیے یہ شرط ہے کہ کسی مستحق کو مال زکوۃ پر مالکانہ قبضہ دیا جائے ۔ اس کے بغیر زکوۃ ادا نہیں ہوگی ۔ اسی وجہ سے جمہور فقہا پر اس پر متفق ہیں کہ مساجد ، مدارس وغیرہ کی تعمیر پر یا ان کی دوسری ضروریات پر زکوۃ خرچ کرنا جائز نہیں ہے۔ البتہ یتیم خانوں میں اگر یتیموں کا کھانا ، کپڑا وغیرہ مالکانہ حیثیت سے دیا جائے تو اس حد تک زکوۃ کی رقم خرچ ہوسکتی ہے ۔ اسی طرح سے شفاخانوں میں جو دوا غرباء کو مالکانہ حیثیت دی جائے ، اس کی قیمت رقم زکوۃ میں محسوب ہوسکتی ہے۔ لیکن لاوارث میت کا کفن رقم زکوۃ سے نہیں لگا یا جاسکتا ، کیونکہ میت میں مالک ہونے کی صلاحیت نہیں ہے۔
Ayah 9:61

وَ مِنْهُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ١ؕ قُلْ اُذُنُ خَیْرٍ لَّكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ یُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:61 in the Quran reader

ان میں سے کچھ لوگ ہیں جو اپنی باتوں سے نبی کو دکھ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص کانوں کا کچا ہے کہو، "وہ تمہاری بھلائی کے لیے ایسا ہے، اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور اہل ایمان پر اعتماد کرتا ہے اور سراسر رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو تم میں سے ایماندار ہیں اور جو لوگ اللہ کے رسول کو دکھ دیتے ہیں ان کے لیے دردناک سزا ہے"

وَمِنْهُمُ الَّذِيْنَ [ اور ان میں وہ بھی ہیں جو ] يُؤْذُوْنَ [ ایذا پہنچاتے ہیں ] النَّبِيَّ [ ان نبی کو ] وَيَقُوْلُوْنَ [ اور وہ کہتے ہیں ] هُوَ [ وہ ] اُذُنٌ ۭ [ ایک کان ہیں ] قُلْ [ آپ کہیے ] اُذُنُ خَيْرٍ [ خیرکا کان ہے ] لَّكُمْ [ تمہارے لیے ] يُؤْمِنُ [ وہ ایمان رکھتے ہیں ] بِاللّٰهِ [ اللہ پر ] وَيُؤْمِنُ [ اور وہ بات مانتے ہیں ] لِلْمُؤْمِنِيْنَ [ مومنوں کی ] وَرَحْمَةٌ [ اور رحمت ہیں ] لِّلَّذِيْنَ [ ان کے لیے جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] مِنْكُمْ ۭ [ تم میں سے ] وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جو ] يُؤْذُوْنَ [ ایذا پہنچاتے ہیں ] رَسُوْلَ اللّٰهِ [ اللہ کے رسول کو ] لَهُمْ [ ان کے لیے ] عَذَابٌ اَلِيْمٌ [ ایک درد ناک عذاب ہے ] (آیت ۔ 61) ۔ اذن مضاف اور خبر اس کا مضاف الیہ ہے ۔ مومن کی ضمیر فاعلی النبی کے لیے ہے۔
Ayah 9:62

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ لِیُرْضُوْكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْهُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:62 in the Quran reader

یہ لوگ تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تمہیں راضی کریں، حالانکہ اگر یہ مومن ہیں تو اللہ اور رسول اس کے زیادہ حق دار ہیں کہ یہ ان کو راضی کرنے کی فکر کریں

يَحْلِفُوْنَ [ وہ لوگ قسم کھاتے ہیں ] بِاللّٰهِ [ اللہ کی ] لَكُمْ [ تم سے ] لِيُرْضُوْكُمْ ۚ [ تاکہ وہ راضی کریں تم کو ] وَ [ حالانکہ ] اللّٰهُ [ اللہ ] وَرَسُوْلُهٗٓ [ اور اس کا رسول ] اَحَقُّ [ زیادہ حقدار ہیں ] اَنْ [ کہ ] يُّرْضُوْهُ [ وہ راضی کریں ان کو ] اِنْ [ اگر ] كَانُوْا [ وہ ہیں ] مُؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والے ] (آیت ۔ 62) ۔ ان یرضوہ میں ضمیر مفعولی واحدلا کر ظاہر کیا گیا ہے کہ اللہ کا حق اور اس کے رسول کا حق ایک ہی بات ہے ۔
Ayah 9:63

