Ayah 8:1[ يَسْــــَٔـلُوْنَكَ : یہ لوگ پوچھتے ہیں آپ سے ] [ عَنِ الْاَنْفَالِ ۭ : اموال غنیمت کے بارے میں ] [ قُلِ : آپ کہہ دیجیے ] [ الْاَنْفَالُ : اموال غنیمت ] [ لِلّٰهِ : اللہ کے لیے ہے ] [ وَالرَّسُوْلِ ۚ : اور ان رسول کے لیے ہے ] [ فَاتَّقُوا : پس تم لوگ تقوی اختیار کرو ] [ اللّٰهَ : اللہ کا ] [ وَاَصْلِحُوْا : اور اصلاح کرو ] [ ذَاتَ بَيْنِكُمْ ۠ : تمہارے درمیان والی (رنجش ) کی ] [ وَاَطِيْعُوا : اور اطاعت کرو ] [ اللّٰهَ : اللہ کی ] [ وَرَسُوْلَهٗٓ: اور اس کے رسول کی ] [ اِنْ : اگر ] [ كُنْتُمْ : تم لوگ ] [ مُّؤْمِنِيْنَ : ایمان لانے والے ہو ]
نل ۔ (ن) : نفلا ۔ (1) زیادہ عطیہ دینا ۔ (2) مال غنیمت تقسیم کرنا ۔ نفل ۔ ج : انفعال ۔ اسم ذات ہے۔ مال غنیمت ۔ زیرمطالعہ آیت ۔ 1 ۔ نافلۃ ۔ (1) فرض سے زیادہ ۔ اضافی ۔ (2) اولاد کی اولاد ۔ پوتا ۔ ومن الیل فتھجدبہ نافلۃ لک [ اور رات میں سے جاگ کر نماز پڑھیے اس میں ، اضافی ہوتے ہوئے آپ کے لیے ] 17: 79 ۔ ووھبنالہ اسحاق و یعقوب نافلۃ [ اور ہم نے عطا کیا ان کو اسحاق اور یعقوب پوتا ہوتے ہوئے ] 21: 72 ۔
نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 2 میں زاداتہم ایمانا کے الفاظ سے معلوم ہوگیا کہ ایمان ایک ایسے درخت کی مانند ہے جس کی جڑ بھی ہے اور شاخیں بھی ۔ عقائد اس کی جڑ ہیں اور احکام شرعی اس کی شاخیں اور برگ وبار ہیں، جس طرح ایک شاداب درخت اپنی جڑوں سے بھی غذا حاصل کرتا ہے ۔ اور اپنی شاخوں اور پتوں سے بھی ، اسی طرح ایمان عقائد کی معرفت اور احکام کی بجاآوری ، دونوں سے غذا اور قوت حاصل کرتا ہے اس لیے اس کے صحیح نشو و نما کے لیے ضروری ہے کہ اس کی جڑ اور اس کی شاخوں ، دونوں کی دیکھ بھال ہوتی رہے ۔ اس طرح یہ بڑھتا اور پھلتا پھولتا ہے اور اس کے مفقود ہوجانے سے وہ گٹھتا ، سکڑتا اور مردہ ہوجاتا ہے (تدبرالقرآن ) ۔
Ayah 8:2[ اِنَّمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ الْمُؤْمِنُوْنَ : ایمان لانے والے ] [ الَّذِيْنَ : وہ لوگ ہیں جو کہ ] [ اِذَا : جب کبھی بھی ] [ ذُكِرَ : ذکر کیا جاتا ہے ] [ اللّٰهُ : اللہ کا ] [ وَجِلَتْ : تو کانپ اٹھتے ہیں ] [ قُلُوْبُهُمْ : ان کے دل ] [ وَاِذَا : اور جب کبھی ] [ تُلِيَتْ : پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ] [ عَلَيْهِمْ : ان کو ] [ اٰيٰتُهٗ : اس کی آیات ] [ زَادَتْهُمْ : تو وہ زیادہ کرتی ہیں ان کو ] [ اِيْمَانًا : بلحاظ ایمان کے ] [ وَّعَلٰي رَبِّهِمْ : اور اپنے رب پر ہی ] [ يَتَوَكَّلُوْنَ : وہ لوگ بھروسہ کرتے ہیں ]
وج ل۔ (س) : وجلا ۔ دل میں خوف محسوس کرنا ۔ کانپ اٹھنا ۔ ڈرنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 2 ۔ وجل ۔ صفت ہے جو اسم الفاعل کے معنی میں آتا ہے ۔ خوف محسوس کرنے والا ۔ ڈرنے والا ۔ انا منکم وجلون [ بیشک ہم تم لوگوں سے خوف محسوس کرنے والے ہیں ] 15: 52 ۔
Ayah 8:3[ الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو ] [ يُقِيْمُوْنَ : قائم رکھتے ہیں ] [ الصَّلٰوةَ : نماز کو ] [ وَمِمَّا : اور اس میں سے جو ] [ رَزَقْنٰهُمْ : ہم نے عطا کیا ان کو ] [ يُنْفِقُوْنَ : وہ لوگ خرچ کرتے ہیں ]
Ayah 8:4[ اُولٰۗىِٕكَ : وہ لوگ ] [ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ : ہی ایمان لانے والے ہیں ] [ حَقًّا ۭ : حقیقتا ] [ لَهُمْ : ان کے لیے ہی ] [ دَرَجٰتٌ: درجے ہیں ] [ عِنْدَ رَبِّهِمْ : ان کے رب کے پاس ] [ وَمَغْفِرَةٌ: اور مغفرت ہے ] [ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ: اور باعزت رزق ہے ]
Ayah 8:5[ كَمَآ : جیسے کہ ] [ اَخْرَجَكَ : آپ کو نکالا ] [ رَبُّكَ : آپ کے رب نے ] [ مِنْۢ بَيْتِكَ : آپ کے گھر سے ] [ بِالْحَقِّ ۠ : حق کے ساتھ ] [ وَاِنَّ : اور بیشک ] [ فَرِيْقًا : ایک فریق ] [ مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ : مومنوں میں سے ] [ لَكٰرِهُوْنَ : یقینا ناپسند کرنے والا تھا ]
Ayah 8:6[ يُجَادِلُوْنَكَ : وہ لوگ بحث کرتے تھے آپ سے ] [ فِي الْحَقِّ : حق (بات ) میں ] [ بَعْدَمَا : اس کے بعد کہ جو ] [ تَبَيَّنَ : واضح ہوا ] [ كَاَنَّمَا : گویا کہ ] [ يُسَاقُوْنَ : وہ لوگ ہانکے جاتے ہیں ] [ اِلَى الْمَوْتِ : موت کی طرف ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ هُمْ : وہ ] [ يَنْظُرُوْنَ : دیکھتے ہیں ]
Ayah 8:7[ وَاِذْ : اور جب ] [ يَعِدُكُمُ : وعدہ کیا تم سے ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ اِحْدَى الطَّاۗىِٕفَتَيْنِ : دو جماعتوں کی ایک کا ] [ اَنَّهَا : کہ وہ ] [ لَكُمْ : تمہارے لیے ہے ] [ وَتَوَدُّوْنَ : اور تم لوگ چاہتے تھے ] [ اَنَّ : کہ ] [ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ : ہتھیار والی کے علاوہ ] [ تَكُوْنُ : ہو ] [ لَكُمْ : تمہارے لیے ] [ وَيُرِيْدُ : اور چاہتا تھا ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ اَنْ : کہ ] [ يُّحِقَّ : وہ حق کرے ] [ الْحَقَّ : حق کو ] [ بِكَلِمٰتِهٖ : اپنے فرمانوں سے ] [ وَيَقْطَعَ : اور وہ کاٹے ] [ دَابِرَ الْكٰفِرِيْنَ : کافروں کی جڑ کو ]
