9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 9:81

فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ وَ كَرِهُوْۤا اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِی الْحَرِّ١ؕ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا١ؕ لَوْ كَانُوْا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:81 in the Quran reader

جن لوگوں کو پیچھے رہ جانے کی اجازت دے دی گئی تھی وہ اللہ کے رسول کا ساتھ نہ دینے اور گھر بیٹھے رہنے پر خوش ہوئے اور انہیں گوارا نہ ہوا کہ اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کریں انہوں نے لوگوں سے کہا کہ "اس سخت گرمی میں نہ نکلو" ان سے کہو کہ جہنم کی آگ اس سے زیادہ گرم ہے، کاش انہیں اس کا شعور ہوتا

فَرِحَ [ خوش ہوئے ] الْمُخَلَّفُوْنَ [ پیچھے چھوڑے ہوئے لوگ ] بِمَقْعَدِهِمْ [ اپنے بیٹھ رہنے پر ] خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ [ اللہ کے رسول کے پیچھے ] وَكَرِهُوْٓا [ اور انھوں نے ناپسند کیا ] اَنْ [ کہ ] يُّجَاهِدُوْا [وہ جہاد کریں ] بِاَمْوَالِهِمْ [ اپنے مالوں سے ] وَاَنْفُسِهِمْ [ اور اپنی جانوں سے ] فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ [ اللہ کی راہ میں ] وَقَالُوْا [اور انھوں نے کہا ] لَا تَنْفِرُوْا [ تم لوگ مت نکلو ] فِي الْحَرِّ ۭ [ گرمی میں ] قُلْ [ آپ کہہ دیجیے ] نَارُ جَهَنَّمَ [ جہنم کی آگ ] اَشَدُّ [ سب سے سخت ہے ] حَرًّا ۭ [ بلحاظ گرمی کے ] لَوْ [ کاش ] كَانُوْا يَفْقَهُوْنَ [ وہ لوگ سمجھتے ہیں ] ترکیب : (آیت ۔ 81) خلاف ، ظرف کے معنی میں بھی آتا ہے اور باب مفاعلہ کا مصدر بھی ہے ۔ یہاں دونوں معانی لینے کی گنجائش ہے اس لیے دونوں ترجمے درست مانے جائیں گے ، ہم ظرف کے معنی میں ترجمہ کریں گے ، خلف ، کی نصب ظرف ہونے کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے اور اگر اس کو باب مفاعلہ کا مصدر مانیں تو پھر حال یامفعول لہ ہونے کی وجہ سے ۔ کانوا یفقھون کے شروع میں لو آجانے کی وجہ سے اس کے ماضی استمراری ہونے کی گنجائش نہیں رہی ، اس لیے یہاں کانوا فعل ناقصل ہے، اس کا اسم اس میں شامل ہم کی ضمیر ہے اور یفقھون جملہ فعلیہ ہوکر اس کی خبر ہے۔
Ayah 9:82

فَلْیَضْحَكُوْا قَلِیْلًا وَّ لْیَبْكُوْا كَثِیْرًا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:82 in the Quran reader

اب چاہیے کہ یہ لوگ ہنسنا کم کریں اور روئیں زیادہ، اس لیے کہ جو بدی یہ کماتے رہے ہیں اس کی جزا ایسی ہی ہے (کہ انہیں اس پر رونا چاہیے)

فَلْيَضْحَكُوْا [ پس چاہیے کہ وہ لوگ ہنسیں ] قَلِيْلًا [ تھوڑا [وَّلْيَبْكُوْا [ اور رو ویں ] كَثِيْرًا ۚ [ زیادہ ] جَزَاۗءًۢ [ بدلہ ہوتے ہوئے ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ [ وہ لوگ کماتے تھے ] ب ک ی : (ض) ۔ بکاء ، رونا فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاۗءُ وَالْاَرْضُ [ تو نہ روئے ان پر آسمان اور زمین ] 44:29 ۔ باک ، ج : بکی ۔ فاعل کے وزن پر صفت ہے۔ سُجَّدًا وَّبُكِيًّا [سجدہ کرنے والے اور رونے والے ہوتے ہوئے ] 19:58 ۔ (افعال ) ابکاء ، کسی کو رلانا ۔ وَاَنَّهٗ هُوَ اَضْحَكَ وَاَبْكٰى [اور یہ کہ وہ ہنساتا ہے اور رلاتا ہے ] 53:43 ۔
Ayah 9:83

فَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَآئِفَةٍ مِّنْهُمْ فَاسْتَاْذَنُوْكَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِیَ اَبَدًا وَّ لَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِیَ عَدُوًّا١ؕ اِنَّكُمْ رَضِیْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِیْنَ Open ayah 9:83 in the Quran reader

اگر اللہ ان کے درمیان تمہیں واپس لے جائے اور آئندہ ان میں سے کوئی گروہ جہاد کے لیے نکلنے کی تم سے اجازت مانگے تو صاف کہہ دینا کہ، "اب تم میرے ساتھ ہرگز نہیں چل سکتے اور نہ میری معیت میں کسی دشمن سے لڑ سکتے ہو، تم نے پہلے بیٹھ ر ہنے کو پسند کیا تھا تو اب گھر بیٹھنے والوں ہی کے ساتھ بیٹھے رہو"

فَاِنْ [ پس اگر ] رَّجَعَكَ [ لوٹائے آپ کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] اِلٰى طَاۗىِٕفَةٍ [ کسی گروہ کی طرف ] مِّنْهُمْ [ ان میں سے ] فَاسْتَاْذَنُوْكَ [ پھر وہ اجازت مانگیں آپ سے ] لِلْخُرُوْجِ [ نکلنے کے لیے ] فَقُلْ [تو آپ کہیں ] لَّنْ تَخْرُجُوْا [ تم لوگ ہرگز مت نکلو ] مَعِيَ [ میرے ساتھ ] اَبَدًا [ کبھی بھی ] وَّلَنْ تُقَاتِلُوْا [ اور تم لوگ ہرگز جنگ مت کرو ] مَعِيَ [ میرے ساتھ (مل کر ) ] عَدُوًّا ۭ [ کسی دشمن سے ] اِنَّكُمْ [ بیشک تم لوگ ] رَضِيْتُمْ [ راضی ہوئے ] بِالْقُعُوْدِ [ بیٹھ رہنے پر ] اَوَّلَ مَرَّةٍ [ پہلی مرتبہ ] فَاقْعُدُوْا [ پس تم لوگ بیٹھو ] مَعَ الْخٰلِفِيْنَ [ پیچھے رہنے والوں کے ساتھ ] (آیت ۔ 83) اول مرۃ میں اول کی نصب اس کے ظرف ہونے کی وجہ سے ہے۔
Ayah 9:84

وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 9:84 in the Quran reader

اور آئندہ ان میں سے جو کوئی مرے اس کی نماز جنازہ بھی تم ہرگز نہ پڑھنا اور نہ کبھی اس کی قبر پر کھڑے ہونا کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسولؐ کے ساتھ کفر کیا ہے اور وہ مرے ہیں اس حال میں کہ وہ فاسق تھے

وَلَا تُصَلِّ [ اور آپ نماز نہ پڑھیں ] عَلٰٓي اَحَدٍ [ کسی ایک پر ] مِّنْهُمْ [ ان میں سے ] مَّاتَ [ جو مردہ ہوا ] اَبَدًا [ کبھی بھی ] وَّلَا تَقُمْ [ اور آپ مت کھڑے ہوں ] عَلٰي قَبْرِهٖ ۭ [ اس کی قبر پر ] اِنَّهُمْ [ بیشک انھوں نے ] كَفَرُوْا [ ناشکری کی ] بِاللّٰهِ [ اللہ کی ] وَرَسُوْلِهٖ [ اور اس کے رسول کی ] وَمَاتُوْا [ اور وہ مرے ] وَ [ اس حال میں کہ ] هُمْ [ وہ لوگ ] فٰسِقُوْنَ [ نافرمانی کرنے والے تھے ] ق ب ر : (ض، ن) ۔ قبرا ، میت کو دفن کرنا۔ قبر ، ج : قبور ، اسم ذات بھی ہے ۔ قبر ۔ زیرمطالعہ آیت ۔ 84 ۔ وَاَنَّ اللّٰهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُوْرِ [اور یہ کہ اللہ اٹھائے گا ان کو جو قبروں میں ہیں ] 22:7 ۔ مقبرۃ ، ج : مقابر ، اسم الظرف ہے۔ دفن کرنے کی جگہ ۔ قبرستان ، حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ [ یہاں تک کہ تم لوگوں نے دیکھا قبرستانوں کو ] 102:2 ۔ (افعال ) اقبارا ۔ کسی کے لیے قبر مہیا کرنا ، دفن کرانا ۔ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗ [ پھر اس نے موت دی اس کو پھر اس نے دفن کرایا اس کو ] 80:21 ۔ (آیت ۔ 84) احد نکرہ موصوفہ ہے اور مات اس کی صفت ہے ۔
Ayah 9:85

وَ لَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:85 in the Quran reader

ان کی مالداری اور ان کی کثرت اولاد تم کو دھوکے میں نہ ڈالے اللہ نے تو ارادہ کر لیا ہے کہ اِس مال و اولاد کے ذریعہ سے ان کو اسی دنیا میں سزا دے اور ان کی جانیں اس حال میں نکلیں کہ وہ کافر ہوں