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّهٗ مَنْ یُّحَادِدِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْخِزْیُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:63 in the Quran reader

کیا انہیں معلوم نہیں ہے کہ جو اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرتا ہے اس کے لیے دوزخ کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا یہ بہت بڑی رسوائی ہے

اَ [ کیا ] لَمْ يَعْلَمُوْٓا [ انھوں نے نہیں جانا ] اَنَّهٗ [ کہ حقیقت یہ ہے کہ ] مَنْ [ جو ] يُّحَادِدِ [ مخالفت کرتا ہے ] اللّٰهَ [ اللہ کی ] وَرَسُوْلَهٗ [ اور اس کے رسول کی ] فَاَنَّ [ تو یہ کہ ] لَهٗ [ اس کے لیے ] نَارَ جَهَنَّمَ [ جھنم کی آگ ہے ] خَالِدًا [ ہمیشہ رہنے والا ہوتے ہوئے ] فِيْهَا ۭ [ اس میں ] ذٰلِكَ [ یہ ] الْخِزْيُ الْعَظِيْمُ [ ہی بڑی رسوائی ہے ] (آیت ۔ 63) انہ ضمیر الشان ہے۔
Ayah 9:64

یَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْهِمْ سُوْرَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلِ اسْتَهْزِءُوْا١ۚ اِنَّ اللّٰهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ Open ayah 9:64 in the Quran reader

یہ منافق ڈر رہے ہیں کہ کہیں مسلمانوں پر کوئی ایسی سورت نازل نہ ہو جائے جو ان کے دلوں کے بھید کھول کر رکھ دے اے نبیؐ، ان سے کہو، "اور مذاق اڑاؤ، اللہ اُس چیز کو کھول دینے والا ہے جس کے کھل جانے سے تم ڈرتے ہو"

يَحْذَرُ [ ڈرتے ہیں ] الْمُنٰفِقُوْنَ [ منافق لوگ ] اَنْ [ کہ ] تُنَزَّلَ [ اتاری جائے ] عَلَيْهِمْ [ ان (مومنوں ) پر ] سُوْرَةٌ [ کوئی سورة ] تُنَبِّئُهُمْ [ جو خبر دے ان کو ] بِمَا [ اس کی جو ] فِيْ قُلُوْبِهِمْ ۭ [ ان (منافقوں ) کے دلوں میں ہے ] قُلِ [ آپ کہیے ] اسْتَهْزِءُوْا ۚ [ مذاق اڑالو ] اِنَّ اللّٰهَ [ یقینا اللہ ] مُخْرِجٌ [ نکالنے والا ہے ] مَّا [ اس کو جس سے ] تَحْذَرُوْنَ [ تم لوگ ڈرتے ہو ] (آیت ۔ 64) علیہم اور تنبئہم میں ھم کی ضمیریں مومنوں کے لیے ہیں جبکہ قلوبہم کی ضمیر منافقوں کے لیے ہے۔
Ayah 9:65

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ١ؕ قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 9:65 in the Quran reader

اگر ان سے پوچھو کہ تم کیا باتیں کر رہے تھے، تو جھٹ کہہ دیں گے کہ ہم تو ہنسی مذاق اور دل لگی کر رہے تھے ان سے کہو، "کیا تمہاری ہنسی دل لگی اللہ اور اُس کی آیات اور اس کے رسول ہی کے ساتھ تھی؟

وَلَىِٕنْ [ اور بیشک اگر ] سَاَلْتَهُمْ [ آپ پوچھیں ان سے ] لَيَقُوْلُنَّ [ تو یہ لازما کہیں گے ] اِنَّمَا [ کچھ نہیں ] كُنَّا نَخُوْضُ [ ہم تو بس گپ شپ کرتے تھے ] وَنَلْعَبُ ۭ [ اور کھیلتے تھے ] قُلْ [ آپ کہیے ] اَ [ کیا ] بِاللّٰهِ [ اللہ سے ] وَاٰيٰتِهٖ [ اور اسکی آیات ] وَرَسُوْلِهٖ [ اور اسکے رسول سے ] كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُ وْنَ [ تم لوگ استھزا کرتے تھے ]
Ayah 9:66

لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ١ؕ اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآئِفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَةًۢ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 9:66 in the Quran reader

اب عذرات نہ تراشو، تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا ہے، اگر ہم نے تم میں سے ایک گروہ کو معاف کر بھی دیا تو دوسرے گروہ کو تو ہم ضرور سزا دیں گے کیونکہ وہ مجرم ہے"