ش و ک ۔ (ن) : شوکا ۔ کسی کو کانٹا چبھونا ۔ شوک ، اسم جنس ہے ۔ واحد شوکۃ ۔ ج : اشواک ۔ کانٹا ، جنگی ہتھیار ۔ زیرمطالعہ آیت ۔ 7 ۔
ترکیب : (آیت ۔ 7) یعد کا مفعول اول کم ہے اور مفعول ثانی احدی الطائفتین ہے ۔ اس لیے احدی حالت نصب میں آیا ہے ۔ انھا لکم تاکید کے لیے ہے، ان یحق کے ان پر عطف ہونے کی وجہ سے یقطع حالت نصب میں ہے۔ اس لیے اس کا ترجمہ اسی لحاظ سے ہوگا ۔
Ayah 8:8[ لِيُحِقَّ : تاکہ وہ حق کرے ] [ الْحَقَّ : حق کو ] [ وَيُبْطِلَ : اور باطل کرے ] [ الْبَاطِلَ : باطل کو ] [ وَلَوْ : اور اگرچہ ] [ كَرِهَ : ناپسند کریں ] [ الْمُجْرِمُوْنَ : مجرم لوگ ]
Ayah 8:9[ اِذْ : جب ] [ تَسْتَغِيْثُوْنَ : تم لوگ مدد کے لیے پکارتے تھے ] [ رَبَّكُمْ : اپنے رب کو ] [ فَاسْتَجَابَ : تو اس نے جواب دیا ] [ لَكُمْ : تمہارے لیے ] [ اَنِّىْ : کہ میں ] [ مُمِدُّ : مدد کرنے والا ہوں ] [ كُمْ : تمہاری ] [ بِاَلْفٍ : ایک ہزار سے ] [ مِّنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ : فرشتوں میں سے ] [ مُرْدِفِيْنَ : لگا تار آنے والے ہوتے ہوئے ]
غ و ث ۔ (ن) : غوثا ۔ مدد کرنا ۔ ان یستغیثوا یغاثوا بماء کالمھل [ اگر وہ لوگ مدد کے لیے پکاریں گے تو ان کی مدد کی جائے گی ایک پانی سے جیسے پگھلی ہوئی دھات ] 18: 29 ۔ (استفعال ) استغاثہ ۔ مدد کے لیے پکارنا ۔ زیرمطالعہ آیت ۔ 9 ۔
رد۔ (س) : ردفا ۔ کسی کے پیچھے سوار ہونا۔ کسی کے پیچھے لگنا۔ عسی ان یکون ردف لکم بعض الذی تستعجلون [ ہوسکتا ہے کہ تمہارے پیچھے آلگی ہو اس کی بعض جس کی تم جلدی مچاتے ہو ] 27: 72 ۔ رادفۃ پیچھے لگنے والی ۔ تتبعھا الرادفۃ [ پیچھے آئے گی اس کے پیچھے لگنے والی ] 79:7 (افعال ) اردافا (1) کسی کو کسی کے پیچھے لگانا ۔ (2) کسی کو اپنے پیچھے لگانا ۔ لگاتار آنا ۔ مردف ۔ لگا تار آنے والا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 9،
Ayah 8:10[ وَمَا جَعَلَهُ : اور نہیں بنایا اس کو ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ اِلَّا : مگر ] [ بُشْرٰي : خوشخبری ] [ وَلِتَطْمَىِٕنَّ : اور تاکہ مطمئن ہوں ] [ بِهٖ : اس سے ] [ قُلُوْبُكُمْ ۭ : تمہارے دل ] [ وَمَا النَّصْرُ : اور نصرت نہیں ہے ] [ اِلَّا : مگر ] [ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ۭ : اللہ کے پاس سے ] [ اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ ] [ عَزِيْزٌ: بالا دست ہے ] [ حَكِيْمٌ: حکمت والا ہے ]
نوٹ ۔ 1: یہ آیات ان روایات کی تردید کررہی ہیں جو جنگ بدر کے سلسلہ میں عموما کتب سیرت ومغازی میں نقل کی جاتی ہیں، یعنی یہ کہ ابتداء نبی ﷺ اور مومنین قافلے کو لوٹنے کے لیے مدینہ سے روانہ ہوئے تھے ۔ پھر چند منزل آگے جاکر جب معلوم ہوا کہ قریش کا لشکر قافلہ کی حفاظت کے لیے آرہا ہے ۔ تب یہ مشورہ کیا گیا کہ قافلے پر حملہ کیا جائے یا لشکر کا مقابلہ ۔ اس کے برعکس قرآن یہ بتارہا ہے کہ جس وقت نبی کریم ﷺ اپنے گھر سے نکلے تھے اسی وقت یہ امر حق آپ کے پیش نظر تھا کہ قریش کے لشکر سے فیصلہ کن مقابلہ کیا جائے ۔ اور یہ مشاورت بھی اسی وقت ہوئی تھی کہ قافلہ اور لشکر میں سے کس کو حملہ کے لیے منتخب کیا جائے اور باوجود اس کے کہ مومنین پر یہ حقیقت واضح ہوچکی تھی کہ لشکر ہی سے نمٹنا ضروری ہے، پھر بھی ان میں سے ایک گروہ اس سے بچنے کے لیے حجت کرتا رہا ۔ اور بالآخر جب آخری رائے یہ قرار پاگئی کہ لشکر ہی کی طرف چلنا چاہیے تو یہ گروہ مدینہ سے یہ خیال کرتا ہوا چلا کہ ہم سیدھے موت کے منہ میں ہانکے جارہے ہیں ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 8:11[ اِذْ : جب ] [ يُغَشِّيْكُمُ : اس نے ڈھانپ دیا تم لوگوں کو ] [ النُّعَاسَ : اونگھ سے ] [ اَمَنَةً : امن ہوتے ہوئے ] [ مِّنْهُ : اپنی طرف سے ] [ وَيُنَزِّلُ : اور اس نے اتارا ] [ عَلَيْكُمْ : تم پر ] [ مِّنَ السَّمَاۗءِ : آسمان سے ] [ مَاۗءً : کچھ پانی ] [ لِّيُطَهِّرَكُمْ : تاکہ وہ پاک کرے تم لوگوں کو ] [ بِهٖ : اس سے ] [ وَيُذْهِبَ : اور وہ لے جائے ] [ عَنْكُمْ : تم سے ] [ رِجْزَ الشَّيْطٰنِ : شیطان کی نجاست کو ] [ وَلِيَرْبِطَ : اور تاکہ وہ مضبوط کرے ] [ عَلٰي قُلُوْبِكُمْ : تمہارے دلوں کو ] [ وَيُثَبِّتَ : اور وہ جمادے ] [ بِهِ : اس سے ] [ الْاَقْدَامَ : قدموں کو ]
نوٹ ۔ 1: ہمارے کچھ بھائیوں کی رائے ہے کہ احادیث کی سند پر تو بہت تحقیق ہوئی ہے لیکن ان کے متن پر تحقیق نہیں ہوئی ، حالانکہ اس کی سخت ضرورت ہے۔ اس ضمن میں وہ لوگ جو حوالے دیتے ہیں ، ان میں زیرمطالعہ آیت ۔ 11 کا حوالہ شامل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عین اس وقت اونگھ طاری ہوجائے جب زور شور سے جنگ جاری ہو اور حالت یہ ہوجائے کہ لوگوں کے ہاتھوں سے تلواریں چھوٹ کر گر پڑی ہوں ، یہ بات عقل قبول نہیں کرتی ۔ جبکہ ابن کثیر میں یہی مفہوم دیا ہے ۔ اس لیے احادیث کے متن پر تحقیق کی ضرورت ہے ۔ حقیقت واضح کرنے کے لیے پہلے ہم ابن کثیر کی متعلقہ عبارت نقل کررہے ہیں اس کے بعد اپنی وضاحت پیش کریں گے ۔