وَلَا تُعْجِبْكَ [ اور چاہیے کہ حیرت میں نہ ڈالیں آپ کو ] اَمْوَالُهُمْ [ ان کے اموال ] وَاَوْلَادُهُمْ ۭ [ اور ان کی اولاد ] اِنَّمَا [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] يُرِيْدُ [ چاہتا ہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] اَنْ [ کہ ] يُّعَذِّبَهُمْ [ وہ عذاب دے ان کو ] بِهَا [ ان سے ] فِي الدُّنْيَا [ دنیا میں ] وَتَزْهَقَ [ اور نکلیں ] اَنْفُسُهُمْ [ ان کی جانیں ] وَ [ اس حال میں کہ ] هُمْ [ وہ لوگ ] كٰفِرُوْنَ [ کفر کرنے والوں میں ہوں ]
Ayah 9:86

وَ اِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ اَنْ اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ جَاهِدُوْا مَعَ رَسُوْلِهِ اسْتَاْذَنَكَ اُولُوا الطَّوْلِ مِنْهُمْ وَ قَالُوْا ذَرْنَا نَكُنْ مَّعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:86 in the Quran reader

جب کبھی کوئی سورۃ اس مضمون کی نازل ہوئی کہ اللہ کو مانو اور اس کے رسول کے ساتھ جہاد کرو تو تم نے دیکھا کہ جو لوگ ان میں سے صاحب مقدرت تھے وہی تم سے درخواست کرنے لگے کہ انہیں جہاد کی شرکت سے معاف رکھا جائے اور انہوں نے کہا کہ ہمیں چھوڑ دیجیے کہ ہم بیٹھنے والوں کے ساتھ رہیں

وَاِذَآ [ اور جب کبھی ] اُنْزِلَتْ [ اتاری جاتی ہے ] سُوْرَةٌ [ کوئی سورت ] اَنْ [ کہ ] اٰمِنُوْا [تم لوگ ایمان لاؤ] بِاللّٰهِ [ اللہ پر ] وَجَاهِدُوْا [ اور جہاد کرو ] مَعَ رَسُوْلِهِ [ اس کے رسول کے ساتھ (ملکر ) ] اسْـتَاْذَنَكَ [ تو اجازت مانگتے ہیں آپ سے ] اُولُوا الطَّوْلِ [ دولت والے ] مِنْهُمْ [ ان میں سے ] وَقَالُوْا [ اور کہتے ہیں ] ذَرْنَا [ آپ چھوڑدیں ہم کو ] نَكُنْ [ تو ہم جائیں ] مَّعَ الْقٰعِدِيْنَ [بیٹھنے والوں کے ساتھ ]
Ayah 9:87

رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ وَ طُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:87 in the Quran reader

ان لوگوں نے گھر بیٹھنے والیوں میں شامل ہونا پسند کیا اور ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا گیا، اس لیے ان کی سمجھ میں اب کچھ نہیں آتا

رَضُوْا [ وہ لوگ راضی ہوئے ] بِاَنْ [ اس پر کہ ] يَّكُوْنُوْا [ وہ ہوں ] مَعَ الْخَوَالِفِ [ پیچھے رہنے والوں کے ساتھ ] وَطُبِعَ [ اور چھاپ لگائی گئی ] عَلٰي قُلُوْبِهِمْ [ ان کے دلوں پر ] فَهُمْ [ نتیجتا وہ لوگ ] لَا يَفْقَهُوْنَ [ سوجھ بوجھ نہیں رکھتے ]
Ayah 9:88

لٰكِنِ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْخَیْرٰتُ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 9:88 in the Quran reader

بخلاف اس کے رسولؐ نے اور ان لوگوں نے جو رسولؐ کے ساتھ ایمان لائے تھے ا پنی جان و مال سے جہاد کیا اور اب ساری بھلائیاں انہی کے لیے ہیں اور وہی فلاح پانے والے ہیں

لٰكِنِ [ لیکن (یعنی جب کہ )] الرَّسُوْلُ [ یہ رسول ] وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] مَعَهٗ [ ان کے ساتھ ] جٰهَدُوْا [ جہاد کرتے ہیں ] بِاَمْوَالِهِمْ [ اپنے مالوں سے ] وَاَنْفُسِهِمْ ۭ [ اور اپنی جانوں سے ] وَاُولٰۗىِٕكَ [ اور وہ لوگ ہیں ] لَهُمُ [ جن کے لیے ] الْخَيْرٰتُ ۡ [ بھلائیاں ہیں ] وَاُولٰۗىِٕكَ [ اور وہ لوگ ] هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ [ ہی فلاح پانے والے ہیں ]
Ayah 9:89

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:89 in the Quran reader

اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ تیار رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ ہے عظیم الشان کامیابی

اَعَدَّ [تیار کیے ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] لَهُمْ [ ان کے لیے ] جَنّٰتٍ [ ایسے باغات ] تَجْرِيْ [ بہتی ہیں ] مِنْ تَحْتِهَا [ جن کے نیچے سے ] الْاَنْھٰرُ [ نہریں ] خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۭ [ ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے ان میں ] ذٰلِكَ [ یہ ] الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ [ ہی عظیم کامیابی ہے ]
Ayah 9:90

وَ جَآءَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ لِیُؤْذَنَ لَهُمْ وَ قَعَدَ الَّذِیْنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:90 in the Quran reader

بدوی عربوں میں سے بھی بہت سے لوگ آئے جنہوں نے عذر کیے تاکہ انہیں بھی پیچھے رہ جانے کی اجازت دی جائے اِس طرح بیٹھ رہے وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے ایمان کا جھوٹا عہد کیا تھا ان بدویوں میں سے جن لوگوں نے کفر کا طریقہ اختیار کیا ہے عنقریب وہ دردناک سزا سے دوچار ہوں گے

وَجَاۗءَ [ اور آئے ] الْمُعَذِّرُوْنَ [ بہانے بنانے والے ] مِنَ الْاَعْرَابِ [ دیہاتیوں میں سے ] لِيُؤْذَنَ [ تاکہ اجازت دی جائے ] لَهُمْ [ ان کو ] وَقَعَدَ [ اور بیٹھ رہے ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جنھوں نے ] كَذَبُوا [ جھوٹ کہا ] اللّٰهَ [ اللہ سے ] وَرَسُوْلَهٗ ۭ [ اور اس کے رسول سے ] سَيُصِيْبُ [آن لگے گا ] الَّذِيْنَ [ ان کو جنہوں نے ] كَفَرُوْا [کفر کیا ] مِنْهُمْ [ ان میں سے ] عَذَابٌ اَلِيْمٌ [ ایک درد ناک عذاب ] ع ر ب : (ک) ۔ عربا ، کسی چیز کا صاف اور واضح ہونا ، فصیح زبان بولنا ۔ عربی ۔ عرب سے نسبت رکھنے والا ۔ عرب کا باشندہ ۔ عرب کی زبان ۔ وَّھٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِيْنٌ [ اور یہ واضح عربی زبان ہے ] 16:103 ۔ اعرابی ۔ ج : اعراب ۔ صاف اور کھلی فضا میں رہنے والا ۔ دیہاتی ، لیکن یہ لفظ صرف عرب کے دیہاتی کے لیے مختص ہوچکا ہے ۔ زیرمطالعہ آیت ۔ 90 ۔ عربۃ ۔ ج : عروب [قرآن مجید میں اس کی جمع عرب آئی ہے ] محبت ظاہر کرنے والی عورت ۔ عُرُبًا اَتْرَابًا لِّاَصْحٰبِ الْيَمِيْنِ [محبت ظاہر کرنے والیاں ، ہم عمر ہونے والیاں ہوتے ہوئے داہنی جانب والوں کے لیے ] 56:37، 38
Ayah 9:91

لَیْسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ وَ لَا عَلَى الْمَرْضٰى وَ لَا عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ مَا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 9:91 in the Quran reader

ضعیف اور بیمار لوگ اور وہ لوگ جو شرکت جہاد کے لیے راہ نہیں پاتے، اگر پیچھے رہ جائیں تو کوئی حرج نہیں جبکہ وہ خلوص دل کے ساتھ اللہ اور اس کے رسولؐ کے وفادار ہوں ایسے محسنین پر اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

لَيْسَ [ نہیں ہے ] عَلَي الضُّعَفَاۗءِ [ ضعیفوں پر ] وَلَا عَلَي الْمَرْضٰى [ اور نہ ہی مریضوں پر ] وَلَا عَلَي الَّذِيْنَ [ اور نہ ہی ان پر جو ] لَا يَجِدُوْنَ [ نہیں پاتے ] مَا [ اس کو جو ] يُنْفِقُوْنَ [ جو لوگ خرچ کریں ] حَرَجٌ [ کوئی گناہ ] اِذَا [ جب کہ ] نَصَحُوْا [ وہ (دل سے) صاف ہوئے ] لِلّٰهِ [ اللہ کے لیے ] وَرَسُوْلِهٖ ۭ [ اور اس کے رسول کے لیے ] مَا [ نہیں ہے ] عَلَي الْمُحْسِنِيْنَ [ بلاکم وکاست کام کرنے والوں پر ] مِنْ سَبِيْلٍ ۭ [ کسی قسم کا کوئی الزام ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] غَفُوْرٌ [بے انتہا بخشنے والا ہے ] رَّحِيْمٌ [ ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ] ترکیب : (آیت ۔ 91) لیس کا اسم مؤخر نکرہ حرج ہے ۔ اس کی خبر محذوف جو کہ واجب یا ثابت ہوسکتی ہے ۔ علی الضعفاء سے ینفقون تک قائم مقام خبر ہے۔ مانافیہ کا اسم مؤخر نکرہ میں سبیل ہے ۔ یہ اصلا سبیل تھا ، اس کو مزید نکرہ کرنے کے لیے من لگایا گیا ہے ۔ علی المحسنین قائم مقام خبر ہے ۔
Ayah 9:92

وَّ لَا عَلَى الَّذِیْنَ اِذَا مَاۤ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحْمِلُكُمْ عَلَیْهِ١۪ تَوَلَّوْا وَّ اَعْیُنُهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَؕ Open ayah 9:92 in the Quran reader