لَا تَعْتَذِرُوْا [ بہانے مت تراشو ] قَدْ كَفَرْتُمْ [ تم لوگ کفر کرچکے ہو ] بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ ۭ [ اپنے ایمان کے بعد ] اِنْ [ اگر ] نَّعْفُ [ ہم درگزر کریں ] عَنْ طَاۗىِٕفَةٍ [ کسی جماعت سے ] مِّنْكُمْ [ تم میں سے ] نُعَذِّبْ [ تو ہم عذاب دیں گے ] طَاۗىِٕفَةًۢ [ کسی جماعت کو ] بِاَنَّهُمْ [ بسبب اس کے کہ وہ لوگ ] كَانُوْا [ تھے ] مُجْرِمِيْنَ [ جرم کرنے والے ]
Ayah 9:67

اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ وَ یَقْبِضُوْنَ اَیْدِیَهُمْ١ؕ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِیَهُمْ١ؕ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 9:67 in the Quran reader

منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک دوسرے کے ہم رنگ ہیں برائی کا حکم دیتے ہیں اور بھلائی سے منع کرتے ہیں اور اپنے ہاتھ خیر سے روکے رکھتے ہیں یہ اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے بھی انہیں بھلا دیا یقیناً یہ منافق ہی فاسق ہیں

اَلْمُنٰفِقُوْنَ [ منافق مرد ] وَالْمُنٰفِقٰتُ [ اور منافق عورتیں ] بَعْضُهُمْ [ ان کے بعض ] مِّنْۢ بَعْضٍ ۘ [ بعض میں سے ہیں (یعنی ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں )] يَاْمُرُوْنَ [ وہ لوگ ترغیب دیتے ہیں ] بِالْمُنْكَرِ [ برائی کی ] وَيَنْهَوْنَ [ اور منع کرتے ہیں ] عَنِ لْمَعْرُوْفِ [ بھلائی سے ] وَيَقْبِضُوْنَ [ اور سیکڑتے ہیں ] اَيْدِيَهُمْ ۭ [ اپنے ہاتھوں کو ] نَسُوا [ وہ لوگ بھول گئے ] اللّٰهَ [ اللہ کو ] فَنَسِيَهُمْ ۭ [ تو وہ (یعنی اللہ ) بھول گیا ان کو ] اِنَّ [ بیشک ] الْمُنٰفِقِيْنَ [ منافق لوگ ] هُمُ الْفٰسِقُوْنَ : ہی نافرمانی کرنے والے ہیں ]
Ayah 9:68

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ هِیَ حَسْبُهُمْ١ۚ وَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:68 in the Quran reader

ان منافق مردوں اور عورتوں اور کافروں کے لیے اللہ نے آتش دوزخ کا وعدہ کیا ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، وہی ان کے لیے موزوں ہے ان پر اللہ کی پھٹکار ہے اور ان کے لیے قائم ر ہنے والا عذاب ہے

وَعَدَ [ اللہ نے ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] الْمُنٰفِقِيْنَ [ منافق مردوں ] وَالْمُنٰفِقٰتِ [ اور منافق عورتوں سے ] وَالْكُفَّارَ [ اور کافروں سے ] نَارَ جَهَنَّمَ [ جہنم کی آگ کا ] خٰلِدِيْنَ [ ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے ] فِيْهَا ۭ [ اس میں ] ھِىَ [ وہ ] حَسْبُهُمْ ۚ [ ان کو کافی ہے (بطور بدلہ کے)] وَلَعَنَهُمُ [ اور ان پر لعنت کی ] اللّٰهُ ۚ [ اللہ نے ] وَلَهُمْ [ اور ان کے لیے ] عَذَابٌ مُّقِيْمٌ [ ایک قائم رہنے والا عذاب ہے ] ترکیب : (آیت ۔ 68) حَسْبُهُمْ کی تمیز محذوف ہے جو جزاء ہوسکتی ہے۔
Ayah 9:69

كَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْكُمْ قُوَّةً وَّ اَكْثَرَ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ؕ فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِهِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِكُمْ كَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِخَلَاقِهِمْ وَ خُضْتُمْ كَالَّذِیْ خَاضُوْا١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 9:69 in the Quran reader

تم لوگوں کے رنگ ڈھنگ وہی ہیں جو تمہارے پیش روؤں کے تھے وہ تم سے زیادہ زور آور اور تم سے بڑھ کر مال اور اولاد والے تھے پھر انہوں نے دنیا میں اپنے حصہ کے مزے لوٹ لیے اور تم نے بھی اپنے حصے کے مزے اسی طرح لوٹے جیسے انہوں نے لوٹے تھے، اور ویسی ہی بحثوں میں تم بھی پڑے جیسی بحثوں میں وہ پڑے تھے، سو ان کا انجام یہ ہوا کہ دنیا اور آخرت میں ان کا سب کیا دھرا ضائع ہو گیا اور وہی خسارے میں ہیں