” اللہ پاک ان احسانات کو یاد دلاتا ہے کہ وقت جنگ تم پر غنودگی طاری کرکے ہم نے تم پر احسان کیا ہے کہ اپنی قلت اور دشمن کی کثرت کا جو تمہیں احساس تھا اور اس احساس کے تحت تم پر ایک خوف سا طاری تھا اس سے تمہیں مامون کردیا اور اس طرح اللہ نے یوم احد میں بھی کیا تھا ۔ (یہاں آیت 3:154) کی متعلقہ عربی عبارت اور ترجمہ ہے) ابوطلحہ ؓ کہتے ہیں کہ جنگ احد کے روز مجھے بھی غنودگی آگئی تھی کہ تلوار میرے ہاتھ سے گری جاتی تھی اور میں اٹھاتا جاتا تھا اور میں لوگوں کو بھی دیکھ رہا تھا کہ ڈھال سر پر لگائے ہوئے نیند میں جھول رہے تھے ۔ حضرت علی ؓ کہتے ہیں کہ بدر کے روز مقداد ؓ کے سوا کسی کے پاس سواری نہیں تھی ۔ ہم سب نیند کے عالم میں تھے ۔ لیکن رسول اللہ ﷺ ایک درخت کے نیچے صبح تک نمازیں پڑھتے رہے اور خدا کے آگے روتے رہے ، ابن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ بروز جنگ یہ اونگھ خدا کی طرف سے گویا ایک امن کی شکل میں تھی اور نماز میں یہی اونگھ شیطان کی طرف سے ہوتی ہے ۔ قتادہ (رح) کہتے ہیں اونگھ سر میں ہوتی ہے اور نیند دل میں ہوتی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ غنودگی یوم احد میں گھیرے ہوئے تھی اور یہ خبر تو بہت عام اور مشہور ہے اور یہاں آیت شریفہ سیاق قصہ بدر میں ہے اور یہ اس بات پر دلیل ہے کہ بدر میں بھی غنودگی طاری تھی اور یہ شدت جنگ میں مومنین پر طاری ہوجایا کرتی تھی تاکہ ان کے قلوب اللہ کی مدد سے مطمئن اور مامون رہیں اور یہ مومنین پر اللہ کا فضل اور رحمت ہے۔ “
اب پہلی بات یہ نوٹ کریں کہ اس پوری عبارت میں رسول اللہ ﷺ کا کوئی ارشاد منقول نہیں ہے ۔ وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا ۔ وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے ۔ دوسری بات یہ نوٹ کریں کہ صحابہ کرام ؓ اجمعین کے کسی قول سے یہ مترشح نہیں ہے کہ یہ اونگھ عین حالت کار زار میں طاری ہوئی تھی ، نہ احد میں اور نہ ہی بدر میں ۔ ال عمران کی آیت اس ضمن میں بہت واضح ہے کہ احد میں شکست ہوجانے کے بعد مسلمان فوج کے ایک گروہ پر ایک اونگھ طاری کی گئی تھی اور طلحہ ؓ اس کی کیفیت بیان کررہے ہیں ۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ عین حالت جنگ کی کیفیت بیان کررہے ہیں تو یہ اس کے اپنے ذہن کا تصوراتی ہیولہ ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ حضرت علی ؓ کا قول بہت واضح ہے کہ یہ اونگھ رات کے وقت طاری کی گئی تھی ، جبکہ ابن مسعود ؓ اور قتادہ (رح) کے اقوال آیت زیر مطالعہ کی تفسیر سے متعلق ہیں ، جنگ کے ذاتی تجربہ کا بیان نہیں ہے، البتہ ابن کثیر کا اپنا قول یہ ہے کہ اونگھ عین حالت جنگ میں طاری کی گئی تھی ، تو یہ ایک مفسر کا قول ہے جس سے اختلاف ممکن ہے اور اکثر مفسرین نے ان کی اس رائے سے اختلاف کیا بھی ہے۔
مذکورہ تجزیہ سے یہ بات پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ اسناد کی تحقیق کے بعد جب معلوم ہوجائے کہ یہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے تو پھر اس کے متن پر تحقیق کرنا چہ معنی دارد ۔ ایسا سوچنا بھی بڑی جسارت کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی امان میں رکھے ۔ البتہ کسی متن سے کوئی جو مفہوم اخذ کرتا ہے ، اس مفہوم پر تحقیق ہوسکتی ہے اور اس ضرورت کے ہم معترف ہیں ۔ فی زمانہ اس ضمن میں ایک مزید ضرورت کا اضافہ ہوگیا ہے۔ وہ اس طرح کہ پاکستان بننے کے بعد ہمارے معاشرے میں نو دولتیوں کا ایک طبقہ وجود میں آیا تھا ۔ آج کل نو تعلیمیوں کا ایک طبقہ وجود میں آگیا ہے ۔ یہ لوگ جس طرح کے مفاہیم اخذ کرتے ہیں ۔ اس کا ایک نقشہ آپ مذکورہ بالا تجزیہ میں دیکھ چکے ۔ ان کے دوچار اور مفاہیم اگر آپ کے سامنے آگئے تو آپ کو بھی اس ضرورت کا احساس ہونے لگے گا کہ مفہوم اخذ کرنے والے کے دماغ پر بھی تحقیق ہونی چاہیے کہ وہ ورکنگ آرڈر میں ہے کہ نہیں ۔
آخری بات یہ ہے کہ احادیث کے متن پر تحقیق کرنے سے بات ختم نہیں ہوگی بلکہ بات شروع ہوگی ، ایک صاحب کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں جو قرآن مجید کی چند آیات کے متن پر تحقیق کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے تھے کہ یہ اللہ کا کلام اور قرآن مجید کی آیات نہیں ہوسکتیں بلکہ یہ من گھڑت (موضوع) آیات ہیں جو کسی نے قرآن میں شامل کردی ہیں ۔ اپنی تحقیق کا لب لباب بڑی داد طلب نظروں سے جب وہ میرے سامنے پیش کرچکے تو میں نے اعتراف کیا کہ آپ کی ریسرچ اتنی گہری ہے کہ وہ ” خوض ‘ ‘ کے ” رتبہ “ کو پہنچی ہوئی ہے ۔ اس لیے صرف آپ ہی اس کے اہل ہیں کہ اب آپ اس آیت کے متن پر تحقیق کریں جس میں اللہ نے قرآن کی حفاظت کا وعدہ کیا ہے ۔ اس کے بعد انہوں نے مجھ جیسے جاہل سے ہمیشہ کے لیے قطع تعلق کرلیا۔