اسی طرح اُن لوگوں پر بھی کوئی اعتراض کا موقع نہیں ہے جنہوں نے خود آ کر تم سے درخواست کی تھی کہ ہمارے لیے سواریاں بہم پہنچائی جائیں، اور جب تم نے کہا کہ میں تمہارے لیے سواریوں کا انتظام نہیں کرسکتا تو وہ مجبوراً واپس گئے اور حال یہ تھا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور انہیں اس بات کا بڑا رنج تھا کہ وہ اپنے خرچ پر شریک جہاد ہونے کی مقدرت نہیں رکھتے

وَّلَا عَلَي الَّذِيْنَ [ اور نہ ان پر (کوئی الزام ہے) جو ] اِذَا مَآ [ جس وقت ] اَتَوْكَ [ پہنچے آپ کے پاس ] لِتَحْمِلَهُمْ [ تاکہ آپ سواری دین ان کو ] قُلْتَ [ تو آپ نے کہا ] لَآ اَجِدُ [ میں نہیں پاتا ] مَآ [ اس کو ] اَحْمِلُكُمْ [ میں سوار کروں تم لوگوں ] عَلَيْهِ ۠ [ جس پر ] تَوَلَّوْا [ وہ لوگ پلٹے ] وَّ [ اس حال میں کہ ] اَعْيُنُهُمْ [ ان کی آنکھیں ] تَفِيْضُ [ بہتی تھیں ] مِنَ الدَّمْعِ [ آنسو سے ] حَزَنًا [ اس غم میں ] اَلَّا يَجِدُوْا [ کہ وہ نہیں پاتے ] مَا [ اس کو جو ] يُنْفِقُوْنَ [ وہ خرچ کریں ] (آیت ۔ 92) ولا علی الذین گزشتہ آیت میں مامن سبیل کی قائم مقام خبر ہے ۔ اذا ما میں ما ظرفیہ ہے اور ظرف زمان ہے۔
Ayah 9:93

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ وَ هُمْ اَغْنِیَآءُ١ۚ رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ١ۙ وَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 9:93 in the Quran reader

البتہ اعتراض ان لوگوں پر ہے جو مالدار ہیں اور پھر بھی تم سے درخواستیں کرتے ہیں کہ انہیں شرکت جہاد سے معاف رکھا جائے انہوں نے گھر بیٹھنے والیوں میں شامل ہونا پسند کیا اور اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا، اس لیے اب یہ کچھ نہیں جانتے (کہ اللہ کے ہاں ان کی روش کا کیا نتیجہ نکلنے والا ہے)

اِنَّمَا [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] السَّبِيْلُ [ الزام ] عَلَي الَّذِيْنَ [ ان پر ہے جو ] يَسْتَاْذِنُوْنَكَ [ اجازت مانگتے آپ سے ] وَ [ اس حال میں کہ ] هُمْ [ وہ لوگ ] اَغْنِيَاۗءُ ۚ [ غنی ہیں ] رَضُوْا [ وہ راضی ہوئے ] بِاَنْ [ اس پر کہ ] يَّكُوْنُوْا [ وہ ہوں ] مَعَ الْخَوَالِفِ ۙ [ پیچھے رہنے والیوں کے ساتھ ] وَطَبَعَ [ اور ٹھپہ لگا دیا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] عَلٰي قُلُوْبِهِمْ [ ان کے دلوں پر ] فَهُمْ [ نتیجتا وہ لوگ ] لَا يَعْلَمُوْنَ [ علم نہیں رکھتے ]
Ayah 9:94

یَعْتَذِرُوْنَ اِلَیْكُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْهِمْ١ؕ قُلْ لَّا تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰهُ مِنْ اَخْبَارِكُمْ١ؕ وَ سَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:94 in the Quran reader

تم جب پلٹ کر ان کے پاس پہنچو گے تو یہ طرح طرح کے عذرات پیش کریں گے مگر تم صاف کہہ دینا کہ "بہانے نہ کرو، ہم تہاری کسی بات کا اعتبار نہ کریں گے اللہ نے ہم کو تمہارے حالات بتا دیے ہیں اب اللہ اور اس کا رسول تمہارے طرز عمل کو دیکھے گا پھر تم اس کی طرف پلٹائے جاؤ گے جو کھلے اور چھپے سب کا جاننے والا ہے اور وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو"

يَعْتَذِرُوْنَ [ وہ لوگ معذرت پیش کریں کریں گے ] اِلَيْكُمْ [ تمہاری طرف ] اِذَا [ جب ] رَجَعْتُمْ [ تم لوگ لوٹو گے ] اِلَيْهِمْ ۭ [ ان کی طرف ] قُلْ [ آپ کہہ دیجیے ] لَّا تَعْتَذِرُوْا [ تم لوگ معذرت مت کرو ] لَنْ نُّؤْمِنَ [ ہم ہرگز نہیں مانیں گے ] لَكُمْ [ تمہاری بات ] قَدْ نَبَّاَنَا [ ہمیں بتادیا ہے ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] مِنْ اَخْبَارِكُمْ ۭ [ تمہاری خبروں میں سے ] وَسَيَرَى [ اور دیکھے گا ] اللّٰهُ [ اللہ ] عَمَلَكُمْ [ تمہارے عمل کو ] وَرَسُوْلُهٗ [ اور اس کے رسول (بھی ) ] ثُمَّ [ پھر ] تُرَدُّوْنَ [تم لوگ لوٹائے جاؤگے ] اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ [ موجود اور غائب کے جاننے والے کی طرف ] فَيُنَبِّئُكُمْ [ پھر وہ جتلادے گا تمہیں ] بِمَا [ وہ جو ] كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ [تم لوگ کرتے تھے ]
Ayah 9:95

سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَیْهِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ رِجْسٌ١٘ وَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:95 in the Quran reader

تمہاری واپسی پر یہ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے صرف نظر کرو تو بے شک تم ان سے صرف نظر ہی کر لو، کیونکہ یہ گندگی ہیں اور ان کا اصلی مقام جہنم ہے جو ان کی کمائی کے بدلے میں انہیں نصیب ہوگی

سَيَحْلِفُوْنَ [وہ لوگ قسم کھائیں گے ] بِاللّٰهِ [ اللہ کی ] لَكُمْ [ تمہارے لیے ( یعنی سامنے ) ] اِذَا [جب ] انْقَلَبْتُمْ [ تم لوگ پلٹوگے ] اِلَيْهِمْ [ ان کی طرف ] لِتُعْرِضُوْا [ تاکہ تم لوگ درگزر کرو ] عَنْھُمْ ۭ [ ان سے ] فَاَعْرِضُوْا [ تو تم لوگ اعراض کرو ] عَنْھُمْ ۭ [ ان سے ] اِنَّھُمْ [ بیشک وہ سب ] رِجْسٌ ۡ [ نجس ہیں ] وَّمَاْوٰىھُمْ [ اور ان کا ٹھکانہ ] جَهَنَّمُ ۚ [جہنم ہے ] جَزَاۗءًۢ [ بدلہ ہوتے ہوئے ] بِمَا [اس کا جو ] كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ [ وہ کماتے تھے ]
Ayah 9:96

یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ١ۚ فَاِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَرْضٰى عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 9:96 in the Quran reader

یہ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے کہ تاکہ تم ان سے راضی ہو جاؤ حالانکہ اگر تم ان سے راضی ہو بھی گئے تو اللہ ہرگز ایسے فاسق لوگوں سے راضی نہ ہوگا

يَحْلِفُوْنَ [ وہ قسم کھائیں گے ] لَكُمْ [ تمہارے سامنے ] لِتَرْضَوْا [ تاکہ تم لوگ راضی ہوجاؤ] عَنْھُمْ ۚ [ ان سے ] فَاِنْ [ پس اگر ] تَرْضَوْا [ تم لوگ راضی ہوگے ] عَنْھُمْ [ ان سے ] فَاِنَّ [ تو بیشک ] اللّٰهَ [اللہ ] لَا يَرْضٰى [ راضی نہیں ہوگا ] عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِيْنَ [ نافرمانی کرنے والے لوگوں سے ]
Ayah 9:97

اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَّ نِفَاقًا وَّ اَجْدَرُ اَلَّا یَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:97 in the Quran reader

یہ بدوی عرب کفر و نفاق میں زیادہ سخت ہیں اور ان کے معاملہ میں اس امر کے امکانات زیادہ ہیں کہ اس دین کے حدود سے نا واقف رہیں جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے اللہ سب کچھ جانتا ہے اور حکیم و دانا ہے

اَلْاَعْرَابُ [ دیہاتی لوگ ] اَشَدُّ [ زیادہ سخت ہیں ] كُفْرًا [ بلحاظ کفر کے ] وَّنِفَاقًا [ اور بلحاظ نفاق کے ] وَّاَجْدَرُ [ اور (وہ لوگ) اسی لائق ہیں ] اَلَّا يَعْلَمُوْا [ کہ وہ نہ جانیں ] حُدُوْدَ مَآ [ اس کی حدود کو جو ] اَنْزَلَ [ اتارا ] اللّٰهُ [اللہ نے ] عَلٰي رَسُوْلِهٖ ۭ [ اپنے رسول پر ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] عَلِيْمٌ [ جاننے والا ہے ] حَكِيْمٌ [ حکمت والا ہے ] ج د ر : (ن) ۔ جدرا ، دیواروں سے گھرنا ، دیوار کی اوٹ میں ہونا ۔ جدار ، ج : جدر ۔ اسم ذات ہے ۔ دیوار ، فَوَجَدَا فِـيْهَا جِدَارًا [ تو انھوں نے پایا اس میں ایک دیوار ] 18، 77 اَوْ مِنْ وَّرَاۗءِ جُدُرٍ [ یا کچھ دیواروں کے پیچھے سے ] 59: 14 ۔ (ک) جدارۃ ۔ لائق ہونا ۔ اہل ہونا ۔ اجدر ۔ افعل تفضیل کے وزن پر صفت ہے ۔ بہت لائق ۔ بہت اہل ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 97 ۔ (آیت ۔ 97) اجدر خب رہے ۔ اس کا مبتدا ہم محذوف ہے۔
Ayah 9:98