كَالَّذِيْنَ [ انکی مانند جو ] مِنْ قَبْلِكُمْ [ تم لوگوں سے پہلے تھے ] كَانُوْٓا [ وہ لوگ تھے ] اَشَدَّ [ زیادہ سخت ] مِنْكُمْ [ تم سے ] قُوَّةً [ بلحاظ قوت کے ] وَّاَكْثَرَ [اور زیادہ کثرت والے ] اَمْوَالًا [ بلحاظ مال کے ] وَّاَوْلَادًا ۭ [ اور اولاد کے ] فَاسْتَمْتَعُوْا [ تو انھوں نے فائدہ اٹھایا ] بِخَلَاقِهِمْ [ اپنے حصے سے ] فَاسْتَمْتَعْتُمْ [ پھر تم لوگوں نے فائدہ اٹھایا ] بِخَلَاقِكُمْ [ اپنے حصے سے ] كَمَا [ اس کی مانند جو ] اسْتَمْتَعَ [ فائدہ اٹھایا ] الَّذِيْنَ [ انھوں نے جو ] مِنْ قَبْلِكُمْ [ تم سے پہلے تھے ] بِخَلَاقِهِمْ [ اپنے حصے سے ] وَخُضْتُمْ [ اور تم نے (بھی) بےپر کی اڑائی ] كَالَّذِيْ [ اس کے جیسی جو ] خَاضُوْا ۭ [ انھوں نے بےپر کی اڑائی ] اُولٰۗىِٕكَ [ وہ لوگ ہیں ] حَبِطَتْ [ اکارت گئے ] اَعْمَالُهُمْ [ جن کے اعمال ] فِي الدُّنْيَا [دنیا میں ] وَالْاٰخِرَةِ ۚ [ اور آخرت میں ] وَاُولٰۗىِٕكَ [ اور وہ لوگ ] هُمُ الْخٰسِرُوْنَ [ ہی خسارہ پانے والے ہیں ]
Ayah 9:70

اَلَمْ یَاْتِهِمْ نَبَاُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۙ۬ وَ قَوْمِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اَصْحٰبِ مَدْیَنَ وَ الْمُؤْتَفِكٰتِ١ؕ اَتَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 9:70 in the Quran reader

کیا اِن لوگوں کو اپنے پیش روؤں کی تاریخ نہیں پہنچی؟ نوحؑ کی قوم، عاد، ثمود، ابراہیمؑ کی قوم، مدین کے لوگ اور وہ بستیاں جنہیں الٹ دیا گیا اُن کے رسول ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے، پھر یہ اللہ کا کام نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا مگر وہ آپ ہی اپنے اوپر ظلم کرنے والے تھے

اَلَمْ يَاْتِهِمْ [ کیا نہیں پہنچی ان کو ] نَبَاُ الَّذِيْنَ [ ان لوگوں کی خبر جو ] مِنْ قَبْلِهِمْ [ ان سے پہلے تھے ] قَوْمِ نُوْحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوْدَ ڏ [ ثمود اور عاد اور نوح کی قوم کی (خبر) ] وَقَوْمِ اِبْرٰهِيْمَ [ اور ابراہیم کی قوم کی (خبر) ] وَاَصْحٰبِ مَدْيَنَ [ اور مدین والوں کی (خبر) ] وَالْمُؤْتَفِكٰتِ ۭ [ اور الٹ جانے والی (بستیوں ) کی (خبر) ] اَتَتْهُمْ [ پہنچے انکے پاس ] رُسُلُهُمْ [ ان کے رسول ] بِالْبَيِّنٰتِ ۚ [واضح (نشانیوں ) کے ساتھ ) فَمَا كَانَ [ تو نہیں ہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] لِيَظْلِمَهُمْ [ کہ وہ ظلم کرتا ان پر ] وَلٰكِنْ [ اور لیکن ] كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ [ وہ اپنی جانوں پر ظلم کیا کرتے تھے ] (آیت ۔ 70) نبا مضاف ہے ۔ الذین اس کا مضاف الیہ ہے۔ قوم ، اصحب اور المؤتفکت کی جزبتا رہی ہے کہ یہ الذین کا بدل ہیں اور نبا پر عطف ہیں ۔
Ayah 9:71

وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ یُطِیْعُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَیَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:71 in the Quran reader

مومن مرد اور مومن عورتیں، یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں، بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی رحمت نازل ہو کر رہے گی، یقیناً اللہ سب پر غالب اور حکیم و دانا ہے

وَالْمُؤْمِنُوْنَ [ اور مومن مرد ] وَالْمُؤْمِنٰتُ [ اور مومن عورتیں ] بَعْضُهُمْ [ ان کے بعض ] اَوْلِيَاۗءُ [ کارساز ہیں ] بَعْضٍ ۘ [ بعض کے ] يَاْمُرُوْنَ [ ترغیب دیتے ہیں ] بِالْمَعْرُوْفِ [ بھلائی کی ] وَيَنْهَوْنَ [ اور منع کرتے ہیں ] عَنِ الْمُنْكَرِ [ برائی سے ] وَيُقِيْمُوْنَ [ اور قائم رکھتے ہیں ] الصَّلٰوةَ [ نماز کو ] وَيُؤْتُوْنَ [ اور پہنچاتے ہیں ] الزَّكٰوةَ [زکوۃ کو ] وَيُطِيْعُوْنَ [ اور اطاعت کرتے ہیں ] اللّٰهَ [اللہ کی ] وَرَسُوْلَهٗ ۭ [ اور اس کے رسول کی ] اُولٰۗىِٕكَ [ وہ لوگ ہیں ] سَيَرْحَمُهُمُ [ رحم کرے گا جن پر ] اللّٰهُ ۭ [اللہ ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک ] عَزِيْزٌ [بالادست ہے ] [حَكِيْمٌ: حکمت والا ہے ]
Ayah 9:72

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:72 in the Quran reader

ان مومن مردوں اور عورتوں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ انہیں ایسے باغ دے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ان سدا بہار باغوں میں ان کے لیے پاکیزہ قیام گاہیں ہوں گی، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ کی خوشنودی انہیں حاصل ہوگی یہی بڑی کامیابی ہے

وَعَدَ [ وعدہ کیا ] اللّٰهُ [اللہ نے ] الْمُؤْمِنِيْنَ [ مومن مردوں سے ] وَالْمُؤْمِنٰتِ [ اور مومن عورتوں سے ] جَنّٰتٍ [ ایسے باغات ] تَجْرِيْ [ بہتی ہیں ] مِنْ تَحْتِهَا [ جن کے نیچے سے ] الْاَنْھٰرُ [ نہریں ] خٰلِدِيْنَ [ ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے ] فِيْهَا [ اس میں ] وَمَسٰكِنَ طَيِّبَةً [ اور پاکیزہ ٹھکانوں کا ] فِيْ جَنّٰتِ عَدْنٍ ۭ [ عدن کے باغات میں ] وَرِضْوَانٌ [اور رضا مندی ] مِّنَ اللّٰهِ [ اللہ (کی طرف) سے ] اَكْبَرُ ۭ [ سب سے بڑی ہے ] ذٰلِكَ [ یہ ] هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ [ ہی عظیم کامیابی ہے ] ع د ن : (ض، ن) عدنا ۔ کسی جگہ کو وطن بنانا ۔ عدن ۔ بہشت کے ایک مقام کا نام ۔ زیرمطالعہ آیت ۔ 72 ۔ عدن ، ملک یمن کے ایک شہر کا نام ۔ قرآن مجید میں استعمال نہیں ہوا۔ (آیت ۔ 72) وعد کے دو مفعول آتے ہیں ۔ کس سے وعدہ کیا اور کس چیز کا وعدہ کیا ۔ یہاں وعد کے مفعول اول المؤمنین اور المؤمنت ہیں جبکہ جنت اور مسکن طیبۃ مفعول ثانی ہیں ۔
Ayah 9:73

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 9:73 in the Quran reader

اے نبیؐ، کفار اور منافقین دونوں کا پوری قوت سے مقابلہ کرو اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آؤ آخر کار ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بدترین جائے قرار ہے

يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ [اے نبی ] جَاهِدِ [آپ کشمکش کریں ] الْكُفَّارَ [ کافروں سے ] وَالْمُنٰفِقِيْنَ [ اور منافقوں سے ] وَاغْلُظْ [ اور آپ سخت ہوں ] عَلَيْهِمْ ۭ [ ان پر ] وَمَاْوٰىهُمْ [ اور ان کا ٹھکانہ ] جَهَنَّمُ ۭ [ جہنم ہے ] وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ [لوٹنے کا ٹھکانہ ] نوٹ :1 ۔ آیت ۔ 73 میں کفار اور منافقین سے جہاد اور اس میں شدت اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ کفار سے جہاد کا معاملہ تو واضح ہے، جبکہ منافقین سے جہاد کا مطلب رسول اللہ ﷺ کے عمل سے یہ ثابت ہوا کہ ان کے ساتھ جہاد سے مراد زبانی جہاد ہے، کہ ان کو اسلام کے سمجھنے کی دعوت دیں تاکہ وہ اپنے دعوی اسلام میں مخلص ہوجائیں ۔ واغلظ علیہم میں لفظ غلظ کے معنی یہ ہیں کہ مخاطب جس طرز عمل کا مستحق ہے اس میں کوئی رعایت اور نرمی نہ برتی جائے ۔ امام قرطبی نے فرمایا کہ اس جگہ لفظ غلظ استعمال کرنے سے عملی سختی مراد ہے کہ ان پر احکام شرعیہ جاری کرنے میں کوئی رعایت اور نرمی نہ برتی جائے ۔ زبان اور کلام میں سختی اختیار کرنا مراد نہیں ہے کیونکہ یہ سنت انبیاء کے خلاف ہے، وہ کسی سخت کلامی نہیں کرتے ۔ رسول ﷺ کے عمل میں بھی کہیں یہ ثابت نہیں کہ کفار و منافقین سے گفتگو اور خطاب میں کبھی سختی اختیار فرمائی ہو۔ افسوس کہ خطاب اور کلام میں سختی کو کفار کے مقابلہ میں بھی اسلام نے اختیار نہیں کیا ، لیکن آج کل کے مسلمان دوسرے مسلمانوں کے بارے میں بےدھڑک استعمال کرتے ہیں اور بہت سے لوگ تو اس کو دین کی خدمت سمجھ کر خوش ہوتے ہیں ۔ (معارف القرآن )
Ayah 9:74

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ مَا قَالُوْا١ؕ وَ لَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِهِمْ وَ هَمُّوْا بِمَا لَمْ یَنَالُوْا١ۚ وَ مَا نَقَمُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ اَغْنٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَاِنْ یَّتُوْبُوْا یَكُ خَیْرًا لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّتَوَلَّوْا یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ مَا لَهُمْ فِی الْاَرْضِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 9:74 in the Quran reader

یہ لوگ خدا کی قسم کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم نے وہ بات نہیں کہی، حالانکہ انہوں نے ضرور وہ کافرانہ بات کہی ہے وہ اسلام لانے کے بعد کفر کے مرتکب ہوئے اور انہوں نے وہ کچھ کرنے کا ارادہ کیا جسے کر نہ سکے یہ ان کا سارا غصہ اسی بات پر ہے نا کہ اللہ اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے ان کو غنی کر دیا ہے! اب اگر یہ اپنی اس روش سے باز آ جائیں تو انہی کے لیے بہتر ہے اور اگر یہ باز نہ آئے تو اللہ ان کو نہایت درد ناک سزا دے گا، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، اور زمین میں کوئی نہیں جو اِن کا حمایتی اور مددگار ہو

يَحْلِفُوْنَ [ وہ لوگ قسم کھاتے ہیں ] بِاللّٰهِ [ اللہ کی ] مَا قَالُوْا ۭ [ (کہ ) انھوں نے نہیں کہا ] وَ [حالانکہ ] لَقَدْ قَالُوْا [ یقینا وہ کہہ چکے ہیں ] كَلِمَةَ الْكُفْرِ [ کفر کی بات ] وَكَفَرُوْا [اور انھوں نے کفر کیا ] بَعْدَ اِسْلَامِهِمْ [ اپنے اسلام کے بعد ] وَهَمُّوْا [ اور انہوں نے ارادہ کیا ] بِمَا [ اس (چیز) کا جو ] لَمْ يَنَالُوْا ۚ [ نہیں پہنچی (ان کو) ] وَمَا نَقَمُوْٓا [ اور انھیں برا نہیں لگا ] اِلَّآ [مگر ] اَنْ [(یہ ) کہ ] اَغْنٰىهُمُ [ غنی کیا ان کو ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] وَرَسُوْلُهٗ [ اور اس کے رسول نے ] مِنْ فَضْلِهٖ ۚ [ اپنے فضل سے ] فَاِنْ [ پس اگر ] يَّتُوْبُوْا [ یہ لوگ توبہ کریں ] يَكُ [ تو یہ ہوگا ] خَيْرًا [ بہتر ] لَّهُمْ ۚ [ ان کے لیے ] وَاِنْ [ اور اگر ] يَّتَوَلَّوْا [ وہ روگردانی کریں گے ] يُعَذِّبْهُمُ [ تو عذاب دے گا ان کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] عَذَابًا اَلِـــيْمًا ۙ [ ایک دردناک عذاب ] فِي الدُّنْيَا [ دنیا میں ] وَالْاٰخِرَةِ ۚ [ اور آخرت میں ] وَمَا لَهُمْ [ اور ان کے لیے نہیں ہے ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] مِنْ وَّلِيٍّ [ کسی قسم کا کوئی کارساز ] وَّلَا نَصِيْرٍ [ اور نہ ہی کوئی مددگار ] ترکیب : (آیت ۔ 76) اتھم میں ھو کی ضمیر اتی کا مفعول اول ہے جبکہ اس کا مفعول ثانی محذوف ہے جو کہ مالا ہوسکتا ہے ، بخلوا بہ میں بہ کی ضمیر اسی مفعول محذوف یعنی مالا کے لیے ہے۔
Ayah 9:75