Ayah 8:12[ اِذْ : جب ] [ يُوْحِيْ : وحی کیا ] [ رَبُّكَ : آپ کے رب نے ] [ اِلَى الْمَلٰۗىِٕكَةِ : فرشتوں کی طرف ] [ اَنِّىْ : کہ میں ] [ مَعَكُمْ : تمہارے ساتھ ہوں ] [ فَثَبِّتُوا : پس تم لوگ جمادو ] [ الَّذِيْنَ : ان لوگوں کو جو ] [ اٰمَنُوْا ۭ: ایمان لائے ] [ سَاُلْقِيْ : میں ڈالوں گا ] [ فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ : ان کے دلوں میں جنہوں نے ] [ كَفَرُوا : کفر کیا ] [ الرُّعْبَ : رعب ] [ فَاضْرِبُوْا : پس تم لوگ مارو ] [ فَوْقَ الْاَعْنَاقِ : گردنوں کے اوپر ] [ وَاضْرِبُوْا : اور مارو ] [ مِنْهُمْ : ان میں سے ] [ كُلَّ بَنَانٍ : سب پوروں کو ]
ع ن ق ۔ (س) : عنقا ۔ لمبی گردن والا ہونا۔ عنق ۔ ج : اعناق ۔ گردن ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 12 ۔
ب ن ن ۔ (ض) ۔ بنا ۔ کسی جگہ اقامت پذیر ہونا۔ بنان ۔ اسم جنس ہے ۔ واحد بنانۃ ۔ ج : بنات ۔ انگلیوں کے پور ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 12 ۔
Ayah 8:13[ ذٰلِكَ : یہ ] [ بِاَنَّهُمْ : اس سبب سے کہ انہوں نے ] [ شَاۗقُّوا : مخالفت کی ] [ اللّٰهَ : اللہ کی ] [ وَرَسُوْلَهٗ ۚ : اور اس کے رسول کی ] [ وَمَنْ : اور جو ] [ يُّشَاقِقِ : مخالفت کرے گا ] [ اللّٰهَ : اللہ کی ] [ وَرَسُوْلَهٗ : اور اس کے رسول کی ] [ فَاِنَّ : تو بیشک ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ شَدِيْدُ الْعِقَابِ : گرفت کرنے کا سخت ہے ]
Ayah 8:14[ ذٰلِكُمْ : یہ ہے ] [ فَذُوْقُوْهُ : پس تم لوگ چکھو اس کو ] [ وَاَنَّ : اور یہ کہ ] [ لِلْكٰفِرِيْنَ : کافروں کے لیے ] [ عَذَابَ النَّارِ : آگ کا عذاب ہے ]
Ayah 8:15[ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ : اے لوگو ! جو ] [ اٰمَنُوْٓا : ایمان لائے ] [ اِذَا : جب کبھی ] [ لَقِيْتُمُ : تم لوگ ملو ] [ الَّذِيْنَ : ان سے جنہوں نے ] [ كَفَرُوْا : کفر کیا ] [ زَحْفًا : لشکر کے چلتے ہوئے ] [ فَلَا تُوَلُّوْهُمُ : تو تم لوگ مت پھیرو ان سے ] [ الْاَدْبَارَ : پیٹھوں کو ]
زح۔ (ف) : زحفا ۔ آہستہ آہستہ گھسٹنا ۔ کثرت کی وجہ سے لشکر کا آہستہ آہستہ چلنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 15 ۔
Ayah 8:16[ وَمَنْ : اور جو ] [ يُّوَلِّهِمْ : پھیرے گا ان سے ] [ يَوْمَىِٕذٍ : اس دن ] [ دُبُرَهٗٓ: اپنی پیٹھ کو ] [ اِلَّا : سوائے اس کے کہ ] [ مُتَحَرِّفًا : جھکائی دینے والا ہوتے ہوئے ] [ لِّقِتَالٍ : قتال کے لیے ] [ اَوْ : یا ] [ مُتَحَيِّزًا : ملنے والا ہوتے ہوئے ] [ اِلٰي فِئَةٍ : کسی جماعت کی طرف ] [ فَقَدْ بَاۗءَ : تو وہ لوٹا ہے ] [ بِغَضَبٍ : ایک غضب کے ساتھ ] [ مِّنَ اللّٰهِ : اللہ (کی طرف) سے ] [ وَمَاْوٰىهُ : اور اس کا ٹھکانہ ] [ جَهَنَّمُ ۭ : جہنم ہے ] [ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ : اور کتنی بری ہے لوٹنے کی جگہ ]
ح و ز ۔ (ن) : حوزا ۔ اکٹھا کرنا ۔ جمع کرنا ۔ (تفعل ) تحوزا ، سانپ کا کنڈلی مارنا ۔ حمایتی سے جاملنا ۔ متحیر ۔ اسم الفاعل ہے۔ جا ملنے والا۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 16 ۔
Ayah 8:17[ فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ : تو تم لوگوں نے قتل نہیں کیا ان کو ] [ وَلٰكِنَّ : اور لیکن ] [ اللّٰهَ : اللہ نے ] [ قَتَلَهُمْ : قتل کیا ان کو ] [ ۠ وَمَا رَمَيْتَ : اور آپ نے نہیں پھینکا ] [ اِذْ : جب ] [ رَمَيْتَ : آپ نے پھینکا ] [ وَلٰكِنَّ : اور لیکن ] [ اللّٰهَ : اللہ نے ] [ رَمٰى ۚ : پھینکا ] [ وَلِيُبْلِيَ : اور تاکہ وہ آزمائے ] [ الْمُؤْمِنِيْنَ : مومنوں کو ] [ مِنْهُ : اس سے ] [ بَلَاۗءً حَسَـنًا ۭ : جیسا کہ خوبصورت آزمانے کا حق ہے ] [ اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ ] [ سَمِيْعٌ: سننے والا ہے ] [ عَلِيْمٌ: جاننے والا ہے ]
Ayah 8:18[ ذٰلِكُمْ : یہ ہے ] [ وَاَنَّ : اور یہ کہ ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ مُوْهِنُ كَيْدِ الْكٰفِرِيْنَ : کافروں کے داؤں کا کمزور کرنے والا ہے ]
Ayah 8:19[ اِنْ : اگر ] [ تَسـْتَفْتِحُوْا : تم لوگ فیصلہ مانگتے ہو ] [ فَقَدْ جَاۗءَكُمُ : تو آچکا تمہارے پاس ] [ الْفَتْحُ ۚ : فیصلہ ] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ تَنْتَهُوْا : تم لوگ باز آجاؤ] [ فَهُوَ : تو یہ ] [ خَيْرٌ: بہتر ہے ] [ لَّكُمْ ۚ : تمہارے لیے ] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ تَعُوْدُوْا : تم لوگ دوبارہ کروگے ] [ نَعُدْ ۚ : تو ہم (بھی) دوبارہ کریں گے ] [ وَلَنْ تُغْنِيَ : اور ہرگز بےنیاز نہیں کرے گی ] [ عَنْكُمْ : تم کو ] [ فِئَتُكُمْ : تمہاری جماعت ] [ شَـيْــــًٔـا : کچھ بھی ] [ وَّلَوْ : اور اگر ] [ كَثُرَتْ ۙ : وہ زیادہ (بھی) ہو ] [ وَاَنَّ : اور یہ کہ ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ مَعَ الْمُؤْمِنِيْنَ : مؤمنین کے ساتھ ہے ]