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یَّتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ مَغْرَمًا وَّ یَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَآئِرَ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:98 in the Quran reader

ان بدویوں میں ایسے ایسے لوگ موجود ہیں جو راہ خدا میں کچھ خرچ کرتے ہیں تو اسے اپنے اوپر زبردستی کی چٹی سمجھتے ہیں اور تمہارے حق میں زمانہ کی گردشوں کا انتظار کر رہے ہیں (کہ تم کسی چکر میں پھنسو تو وہ اپنی گردن سے اس نظام کی اطاعت کا قلادہ اتار پھینکیں جس میں تم نے انہیں کس دیا ہے) حالانکہ بدی کا چکر خود انہی پر مسلط ہے اور اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے

وَمِنَ الْاَعْرَابِ [ اور دیہاتیوں میں سے ] مَنْ [ وہ بھی ہیں جو ] يَّتَّخِذُ [ بناتے ہیں ] مَا [اس کو جو ] يُنْفِقُ [ وہ خرچ کرتے ہیں ] مَغْرَمًا [ ایک چٹی [ وَّيَتَرَبَّصُ [ اور انتظار کرتے ہیں ] بِكُمُ [ تمہارے لیے ] الدَّوَاۗىِٕرَ ۭ [ گردش (زمانہ ) کا ] عَلَيْهِمْ [ ان پر ہی ہے ] دَاۗىِٕرَةُ السَّوْءِ ۭ [ برائی کی گردش ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] سَمِيْعٌ [ سننے والا ہے ] عَلِيْمٌ [ جاننے والا ہے ]
Ayah 9:99

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللّٰهِ وَ صَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْ١ؕ سَیُدْخِلُهُمُ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 9:99 in the Quran reader

اور انہی بدویوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اُسے اللہ کے تقرب کا اور رسولؐ کی طرف سے رحمت کی دعائیں لینے کا ذریعہ بناتے ہیں ہاں! وہ ضرور ان کے لیے تقرب کا ذریعہ ہے اور اللہ ضرور ان کو اپنی رحمت میں داخل کریگا، یقیناً اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

وَمِنَ الْاَعْرَابِ [ اور دیہاتیوں میں سے ] مَنْ [ وہ بھی ہیں جو ] يُّؤْمِنُ [ ایمان لاتے ہیں ] بِاللّٰهِ [ اللہ پر ] وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ [ اور آخری دن پر ] وَيَتَّخِذُ [ اور وہ بناتے ہیں ] مَا [ اس کو جو ] يُنْفِقُ [ وہ خرچ کرتے ہیں ] قُرُبٰتٍ [ قربت (کا ذریعہ ) ] عِنْدَ اللّٰهِ [ اللہ کے پاس ] وَصَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ ۭ [ اور ان رسول کی دعاؤں (کا ذریعہ ) ] اَلَآ [ سنو !] اِنَّهَا [ یقینا یہ ] قُرْبَةٌ [ قربت کا ذریعہ ہیں ] لَّھُمْ ۭ [ ان کے لیے ] سَـيُدْخِلُھُمُ [ داخل کرے گا ان کو ] اللّٰهُ [اللہ ] فِيْ رَحْمَتِهٖ ۭ [ اپنی رحمت میں ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] غَفُوْرٌ [ بےانتہا بخشنے والا ہے ] رَّحِيْمٌ [ ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ] (آیت ۔ 99) یتخذ کا مفعول اول ما ہے اور قربت اس کا مفعول ثانی ہے ۔ صلوت الرسول کا مفعول اول بھی مانا جاسکتا ہے ۔ اور مفعول ثانی بھی ۔ دونوں طرح سے ترجمے درست مانیں جائیں گے ۔ ہم مفعول ثانی مان کر ترجمہ کریں گے ۔
Ayah 9:100

وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ١ۙ رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:100 in the Quran reader

وہ مہاجر و انصار جنہوں نے سب سے پہلے دعوت ایمان پر لبیک کہنے میں سبقت کی، نیز وہ جو بعد میں راستبازی کے ساتھ پیچھے آئے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، یہی عظیم الشان کامیابی ہے

وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ [اور پہلے سبقت کرنے والے ] مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ [ مہاجروں میں سے ] وَالْاَنْصَارِ [ اور انصار میں سے ] ووَالَّذِيْنَ [ وہ لوگ جنھوں نے ] اتَّبَعُوْھُمْ [ پیروی کی ان کی ] بِاِحْسَانٍ ۙ [ بلاکم وکاست ] رَّضِيَ [ راضی ہوا ] اللّٰهُ [اللہ ] عَنْھُمْ [ ان سے ] وَرَضُوْا [اور وہ راضی ہوئے ] عَنْهُ [اس سے ] وَاَعَدَّ [ اور اس نے تیار کیے ] لَھُمْ [ ان کے لیے ] جَنّٰتٍ [ایسے باغات ] تَجْرِيْ [بہتی ہیں ] تَحْتَهَا [ جن کے نیچے ] الْاَنْهٰرُ [ نہریں ] خٰلِدِيْنَ [ ایک حالت میں رہنے والے ہوتے ہوئے ] فِيْهَآ [ ان میں ] اَبَدًا ۭ [ہمیشہ ہمیش ] ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ [ یہ ہی عظیم کامیابی ہے ] ترکیب : (آیت ۔ 100) وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ کو مرکب توصیفی اور مبتدا اور ؓ کو ان کی خبر مان کر ہم ترجمہ کریں گے ۔ اگر السابقون کو مبتدا اور الاؤلون کو اس کی خبر معرفہ مان کر ترجمہ کیا جائے تو وہ بھی درست ہوگا ۔
Ayah 9:101

وَ مِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ١ۛؕ وَ مِنْ اَهْلِ الْمَدِیْنَةِ١ؔۛ۫ مَرَدُوْا عَلَى النِّفَاقِ١۫ لَا تَعْلَمُهُمْ١ؕ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ١ؕ سَنُعَذِّبُهُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِیْمٍۚ Open ayah 9:101 in the Quran reader

تمہارے گرد و پیش جو بدوی رہتے ہیں ان میں بہت سے منافق ہیں اور اسی طرح خود مدینہ کے باشندوں میں بھی منافق موجود ہیں جو نفاق میں طاق ہو گئے ہیں تم انہیں نہیں جانتے، ہم ان کو جانتے ہیں قریب ہے وہ وقت جب ہم ان کو دوہری سزا دیں گے، پھر وہ زیادہ بڑی سزا کے لیے واپس لائے جائیں گے

وَمِمَّنْ [ اور ان میں سے ] حَوْلَكُمْ [ تمہارے اردگرد ] مِّنَ الْاَعْرَابِ [ دیہاتیوں میں سے ] مُنٰفِقُوْنَ ړ [ (وہ ) منافق ہیں ] وَمِنْ اَھْلِ الْمَدِيْنَةِ ڀ [ اور مدینہ والوں میں سے ] مَرَدُوْا [ جو اڑے رہے ] عَلَي النِّفَاقِ ۣ [ نفاق پر ] لَا تَعْلَمُھُمْ ۭ [ آپ نہیں جانتے ان کو ] نَحْنُ [ ہم ] نَعْلَمُھُمْ ۭ [ جانتے ہیں ان کو ] سَنُعَذِّبُھُمْ [ ہم عذاب دیں گے ان کو ] مَّرَّتَيْنِ [ دو مرتبہ ] ثُمَّ [ پھر ] يُرَدُّوْنَ [ وہ لوٹائے جائیں گے ] اِلٰى عَذَابٍ عَظِيْمٍ [ ایک عظیم عذاب کی طرف ] نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 101 میں ہے کہ ایسے منافق جو نفاق میں بہت آگے جا چکے ہیں ۔ انھیں عذاب عظیم یعنی دوزخ کے عذاب سے پہلے دومرتبہ عذاب دیا جائے گا ۔ اس میں ایک دنیا کی زندگی کا عذاب ہے اور دوسرا قبر کا عذاب ہے۔ دنیا کے عذاب کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں ۔ لیکن ایک صورت ایسی ہے جس میں تقریبا ہر منافق گرفتار ہوتا ہے ۔ وہ یہ کہ دنیا کے جن مفادات کے تحفظ کی خاطر ہو ” خوش رہے باغبان ، راضی رہے صیاد بھی “ کی روش اختیار کرتا ہے ، انھیں وہ محفوظ پھر بھی نہیں سمجھتا اور ہر وقت اسے کسی نہ کسی نقصان کا دھڑکا لگا رہتا ہے ۔ (اس کی مزید وضاحت کے لیے آیت ۔ 9:55 کا نوٹ ۔ 1 ، پھر سے پڑھ لیں ) یہ سوہان روح مستقل اس کی جان کو لاگو رہتا ہے ۔ جس کی وجہ سے وہ جھنجھلاہت ، غصہ ، اعصابی تناؤ ، بےخوابی وغیرہ میں وقفہ وقفہ سے مبتلا ہوتا رہتا ہے ، کچھ وقت گزرنے کے بعد یہی چیزیں اسے مختلف بیماریوں میں مبتلا کردیتی ہیں ، جن کی فہرست کافی طویل ہے ۔ اس طرح اس کی زندگی ایک مسلسل عذاب ہی ہوتی ہے ۔ اس دنیوی عذاب سے نجات کی ایک ہی صورت ہے، وہ یہ کہ انسان اس حقیقت کو تسلیم کرلیے کہ کسی معاملہ میں کوشش کرنے یا نہ کرنے کا اسے اختیار حاصل ہے، لیکن کسی کوشش کے نتیجہ پر اس کا کوئی اختیار نہیں ہے ۔ ہر کوشش کا نتیجہ اللہ تعالیٰ نے اپنے قبضہ قدرت میں رکھا ہے۔ اپنے علم اور حکمت کی بنیاد پر وہ کسی کوشش کا وہ نتیجہ عطا کرتا ہے۔ جو Over All تناظر میں بندے کے حق میں مفید ہوتا ہے ۔ یہ ہماری اپنی کوتاہ بینی اور کم فہمی ہے کہ کسی نتیجہ کو ہم برا سمجھتے ہیں ۔ اس حقیقت پر جب دل ٹھک جائے تو پھر کسی کوشش کا جو بھی نتیجہ نکلے ، کامیابی ہو یا ناکامی ، فائدہ ہو یا نقصان اور ہر حال میں راضی برضا رہنے کا خود کو خوگر بنالے ، تو مذکورہ دنیوی عذاب سے نجات پاجائے گا ، اس کے علاوہ اس سے نجات کا اور کوئی راستہ نہیں ہے۔
Ayah 9:102