وَ مِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ لَئِنْ اٰتٰىنَا مِنْ فَضْلِهٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 9:75 in the Quran reader

ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر اس نے اپنے فضل سے ہم کو نوازا تو ہم خیرات کریں گے اور صالح بن کر رہیں گے

وَمِنْهُمْ مَّنْ [ اور ان میں وہ بھی ہیں جنھوں نے ] عٰهَدَ [معاہدہ کیا ] اللّٰهَ [ اللہ سے ] لَىِٕنْ [ (کی ) بیشک اگر ] اٰتٰىنَا [ اس نے دیا ہم کو ] مِنْ فَضْلِهٖ [ اپنے فضل سے ] لَنَصَّدَّقَنَّ [ تم ہم لازما صدقہ خیرات کریں گے ] وَلَنَكُوْنَنَّ [ اور ہم لازما ہوجائیں گے ] مِنَ الصّٰلِحِيْنَ [ صالح لوگوں میں سے ]
Ayah 9:76

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ بَخِلُوْا بِهٖ وَ تَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 9:76 in the Quran reader

مگر جب اللہ نے اپنے فضل سے ان کو دولت مند کر دیا تو وہ بخل پر اتر آئے اور اپنے عہد سے ایسے پھرے کہ انہیں اس کی پروا تک نہیں ہے

فَلَمَّآ [پھر جب ] اٰتٰىهُمْ [ اس نے دیا ان کو ] مِّنْ فَضْلِهٖ [ اپنے فضل سے ] بَخِلُوْا [ تو انھوں نے بخل کیا ] بِهٖ [ اس کے ساتھ ] وَتَوَلَّوْا [ اور روگردانی کی ] وَّهُمْ [ اور وہ ] مُّعْرِضُوْنَ [ اعراض کرنے والے (ہی) تھے ]
Ayah 9:77

فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ Open ayah 9:77 in the Quran reader

نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی اِس بد عہدی کی وجہ سے جو انہوں نے اللہ کے ساتھ کی، اور اس جھوٹ کی وجہ سے جو وہ بولتے رہے، اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق بٹھا دیا جو اس کے حضور ان کی پیشی کے دن تک ان کا پیچھا نہ چھوڑے گا

فَاَعْقَبَهُمْ [ تو اس نے بدلے میں دیا ان کو ] نِفَاقًا [ ایک نفاق ] فِيْ قُلُوْبِهِمْ [ ان کے دلوں میں ] اِلٰى يَوْمِ يَلْقَوْنَهٗ [ اس سے ملنے کے دن تک ] بِمَآ [ بسبب اس کے جو ] اَخْلَفُوا [انھوں نے خلاف کیا ] اللّٰهَ [ اللہ سے ] مَا [ اسکے جو ] وَعَدُوْهُ [ انھوں نے وعدہ کیا ] وَبِمَا [اور بسبب اس کے جو ] كَانُوْا يَكْذِبُوْنَ [ وہ جھوٹ بولا کرتے تھے ] (آیت ۔ 77) الی یوم نہیں آیا ہے بلکہ الی یوم آیا ہے ۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ یوم مضاف ہے اور یلقونہ پورا جملہ فعلیہ مضاف الیہ ہے ۔ یہ عربی کی مخصوص ترکیب ہے جو اردو میں مستعمل نہیں ہے۔ اس لیے یلقون کا ترجمہ مضارع کے طور پر کرنے کے بجائے مصدر کے طور پر کرنا اردو محاورہ کی مجبوری ہے ۔
Ayah 9:78

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِۚ Open ayah 9:78 in the Quran reader