نوٹ ۔ 2: آیت ۔ 19 میں خطب مومنوں سے نہیں بلکہ کافروں سے ہے ۔ مشرکین جنگ بدر کے لیے جب مکہ سے چلنے لگے تو غلاف کعبہ پکڑ کر دعا مانگنے لگے کہ اے خدا دونوں فریقوں میں جو تیرے افضل ہے اور جس کا قبلہ بہت رہے اس کی مدد فرما (ابن کثیر ) ۔ آیت میں اسی کا حوالہ ہے ۔
Ayah 8:20[ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ : اے لوگو ! جو ] [ اٰمَنُوْٓا : ایمان لائے ] [ اَطِيْعُوا : تم لوگ اطاعت کرو ] [ اللّٰهَ : اللہ کی ] [ وَرَسُوْلَهٗ : اور اس کے رسول کی ] [ وَلَا تَوَلَّوْا : اور روگردانی مت کرو ] [ عَنْهُ : ان سے ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ اَنْتُمْ : تم لوگ ] [ تَسْمَعُوْنَ؛سنتے ہو ]
ترکیب : (آیت ۔ 20) ولو تولوا دراصل ولا تتولوا ہے ۔
Ayah 8:21[ وَلَا تَكُوْنُوْا : اور تم لوگ مت ہو ] [ كَالَّذِيْنَ : ان کی مانند جنھوں نے ] [ قَالُوْا : کہا ] [ سَمِعْنَا : ہم نے سنا ] [ وَ : حالانکہ ] [ هُمْ : وہ لوگ ] [ لَا يَسْمَعُوْنَ : نہیں سنتے ]
Ayah 8:22[ اِنَّ : بیشک ] [ شَرَّ الدَّوَاۗبِّ : زمین پرچلنے والوں کے بد ترین ] [ عِنْدَ اللّٰهِ : اللہ کے ہاں ] [ الصُّمُّ : بہرے ہیں ] [ الْبُكْمُ : گونگے ہیں ] [ الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو ] [ لَا يَعْقِلُوْنَ : عقل نہیں کرتے ]
(آیت ۔ 22) شرالدواب مبتدا ہے۔ الصم اور البکم اس کی معرفہ خبریں ہیں جبکہ الذین لا یعقلون خبروں کا بدل ہے ۔
Ayah 8:23[ وَلَوْ : اور اگر ] [ عَلِمَ : جانتا ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ فِيْهِمْ : ان میں ] [ خَيْرًا : کوئی بھلائی ] [ لَّاَسْمَعَهُمْ ۭ : تو وہ ضرور سناتا ان کو ] [ وَلَوْ : اور اگر ] [ اَسْمَعَهُمْ : وہ سناتا ان کو ] [ لَتَوَلَّوْا : تو وہ ضرور روگردانی کرتے ] [ وَّهُمْ : اور وہ ہیں (ہی ) ] [ مُّعْرِضُوْنَ : اعراض کرنے والے ]
Ayah 8:24[ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ : اے لوگو ! جو ] [ اٰمَنُوا : ایمان لائے ] [ اسْتَجِيْبُوْا : تم لوگ حکم مانو ] [ لِلّٰهِ : اللہ کا ] [ وَلِلرَّسُوْلِ : اور ان رسول کا ] [ اِذَا : جب بھی ] [ دَعَاكُمْ : وہ بلائیں تم کو ] [ لِمَا : اس کے لیے جو ] [ يُحْيِيْكُمْ ۚ: زندگی دیتی ہے تم کو ] [ وَاعْلَمُوْٓا : اور جان لو ] [ اَنَّ : کہ ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ يَحُوْلُ : حائل کردیتا ہے ] [ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهٖ : آدمی اور اس کے دل کے درمیان ] [ وَاَنَّهٗٓ: اور حقیقت تو یہ ہے کہ ] [ اِلَيْهِ : اس کی طرف ہی ] [ تُحْشَرُوْنَ : تم لوگ جمع کیے جاؤگے ]
(آیت ۔ 24) وانہ میں ضمیر الشان ہے۔
نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 24 میں ہے کہ اللہ تعالیٰ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل کردیتا ہے ۔ کیا حائل کردیتا ہے ؟ یہ بات محذوف ہے۔ اس وجہ سے آیت کے اس جملے کے مفہوم میں وسعت پیدا ہوئی ہے اور اس کے ایک سے زیادہ مفاہیم یبان کیے گئے ہیں ۔ البتہ اسی آیت میں مذکورہ جملے سے پہلے یہ ہے کہ جب بھی رسول اللہ ﷺ تمہیں حیات بخش چیز کی طرف بلائیں تو لبیک کہو۔ اس کے پیش نظر مذکورہ جملے کا زیادہ قابل ترجیح مفہوم یہ بنتا ہے کہ جب کسی نیک کام کرنے یا گناہ سے بچنے کا موقع آئے تو اس کو فورا کر گزرو ، دیر نہ کرو اور اس فرصت کو غنیمت سمجھو، بعض اوقات آدمی کے ارادے کے درمیان قضائے الہی حائل ہوجاتی ہے اور وہ اپنے ارادہ میں کامیاب نہیں ہو پاتا ۔ موت آجائے ، کوئی بیماری پیش آجائے یا کوئی واقعہ ایسی مصروفیت پیدا کردے کہ اس کام کی فرصت نہ مل سکے ۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ فرصت وقت کو غنیمت سمجھے اور آج کا کام کل پر نہ ٹالے کیونکہ معلوم نہیں کل کیا ہوتا ہے ۔ (معارف القرآن سے ماخوذ )
نوٹ ۔ 2: رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ خواص کے عمل کے سبب عوام پر عذاب نہیں بھیجتا ۔ لیکن جب خاص لوگ امر منکر قوم میں پھیلا ہوا دیکھتے ہیں اور اس کو روکنے پر قادر ہوتے ہیں لیکن اپنے اقتدار کو کام میں لا کر نہیں روکتے ، تو پھر عمومی عذاب آجاتا ہے اور اس میں خاص وعام سب گرفتار بلا ہوجاتے ہیں ۔ (ابن کثیر ) ۔ آیت ۔ 25 میں ایسے ہی عمومی عذاب کو فتنہ کہا گیا ہے اور اس سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے ۔
Ayah 8:25[ وَاتَّقُوْا : اور تم لوگ بچو ] [ فِتْنَةً : ایک ایسی آزمائش سے جو ] [ لَّا تُصِيْبَنَّ : ہرگز نہیں پہنچے گی ] [ الَّذِيْنَ : (صرف) ان لوگوں کو (ہی ) جنھوں نے ] [ ظَلَمُوْا : ظلم کیا ] [ مِنْكُمْ : تم میں سے ] [ خَاۗصَّةً : خاص کرنیوالی ہوتے ہوئے ] [ ۚوَاعْلَمُوْٓا : اور جان لو ] [ اَنَّ : کہ ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ شَدِيْدُ الْعِقَابِ : پکڑ کا سخت ہے ]
( آیت ۔ 25) فتنۃ نکرہ مخصوصہ ہے جبکہ لا تصیبن سے آگے پورا جملہ اس کی خصوصیت ہے۔