وَ اٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّ اٰخَرَ سَیِّئًا١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:102 in the Quran reader

کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے اپنے قصوروں کا اعتراف کر لیا ہے ان کا عمل مخلوط ہے، کچھ نیک ہے اور کچھ بد، بعید نہیں کہ اللہ ان پر پھر مہربان ہو جائے کیونکہ وہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

وَاٰخَرُوْنَ [ اور کچھ دوسرے ہیں ] اعْتَرَفُوْا [ جنھوں نے اعتراف کیا ] بِذُنُوْبِهِمْ [ اپنے گناہوں کا ] خَلَطُوْا [ انھوں نے گڈمڈ کیا ] عَمَلًا صَالِحًا [ نیک عمل کو ] وَّاٰخَرَ سَـيِّـــًٔـا ۭ [ اور دوسرے برے کو ] عَسَى [ قریب ہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] اَنْ [ کہ ] يَّتُوْبَ عَلَيْهِمْ ۭ [ وہ توبہ قبول کرے ان کی ] اِنَّ اللّٰهَ ہ [یقینا اللہ ] غَفُوْرٌ [ بےانتہا بخشنے والا ہے ] رَّحِيْمٌ [ ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ]
Ayah 9:103

خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:103 in the Quran reader

اے نبیؐ، تم ان کے اموال میں سے صدقہ لے کر انہیں پاک کرو اور (نیکی کی راہ میں) انہیں بڑھاؤ، اور ان کے حق میں دعائے رحمت کرو کیونکہ تمہاری دعا ان کے لیے وجہ تسکین ہوگی، اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے

خُذْ [ آپ پکڑیں (یعنی قبول کریں ) ] مِنْ اَمْوَالِهِمْ [ ان کے مالوں سے ] صَدَقَـةً [ وہ صدقہ ] تُطَهِّرُھُمْ [ جو پاک کرتا ہے ان کو ] وَتُزَكِّيْهِمْ [ اور آپ تزکیہ کرتے ہیں ان کا ] بِهَا [ جس سے ] وَصَلِّ [ اور آپ دعا دیں ] عَلَيْهِمْ ۭ [ انکو ] اِنَّ [ بیشک ] صَلٰوتَكَ [آپ کی دعا ] سَكَنٌ [ تسکین ہے ] لَّھُمْ ۭ [ ان کے لیے ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] سَمِيْعٌ [ سننے والا ہے ] عَلِيْمٌ [جاننے والا ہے ] (آیت ۔ 103) صدقۃ نکرہ موصوفہ ہے اور تطھر واحد مؤنث کے صیغہ میں اس کی صفت ہے۔ یہاں پر تطھر کو واحد مذکر مخاطب کا صیغہ ماننے کی گنجائش نہیں ہے ۔ کیونکہ ایسی صورت میں یہ فعل امر خذ کا جواب امر ہونے کی وجہ سے مجزوم یعنی تطھر ہوتا ۔ آگے تزکی واحد مذکر مخاطب کا صیغہ ہے۔
Ayah 9:104

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ هُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 9:104 in the Quran reader

کیا اِن لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ وہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کی خیرات کو قبولیت عطا فرماتا ہے، اور یہ کہ اللہ بہت معاف کرنے والا اور رحیم ہے؟

اَ [ کیا ] لَمْ يَعْلَمُوْٓا [ انھوں نے نہیں جانا ] اَنَّ [ کہ ] اللّٰهَ [ اللہ ] ھُوَ [ وہ ہی ] يَقْبَلُ [ قبول کرتا ہے ] التَّوْبَةَ [ توبہ ] عَنْ عِبَادِهٖ [ اپنے بندوں سے ] وَيَاْخُذُ [ اور وہ پکڑتا (قبول کرتا ہے ) ] الصَّدَقٰتِ [ صدقات ] وَاَنَّ [ اور یہ کہ ] اللّٰهَ [ اللہ ] ھُوَ التَّوَّابُ [ ہی بار بار قبول کرنے والا ہے ] الرَّحِيْمُ [ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ]
Ayah 9:105

وَ قُلِ اعْمَلُوْا فَسَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ وَ سَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 9:105 in the Quran reader

اور اے نبیؐ، اِن لوگوں سے کہدو کہ تم عمل کرو، اللہ اور اس کا رسول اور مومنین سب دیکھیں گے کہ تمہارا طرز عمل اب کیا رہتا ہے پھر تم اُس کی طرف پلٹائے جاؤ گے جو کھلے اور چھپے سب کو جانتا ہے اور وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو

وَقُلِ [ اور آپ کہہ دیجیے ] اعْمَلُوْا [ تم لوگ عمل کرو ] فَسَيَرَى [ پھر دیکھے گا ] اللّٰهُ [ اللہ ] عَمَلَكُمْ [ تمہارے عمل کو ] وَرَسُوْلُهٗ [ اور اس کا رسول ] وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۭ [اور مومن لوگ (بھی ) ] وستردون [ اور تم لوگ لوٹائے جاؤگے ] اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ [ موجود اور غائب کے عالم کی طرف ] فَيُنَبِّئُكُمْ [ پھر وہ جتا دے گا تم لوگوں کو ] بِمَا [ وہ جو ] كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ] [ تم لوگ کرتے تھے ]
Ayah 9:106

وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ اِمَّا یُعَذِّبُهُمْ وَ اِمَّا یَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:106 in the Quran reader

کچھ دوسر ے لوگ ہیں جن کا معاملہ ابھی خدا کے حکم پر ٹھیرا ہوا ہے، چاہے انہیں سزا دے اور چاہے اُن پر از سر نو مہربان ہو جائے اللہ سب کچھ جانتا ہے اور حکیم و دانا ہے

وَاٰخَرُوْنَ [ اور کچھ دوسرے ] مُرْجَوْنَ [ ملتوی کیے ہوئے ہیں ] لِاَمْرِ اللّٰهِ [ اللہ کے حکم کے لیے ] اِمَّا [ یا ] يُعَذِّبُھُمْ [ وہ عذاب دے گا ان کو ] وَاِمَّا [ اور یا ] يَتُوْبُ عَلَيْهِمْ ۭ [ وہ توبہ قبول کرے گا ان کی ] وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ [ اور اللہ جاننے والا ہے ] حَكِيْمٌ [ حکمت والا ہے ]
Ayah 9:107

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّ كُفْرًا وَّ تَفْرِیْقًۢا بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّا الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 9:107 in the Quran reader

کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے ایک مسجد بنائی اِس غرض کے لیے کہ (دعوت حق کو) نقصان پہنچائیں، اور (خدا کی بندگی کرنے کے بجائے) کفر کریں، اور اہل ایمان میں پھوٹ ڈالیں، اور (اس بظاہر عبادت گاہ کو) اُس شخص کے لیے کمین گاہ بنائیں جو اس سے پہلے خدا اور رسولؐ کے خلاف بر سر پیکار ہو چکا ہے وہ ضرور قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہمارا ارادہ تو بھلائی کے سوا کسی دوسری چیز کا نہ تھا مگر اللہ گواہ ہے کہ وہ قطعی جھوٹے ہیں

وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جنھوں نے ] اتَّخَذُوْا [ بنائی ] مَسْجِدًا [ ایک مسجد ] ضِرَارًا [ نقصان پہنچانے والی ] وَّكُفْرًا [ اور کفر کرنے والی ] وَّتَفْرِيْقًۢا [ اور پھوٹ ڈالنے کو ] بَيْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ [ مومنوں کے مابین ] وَاِرْصَادًا [ اور نگران مقرر کرنے کو ] لِّمَنْ [ اس کے لیے (یعنی اس کی طرف سے ) جس نے ] حَارَبَ [ لڑائی کی ] اللّٰهَ [ اللہ ] وَرَسُوْلَهٗ [ اور اس کے رسول سے ] مِنْ قَبْلُ ۭ [ اس سے پہلے ] وَلَيَحْلِفُنَّ [ اور وہ لازما قسم کھائیں گے ] اِنْ [ (کہ ) نہیں ] اَرَدْنَآ [ ارادہ کیا ہم نے ] اِلَّا [ مگر ] الْحُسْنٰى ۭ [بھلائی کا ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] يَشْهَدُ [ گواہی دیتا ہے ] اِنَّھُمْ [ کہ وہ ] لَكٰذِبُوْنَ [ یقینا جھوٹے ہیں ] ترکیب : (آیت ۔ 107) اتخذوا کا مفعول اول مسجدا جبکہ ضرارا ، کفرا اور تفریقا اور ارصادا مفعول ثانی ہیں ۔ ان میں ضرارا باب مفاعلہ کا ، کفرا ثلاثی مجرد کا تفریقا باب تفعیل کا اور ارصاد اور باب افعال کا مصدر ہے۔ نوٹ ۔ 1: مدینہ کا ایک شخص ابو عامر زمانہ جاہلیت میں عیسائی ہوگیا تھا اور ابوعامر راہب کے نام سے مشہور تھا ، رسول اللہ ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو اس نے آپ کی مخالفت کی اور غزوہ حنین تک تمام غزوات میں مسلمانوں کے خلاف جنگ میں شرکت کی ، اس کے بعد یہ شام کی طرف چلا گیا اور قیصر روم کو آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ وہ مدنیہ پر فوج پر کشی کرے، اس کے ساتھ ہی اس نے منافقین کو ہدایت کی کہ تم لوگ اپنی طاقت کو مجتمع کرنے کے لیے ایک مسجد بناؤ ، اس میں اپنے لوگوں کو جمع کرو اور ممکنہ حد تک اسلحہ بھی جمع کرو تاکہ وقت پر قیصر روم کی مدد کرسکو ۔ چناچہ منافقین نے قباء کے مقام پر ایک دوسری مسجد کی بنیاد رکھی اور رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ آپ اس میں ایک نماز پڑھ لیں ، تاکہ برکت ہوجائے ، آپ اس وقت غزوہ تبوک کی تیا ری میں مشغول تھے اس لیے آپ نے واپسی کے بعد اس میں نماز پڑھنے کی حامی بھر لی ، لیکن واپسی کے وقت آپ مدینہ کے قریب ایک مقام پر فروکش تھے تو یہ آیات نازل ہوئیں ۔ چناچہ آپ نے صحابہ کرام ؓ کو حکم دیا کہ جا کر اس مسجد کو گرا دو اور اس میں آگ لگا دو ۔ مسجد قبا سے کچھ فاصلے پر یہ جگہ آج تک ویران پڑی ہے۔ (معارف القرآن )
Ayah 9:108

لَا تَقُمْ فِیْهِ اَبَدًا١ؕ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْهِ١ؕ فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَهَّرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ Open ayah 9:108 in the Quran reader

تم ہرگز اس عمارت میں کھڑے نہ ہونا جو مسجد اول روز سے تقویٰ پر قائم کی گئی تھی وہی اس کے لیے زیادہ موزوں ہے کہ تم اس میں (عباد ت کے لیے) کھڑے ہو، اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ کو پاکیزگی اختیار کرنے والے ہی پسند ہیں

لَا تَقُمْ [ آپ مت کھڑے ہوں ] فِيْهِ [ اس میں ] اَبَدًا ۭ [کبھی بھی ] لَمَسْجِدٌ [ بیشک ایسی مسجد ] اُسِّسَ [ بنیاد بھری گئی جس کی ] عَلَي التَّقْوٰى [ تقوی پر (یعنی سے ) ] مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ [ پہلے دن سے ] اَحَقُّ [ زیادہ حقدار ] اَنْ [کہ ] تَقُوْمَ [ آپ کھڑے ہوں ] فِيْهِ ۭ [ اس میں ] فِيْهِ [اس میں ] رِجَالٌ [ ایسے مرد ہیں ] يُّحِبُّوْنَ [ جو پسند کرتے ہیں ] اَنْ [ کہ ] يَّتَطَهَّرُوْا ۭ [ وہ خوب پاک رہیں ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] يُحِبُّ [پسند کرتا ہے ] الْمُطَّهِّرِيْنَ [خوب پاک رہنے والوں کو ] ء س س (ن) اسا ، کسی عمارت کی بنیاد رکھنا ۔ (تفعیل ) تاسیسا ، بنیاد رکھنا ۔ اس میں مبالغہ کا مفہوم ہے یعنی بنیاد بھرنا ، زیرمطالعہ آیت ۔ 108 ۔ 109 ۔
Ayah 9:109

اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى تَقْوٰى مِنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٍ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهٖ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:109 in the Quran reader

پھر تمہارا کیا خیال ہے کہ بہتر انسان وہ ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کی رضا کی طلب پر رکھی ہو یا وہ جس نے اپنی عمارت ایک وادی کی کھوکھلی بے ثبات کگر پر اٹھائی اور وہ اسے لے کر سیدھی جہنم کی آگ میں جا گری؟ ایسے ظالم لوگوں کو اللہ کبھی سیدھی راہ نہیں دکھاتا

اَفَمَنْ [تو کیا وہ ] اَسَّسَ [ جس نے بنیاد بھری ] بُنْيَانَهٗ [ اپنی عمارت کی ] عَلٰي تَقْوٰى مِنَ اللّٰهِ [ اللہ کے تقوی پر ] وَرِضْوَانٍ [ اور رضا مندی پر ] خَيْرٌ [ بہتر ہے ] اَمْ مَّنْ [ یا وہ ] اَسَّسَ [ جس نے بنیاد بھری ] بُنْيَانَهٗ [اپنی عمارت کی ] عَلٰي شَفَا جُرُفٍ ھَارٍ [ گرنے والے چھجے کے کنارے پر ] فَانْهَارَ [ تو وہ گرپڑا ] بِهٖ [ اس کے (یعنی ) عمارت کے ساتھ ] فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ ۭ [ دوزخ کی آگ میں ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] لَا يَهْدِي [ ہدایت نہیں دیتا ] الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ [ ظالم لوگوں کو ] ج ر ف، (ن) جرفا ، مٹی کھودنا ، مٹی کھرچنا۔ جرف ۔ دریا کا ایسا کنارہ جس کی مٹی پانی بہا لے گیا ہو ، چھجہ ۔ Cliff زیر مطالعہ آیت ۔ 109 ۔ ھ ور ، (ن) ھورا ۔ عمارت کا گرنا ۔ ھار ، اسم الفاعل ہے۔ قاعدہ کے مطابق اس کا اسم الفاعل ھا ئر بنتا ہے اور استعمال بھی ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ھار بھی استعمال ہوتا ہے ۔ گرنے والا ۔ زیرمطالعہ آیت ۔ 109 ۔ (الفعال) انھیارا ۔ گرپڑنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 109 ۔ (آیت ۔ 109) شفا مضاف ہے، جرف اس کا مضاف الیہ ہے، جبکہ ھار صفت ہے۔ جرف کی
Ayah 9:110

لَا یَزَالُ بُنْیَانُهُمُ الَّذِیْ بَنَوْا رِیْبَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلَّاۤ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 9:110 in the Quran reader

یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے، ہمیشہ ان کے دلوں میں بے یقینی کی جڑ بنی رہے گی (جس کے نکلنے کی اب کوئی صورت نہیں) بجز اس کے کہ ان کے دل ہی پارہ پارہ ہو جائیں اللہ نہایت باخبر اور حکیم و دانا ہے

لَا يَزَالُ [ ہمیشہ رہے گا ] بُنْيَانُھُمُ الَّذِيْ [ ان کی عمارت سے جو ] بَنَوْا [ انہوں نے بنائی ] رِيْبَةً [ ایک شک ] فِيْ قُلُوْبِهِمْ [ ان کے دلوں میں ] اِلَّآ اَنْ [ سوائے اس کے کہ ] تَقَطَّعَ [ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں ] قُلُوْبُھُمْ ۭ [ ان کے دل ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] عَلِيْمٌ [ جاننے والا ہے ] حَكِيْمٌ [ حکمت والا ہے ] (آیت ۔ 110) لا یزال فعل ناقص ہے، بنیانہم اس کا اسم ہے اور ریبۃ اس کی ضمیر ہے۔
Ayah 9:111

اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ١ؕ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیَقْتُلُوْنَ وَ یُقْتَلُوْنَ١۫ وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ وَ الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِكُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِهٖ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:111 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں سے ان کے نفس اور ان کے مال جنت کے بدلے خرید لیے ہیں وہ اللہ کی راہ میں لڑتے اور مارتے اور مرتے ہیں ان سے (جنت کا وعدہ) اللہ کے ذمے ایک پختہ وعدہ ہے توراۃ اور انجیل اور قرآن میں اور کون ہے جو اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کا پورا کرنے والا ہو؟ پس خوشیاں مناؤ اپنے اس سودے پر جو تم نے خدا سے چکا لیا ہے، یہی سب سے بڑی کامیابی ہے

اِنَّ اللّٰهَ [بیشک اللہ نے ] اشْتَرٰي [ خرید لیا ] مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ [ مومنوں سے ] اَنْفُسَھُمْ [ان کی جانوں کو ] وَاَمْوَالَھُمْ [ اور ان کے مالوں کو ] بِاَنَّ [ اس کے عوض کہ ] لَھُمُ [ ان کے لیے ] الْجَنَّةَ ۭ [ جنت ہے ] يُقَاتِلُوْنَ [ وہ لوگ جنگ کرتے ہیں ] فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ [ اللہ کی راہ میں ] فَيَقْتُلُوْنَ [ تو وہ قتل کیے جاتے ہیں ] وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا [ پکا وعدہ ہو اس پر (یعنی اللہ پر) ] فِي التَّوْرٰىةِ [ تورات میں ] وَالْاِنْجِيْلِ [ اور انجیل میں ] وَالْقُرْاٰنِ [اور قرآن میں ] وَمَنْ [اور کون ] اَوْفٰى [ زیادہ وفا کرنے والا ] بِعَهْدِهٖ [ اپنے وعدہ کو ] مِنَ اللّٰهِ [ اللہ سے ] فَاسْـتَبْشِرُوْا [ پس تم لوگ خوشی مناؤ ] بِبَيْعِكُمُ الَّذِيْ [ اپنے اس سودے کی جس کا ] بَايَعْتُمْ [ تم نے معاہدہ کیا ] بِهٖ ۭ [ اس سے ] وَذٰلِكَ [ اور یہ ] ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ [ ہی عظیم کامیابی ہے ] ترکیب : (آیت ۔ 111) وعدا ، حقا مرکب توصیفی ہے اور فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے۔ علیہ کی ضمیر اللہ کے لیے ہے ۔ اوفی ، فعل ماضی بھی ہوسکتا تھا لیکن آگے من اللہ سے معلوم ہوا کہ یہ فعل ماضی نہیں بلکہ افعل تفضیل ہے۔
Ayah 9:112

اَلتَّآئِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآئِحُوْنَ الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ النَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:112 in the Quran reader

اللہ کی طرف بار بار پلٹنے والے، اُس کے بندگی بجا لانے والے، اُس کی تعریف کے گن گانے والے، اُس کی خاطر زمین میں گردش کرنے والے، اُس کے آگے رکوع اور سجدے کرنے والے، نیکی کا حکم دینے والے، بدی سے روکنے والے، اور اللہ کے حدود کی حفاظت کرنے والے، (اس شان کے ہوتے ہیں وہ مومن جو اللہ سے خرید و فروخت کا یہ معاملہ طے کرتے ہیں) اور اے نبیؐ ان مومنوں کو خوش خبری دے دو

اَلتَّاۗىِٕبُوْنَ [ توبہ کرنے والے ] الْعٰبِدُوْنَ [ بندگی کرنے والے ] الْحٰمِدُوْنَ [حمد کرنے والے ] السَّاۗىِٕحُوْنَ [ روزہ رکھنے والے ] الرّٰكِعُوْنَ [ رکوع کرنے والے ] السّٰجِدُوْنَ [ سجدہ کرنے والے ] الْاٰمِرُوْنَ [ترغیب دینے والے ] بِالْمَعْرُوْفِ [ بھلائی کی ] وَالنَّاهُوْنَ [ اور منع کرنے والے ] عَنِ الْمُنْكَرِ [برائی سے ] وَالْحٰفِظُوْنَ [ اور حفاظت کرنے والے ] لِحُدُوْدِ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کی حدود کی ] وَبَشِّرِ [ اور آپ بشارت دیجیے ] الْمُؤْمِنِيْنَ [مومنون کو ]
Ayah 9:113

مَا كَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِیْنَ وَ لَوْ كَانُوْۤا اُولِیْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 9:113 in the Quran reader

نبیؐ کو اور اُن لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں، زیبا نہیں ہے کہ مشرکوں کے لیے مغفرت کی دعا کریں، چاہے وہ ان کے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں، جبکہ ان پر یہ بات کھل چکی ہے کہ وہ جہنم کے مستحق ہیں

مَا كَانَ [ نہیں ہے ] لِلنَّبِيِّ [ ان کے نبی کے لیے ] وَالَّذِيْنَ [ اور ان کے لیے جو ] اٰمَنُوْٓا [ ایمان لائے ] اَنْ [کہ ] يَّسْتَغْفِرُوْا [ وہ استغفار کریں ] لِلْمُشْرِكِيْنَ [ مشرکوں کے لیے ] وَلَوْ [اور اگر چہ ] كَانُوْٓا [ وہ تھے ] اُولِيْ قُرْبٰى [ قربت والے ] مِنْۢ بَعْدِ مَا [ اس کے بعد کہ جو ] تَبَيَّنَ [ واضح ہوا ] لَھُمْ [ ان پر ] اَنَّھُمْ [ کہ وہ لوگ ] اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ [ دوزخ والے ہیں ]
Ayah 9:114

وَ مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ١ؕ اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِیْمٌ Open ayah 9:114 in the Quran reader

ابراہیمؑ نے اپنے باپ کے لیے جو دعائے مغفرت کی تھی وہ تو اُس وعدے کی وجہ سے تھی جو اس نے اپنے باپ سے کیا تھا، مگر جب اس پر یہ بات کھل گئی کہ اس کا باپ خدا کا دشمن ہے تو وہ اس سے بیزار ہو گیا، حق یہ ہے کہ ابراہیمؑ بڑا رقیق القلب و خداترس اور بردبار آدمی تھا

وَمَا كَانَ [ اور نہیں تھا ] اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ [ ابراہیم کا استغفار ] لِاَبِيْهِ [ اپنے والد کے لیے ] اِلَّا [ مگر ] عَنْ مَّوْعِدَةٍ [ ایک وعدے کے وقت سے ] وَّعَدَھَآ [ انھوں نے وعدہ کیا جس کا ] اِيَّاهُ ۚ [اس سے ] فَلَمَّا [ پھر جب ] تَـبَيَّنَ [ واضح ہوا ] لَهٗٓ [ ان پر ] اَنَّهٗ [ کہ وہ ] عَدُوٌّ [ دشمن ہے ] لِّلّٰهِ [ اللہ کا ] تَبَرَّاَ [ تو انھوں نے بیزاری کا اظہار کیا ] مِنْهُ ۭ [ اس سے ] اِنَّ [ بیشک ] اِبْرٰهِيْمَ [ ابراہیم ] لَاَوَّاهٌ [ یقینا بہت درد مند تھے ] حَلِيْمٌ [ بردبار تھے ] ء وھ : (ن) اوھا ، دوسروں کی تکلیف کا احساس کرنا ، درد مند ہونا ۔ آہ بھرنا ۔ اواھ ، فعال ، کے وزن پر مبالغہ ہے۔ بہت درد مند ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 114،
Ayah 9:115

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِلَّ قَوْمًۢا بَعْدَ اِذْ هَدٰىهُمْ حَتّٰى یُبَیِّنَ لَهُمْ مَّا یَتَّقُوْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 9:115 in the Quran reader

اللہ کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ لوگوں کو ہدایت دینے کے بعد پھر گمراہی میں مبتلا کرے جب تک کہ انہیں صاف صاف بتا نہ دے کہ انہیں کن چیزوں سے بچنا چاہیے درحقیقت اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے

وَمَا كَانَ [ اور نہیں ہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] لِيُضِلَّ [ کہ وہ گمراہ کرے ] قَوْمًۢا [ کسی قوم کو ] بَعْدَ اِذْ [ اس کے بعد کہ جب ] هَدٰىھُمْ [ اس نے ہدایت دی ان کو ] حَتّٰي [ یہاں تک کہ ] يُبَيِّنَ [ وہ واضح کردے ] لَھُمْ [ ان کے لیے ] مَّا [ اس کو جس سے ] يَتَّقُوْنَ ۭ [ وہ بچتے رہیں ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] بِكُلِّ شَيْءٍ [ ہر چیز کو ] عَلِيْمٌ [ جاننے والا ہے ] نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 115 میں ایک قائدہ کلیہ بیان ہوا ہے جس سے قرآن مجید کے وہ تمام مقامات اچھی طرح سمجھے جاسکتے ہیں جہاں ہدایت دینے اور گمراہ کرنے کو اللہ تعالیٰ نے اپنا فعل بتایا ہے۔ اللہ کا ہدایت دینا یہ ہے کہ وہ صحیح فکر وعمل کو اپنے انبیاء اور اپنی کتابوں کے ذریعہ سے لوگوں کے سامنے واضح طور پر پیش کردیتا ہے ۔ پھر جو لوگ اس طریقے پر خود چلنے کے لیے آمادہ ہوتے ہیں انھیں اس کی توفیق بخشتا ہے ۔ اور اللہ کا گمراہی میں ڈالنا یہ ہے کہ جو صحیح فکر وعمل اس نے بتایا ہے، اگر کوئی اس کے خلاف چلنے پر اصرار کرے اور سیدھا نہ چلنا چاہے تو اللہ تعالیٰ اس کو زبردستی راہ راست پر نہیں لاتا ، بلکہ جدھر وہ خود جانا چاہتا ہے، اسی طرف اس کو جانے کی توفیق دے دیتا ہے ۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 9:116

اِنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 9:116 in the Quran reader

اور یہ بھی واقعہ ہے کہ اللہ ہی کے قبضہ میں آسمان و زمین کی سلطنت ہے، اسی کے اختیار میں زندگی و موت ہے، اور تمہارا کوئی حامی و مددگار ایسانہیں ہے جو تمہیں اس سے بچا سکے

اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] لَهٗ [ اس کے لیے ہی ہے ] مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ [ زمین اور آسمانوں کی بادشاہت ] يُـحْيٖ [ وہ زندگی دیتا ہے ] وَيُمِيْتُ ۭ [ اور وہ موت دیتا ہے ] وَمَا لَكُمْ [ اور نہیں ہے تمہارے لیے ] مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے سوا ] مِنْ وَّلِيٍّ [ کوئی بھی کار ساز ] وَّلَا نَصِيْرٍ [ اور نہی ہی کوئی مددگار ]
Ayah 9:117

لَقَدْ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِیِّ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ فِیْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ یَزِیْغُ قُلُوْبُ فَرِیْقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّهٗ بِهِمْ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 9:117 in the Quran reader

اللہ نے معاف کر دیا نبیؐ کو اور ان مہاجرین و انصار کو جنہوں نے بڑی تنگی کے وقت میں نبیؐ کا ساتھ دیا اگر چہ ان میں سے کچھ لوگوں کے دل کجی کی طرف مائل ہو چکے تھے (مگر جب انہوں نے اس کجی کا اتباع نہ کیا بلکہ نبیؐ کا ساتھ ہی دیا تو) اللہ نے انہیں معاف کر دیا، بے شک اُس کا معاملہ اِن لوگوں کے ساتھ شفقت و مہربانی کا ہے