کیا یہ لوگ جانتے نہیں ہیں کہ اللہ کو ان کے مخفی راز اور ان کی پوشیدہ سرگوشیاں تک معلوم ہیں اور وہ تمام غیب کی باتوں سے پوری طرح باخبر ہے؟

اَلَمْ يَعْلَمُوْٓا [ کیا انھوں نے نہیں جانا ] اَنَّ [ کہ ] اللّٰهَ [اللہ ] يَعْلَمُ [ جانتا ہے ] سِرَّهُمْ [ ان کے راز کو ] وَنَجْوٰىهُمْ [ اور ان کی سرگوشی کو ] وَاَنَّ [اور یہ کہ ] اللّٰهَ [عَلَّامُ الْغُيُوْبِ [ غیب (کی باتوں ) کا خوب جاننے والا ہے ]
Ayah 9:79

اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ فَیَسْخَرُوْنَ مِنْهُمْ١ؕ سَخِرَ اللّٰهُ مِنْهُمْ١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:79 in the Quran reader

(وہ خوب جانتا ہے اُن کنجوس دولت مندوں کو) جو برضا و رغبت دینے والے اہل ایمان کی مالی قربانیوں پر باتیں چھانٹتے ہیں اور ان لوگوں کا مذاق اڑاتے ہیں جن کے پاس (راہ خدا میں دینے کے لیے) اُس کے سوا کچھ نہیں ہے جو وہ اپنے اوپر مشقت برداشت کر کے دیتے ہیں اللہ اِن مذاق اڑانے والوں کا مذاق اڑاتا ہے اور ان کے لیے درد ناک سزا ہے

[اَلَّذِيْنَ : وہ لوگ جو ] يَلْمِزُوْنَ [ عیب جوئی کرتے ہیں ] الْمُطَّوِّعِيْنَ [ نفلی عبادت کرنے والوں کی ] مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ [ مومنوں میں سے ] فِي الصَّدَقٰتِ [ صدقہ خیرات (کے بارے ) میں ] وَالَّذِيْنَ [اور ان کی جو ] لَا يَجِدُوْنَ [ نہیں پاتے ] اِلَّا [مگر ] جُهْدَهُمْ [ اپنی محنت (کی مزدوری ) کو ] فَيَسْخَرُوْنَ [ تو وہ تمسخر کرتے ہیں ] مِنْهُمْ ۭ [ ان سے ] سَخِرَ [ تمسخر کیا ] اللّٰهُ [اللہ نے ] مِنْهُمْ ۡ [ ان سے ] وَلَهُمْ [ اور ان کے لیے ] عَذَابٌ اَلِيْمٌ [ایک دردناک عذاب ہے ]
Ayah 9:80

اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّةً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:80 in the Quran reader

اے نبیؐ، تم خواہ ایسے لوگوں کے لیے معافی کی درخواست کرو یا نہ کرو، اگر تم ستر مرتبہ بھی انہیں معاف کردینے کی درخواست کرو گے تو اللہ انہیں ہرگز معاف نہ کرے گا اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے، اور اللہ فاسق لوگوں کو راہ نجات نہیں دکھاتا

اِسْتَغْفِرْ [ آپ استغفار کریں ] لَهُمْ [ ان کے لیے ] اَوْ [ یا ] لَا تَسْتَغْفِرْ [ آپ استغفار نہ کریں ] لَهُمْ ۭ [ ان کے لیے (برابر ہے ) ] اِنْ [اگر ] تَسْتَغْفِرْ [آپ استغفار کریں گے ] لَهُمْ [ ان کے لیے ] سَبْعِيْنَ مَرَّةً [ ستر مرتبہ ] فَلَنْ يَّغْفِرَ [ تو (بھی) ہرگز معاف نہیں کرے گا ] اللّٰهُ [ اللہ ] لَهُمْ ۭ [ ان کو ] ذٰلِكَ [ یہ ] بِاَنَّهُمْ [ اس سبب سے کہ انھوں نے ] كَفَرُوْا [ ناشکری کی ] بِاللّٰهِ [ اللہ کی ] وَرَسُوْلِهٖ ۭ [ اور اس کے رسول کی ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] لَا يَهْدِي [ ہدایت نہیں دیتا ] الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ [ نافرمانی کرنے والے لوگوں کو ] (آیت ۔ 80) اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ کے آگے سواء علیہم محذوف ہے ۔ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ کا مفعول مطلق استغفارا محذوف ہے ۔ اس کی جگہ پر آنے کی وجہ سے سبعین حالت نصب میں ہے ۔