Ayah 8:26[ وَاذْكُرُوْٓا : اور یاد کرو ] [ اِذْ : جب ] [ اَنْتُمْ : تم لوگ ] [ قَلِيْلٌ : اقلیت میں تھے ] [ مُّسْتَضْعَفُوْنَ : کمزور سمجھے جاتے تھے ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [ تَخَافُوْنَ : تم لوگ ڈرتے تھے ] [ اَنْ : کہ ] [ يَّتَخَطَّفَكُمُ : اچک لیں گے تم کو ] [ النَّاسُ : لوگ ] [ فَاٰوٰىكُمْ : تو اس نے ٹھکانہ دیا تم کو ] [ وَاَيَّدَكُمْ : اور اس نے تائید کی تمہاری ] [ بِنَصْرِهٖ : اپنی مدد سے ] [ وَرَزَقَكُمْ : اور رزق دیا تم کو ] [ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ : پاکیزہ (چیزوں ) میں سے ] [ لَعَلَّكُمْ : شاید کہ تم لوگ ] [ تَشْكُرُوْنَ : شکر ادا کرو ]
( آیت ۔ 26) انتم کی خبر اول قلیل ہے اور مستضعفون اس کی خبر ثانی ہے ۔
نوٹ۔ 3: آیت ۔ 26 فی زمانہ پاکستان پر پوری طرح چسپاں ہوتی ہے ۔ تقسیم سے پہلے ہندوستان میں مسلمان اقلیت میں تھے۔ تعلیمی ، معاشی ، سرکاری ملازمتوں ، غرض کہ ہر میدان میں پسماندہ تھے ۔ انھیں خوف تھا کہ برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد ہندو اکثریت انھیں بالکل ہی کچل دے گی ۔ اس خطرہ کے پیش نظر مسلمانوں نے پاکستان کا مطالبہ کیا تھا ۔ کانگریس اور برطانوی حکومت ، دونوں اس کے شدید مخالف تھے ۔ چناچہ برطانوی حکومت نے صوبوں کی فیڈریشن بنا کر متحدہ ہندوستان کو آزادی دینے کا منصوبہ پیش کیا تھا ۔ مسلم لیگ نے اس منصوبہ کو قبول کرلیا تھا اور اس کا اعلان بھی کرچکی تھی ۔ گویا مسلمانوں کی تائید ونصرت اس طرح کہ کانگریسی لیڈروں کی عقل الٹ دی اور انھوں نے اس منصوبے کو قبول کرنے سے انکار کردیا ۔ اس طرح پاکستان کے مطالبے کو نئی زندگی ملی اور برطانوی حکومت مجبور ہوگئی کہ وہ ہندوستان کو تقسیم کرے ۔ (حافظ احمد یار صاحب مرحوم )
Ayah 8:27[ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ : اے لوگو ! جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ لَا تَخُوْنُوا : تم لوگ خیانت مت کرو ] [ اللّٰهَ : اللہ سے ] [ وَالرَّسُوْلَ : اور ان رسول سے ] [ وَتَخُوْنُوْٓا : اور خیانت مت کرو ] [ اَمٰنٰتِكُمْ : اپنی (آپس کی ) امانتوں میں ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ اَنْتُمْ : تم لوگ ] [ تَعْلَمُوْنَ : جانتے ہو ]
(آیت ۔ 27) لا تخونوا کی لائے نہی پر عطف ہونے کی وجہ سے آگے وتخونوا مجزوم ہوا ہے۔
Ayah 8:28[ وَاعْلَمُوْٓا : اور تم لوگ جان لو ] [ اَنَّمَآ : کہ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ اَمْوَالُكُمْ : تمہارے مال ] [ وَاَوْلَادُكُمْ : اور تمہاری اولاد ] [ فِتْنَةٌ ۙ : ایک آزمائش ہیں ] [ وَّاَنَّ : اور یہ کہ ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ عِنْدَهٗٓ : اس کے پاس ہی ] [ اَجْرٌ عَظِيْمٌ : اجر عظیم ہے ]
Ayah 8:29[ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ : اے لوگو ! جو ] [ اٰمَنُوْٓا : ایمان لائے ] [ اِنْ : اگر ] [ تَتَّقُوا : تم لوگ تقوی کروگے ] [ اللّٰهَ : اللہ کا ] [ يَجْعَلْ : تو وہ بنا دے گا ] [ لَّكُمْ : تمہارے لیے ] [ فُرْقَانًا : ایک واضح فرق کرنے والا ] [ وَّيُكَفِّرْ : اور وہ دور کردے گا ] [ عَنْكُمْ : تم سے ] [ سَيِّاٰتِكُمْ : تمہاری برائیوں کو ] [ وَيَغْفِرْ : اور وہ معاف کردے گا ] [ لَكُمْ ۭ : تم کو ] [ وَاللّٰهُ : اور اللہ ] [ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ : عظیم فضل والا ہے ]
Ayah 8:30[ وَاِذْ : اور جب ] [ يَمْكُرُ : سازش کی ] [ بِكَ : آپ کے لیے ] [ الَّذِيْنَ : ان لوگوں نے جنھوں نے ] [ كَفَرُوْا : کفر کیا ] [ لِيُثْبِتُوْكَ : کہ وہ قید کریں آپ کو ] [ اَوْ : یا ] [ يَقْتُلُوْكَ : قتل کریں آپ کو ] [ اَوْ : یا ] [ يُخْرِجُوْكَ ۭ: نکال دیں آپ کو ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ يَمْكُرُوْنَ : وہ لوگ چال چلتے تھے ] [ وَيَمْكُرُ : اور تدبیر کرتا تھا ] [ اللّٰهُ ۭ: اللہ ] [ وَاللّٰهُ : اور اللہ ] [ خَيْرُ الْمٰكِرِيْنَ : تدبیر کرنے والوں کا بہترین ہے ]
Ayah 8:31[ وَاِذَا : اور جب کبھی ] [ تُتْلٰى عَلَيْهِمْ : پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ان کو ] [ اٰيٰتُنَا : ہماری آیتیں ] [ قَالُوْا : تو وہ لوگ کہتے ہیں ] [ قَدْ سَمِعْنَا : ہم سن چکے ہیں ] [ لَوْ : اگر ] [ نَشَاۗءُ : ہم چاہیں ] [ لَقُلْنَا : تو ہم (بھی) ضرور کہہ لیں گے ] [ مِثْلَ هٰذَآ ۙ : اس کے جیسا ] [ اِنْ : نہیں ہے ] [ هٰذَآ : یہ ] [ اِلَّآ : مگر ] [ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ پہلے لوگوں کی کہانیاں ]
Ayah 8:32[ وَاِذْ : اور جب ] [ قَالُوا : انھوں نے کہا ] [ اللّٰهُمَّ : اے اللہ ] [ اِنْ : اگر ] [ كَانَ : ہے ] [ هٰذَا : یہ ] [ هُوَ الْحَقَّ : ہی حق ] [ مِنْ عِنْدِكَ : تیرے پاس سے ] [ فَاَمْطِرْ : تو، تو برسا ] [ عَلَيْنَا : ہم پر ] [ حِجَارَةً : کچھ پتھر ] [ مِّنَ السَّمَاۗءِ : آسمان سے ] [ اَوِ : یا ] [ ائْتِنَا : تو لے آہم پر ] [ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ : کوئی درد ناک عذاب ]