لَقَدْ تَّابَ [ بیشک متوجہ ہوا ہے ] اللّٰهُ [اللہ ] عَلَي النَّبِيِّ [ان نبی پر ] وَالْمُهٰجِرِيْنَ [ اور مہاجروں پر ] وَالْاَنْصَارِ [ اور انصار پر ] الَّذِيْنَ [جنہوں نے ] اتَّبَعُوْهُ [پیروی کی ان کی ] فِيْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ [ مشکل گھڑی میں ] مِنْۢ بَعْدِ مَا [اس کے بعد کہ جو ] كَادَ يَزِيْغُ [قریب تھا کہ بہک جائیں ] قُلُوْبُ فَرِيْقٍ [ ایک فریق کے دل ] مِّنْھُمْ [ ان میں سے ] ثُمَّ [ پھر ] تَابَ [ اس نے توجہ فرمائی ] عَلَيْهِمْ ۭ [ ان پر ] اِنَّهٗ [ بیشک وہ ] بِهِمْ [ ان پر ] رَءُوْفٌ [ بےانتہا شفقت کرنے والا ہے ] رَّحِيْمٌ ] [رحم کرنے والا ہے ]
Ayah 9:118

وَّ عَلَى الثَّلٰثَةِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْهِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَ ضَاقَتْ عَلَیْهِمْ اَنْفُسُهُمْ وَ ظَنُّوْۤا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰهِ اِلَّاۤ اِلَیْهِ١ؕ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ لِیَتُوْبُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 9:118 in the Quran reader

اور اُن تینوں کو بھی اس نے معاف کیا جن کے معاملہ کو ملتوی کر دیا گیا تھا جب زمین اپنی ساری وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہو گئی اور ان کی اپنی جانیں بھی ان پر بار ہونے لگیں اور انہوں نے جان لیا کہ اللہ سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ خود اللہ ہی کے دامن رحمت کے سوا نہیں ہے، تو اللہ اپنی مہربانی سے ان کی طرف پلٹا تاکہ وہ اس کی طرف پلٹ آئیں، یقیناً وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے

وَّعَلَي الثَّلٰثَةِ الَّذِيْنَ [ اور ان تین پر (بھی ) جن کو ] خُلِّفُوْا ۭ ا [ پیچھے کیا گیا (فیصلے کے لیے ) ] حَتّٰى [ یہاں تک کہ ] اِذَا [ جب ] ضَاقَتْ [ تنگ ہوئی ] عَلَيْهِمُ [ ان پر ] الْاَرْضُ [ زمین ] بِمَا [ ساتھ اس کے جو ] رَحُبَتْ [ وہ کشادہ تھی ] وَضَاقَتْ [ اور تنگ ہوئیں ] عَلَيْهِمْ [ ان پر ] اَنْفُسُھُمْ [ ان کی جانیں ] وَظَنُّوْٓا [ اور انھوں نے خیال کیا ] اَنْ [ کہ ] لَّا مَلْجَاَ [ کوئی بھی پناہ گاہ نہیں ہے ] مِنَ اللّٰهِ [ اللہ سے (بچنے کی ) ] اِلَّآ [مگر ] اِلَيْهِ ۭ [ اس کی طرف ہی ] ثُمَّ تَابَ [ پھر اس نے توجہ فرمائی ] عَلَيْهِمْ [ ان پر ] لِيَتُوْبُوْا ۭ [تاکہ وہ توبہ کریں ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] ھُوَ التَّوَّابُ [ ہی بار بار توبہ قبول کرنے والا ہے ] الرَّحِيْمُ [ ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ] (آیت ۔ 118) وعلی الثلثۃ ، گذشتہ آیت میں لقد تاب اللہ پر عطف ہے ۔ نوٹ ۔ 2 غزوہ تبوک کے لیے تمام مسلمانوں کو نکلنے کا حکم دیا گیا تھا ۔ اس وقت مدینہ کے لوگوں کے مختلف گروہ ہوگئے تھے ، ایک منافق ، جن کا ذکر گذشتہ آیات میں آچکا ہے ۔ مومنین کے گروہوں کا ذکر آیت ۔ 117 ۔ 118، میں آیا ہے ۔ مومنوں کا ایک گروہ حکم پاتے ہی فورا جہاد کے لیے تیارہو گیا ان کا ذکر آیت ۔ 117 میں الذین اتبعوہ فی ساعۃ العسرۃ میں ہے ۔ دوسرا گروہ وہ ابتداء تردد میں رہا لیکن پھر سنبھل گیا اور سب کے ساتھ جہاد پر روانہ ہوا ۔ ان کے لیے فرمایا کاد یزیغ قلوب فریق ۔ مومنین کا تیسرا گروہ ، وہ تھا جو جہاد پر نہیں گیا بعد میں بہانے نہیں تراشے بلکہ اپنے قصور کا اعتراف کیا ، یہ کل دس صحابہ تھے ، ان میں سے سات نے خود کو مسجد نبوی کے ستونوں سے باندھ لیا تھا کہ جب اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کرے گا تب وہ کھلیں گے ، ان کی توبہ قبول کرنے کا ذکر آیت ۔ 102 میں گزر چکا ہے۔ باقی تین نے یہ عمل نہیں کیا ۔ ان کے معاشرتی بائیکاٹ کا حکم ہوا تھا ۔ ان کی توبہ قبول کرنے کا ذکر آیت ۔ 118 میں ہے۔
Ayah 9:119

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 9:119 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کا ساتھ دو

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ [اے لوگو ! جو ] اٰمَنُوا [ایمان لائے ] اتَّقُوا [ تقوی کرو ] اللّٰهَ [ اللہ سے ] وَكُوْنُوْا [ اور ہوجاؤ] مَعَ الصّٰدِقِيْنَ [ سچ کہنے والوں کے ساتھ ]
Ayah 9:120

مَا كَانَ لِاَهْلِ الْمَدِیْنَةِ وَ مَنْ حَوْلَهُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ یَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ لَا یُصِیْبُهُمْ ظَمَاٌ وَّ لَا نَصَبٌ وَّ لَا مَخْمَصَةٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَطَئُوْنَ مَوْطِئًا یَّغِیْظُ الْكُفَّارَ وَ لَا یَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّیْلًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 9:120 in the Quran reader

مدینے کے باشندوں اور گرد و نواح کے بدویوں کو یہ ہرگز زبیا نہ تھا کہ اللہ کے رسول کو چھوڑ کر گھر بیٹھ رہتے اور اس کی طرف سے بے پروا ہو کر اپنے اپنے نفس کی فکر میں لگ جاتے اس لیے کہ ایسا کبھی نہ ہوگا کہ اللہ کی راہ میں بھوک پیاس اور جسمانی مشقت کی کوئی تکلیف وہ جھیلیں، اور منکرین حق کو جو راہ ناگوار ہے اُس پر کوئی قدم وہ اٹھائیں، اور کسی دشمن سے (عداوت حق کا) کا کوئی انتقام وہ لیں اور اس کے بدلے ان کے حق میں ایک عمل صالح نہ لکھا جائے یقیناً اللہ کے ہاں محسنوں کا حق الخدمت مارا نہیں جاتا ہے

مَا كَانَ [ نہیں (مناسب ) تھا ] لِاَھْلِ الْمَدِيْنَةِ [ مدینہ والوں کے لیے ] وَمَنْ [ اور ان کے لیے جو ] حَوْلَھُمْ [ ان کے اردگرد ہیں ] مِّنَ الْاَعْرَابِ [ دیہاتیوں میں سے ] اَنْ [ کہ ] يَّتَخَلَّفُوْا [ وہ پیچھے رہیں ] عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ [ اللہ کے رسول سے ] وَلَا يَرْغَبُوْا [ اور یہ کہ نہ چاہیں ] بِاَنْفُسِهِمْ [ اپنی جانوں کو ] عَنْ نَّفْسِهٖ ۭ [ ان کی جان سے (زیادہ ) ] ذٰلِكَ [ یہ ] بِاَنَّھُمْ [ اس سبب سے کہ ] لَا يُصِيْبُھُمْ [ نہیں پہنچتی ان کو [ یعنی مجاہدین کو )] ظَمَاٌ [ کوئی پیاس ] وَّلَا نَصَبٌ [ اور نہ کوئی مشقت ] وَّلَا مَخْمَصَةٌ [ اور نہ کوئی شدید بھوک کا وقت ] فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ [ اللہ کی راہ میں ] وَلَا يَـطَــــــُٔوْنَ [ اور وہ پیر سے نہیں روندتے ] مَوْطِئًا [ کسی ایسی روندنے کی جگہ کو جو ] يَّغِيْظُ [ سخت غصہ دلائے ] الْكُفَّارَ [ کافروں کو ] وَلَا يَنَالُوْنَ [ اور وہ حاصل نہیں کرتے ] مِنْ عَدُوٍّ [ کسی دشمن سے ] نَّيْلًا [ کوئی مطلوبہ چیز ] اِلَّا [ مگر (یہ کہ ) ] كُتِبَ [ لکھا گیا ] لَھُمْ [ ان کے لیے ] بِهٖ [ اس کے سبب سے ] عَمَلٌ صَالِحٌ ۭ [ ایک نیک عمل ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] لَا يُضِيْعُ [ ضائع نہیں کرتا ] اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ [ بلاکم وکاست کام کرنے والوں کے اجر کو ] ظ م ء : (س) ظمئا ، پیاسا ہونا، وَاَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِيْهَا وَلَا تَضْحٰي [اور یہ کہ تو پیاسا نہیں ہوگا اس میں اور نہ دھوپ لگے گی ] 20:119 ۔ ظما ، اسم ذات بھی ہے ، پیاس ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 120 ۔ ظمان ، فعلان کے وزن پر صفت ہے۔ انتہائی پیاسا ، يَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَاۗءً [ سمجھے گا پیاسا اس کو پانی ] 39: 24