ترکیب : (آیت ۔ 32) ان شرطیہ کی وجہ سے کان کا ترجمہ حال میں ہوگا ، کان کا اسم ھذا ہے اور الحق اس کی خبر ہے، جبکہ ھو ضمیر فاصل ہے
Ayah 8:33[ وَمَا كَانَ : اور نہیں ہے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ لِيُعَذِّبَهُمْ : کہ وہ عذاب دے ان کو ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ اَنْتَ : آپ ] [ فِيْهِمْ ۭ : ان میں ہیں ] [ وَمَا كَانَ : اور نہیں ہے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ مُعَذِّبَهُمْ : ان کو عذاب دینے والا ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ هُمْ : وہ لوگ ] [ يَسْتَغْفِرُوْنَ : استغفار کرتے ہیں ]
(آیت ۔ 33) کان کی خبر ہونے کی وجہ سے معذبھم حالت نصب میں ہے ۔
نوٹ ۔ 1: اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کے عذاب کی دوصورتیں ہیں ۔ ایک یہ کہ پوری قوم کا نام ونشان مٹا دیا جائے ۔ یہ فیصلہ کن عذاب ہوتا ہے، جیسا کہ قوم نوح ، قوم لوط ، قوم شعیب وغیرہ پر نازل ہوا ، دوسری صورت یہ ہے کہ کسی فرد یا افراد کے کسی گروہ پر کوئی عذاب آئے یا اگر کسی قوم پر کوئی عمومی عذاب آئے ، تب بھی عذاب گزر جانے کے بعد قوم کا وجود باقی رہے ۔ یہ وارننگ دینے والا عذاب ہوتا ہے۔
آیت نمبر 33 میں فیصلہ کن عذاب کا ذکر ہے۔ یہ عذاب اس وقت تک نازل نہیں کیا جاتا جب کسی قوم میں اس کا نبی موجود ہو یا کچھ اہل ایمان موجود ہوں جو استغفار کرتے ہوں ۔ مکہ سے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ اجمعین کے ہجرت کر جانے کے بعد بھی کچھ کمزور مسلمان رہ گئے تھے جو بوجوہ ہجرت نہیں کرسکے تھے ۔ اس لیے مکہ فیصلہ کن عذاب سے محفوظ رہا ۔ اس فیصلہ کن عذاب کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی قیامت تک استغفار لوگوں کو عذاب سے بچاتا رہے گا (ابن کثیر سے ماخوذ ) جبکہ آیت ۔ 34 میں وارننگ دینے والے عذاب کا ذکر ہے کہ کسی قوم کی بداعمالیوں کے نتیجے میں ان پر عذاب نہ بھیجنے کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔ آیت نمبر ۔ 35 میں فذوقوا العذاب میں اس عذاب کی طرف اشارہ ہے جو میدان بدر میں اہل مکہ پر نازل ہوا۔
Ayah 8:34[ وَمَا لَهُمْ : اور ان کے لیے کیا ہے ] [ اَلَّا يُعَذِّبَهُمُ : کہ عذاب نہ دے ان کو ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ هُمْ : وہ لوگ ] [ يَصُدُّوْنَ : روکتے ہیں ] [ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ : مسجد حرام سے ] [ وَ : حالانکہ ] [ مَا كَانُوْٓا : وہ نہیں ہیں ] [ اَوْلِيَاۗءَهٗ ۭ: اس کے والیو وارث ] [ اِنْ : نہیں ہیں ] [ اَوْلِيَاۗؤُهٗٓ : اس کے والی ووارث ] [ اِلَّا : مگر ] [ الْمُتَّقُوْنَ : تقوی کرنے والے ] [ وَلٰكِنَّ : اور لیکن ] [ اَكْثَرَهُمْ : ان کے اکثر ] [ لَا يَعْلَمُوْنَ : جانتے نہیں ہیں ]
(آیت ۔ 34) اولیاء ہ کی ضمیر المسجد الحرام کے لیے ہے ۔
Ayah 8:35[ وَمَا كَانَ : اور نہیں تھی ] [ صَلَاتُهُمْ : ان کی نماز ] [ عِنْدَ الْبَيْتِ : اس گھر کے پاس ] [ اِلَّا : مگر ] [ مُكَاۗءً : سیٹی بجانا ] [ وَّتَصْدِيَةً ۭ : اور تالی پٹینا ] [ فَذُوْقُوا : پس تم لوگ چکھو ] [ الْعَذَابَ : اس عذاب کو ] [ بِمَا : بہ سبب اس کے جو ] [ كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ : تم لوگ کفر کرتے تھے ]
م ک و : (ن) مکاء ۔ منہ سے سیٹی بجانا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 35 ۔
ص د و : (ن) ۔ صدوا (1) کسی چیز کا لمبا ہونا ۔ (2) تالی بجانا ۔ (تفعیل ) تصدیۃ دونوں ہاتھوں سے تالی پٹینا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 35 ۔ (تفعل ) تصدی کسی کی طرف متوجہ ہونا ۔ فانت لہ تصدی [ تو آپ اس کے لیے متوجہ ہوئے ] ۔ 80:6 ۔
Ayah 8:36[ اِنَّ : بیشک ] [ الَّذِيْنَ : جن لوگوں نے ] [ كَفَرُوْا : کفر کیا ] [ يُنْفِقُوْنَ : وہ خرچ کرتے ہیں ] [ اَمْوَالَهُمْ : اپنے مال ] [ لِيَصُدُّوْا : تاکہ وہ روکیں ] [ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ: اللہ کے راستے سے ] [ فَسَيُنْفِقُوْنَهَا : پس وہ لوگ (ابھی اور ) خرچ کریں گے ان کو ] [ ثُمَّ : پھر ] [ تَكُوْنُ : وہ ہوگا ] [ عَلَيْهِمْ : ان پر ] [ حَسْرَةً : ایک حسرت ] [ ثُمَّ : پھر ] [ يُغْلَبُوْنَ ڛ : وہ لوگ مغلوب کیے جائیں گے ] [ وَالَّذِيْنَ : اور جنھوں نے ] [ كَفَرُوْٓا : کفر کیا ] [ اِلٰى جَهَنَّمَ : جہنم کی طرف ہی ] [ يُحْشَرُوْنَ : وہ اکٹھا کیے جائیں گے ]
(آیت ۔ 36) فسینفقونھا میں ھا کی ضمیر اموال کے لیے ہے ۔ تکون کا اسم اس میں شامل ھا کی ضمیر ہے جو اموال کے لیے ہے اور حسرۃ اس کی خبر ہے ۔
Ayah 8:37[ لِيَمِيْزَ : تاکہ الگ کرے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ الْخَبِيْثَ : ناپاک کو ] [ مِنَ الطَّيِّبِ : پاکیزہ سے ] [ وَيَجْعَلَ : اور تاکہ وہ کردے ] [ الْخَبِيْثَ : ناپاک کو ] [ بَعْضَهٗ : اس کے بعض کو ] [ عَلٰي بَعْضٍ : بعض کے اوپر ] [ فَيَرْكُمَهٗ : تب وہ ڈھیر لگائے گا اس کا ] [ جَمِيْعًا : سب کے سب کا ] [ فَيَجْعَلَهٗ : تب وہ رکھے گا اس کو ] [ فِيْ جَهَنَّمَ ۭ : جہنم میں ] [ اُولٰۗىِٕكَ : وہ لوگ ] [ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ : ہی خسارہ پانے والے ہیں ]
ر ک م : (ن) رکما ۔ تہہ در تہہ کرنا ۔ ڈھیر لگانا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 37 ۔ مرکوم ۔ اسم المفعول ہے ۔ تہہ بہ تہہ کیا ہوا ۔ یقولوا سحاب مرکوم [ تو وہ لوگ کہیں گے تہہ بہ تہہ کیا ہوا بادل ہے ] ۔ 52:44 ۔ رکام ۔ اسم ذات ہے ۔ تہہ در تہہ چیز ۔ ان اللہ یزجی سحابا ثم یؤلف بینہ ثم یجعلہ رکاما [ کہ اللہ ہانکتا ہے بادل کو پھر وہ اکٹھا کرتا ہے اس کو آپس میں پھر وہ بناتا ہے اس کو ایک تہہ در تہہ چیز ] 24: 43 ۔
(آیت ۔ 37) فیرکمہ اور فیجعلہ کے فاسببیہ ہیں اس لیے یرکم اور یجعل کی حالت نصب میں ہیں ۔
Ayah 8:38[ قُلْ : آپ کہہ دیجیے ] [ لِّلَّذِيْنَ : ان سے جنہوں نے ] [ كَفَرُوْٓا : کفر کیا ] [ اِنْ : (کہ ) اگر ] [ يَّنْتَهُوْا : وہ باز آجائیں ] [ يُغْفَرْ : تو معاف کردیا جائے گا ] [ لَهُمْ : ان کے لیے ] [ مَّا : اس کو جو ] [ قَدْ سَلَفَ ۚ : گزرا ہے ] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ يَّعُوْدُوْا : وہ لوگ پھر کریں گے ] [ فَقَدْ مَضَتْ : تو گزر چکا ہے ] [ سُنَّةُ الْاَوَّلِيْنَ : اگلے لوگوں کا طریقہ ]
م ض ی :ـ (ض) ۔ مضیا ، گزرجانا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 38 ۔ امض فعل امر ہے ۔ تو گزر جا ۔ وامضوا حیث تؤمرون [ اور تم لوگ گزر جاؤ جہاں سے تمہیں حکم دیا جاتا ہے ] 15:65 ۔
Ayah 8:39[ وَقَاتِلُوْهُمْ : اور تم لوگ جنگ کرو ان سے ] [ حَتّٰي : یہاں تک کہ ] [ لَا تَكُوْنَ : نہ رہے ] [ فِتْنَةٌ : کوئی تشدد ] [ وَّيَكُوْنَ : اور یہاں تک کہ ہوجائے ] [ الدِّيْنُ : نظام حیات ] [ كُلُّهٗ : اس کا کل ] [ لِلّٰهِ ۚ : اللہ کے لیے ] [ فَاِنِ : پھر اگر ] [ انْتَهَـوْا : وہ لوگ باز آجائیں ] [ فَاِنَّ اللّٰهَ : تو بیشک اللہ ] [ بِمَا : اس کو جو ] [ يَعْمَلُوْنَ : وہ لوگ کرتے ہیں ] [ بَصِيْرٌ: دیکھنے والا ہے ]
ترکیب : (آیت ۔ 39) حتی پر عطف ہونے کی وجہ سے یکون حالت نصب میں ہے۔
نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 39 میں فتنۃ کا لفظ تشدد (Persecution) کے مفہوم میں ہے ۔ یعنی مسلمانوں کو بجبر وظلم دین حق سے روکنے کا سلسلہ ۔ فرمایا ان سے جنگ کرو اور یہ جنگ جاری رکھو یہاں تک کہ اس سرزمین سے اس فتنہ کا استیصال ہوجائے ۔ کسی کے لیے اس کا کوئی امکان باقی نہ رہے کہ وہ کسی مسلمان کو اسلام لانے کی بنا پر ستا سکے ۔ (تدبر قرآن سے ماخوذ ) ۔
دین تمام تر اللہ کا ہوجائے یعنی حرم کی سرزمین پر اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین باقی نہ رہے ۔ خانہ کعبہ اللہ کی وحدانیت کی عبادت کے لیے تعمیر ہوا تھا لیکن قریش نے اس کو ایک بت خانہ بنا ڈالا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ان غاصبوں سے جنگ کرو یہاں تک کہ سرزمین حرم پر اللہ تعالیٰ کے دین کے سوا کوئی اور دین باقی نہ رہے ۔ (تدبر قرآن سے ماخوذ)
سرزمین حرم کے باہر دین اللہ کے لیے ہونے کا کیا مطلب ہے ، اس کی وضاحت آیت نمبر ۔ 2: 193، نوٹ ۔ 2 میں کی جا چکی ہے کہ اسلامی حکومت میں پرسنل لازلوگوں کے مذہب اور عقیدے کے مطابق ہوں گے اور کسی پر اسلام قبول کرنے کے لیے جبر نہیں کیا جائے گا ۔ لااکراہ فی الدین (2:256) کا یہی مطلب ہے۔ لیکن پبلک لاز قرآن وسنت کے مطابق ہوں گے ۔ اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر مغربی تہذیب کے علمبرداروں کو اور ان کے حاشیہ برداروں کو سخت اعتراض ہے کہ یہ تو بڑی ناانصافی ہے ۔ لوگوں کو اپنے متعلق خود فیصلہ کرنے کا اختیار ہونا چاہیے ۔ حالانکہ مغربی تہذیب کے علمبردار خود بھی یہی کام کررہے ہیں ۔ تھیوری کی حد تک یعنی زبانی کلامی انھیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے کہ کسی اسلامی ملک کے پرسنل لاز قرآن وسنت کے مطابق ہوں ۔ یہ اور بات ہے کہ انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کے حوالہ سے انھوں نے پرسنل لاز میں بھی مداخلت کرنے کے چور دروازے بنا رکھے ہیں لیکن پبلک لاز میں، کسی ملک میں اگر کوئی بات مغربی تہذیب کے مروجہ اصول کے خلاف ہے، خواہ وہ لوگوں کی اکثریت کی خواہش کے مطابق ہو، تب بھی پروپیگنڈا لالچ ، معاشی ناکہ بندی ، سازش ، بہتان طرازی ، جنگ ، غرضیکہ پر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرکے مسلمان ممالک پر جبر کیا جارہا ہے کہ وہ اپنے ملک میں مغربی تہذیب کو رواج دیں ، پھر بھی الزام ہم پر ہے کہ ہم تنگ نظر ، بنیاد پرست اور انتہاپسند ہیں ۔
بت ہم کو کہیں کافر ، اللہ کی مرضی ہے۔
Ayah 8:40[ وَاِنْ : اور اگر ] [ تَوَلَّوْا : وہ روگردانی کریں ] [ فَاعْلَمُوْٓا : تم لوگ جان لو ] [ اَنَّ : کہ ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ مَوْلٰىكُمْ ۭ: تمہارا کارساز ہے ] [ نِعْمَ : کیا ہی اچھا ] [ الْمَوْلٰى : کارساز ہے ] [ وَنِعْمَ : اور کیا ہی اچھا ] [ النَّصِيْرُ : مدد گار ہے ]